قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اوپر سے (جلال کیوجہ سے) اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں تعریف کے ساتھ اپنے رب کی اور استغفار کرتے ہیں ان کیلئے جو زمین میں ہیں، خبردار! بیشک اللہ بہت مغفرت کرنیوالا اور رحیم ہے
اسی طرح ہم نے وحی کی ہے آپ کی طرف قرآن کو عربی میں، تاکہ آپ ڈرائیں مکہ والوں اور اس کے آس پاس والوں کو اور آپ ڈرائیں جمع ہونے کے دن سے جس میں کوئی شک نہیں، ایک فریق جنت میں ہو گا اور ایک فریق جہنم میں
اور اگر اللہ چاہتا تو بنا دیتا ان سب کو ایک ہی امت میں، اور لیکن وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالموں کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار
اور جو تم نے اختلاف کیا ہے اس (دین) کی کسی چیز میں تو اس کا فیصلہ اللہ کے پاس ہے یہ اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے توکل کیا، اور اسکی طرف میں رجوع کرتا ہوں
وہ پیدا کرنیوالا ہے آسمانوں اور زمین کا، اسی نے بنائے تمہارے لئے تمہی میں سے جوڑے اور چوپایوں کے جوڑے (بنائے) وہ پھیلا رہا ہے تمہیں اس (زمین) میں، نہیں ہے اسی کی طرح کوئی بھی، اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے
(اللہ نے) شریعت بنادی تمہارے لئے دین کو، جس کی وصیت کی اس نے نوح کو، اور جس کی وحی کی ہم نے تمہاری طرف، اور جس کی وصیت کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو، کہ تم قائم کرو (اس) دین کو، اور تفرقہ نہ ڈالو اس میں، مشکل ہے مشرکین پر (یہ دین) جس کی طرف آپ بلا رہے ہیں انہیں اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف جسے وہ چاہتا ہے، اور ہدایت اسی کو دیتا ہے اپنی طرف جو رجوع کرتا ہے
اور ان لوگوں نے تفرقہ کیا بعد اس کے کہ آچکا ان کے پاس علم آپسی ضد میں، اور اگر (قیامت کی) بات طے نہ ہوتی آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک (تو) یقیناً فیصلہ ہو جاتا ان کے درمیان اور بیشک جو وارث بنے اہل کتاب اپنے پہلے (اہل کتاب) کے بعد وہ بھی شک ہی شک میں ہیں اس (قرآن) میں
تو اس (قرآن) کی طرف تم بلاؤ اور جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم دیا گیا ہے، اور اتباع نہ کرو ان کی خواہشوں کی اور کہو میں ایمان لایا اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں انصاف کروں تمہارے درمیان، اللہ ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے اعمال ہمارے اور تمہارے تمہارے لئے ہیں، کوئی حجت نہیں ہمارے اور تمہارے درمیان، اللہ جمع کرے گا ہم کو، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
اور جو حجت کرتے ہیں اللہ (کی باتوں) میں بعد اس کے کہ قبول کر لی ہیں انہیں (مسلمانوں نے) ان کی حجت باطل ہے ان کے رب کے نزدیک، اور ان پر غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
وہ جلدی کر رہے ہیں اس (قیامت) کے بارے میں جو ایمان نہیں رکھتے اس پر، اور جو ایمان رکھتے ہیں وہ تو اس سے ڈرتے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ بیشک وہ برحق ہے، خبردار! بیشک جو جھگڑ رہے ہیں قیامت کے بارے میں بیشک وہ دور کی گمراہی میں ہیں
جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی ہو، ہم زیادہ دیتے ہیں اسے اس کی کھیتی میں اور جس کا ارادہ (صرف) دنیا کی کھیتی کا ہو، تو ہم عطا کرتے ہیں اسے اسی سے، اور ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
کیا ان کے شرکاء نے شریعت بنائی ہیں ان کے لئے دین میں جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ہے، اور اگر فیصلے کی بات (قیامت) طے نہ ہوتی، تو فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان اور بیشک ظالموں کے لئے ہی دردناک عذاب ہے
آپ دیکھیں گے ظالموں کو ڈرتے ہوئے جیسا انہوں نے کمایا وہ واقع ہونے والا ہے ان پر، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ جنت کے باغات میں ہوں گے، ان کے لئے وہ ہو گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس یہی بہت بڑا فضل ہے
یہی وہ (جنت کا وعدہ) ہے جسکی بشارت دیتا ہے اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور عمل کئے نیک (تو) کہہ دیجئے! میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا، مگر رشتے کی محبت (کا ہی لحاظ کرو) جو شخص کرے گا کوئی نیکی تو ہم زیادہ کردیں گے اس کیلئے اس (کام) میں نیکی، بیشک اللہ مغفرت کرنیوالا قدر دان ہے
کیا یہ کہتے ہیں کہ (آپ نے) گھڑ لیا ہے اللہ پر جھوٹ، تو اگر چاہے اللہ تو مہر لگادے آپ کے دل پر (اگر گھڑتے تو) اور اللہ مٹاتا ہے باطل کو اور حق کو حق ثابت کرتا ہے اپنے کلمے سے، بیشک وہ جاننے والا ہے سینے کی باتوں کو
اور اگر زیادہ کردے اللہ اپنے (تمام) بندوں کی روزی کو، تو یقیناً وہ بغاوت کر دیں زمین میں، اور لیکن اللہ نازل کرتا ہے بقدر ضرورت جسے چاہتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر اور دیکھ رہا ہے
اور اس کی نشانیوں میں سے پیدائش ہے آسمانوں اور زمین کی اور اسی نے پھیلایا ہے ان دونوں میں (یعنی آسمانوں اور زمینوں میں) جاندار کو، اور وہ اسکے جمع کرنے پر جب چاہے قادر ہے
تو جو چیزیں تمہیں عطا کی گئی ہیں وہ (تھوڑا) سامان ہے حیات دنیا کا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں
اور یہی ہیں وہ جو قبول کرتے ہیں اپنے رب کو اور نماز قائم کرتے ہیں، اور اپنے معاملے میں مشورہ کرتے ہیں آپس میں، اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے انہیں اس میں سے خرچ کرتے ہیں
بے شک راستہ (یعنی گناہ) تو ان پر ہے جو ظلم کریں لوگوں پر، اور بغاوت (و فساد) کریں زمین میں ناحق، یہی وہ لوگ ہیں جن کیلئے (اللہ کی طرف سے) دردناک عذاب ہے
اور جسے اللہ گمراہ کردے تو نہیں ہے اس کے لئے کوئی دوست اس کے بعد، اور تم دیکھو گے ظالموں کو جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ کیا (اب دنیا میں) لوٹنے کا کوئی راستہ ہے
اور تم دیکھو گے انہیں جب وہ پیش کئے جائیں گے اس (جہنم) پر، ڈر رہے ہوں گے ذلت سے اور دیکھیں گے چھپی نظروں سے، اور کہیں گے ایمان والے بیشک خسارے میں وہی ہے جنہوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو اور اپنے گھرانے کو (آج) قیامت کے دن، خبردار! بیشک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں رہیں گے
(اے لوگو!) قبول کرو اپنے رب (کے احکام) کو اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن جو نہ ہور د اس کے لیے اللہ کی طرف سے، نہ ہو گی تمہارے لئے کوئی پناہ اس دن اور نہ تم انکار کرسکو گے (قیامت کے دن)
تو اگر یہ (کفار) اعراض کریں تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر محافظ بنا کر، آپ کے ذمہ تو صرف (پیغام) پہونچانا ہے، اور جب ہم مزہ چکھاتے ہیں انسان کو اپنی رحمت کا تو وہ خوش ہو جاتا ہے اس سے، اور اگر پہونچتی ہے انہیں مصیبت انکے اعمال کیوجہ سے تو بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہو جاتا ہے
اور ممکن نہیں کسی بشر کیلئے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے، یا بھیجے کسی فرشتے کو اور وہ (فرشتہ) وحی کرے اسکے حکم سے جو اللہ چاہے، بیشک وہ اعلیٰ اور حکمت والا ہے
اور اسی طرح ہم نے وحی کی آپکی طرف روح (یعنی قرآن) کو اپنے حکم سے آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا ہے؟ اور لیکن ہم نے بنایا ہے اس (قرآن) کو نور، ہم ہدایت دیتے ہیں اس (نور) کے ذریعے جسے ہم چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے، اور بیشک آپ یقیناً راہ دکھاتے ہیں سیدھے راستے کی