جب کہا یوسف نے اپنے باپ سے کہ اے میرے ابا! میں نے (خواب میں) دیکھا ہے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو، میں نے دیکھا ہے انہیں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
اور (اے یوسف) اسی طرح چن لے گا تجھے تیرا رب اور سکھائے گا تجھے تیرے خواب کی تعبیر، اور پوری کرے گا اپنی نعمتیں تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر، جیسا کہ (اللہ) پوری کر چکا ہے اسے تیرے باپ دادا پر اس سے پہلے ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام) پر، بیشک تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے
تو جب وہ گئے اسے لے کر اور جمع ہو گئے اس پر کہ اسے ڈال دیں ویران کنوئیں میں، تو ہم نے وحی کی یوسف کی طرف کہ تو ضرور بتائے گا انہیں (ایک دن) ان کے اس کام کو اور وہ نہیں پہچانیں گے (تجھے)
کہا اے ہمارے ابا! ہم گئے اور آگے نکل گئے (دوڑنے میں) اور ہم نے چھوڑ دیا تھا یوسف کو اپنے سامان کے پاس تو کھا گیا اسے بھیڑیا اور آپ یقین نہیں کریں گے ہم پر اور اگرچہ ہم سچے ہیں
اور وہ لے آئے تھے اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر، اس نے کہا نہیں بلکہ تم نے گھڑ لی ہے خود سے ایک بات، تو اب صبر ہی بہتر ہے، اور اللہ ہی مدد گار ہے اس (بات) پر جو تم بیان کر رہے ہو
اور آیا ایک قافلہ تو انہوں نے بھیجا اپنے پانی بھرنے والے کو، تو اس نے ڈالا اپنا ڈول، بولا ہائے خوش خبری! یہ تو بچہ ہے، اور انہوں نے چھپا لیا اسے تجارت کا مال سمجھ کر، اور اللہ خوب جان رہا تھا جو کچھ وہ کر رہے تھے
اور کہا (عزیزِ مصر قطیفار نے) جس نے خریدا تھا اسے مصر سے اپنی عورت سے، کہ اس کی عزت کرنا ممکن ہے یہ نفع دے ہمیں، یا ہم بنا لیں گے اسے بیٹا، اور اس طرح ہم نے بسایا یوسف کو (ملک مصر کی) زمین میں، اور تاکہ ہم سکھائیں اسے باتوں کی تعبیر، اور اللہ غالب ہے اپنے کام (اور تمام احکام) پر اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور بہکایا اسے اس عورت (زلیخا) نے جس کے گھر میں (یوسف) تھا، اور عورت نے بند کر لیے دروازے اور کہنے لگی آؤ، اس نے کہا اللہ کی پناہ، بے شک میرے رب نے مجھے بہتر ٹھکانا دیا ہے، بے شک ظالم فلاح نہیں پاتے
اور یقیناً اس عورت نے تو اس کا ارادہ کر لیا تھا، اور وہ بھی کر لیتے اگر اپنے رب کی (نبوت کی) دلیل نہ دیکھ لیتے اسی طرح ہوا، تاکہ ہم پھیر دیں اس سے برائی اور بے حیائی، بیشک وہ ہمارے مخلصین (یعنی خاص) بندوں میں سے تھا
اور دونوں دوڑے دروازے کی طرف اور پھاڑ دی عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے، اور دونوں نے پایا عورت کے خاوند کو دروازے کے پاس، کہنے لگی کہ کیا سزا ہو جو ارادہ کرے تمہاری اہلیہ سے برائی کا، یا تو قید کیا جائے یا درد ناک سزا دی جائے
(یوسف نے) کہا اسی نے مجھے بہکایا ہے، اور شہادت دی ایک شاہد نے عورت کے گھرانے میں سے (ایک چار مہینے کے بچے نے) کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے، اور یہ (یوسف) جھوٹا ہے
اور کہنا شروع کیا شہر کی عورتوں نے، کہ عزیز کی عورت (زلیخا) نے پھسلا رکھا ہے اپنے غلام کو، بیشک اس کی محبت میں فریفتہ ہو گئی ہے، ہم اس (عورت زلیخا) کو کھلی غلطی پر دیکھتی ہیں
پھر جب سنی (عزیز کی بیوی زلیخا نے) ان کی ملامت، تو ان (عورتوں) کو بلا بھیجا، اور تیار کی ان کے لئے ایک مجلس، اور دی ان میں سے ہر ایک کو چھری اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے نکل آؤ، پھر جب انہوں نے دیکھا اسے تو بڑی بات ہو گئی، اور کاٹ لیے سبھوں نے اپنے ہاتھوں کو اور کہا ہائے اللہ! یہ انسان نہیں، یہ تو مکرم (یعنی نیک) فرشتہ ہے
(زلیخا نے) کہا یہی ہے وہ جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھیں اور یقیناً میں نے ہی بہکایا تھا اسے پر یہ بچے رہے، اور اگر اس نے نہ کیا وہ جو میں حکم دیتی ہوں اسے، تو یہ ضرور قید کر لیا جائے گا اور ہو جائے گا ذلیلوں میں سے
کہا اے میرے رب! قید خانہ زیادہ بہتر ہے میرے لیے، اس سے جس کی طرف یہ بلا رہی ہیں مجھے اور اگر تو نہ پھیرے گا مجھ سے ان کی چال کو تو میں پہونچ جاؤنگا ان کی طرف، اور میں ہو جاؤنگا جاہلوں میں سے
اور داخل ہوئے اسکے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان، ان میں سے ایک نے کہا میں دیکھتا ہوں (خواب میں) کہ شراب نچوڑ رہا ہوں، اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ میں نے اٹھا رکھی ہے اپنے سر پر روٹی (کی ٹوکری) کھا رہے ہیں پرندے اس سے، بتاؤ ہمیں اس کی تعبیر، ہم تجھے نیکو کار میں سے سمجھتے ہیں
کہا نہیں آئے گا تم دونوں کا کھانا جسے تم بطور رزق کھاتے ہو، مگر میں بتا دونگا تم دونوں کو اسکی تعبیر اسکے آنے سے قبل، یہ وہ چیزیں ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی ہیں، بیشک میں نے چھوڑ دی ہے ان لوگوں کی ملت جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر، اور وہ آخرت کے بھی انکاری ہیں
اور میں نے اتباع کی ہے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کی، ممکن نہیں ہمارے لئے کہ ہم شریک ٹھہرائیں اللہ کے ساتھ کسی بھی شئے کو، یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر بھی، اور لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
جس کی تم عبادت کرتے ہو اس کے سواء وہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھے ہیں نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل، حکومت سوائے اللہ کے کسی کی نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ تم نہ عبادت کرو اس کے سواء (کسی اور کی) یہ قائم دین ہے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اے قید خانے کے ساتھیو! تم دونوں میں کا ایک پلائے گا اپنے آقا کو شراب، اور دوسرے کو سولی دی جائے گی، پھر کھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے فیصلہ کیا جا چکا ہے جس کے بارے میں تم دونوں سوال کر رہے ہو
اور کہا (یوسف نے) جس کے بارے میں گمان تھا کہ وہ نجات پائے گا ان دونوں میں سے، کہ تم تذکرہ کرنا میرا اپنے آقا کے پاس، پھر بھلا دیا اسے شیطان نے تذکرہ کرنا اپنے آقا سے، تو (یوسف) ٹھہرے رہے قید میں کئی اور سال (سات برس، پانچ پہلے رہ چکے تھے)
اور کہا بادشاہ (ولید بن نردان) نے کہ میں (خواب میں) دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں کھا جاتی ہیں سات دبلی گائیں، اور سات ہری بالیاں اور سات خشک بالیاں (خواب میں دیکھتا ہوں) اے دربار یو! بتاؤ مجھے میرے خواب کی تعبیر، اگر تم خواب کی تعبیر جانتے ہو؟
اے یوسف اے میرے دوست! بتائیں ہمیں (تعبیر) کہ سات موٹی گائیں ہیں (جنہیں) کھا جاتی ہیں سات دبلی گائیں، اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں، تاکہ میں لوٹ جاؤں لوگوں کی طرف اور انہیں بھی معلوم ہو جائے
کہا (حضرت یوسف نے) تم کھیتی کرنا سات سالوں تک لگا تار، پھر جو تم کاٹو (فصل تو اسے) چھوڑ دینا اس کی بالیوں میں، مگر تھوڑا جو تم کھاؤ (اسے بالیوں سے نکال لینا)
اور بادشاہ نے کہا لے آؤ میرے پاس اسے، پھر جب آیا قاصد اسکے پاس، تو کہا لوٹ جاؤ اپنے آقا کے پاس، اور پوچھو ان سے ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا؟ جنہوں نے کاٹ لئے تھے اپنے ہاتھ، بیشک میرا رب ان کی چال کو خوب جانتا ہے
(بادشاہ نے) کہا تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو پھسلایا تھا، انہوں نے کہا اللہ کی پناہ ہمیں نہیں معلوم ہوئی اس میں کوئی برائی عزیز کی عورت (زلیخا) بولی کہ اب ظاہر ہو گیا ہے سچ، میں نے ہی اسے پھسلایا تھا، اور بیشک وہ سچے لوگوں میں سے ہے
اور بادشاہ نے کہا کہ لے آؤ اسے میرے پاس، تاکہ میں خاص کرلوں اسے اپنے لئے، پھر جب کلام کیا اس سے تو کہا بیشک تم آج سے ہمارے پاس امانتدار مکین (یعنی رہنے والے) ہو
اور اسی طرح ہم نے بسایا یوسف کو اس ملک میں کہ وہ رہے اس میں جہاں چاہے، ہم پہونچاتے ہیں اپنی رحمت جسے ہم چاہتے ہیں، اور ہم ضائع نہیں کرتے محسنین کے اجر کو
اور جب تیار کر دیا انہیں ان کا سامان تو کہا لے کے آنا میرے پاس تم اپنے بھائی (بنیامین) کو تم اپنے باپ کے پاس سے، تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا دیتا ہوں غلہ اور میں بہتر مہمان نواز ہوں
اور کہا اپنے خدام سے کہ ڈال دو ان کی پونجی ان کے کجاوے (یعنی سامان) میں، تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر اپنے گھرانے کی طرف جائیں، تاکہ وہ پھر لوٹیں
پھر جب وہ سب لوٹ آئے اپنے باپ کے پاس تو کہا اے ہمارے ابا! منع کیا گیا ہے ہمیں غلے سے، آپ بھیج دیجئے ہمارے ساتھ ہمارے بھائی (بنیامین) کو، تاکہ ہم غلہ لائیں اور بیشک ہم اس کی حفاظت کریں گے
کہا کیا میں یقین کروں تمہارا اس پر، جیسا کہ یقین کیا تھا تم پر اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں اس سے پہلے، تو اللہ بہتر محافظ ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے
اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو پائی انہوں نے اپنی پونجی، جو لوٹائی گئی تھی ان کی طرف کہا اے ہمارے ابا! ہمیں اور کیا چاہیے؟ یہ ہماری پونجی ہے جو ہمیں لوٹا دی گئی ہے، اور ہم غلہ لائیں گے اپنے گھر والوں کیلئے، اور حفاظت کریں گے اپنے بھائی کی، اور ہم زیادہ لائیں گے ایک اونٹ غلہ (اور) یہ غلہ آسان ہے (لانا)
کہا میں ہرگز نہیں بھیجوں گا اسے تمہارے ساتھ، یہاں تک کہ تم دو مجھے عہد اللہ کا، کہ تم ضرور لے کر آؤ گے میرے پاس اسے، مگر یہ کہ تم گھر جاؤ (کہیں پھنس جاؤ) پھر جب سب نے دیا اسے عہد، تو کہا اللہ وکیل ہے اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں
اور کہا اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا ایک دروازے سے، اور داخل ہونا متفرق (یعنی الگ الگ) دروازوں سے اور میں نہیں بچا سکتا تمہیں اللہ کی جانب سے کسی شے سے، اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں ہے، اسی پر میں توکل کرتا ہوں، اور اسی پر توکل کرنا چاہیے توکل کرنے والوں کو
اور جب داخل ہوئے اسی طرح جیسے حکم دیا تھا انہیں ان کے ابا نے، وہ نہیں بچا سکتے تھے انہیں اللہ (کی کسی بات) سے، مگر یعقوب کے دل میں ایک حاجت (یعنی خواہش) تھی جسے اس نے پوری کی، اور بے شک وہ صاحب علم تھا جو ہم نے سکھایا تھا اسے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور جب وہ داخل ہوئے یوسف کے پاس تو ٹھکانا دیا اپنے پاس اپنے بھائی (بنیامین) کو، کہا کہ بیشک میں تیرا بھائی ہوں، تو تم مایوس نہ ہو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں
پھر جب (یوسف نے) تیار کرا دیا ان کے لئے ان کا سامان، تو ڈال دیا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں، پھر پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو! یقیناً تم چور ہو!
تو شروع کیا (یوسف نے) ان سبھوں کی بوریوں سے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے، پھر نکالا اسے بوری سے اپنے بھائی کی، اس طرح کی چال ہم نے سکھائی تھی یوسف کو، وہ نہیں لے سکتا تھا اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون سے، مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے ہم بلند کرتے ہیں درجات جس کے چاہتے ہیں، اور ہر ایک ذوعلم (یعنی علم والے) کے اوپر میرا علم ہے
انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو چوری کی تھی اس کے بھائی نے بھی اس سے پہلے، یوسف نے چھپا لیا اس (بات) کو اپنے دل میں، اور ظاہر نہ کیا ان کے سامنے، کہا (چپکے سے) تم برے لوگ ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو
پھر جب (سارے بھائی) ناامید ہوگئے اس سے تو اکیلے میں مشورہ کرنے لگے، کہا ان کے بڑے نے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے ابا نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا؟ اور اس سے پہلے بھی تم کوتاہی کر چکے ہو یوسف کے معاملے میں تو میں تو اس ملک سے ہرگز نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھے حکم دے یا میرے لیے اللہ کوئی حکم فرمائے، اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
تم لوٹ جاؤ اپنے ابا کے پاس اور کہو اے ہمارے ابا! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اور ہم نے اسی کی گواہی دی جس کا ہمیں علم تھا اور ہمیں غیب کی خبر نہیں (کہ کون کب کیا کر لے گا)
کہا (حضرت یعقوب علیہ السلام نے) بلکہ تم نے بنا لیا ہے خود سے ایک معاملہ، تو اب صبر ہی بہتر ہے، ممکن ہے اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو ایک ساتھ، بےشک وہی جاننے والا حکمت والا ہے
اے میرے بیٹو! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی (بنیامین) کو اور ناامید مت ہو اللہ کی رحمت سے، بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں
پھر جب وہ سب داخل ہوئے ان کے پاس تو کہا اے عزیز! پہونچی ہے ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت، اور ہم لے کے آئے ہیں معمولی پونجی تو (اے عزیز مصر) آپ پورا غلہ دیجئے ہمیں اور صدقہ بھی دیجئے ہمیں، بےشک اللہ بدلہ دیتا ہے صدقہ دینے والوں کو
(یوسف کے بھائیوں نے) کہا کیا تو ہی یوسف ہے؟ کہا میں ہی یوسف ہوں اور یہ (بنیامین) میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا، بیشک جو ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے (وہ محسن ہے) تو بیشک اللہ ضائع نہیں کرتا محسنین (یعنی نیکوکاروں) کے اجر کو
پھر جب آیا بشارت دینے والا اس نے ڈال دیا اس (کرتے) کو ان کے چہرے پر، تو لوٹ آئی بصارت (یعنی روشنی) کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو تم نہیں جانتے
اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر، اور گر پڑے اس کے لئے سب سجدے میں، اور کہا اے میرے ابا! یہ تعبیر ہے میرے خواب کی اس سے پہلے کے، بنا دیا اسے میرے رب نے سچ، اور اس نے احسان کیا مجھ پر، جب مجھے نکالا قید سے، اور لے آیا تمہیں گاؤں سے، بعد اس کے کہ جھگڑا ڈال دیا تھا شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان، بیشک میرا رب باریک بینی سے کرتا ہے جو چاہتا ہے بیشک وہی جاننے والا حکمت والا ہے
اے میرے رب! یقینا تو نے عطا کی مجھے حکومت، اور تو نے سکھلائی مجھے باتوں کی تعبیر تو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا! تو ہی میرا ولی (یعنی دوست) ہے دنیا اور آخرت میں، تو وفات دینا مجھے اسلام کی حالت میں، اور ملا دینا مجھے صالحین کے ساتھ
(اے محمد) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے بتاتے ہیں آپ کو، اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب وہ جمع ہو گئے تھے اپنے امر میں (یوسف کے خلاف) اور وہ مکر کر رہے تھے
کہہ دو یہ ہے میرا راستہ میں بلاتا ہوں اللہ کی طرف بصیرت (یعنی سمجھ بوجھ) کے ساتھ میں اور جنہوں نے میری اتباع کی (وہ بھی) اور اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں مشرکین میں سے نہیں
اور ہم نے (جو بھی) رسول بھیجے تجھ سے پہلے وہ سب مرد تھے، ہم نے وحی کی ان کی طرف وہ بستیوں کے رہنے والے تھے، تو کیا وہ زمین میں سیر نہیں کرتے اور دیکھتے نہیں کیا انجام کیا ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے متقیوں کے لیے، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے (پچھلی امتوں کے) رسول اور (پچھلی قوموں نے) گمان کر لیا کہ ان سے جھوٹ کہا گیا ہے (کہ عذاب آئے گا) تو آئی ان (پچھلے مومنوں) پر ہماری مدد، تو بچا لیا گیا جسے ہم نے چاہا، اور نہیں رد ہوتا ہمارا عذاب مجرم قوم سے
یقینا عبرت ہے ان (انبیاء علیہم السلام) کے قصوں میں عقلمندوں کے لیے، نہیں ہے اس (قرآن) کی بات گھڑی ہوئی، اور بلکہ تصدیق کرتی ہے اپنے سامنے (کتاب) کی، اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کیلئے