کیا لوگوں کو تعجب ہے (اس بات سے) کہ ہم نے وحی کی ایک شخص پر ان ہی میں سے کہ ڈراؤ لوگوں کو، اور بشارت دو ایمان والوں کو، ان کے لئے مبارک قدم (یعنی مرتبہ) ہے ان کے رب کے پاس کافر کہتے ہیں کہ بیشک یہ (نبی) جادوگر ہے کھلا ہوا
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر قائم ہوا عرش پر، وہی تدبیر (یعنی انتظام) کرتا ہے ہر کام کے لیے، نہ ہو گا کوئی سفارش کرنے والا اس کی اجازت کے بغیر، یہی اللہ رب ہے تمہارا تو اسی کی عبادت کرو، کیا تم غور و فکر نہیں کرتے
اسی (اللہ وحدہ لا شریک) کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ بدلہ دے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے انصاف کے ساتھ، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے کھولتا پانی ہے، اور دردناک عذاب ہے بسبب ان کے کفر کے جو وہ کیا کرتے تھے
وہی ہے (اللہ وحدہ لا شریک) جس نے بنایا سورج کو روشن اور چاند کو نور اور مقرر کیں اس (چاند) کی منزلیں، تاکہ تم جان سکو سالوں کی گنتی اور حساب، یہ سب کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے (اسے) برحق وہ تفصیل سے بیان فرماتا ہے اپنی آیتیں قوم کے لئے تاکہ وہ جانیں
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے، ہدایت کرے گا انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے سبب (اس جنت کی طرف) بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں نعمت والی جنت میں
ان کی دعاء ہوگی اسمیں کہ تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور ان کی دعاء اسمیں سلامتی کی ہوگی، اور دوسری دعاء بھی ان کی یہی ہوگی کہ تمام تعریف اللہ کیلئے ہے جو رب ہے جہانوں کا
اور اگر جلد پہونچائے اللہ لوگوں کو شر جس طرح وہ جلدی مانگتے ہیں اپنے لئے خیر تو فیصلہ کر دیا جائے ان کے لئے ان کی موت کا، تو ہم چھوڑ دیتے ہیں ان کو جنہیں امید نہیں ہماری ملاقات کی وہ اپنی سرکشی میں بھٹک رہے ہیں
اور جب پہونچتی ہے انسان کو تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے تو جب ہم دور کر دیتے ہیں اس سے اس تکلیف کو تو اس طرح گزرتا ہے گویا ہمیں پکارا ہی نہیں کسی تکلیف میں جو پہونچی نہیں، اس طرح مزین کر دیا گیا ہے مسرفین (حد سے بڑھنے والوں) کیلئے ان کے اعمال کو
اور بیشک ہم نے ہلاک کیا ہے تم سے پہلے کئی امتوں کو، جب انہوں نے ظلم کیا، اور آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر، اور نہ ہوئے وہ ایمان لانے والے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم قوم کو
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری واضح (یعنی کھلی) آیتیں، وہ لوگ کہتے جو امید نہیں رکھتے ہماری ملاقات کی، لے آؤ کوئی اور قرآن یا اسے بدل دو کہہ دو نہیں ہے ممکن میرے لئے کہ میں بدل دوں اسے اپنی طرف سے، میں اتباع کرتا ہوں ان وحی کی جو میری طرف کی جاتی ہیں، میں ڈرتا ہوں اگر میں نافرمانی کروں اپنے رب کے بڑے دن کے عذاب سے
کہہ دو اگر اللہ چاہتا تو میں نہ پڑھتا اسے تمہارے سامنے اور نہ ہی میں جانکاری دیتا تمہیں اسکے بارے میں، یقیناً میں گزار چکا ہوں تمہارے بیچ ایک عمر اس سے پہلے تو کیا تم نہیں سمجھتے
اور (جو مشرک ہیں) وہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے سوا جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نفع پہنچا سکتے ہیں انہیں، اور کہتے ہیں یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، کہہ دو کیا تم بتلاتے ہو اللہ کو جو نہیں معلوم اسے (کہ کوئی شریک ہے؟) آسمانوں اور زمین میں، وہ پاک ہے اور اعلیٰ ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں
اور تھے لوگ ایک امت میں (نوح تک) پھر انہوں نے اختلاف کیا، اور اگر ایک بات طے نہ ہوتی تمہارے رب کی طرف سے (مہلت دینا) تو فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں
اور کہتے ہیں کیوں نہیں نازل کی گئی اس پر کوئی آیت (بطور معجزہ) اس کے رب کی طرف سے، تو کہہ دو بیشک غیب کا علم اللہ کو ہے، تو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
اور جب ہم مزہ چکھاتے ہیں لوگوں کو اپنی رحمت کا اس تکلیف کے بعد جو انہیں پہونچی تھی، تو وہ مکر کرتے ہیں ہماری آیتوں کے بارے میں، کہہ دو اللہ جلد تدبیر کر نیوالا ہے، بیشک ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں تمہارے مکر کو
وہ ہے (اللہ) جو سیر کراتا ہے تمہیں خشکی اور دریا میں، یہاں تک کہ جب تم ہوتے ہو کشتیوں میں اور چلتی ہیں وہ (کشتیاں) انہیں لے کر موافق ہوا کے ذریعے اور وہ خوش ہوتے ہیں ان سے، تو آتی ہے ان پر تیز ہوا، اور آتی ہیں ان پر موجیں ہر طرف سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ بیشک وہ گھر گئے ہیں ان (لہروں) میں، تو پکارنے لگتے ہیں اللہ کو مخلص بن کر اس کے دین میں، کہ اگر تو ہمیں نجات دیدے اس سے، تو ہم ضرور ہو جائیں گے شکر گزاروں میں سے
پھر جب وہ (اللہ) نجات دیتا ہے انہیں، تو وہ بغاوت کرتے ہیں زمین میں ناحق اے لوگو! تمہاری بغاوت (یعنی شرارت) تمہارے ہی اوپر ہے، فائدہ اٹھا لو دنیا کی زندگی کا، پھر ہماری طرف تمہیں لوٹنا ہے پھر ہم تمہیں بتلا دیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
دنیا کی زندگی کی مثال پانی کی طرح ہے کہ ہم نے نازل کیا اسے آسمان سے پھر ملا دیا اس کو زمین کے نباتات (یعنی سبزہ) کے ساتھ جسے کھاتے ہیں لوگ اور جانور یہاں تک کہ جب زمین پکڑ لیتی ہے ہریالی اور خوبصورتی اور گمان کرتے ہیں اس کے اہل (یعنی زمیندار) کہ وہ اس پر قدرت پاگئے ہیں، تو آتا ہے اس پر ہمارا حکم دن یا رات میں پھر ہم اسے کاٹ کر ایسا (صاف) کر دیتے ہیں گویا کل تک کچھ تھا ہی نہیں، اسی طرح ہم تفصیل کرتے ہیں کھول کر آیتوں کی ان لوگوں کیلئے جو فکر کرتے ہیں
ان کے لیے جنہوں نے بھلائی کی بھلائی ہے اور زیادہ بھی ہے، اور نہیں چھائے گی ان کے منہ پر سیاہی اور نہ ذلت (قیامت میں اس کی ہولناکیوں کی وجہ سے) وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور جن لوگوں نے کمائی برائی تو اس کی برائی کا بدلہ اسی برائی کے بقدر ملے گا اور چھا جائے گی ان پر ذلت، اور نہ ہوگا ان کیلئے اللہ سے بچانے والا کوئی (یہ لوگ ایسے ہوں گے) گویا کہ ڈھانک لیں گے ان کے چہروں کو ٹکڑے اندھیری رات کے وہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور جس دن ہم جمع کریں گے ان تمام (انسان اور جنات) کو پھر ہم کہیں گے مشرکوں سے، کھڑے رہو اپنی جگہ تم اور تمہارے شریک، پھر ہم پھوٹ ڈال دیں گے ان کے درمیان، اور کہیں گے ان کے شریک کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے
وہاں آزمایا جائے گا ہر شخص کو جو انہوں نے کیا، اور وہ لوٹائے جائیں گے اللہ کی طرف جو انکا مولائے برحق ہے، اور بھول جائیں گے انہیں جو افتراء (یعنی جھوٹ) وہ باندھا کرتے تھے
کہو کون (ہے وہ جو) رزق دیتا ہے تمہیں آسمان اور زمین سے، یا کون مالک ہے کانوں اور آنکھوں کا، اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے، اور کون نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی، تو عنقریب وہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے، تو تم کہہ دو کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟
کہہ دو کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرے پھر اسے دوبارہ لوٹائے کہہ دو اللہ ہی پیدا کرتا ہے پہلی بار پھر اللہ اسے لوٹائے گا دوبارہ، پھر تم کہاں بہک رہے ہو؟
کہہ دو کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو رہنمائی کرے حق کی کہہ دو اللہ ہی رہنمائی کرتا ہے حق کی، تو جو رہنمائی کرتا ہے حق کی وہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسکی اتباع کی جائے یا جو رہنمائی نہیں کرتا اور خود ان کی رہنمائی کی جائے (وہ حق رکھتا ہے؟) تو تمہیں کیا ہو گیا ہے تم کیسا انصاف کرتے ہو؟
اور نہیں ہے یہ قرآن ایسا کہ گھڑ لیا گیا ہو اللہ کے علاوہ کی طرف سے، اور لیکن یہ تصدیق کرتا ہے اپنے سامنے (والی کتابوں) کی، اور تفصیلی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے
کیا یہ (کفار) کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ کہہ دو تم لے آؤ ایک بھی اس جیسی سورت، اور بلا لو تم اپنی طاقت بھر جسے چاہو اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو
بلکہ انہوں نے جھٹلایا اس چیز کو جسکا وہ احاطہ نہیں کر سکتے اپنے علم سے (یعنی علمی پکڑ نہیں) نہ ہی آئی ان کے پاس اسکی تاویل (یعنی حقیقت) اسی طرح جھٹلایا تھا انہوں نے جو ان سے پہلے تھے، تو دیکھو کیسا انجام ہوا ظالموں کا
اور اگر وہ جھٹلائیں تمہیں تو کہہ دو میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم بری ہو اس سے جو کچھ میں عمل کرتا ہوں، اور میں بری ہوں اس سے جو عمل تم کرتے ہو
اور جس (قیامت کے) دن وہ جمع کرے گا انہیں، گویا وہ نہیں رہے مگر ایک گھڑی دن کی، وہ پہچانیں گے آپس میں ایک دوسرے کو بیشک خسارے میں ہیں وہ جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی ملاقات کو اور (وہ جو) نہ ہوئے ہدایت یافتہ
اور اگر ہم دکھا دیں تمہیں بعض وہ وعدہء (عذاب) جو میں نے کیا ان سے یا ہم وفات دیں تمہیں (پھر دکھائیں) تو انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے پھر اللہ شاہد ہے اس پر جو وہ کرتے ہیں
کہہ دو میں نہیں مالک خود اپنے لئے کسی نقصان کا اور نہ ہی کسی نفع کا مگر جو چاہے اللہ، ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت آتا ہے، تو نہیں تاخیر کر سکتے ہیں ایک گھڑی بھی، اور نہ تقدیم (یعنی جلدی) کر سکتے
اور اگر ہو جائے ظالم شخص کیلئے زمین کی تمام (چیزیں پھر) اسے وہ فدیے (یعنی بدلے) میں دے (تو بھی چھٹکارا نہ ہو) اور وہ چھپائیں گے ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب اور فیصلہ کیا جائیگا ان کے درمیان انصاف سے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
اے لوگو! یقیناً آ چکی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے (قرآن کی شکل میں) اور شفاء اس کیلئے جو (تمہارے) دلوں میں ہے اور ہدایت اور رحمت ہے مؤمنوں کیلئے
کہہ دو تمہارا کیا خیال ہے جو نازل فرمایا ہے اللہ نے تمہارے لیے رزق، تم نے بنا لیا ہے ان میں سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال، کہو کیا اللہ نے حکم دیا ہے تمہیں، یا اللہ پر تم افترا کرتے ہو؟ (جھوٹ) اور کیا خیال ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں قیامت کے دن (ان کا کیا حال ہوگا)
اور تم ہوتے ہو جس حال میں یا جو تم تلاوت کرتے ہو اس قرآن میں سے، یا جو بھی تم عمل کرتے ہو کسی بھی طرح کا عمل، تو ہم ہوتے ہیں وہاں موجود، جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں، اور نہیں ہے غائب تمہارے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز زمین میں اور نہ ہی آسمان میں، اور نہ کوئی چھوٹی چیز اس سے اور نہ بڑی مگر سب کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں ہے
خبردار! بیشک اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور جو پکارتے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو، وہ ظن و گمان کی اتباع کرتے ہیں، اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں سوائے ظن کے اور صرف وہ اٹکلیں لگاتے ہیں
(کفار) کہتے ہیں بنا لیا ہے اللہ نے بیٹا، وہ پاک ہے، وہ بے نیاز ہے (اسے کسی کی ضرورت نہیں) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، تمہارے پاس اس (بیٹا بنانے) کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر ایسی باتیں کہتے ہو جو تم جانتے نہیں
اور پڑھ سناؤ انہیں نوح کی خبریں، جب کہا اپنی قوم سے اے میری قوم! اگر گراں ہو تم پر میرا رہنا (تمہارے بیچ) اور میری نصیحت اللہ کی آیتوں کے ذریعے تو میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، تو تم جمع کر لو اپنی تدبیر اور تمہارے شرکاء بھی جمع کریں، پھر نہ رہ جائے تمہارے کام میں تم پر کوئی غم (یعنی شک) پھر کر گزرو میرے خلاف (قتل کی سازش) اور مجھے مہلت بھی نہ دو
