قائم ہے (یہ کتاب قرآن) تاکہ ڈرائے (نبی) سخت عذاب سے اس (خدا) کی طرف سے، اور بشارت دے مؤمنین کو جو نیک عمل کرتے ہیں، بےشک ان کے لئے اجر حسنہ (یعنی اچھا بدلہ) ہے
اور ہم نے مربوط (یعنی مضبوط) رکھا ان کے دلوں کو، جب وہ کھڑے ہوئے اور کہا اے ہمارے رب! تو ہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا، ہم ہرگز نہ پکاریں گے اسکے سوا کسی معبود کو (اگر ایسا کیا) تو ہم غلط بات کہیں گے
اور جب تم الگ ہو گئے ہو ان سے اور (ان سے بھی) جن کی یہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے سوا، تو پناہ لو غار میں، پھیلا دے گا تم پر تمہارا رب اپنی رحمت، اور آسان کر دے گا تمہارے لئے تمہارے معاملے کو نرمی سے
اور (اے نبی) اگر دیکھتے سورج کو جب وہ طلوع ہوتا تھا تو جھک جاتا تھا ان کے (غار کے) دائیں طرف، اور جب غروب ہوتا تھا تو کترا جاتا تھا ان کے بائیں طرف، اور وہ میدان میں تھے اس (غار) کے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے تو تم ہرگز نہ پاؤ گے اس کے لئے کوئی ولی یا ہدایت دینے والا
اور (اے نبی اگر تو دیکھتا) تو گمان کرتا انہیں جاگتا ہوا، حالانکہ وہ سو رہے ہیں، اور ہم پلٹتے رہتے ہیں انہیں دائیں اور بائیں طرف، اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے (بیٹھا) ہے چوکھٹ پر، اگر تم جھانک کر دیکھو انہیں تو پلٹ بھاگو ان سے فرار ہوکر، اور بھر جائے تم پر ان کا رعب
اور اسی طرح ہم نے اٹھایا انہیں، تاکہ وہ سوال کریں ایک دوسرے سے، کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے تم کتنی دیر ٹھہرے، انہوں نے کہا ہم ٹھہرے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، انہوں نے کہا تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنی دیر تم ٹھہرے، تو (اب) بھیجو اپنے میں سے ایک کو اپنا روپیہ دے کر اس شہر میں پھر وہ دیکھے کہ کون سا کھانا پاکیزہ ہے، تو وہ لے آئے تمہارا کھانا وہاں سے، اور انہیں چاہئے کہ ہوشیاری سے جائے، اور نہ محسوس ہو تمہارے بارے میں کسی کو
اور اسی طرح ہم نے ظاہر کر دی ان کی خبر تاکہ (لوگ) جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے (کہ مرنے کے بعد جینا ہے) اور بیشک قیامت میں کوئی شک نہیں پھر جھگڑنے لگے لوگ آپس میں ان کے معاملے میں، تو انہوں نے کہا بنا دو ان پر ایک عمارت، ان کا رب خوب جانتا ہے انہیں، کہا ان لوگوں نے جو غلبہ رکھتے تھے اپنے معاملے میں (وقت کے بادشاہ یا وزیروں نے) کہ ہم ضرور بنائیں گے ان پر ایک مسجد
جلد ہی کہیں گے (اہل کتاب کہ) وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے، اور بعض کہیں گے پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے بن دیکھے تیر ماریں گے، اور بعض کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے کہہ دو میرا رب خوب جانتا ہے ان کی تعداد انہیں تھوڑے ہی لوگ جانتے ہیں (جیسے ان کے زمانے اور گھرانے کے لوگ) تو تم نہ جھگڑو ان کے بارے میں مگر سرسری اور نہ پوچھو ان (یہود) میں کسی سے ان (اصحاب کہف) کے بارے میں
مگر یہ کہ ان شاء اللہ کہہ لیا کرو اور یاد کر لیا کرو اپنے رب کو جب تم بھول جاؤ، اور کہو امید ہے رہنمائی کرے گا مجھے میرا رب ایسی ہدایت کی کہ زیادہ قریب تر ہو اس ہدایت سے بھی
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دو اللہ بہتر جانتا ہے جتنی مدت وہ ٹھہرے، اسی کو ہے غیب کا علم تمام آسمانوں اور زمین کا، کیا ہی بہتر وہ دیکھنے اور سننے والا ہے، اور نہیں ہے ان کے لئے اللہ کے سوا کوئی مددگار، اور وہ (اللہ) نہیں شریک ٹھہراتا اپنے حکم میں کسی کو
اور (اے نبی) جمائے رکھیں اپنے آپ کو ان (غریب صحابہ رضی اللہ عنہم) کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، وہ چاہتے ہیں اسکی رضاء، اور تم نہ پھیرو اپنی آنکھوں کو ان (غریبوں) سے کہ چاہنے لگو زینت (کہ سردار مسلمان ہوں دین کو فائدہ ہو) دنیوی زندگی کی، اور نہ اتباع کرو اس (امیہ بن خلف) کی جس کے دل کو ہم نے غافل کر دیا ہے اپنی یاد سے، اور اس نے اتباع کی ہے اپنی خواہش کی، اور اسکا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے
اور کہو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہے ظالموں کے لئے آگ، گھیر لیں گی انہیں اس کی قناتیں، اور اگر وہ مدد مانگیں گے تو مدد دی جائے گی اس پانی سے جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو گا، جھلسا دے گا (ان کے) چہروں کو، کیا ہی برا پینا ہو گا، اور کیا ہی بری جگہ ہو گی
پہنائے جائیں گے انہیں ان (نعمت والی جنتوں) میں سونے کے کنگن، اور وہ پہنیں گے سبز لباس باریک اور موٹے ریشم کا ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے ان میں مسندوں پر، کیا ہی بہتر بدلہ ہے، اور کیا ہی اچھی جگہ ہے (اللہ کے بندوں کیلئے)
اور بیان کرو ان کے سامنے مثال دو لوگوں کی، ان دونوں میں سے ایک کو ہم نے دو باغ دئے تھے انگور کے، اور ہم نے گھیر رکھا تھا ان دونوں باغوں کو کھجور کے درختوں سے، اور ہم نے لگا رکھی تھی ان دونوں کے درمیان بھی کھیتی
کہا اس سے اس کے (دوسرے) ساتھی نے باتیں کرتا ہوا، کہ کیا تو انکار کرتا ہے اس (ذات) کا جس نے پیدا کیا تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے پھر درست کیا تجھے ایک آدمی بناکر
اور کیوں نہیں جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں تو کہا جو چاہے اللہ وہی ہوتا ہے اور کوئی طاقت نہیں اللہ کے سوا، اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں
اور گھیر لیا گیا اس کے پھل کو (آفت کے ذریعے) تو وہ رہ گیا ملتا ہوا اپنے ہاتھوں کو اس پر جو اس نے خرچ کیا تھا اس (باغ) میں، اور وہ (باغ) گر پڑا اپنی چھتریوں پر، اور وہ کہنے لگا ہائے میری تباہی کاش میں شریک نہیں ٹھہراتا اپنے رب کے ساتھ کسی کو
اور بیان کرو ان (کفار مکہ) کے سامنے مثال دنیا کی زندگی کی وہ پانی کی طرح ہے جسے ہم نازل کرتے ہیں آسمان سے، پھر وہ مل جاتا ہے زمین کے نباتات سے (یعنی زمین کی ہریالی سے) پھر وہ ہو جاتا ہے چورہ چورہ، پھر اڑا دیتی ہیں اسے ہوائیں، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
مال اور اولاد تو زینت ہیں دنیا کی زندگی کی، اور باقی رہنے والے نیک (اور) بہتر عمل تیرے رب کے پاس ثواب کے اعتبار سے بہتر ہے، اور امید کے اعتبار سے بھی بہتر ہے
