اور اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کے لیے بڑے حج کے دن، بے شک اللہ بری ہے مشرکوں سے اور اس کے رسول بھی، تو (اے منافقین اور مشرکین مکہ) اگر تم توبہ کر لو تو یہ بہتر ہے تمہارے لیے، اور اگر تم پلٹ جاؤ تو جان لو کہ بے شک تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکو گے، اور خوشخبری دو کافروں کو درد ناک عذاب کی
مگر جن مشرکوں سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر انہوں نے (معاہدے میں) نہیں کی کوئی کمی تمہارے ساتھ اور نہیں مظاہرہ کیا تمہارے خلاف کسی سے مل کر، تو مکمل کرو ان سے کئے معاہدے کو اس کی مدت تک بے شک اللہ محبت کرتا ہے متقیوں سے
پھر جب گزر جائیں شہر حرام (جنگ بندی کے چار مہینے) تو مشرکوں کو قتل کرو جہاں تم پاؤ انہیں اور پکڑو انہیں اور محاصرہ کرو (یعنی گھیر لو) انہیں اور بیٹھو ان کے لئے ہر گھات میں، پھر اگر وہ توبہ کریں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوۃ تو خالی کر دو (یعنی چھوڑ دو) ان کا راستہ، بے شک اللہ بہت مغفرت کرنیوالا بڑا رحم کرنیوالا ہے
اور اگر کوئی مشرکوں میں سے پناہ مانگے تم سے تو پناہ دو اسے، یہاں تک کہ وہ سنے اللہ کا کلام پھر پہنچا دو اسے اس کے امن کی جگہ، یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں
کیسے ہو مشرکوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے پاس کوئی عہد، سوائے (ان مشرکوں کے) جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا مسجد حرام کے پاس، تو اگر وہ قائم رہیں تمہارے لئے (معاہدے پر) تو تم بھی قائم رہو ان کے لئے، بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو
کیسے (صلح) ہو اور اگر وہ مظاہرہ کریں تمہارے خلاف، اور نہ لحاظ کریں تمہاری رشتے داری اور نہ ہی ذمے داری کا وہ راضی کرتے ہیں تمہیں اپنے منہ (کی باتوں) سے اور انکاری ہیں ان کے دل اور اکثر ان میں فاسق ہیں
تو اگر یہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو وہ بھائی ہیں تمہارے دین میں، اور ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتوں کو قوم کیلئے تاکہ وہ جان لیں
اور اگر وہ توڑ دیں اپنی قسمیں اپنے عہد کرنے کے بعد اور طعنہ دیں تمہارے دین میں تو قتال کرو کفر کے اماموں (یعنی سرداروں) سے بیشک ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ وہ باز آئیں
کیا تم قتال نہیں کرو گے ایسی قوم سے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور ارادہ کیا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نکالنے کا، اور انہوں نے شروعات کی (عہد توڑنے کی) تم سے پہلے، کیا تم ان (کفار) سے ڈرتے ہو، تو اللہ کا زیادہ حق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو
کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوڑ دیے جاؤ گے اور نہ جانے اللہ ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا تم میں سے، اور (انہیں بھی نہ جانے) جنہوں نے نہیں بنایا اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے علاوہ کسی کو رازدار، اور اللہ باخبر ہے اس سے جو عمل تم کرتے ہو
نہیں ہے مشرکوں کا کام یہ کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدیں جب کہ وہ خود گواہ ہوں اپنے کفر پر، یہ وہی ہیں (کہ) ضائع ہو گئے ان کے اعمال اور آگ میں وہ (مشرکین) ہمیشہ رہیں گے
وہی آباد کرتا ہے اللہ کی مسجدیں جو ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کرے نماز اور ادا کرے زکوۃ اور نہ ڈرے اللہ کے سوا کسی سے، تو ممکن ہے یہی لوگ ہوں گے ہدایت والوں میں سے
کیا تم نے بنا دیا ہے (برابر) حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد حرام کے آباد کرنے والوں کو، ان کے جیسا جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور جہاد کرتا ہو اللہ کے راستے میں، وہ برابر نہیں ہیں اللہ کے پاس، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا (ایسے) ظالموں کو
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے عظیم درجے ہیں (یعنی بہت بڑے درجے ہیں ان کے لیے) اللہ کے نزدیک اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں
اے ایمان والو! نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور تم اپنے بھائیوں کو دوست اگر وہ محبوب رکھیں کفر کو ایمان پر، اور جو دوست بنائے گا انہیں تم میں سے، تو وہی ظالم ہیں
کہہ دو اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور مال جو تم نے کمائے اور تجارت جس کی کساد بازاری (یعنی نقصان) سے تم ڈرتے ہو اور مکان جنہیں تم پسند کرتے ہو (یہ چیزیں) زیادہ محبوب ہوں تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے، تو انتظار کرو یہاں تک کہ لے آئے اللہ اپنا حکم (عذاب کا) اور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق (یعنی نافرمان) قوم کو
یقینا مدد کی اللہ نے تمہاری بہت سے موقعوں پر، اور (جنگ) حنین کے دن بھی جب تم خوش ہو رہے تھے اپنی کثرت پر، تو نہ فائدہ دیا تمہیں کچھ بھی اور تنگ ہو گئی تم پر زمین باوجود کشادگی (یعنی لمبائی چوڑائی) کے، پھر تم پلٹ گئے پیٹھ پھیر کر
پھر اللہ نے نازل کی اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنوں پر، اور نازل کی ایسی (فرشتوں کی) فوجیں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے تھے، اور عذاب دیا کافروں کو، اور یہی بدلہ ہے کافروں کا
اے ایمان والو! یقیناً مشرکین ناپاک ہیں (شرک کی وجہ سے) تو نہ قریب آئیں مسجد حرام کے اس سال کے بعد (یعنی ۹ ہجری کے بعد) اور اگر تمہیں خوف ہے بھکمری کا تو جلد ہی غنی کر دے گا تمہیں اللہ اپنے فضل سے اگر وہ چاہے، بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
جنگ لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، اور دین نہیں سمجھتے دین حق کو یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ وہ جزیہ (یعنی ٹیکس) دیں اپنے ہاتھ سے صغیر (یعنی ذلیل) ہو کر
کہتے ہیں یہودی کہ (عُزیر علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور کہتے ہیں عیسائی کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ باتیں ہیں ان کے منہ کی، وہ کرتے ہیں ان کافروں کی طرح بات جو ان (کفار مکہ) سے پہلے گزرے ہیں، اللہ انہیں ہلاک کرے
کہاں یہ بہک رہے ہیں بنا لیا ہے اپنے عالموں اور اللہ والوں کو رب، اللہ کے علاوہ اور مسیح ابن مریم کو بھی، انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ عبادت کریں الہ واحد (یعنی ایک اللہ) کی، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے اس سے جو یہ شریک ٹھہراتے ہیں
اے ایمان والو! بے شک بہت سے (عیسائیوں کے) عالم اور درویش کھاتے ہیں لوگوں کا مال باطل طریقے سے، اور وہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے اور جو لوگ جمع کرتے ہیں سونا اور چاندی اور نہیں خرچ کرتے اسے اللہ کے راستے میں بشارت دیجیئے انہیں دردناک عذاب کی
جس دن تپایا جائے گا انہیں جہنم کی آگ میں پھر داغے جائیں گے اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں، یہی (خزانہ) ہے جو تم نے جمع کیا تھا اپنے لیے تو چکھو اس کا مزہ جو تم جمع کرتے تھے
بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب (یعنی قانون) میں (اس دن سے ہے) جس دن (اللہ نے) پیدا کیے آسمانوں اور زمین کو، ان میں چار حرمت والے (مہینے) ہیں، یہ دین قائم رہنے والا ہے، تو نہ ظلم کرو ان (مہینوں) میں اپنے اوپر اور اقتال کرو مشرکوں سے سب مل کر جیسے وہ قتال کرتے ہیں تم سے سب مل کر، اور جان لو کہ بے شک اللہ متقیوں کے ساتھ ہے
مہینوں کا ہٹانا بڑھانا زیادتی ہے کفر (والوں) میں، گمراہ کیا جاتا ہے اس کے ذریعے کافروں کو، وہ حلال کر لیتے ہیں اس کے ذریعے ایک سال کو اور حرام ٹھہرا لیتے ہیں اسکے ذریعے دوسرے سال کو، تاکہ پوری کر لیں (بارہ مہینوں کی) مدت کو جنہیں اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے اور حلال ٹھہرا ئیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مزین کر دیا گیا ہے ان کیلئے ان کے برے اعمال کو، اور اللہ نہیں ہدایت کر دیتا کافروں کو
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم کو کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم چمٹ جاتے ہو زمین سے کیا تم راضی ہو دنیا کی زندگی سے آخرت کو چھوڑ کر، دنیا کی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے میں بہت قلیل (یعنی کم) ہے
اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں درد ناک عذاب دے گا اور بدل دے گا کسی اور قوم کو تمہاری جگہ، اور تم کچھ بھی ضرر (یعنی نقصان) نہیں پہونچا سکو گے اسے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اگر تم نہ کرو گے مدد اس (رسول) کی تو یقینا مدد کی ہے اس کی اللہ نے جب نکالا تھا اسے کافروں نے وہ دو میں سے دوسرا تھا، جب وہ دونوں (نبی اور ابوبکر) تھے غار میں، جب وہ کہہ رہے تھے اپنے ساتھی (ابوبکر) سے کہ تم غم نہ کرو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ نے نازل کی اپنی سکینت ان پر، اور تائید (یعنی مدد) کی ان کی ان فوجوں سے جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور کر دیا کافروں کی بات کو نیچے، اور اللہ کی بات ہی اعلیٰ (یعنی بلند) ہوئی، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
نکلو تم ہلکے (یعنی بے سامان) ہو یا بوجھل (یعنی سامان کے ساتھ) اور جہاد کرو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں، یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانو
(جنگ تبوک میں) اگر مال قریب ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور اتباع کرتے تیری اور لیکن سفر کی دوری (رومیوں سے جنگ) ان پر مشقت بنی، اور جلد ہی وہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو ہم ضرور نکلتے تمہارے ساتھ وہ ہلاک کرتے ہیں اپنے آپ کو، اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک یہ (منافقین) جھوٹے ہیں
نہیں اجازت طلب کرتے ہیں تم سے وہ جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر، کہ وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے، اور اللہ خوب جانتا ہے متقیوں کو
اجازت وہی طلب کرتے ہیں تم سے جو نہیں ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر، اور شک میں ہیں ان کے دل تو وہ اپنے شک میں ہی تردد کر رہے ہیں (یعنی بھٹک رہے ہیں)
اور اگر وہ ارادہ کرتے نکلنے کا تو یقیناً تیاری کرتے اس کی اور لیکن اللہ کو نا پسند تھا ان کا نکلنا (جنگ تبوک میں رومیوں سے لڑنا) تو روک دیا انہیں اور کہا گیا کہ بیٹھے رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ
اگر وہ نکلتے تمہارے بیچ تو زیادہ کرتے تم میں خرابی اور یقیناً ڈالتے تم میں خلل اور تلاشتے تم میں فتنہ، اور تم میں جاسوس بھی ہیں ان کے ، اور اللہ خوب جانتا ہے ان ظالموں کو
یقینا وہ تلاشتے رہے ہیں فتنہ پہلے سے ہی اور پلٹتے رہے ہیں تمہارے امور (یعنی معاملے) کو، یہاں تک کہ آگیا حق اور ظاہر ہو گیا اللہ کا حکم اور وہ ناپسند کرتے رہ گئے
اگر پہونچتی ہے تمہیں اچھائی تو بری لگتی ہے ان (کافروں) کو اور اگر پہونچتی ہے تمہیں مصیبت تو کہتے ہیں کہ ہم نے لے لیا تھا اپنا معاملہ (اپنے ہاتھوں میں) پہلے ہی، اور وہ پلٹ جاتے ہیں خوش ہو کر
کہہ دو تم انتظار کر رہے ہو ہمارے لئے دو بھلائیوں میں سے ایک (فتح یا شہادت) کا اور ہم انتظار کر رہے ہیں تمہارے لئے کہ پہونچائے تمہیں اللہ عذاب اپنے پاس سے، یا ہمارے ہاتھوں سے (جنگ کے ذریعے سزا دے) تو تم انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں
اور نہیں منع ہے کہ قبول کیا جائے ان سے ان کا خرچ، مگر (اس لئے ہے کہ) بیشک انہوں نے انکار کیا اللہ اور اس کے رسول کا، اور نہیں آتے ہیں وہ نماز میں مگر سستی سے، اور وہ نہیں خرچ کرتے مگر ناپسندیدگی سے
تو نہ تعجب میں ڈالیں تمہیں ان کے مال اور نہ ہی ان کی اولاد، اللہ چاہتا ہے کہ عذاب دے انہیں ان (چیزوں) کے ذریعے دنیا کی زندگی میں، اور ان کی جانیں نکلیں تو وہ کافر ہوں
اور ان میں سے بعض الزام ڈالتے ہیں تم پر صدقات کے بارے میں تو اگر عطا کیا جائے انہیں اس سے (تو) راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ عطا کیا جائے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں
اور اگر وہ راضی ہو جاتے اس پر جو عطا کیا انہیں اللہ اور اس کے رسول نے، اور کہتے کافی ہے ہمیں اللہ، عنقریب عطا کرے گا ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول بھی بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنیوالے ہیں (تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا)
زکوۃ فقراء کے لئے، اور مساکین، اور اس میں کام کرنے والوں اور دلوں کو جوڑنے، اور گردن چھڑانے (یعنی غلام کو آزاد کرانے) اور قرض داروں، اور اللہ کی راہ میں، اور مسافر کیلئے ہے یہ فریضہ (یعنی مقرر کیا ہوا) ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اور ان میں بعض ایذاء (وتکلیف) دیتے ہیں نبی کو، اور کہتے ہیں کہ یہ کان (کے کچے یعنی بہرے) ہیں کہہ دو کان ہونا بہتر ہے تمہارے لئے (ورنہ گرفت ہوتی) وہ خود ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں پر اور رحمت ہے تم میں سے ایمان والوں کیلئے اور جو لوگ ایذاء دیتے ہیں رسول اللہ کو ان کے لیے دردناک عذاب ہے
ڈرتے ہیں منافق کہ نازل ہو جائے ان پر (یعنی آپ پر) کوئی سورت اور بتا دے ان (مسلمانوں) کو جو ان (منافقوں) کے دلوں میں ہے کہہ دو استہزاء (یعنی مذاق) کر لو، بیشک اللہ نکالنے والا ہے جس بات سے تم ڈرتے ہو
تم عذر مت کرو یقیناً تم کافر ہو گئے ایمان لانے کے بعد، اگر ہم معاف کر دیں گے تم میں سے بعض گروہ کو تو عذاب بھی دیں گے بعض گروہ کو (کیونکہ) بیشک وہ (لوگ) مجرم ہیں
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے سے ہیں حکم کرتے ہیں برائی کا اور روکتے ہیں بھلائی سے، اور قبضے میں رکھتے ہیں اپنے ہاتھ (یعنی بخل کرتے ہیں) وہ بھول گئے اللہ کو تو اللہ نے بھی بھلا دیا انہیں، بیشک منافقین ہی فاسق (یعنی نافرمان) ہیں
وعدہ ہے اللہ کا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا ہمیشہ رہیں گے اس میں، یہی ٹھکانہ ہے ان کا، اور لعنت کی ہے ان پر اللہ نے، اور ان کے لیے قائم (یعنی ہمیشہ کا) عذاب ہے
(یہ منافق) ان کی طرح ہیں جو تم سے پہلے تھے تم سے قوت میں زیادہ تھے اور مال اور اولاد میں بھی زیادہ تھے تو انہوں نے فائدہ اٹھایا اپنے حصے سے، اور تم بھی فائدہ اٹھاؤ اپنے حصے سے، جس طرح فائدہ اٹھا گئے وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے اپنے حصے سے، اور تم بھی خرافات میں پڑے رہو جس طرح وہ پڑے رہے، یہی ہیں جن کے اعمال ضائع ہو گئے دنیا اور آخرت میں، اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں
کیا نہیں آئی ان (منافقین) کو ان لوگوں کی خبر، جو ان سے پہلے تھے نوح کی قوم، اور قوم عاد، اور قوم ثمود اور قوم ابراہیم کی قوم، اور (شعیب کی قوم) اصحاب مدین کی، اور الٹ دی گئی بستیاں (قوم لوط کی) آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول معجزے لے کر تو اللہ نے نہیں ظلم کیا ان پر اور لیکن انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا
اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، وہ حکم کرتے ہیں نیکی کا اور روکتے ہیں برائی سے، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے
وعدہ ہے اللہ کا مؤمنین مردوں اور مؤمنات عورتوں سے (ان) جنتوں کا، بہتی ہوں گی جن کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے ان (جنتوں) میں، اور پاکیزہ مسکن ہے ہمیشہ کی جنت میں اور اللہ کی رضاء ان سب سے بڑی چیز ہے، یہی وہ بڑی کامیابی ہے
(یہ منافق) قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انہوں نے نہیں کہا، اور یقیناً کلمہ کفر کہا (منافق جلاس نے کہ اگر محمد سچے ہیں تو ہم سب گدھے ہیں) اور کافر ہو گئے اسلام لانے کے بعد، اور انہوں نے ارادہ کیا (آپکو شہید کرنیکا) جو وہ پا نہ سکے، اور انہوں نے انتقام اسلئے لیا کہ غنی کر دیا ہے انہیں اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل (مال غنیمت) سے، تو اگر وہ توبہ کر لیں تو بہتر ہے ان کیلئے، اور اگر وہ منہ پھیرتے ہیں تو عذاب دے گا انہیں اللہ دردناک عذاب دنیا اور آخرت میں، اور نہ ہوگا ان کیلئے زمین پر کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار
اور ان میں سے ایک (ثعلبہ بھی) ہے جس نے عہد کیا تھا اللہ سے کہ اگر وہ عطا کرے ہمیں اپنا فضل تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور یقیناً ہم ہو جائیں صالحین میں سے
تو ڈال دیا (اللہ نے) نفاق ان کے دلوں میں، اس دن تک جب وہ ملیں گے اس (اللہ) سے، اس لیے کہ انہوں نے خلاف کیا جو انہوں نے وعدہ کیا تھا اس کا، اور وہ جھوٹ بولا کرتے تھے
جو (منافقین) الزام ڈالتے ہیں عطا کر نے والے مؤمنین پر صدقہ کے بارے میں، اور جو لوگ نہیں دے پاتے مگر مشکل سے تو وہ تمسخر (یعنی مذاق) کرتے ہیں ان سے، اللہ تمسخر کرتا ہے ان سے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
تم مغفرت طلب کرو ان منافقین کے لیے یا تم مغفرت نہ طلب کرو ان کے لیے اگر تم مغفرت طلب کروگے ان کے لیے ستر مرتبہ تو بھی ہرگز نہیں مغفرت کرے گا اللہ ان کی یہ اس لیے کہ بے شک انہوں نے انکار کیا اللہ اور اس کے رسول کا، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو
خوش ہوئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھے رہنے پر رسول اللہ کے خلاف (تبوک کی جنگ میں) اور ناپسند کیا کہ جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ (جنگ تبوک) میں، اور کہا (دوسروں سے بھی) کہ مت نکلو گرمی میں، کہہ دو کہ جہنم کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے، کاش یہ سمجھتے
تو اگر لوٹائے تجھے اللہ ان میں سے کسی جماعت کی طرف، تو وہ تم سے اجازت طلب کریں گے (جنگ میں) نکلنے کیلئے تو کہہ دو کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہ نکلو گے کبھی بھی، اور ہرگز قتال نہ کروگے میرے ساتھ دشمنوں سے، بیشک تم نے پسند کیا بیٹھے رہنا پہلی مرتبہ، تو بیٹھے رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ
اور (اے نبی) تم نہ پڑھو نماز جنازہ ان میں سے کسی کی جب وہ مر جائیں، کبھی بھی، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو (دعاء کے لیے) بے شک انہوں نے انکار کیا اللہ اور اس کے رسول کا، اور وہ مر گئے فاسق (نافرمان) بن کر
اور جب کوئی سورہ نازل ہوتی ہے کہ ایمان لاؤ اللہ پر، اور جہاد کرو اس کے رسول کے ساتھ، (تو) اجازت طلب کرتے ہیں تم سے ان میں سے دولت مند اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو کہ ہم ہو جائیں بیٹھنے والوں کے ساتھ
اور آئے (بنو غفار کے قبیلے کے) بہانہ بنانے والے دیہاتی (عامر بن طفیل کی جماعت) تاکہ اجازت مانگیں اپنے لئے، اور وہ (منافقین) بھی بیٹھے رہے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اللہ اور اس کے رسول سے، عنقریب پہونچے گا ان میں سے جو کافر ہیں عذاب الیم
(اور اگر واقعتاً عذر ہو تو) نہیں ہے ضعیفوں اور مریضوں پر اور نہ ان لوگوں پر جو نہیں پاتے کہ خرچ کریں، کوئی گناہ جبکہ وہ خیر خواہ ہوں اللہ اور اس کے رسول کے، اور نہ ہی محسنین (یعنی نیک لوگوں) پر کوئی گناہ ہے، اور اللہ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ہے
اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے کہ جب وہ آئے تمہارے پاس (عبداللہ بن مغفل، سواری مانگنے) کہ تم سواری دو انہیں، تم نے کہا میں نہیں پاتا (کوئی سواری) کہ تمہیں سوار کروں اس پر، تو وہ لوٹ گئے اور ان کی آنکھیں بہہ رہی تھیں آنسو سے غم کیوجہ سے، وہ خود بھی نہیں پا رہے تھے کچھ جو وہ خرچ کرتے (یہ سات لوگ تھے)
گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو اجازت طلب کرتے ہیں تم سے اور وہ غنی (یعنی مالدار) ہیں وہ راضی ہیں کہ ہو جائیں پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ، اور اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں پر، تو وہ جانتے نہیں
(منافقین) عذر کریں گے جب تم ان کی طرف واپس جاؤ گے (غزوہء تبوک سے) کہہ دو تم عذر مت کرو ہم ہرگز یقین نہیں کریں گے تم پر، یقیناً بتا دی ہیں ہمیں اللہ نے تمہاری خبریں، اور عنقریب دیکھے گا اللہ تمہارے عمل کو اور اس کا رسول بھی، پھر تم لوٹائے جاؤ گے (قیامت کے دن) غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف، تو وہ بتلا دے گا تمہیں جو عمل تم کیا کرتے تھے
(منافقین) عنقریب قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمہارے سامنے جب تم لوٹو گے ان کی طرف (غزوہء تبوک سے) تاکہ تم اعراض کرو ان سے (یعنی معاف کر دو انہیں) تو معاف کر دو انہیں، بیشک وہ ناپاک ہیں، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، یہ بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے
اعرابی (یعنی دیہاتی) بہت سخت ہیں کفر اور نفاق (دوغلا پن) میں، اور اسی قابل ہیں کہ وہ نہ جانیں حدود جو نازل فرمائے ہیں اللہ نے اپنے رسول پر، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اور بعض اعرابی (یعنی دیہاتی) ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان (یعنی جرمانہ) اور انتظار کرتے ہیں تمہارے لئے مصیبت کا، ان ہی پر بری مصیبت ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
اور بعض اعرابی (یعنی دیہاتی) ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور سمجھتے ہیں اپنے خرچ کو قربت کا ذریعہ اللہ کے پاس اور رسول کی دعاء کا ذریعہ، خبردار! بیشک وہ قربت کا ذریعہ ہے ان کے لئے، عنقریب داخل کرے گا انہیں اللہ اپنی رحمت میں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
جو لوگ آگے اور پہلے ہجرت کرنے والوں میں اور مدد دینے والوں میں ہیں، اور جنہوں نے اتباع کی ان (پہلوں) کی بھلائی میں، راضی ہوا اللہ ان (صحابہ) سے اور وہ راضی ہوئے اس سے، اور ان کے لیے جنت ہیں جاری ہیں جن کے نیچے نہریں، ان (جنتوں) میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے
اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں سے (بعض دیہاتی) منافق اور بعض اہل مدینہ بھی اڑے ہوئے ہیں نفاق پر تم انہیں نہیں جانتے (معلوم ہوا کہ نبی غیب نہیں جانتے) ہم انہیں جانتے ہیں، ہم سزا دیں گے انہیں دوگنی پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف
اور دوسرے ایسے (مسلمان) ہیں جنہوں نے اعتراف (یعنی اقرار) کیا ہے اپنے گناہوں کا، خلط ملط (یعنی ملے ہوئے) ہیں ان کے نیک اور دوسرے بد عمل ممکن ہے اللہ توبہ قبول کرے ان کی بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
قبول کرو ان کے مالوں میں سے صدقہ (تاکہ) پاک کر دے انہیں اور صاف کر دے انہیں اسکے ذریعے اور دعاء کرو ان کیلئے بیشک تمہاری دعاء سکون کا ذریعہ ہے ان کیلئے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
اور کہہ دو عمل کرو تو عنقریب دیکھ لیں گے اللہ تمہارے کام کو اور اس کے رسول اور مومنین، اور عنقریب تم لوٹائے جاؤ گے غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف، پھر وہ بتا دے گا تمہیں جو کچھ تم عمل کرتے تھے
اور جنہوں نے بنائی مسجد ضرر (یعنی نقصان) پہونچانے اور کفر کرنے اور مومنوں میں تفریق ڈالنے کے لیے، اور گھات لگانے کے لیے ان لوگوں کے جو جنگ کر چکے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے پہلے اور ضرور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا ارادہ تو اچھائی کا تھا، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں
آپ قیام نہ کریں اس (مسجد) میں کبھی بھی، یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی ہو پہلے دن سے ہی وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں قیام کرو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں، اور اللہ پسند کرتا ہے پاک رہنے والوں کو
تو جس کی بنیاد رکھی گئی ہو تقوے پر اللہ کی جانب سے اور اس کی رضاء پر وہ بہتر ہے؟ یا وہ بہتر ہے جس کی بنیاد رکھی گئی ہو ایک گرنے والے گڑھے کے کنارے پر؟ تو گر جاؤ اس کے ساتھ جہنم کی آگ میں (اے منافقوں!) اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو
بیشک اللہ نے سودا کر لیا ہے مومنین سے ان کی جان اور ان کے مال کے بدلے میں جنت کا، وہ جنگ لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں، تو وہ قتال کرتے ہیں اور قتل کیے بھی جاتے ہیں (اللہ کا یہ) وعدہ ہے ان کیلئے برحق تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور جس نے پورا کیا اپنا وعدہ اللہ سے کیا ہوا تو تم (اے نبی) بشارت دو اپنے اس بیع (یعنی تجارت) کی جو تم نے اس سے کی، اور یہ (بشارت اور تجارت یقیناً) بڑی کامیابی ہے
توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، حکم کرنے والے اچھے کاموں کا، اور روکنے والے بری باتوں سے، اور حفاظت کرنے والے اللہ کے حدود کی (یہ مؤمنین ہیں) اور بشارت دے دو مومنوں کو
نہیں مناسب نبی اور ایمان والوں کو کہ مغفرت کی دعاء کریں مشرکوں کیلئے، اگرچہ وہ قرابتدار (یعنی رشتے دار ابو طالب اور ابوجہل ہی کیوں نہ) ہوں، بعد اس کے کہ بیان ہو چکا ان (نبی) کے سامنے کہ بیشک وہ جہنمی ہیں
اور ابراہیم کا اپنے باپ (آزر) کے لیے استغفار کرنا ایک وعدے کے تحت تھا جو وعدہ (ابراہیم) اس سے کر چکے تھے پھر جب بیان ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو بری (یعنی بے تعلق) ہو گئے اس سے بیشک ابراہیم نرم دل بردبار (برداشت کرنیوالے) تھے
اور اللہ نہیں گمراہ کرتا کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد، یہاں تک کہ وہ بیان کر دیتا ہے ان کے سامنے جن چیزوں سے انہیں بچنا ہے، بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے
یقیناً توبہ قبول کی اللہ نے نبی کی اور مہاجرین اور انصار کی جنہوں نے اتباع کی ان کی (یعنی نبی کی) ساعتِ عسرت (یعنی پریشانی کے وقت، جنگِ تبوک) میں بعد اس کے کہ ٹیڑھے ہو گئے تھے ان میں سے بعض فریق کے دل، پھر توبہ قبول کی ان کی بیشک وہ ان پر شفیق اور رحیم ہے
اور وہ تین (کعب، مرارہ، اور ہلال رض) جو پیچھے رہ گئے تھے (جنگ تبوک میں جانے سے) یہاں تک کہ تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے، اور تنگ ہو گئیں ان پر ان کی جانیں، اور یقین ہو گیا کہ کوئی پناہ نہیں سوائے اسی کی طرف آنے کے، پھر توبہ کی توفیق دی انہیں تاکہ وہ توبہ کریں، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
نہیں تھا مناسب مدینہ والوں اور ان کے آس پاس کے دیہاتیوں کے لئے کہ وہ پیچھے رہ جائیں (جنگ تبوک میں) اللہ کے رسول سے، اور نہ ترجیح دیں اپنی جانوں کو اس کی جان پر، یہ اس لیے ہے کہ جو تکلیف پہونچتی ہے انہیں پیاس اور تھکن اور بھوک اللہ کی راہ میں (جنگ کی حالت میں) یا وہ چلتے ہیں ایسی جگہ جو کفار کو غیظ و غضب دلائے، اور یا وہ پاتے ہیں دشمن (کافروں) سے کوئی چیز ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بیشک اللہ نہیں ضائع کرتا محسنین کے اجر کو (یعنی نیکی کرنے والوں کے اجر کو)
جو لوگ خرچ کرتے ہیں (مال اللہ کے راستے میں) تھوڑا ہو یا زیادہ یا گزرتے ہیں کسی وادی سے، تو لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے، تاکہ بدلہ دے انہیں اللہ بہتر ان کے ان اعمال کا جو وہ کیا کرتے ہیں
اور نہیں ہونا چاہئے ایسا کہ سارے مؤمن نکل پڑیں (جنگ کے میدان میں) تو کیوں نہ نکلیں ہر فرقے میں سے چند گروہ تاکہ تفقہ فی الدین (یعنی دین میں سمجھ) پیدا کریں، اور ڈرائیں اپنی قوم کو جب لوٹیں اپنی قوم کی طرف، تاکہ وہ بھی ڈریں
اے ایمان والو! جنگ کرو اپنے نزدیک کے کافروں سے (پہلے، اور بعد میں دور دراز کے کافروں سے) اور چاہیے کہ وہ پائیں تم میں سختی، اور جان لو کہ بیشک اللہ متقیوں کے ساتھ ہے
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت تو ان (منافقین) میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس (سورت) نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کیا؟ تو جو ایمان والے ہیں ان کا اور زیادہ ہو جاتا ہے ایمان اور وہ خوشیاں مناتے ہیں
اور جن کے دلوں میں مرض ہے (یعنی ایمان سے خالی ہے) تو زیادہ ہو جاتی ہے ان (کے کفر) کی گندگی در گندگی اور (ایسے کافر جب) مرتے ہیں تو کفر کی حالت میں ہی مرتے ہیں
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک یہ (کفار جنگ اور پریشانی کے ذریعے) آزمائے جاتے ہیں ہر سال ایک مرتبہ یا دو مرتبہ، پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے (تو) ان میں ایک (منافق) دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی مسلمان تمہیں (یعنی انہیں) دیکھ تو نہیں رہا ہے، پھر (نظر بچا کر) نکل جاتے ہیں، اللہ نے پھیر دیے ہیں ان کے دل، اسلئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے
یقیناً آئے تمہارے پاس رسول تم ہی میں سے گراں گزرتی ہے اس پر وہ تکلیف جو تمہیں پہونچتی ہے، وہ حریص (یعنی فکر مند) ہے تمہاری بھلائی پر، مؤمنوں پر شفیق اور مہربان ہے