پھر انہوں نے جھٹلایا اسے تو ہم نے نجات دی اسے اور اس کے ساتھ والوں کو کشتی میں اور ہم نے بنایا انہیں خلیفہ اور غرق کر دیا (ان لوگوں کو) جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پھر دیکھو کیسا ہوا انجام ڈرائے گئے لوگوں کا
پھر ہم نے بھیجا ان (نوح) کے بعد رسولوں کو ان کی قوم کی طرف، تو وہ آئے ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر، پھر بھی وہ ایمان نہ لائے، اور وہ جھٹلاتے رہے انہیں پہلے کی طرح، اسی طرح ہم نے مہر لگا دی حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر
کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم ہمیں پھیر دو جس پر ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو، اور ہو جائے تم دونوں کی سرداری اس ملک میں، اور نہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے
تو نہ ایمان لایا موسیٰ پر مگر چند لڑکے اس کی قوم کے، خوف کے باوجود فرعون اور ان کے سرداروں کے، کہ کہیں وہ انہیں فتنے میں نہ ڈال دے، اور بیشک فرعون سرکش تھا زمین میں، اور بیشک وہ مسرف تھا (یعنی حد سے بڑھنے والا)
اور ہم نے وحی کی موسیٰ اور اس کے بھائی کو کہ ٹھکانا بناؤ اپنی قوم کے لئے مصر میں (بطور) گھر اور بناؤ اپنے گھروں کو قبلہ رخ، اور نماز قائم کرو، اور خوشخبری دو ایمان والوں کو
اور کہا موسیٰ نے اے ہمارے رب! بیشک تو نے عطا کیا ہے فرعون اور اس کے سرداروں کو عیش اور مال دنیا کی زندگی میں، اے ہمارے رب! اس لئے وہ گمراہ کرتے ہیں تیرے راستے سے، اے ہمارے رب! مٹا دے ان کے مالوں کو اور سخت کر دے ان کے دلوں کو تو یہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ یہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو
اور ہم نے پار کرا دیا بنی اسرائیل کو دریا (بحر احمر) تو پیچھا کیا ان کا فرعون اور اس کی فوج نے بغاوت اور عداوت میں یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا (فرعون) تو کہا میں ایمان لایا اس پر جس کے سوا کوئی معبود نہیں ایمان لائے ہیں جس پر بنی اسرائیل اور میں مسلمانوں میں سے ہوتا ہوں
اور یقیناً ہم نے ٹھکانا دیا بنی اسرائیل کو بہتر، اور ہم نے رزق دیا انہیں پاکیزہ، پھر انہوں نے اختلاف کیا علم (یعنی کتاب، تورات کی شکل میں) آ جانے کے باوجود، بیشک تیرا رب فیصلہ کرے گا قیامت کے دن ان کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے تھے (کہ آپ کا ذکر تورات میں تھا پھر بھی مانا نہیں)
تو اگر (اے نبی) تم شک میں ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا تیری طرف، تو پوچھ لو ان لوگوں سے جو پڑھتے رہے ہیں کتاب تم سے پہلے، بیشک آپکا ہے حق تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے، تو تم ہرگز نہ ہو جانا شک کرنے والوں میں
تو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی ایسی جو ایمان لاتی تو نفع دیتا اسے اس کا ایمان سوائے قوم یونس کے کہ جب وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کر دیا ان سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگی میں، اور ہم نے فائدہ پہونچایا انہیں ایک وقت تک
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دو اے لوگو! اگر تم شک میں ہو میرے دین میں تو میں نہیں عبادت کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا، اور لیکن میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو وفات دیتا ہے تمہیں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہو جاؤں مؤمنین میں سے
اور اگر پہونچائے تمہیں اللہ کوئی تکلیف تو نہیں کوئی ہٹانے والا اسے اس کے سوا، اور اگر ارادہ کرے تمہیں خیر پہونچانے کا تو کوئی رد نہیں کر سکتا اس کے فضل کو وہ پہونچاتا ہے اسے جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے
(اے نبی) کہہ دو اے لوگو! یقیناً آ چکا ہے تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے، تو جو ہدایت پائے گا اپنے لئے ہی پائے گا، اور جو گمراہ رہے گا تو وہ گمراہی اسی پر پڑے گی، اور میں نہیں ہوں تم پر وکیل