اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں (وہ سب ہی) جو کچھ بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں، اور وہ زبردست حکمت والا ہے
اے ایمان والو! تم کیوں کہتے ہو (وعدہ خلافی کی وہ بات) جو کرتے نہیں
بہت ناپسندیدہ ہے اللہ کے نزدیک (وہ بات) جو تم کہتے ہو وہ کرتے نہیں
بیشک اللہ محبت کرتا ہے ان لوگوں سے جو قتال کرتے ہیں اس کے راستے میں صف بصف، گویا کہ وہ دیوار ہوں سیسہ پلائی ہوئی
اور (یاد کرو) جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اے میری قوم! کیوں اذیت دیتے ہو تم مجھے اور یقیناً تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف، تو جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ٹیڑھا کر دیا ان کے دلوں کو اور اللہ ہدایت نہیں دیتا فاسق قوم کو
اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے اے بنی اسرائیل! بے شک میں رسول ہوں اللہ کا تمہاری طرف (اور اللہ کی جانب سے) میں تصدیق کرنیوالا ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی، اور بشارت دیتا ہوں ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد اسکا نام احمد ہو گا، تو جب وہ (نبیؐ) لے کر آئے ان کے پاس کھلی دلیلیں، تو وہ کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے
اور اس سے بڑا ظالم کون ہو گا؟ جو جھوٹ باندھے اللہ پر، اور جبکہ ان (کفار مکہ) کو بلایا جاتا ہے اسلام کی طرف، اور اللہ (ایسے) ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور (یعنی دین) کو اپنے منہ سے، اور اللہ مکمل کرنیوالا ہے اپنے نور کو، اگرچہ ناپسند ہو کافروں کو
وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر، تاکہ وہ ظاہر (یعنی غالب) کرے اسے تمام دینوں پر، اور اگرچہ ناپسند ہو مشرکوں کو
اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو، کیا میں بتاؤں تمہیں وہ تجارت، جو نجات دے تمہیں دردناک عذاب سے
(وہ یہ ہے کہ) تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر، اور تم جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے، یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانو
(اللہ رب العزت) معاف فرما دے گا تمہارے گناہوں کو، اور داخل کرے گا تمہیں ان جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، اور پاکیزہ رہنے کی جگہ جنت عدن میں (یقیناً تمہارے لئے) یہ بہت بڑی کامیابی ہے
اور دوسری (وہ نعمت) جسے تم چاہتے ہو، وہ اللہ کی مدد، اور قریبی فتح (فتح مکہ) ہے اور بشارت دو مؤمنوں کو
اے ایمان والو! تم ہو جاؤ اللہ کے مددگار، جس طرح کہا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں (یعنی اپنے شاگردوں) سے (کہ) کون میری مدد کرے گا اللہ کیلئے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں، تو ایمان لائی ایک جماعت بنی اسرائیل میں سے، اور انکار کیا ایک جماعت نے، تو ہم نے مدد کی مؤمنوں کی ان کے دشمنوں پر، تو وہ (مؤمن) ہو گئے غالب