ہم نے پیدا کیا ہے (اپنی قدرت سے) آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، برحق (یعنی تدبیر سے) ایک مقرر وقت کیلئے اور کافروں کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے (اس سے) منہ موڑتے ہیں
آپ کہہ دیجئے! کیا خیال ہے تمہارا جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے سوا ، دکھاؤ مجھے انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ، یا ان کا کوئی شریک ہے آسمانوں میں لے آؤ اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کوئی علمی آثار (یعنی کوئی نقل جو پہلے کی کتابوں میں ہو) اگر تم سچے ہو
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے گھڑ لیا ہے اس (قرآن) کو آپ کہیں اگر میں نے گھڑا ہے اسے تو تم نہیں مالک میرے لئے اللہ کی طرف سے کچھ بھی وہ خوب جانتا ہے جو تم باتیں بنا رہے ہو اس (قرآن) کے متعلق وہ کافی ہے اس پر گواہ میرے اور تمہارے درمیان اور وہ بہت مغفرت کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے
آپ کہہ دیجئے! میں کوئی نیا رسول نہیں ، اور میں نہیں جانتا کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا (معاملہ) کیا جائے گا ، میں تو اتباع کرتا ہوں اس وحی کی جو میری طرف کی جاتی ہے ، اور میں تو صرف کھلا ڈرانے والا ہوں
آپ کہہ دیں کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر ہو (قرآن) اللہ کی طرف سے اور تم نے اس کا انکار کیا ہو ، اور گواہی دے چکا ہے ایک گواہ (عبد اللہ بن سلام نے) بنی اسرائیل کا اس جیسی (کتاب تورات) کی تو وہ (بنی اسرائیل) ایمان لاچکا ، اور تم تکبر کر رہے ہو ، بیشک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو
اور کہا کافروں نے ایمان والوں سے کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ ہم سے سبقت نہ کرتے اس کی طرف ، اور جب انہوں نے ہدایت حاصل نہیں کی اس (قرآن) سے تو جلد ہی یہ کہیں گے یہ قدیم جھوٹ ہے
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام (یعنی رہنما) اور رحمت تھی ، اور یہ کتاب (قرآن) تصدیق کرنیوالی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ (نبی) ڈرائے ظالموں کو ، اور بشارت ہے (قرآن میں) محسنین (یعنی مومنین) کیلئے
اور ہم نے وصیت کی (یعنی حکم دیا) انسان کو اپنے والدین سے حسن سلوک کا حمل میں رکھا اسے اسکی ماں نے تکلیف کے ساتھ اور جنا اسے تکلیف کے ساتھ اسکے حمل کی اور اسکے دودھ کی مدت تیس ماہ ہے ۔ یہاں تک کہ جب وہ پہونچتا ہے جوانی کو اور پہونچتا ہے چالیس سال کی عمر کو (نیک ہو تو) کہتا ہے یا رب مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیری اس نعمت کا جو تو نے انعام کی ہے مجھ پر اور میرے والدین پر کہ میں نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو ، اور تو صالح بنا میرے لئے میری اولاد کو ، بیشک میں توبہ کرتا ہوں تیرے سامنے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں
یہی وہ لوگ ہیں ہم قبول فرماتے ہیں جن کے نیک اعمال جو انہوں نے عمل کئے ، اور ہم معاف کر دیتے ہیں ان کے برے اعمال کو (یہ لوگ) جنتی لوگوں میں ہیں (جنت کا) وعدہ سچا ہے جو ان سے کیا جارہا ہے
اور جس نے اپنے والدین سے کہا اف (تعجب ہے) کیا تم دونوں مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا (قبر سے) جبکہ گزر چکی ہیں امتیں مجھ سے قبل اور وہ دونوں (والدین) مدد طلب کرتے ہیں اللہ سے اور (کہتے ہیں) تباہی ہو تیری تو ایمان لے آ ، بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے ، تو وہ کہتا ہے یہ تو پہلوں کے قصے ہیں
یہی ہیں وہ لوگ جن پر طے ہے بات (اللہ کی طرف سے عذاب کی) یہ ان جماعتوں میں سے ہیں جو گزر چکی ہیں ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے ، بیشک یہ خسارہ پانیوالے ہیں
اور جس دن پیش کئے جائیں گے وہ لوگ جو کافر ہیں جہنم کے سامنے (کہا جائے گا) تم مزے اڑا چکے اپنے حصے کا تم اپنی (دنیوی) زندگی میں ، اور تم فائدے اٹھاچکے اس سے (دنیا کی زندگی میں) تو آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا گھٹیا عذاب کا ، اسوجہ سے کہ تم تکبر کیا کرتے تھے زمین میں ناحق ، اور اس وجہ سے کہ تم فسق (یعنی گناہ) کیا کرتے تھے
اور یاد کرو عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) کو جبکہ ڈرایا اس نے اپنی قوم کو احقاف (یعنی پہاڑوں) میں ، اور یقیناً گزر چکے ہیں ڈرانیوالے ان سے پہلے اور ان کے بعد (نبیوں نے کہا) کہ تم عبادت نہ کرو کسی کی اللہ کے سوا بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے
تو جب انہوں نے دیکھا اس (عذاب) کو بادل (کی طرح) آتا ہوا اپنی وادیوں میں ، کہنے لگے یہ بادل برسنے والا ہے ہم پر (نہیں) بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے (یہ) ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے
یقیناً ہم نے بسایا تھا (قوم عاد) کو اسطرح جیسے تمہیں بھی نہیں بسایا اس (دنیا) میں ، اور ہم نے بنائے تھے ان کے کان ، آنکھیں ، اور دل تو کچھ فائدہ نہ دیا انہیں ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے ، جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور الٹا پڑا ان پے وہ مذاق جو وہ اڑایا کرتے تھے
تو کیوں نہیں مدد کی ان کی جو انہوں نے بنا رکھا تھا اللہ کے علاوہ قرب حاصل کرنے کیلئے معبود؟ بلکہ وہ بھول گئے انہیں ، یہ تھے ان کے گھڑے ہوئے (معبود) جنہیں وہ گھڑا کرتے تھے
اور جب ہم نے پھیرا (یعنی بھیجا) تمہاری طرف جنوں کی ایک جماعت کو کہ وہ سنیں قرآن ، تو جب وہ حاضر ہوئے (نبیؐ کے) پاس ، تو کہنے لگے (ایک دوسرے سے) خاموش رہو ، تو جب پورا ہوا (پڑھنا) تو لوٹ گئے اپنی قوم کی طرف ڈرانے کیلئے
کہنے لگے اے ہماری قوم! بیشک ہم نے سنی ہے وہ کتاب جو نازل کی گئی ہے موسیٰ کے بعد ، جو تصدیق کرتی ہے اپنے سامنے (کتابوں) کی ، جو رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف
اور جو قبول نہیں کرے گا اللہ کے داعی (یعنی نبیؐ) کو تو وہ عاجز نہیں کر سکے گا زمین میں (اللہ کو) اور نہ ہو گا اس کے لئے کوئی مدد گار اللہ کے سوا ، یہی ہیں کھلی گمراہی میں
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ، اور وہ نہیں تھکا ان کے پیدا کرنے میں ، وہ قادر ہے اس پر کہ وہ حیات دے مُردوں کو ، کیوں نہیں؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے
اور اس دن پیش کئے جائیں گے کافر جہنم کے سامنے (اور کہا جائے گا) کیا یہ برحق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (برحق ہے ، اللہ) فرمائے گا ، تو مزہ چکھو عذاب کا بسبب تم اپنے کفر کے
تو (اے نبیؐ) صبر کریں جیسا صبر کیا اعلیٰ ہمت رسولوں نے ، اور جلدی نہ کریں ان کے (عذاب) لئے ، جس دن یہ دیکھ لیں گے جس (عذاب) کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے ، تو (معلوم ہو گا) دن کی ایک گھڑی ٹھہرے (دنیا میں ، آپ کا کام) پہونچا دینا ہے ، تو فاسق ہی ہلاک ہوں گے