اے چادر اوڑھنے والے
المزمل
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قیام کریں رات کو (تہجد کی نماز میں) تھوڑا
آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کر لیں
یا زیادہ کر لیں اس پر، اور قرآن کو پڑھیں ٹھہر ٹھہر کر
بیشک عنقریب ہم ڈالیں گے تجھ پر ایک بھاری بات (قرآن)
بیشک رات کا اٹھنا شدید روندنیوالا ہے، اور بات کو بہت درست طریقے سے رکھنے والا بھی ہے
بیشک تجھے دن میں بہت مشغولیت رہتی ہے
تو ذکر کیا کرو اپنے رب کے نام کا، اور متوجہ ہو جاؤ سب سے کٹ کر اس کی طرف اچھی طرح
وہ رب ہے مشرق اور مغرب کا، نہیں ہے کوئی معبود اسکے سوا تو تم اسی کو بناؤ اپنا کارساز
اور صبر کرو اس پر جو کچھ (کافر) کہتے ہیں، اور چھوڑ دو انہیں اچھی طرح
اور چھوڑ دو مجھے اور ان جھٹلانیوالوں نعمت والوں کو اور مہلت دو انہیں تھوڑی
بیشک ہمارے پاس بیڑیاں اور جہنم ہیں
اور کھانا ہے (حلق میں) اٹکنے والا، اور دردناک عذاب ہے
جس دن کانپ اٹھیں گے زمین اور پہاڑ، اور ہو جائیں گے پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح
(اے کافر) بیشک ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول کو (جو) گواہی دینے والا ہے تم پر، جیسا کہ ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف رسول (موسیٰؑ کو)
تو نافرمانی کی فرعون نے رسول کی، تو ہم نے پکڑا اسے سخت پکڑ میں اور وبال (مصیبت) میں
تو کیسے تم بچو گے اس دن جسکا تم نے انکار کیا وہ (قیامت کا دن) بنا دیگا بچوں کو بوڑھا
آسمان پھٹ جائے گا اس (کی ہولناکی) سے اسکا وعدہ ہو کر رہے گا
بیشک یہ نصیحت ہے، تو جو چاہے بنالے اپنے رب کی طرف راستہ
آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ قیام کرتے ہیں (تہجد میں) قریب دو تہائی رات میں، اور آدھی رات میں، اور ایک تہائی رات میں، اور اس جماعت کو بھی جو آپ کے ساتھ ہے اور اللہ ہی مقرر کرتا ہے رات اور دن کو، وہ جانتا ہے کہ تم ہرگز شمار نہیں کر سکو گے اسے (یعنی رات گزرنے کا اندازہ) تو اس نے قبول کی تمہاری توبہ، تو تم پڑھو جو میسر ہو قرآن میں سے وہ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، اور بعض زمین میں چل پھر کر تلاش کر رہے ہوں گے اللہ کا فضل (یعنی روزی) اور دوسرے جنگ لڑ رہے ہوں گے اللہ کے راستے میں، تو تم پڑھو جو میسر ہو اس (قرآن) میں سے، اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکوٰۃ، اور اللہ کو بہتر قرض دو (خیرات اور صدقات کے ذریعے) اور جو تم آگے بھیجو گے اپنے لئے خیر (کے کام) میں سے، تم پاؤ گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور اجر عظیم، اور مغفرت طلب کرو اللہ سے، بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے