(تمہارے ساتھی) سوال کرتے ہیں تجھ سے مال غنیمت کے بارے میں، کہہ دو غنیمت کا مال اللہ اور رسول کا ہے، تم ڈرو اللہ سے اور صلح کرو آپس میں، اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اگر تم مؤمن ہو
بیشک ایمان والے وہی ہیں کہ (ان کے سامنے) جب ذکر کیا جائے اللہ کے نام کا تو ڈر جاتے ہیں ان کے دل، اور جب تلاوت کی جائیں ان پر اس کی آیتیں (تو) زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں
اور جب وعدہ کر رہا تھا تم سے اللہ کہ دو جماعتوں میں سے ایک (کفار کا تجارتی قافلہ یا لشکر) تمہارا ہے، اور تم چاہتے تھے کہ بغیر کانٹے (یعنی بغیر پریشانی) کے ہو جائے تمہارے لئے، اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو حق ثابت کرے اپنے کلمے کے ذریعے اور کاٹ دے کافروں کی جڑ
جب تم مدد طلب کر رہے تھے (جنگ بدر میں) اپنے رب سے تو اس نے جواب دیا تمہیں کہ میں مدد کروں گا تمہاری ایک ہزار فرشتے کے ذریعے لگاتار اور بنادی اسے اللہ نے خوشخبری
جب ڈھانک لیا تمہیں اونگھ نے امن کیلئے اس (اللہ) کی طرف سے، اور نازل کیا تم پر آسمان سے پانی (جنگ بدر میں) تاکہ پاک کر دے تمہیں اس کے ذریعے، اور دور کر دے تم سے شیطان کی گندگی (یعنی شیطانی وسوسے) اور جوڑے رکھے تمہارے دلوں کو، اور ثابت رکھے اس کے ذریعے تمہارے قدموں کو
جب حکم بھیجا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں تو (اے فرشتو!) تم ثابت قدم رکھو ایمان والوں کو عنقریب میں ڈال دوں گا کافروں کے دلوں میں رعب (جنگ بدر میں) تو تم مارو ان کی گردنوں پر اور مارو ان کے تمام پوروں (یعنی جوڑوں) پر
یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے (یعنی ان کفار نے) مخالفت کی اللہ اور اسکے رسول کی، اور جو مخالفت کرے گا اللہ اور اسکے رسول کی تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
اور جو پیٹھ پھیرے گا ان سے اس دن مگر یہ کہ جنگی پینترے کیلئے ہو یا اپنی جماعت سے ملنے کیلئے ہو (ورنہ) وہ مستحق ہو گا اللہ کے غضب کا، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا، اور تو نے (مٹی) نہیں پھینکی جبکہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی، اور تاکہ آزمائے (اللہ) مؤمنوں کو اپنی طرف سے اچھی طرح، بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے
اگر تم فتح چاہتے ہو (اے کافرو!) تو یقیناً آچکی تمہارے (سامنے مؤمنوں کی) فتح اور اگر تم باز آؤ تو بہتر ہے تمہارے لیے، اور اگر دوبارہ (جنگ) کرو گے تو ہم بھی (ذلیل) کریں گے اور ہرگز نہ کام آئے گی تمہیں تمہاری جماعت کچھ بھی اگرچہ وہ کثیر ہوں (یعنی بہت ہوں) اور بے شک اللہ مؤمنوں کے ساتھ ہے
اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی خیر تو انہیں سنا دیتا (ان کے مرے ہوئے بزرگوں سے کہ آپ نبی ہیں) اور اگر وہ انہیں سنا بھی دے تو پلٹ جائیں گے اور وہ اعراض کریں گے
اے ایمان والو! قبول کرو اللہ اور رسول کا حکم جب (رسول) بلائیں (جہاد کی طرف) تمہیں جس کے ذریعے وہ حیات بخشے تمہیں اور جان لو کہ بیشک اللہ حائل ہے انسان اور اس کے دل کے درمیان، اور بیشک اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے
اور یاد کرو جب تم تھوڑے اور کمزور تھے زمین میں، تمہیں خوف تھا کہ اچک نہ لیں تمہیں لوگ پھر اس (اللہ) نے ٹھکانہ دیا تمہیں اور تائید کی تمہاری اپنی مدد سے، اور رزق دیا تمہیں پاکیزہ (چیزوں سے) تاکہ تم شکر ادا کرو
اے ایمان والو! اگر تم ڈرو گے اللہ سے تو وہ بنائے گا تمہارے لئے فرقان (یعنی حق اور باطل کی تمیز) اور دور کر دے گاتم سے تمہارے گناہ اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
اور جب مکر کر رہے تھے تمہارے خلاف کافر (دارالندوہ کمیٹی میں) کہ تمہیں قید کر دیں یا تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں نکال دیں (مکہ سے) اور وہ مکر کر رہے تھے اور اللہ تدبیر کر رہا تھا، اور اللہ بہترین تدبیر کر نیوالا ہے
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان (کفار) کے سامنے ہماری آیتیں تو کہتے ہیں کہ یقیناً ہم نے سن لیا اور اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ دیں ایسی بات یہ کچھ نہیں سوائے پہلوں کے قصے کے
اللہ عذاب جب کہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے اور یہ (کفار) اس کے (یعنی مسجد حرام کے) ولی (یعنی متولی) نہیں ہیں اس کے ولی تو متقی ہوتے ہیں اور لیکن اکثر ان میں جانتے ہی نہیں
بے شک جو کافر خرچ کرتے ہیں اپنا مال، تاکہ وہ روکیں اللہ کے راستے سے، تو جلد ہی وہ اور خرچ کریں گے پھر ہو جائے گا وہ (خرچ) ان پر حسرت پھر وہ مغلوب ہوں گے، اور جو کافر ہیں وہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے
تاکہ تمیز (یعنی جدا) کر دے اللہ ناپاک کو پاک سے (یعنی کفار کو مؤمنوں سے) اور ڈال دے ناپاکی ایک کی دوسرے پر، اور جمع کر دے ان سب کو پھر اسے ڈال دے جہنم میں، یہی لوگ خسارا پانے والے ہیں
کہہ دو کافروں سے کہ اگر وہ باز آجائیں تو معاف کر دیا جائے گا انہیں جو گزر چکا (اس سے پہلے ان سب باتوں کو) اور اگر وہ دوبارہ کرتے ہیں تو گزر چکے ہیں پہلوں کے واقعے
اور قتال کرو ان سے حتیٰ کہ نہ باقی رہے فتنہ (یعنی شرک) اور ہو جائے دین سارا اللہ ہی کے لئے، پھر اگر یہ باز آجائیں تو بیشک اللہ ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے
اور (اے مؤمنو!) جان لو جو کچھ تمہیں غنیمت کی چیزیں ملیں ہیں تو اسکا پانچواں حصہ اللہ اور اسکے رسول کا ہے اور (اسی پانچویں میں) رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور (اس پر) جو ہم نے نازل کیا اپنے بندے پر فرقان (یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے) کے دن جس دن دونوں جماعتیں بھڑیں (جنگ بدر میں) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
جب تم تھے اس کنارے پر (جنگ کے میدان میں) اور وہ (کفار) اُس کنارے پر تھے اور قافلہ نیچے تھا تم سے، اور اگر تم وعدہ کر کے آتے تو بھی خلاف کر جاتے مقررہ وقت پر پہونچنے میں، اور لیکن اللہ جب فیصلہ کر لیتا ہے کسی امر کا تو وہ ہو کے رہتا ہے، تاکہ وہ ہلاک ہو جسے ہلاک ہونا ہے کھلے طور پر اور وہ زندہ رہے جسے زندہ رہنا ہے کھلے طور پر، اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے
جب دکھایا ان (کفار) کو اللہ نے تیرے خواب میں تھوڑا کر کے، اور اگر دکھاتا انہیں زیادہ کر کے تو تم بزدلی کرتے، اور یقیناً تم نے جھگڑا کیا ایک معاملے میں اور لیکن اللہ نے سلامت رکھا، بے شک وہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات کو
اور جب اس (اللہ) نے دکھایا تم کو انہیں جب تم بھڑے تمہاری نظروں میں تھوڑا کرکے، اور اس نے کم دکھایا تمہیں ان کی نظروں میں، تاکہ فیصلہ کیا ہوا اللہ کا حکم ہو کر رہے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور
اور تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اور تنازع (یعنی جھگڑا) نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور اکھڑ جائے گی تمہاری ہوا اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
اور نہ ہو جاؤ ان (کفار قریش) کی طرح جو نکلے اپنے گھروں سے (جنگ بدر میں) اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھاتے ہوئے اور وہ روکتے تھے اللہ کے راستے سے، اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ اس پر احاطہ کرنیوالا ہے
اور جب مزین کر دیا ان کیلئے شیطان نے ان کے اعمال کو، اور کہا کہ نہ ہوگا کوئی غالب تم پر آج لوگوں میں سے اور میں تمہارا مددگار ہوں، پھر جب سامنا کیا دونوں فوجوں نے تو وہ (شیطان) بھاگا اپنی ایڑیوں کے بل، اور کہا میں بری ہوں تم سے، میں جو دیکھ رہا ہوں (فرشتوں کو) تم نہیں دیکھتے، بیشک میں ڈرتا ہوں اللہ سے، اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
(ان کا حال ویسا ہی ہوگا) جیسا حال ہوا فرعونیوں کا اور ان سے پہلوں کا انہوں نے انکار کیا اللہ کی آیتوں کا، تو پکڑا اللہ نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے، بے شک اللہ قوت والا اور سخت عذاب دینے والا ہے
یہ (عذاب اور سزا) اس لئے کہ اللہ نہیں بدلتا اس نعمت کو جو اس نے انعام کیا ہو کسی قوم پر، حتی کہ وہ خود بدل دے اسے اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے
(ان کا حال ویسا ہی ہوگا) جیسا حال ہوا فرعونیوں کا اور ان سے پہلوں کا، انہوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو، تو ہم نے ہلاک کر دیا انہیں ان کے گناہوں کے سبب، اور ہم نے غرق کر دیا فرعونیوں کو، اور وہ سب ظالم تھے
اور تیاری کرو ان (سے لڑنے) کے لیے، جتنی استطاعت ہو تمہیں قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے، تم ڈراؤ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن کو اور تم اپنے دشمن کو اور دوسروں کو ان کے علاوہ تم نہیں جانتے ہو انہیں اللہ جانتا ہے انہیں (وہ منافق ہیں) اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں پورا دیا جائے گا تمہیں اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا
اور (اللہ نے) الفت ڈال دی ان کے دلوں میں، اگر تو خرچ کر دیتا جو کچھ زمین میں ہے سارا تو ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتا اور لیکن اللہ نے الفت ڈال دی ان کے بیچ، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے
اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) ابھارو مومنوں کو جہاد پر، اگر ہوں تم میں بیس آدمی ثابت قدم تو وہ غالب آئیں گے دوسو پر، اور اگر ہوں تم میں سو (آدمی ثابت قدم تو) غالب آئیں گے ہزار کافروں پر، اس لیے کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں (انہیں اللہ کے وعدے پر یقین نہیں)
اب اللہ نے ہلکا کر دیا ہے تم سے (بوجھ) اور اسے معلوم ہے کہ تم میں کمزوری ہے، تو اگر ہوں تم میں سو ثابت قدم تو غالب آئیں گے دوسو پر اور اگر ہوں گے تم میں ہزار تو غالب آئیں گے دو ہزار پر اللہ کے حکم سے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
نہیں ہے (مناسب) نبی کیلئے کہ ہوں ان کیلئے قیدی، یہاں تک کہ خونریزی کریں (یعنی لڑیں) ملک میں، تم چاہتے ہو دنیوی سامان اور اللہ چاہتا ہے آخرت، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
اے نبی! کہہ دو ان سے جو تمہارے سامنے قیدی ہیں، کہ اگر اللہ کو معلوم ہو کہ تمہارے (یعنی عبداللہ بن عبدالمطلب کے) دلوں میں خیر ہے، تو عطا کرے گا تمہیں اس سے بہتر جو تم سے (جنگی فدیہ) لیا گیا ہے اور وہ مغفرت کرے گا تمہاری، اور اللہ غفور اور رحیم ہے
اور اگر یہ (قیدی ایمان نہ لاکر) خیانت کرنا چاہیں تو یقینا وہ خیانت چکے ہیں اللہ سے پہلے (کفر کر کے) تو اللہ نے انہیں گرفتار کرا دیا، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں اور جن لوگوں نے پناہ دی اور مدد کی (مسلمانوں کی) وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی (تو) کوئی تعلق نہیں تمہیں ان کی دوستی سے، یہاں تک کہ وہ بھی ہجرت کریں، اور اگر وہ مدد چاہیں تم سے دین کے معاملہ میں تو لازم ہے تم پر ان کی مدد، سوائے یہ کہ ایسی قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو (جنگ بندی کا تو مدد نہیں کر سکتے) اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں (اپنے مالوں اور جانوں سے) اور جن لوگوں نے پناہ دی اور مدد کی، تو یہی حقیقی مومن ہیں، ان کے لئے مغفرت اور رزق کریم ہے (عزت کی روزی ہے)
اور جو لوگ ایمان لائے اس کے بعد اور ہجرت کی اور جہاد کیا تمہارے ساتھ، تو یہ لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں اور رشتے داروں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں اللہ کی کتاب میں (یعنی اللہ کے قانون میں وارث رشتے دار ہیں) بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے