اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر پردہ ہے جس کی طرف تم بلا رہے ہو ہمیں، اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے، اور ہمارے اور تمہارے درمیان حجاب ہے، تو تم عمل کرو اور بیشک ہم بھی عمل کر رہے ہیں
کہہ دیجئے! کہ میں بشر ہوں تمہاری طرح مجھ پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، تو تم قائم رہو اس (اللہ) کی طرف اور مغفرت چاہو اسی سے، اور تباہی ہے مشرکوں کیلئے
اور اس نے بنائے اسمیں پہاڑ اس کے اوپر سے، اور برکت دی اس (زمین) میں، اور مقرر کیں اسمیں غذائیں چار دنوں میں یہ جواب ہے سوال کرنیوالوں کیلئے (جس کے ذہن میں سوال ہو)
پھر توجہ کی آسمان کی طرف اور وہ (آسمان) دھواں تھا، تو فرمایا اس سے اور زمین سے کہ آؤ تم دونوں خوشی سے یا ناخوشی سے، دونوں نے کہا ہم آتے ہیں اطاعت گزار بن کر
تو فیصلہ فرمایا سات آسمان (بنانے) کا دو دنوں میں اور وحی کی (یعنی حکم دیا) ہر آسمان میں اس کے کام کے متعلق، اور ہم نے مزین کیا آسمان دنیا کو ستاروں سے اور حفاظت کی (شیطان سے) یہ تدبیر ہے زبردست علم والے کی
جب آئے تھے ان کے پاس رسول ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے (کہا) کہ تم نہ کرو عبادت اللہ کے سوا کسی کی، تو انہوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا (رسول بنا کر) ہم انکار کرتے ہیں ان کا جو تم لے کر آئے ہو
تو جہاں تک عاد کا تعلق ہے تو انہوں نے تکبر کیا زمین میں ناحق، اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ قوت میں؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا بیشک جس اللہ نے پیدا کیا انہیں وہ ان سے شدید قوت والا ہے، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے
تو بھیجی ہم نے ان پر تیز ہوا منحوس دنوں میں (قوم عاد پر جو ہود علیہ السلام کی قوم ہے) تاکہ ہم مزہ چکھائیں انہیں عذاب کا دنیا کی زندگی میں اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کرنے والا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی
اور جہاں تک ثمود کا تعلق ہے تو انہوں نے محبوب رکھا اندھے پن کو ہدایت پر، تو پکڑا انہیں ذلت کے عذاب کی کڑک نے، بسبب ان کی کمائی کے (قوم ثمود صالح علیہ السلام کی قوم ہے)
وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے کیسے شہادت دی تم نے ہمارے خلاف، وہ کہیں گی ہمیں بولنے کی قوت دی اللہ نے جس نے بولنے کی قوت دی ہر چیز کو، اور اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
اور جیسا کہ تم نے چھپ کے کیا تھا (اپنا بد اعمال) کہ (نہیں) گواہی دیں گے تم پر تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں، اور لیکن تم نے یہ گمان کیا تھا کہ بیشک اللہ جانتا ہی نہیں تمہارے بہت سے عمل کو
اور ہم نے مقرر کئے ہیں ان کیلئے دوست (شیاطین کو) جنہوں نے مزین کر دئے تھے ان کے اگلے اور پچھلے (اعمال) کو، اور سچ ہوئی ان پر بات (عذاب کی) جس طرح گزری ہوئی امت میں ہوئی ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے بیشک وہ ہو گئے خسارہ پانیوالے
اور کافر کہیں گے اے ہمارے رب! دکھا دیجئے ہمیں وہ لوگ جنہوں نے گمراہ کیا تھا ہمیں جنوں اور انسانوں کے (تاکہ) ہم ڈالیں ان دونوں کو اپنے قدموں کے نیچے تاکہ دونوں ہو جائیں (جہنم میں) سب سے نیچے
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر قائم رہے (اس پر) نازل ہوتے ہیں ان پر فرشتے (اور کہتے ہیں) تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو، اور بشارت سن لو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا
ہم (فرشتے اللہ کی طرف سے) دوست ہیں تمہارے دنیوی زندگی میں اور آخرت میں بھی، اور تمہارے لئے ہے اس (جنت) میں (وہ سب کچھ) جو تم چاہو گے اور تمہارے لئے ہے اسمیں وہ جو تم مانگو گے
اور اچھائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتے، دفع کرو (یعنی دور کرو) بھلائی کے ذریعے برائی کو تو جب (تم دیکھو گے) تمہارے اور اس (دشمن) کے بیچ عداوت بھی ہو تو وہ دوست اور مددگار ہو جائیں گے
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں دن، اور رات، اور سورج اور چاند، تم سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو (بلکہ) سجدہ کرو اس اللہ کے لئے جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اسی کی عبادت کرنی ہے (تو)
اور اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ تو زمین کو بنجر دیکھتا ہے، تو جب ہم نازل کرتے ہیں اس پر پانی تو وہ تازہ ہو جاتی ہے اور ابھر جاتی ہے، بیشک جس نے اسے حیات دی وہی حیات دینے والا ہے مُردوں کو، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے
بیشک جو کجروی (یعنی قیل وقال) کرتے ہیں ہماری آیتوں میں وہ ہم سے چھپے نہیں ہیں، تو جو آگ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو آئے امن کے ساتھ قیامت کے دن؟ تم عمل کرو جو تم چاہو بیشک وہ (اللہ) دیکھ رہا ہے تمہارے اعمال کو
اور اگر ہم بناتے اس (قرآن) کو عجمی (غیر عرب) زبان میں تو یقینا کہتے تفصیل کیوں نہیں کی گئیں اسکی آیتوں کی؟ عجمی (کتاب) اور عربی (رسول؟) کہہ دیجئے یہ (قرآن) ایمان والوں کیلئے ہدایت اور شفا ہے، اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، اور یہ (قرآن) ان پر اندھا پن ہے یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں پکارا جا رہا ہو دور کی جگہ سے
اور یقیناً ہم نے عطا کی موسیٰ کو کتاب (یعنی تورات) تو اختلاف کیا گیا اس میں اور اگر یہ بات طے نہ ہوتی آپ کے رب کی طرف سے تو فیصلہ کیا جاچکا ہوتا ان کے درمیان (عذاب کا) اور بیشک یہ لوگ شک ہی شک میں ہیں اس (قرآن) کی طرف سے
اسی (اللہ) کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم، اور جو نکلتے ہیں پھل اپنے غلافوں (یا چھلکوں) سے اور جو حمل سے ہوتی ہے مادہ اور جو بچے وہ جنتی ہے سب کا علم اسی کو ہے، اور جس دن پکارے گا اللہ ان (مشرکوں) کو، کہ کہاں ہیں میرے شریک؟ وہ کہیں گے ہم نے تو تجھے کہہ دیا کہ ہم میں کوئی اسکا گواہ نہیں
اور اگر ہم مزہ چکھائیں اسے رحمت کا اپنی طرف سے مصیبت کے بعد جو اسے پہونچی، تو ضرور وہ کہے گا یہ تو میرا حق ہے، اور میرا گمان نہیں کہ قیامت قائم ہوگی، اور اگر میں لوٹایا بھی گیا اپنے رب کی طرف تو بیشک میرے لئے اسکے پاس اچھائی ہی ہوگی، تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو عمل وہ کرتے تھے، اور ضرور ہم مزہ چکھائیں گے انہیں سخت عذاب کا
عنقریب ہم دکھائیں گے انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں (کائنات میں) اور ان کی اپنی ذات میں بھی (کہ کیسے ہم نے پیدا کیا) یہاں تک کہ واضح ہو جائے گا ان پر حق، کیا یہ کافی نہیں آپ کے رب (کی گواہی) کیلئے کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے