اے ایمان والو! نہ بناؤ تم میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست، تم (حاطب بن ابی بلتعہ) ڈالتے ہو ان (اہل مکہ) کی طرف محبت (کا پیغام) اور یقیناً وہ انکار کرتے ہیں اس حق کا جو آچکا ہے تمہارے پاس (اسلام) اور وہ نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو، کیوں کہ تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو تمہارا رب ہے اگر تم نکلتے ہو جہاد کیلئے میرے راستے میں اور میری رضا کی تلاش میں (تو اب ایمان لانے کے بعد) تم چھپ کے ان سے محبت کرتے ہو، اور مجھے معلوم ہے جو تم نے چھپایا اور جو تم نے اعلانیہ کیا، تم میں سے جو بھی اس (کام) کو کرے گا تو یقیناً وہ گمراہ ہو گا سیدھے راستے سے
الممتحنة
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اگر پالیں (یہ اللہ کے دشمن موقع) تم پر تو ہو جائیں تمہارے دشمن، اور بڑھائیں تم پر اپنا ہاتھ اور اپنی زبان برائی کے ساتھ، اور یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہو جاؤ
ہرگز فائدہ نہ دیں گی تمہیں تمہاری رشتے داری اور نہ ہی تمہاری اولاد قیامت کے دن (اللہ) فیصلہ فرمائے گا تمہارے درمیان، اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
یقیناً ہے تمہارے لئے بہترین نمونہ ابراہیم (کی زندگی) میں اور ان کے ساتھیوں میں، جب کہا انہوں نے اپنی قوم سے کہ ہم بری ہیں تم سے اور جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا، ہم نے انکار کر دیا ہے تمہارا، اور شروع ہو گئی ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ تم ایمان لاؤ اللہ وحدہٗ پر، مگر وہ بات (وعدے کے تحت تھی) جو ابراہیم نے اپنے باپ سے کہی کہ میں استغفار کروں گا تمہارے لئے، اور میں نہیں مالک تمہارے لئے اللہ کے سامنے کسی چیز کا، اے ہمارے رب! تجھ پر ہم توکل کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف ٹھکانہ ہے
اے ہمارے رب! تو نہ ڈال ہمیں آزمائش میں کافروں کی (غلبہ نہ فرما) اور مغفرت فرما ہماری اے ہمارے رب! بیشک تو ہی زبردست حکمت والا ہے
یقیناً تمہارے لیے ان (ابراہیم) میں بہترین نمونہ ہے، اس کیلئے جو امید رکھتا ہو اللہ کی (ملاقات کی) اور آخرت کے دن کی اور جو منہ پھیرے، تو بیشک اللہ بے نیاز قابل تعریف ہے
ممکن ہے کہ اللہ ڈال دے تمہارے درمیان اور جو عداوت رکھتے ہیں تم سے ان کے درمیان محبت، اور اللہ قادر ہے اور اللہ نہایت مغفرت کرنیوالا رحیم ہے
اور اللہ تمہیں نہیں منع کرتا ان لوگوں سے دوستی کرنے سے جنہوں نے تم سے جنگ نہیں کی دین کے بارے میں، اور تمہیں نہیں نکالا تمہارے گھروں سے، کہ تم بھلائی کرو ان کے ساتھ، اور انصاف کرو ان کے حق میں، بیشک اللہ محبت کرتا ہے انصاف کرنیوالوں سے
صرف اللہ روکتا ہے تمہیں ان لوگوں (کی محبت) سے جنہوں نے جنگ کی تم سے دین کے بارے میں، اور نکالا تمہیں تمہارے گھروں سے، اور مدد کی تمہارے نکالنے والوں کی، کہ تم دوستی کرو ایسے لوگوں سے، اور جو دوستی کرے گا ایسے لوگوں سے تو وہی ظالم ہیں
اے ایمان والو! جب آئیں تمہارے پاس مؤمن عورتیں ہجرت کر کے تو تم ان کا امتحان لو (کہ واقع مؤمنہ ہیں یا نہیں) اللہ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو، تو اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ مؤمنہ ہیں تو نہ لوٹاؤ انہیں کافروں کی طرف، یہ ان کے لئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کیلئے حلال ہیں، اور ادا کر دو انہیں (مہر) جو (ان کافروں نے) خرچ کیا ہو (مہر میں) اور نہیں ہے تم پر کوئی گناہ کہ تم نکاح کر لو ان عورتوں سے جبکہ تم نے دے دئے ہوں انہیں ان کا اجر (یعنی مہر) اور مت روکو اپنے پاس کافروں کی عزت کو (بیوی کافرہ ہو تو جانے دو) اور مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہو (مہر میں) اور چاہئے کہ وہ بھی مانگ لیں (مہر) جو ان کافروں نے خرچ کیا ہو یہ اللہ کا حکم ہے وہ فیصلہ کرتا ہے تمہارے درمیان، اور اللہ علم والا حکمت والا ہے
اور اگر چلی جائے تمہاری کوئی بیوی کافروں کی طرف، تو تم (مال آنے کا) انتظار کرو (جب آجائے) تو تم دے دو انہیں جو چلی گئی ہیں ان کی بیویاں (کافروں کی طرف) اس کے برابر جو انہوں نے خرچ کئے (مہر میں) اور ڈرو اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو
اے نبی! جب آئیں مؤمنہ عورتیں تمہارے پاس ان باتوں پر بیعت کرنے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، قتل نہیں کریں گی اپنی اولاد کو، اور نہیں باندھیں گی کوئی بہتان جو گھڑ لیں اپنے ہاتھوں اور پیروں سے (یعنی زنا نہیں کریں گی) اور نہ نافرمانی کریں گی تمہاری نیک کاموں میں تو تم ان سے بیعت لے لو، اور مغفرت طلب کرو ان کیلئے اللہ سے بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے
اے ایمان والو! نہ کرو تم دوستی اس (یہودی اور منافقین) قوم سے جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے، یقیناً وہ مایوس ہیں آخرت سے جیسے کافر مایوس ہیں قبر والوں سے (کہ کوئی حساب نہیں، بس مرنا اور سڑ گل جانا ہے)