وہی ہے جس نے نازل کیا سکون مومنوں کے دلوں میں، تاکہ (مومنین) زیادہ کریں اپنے ایمان کے ساتھ مزید ایمان کو، اور اللہ ہی کے لشکر ہیں آسمانوں اور زمین کے اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے
تاکہ (اللہ) داخل کرے مؤمن مردوں اور مؤمنہ عورتوں کو ان جنتوں میں بہ رہی ہیں جن کے نیچے نہریں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور دور کر دے ان (مؤمنوں) سے ان کے گناہ، اور یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے
اور تاکہ عذاب دے ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو گمان رکھتے ہیں اللہ کے بارے میں برے (کہ دین کی مدد نہیں کی جائے گی) ان ہی پر برائی کا دائرہ (یعنی گردش) ہے، اور غضب ہوا اللہ کا ان پر، اور انہیں لعنت کی، اور تیار کر رکھا ہے ان کے لئے جہنم، اور وہ برا ٹھکانہ ہے
بیشک جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھوں پر، تو جو عہد توڑے تو بے شک وہ اپنے (نقصان) کیلئے توڑتا ہے، اور جو پورا کرے جو عہد اس نے اللہ سے کیا ہے، تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا
عنقریب کہیں گے تم سے (عمرہ پر جانے سے) پیچھے رہ جانے والے دیہاتی، ہمیں مشغول کر دیا تھا ہمارے مال اور اہل (و عیال) نے، تو آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے، یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، آپ کہہ دیں کون مالک ہو گا تمہارا اللہ کے پاس کچھ بھی، اگر وہ تمہیں نقصان پہونچانا چاہے یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے، بلکہ تم لوگ جو عمل کر رہے ہو اس سے اللہ باخبر ہے
بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ پائیں گے رسول اور مسلمان اپنے گھروں کو (مدینہ) کبھی بھی، اور بس گیا تھا یہ (خیال) تمہارے دلوں میں، اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا (کہ اللہ مدد نہیں کریگا) اور تم ہی ہو ہلاک ہونیوالے
عنقریب کہیں گے پیچھے رہ جانے والے جب تم جاؤ گے مال غنیمت کی طرف اسے لینے، چھوڑ دیں ہمیں اب ہم اتباع کریں آپ کی (جنگ خیبر میں) وہ چاہتے ہیں کہ بدل دیں اللہ کے کلام کو آپ کہہ دیں تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے اسی طرح کہا ہے اللہ نے پہلے ہی، تو عنقریب وہ کہیں گے، بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، (دراصل) یہ وہ لوگ ہیں جو بہت ہی کم سمجھتے ہیں
آپ کہہ دیں پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہ عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک سخت جنگجو قوم (روم کے عیسائی) کی طرف تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، تو اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے گا، اور اگر تم منہ پھیرو گے جیسا کہ پہلے بھی تم نے منہ پھیرا ہے، تو اللہ عذاب دے گا تمہیں دردناک عذاب
(یہ لوگ جنگ میں نہ جائیں تو) نہیں ہے اندھے پر کوئی حرج اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ بیمار پر کوئی حرج، اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ اور اسکے رسول کی اسے اللہ داخل کرے گا ایسی جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، اور جو منہ پھیر لے، عذاب دے گا اسے دردناک عذاب
یقیناً راضی ہوا اللہ ان مؤمنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے تجھ سے درخت کے نیچے، تو معلوم کر لیا اللہ نے جو (ایمان) ان کے دلوں میں تھا، تو نازل کی اللہ نے سکینت ان پر (یعنی اطمینان) اور عطا کی انہیں قریب ہی (خیبر کی) فتح
اور وعدہ کیا ہے اللہ نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا (آگے بھی) جنہیں تم حاصل کرو گے، تو وہ جلد دیگا تمہیں یہ (غنیمت) اور روکا لوگوں کے (حملے کے) ہاتھوں کو تم سے تا کہ ہو ایک نشانی مؤمنوں کیلئے اور اللہ رہنمائی کرے تمہاری سیدھے راستے کی
وہی ہے جس نے روکا کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے وادی مکہ (حدیبیہ) میں اس کے بعد کہ کامیاب کر دیا تھا تمہیں ان پر (اللہ نے) اور اللہ دیکھ رہا ہے جو عمل تم کر رہے ہو
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور روکا تم کو مسجد حرام سے اور قربانی کے جانوروں کو روکے رکھا اس کی قربان گاہ میں پہونچنے سے، اور اگر نہ ہوتے (بہت سے) ایسے مؤمن مرد اور مؤمنہ عورتیں جن کے بارے میں تمہیں معلوم نہ تھا تم روند ڈالتے انہیں پھر تمہیں مصیبت پہونچتی انکی وجہ سے انجانے میں، تا کہ داخل کرے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اور اگر یہ الگ الگ ہو تے تو ان میں سے جو کافر تھے ہم ان کو عذاب دیتے دردناک عذاب
جب کہ ڈال لیا ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت (یعنی غرور) جاہلی حمیت کی طرح تو نازل کی اللہ نے سکینت (بطور صبر) اپنے رسول پر اور مؤمنین پر اور جمائے رکھا انہیں تقوے کی بات پر، اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اہل بھی تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
یقیناً سچا دکھایا اللہ نے اپنے رسول کو خواب، حق (یعنی اللہ) کی جانب سے کہ یقیناً تم داخل ہو گے مسجد حرام میں ان شاء اللہ امن کے ساتھ، سر منڈواتے ہوئے اور (بال) کترواتے ہوئے بے خوف ہو کر وہ جانتا ہے (صلح کا فائدہ) جسے تم نہیں جانتے، تو اس نے عنایت کی اس کے علاوہ بھی ایک قریبی فتح (خیبر کی)
محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ سخت ہیں کافروں پر رحمدل ہیں آپس میں، تو، انہیں دیکھے گا کہ وہ رکوع اور سجدے کرتے ہیں وہ تلاشتے ہیں اللہ کا فضل اور اسکی رضاء، ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کی نشانی ہے، ان (مؤمنوں) کی یہ مثال تورات میں ہے اور ان کی یہی مثال انجیل میں بھی ہے، اس کھیتی کی طرح جس نے نکالی اپنی کونپل اور مضبوط کیا اسے پھر موٹی ہوئی، پھر کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر، اور خوش کیا کسانوں کو تا کہ غصہ دلائے ان کی (یہ مثال) کافروں کو، اور وعدہ کیا ہے اللہ نے ایمان والوں اور نیک اعمال کرنیوالوں سے مغفرت اور اجر عظیم کا