اور وہ پیش کئے جائیں گے تمہارے رب کے سامنے صف باندھ کر یقیناً تم آگئے ہمارے پاس جیسا ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی بار، بلکہ تم نے خیال کیا تھا کہ ہم نہیں مقرر کریں گے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت
اور رکھا جائے گا اعمال نامہ پھر تو دیکھے گا مجرموں کو ڈر رہے ہوں گے جو اس میں ہے اس سے، اور کہیں گے ہائے ہماری تباہی! کیا ہو گیا ہے اس اعمال نامے کو نہیں چھوڑی اس نے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز مگر سب کو شمار کر لیا ہے، اور وہ پائیں گے جو عمل انہوں نے کئے تھے سب حاضر (یعنی موجود) اور نہیں ظلم کرے گا تیرا رب کسی پر
اور جب ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا تو نافرمانی کی اس نے اپنے رب کے حکم کی، تو کیا تم بناتے ہو اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست میرے علاوہ، اور وہ تمہارے دشمن ہیں (یاد رکھو کہ) ظالموں کے لیے کیا ہی برا بدلہ ہے
اور جس دن (اللہ رب العزت) فرمائے گا کہ پکارو میرے شریکوں کو جن پر تم گمان کرتے تھے، تو وہ پکاریں گے انہیں مگر وہ نہیں جواب دیں گے انہیں، اور ہم نے بنادی ہے ان کے درمیان ہلاکت کی جگہ
اور یقینا ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی ہے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر ایک (چیز کی) مثال کو، اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے (تمام طرح کی مثال کے باوجود)
اور نہیں ہے منع لوگوں کیلئے کہ وہ ایمان لائیں، جب کہ آگئی ان کے پاس ہدایت، اور استغفار کریں اپنے رب سے، مگر یہ کہ آئے ان پے پہلوں جیسا معاملہ، یا آجائے ان پے عذاب سامنے (پھر ایمان لائیں گے؟)
اور ہم تو بھیجتے ہیں رسولوں کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر، اور جھگڑا کرتے ہیں وہ لوگ جو کافر ہیں ناحق تاکہ وہ نیچا دکھائیں اس (جھگڑے) کے ذریعے حق کو اور انہوں نے بنالیا میری آیتوں کو اور جس (رسالت) سے انہیں ڈرایا گیا اسے بھی مذاق
اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا؟ جسے نصیحت کی جائے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے، تو وہ اعراض کرے اس سے، اور بھول جائے اسے جو کچھ آگے بھیجا اس کے ہاتھوں نے، بیشک ہم نے ڈال دئے ہیں ان کے دلوں پر پردہ کہ وہ نہ سمجھیں اسے، اور ان کے کانوں میں بھی پردہ ہے، اور اگر تم بلاؤ انہیں ہدایت کی طرف تو وہ ہرگز ہدایت نہ پائیں گے کبھی بھی
اور تیرا رب مغفرت کرنے والا رحمت والا ہے، اگر وہ پکڑ کرے ان کی جو کچھ انہوں نے کیا، تو جلد ان پر عذاب بھیج دیتا، بلکہ ان کے لئے ایک وعدہ مقرر ہے، وہ ہرگز نہیں پائیں گے اس کے سوا کوئی پناہ
(موسیٰ سے نوجوان خادم نے) کہا کیا آپ نے غور کیا؟ جب ہم نے پناہ لی تھی اس پتھر کے پاس، تو میں بھول گیا مچھلی کو، اور مجھے بھلا دیا شیطان نے کہ اس کا تذکرہ کروں، اور اس (مچھلی) نے بنالیا تھا اپنا راستہ سمندر میں عجیب طرح سے
تو چل پڑے دونوں، یہاں تک کہ جب دونوں سوار ہوئے کشتی میں (تو حضرت خضر نے) اسے پھاڑ دیا کہا (موسیٰ نے) کیا آپنے اس لئے پھاڑا ہے اسکو تاکہ غرق ہوجائیں اسکے لوگ، یقیناً آپ نے عجیب کام کیا ہے
پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان دونوں کی ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے، تو (حضرت خضر نے) قتل کر دیا اسے، کہا (موسیٰ نے) کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کا قتل کیا ہے بغیر کسی وجہ کے، یقیناً آپ نے ناپسندیدہ کام کیا ہے
پھر دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ وہ دونوں آئے ایک گاؤں والوں کے پاس، ان دونوں نے کھانا مانگا وہاں کے لوگوں سے، تو انہوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی ضیافت سے، پھر ان دونوں نے پائی وہاں ایک دیوار جو گرنے والی تھی ان دونوں نے کھڑی کر دی اسے، کہا اگر آپ چاہتے تو اس (کام) پر کوئی اجرت لے لیتے
تو جہاں تک کشتی کا تعلق ہے تو وہ چند مسکینوں کی تھی جو کام کرتے ہیں دریا میں، تو میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور (یہ اس لئے کہ) ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو لے لیا کرتا تھا ہر ایک کشتی کو زبردستی
اور جہاں تک دیوار کا تعلق ہے تو وہ دو یتیم بچوں کی تھی اس شہر کے (یہ شہر ایلہ ہے ملک اسرائیل میں) اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا، اور ان دونوں کا باپ نیک آدمی تھا تو چاہا آپ کے رب نے کہ جب وہ دونوں پہنچے اپنی جوانی کو تو نکال لیں اپنا خزانہ آپ کے رب کی رحمت کیوجہ سے، اور میں نے نہیں کیا اسے اپنی مرضی سے، یہ تاویل (یعنی حقیقت) ہے اس کی جس پر (اے موسیٰ!) آپ نہ کرسکے صبر
یہاں تک کہ جب وہ پہونچا سورج غروب ہونے کی جگہ تو پایا اسے غروب ہوتا ہوا ایک گرم چشمے میں (یعنی دلدل میں) اور اس نے پایا اس (دلدل) کے پاس ایک قوم کو، ہم نے کہا اے ذوالقرنین! یا انہیں سزا دو اور یا ان کے ساتھ تم نیک سلوک کرو (تمہیں اختیار ہے)
یہاں تک کہ جب وہ پہونچا سورج طلوع ہونے کی جگہ، تو اس نے پایا سورج کو طلوع ہوتا ہوا ایک ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا تھا ہم نے جس کے لئے کوئی پردہ (سورج سے بچنے کیلئے)
انہوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین! بے شک یاجوج اور ماجوج فساد کرتے ہیں اس زمین پر، تو کیا ہم مقرر کر دیں آپ کیلئے خراج (یعنی ٹیکس) اس شرط پر کہ آپ بنا دیں ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار
لاؤ میرے پاس تختیاں لوہے کی، یہاں تک کہ جب برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے درمیان کو تو کہا کہ دھونکو، یہاں تک کہ جب بنا دیا اسے آگ تو کہا لاؤ میرے پاس تاکہ میں ڈال دوں اس پر تانبا
یہ وہی ہیں جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا اور اس کی ملاقات کا، تو ضائع ہو گئے ان کے اعمال، تو ہم نہیں قائم کریں گے ان کے لئے قیامت کے دن کوئی وزن
کہہ دو اگر ہو جائے سمندر مددگار (روشنائی بن کر) میرے رب کے کلمات لکھنے کے لئے، تو ختم ہو جائیں گے سمندر میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے اور اگرچہ لے آئیں ہم اس جیسا سمندر مدد کیلئے
کہہ دو کہ میں بشر ہوں تمہاری طرح، وحی کی جاتی ہے میری طرف، کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جو کوئی امید رکھے اپنے رب کی ملاقات کی تو اسے چاہئے کہ عمل صالح کرے، اور نہ شریک ٹھہرائے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو