اللہ وہ ہے جس نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں (یعنی کھمبوں) کے جنہیں تم دیکھ رہے ہو، پھر (اللہ) قائم ہوا عرش پر اور مسخر (یعنی قابو میں) کیا سورج اور چاند کو، ہر ایک جاری ہے اپنے وقت مقررہ پر، وہ تدبیر کرتا ہے، وہ (اللہ) تفصیل سے بیان کرتا ہے اپنی آیات کو تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات پے یقین کرو
اور وہی ہے (اللہ) جس نے پھیلا دیا ہے زمین کو اور اسی نے بنائے اس میں پہاڑ اور نہریں، اور تمام طرح کے پھل اس نے بنائے ان (پھلوں) کو جوڑوں میں، وہ ڈھانکتا ہے رات سے دن کو، بیشک ان (چیزوں) میں نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کیلئے
اور زمین میں ٹکڑے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، اور انگور کے باغ ہیں اور کھیتیاں اور کھجوریں ہیں ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی اور بعض نہیں ملتے، سینچائی کی جاتی ہے ایک پانی سے، اور ہم نے فضیلت دی ہے ایک پھل کو دوسرے پر مزہ میں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
اور اگر تمہیں تعجب ہے تو تعجب ہونا چاہئے ان کی اس بات پر کہ جب ہم ہو جائیں گے مٹی تو کیا پھر نئی مخلوق بنائے جائیں گے؟ یہی وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں اپنے رب کا، اور یہی وہ (کافر) ہیں طوق ہوں گی (قیامت کے دن) ان کی گردنوں میں، اور یہی دوزخی ہیں، یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور وہ جلد مانگتے ہیں تم سے برائی (یعنی عذاب) بھلائی سے پہلے، اور گزر چکی ہیں ان سے پہلے بہت سی (عذاب کی) مثالیں، اور بیشک تمہارا رب صاحب مغفرت ہے لوگوں کے لئے ان کے ظلم کے باوجود، اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے
اللہ کو معلوم ہے کہ جو کچھ ہر مادہ کے پیٹ میں ہے اور جو پیٹ میں کم یا زیادہ ہوتا ہے (کہ کب اور کیسا پیدا ہوگا) اور اسکے پاس ہر چیز کی مقدار (یعنی اندازہ) ہے
اس (انسان) کے لئے محافظ (فرشتے) ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے جو حفاظت کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے، بیشک اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کی حالت جب تک وہ خود نہ بدلے اپنے آپ کو، اور جب اللہ چاہتا ہے کسی قوم کے ساتھ برائی (یعنی عذاب) تو اسے کوئی رد نہیں کر سکتا، اور نہیں ہوتا ان کیلئے اس کے سوا کوئی ولی (یعنی مددگار)
اور تسبیح کرتی ہے بجلی اس کی حمد کے ساتھ اور فرشتے بھی (کرتے ہیں) اس کے خوف سے اور وہ بھیجتا ہے بجلیوں کو پھر گرا دیتا ہے انہیں جس پر چاہتا ہے، اور یہ (کفار) جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں، اور (جبکہ) وہ بڑی قوت والا ہے
اسی کو پکارنا برحق ہے، اور (کفار) جن کو پکارتے ہیں اس کے سوا وہ جواب نہیں دیتے انہیں کچھ بھی، مگر (ایسا ہے) جیسے کوئی پھیلائے پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ کہ اس کے منہ میں آجائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا، اور کافروں کی پکار گمراہی کے سوا کچھ نہیں
(اے نبی) کہہ دو کون ہے رب آسمانوں اور زمین کا کہہ دو اللہ ہی ہے، کہہ دو پھر کیا تم نے بنا رکھا ہے اللہ کے سوا معبود جو مالک نہیں اپنے لیے بھی کسی نفع کا اور نہ ہی نقصان کا، کہہ دو کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہو سکتا ہے؟ یا کیا برابر ہو سکتے ہیں اندھیرا اور روشنی؟ کیا جنہیں انہوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے انہوں نے بھی اللہ کی مخلوق جیسی کوئی مخلوق بنائی ہے کہ پھر مشتبہ (یعنی ملی جلی) ہو گئی ہے مخلوق ان پر (یعنی ان کی نظر میں؟) کہہ دو اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر شے کو، اور وہ اکیلا اور زبردست ہے
اس نے نازل کیا آسمان سے پانی پھر بہنے لگی وادیاں اپنی وسعت کے بقدر، پھر اٹھا لایا (وہ) سیلاب جھاگ کو اوپر، اور جس چیز کو تپاتے ہیں آگ میں بنانے کے لیے زیور یا کوئی سامان اس پر بھی جھاگ ہوتا ہے اس جیسا، اسی طرح اللہ بیان فرماتا ہے حق اور باطل کو پھر جو جھاگ ہوتا ہے نکل جاتا ہے خشک ہو کر، اور جو فائدہ پہونچاتا ہے لوگوں کو تو وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے اسی طرح اللہ (سبحانہ وتعالی) بیان فرماتا ہے مثالوں کو
جنہوں نے قبول کیا اپنے رب کا حکم ان کے لئے بھلائی ہے، اور جنہوں نے قبول نہ کیا اس کا حکم اگر ان کے لئے ہو جائے جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس جیسا اور بھی ہو جائے اس کے ساتھ (قیامت کے دن اور) اسے وہ فدیے میں دیدے (تو بھی قبول نہ ہو) یہی ہیں وہ جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
تو کیا جو شخص جانتا ہو کہ جو کچھ نازل کیا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے وہ برحق ہے، وہ اس کے برابر ہو سکتا ہے جو اندھا ہو؟ نصیحت تو عقل والے ہی پکڑتے ہیں
اور وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضاء چاہنے کے لیے، اور نماز قائم کی اور خرچ کیا جو ہم نے انہیں دیا ہے چھپ کر اور اعلانیہ اور دور کرتے ہیں بھلائی کے ذریعے برائی کو انہیں کے لیے آخرت کا گھر ہے
ہمیشہ کے باغ میں وہ داخل ہوں گے اس میں اور جنہوں نے اصلاح کی ہوگی اپنے باپ دادا اور اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کی (وہ بھی ہمیشہ رہیں گے اس میں) اور فرشتے داخل ہوں گے ان کے پاس ہر دروازے سے
اور جو لوگ توڑتے ہیں اللہ کا عہد ایسے مضبوط کرنے کے بعد، اور توڑتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم فرمایا ہے، اور وہ فساد کرتے ہیں زمین میں، یہی ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے
اللہ کشادہ کر دیتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) اور وہ خوش ہیں دنیا کی زندگی پر، اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ نہیں مگر تھوڑا سامان
اور کہتے ہیں کافر کہ کیوں نہیں نازل کی گئی اس (نبی) پر کوئی آیت (بطور معجزہ) اس کے رب کی طرف سے، کہہ دو بیشک اللہ گمراہ کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور ہدایت اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے
(اے نبی) اسی طرح ہم نے بھیجا تمہیں ایک امت میں یقینا گزر چکی ہیں اس سے پہلے بھی کئی امتیں، تاکہ تم پڑھ کے سناؤ انہیں جو ہم نے وحی کی ہے تمہاری طرف، اور وہ انکاری ہیں رحمان کے، کہہ دو وہی میرا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے
اور اگر قرآن ایسا (کلام) ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ چلائے جاتے یا ٹکڑے ہو جاتے اس کے ذریعے زمین یا کلام کرتے اس کے ذریعے مردے (تب بھی یہ ایمان نہ لاتے) بلکہ سب کام کا اختیار اللہ کو ہے، تو کیا مایوس ہو گئے ایمان والے اس بات سے کہ اگر چاہتا اللہ (تو) ہدایت دے دیتا سارے لوگوں کو، اور ہمیشہ کافروں پر آتی رہے گی ان کی کمائی کی وجہ سے مصیبت یا حائل ہوتی رہے گی ان کے گھر کے قریب سے، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو، بیشک اللہ نہیں خلاف کرتا اپنے وعدے کا
تو کیا جو (خدا) قائم ہو ہر شخص پر (نگہبان اور جانتا ہو) جو اس نے کیا ہے، اور انہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے لیے شریک (یہ اللہ کے برابر ہیں؟) کہہ دو بتلاؤ ان کے نام؟ کیا تم بتاتے ہو اللہ کو وہ بات جسے وہ نہیں جانتا زمین میں، یا تم ظاہری باتیں کرتے ہو (جو منہ میں آجائے) بلکہ مزین کر دیا گیا ہے کافروں کے لئے ان کا مکر، اور انہیں روک دیا گیا ہے راستے سے، اور جسے گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے کوئی بھی اسے ہدایت دینے والا
(اللہ بیان فرماتا ہے) اس جنت کی مثال جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں سے (وہ ایسی ہے کہ) بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں اس کے میوے دائمی (یعنی ہمیشہ) رہیں گے اور اس کے سائے بھی، یہ انجام ہے متقیوں کا اور کافروں کا انجام آگ ہے
جنہیں ہم نے کتاب دی (قرآن) وہ خوش ہوتے ہیں اس سے جو تم پر نازل کیا گیا اور جماعتوں میں سے بعض (یہود و نصاری) انکار کرتے ہیں اس کی بعض باتوں کا، کہہ دو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عبادت کروں اللہ کی، اور نہ شریک کروں اسکے ساتھ کسی کو اسی کی طرف میں بلاتا ہوں، اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے
اور اسی طرح ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو عربی میں، اور اگر تم اتباع کروگے ان کی خواہشوں کی بعد آجانے کے اس (قرآنی) علم کے تو تمہارا اللہ کی طرف سے کوئی مددگار اور بچانے والا نہ ہوگا
اور (اے نبی) یقینا ہم نے بھیجے کئی رسول تم سے پہلے، اور ہم نے دی تھی انہیں بیویاں اور اولاد، اور ممکن نہیں کسی رسول کے لئے کہ وہ لے آئے کوئی آیت اللہ کے حکم کے سواء، ہر ایک وقت کے لیے جو حکم ہے وہ طے ہے
اور اگر ہم دکھا دیں تمہیں بعض وہ وعدہ جو ہم نے ان سے کیا ہے یا ہم تمہیں وفات دیں (پھر دکھائیں انکاعذاب) تو تمہارے ذمہ پہنچا دینا ہے، اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے
کیا (کفار) نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو گھٹا رہے ہیں اس کے اطراف (یعنی کناروں) سے (دین پھیلا کر) اور اللہ ہی حکم کرتا ہے کوئی ہٹانے والا نہیں اس کے حکم کو، اور وہ جلد حساب لینے والا ہے
اور یقینا مکر کر چکے ہیں ان سے پہلے لوگ بھی، تو تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں، وہ جانتا ہے جو کوئی بھی کچھ کرتا ہے، اور جلد ہی جان لیں گے کفار کہ کس کے لئے ہے بہتر انجام آخرت کے گھر کا
اور کہتے ہیں کافر کہ تم رسول نہیں ہو (اے نبی) کہہ دو کہ کافی ہے اللہ کی گواہی میرے اور تمہارے درمیان، اور جس کے پاس (پچھلی) کتاب کا علم ہے (وہ بھی گواہ ہے)