وہ نازل کرتا ہے فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، کہ (اے نبی) تم ڈراؤ بیشک اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم مجھ سے ہی ڈرو
وہ اگاتا ہے تمہارے لئے اس (پانی) کے ذریعے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے پھل، بےشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں
اور اسی (اللہ) نے مسخر کیا تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو اور تاروں کو بھی مسخر کیا اپنے حکم سے، بیشک ان میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھ رکھتے ہیں
اور وہی ہے (اللہ) جس نے مسخر کیا (یعنی تمہارے قابو میں کیا) دریا کو تاکہ تم کھاؤ اس میں سے تازہ گوشت اور تاکہ تم نکالو اس سے زیور (کی چیزیں) جسے تم پہنتے ہو، اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں، اور تاکہ تم تلاش کرو اُس کے فضل کو اور تاکہ تم شکر ادا کرو
تاکہ وہ اٹھائیں اپنا مکمل بوجھ قیامت کے دن، اور ان کا بوجھ بھی جنہیں یہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، خبردار! کیا ہی برا بوجھ ہے جو یہ اٹھائیں گے (قیامت کے دن)
یقینا مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، تو اکھاڑ دیا (یعنی ڈھادیا) اللہ نے ان کی بنیاد کو جڑوں سے، تو گر پڑی ان پر چھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان پر عذاب (وہاں سے) جہاں سے وہ سمجھ بھی نہ سکے
پھر قیامت کے دن وہ رسوا کرے گا انہیں، اور کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن (کی عبادت) پر تم ضد کرتے تھے، کہیں گے (فرشتے، رسول، اور ایمان والے) جنہیں علم دیا جائے گا کہ بیشک رسوائی آج کافروں کے لیے اور برائی ہے
جب وفات دیتے ہیں انہیں فرشتے جو ظالم ہوتے ہیں تو وہ ڈالتے ہیں صلح کہ ہم نہیں کرتے تھے کوئی برا کام، کیوں نہیں بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ بھی تم عمل کرتے تھے
اور (دنیا میں) کہا جاتا ہے متقیوں سے کہ کیا نازل کیا ہے تمہارے رب نے، تو کہتے ہیں خیر کی چیز، جنہوں نے نیکی کی ہے (ان کے لیے) اس دنیا میں بھی اچھائی ہے، اور یقینا آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے، اور کیا ہی بہتر گھر ہے متقیوں کا
کیا (کفار مکہ) انتظار کر رہے ہیں کہ آئیں ان پر فرشتے یا آئے تمہارے رب کا حکم (بطور خاص ان کیلئے) اسی طرح کیا تھا ان سے پہلوں نے بھی، اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
اور کہتے ہیں مشرکین (مکہ) کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم نہ عبادت کرتے اس کے سوا کسی چیز کی نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور ہم حرام نہ ٹھہراتے اس (کےحکم) کے سوا کسی چیز کو، اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، تو رسولوں کے ذمہ تو صرف کھل کر پہونچا دینا ہے
اور یقینا ہم نے بھیجا ہر امت میں ایک رسول (اور ان سے کہا) کہ عبادت کرو اللہ کی، اور اجتناب کرو (یعنی بچو) شیطان سے، پھر ان میں سے بعض کو ہدایت دی اللہ نے اور ان میں سے بعض پر حق (یعنی ثابت) ہوئی گمراہی، تو سیر کرو زمین میں پھر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (جو تم سے پہلے گزرے ہیں)
اور (مشرکین مکہ) قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی اپنی قسموں میں زور ڈال کر کہ نہیں اٹھائے گا (یعنی زندہ نہیں کرے گا) اللہ اس شخص کو جو مر جائے گا، کیوں نہیں وعدہ اس کا برحق ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور جنہوں نے ہجرت کی اللہ کے راستے میں اس کے بعد ان پر ظلم کیا گیا، تو ہم ضرور ٹھکانا دیں گے انہیں دنیا میں بہتر، اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش کہ یہ جانتے
معجزے اور کتابوں کے ساتھ (بھیجا) اور ہم نے نازل کیا تمہاری طرف ذکر (یعنی قرآن) تاکہ تم بیان کرو لوگوں کے لیے، جو نازل کیا گیا ہے ان کی طرف اور تاکہ وہ بھی غور و فکر کریں
اور وہ بناتے ہیں جن (بتوں) کیلئے حصہ انہیں وہ جانتے بھی نہیں (ان میں بناتے ہیں) جو ہم نے رزق دیا ہے انہیں اللہ کی قسم! تم سے ضرور سوال کیا جائے گا ان افتراء کے بارے میں جو تم گھڑتے ہو
چھپتا پھرتا ہے لوگوں سے اس بری خوشخبری کی وجہ سے جو اسے دی گئی (سوچتا ہے) کیا اسے رکھے توہین سمجھ کر، یا دفن کر دے اس (بیٹی) کو مٹی میں، یاد رکھو! کہ کیا ہی برا وہ فیصلہ کرتے ہیں
اور اگر اللہ مؤاخذہ (یعنی پکڑ) کرے لوگوں کا ان کے ظلم کی وجہ سے، تو نہ چھوڑے اس (زمین) پر کسی جاندار کو، اور لیکن وہ مہلت دیتا ہے انہیں ایک مقرر مدت تک، پھر جب آتا ہے ان کا وقت تو نہ وہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں ایک گھڑی اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں
اور وہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے لیے (بیٹیاں) جسے (خود) وہ ناپسند کرتے ہیں اور بیان کرتی ہیں ان کی زبانیں جھوٹ کہ بیشک ان کیلئے ہے (آخرت کی) بھلائی، یقینا ان کیلئے آگ ہے، اور بیشک وہ پہلے جائیں گے (آگ میں)
اللہ کی قسم! یقینا ہم نے رسول بھیجے تھے تم سے پہلے بھی امتوں میں، پھر مزین کر دیا شیطان نے ان کے لئے ان کے (برے) اعمال کو تو وہ ان کا دوست بنا ہوا ہے آج، اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے
پھر کھاؤ ہر قسم کے پھلوں سے اور چلو اپنے رب کے راستوں پر عاجزی سے، نکلتی ہے ان کے پیٹوں سے پینے کی چیز مختلف ہوتے ہیں جس کے رنگ، اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے، بیشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں
اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں پھر وہ وفات دے گا تمہیں، اور تم میں سے کوئی لوٹایا جاتا ہے بڑی عمر کو پھر وہ جاننے کے باوجود بھی کچھ نہیں جانتا ہے بیشک اللہ جاننے والا قدرت والا ہے
اور اللہ نے فضیلت دی ہے تم میں سے بعض کو بعض پر روزی میں، پھر جنہیں فضیلت دی گئی وہ رد کرتے (یعنی نہیں دیتے) ہیں اپنی روزی میں سے انہیں جو ان کی ملکیت میں ہیں کہ وہ اس کے برابر (نہ) ہوجائیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں
اور اللہ نے بنائے تمہارے لئے تم ہی میں سے جوڑے، اور بنائے تمہارے لئے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے، اور اس نے رزق دیا تمہیں پاکیزہ، تو کیا وہ باطل پے ایمان رکھتے ہیں، اور اللہ کی نعمتوں کا وہ انکار کرتے ہیں
بیان فرماتا ہے اللہ ایک مثال ایک مملوک (کسی دوسرے کا) غلام ہے جو کسی چیز پر قدرت (واختیار) نہیں رکھتا، اور ایک وہ شخص جسے ہم نے رزق دیا ہو اپنی طرف سے بہتر رزق، اور وہ خرچ بھی کرتا ہو اسے چھپ کر اور ظاہری، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان میں سے نہیں جانتے
اور بیان فرماتا ہے اللہ ایک مثال دو لوگوں کی، ان دو میں ایک گونگا ہے، قدرت نہیں رکھتا کسی شے پر، اور وہ بوجھ ہے اپنے مالک پر، جہاں بھی وہ جاتا ہے کوئی خیر لے کر نہیں آتا، کیا یہ اس کے برابر ہو سکتا ہے؟ جو حکم کرتا ہے عدل کا اور وہ سیدھے راستے پر بھی ہے
اور اللہ ہی کو معلوم ہیں غیب کی باتیں آسمانوں اور زمین کی اور قیامت کا حکم لمح بھر (یعنی پلک جھپکنے) کی طرح ہے، یا اس سے بھی زیادہ قریب تر ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اور اللہ نے نکالا تمہیں (یعنی پیدا کیا تمہیں) تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے، تم نہیں جانتے تھے کچھ بھی اور اس نے بنائے تمہارے لئے کان، اور آنکھیں، اور دل، تاکہ تم شکر ادا کر سکو
کیا وہ دیکھتے نہیں پرندوں کو کہ مسخر (یعنی قابو میں) ہیں آسمان کی فضاء میں کون تھامے ہوئے ہے انہیں اللہ کے سوا؟ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے
اور اللہ نے بنایا ہے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ، اور بنائے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے گھر (یعنی خیمے) تم ہلکا پاتے ہو انہیں اپنے سفر کے دن اور اپنے قیام کے دن، اور اسکی اون سے، اور اسکی روؤں سے، اور اسکے بالوں سے کتنے ہی سامان اور فائدے ہیں ایک مقرر وقت کیلئے
اور اللہ نے بنایا ہے تمہارے لیے جو کچھ اس نے پیدا کیا ان سے سائے اور بنائے تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں، اور بنائے تمہارے لیے کرتے جو بچاتے ہیں تمہیں گرمی سے، اور زرہیں (یعنی لوہے کا لباس) جو بچاتی ہیں تمہیں لڑائی میں، اسی طرح اللہ پوری کرتا ہے اپنی نعمت تم پر تاکہ تم فرمانبردار ہو جاؤ
اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے شریکوں کو تو کہیں گے اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک ہیں جنہیں ہم پکارتے تھے تیرے سوا (دنیا کی زندگی میں) پھر وہ انہیں جواب دیں گے کہ بےشک تم جھوٹے ہو
اور جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر ایک امت میں ان پر انہیں میں سے ایک گواہ، اور ہم لائیں گے تمہیں (اے نبی) ان سب پر گواہ بناکر، اور ہم نے نازل کی ہے تم پر ایک ایسی کتاب (قرآن) جس میں بیان ہے ہر چیز کا اور ہدات اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے
بیشک اللہ حکم دیتا ہے (لوگوں کو) انصاف کا اور بھلائی کا اور رشتے داروں کو دینے کا اور منع کرتا ہے بے حیائی اور بری بات اور ظلم سے، وہ نصیحت کرتا ہے تمہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو
اور پورا کرو اللہ کا عہد جب تم عہد کرو، اور نہ توڑو قسموں کو اسے پکا کرنے کے بعد، اور یقینا تم نے بنایا ہے اللہ کو اپنے اوپر کفیل (یعنی گواہ) بیشک اللہ جانتا ہے وہ جو تم کرتے ہو
اور نہ ہو جاؤ اس عورت کی طرح جو توڑ ڈالے اپنا سوت (یعنی دھاگا) محنت کے بعد ٹکڑوں میں، تم بناتے ہو اپنی قسموں کو دخل کا ذریعہ آپس میں، اس لیے کہ ایک گروہ کی بڑائی ہوجائے دوسرے گروہ پر، اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اس کے ذریعے اور وہ ضرور ظاہر کردے گا تمہارے سامنے قیامت کے دن جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو
اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، اور لیکن وہ گمراہ کرتاہے جسے چاہتا ہے، اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور تم سے ضرور سوال کیا جائے گا اس کے بارے میں جو تم عمل کرتے ہو
اور نہ بناؤ تم اپنی قسموں کو دخل (یعنی فساد) کا ذریعہ آپس میں، ورنہ پھسل جائیں گے قدم ثابت ہونے کے بعد، اور تم چکھوگے مزہ برائی کا اس سبب سے کہ تم نے روکا اللہ کے راستے سے اور تمہارے لئے بڑا عذاب ہے
جو تمہارے پاس ہے (دنیا کا ساز وسامان) ختم ہو جائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور بدلہ دیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ان کا اجر ان کے اچھے کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے
جس نے نیک عمل کئے مرد ہو یا عورت اور وہ مؤمن ہو، تو ہم اسے ضرور حیات طیبہ (یعنی اچھی زندگی) عطا کریں گے، اور ہم بدلہ دیں گے انہیں اس سے بہتر جو عمل وہ کیا کرتے تھے (دنیا میں)
اور جب ہم بدلتے ہیں، ایک آیت کی جگہ دوسری آیت کو اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ نازل کرتا ہے، تو کہتے ہیں (کفار) تم نے گھڑ لیا ہے، بلکہ اکثر ان میں جانتے نہیں
کہہ دو نازل کیا ہے اس (قرآن) کو روح القدس نے تمہارے رب کی طرف سے برحق تاکہ وہ (اللہ) ثابت رکھے ایمان والوں کو اور ہدایت اور خوشخبری ہے فرمانبرداروں کیلئے
اور یقینا ہمیں معلوم ہے (کفار) کہتے ہیں اس (نبی) کو سکھاتا ہے ایک (غیر عرب) آدمی، ان کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کرتے ہیں عجمی (رومی غلام بلعام) ہے اور یہ (قرآن) کھلی عربی زبان میں ہے
جس نے انکار کیا اللہ کا ایمان لانے کے بعد مگر وہ جسے مجبور کیا گیا ہو (جیسے عمار بن یاسر) اور (لیکن) اس کا دل مطمئن ہو ایمان پر (تو معاف ہے) اور لیکن جسکا شرح صدر ہو کفر پر (یعنی دل سے انکار کیا ہو) تو ان پر اللہ کا غضب ہے، اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے
اور بیان فرماتا ہے اللہ مثال ایک بستی (مکہ) کی جو امن اور اطمینان میں تھی، آتی تھی اس کی روزی آسانی سے ہر طرف سے، پھر ناشکری کی اللہ کی نعمتوں کی پھر مزہ چکھایا اسے اللہ نے بھوک اور خوف کا بسبب اس کے جو وہ کیا کرتے تھے
حرام کیا گیا ہے تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کو پکارا گیا ہو، پھر جو مضطرب (یعنی بے قرار) ہو بھوک سے، نہ وہ باغی ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا (یعنی مجبوری میں کھایا ہو) تو اللہ بہت مغفرت کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے
اور نہ بیان کرو اپنی زبانوں سے جھوٹ کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، تاکہ افتراء کرو اللہ پر جھوٹ (کہو اپنی طرف سے اور نسبت اللہ کی کرو) بیشک جو لوگ افتراء کرتے ہیں اللہ پر جھوٹ وہ فلاح نہیں پائیں گے
آیت 11716:117
پارہ 14•سورۃ 16صفحہ 253
مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴿١١٧﴾
تھوڑا فائدہ ہے (دنیا میں) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
اور جو لوگ یہودی ہیں ہم نے ان پر حرام کئے تھے (ناخن والے جانور) جو ہم بیان کر چکے ہیں تم پر اس سے پہلے (سورۃ نساء، اور انعام میں) اور ہم نے ظلم نہیں کیا ان پر اور لیکن وہ اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے
بے شک مقرر کیا گیا تھا ہفتے (یعنی سنیچر) کا دن ان پر جنہوں نے اختلاف کیا اس میں، اور بیشک تیرا رب فیصلہ کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جس (دن کی عبادت) میں وہ اختلاف کرتے تھے
دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہتر نصیحت کے ذریعے اور بحث کرو ان (لوگوں) سے بہتر طریقے سے، بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے جو گمراہ ہے اس کے راستہ سے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ کو