مقدمۂ کتاب، انتساب و منہجِ تشریح
حضرت مولانا حافظ نثار احمد ندوی صاحب مدظلہ کی ۲۲ سالہ قرآنی تدریس اور ترجمہ کا اسلوب
انتساب (Dedication)
ہم قرآن کریم کی اس جدید تشریح القرآن اور علمی کاوش کو انتہائی عاجزی، عقیدت اور محبت کے ساتھ انتساب کرتے ہیں:
مقدمہ مترجم (Author's Preface: The 22-Year Journey)
سنہ ۲۰۰۲ء میں مئی یا جون کا مہینہ تھا جب دہلی میں قرآن فہمی کی کلاس کی آف لائن شروعات ہوئی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ عام مسلمان جب نماز پڑھیں، تلاوت کریں یا سنیں تو ان کے دلوں میں فہم اور گہری دلچسپی پیدا ہو۔ اس کے بعد تقریباً ۱۰ سالوں سے یہ خدمت آن لائن کلاسز کی صورت میں اندرون و بیرونِ ملک پھیلی۔
ان ۲۲ سالوں کے طویل تدریسی سفر میں طلبہ، کاروباری حضرات، خواتین اور نوجوانوں کو قرآن پڑھاتے ہوئے جو تجربہ اور مشاہدہ ہوا، اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوئی کہ پرانے تفسیری حواشی اور دقیق زبان کی وجہ سے عام قاری قرآن کے تسلسل اور مدعا کو گرفت میں نہیں لے پاتا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل و توفیق سے اس آسان اور جدید تشریحی ترجمے کا کام شروع کیا گیا۔ روزانہ ۸ تا ۱۰ گھنٹے کی مسلسل اور تن دہی کے ساتھ تقریباً ۲ سال کے عرصے میں پورا کلامِ پاک لفظ بہ لفظ اور سطر بہ سطر مکمل ہوا۔ کام کے دوران تمام مکاتبِ فکر کے معتبر تراجم کو پیشِ نظر رکھا گیا اور بالخصوص تفسیر ابن کثیر کو اصل محور و بنیاد بنایا گیا۔
جدید تشریح القرآن کی خصوصیت اور اہمیت! (Methodology & Features)
اس جدید تشریح القرآن کی سب سے بڑی انفرادی خصوصیت اس کا بین السطور قوسین (بریکٹ) اسلوب ہے۔ عام طور پر قاری کو ترجمہ پڑھتے وقت بات مکمل سمجھنے کے لیے نیچے حاشیے کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جس سے تلاوت کا روانی اور تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔
اس ترجمے میں عربی الفاظ کے قریبی اور بنیادی مفہوم کو برقرار رکھتے ہوئے، آیت کے پس منظر، ضمیروں کے مراجع اور محذوف الفاظ کو قوسین (بریکٹ) کے اندر سطر کے اندر ہی سمو دیا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ قاری بغیر کسی الجھن اور وقفے کے کلامِ الٰہی کے مکمل مفہوم کو ایک ہی سانس میں سمجھ لیتا ہے۔