زانیہ اور زانی (یعنی بدکار عورت اور مرد) کو مارو دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے، اور نہ کرو تم ان دونوں پر نرمی اللہ کے دین (کے معاملے) میں اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر، اور حاضر رہنا چاہیے ان دونوں کی سزا کے وقت مومنین کی ایک جماعت کو
اور جو لوگ الزام لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر، پھر نہیں لاتے چار گواہ، تو مارو انہیں اسّی کوڑے، اور نہ قبول کرو ان کی گواہی کبھی بھی، اور یہی لوگ فاسق (یعنی نافرمان) ہیں
اور جو لوگ الزام لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر، اور نہ ہو ان کے پاس کوئی گواہ سوائے اپنے، تو ان جیسے لوگوں کی گواہی یہ ہے کہ چار مرتبہ گواہی دے اللہ کی (قسم کھا کر کہ) بے شک وہ (یعنی الزام لگانے والا) سچا ہے
بیشک جو لوگ لے کے آئے ہیں الزام (حضرت عائشہؓ کے متعلق) وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے، نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لئے، بلکہ وہ بہتر ہے تمہارے لیے (کہ اللہ نے حکم نازل فرمایا) ہر ایک کے لیے ان میں سے بقدر کسب (یعنی عمل) گناہ ہے، اور جو (عبداللہ بن ابی) سرغنہ تھا ان کا بڑا ان میں سے، اس کے لیے بڑا عذاب ہے
جب تم لانے لگے اسے اپنی زبانوں پر اور کہنے لگے اپنے مونہوں سے جس کا تمہیں علم نہ تھا، اور تم نے گمان کیا تھا اسے ہلکا (معاملہ) جبکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑا (معاملہ) تھا
بے شک وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ پھیلے فحش ان لوگوں میں جو ایمان لے آئے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
اے ایمان والو! مت اتباع کرو شیطان کے نقشے قدم کی، اور جو اتباع کرے گا شیطان کے نقشے قدم کی، تو بے شک وہ حکم دیتا ہے فحش اور بے حیائی کا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی کبھی بھی (گناہوں سے) اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے
اور نہ قسم کھائیں تم میں سے فضل والے اور وسعت والے (ابو بکرؓ اس بات پر) کہ وہ نہیں دیں گے رشتے داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں، اور انہیں چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ معاف کرے تمہیں، اور اللہ غفور اور رحیم ہے
ناپاک (یعنی کافر) عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں، اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں، یہ (مومنین) بری ہیں اس (الزام) سے جو یہ کہتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور روزی ہے عزت والی
اے ایمان والو! نہ داخل ہو کسی اور کے گھروں میں اپنے گھروں کے علاوہ یہاں تک کہ اجازت لے لو اور سلام کرو گھر والوں کو (جب داخل ہو) یہ بہتر ہے تمہارے لیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
پھر اگر تم نہ پاؤ اس (گھر) میں کسی کو تو نہ داخل ہو اس میں، یہاں تک کہ اجازت دی جائے تمہیں (تب داخل ہو) اور اگر کہا جائے تمہیں کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ، یہ زیادہ پاکی کی بات ہے تمہارے لئے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
نہیں ہے تم پر کوئی گناہ کہ تم داخل ہو ان گھروں میں جو غیر مسکونہ ہو (یعنی غیر آباد ہو) ان میں تمہارا سامان ہو، اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو
کہہ دو ایمان والوں سے کہ وہ نیچی رکھیں اپنی نگاہوں کو اور حفاظت کریں اپنی شرم گاہوں کی، یہ زیادہ پاکیزگی کی بات ہے ان کیلئے، بیشک اللہ باخبر ہے اس سے جو وہ کرتے ہیں
اور کہہ دو ایمان والیوں سے کہ نیچی رکھیں اپنی نگاہوں کو اور حفاظت کریں اپنی شرم گاہوں کی اور نہ ظاہر کریں اپنی زینت کو مگر جو ظاہر ہو اس سے (جنکا پردہ ممکن نہ ہو) اور ڈالے رکھیں اپنا دوپٹہ اپنے سینوں پر، اور نہ ظاہر کریں اپنی زینت مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ پر یا شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر یا بھتیجوں پر یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گار مردوں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان بچوں پر جن پر ابھی ظاہر نہیں پردے کی چیزیں عورتوں کی اور نہ ماریں اپنے پاؤں زمین پر کہ معلوم ہوجائے ان کا چھپا زیور، اور توبہ کرو اللہ کے سامنے تم سب اے مومنو! تاکہ تم فلاح (یعنی کامیابی) پاسکو
اور نکاح کردو بے نکاح (مرد اور عورت) کا جو تم میں ہو اور نیک غلام تمہارے اور تمہاری لونڈیوں کا بھی، اگر وہ فقیر ہیں تو غنی کر دے گا انہیں اللہ اپنے فضل سے، اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے
اور چاہیے کہ پاک دامن رہیں وہ جو نہیں پاتے نکاح (کی حالت) یہاں تک کہ غنی کر دے اللہ انہیں اپنے فضل سے (پھر نکاح کریں) اور جو چاہیں تمہاری ملکیت کے غلام (مال دے کر آزادی) تو لکھ دو انہیں (آزادی) اگر تمہیں معلوم ہو اس (کام) میں خیر، اور دو انہیں اللہ کے مال میں سے جو اس نے تمہیں دیا ہے، اور نہ زبردستی کرو اپنی لونڈیوں پر بدکاری کیلئے کہ ان کا ارادہ ہے پاک دامن رہنے کا تاکہ تم حاصل کرو مال (اس کام کے ذریعے) دنیوی زندگی کا، اور جو زبردستی کرے گا ان پر تو بے شک اللہ ان (لونڈیوں) پر کی گئی زبردستی کو معاف کردے گا اور رحم فرمادے گا (اور مالک کی پکڑ کرے گا)
اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی طاق ہو اس میں چراغ ہو چراغ شیشے میں ہو، شیشہ گویا کہ تارہ ہو موتی کی طرح، جلایا گیا ہو (اس چراغ کو) مبارک درخت کے زیتون (کے تیل) سے (اس کی روشنی) نہ (صرف) مشرق کی طرف ہو اور نہ (صرف) مغرب کی طرف (بلکہ ہر طرف ہو، اس کا تیل ایسا ہو) کہ قریب ہو بھڑک اٹھے اگرچہ نہ چھوا ہو اسے آگ نے، روشنی ہی روشنی ہو ہدایت دیتا ہے اللہ اپنی اسی روشنی سے جسے چاہتا ہے، اور بیان فرماتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے
ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں غفلت میں نہیں ڈالتی تجارت اور نہ ہی خرید اور فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز پڑھنے سے اور زکوۃ دینے سے وہ خوف رکھتے ہیں اس دن سے جس میں پلٹ دئے جائیں گے دل اور آنکھیں
اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال ریت کی طرح ہیں ریگستان کی، جسے گمان کرتا ہے پیاسا کہ پانی ہے، یہاں تک کہ جب آتا ہے اس کے پاس اسے کچھ بھی نہیں پاتا، اور پاتا ہے اللہ کو اپنے پاس اس کا حساب پورا کرنے کیلئے، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے
یا جیسا کہ اندھیرا ہو گہرے سمندر میں، ڈھانک لے اسے موج در موج (اور اس کے اوپر بھی موج ہو) اس کے اوپر بادل ہو، اندھیرا دراندھیرا ہو، جب وہ نکالے اپنا ہاتھ تو اسے بھی نہ دیکھ سکے، اور جس کے لئے نہ بنایا ہو اللہ نے کوئی نور تو نہیں ہے اس کیلئے کوئی نور
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو کچھ بھی ہیں آسمانوں اور زمین میں اور پرندے جو صف بصف (اڑتے) ہیں ہر ایک کو معلوم ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں
کیا نہیں دیکھا تو نے بے شک اللہ ہی چلاتا ہے بادلوں کو، پھر اسے جوڑتا ہے آپس میں، پھر بناتا ہے اسے تہ بہ تہ، تو تم دیکھتے ہو بارش کو کہ نکلتی ہے اس کے بیچ سے اور وہ نازل کرتا ہے آسمان کے پہاڑ سے اولے، پھر وہ گراتا ہے انہیں جس پر چاہتاہے، اور روک لیتا ہے انہیں جس سے وہ چاہتا ہے، قریب ہوتاہے (ایسا لگتا ہے) کہ اس کی بجلی کی چمک اچک لے آنکھوں کو
اور اللہ نے پیدا کیا ہے تمام طرح کے جاندار کو پانی سے، تو ان میں سے بعض چلتے ہیں اپنے پیٹ کے بل اور ان میں سے بعض چلتے ہیں دو ٹانگوں پر، اور ان میں سے بعض چلتے ہیں چار ٹانگوں پر، اللہ پیدا کرتا ہے جیسا وہ چاہتا ہے بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اور کہتے ہیں (منافقین کہ) ہم ایمان لے آئے ہیں اللہ اور رسول پر، اور ہم اطاعت گزار ہیں، پھر پلٹ جاتے ہیں بعض فریق ان میں سے اس کے بعد، اور نہیں ہیں وہ ایمان والوں کے ساتھ
مؤمنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں بلایا جائے اللہ اور اس کے رسول کی طرف تاکہ فیصلہ کیا جائے ان کے درمیان تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
اور قسمیں کھاتے ہیں (منافقین) اللہ کی اپنی قسموں میں زور ڈال کر کہ اگر آپ حکم دیں انہیں تو ضرور وہ نکل جائیں (جہاد کیلئے) کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) اطاعت معلوم ہے بیشک اللہ باخبر ہے اس سے جو عمل تم کرتے ہو
کہہ دو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، پھر اگر منہ پھیرو گے تو اس (رسول) پر وہ ہے جو اس کی ذمے داری ہے، اور تم پر وہ ہے جو تمہاری ذمے داری ہے، اور اگر تم اطاعت کروگے اس کی تو ہدایت پا جاؤ گے، اور رسول کے ذمہ صرف پہونچا دینا ہے صاف طور پر
وعدہ ہے اللہ کا ان سے جو ایمان لائے تم میں سے اور نیک عمل کئے، کہ ضرور انہیں خلیفہ بنائے گا (اللہ) زمین میں جیسا کہ خلیفہ بنایا تھا ان سے پہلوں کو اور مضبوط کردے گا ان کے لیے اس دین کو جسے اس نے (یعنی اللہ نے) پسند کیا ہے ان کیلئے، اور بدل دے گا اس کے بعد ان کے خوف کو امن سے (بشرطیکہ) وہ عبادت کریں میری اور نہ شریک ٹھہرائیں میرے ساتھ کسی کو، اور جو ناشکری کرے گا اس کے بعد تو وہی لوگ فاسق ہوں گے
اے ایمان والو! چاہئے کہ اجازت لے کر آیا کریں جو تمہاری ملکیت میں غلام ہیں اور تمہارے وہ لڑکے جو ابھی نہیں پہونچے شعور کی عمر کو تم میں سے ان تین وقتوں میں فجر کی نماز سے پہلے، اور اسوقت جب تم اپنے کپڑے اتار تے ہو (قیلولہ کے لیے) دوپہر کے وقت، اور عشا کی نماز کے بعد یہ تین وقت پردوں کے ہیں تمہارے لیے، نہیں ہے تم پر اور نہ ان پر کوئی گناہ ان (وقتوں) کے بعد، تم آپس میں آتے جاتے ہو ایک دوسرے کے پاس، اسی طرح اللہ بیان کرتاہے تمہارے لیے آیتیں کھول کر، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اور جب پہونچ جائیں بچے تمہارے بلوغ کو تو انہیں بھی اجازت لے کر آنا چاہیے جس طرح کہ ان سے پہلے (یعنی بڑے) اجازت لے کر آتے ہیں، اس طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اور بیٹھ جانے والی بوڑھی عورتیں جنہیں امید نہیں رہی نکاح کی (یعنی زیادہ عمر دراز کے لئے) نہیں ہے ان پر کوئی گناہ (اس بات میں) کہ اتار دیں اپنے کپڑے، نہ ہو یہ زینت کے (اظہار) کیلئے، اور اگر وہ بھی بچیں تو بہتر ہے ان کے لیے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
نہیں ہے اندھے پر کوئی گناہ، اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ، اور نہ بیمار پر کوئی گناہ اور نہ تم پر کہ تم کھانا کھاؤ (ساتھ بیٹھ کر) اپنے گھروں سے، یا اپنے باپ کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، نہیں ہے تم پر کوئی گناہ کہ ساتھ کھاؤ، یا الگ الگ کھاؤ (ان کے گھروں میں) پھر جب تم گھروں میں داخل ہو تو سلام کیا کرو اپنے لوگوں پر یہ دعاء ہے اللہ کے پاس سے مبارک اور پاکیزہ، اس طرح بیان فرماتا ہے اللہ تمہارے لئے آیتیں تاکہ تم عقل سے کام لو
یقیناً مؤمن تو وہی ہیں جو ایمان لائے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر، اور جب وہ ہوتے ہیں اس (نبی) کے ساتھ کسی کام میں جمع، تو چلے نہیں جاتے جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں، بیشک جو لوگ اجازت لیتے ہیں تم سے وہی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر (پھر) جب وہ اجازت مانگیں تم سے اپنے کسی کام کے لیے، تو اجازت دو جسے تم چاہو ان میں سے، اور مغفرت کی دعاء کرو ان کیلئے بیشک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
(اے مؤمنو!) نہ پکارو رسول کو آپس میں جیسا تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو (اے محمد نہ کہو، بلکہ اے نبیؐ کہو) یقیناً اللہ جانتا ہے انہیں جو کھسک جاتے ہیں تم میں (مجلس) سے چپکے، تو ڈرنا چاہئے انہیں جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اس (اللہ) کے حکم کی، کہ پہونچے ان پر کوئی آفت، یا پہونچے ان پر کوئی دردناک عذاب
خبردار! اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، یقیناً وہ جانتا ہے جس حال میں تم ہو، اور اس دن وہ لوٹائے جائیں گے اس کی طرف، تو وہ (اللہ) بتا دیگا انہیں جو کچھ وہ کرتے تھے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے