اور یہ کہ تم سب مغفرت طلب کرو اپنے رب سے پھر رجوع کرو اسی کی طرف وہ (اللہ) فائدہ دیگا تمہیں ایک وقت مقرر تک (یعنی موت تک) اور وہ عطا کرے گا ہر صاحب فضل (یعنی صاحب عمل) کو اس کا فضل، اور اگر تم پھر جاؤ گے تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے (اور وہ بڑا دن قیامت کا دن ہے)
خبردار! بیشک یہ (اخنس بن شریق اور ان کے ساتھی) اپنے سینے پر کپڑے لپیٹتے ہیں تاکہ وہ چھپا سکیں (بات) اللہ سے، خبردار! جس وقت وہ ڈھانکتے ہیں اپنے کپڑے، وہ (اللہ) جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا کر کرتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ خوب جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کو
اور جو بھی جاندار ہے زمین میں اللہ ہی پر ان کا رزق ہے اور وہ جانتا ہے اس کا مستقر (کہ کہاں زندگی گزارے گا) اور مستودع (کہ جہاں دنیا کو الوداع کہے گا) سب کتاب مبین میں ہے (یعنی لوح محفوظ میں)
اور وہی ہے (اللہ) جس نے بنائے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں، اور اس کا عرش (یعنی تخت) پانی پر تھا، تاکہ وہ آزمائے تمہیں کہ تم میں کون بہتر عمل کرتا ہے، اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اگر تم کہو کہ مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے تو یقیناً وہ لوگ کہیں گے جو کافر ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے
اور اگر ہم مؤخر کر دیں (یعنی روک دیں) ان سے عذاب ایک مقرر مدت تک، تو ضرور کہیں گے (کافر کہ) کس نے روکا ہے اسے؟ خبردار! جس دن آئے گا ان پر (عذاب) نہ پھیرا جائے گا ان سے، اور الٹا پڑے گا ان پر وہ مذاق جو وہ اڑایا کرتے تھے
اور اگر ہم مزہ چکھاتے ہیں نعمتوں کا بعد اس تکلیف کے جو اسے پہونچی، تو کہتا ہے میری تکلیف دور ہو گئی مجھ سے (پھر) بیشک وہ اترانے والا فخر یلا ہو جاتا ہے
تو کیا آپ چھوڑ دیں گے بعض ان وحی کو جو آپ کی طرف کی جا رہی ہے، اور آپ کا دل تنگ ہو جائے گا ان کے اس کہنے سے کہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس (نبی) پر کوئی خزانہ؟ یا کیوں نہیں آیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ؟ آپ تو صرف ڈرانیوالے ہیں، اور اللہ ہر چیز کا وکیل (یعنی ذمے دار) ہے
کیا (کافر) کہتے ہیں کہ گھڑ لیا ہے اس (نبی) نے اس (قرآن) کو، کہہ دو تو تم لے آؤ دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی ہی اور بلا لاؤ جو بھی طاقت ہے تمہیں اللہ کے علاوہ (کو) اگر تم سچے ہو
(اے کافرو!) تو اگر وہ جواب نہ دیں تمہیں تو جان لو کہ نازل کیا گیا ہے (قرآن) اللہ کے علم سے (یعنی اللہ کی جانکاری میں ہے) اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم اسلام لاتے ہو؟
جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت (یعنی عیش) ہم پورا دیتے ہیں اسی (دنیا) میں انہیں ان کے عمل کا، اور ان کیلئے اس میں کوئی کمی نہیں کی جاتی یہ وہی ہیں جن کے لیے
تو کیا جو شخص دلیل پر ہو اپنے رب کی طرف سے، اور پڑھی (یعنی دی) جاتی ہو اس کی گواہی اللہ کی طرف سے، اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی گواہ ہو جو امام اور رحمت تھی، یہی لوگ ایمان رکھتے ہیں اس (قرآن) پر اور جو انکار کرتا ہے اس (قرآن) کا جماعتوں میں سے تو آگ ہی ہے اس کے وعدے کی جگہ، تو تم نہ ہو جاؤ شک میں اس (قرآن) کی طرف سے، بیشک یہ برحق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا؟
جو باندھے اللہ پر جھوٹ، یہی ہیں وہ (کافر) جو پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے، اور کہیں گے گواہ (فرشتے) کہ یہی ہیں جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اپنے رب پر، خبردار! اللہ کی لعنت ہے (ایسے) ظالموں پر (یہی وہ ظالم ہیں) جو روکتے ہیں
عاجز کرنے والے زمین میں، اور نہ ہوگا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست (آخرت میں) انہیں دگنا عذاب دیا جائے گا نہیں طاقت رکھتے ہیں یہ لوگ سننے کی اور نہ ہی دیکھنے کی یہی ہیں جنہوں نے خسارہ میں ڈالا اپنے آپ کو
مثال دی جاتی ہے دو فریقوں کی جیسے ایک (کافر ہے جو) اندھا اور بہرا ہو، اور دوسرا (مؤمن ہے جو) دیکھنے اور سننے والاہو کیا دونوں مثال برابر ہو سکتی ہے، تو کیا تم غور نہیں کرتے؟
تو کہا کافروں کے سرداروں نے اس کی قوم کے، کہ ہم دیکھ رہے ہیں تمہیں ایک انسان ہماری ہی طرح، اور ہم نہیں دیکھ رہے ہیں تمہاری اتباع کرنے والوں کو مگر ان ہی کو جو ہم میں گھٹیا ہیں کھلی نظروں سے، اور ہم نہیں دیکھ رہے ہیں تمہاری ہم پر کوئی فضیلت، بلکہ ہم تمہیں گمان کرتے ہیں جھوٹا
اس نے کہا اے میری قوم! تمہارا کیا خیال ہے اگرچہ میں دلیل پے ہوں اپنے رب کی طرف سے، اور اس نے عطا کی مجھ پر رحمت اپنی طرف سے تو اندھا پن ڈال دیا گیا ہے تم پر، کیا میں زبردستی (ہدایت) تم پر ڈال دوں، اور تم اسے ناپسند کر رہے ہو
اور اے میری قوم! میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی مال کا، میرا اجر اللہ پر ہے، اور میں نہیں دھتکار نے والا ایمان والوں کو، بیشک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے، اور لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں جاہل قوم
اور میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں ان لوگوں کو جنہیں حقیر جانتی ہیں تمہاری آنکھیں کہ ہرگز نہ دے گا انہیں اللہ کوئی بھلائی، اللہ زیادہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے (ایسا کہوں تو) بیشک میں ظالموں میں ہو جاؤنگا
اور نہ نفع دے گی تمہیں میری نصیحت اگر میں چاہوں خیر خواہی کرنا تمہارے لئے اگر اللہ چاہے تمہیں گمراہ کرنا، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
کیا (کافر) کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے (نبی نے) کہہ دو اگر میں نے گھڑا ہے اسے تو اسکا گناہ مجھ پر ہے اور میں بری ہوں اس جرم سے جو تم کرتے ہو
اور وہ بنانے لگے کشتی اور جب گزرتے اس پر سے اس کی قوم کے سردار تو وہ تمسخر (یعنی مذاق) کرتے (تو نوح) کہتے اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے جیسے تم ہنستے ہو
یہاں تک کہ جب آیا ہمارا حکم اور ابل پڑا تنور، ہم نے کہا سوار کر لو اس (کشتی) میں ہر قسم کے جوڑے (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو بھی مگر انہیں (نہیں بٹھاؤ) جن کے متعلق طے ہو چکی ہے بات، اور جو ایمان لائے (انہیں بٹھالو) اور نہیں لائے تھے ایمان اس کے ساتھ مگر بہت تھوڑے لوگ
اور وہ (کشتی اللہ کے حکم سے) چل پڑی انہیں لے کر موجوں میں پہاڑ کی طرح اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کو وہ ایک کنارے پر تھا، کہ اے میرے بیٹے سوار ہو جاؤ ہمارے ساتھ، اور نہ ہو جاؤ کافروں کے ساتھ
کہا (بیٹے نے) میں جلد ہی پناہ لے لونگا کسی پہاڑ کی، وہ بچا لے گا مجھے پانی سے، کہا کوئی بچانے والا نہیں آج اللہ کے حکم سے، مگر جس پر وہ رحم کر دے اور حائل ہوگئی ان دونوں کے درمیان موج، تو ہو گیا وہ ڈوبنے والوں میں
اور کہا گیا اے زمین! نگل جا اپنا پانی، اور اے آسمان تھم جا اور پانی سکھا دیا گیا، اور فیصلہ تمام ہوا، اور ٹھہر گئی (کشتی چھ ماہ کے بعد) جودی پہاڑ پر، اور کہہ دیا گیا ظالم قوم سے کہ دور ہو جاؤ (اللہ کی رحمت سے)
فرمایا اے نوح! بیشک وہ نہیں ہے تیرے گھر والوں میں سے، بیشک اس کا عمل غیر صالح (یعنی اچھا نہیں) ہے، تو تم مت سوال کرو مجھ سے جس کا تمہیں علم نہیں، میں نصیحت کرتا ہوں تمہیں کہ (اے نوح) تم نہ ہو جاؤ جاہلوں میں سے
کہا اے میرے رب! بیشک میں پناہ مانگتا ہوں تیری کہ سوال کروں تجھ سے جسکا مجھے علم نہیں، اور اگر تو نے مغفرت نہ کی میری اور رحم نہ کیا مجھ پے، تو میں ہو جاؤنگا خسارہ اٹھانیوالوں میں
کہا گیا اے نوح! اتر جاؤ (کشتی سے) ہماری سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر اور تمہارے ساتھ والوں پر ہے، اور بعض وہ امت جنہیں ہم فائدہ دیں گے پھر پہونچے گا انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب
(اے محمدؐ) یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم وحی کے ذریعے بتاتے ہیں آپ کو، نہ تھا آپ کو اسکا علم اور نہ آپ کی قوم کو اس سے پہلے، تو آپ صبر کریں، بیشک بہتر انجام متقیوں کے لئے ہے
اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (ہم نے بھیجا) کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمہارے لئے اسکے سوا کوئی معبود، تم صرف افتراء کرتے ہو (جھوٹ گھڑتے ہو)
اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو اپنے رب سے پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ بھیجے گا آسمان سے تم پر لگا تار بارش، اور زیادہ کر دے گا تمہاری قوت در قوت کو، اور نہ پھرو تم مجرمین بن کر
ہم کہتے ہیں کہ چمٹ گیا ہے تجھ سے کوئی ہمارا معبود اسے برا کہنے کیوجہ سے، کہا بیشک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بری ہوں اس شرک سے جو تم کرتے ہو
میں نے توکل کیا ہے اللہ پر جو میرا اور تمہارا رب ہے، کوئی بھی ایسا جاندار نہیں (زمین پر) مگر یہ کہ اس کی پیشانی اس (اللہ) نے پکڑ رکھی ہے، بیشک میرے رب کا راستہ سیدھا ہے
پھر اگر تم پھر جاؤ گے تو بیشک میں نے پہونچا دیا تمہیں جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا تمہاری طرف، اور خلیفہ بنائے گا میرا رب کسی اور قوم کو تمہاری جگہ، اور تم کچھ بھی ضرر نہیں پہونچا سکو گے اسے، بیشک میرا رب ہر چیز پر محافظ ہے
اور یہ عاد تھے، جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا، اور نافرمانی کی اس کے رسولوں کی، اور انہوں نے اتباع کی ہر ایک جبار سرکش کی (یعنی ظالم اور نافرمان کی)
اور پیچھے لگا دی گئی اس دنیا میں بھی لعنت اور قیامت کے دن بھی، خبردار! بیشک عاد نے انکار کیا اپنے رب کا، خبردار! دور ہوئی عاد (اللہ کی رحمت سے جو) قومِ ہود ہے
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارا اس کے سوا کوئی معبود، اسی نے پیدا کیا تمہیں زمین سے اور آباد کیا تمہیں اس میں تو تم مغفرت طلب کرو اس سے اور توبہ کرو اس (رب) سے، بیشک میرا رب قریب ہے قبول کرنے والا
انہوں نے کہا اے صالح! ہمیں تم سے امید تھی اس سے پہلے کیا؟ تم ہمیں منع کرتے ہو کہ ہم نہ عبادت کریں جن کی عبادت کرتے تھے ہمارے باپ دادا اور ہم بڑے شک میں ہیں جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں
(صالح نے) کہا اے میری قوم! تمہارا کیا خیال ہے اگرچہ میں دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور آچکی ہے اسکی طرف سے میرے پاس رحمت، تو میری مدد کون کرے گا اللہ کی طرف سے اگر میں اسکی نافرمانی کروں، تو تم خسارے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتے میرے ساتھ
اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ہے (بطور) نشانی تو چھوڑ دو اسے اللہ کی زمین میں کھانے (پینے کے لیے) اور نہ چھونا اسے برائی سے ورنہ آپکڑے گا تمہیں جلد عذاب
پھر جب آیا ہمارا حکم (عذاب کا) تو ہم نے نجات دی صالح کو اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے، بیشک تیرا رب زبردست قوت والا ہے
جب دیکھا ان (فرشتوں) کے ہاتھ نہیں پہونچ رہے ہیں اس کی طرف، تو انہیں برا لگا ان سے اور تجسس ہوا خوف کا، انہوں نے کہا خوف نہ کرو بیشک ہم بھیجے گئے ہیں لوط کی قوم کی طرف
اور آئی اس کے پاس اس کی قوم دوڑتی ہوئی (یعنی لوط کے پاس آئی) اور یہ لوگ پہلے سے ہی برے کام کیا کرتے تھے، کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں یہ پاک ہیں تمہارے لیے (تم نکاح کرلو) تم اللہ سے ڈرو، اور مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کے سامنے، کیا تم میں کوئی بھی نیک آدمی نہیں؟
فرشتوں نے کہا اے لوط! ہرگز یہ نہ پہونچ سکیں گے تم تک، تم نکلو اپنے گھرانے کو لے کر رات کے کسی حصے میں، اور کوئی مڑ کر نہ دیکھے تم میں سے مگر تیری بیوی (دیکھے گی) بیشک وہ مصیبت اس کو پہونچنے والی ہے جو ان سب کو پہونچے گی، بیشک ان کا (عذاب کا) وقت صبح کا ہے، کیا صبح قریب نہیں؟
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (کو بھیجا) کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارے لئے کوئی معبود اس کے سوا، اور نہ کمی کرو ناپ اور تول میں، بے شک میں دیکھتا ہوں تمہیں بخیر (یعنی خوشحال) اور میں ڈرتا ہوں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے
اور اے میری قوم! پورا کرو ناپ اور تول کو انصاف سے، اور نہ کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں، اور نہ پھرو زمین میں فسادی بن کر (ناپ اور تول میں کمی بھی اللہ کے نزدیک بڑا جرم ہے)
انہوں نے کہا اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں ان (بتوں) کو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، یا ہم نہ کریں اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں، بیشک تو بہت بھولا آدمی ہے
کہا اے میری قوم! تمہارا کیا خیال ہے اگر چہ میں دلیل پے ہوں اپنے رب کی طرف سے اور اس نے مجھے رزق دیا ہے اپنی طرف سے بہتر رزق، اور میرا ارادہ ایسا نہیں ہے کہ میں خلاف کروں تمہارے سامنے اس کام میں جس سے میں منع کرتا ہوں تم کو، میرا ارادہ صرف اصلاح کا ہے جہاں تک میری طاقت ہے اور مجھے توفیق اللہ کی طرف سے ہے، اسی پے میں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
اور اے میری قوم! ہرگز جرم پے آمادہ نہ کرے تمہیں میری ضد کہ پہونچے تمہیں وہ مصیبت جو مصیبت پہونچی قومِ نوح یا قومِ ہود یا قومِ صالح کو اور لوط کی قوم تم سے دور نہیں (آج مدین معان کے نام سے جانا جاتا ہے جو اردن میں ہے)
انہوں نے کہا اے شعیب! ہم بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تم کہتے ہو، اور بیشک ہم کمزور دیکھتے ہیں تمہیں اپنے بیچ اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم سنگسار کر دیتے تجھے، اور تو ہم پر کوئی زور نہیں رکھتا
کہا اے میری قوم! کیا میرا کنبہ ہونا زیادہ عزت کی بات ہے تمہارے لئے اللہ کے نزدیک اور تم نے ڈال دیا ہے اس (کے احکام) کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے بیشک میرے رب نے احاطہ کر رکھا ہے تمہارے اعمال کا
اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو میں بھی عمل کرتا ہوں (اپنی جگہ) عنقریب تم جان لو گے کس پر آتا ہے رسوا کرنے والا عذاب، اور کون جھوٹا ہے اور تم انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
اور جب آ گیا ہمارا حکم تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو اپنی رحمت سے، اور آ پکڑا ظالموں کو چنگھاڑ نے تو وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے (یعنی منہ کے بل گرے ہوئے اس طرح کے)
اور ہم نے نہیں ظلم کیا ان پر اور لیکن انہوں نے ظلم کیا اپنے اوپر اور نہ فائدہ پہونچایا انہیں ان کے معبودوں نے جنہیں وہ پکارتے تھے اللہ کے سوا کچھ بھی، جب آیا حکم تیرے رب کا اور سوائے تباہی کے کچھ زیادہ نہ کیا انہیں (ان کے معبودوں نے)
جب وہ دن آئے گا تو کوئی شخص بات نہ کر سکے گا اس (اللہ) کی اجازت کے بغیر اور ان میں بعض شقی (بد بخت) اور بعض سعید (نیک) ہیں تو جو شقی ہیں وہ آگ میں ہوں گے
تو نہ ہو جاؤ تم شک میں جن کی عبادت یہ کرتے ہیں، یہ ایسی ہی عبادت کرتے ہیں جس طرح ان کے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں ان سے پہلے، اور بیشک ہم پورا دیں گے انہیں (عذاب کا) ان کا حصہ بغیر کسی کمی کے
اور یقیناً ہم نے عطا کی موسیٰ کو کتاب (تورات) پھر اختلاف کیا گیا اس میں، اور اگر (قیامت کی) بات طے نہ ہوتی تیرے رب کی طرف سے تو فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بیشک وہ شک ہی شک میں ہیں
تو تم قائم رہو اس پے جو حکم تجھے دیا گیا ہے، اور (وہ بھی قائم رہیں) جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی اور حد سے نہ بڑھو، بیشک وہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
اور نماز قائم کرو دن کے دونوں طرف (فجر سے مغرب تک) اور کچھ حصہ رات میں، بیشک نیکیاں دور کردیتی ہیں برائیوں کو، یہ نصیحت ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے
تو کیوں نہ ہوئے ان (پچھلی) امتوں میں تم سے پہلے اولوبقیۃ (یعنی علماء، اور اللہ والے)(جو) روکتے فساد پھیلانے سے ملک میں مگر چند لوگ ہوئے جنہیں ہم نے بچا لیا ان میں سے، اور ظالموں نے اتباع کی اپنے میں کے خوش عیش لوگوں کی، اور جو مجرم تھے ان کی
اور ہم ان تمام رسولوں کی خبریں تم پر اس لیے بیان کرتے ہیں کہ ہم ثابت رکھیں ان کے ذریعے تمہارے دل کو، اور آچکا تمہارے پاس ان خبروں کے ذریعے حق اور نصیحت اور یاد دہانی مومنوں کے لیے
اور اللہ ہی جانتا ہے غیب کی بات آسمانوں اور زمین کی، اور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ کرو، اور تمہارا رب غافل نہیں ہے اس عمل سے جو تم کیا کرتے ہو