مقدمہ و منہج (Preface & Translation Methodology)

مقدمۂ کتاب، انتساب و منہجِ تشریح

حضرت مولانا حافظ نثار احمد ندوی صاحب مدظلہ کی ۲۲ سالہ قرآنی تدریس اور ترجمہ کا اسلوب

انتساب (Dedication)

صفحہ 3 (Page 3)

ہم قرآن کریم کی اس جدید تشریح القرآن اور علمی کاوش کو انتہائی عاجزی، عقیدت اور محبت کے ساتھ انتساب کرتے ہیں:

• صاحبِ طٰہٰ و یٰس، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں، جن کا سینۂ مبارک اس کلامِ الٰہی کا پہلا مرکز بنا اور جن کی حیاتِ طیبہ اس کتابِ مبین کی عملی و کامل ترین تشریح ہے۔
• جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ارواح کے نام، جنہوں نے اس کلام کی حفاظت، ترویج اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی میں اپنی جان و مال کے نذرانے پیش کیے۔
• تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور مفسرینِ عظام کے نام، جن کے اخلاص اور تفسیری سرمایہ کی بدولت آج یہ کلام ہمارے ہاتھوں میں مشعلِ راہ ہے۔
• اپنے والدین اور تمام اساتذۂ کرام کے نام، جن کی دعاؤں اور تربیت نے اس قرآنی خدمت کی توفیق بخشی۔

مقدمہ مترجم (Author's Preface: The 22-Year Journey)

صفحات 4–5 (Pages 4–5)

سنہ ۲۰۰۲ء میں مئی یا جون کا مہینہ تھا جب دہلی میں قرآن فہمی کی کلاس کی آف لائن شروعات ہوئی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ عام مسلمان جب نماز پڑھیں، تلاوت کریں یا سنیں تو ان کے دلوں میں فہم اور گہری دلچسپی پیدا ہو۔ اس کے بعد تقریباً ۱۰ سالوں سے یہ خدمت آن لائن کلاسز کی صورت میں اندرون و بیرونِ ملک پھیلی۔

ان ۲۲ سالوں کے طویل تدریسی سفر میں طلبہ، کاروباری حضرات، خواتین اور نوجوانوں کو قرآن پڑھاتے ہوئے جو تجربہ اور مشاہدہ ہوا، اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوئی کہ پرانے تفسیری حواشی اور دقیق زبان کی وجہ سے عام قاری قرآن کے تسلسل اور مدعا کو گرفت میں نہیں لے پاتا۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل و توفیق سے اس آسان اور جدید تشریحی ترجمے کا کام شروع کیا گیا۔ روزانہ ۸ تا ۱۰ گھنٹے کی مسلسل اور تن دہی کے ساتھ تقریباً ۲ سال کے عرصے میں پورا کلامِ پاک لفظ بہ لفظ اور سطر بہ سطر مکمل ہوا۔ کام کے دوران تمام مکاتبِ فکر کے معتبر تراجم کو پیشِ نظر رکھا گیا اور بالخصوص تفسیر ابن کثیر کو اصل محور و بنیاد بنایا گیا۔

جدید تشریح القرآن کی خصوصیت اور اہمیت! (Methodology & Features)

صفحہ 6 (Page 6)

اس جدید تشریح القرآن کی سب سے بڑی انفرادی خصوصیت اس کا بین السطور قوسین (بریکٹ) اسلوب ہے۔ عام طور پر قاری کو ترجمہ پڑھتے وقت بات مکمل سمجھنے کے لیے نیچے حاشیے کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جس سے تلاوت کا روانی اور تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔

اس ترجمے میں عربی الفاظ کے قریبی اور بنیادی مفہوم کو برقرار رکھتے ہوئے، آیت کے پس منظر، ضمیروں کے مراجع اور محذوف الفاظ کو قوسین (بریکٹ) کے اندر سطر کے اندر ہی سمو دیا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ قاری بغیر کسی الجھن اور وقفے کے کلامِ الٰہی کے مکمل مفہوم کو ایک ہی سانس میں سمجھ لیتا ہے۔

طریقۂ کار کی مثال (Website Explanation):
الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ وَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَۙ
جو لوگ ایمان لاتے ہیں غیب پر اور قائم کرتے ہیں نماز، اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے انہیں اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں
💡 قوسین کے الفاظ "اس میں سے" نے حرفِ جر "مِن" کی تفسیری وسعت کو واضح کر دیا کہ سارا مال نہیں بلکہ مال کا ایک حصہ خرچ کرنا ہے۔