اور لوگوں میں بعض ایسے ہیں جو سودا کرتے ہیں لہو الحدیث (یعنی گانے، بجانے) کا تا کہ وہ گمراہ کرے (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے بغیرعلم کے اور بناتے ہیں اسکا مذاق، یہی ہیں جن کے لئے گھٹیا عذاب ہے
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس (نضر بن حارث) کے سامنے ہماری آیتیں، تو پلٹ جاتا ہے تکبر سے گویا اس نے سنا ہی نہیں اسے، گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں پردہ ہے تو آپ خبر سنادیجئے اسے درد ناک عذاب کی
اسی نے پیدا کیا آسمانوں کو بغیر ستون کے تم دیکھ رہے ہو انہیں اور اس نے ڈال دیا ہے زمین میں پہاڑوں کو، تا کہ وہ ہل نہ جائے تمہیں لے کر، اور پھیلا دیئے اس (زمین) میں ہر طرح کے جاندار، اور ہم نے نازل کیا آسمان سے پانی تو ہم نے اگا ئے اس میں ہر قسم کے عمدہ جوڑے
اور یقیناً ہم نے عطا کی لقمان کو حکمت کہ تم اللہ کا شکرکرو، اور جو شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لئے شکر کرتا ہے، جو ناشکری کرتاہے تو بیشک اللہ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے
اور ہم نے نصیحت کی انسان کو اسکے ماں باپ کے بارے میں (کہ) حمل میں رکھا اسے اسکی ماں نے کمزوری درکمزوری میں، اور اسکا دودھ چھڑایا دو برس میں کہ تم شکر کرو میرا اور اپنے ماں باپ کا (سب کو) میری ہی طرف لوٹنا ہے
اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تمہیں کہ تم شریک ٹھہراؤ میرے ساتھ جس کا نہیں تجھے علم تو تم ان دونوں کی اتباع نہ کرنا، اور مصاحبت (یعنی اچھا سلوک) کرنا ان دونوں کے ساتھ دنیا میں، اور اتباع کرنا اس راستے کی جو رجوع ہو میری طرف، پھر میری ہی طرف تم سب کو لوٹنا ہے، تو میں بتا دوں گا تمہیں جو کچھ تم عمل کرتے تھے
اے پیارے بچو! اگر ہو (کوئی چیز) رائی کے دانے کے برابر اور وہ ہو کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں، لے آئے گا اسے اللہ بیشک اللہ باریک بیں خبر رکھنے والا ہے
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے مسخر کیا ہے تمہارے لئے جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں، اور پوری کر دی ہیں تم پر اپنی نعمتیں ظاہری (یعنی دکھنے والی) اور باطنی (یعنی نہ دکھنے والی) اور بعض لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور نہ ہدایت ہے (ان کے پاس) اور نہ روشن کتاب
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اتباع کرو (اس کی) جو اللہ نے نازل کیا، تو کہتے ہیں ہم اتباع کریں گے جس پر ہم نے پایا ہے اپنے باپ دادا کو، اگرچہ شیطان بلاتا ہے انہیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف (ایسی بات کیوجہ سے)
اور جو کفر کرے تو آپ کو غم میں نہ ڈالے اس کا کفر ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے، پھر ہم بتائیں گے انہیں جو عمل وہ کیا کرتے تھے، بیشک اللہ جانتا ہے دلوں کا حال
اور اگر آپ سوال کریں ان سے کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تو کہہ دیجئے تمام تعریف اللہ ہی کیلئے ہے، لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں
اور اگر زمین کے درختوں کے قلم ہوں اورسمندر (سیاہی ہو) اور ان کی مدد کرے ان کے بعد سات سمندر (اور ہوجائے پھر بھی) نہیں ختم ہوں گے اللہ کے کلمات، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں، اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور اسی نے مسخر (یعنی قابو میں) کیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک جاری ہے ایک وقت مقررہ کیلئے، اللہ باخبر ہے اس سے جو تم عمل کرتے ہو
اور جب چھا جاتی ہیں ان پر موجیں سائے کی طرح تو وہ پکارتے ہیں اللہ کو مخلص بنکر اسکے دین میں،پھر جب وہ نجات دیتاہےانہیں خشکی کی طرف تو ان میں سے کچھ ہی مقصد پر رہتے ہیں (جس کیلئے اللہ نے پیدا کیا) اور ہماری آیتوں کا انکار تو غدّار اور ناشکرے ہی کرتے ہیں
اے لوگو! تم ڈرو اپنے رب سے، اور ڈرو اس دن سے (جس میں) نہ بدلہ دے گا باپ اپنی اولاد کو، اور نہ اولاد بچا سکے گی اپنے باپ کو کچھ بھی، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو ہرگز تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے دنیا کی زندگی، اور ہرگز تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اللہ کی جانب سے دھوکے باز (شیطان)
بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی نازل فرماتا ہے بارش، اور وہ جانتاہے جو (مادہ کے) پیٹوں میں ہے، کوئی شخص نہیں جانتا کہ کیا کمائے گا (یعنی کرے گا) کل، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ کس زمین میں وہ مرے گا،بیشک اللہ علم والا خبر رکھنے والا ہے