وہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو نکلتا ہے اس سے، اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں، اور وہ رحم کرنے والا مغفرت کرنے والا ہے
اور کفار کہتے ہیں کہ نہیں آئے گی ہم پر قیامت آپ کہہ دیجئے ! کہ کیوں نہیں میرے رب کی قسم ! جو عالم الغیب ہے کہ وہ یقینا تم پر آئے گی، نہیں چھپی ہے اس (اللہ) سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں، اور نہ چھوٹی (چیز چھپی ہے) اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ سب کھلی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہے
اور وہ دیکھتے (یعنی سمجھتے) ہیں جنہیں عطا کیا گیا ہے علم، کہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وہ برحق ہے، اور (اللہ) ہدایت دیتا ہے زبردست تعریف والے کے راستے کی طرف
اور کہتے ہیں (آپس میں) کافر کیا ہم بتلائیں تمہیں ایک ایسے شخص (محمدؐ) کے بارے میں، جو تمہیں بتاتا ہے کہ جب تم ٹکڑے ٹکڑے ہوجاؤ گے تو بیشک تم نئی مخلوق بنائے جاؤ گے
کیا وہ غور نہیں کرتے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین (کی چیزوں) پر، اگر ہم چاہیں تو دھنسا دیں انہیں زمین میں یا گرادیں ان پر کوئی ٹکڑا آسمان سے (عذاب کا) یقیناً اسمیں نشانی ہے ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے
اور سلیمان کیلئے ہوا کو (مسخر کر دیا تھا) صبح کی منزل اس کی ایک مہینے کی اور شام کی بھی ایک مہینے کی (ہوتی تھی) اور بہا دیا ہم نے ان کیلئے تانبے کا چشمہ، اور جنوں میں سے بعض کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو نافرمانی کرتا تھا ان میں سے ہمارے حکم سے، ہم مزہ چکھائیں گے اسے بھڑکتی آگ کے عذاب کا
(جنات) بناتے تھے اس کیلئے جو (سلیمان) چاہتے تھے، محراب، اور مجسمے، اور ٹب حوض کی طرح، اور دیگیں رکھی ہوئی (چولہوں پر بہت بڑی) عمل کرو اے آل داؤد! شکر گزاری کیلئے، اور میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہوتے ہیں
تو جب ہم نے فیصلہ کیا ان پر موت کا تو نہیں بتایا ان (جنات) کو اس کی موت کے بارے میں سوائے زمینی کیڑے کے جو کھانے لگے اس کی لاٹھی کو، تو جب (سلیمان) گر پڑے تو جنوں نے جانا (کہنے لگے) کاش ! ہم جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے ذلت کی سزا میں
یقیناً تھی قوم سبا کے ٹھکانوں میں نشانی (جو آج یمن میں ہے) دو باغ تھے ان کے دائیں اور بائیں (یعنی باغ ہی باغ تھے) کھاؤ اپنے رب کی روزی، اور شکر ادا کرو اس (رب) کا، شہر پاکیزہ تھا اور رب مغفرت کرنیوالا
تو انہوں نے اعراض کیا (یعنی نافرمانی کی) تو ہم نے بھیج دیا ان پر سیلاب زور کا، اور ہم نے بدل دیئے ان کے دونوں باغوں کو دو ایسے باغ سے جن دونوں کے پھل بدمزہ اور جھاؤ (یعنی جنگلی پیڑ) اور کچھ بیری کے درختوں سے
اور ہم نے بنائی تھیں ان (قوم سبا) کے درمیان اور بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی چند اور بستیاں جو راستے پر ظاہر تھیں، اور ہم نے مقرر کر دی تھیں ان میں سیر (منزلیں) سیر کرو ان میں رات اور دن امن کے ساتھ
تو انہوں نے کہا اے ہمارے رب ! دور کر دے ہمارے سفر، اور انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو ہم نے بنا دیا انہیں قصے کہانی، اور ہم نے کر دئے ان کے ٹکڑے ٹکڑے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک صبر وشکر کرنیوالے کے لئے
اور نہ تھا (شیطان) کا ان پر کوئی زور، مگر (ہم نے ایسا کیا) تاکہ ہم جان لیں ان کو جو ایمان رکھتے ہیں آخرت پر (اور انہیں بھی) جو اس سے شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے
کہہ دیجئے ! کہ پکارو جن پر تم گمان کرتے ہو اللہ کے سوا، نہیں ہیں وہ (غیر اللہ) مالک ذرہ برابر (کسی چیز کا) آسمانوں میں اور نہ زمین میں، نہ ان (غیر اللہ) کا ان میں کوئی حصہ ہے، نہ ان میں سے کوئی اس (اللہ) کا مددگار ہے
اور نہیں نفع دے گی شفاعت اسکے پاس، مگر جن کیلئے اجازت دی جائے، یہاں تک کہ جب ان (فرشتوں) کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے، تو (دوسرے فرشتوں سے) پوچھتے ہیں کیا فرمایا تمہارے رب نے؟ وہ (فرشتے) کہتے ہیں حق فرمایا، اور وہ اعلیٰ اور بہت بڑا ہے
پوچھیئے کہ کون رزق دیتا ہے تمہیں آسمانوں اور زمین سے، کہہ دیجئے ! کہ اللہ، اور بیشک ہم میں یا تم میں (کوئی ایک) ہدایت پر ہے اور (دوسرا) کھلی گمراہی میں
اور کہتے ہیں کافر کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ اس (کتاب) پے جو اس سے پہلے ہے، اور کاش ! تم دیکھتے ان ظالموں کو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے (اور) لوٹائیں گے ایک دوسرے پر بات (یعنی الزام لگائیں گے ایک دوسرے پر) کہیں گے وہ لوگ جو کمزور تھے ان لوگوں سے جو تکبر کرتے تھے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مؤمن ہوتے
کہیں گے تکبر کرنے والے کمزوروں سے، کیا ہم نے روکا تھا تمہیں ہدایت سے (دنیا کی زندگی میں) بعد اس کے جب کہ وہ آگئی تھی تمہارے پاس، بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے
اور (پھر) کہیں گے کمزور تکبر کرنیوالوں سے، بلکہ دن اور رات کا تمہارا مکر جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم انکار کریں اللہ (کی ذات) کا، اور ہم بنائیں اس کے ساتھ شریک، اور وہ (متکبرین) چھپانا چاہیں گے ندامت کیوجہ سے جب وہ دیکھیں گے عذاب کو، اور ہم ڈالیں گے طوق کافروں کی گردنوں میں (یعنی لوہے کی کڑی) انہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو عمل وہ کیا کرتے تھے
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایسی (چیز) نہیں جو قریب کر دیں تمہیں ہمارے پاس مرتبے میں، مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو یہی ہیں جن کیلئے اجر میں اضافہ ہے بسبب ان کے اعمال کے، اور وہ بالاخانوں (یعنی اونچے محل) میں امن سے رہیں گے
کہہ دیجئے ! میرا رب کشادہ کرتا ہے رزق جس کیلئے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لئے (جسے وہ چاہتا ہے) اور جو چیز تم خرچ کرو گے وہ پیچھے ملے گی اسکے، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں، تو کہتے ہیں یہ آدمی (یعنی نبیؐ) تمہیں روکنا چاہتا ہے (ان سے) جس کی عبادت کرتے تھے تمہارے باپ دادا، اور کہتے ہیں کہ یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے، اور کہا کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ آچکا ان کے پاس کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے
اور جھٹلایا تھا ان سے پہلوں نے بھی، اور نہیں پہونچے یہ اس کے دسویں حصے کو بھی جو ہم نے عطا کیا تھا ان (پہلوں) کو تو انہوں نے جھٹلایا میرے رسولوں کو، تو کیسا تھا میرا عذاب
کہہ دیجئے ! کہ میں نصیحت کرتا ہوں تمہیں ایک بات کی، کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لئے دو دو یا فرداً فرداً (یعنی تنہا تنہا) پھر تم غور کرو تمہارے صاحب (یعنی نبیؐ) کو کوئی جنون نہیں، وہ تو ڈرانے والا ہے تمہیں سامنے کے شدید عذاب سے
کہہ دیجئے ! کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی (کا وبال) مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں بسبب وحی کے جو میرا رب میری طرف کرتا ہے، بیشک وہ قریب ہی سننے والا ہے
اور حائل کر دیا جائے گا ان کے درمیان اور انکی چاہتوں کے درمیان (پردہ) جیسا کیا گیا ان جیسی جماعتوں کے ساتھ اس سے پہلے (جو جہنم میں داخل ہو گئے) بیشک وہ بھی تھے شک ہی شک میں