اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ نہ ہوا سجدہ کرنے والوں میں
فرمایا کس چیز نے منع کیا تجھے کہ تو نہ ہوا سجدہ کر نیوالوں میں، جبکہ میں نے حکم دیا تجھ کو، کہا میں بہتر ہوں اس سے، تو نے پیدا کیا مجھے آگ سے، اور تو نے پیدا کیا اسے مٹی سے
پھر آؤں گا ان پر ان کے آگے سے، اور ان کے پیچھے سے، اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی، اور آپ نہ پائیں گے ان میں سے اکثر کو شکر گزار
اور اے آدم! سکونت کرو (یعنی رہو) تم اور تمہاری بیوی جنت میں پھر دونوں کھاؤ جس جگہ سے چاہو، اور مت جانا اس درخت کے پاس، ورنہ تم دونوں ہو جاؤ گے (اسکا پھل کھانے کیوجہ سے) ظالموں میں سے
پھر وسوسہ ڈالا ان دونوں کے (دلوں میں) شیطان نے، تاکہ ان دونوں کی شرمگاہیں ظاہر کر دے، جو چھپائی گئی ہے ان دونوں سے ان دونوں کی شرمگاہ، اور (شیطان نے) کہا اسلئے منع فرمایا تم دونوں کو دونوں کے رب نے درخت (کا پھل کھانے) سے کہ دونوں ہو جاؤ گے فرشتے یا ہو جاؤ گے ہمیشہ رہنے والے
دلیل دی ان دونوں کے سامنے دھوکے کی، تو جب ان دونوں نے چکھا درخت (کے پھل) کو، ظاہر ہو گئیں دونوں کی شرمگاہیں، اور دونوں لگے جوڑنے اپنے اوپر جنت کے پتے، اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا نہیں میں نے منع کیا تھا تم دونوں کو اس درخت سے، اور یہ نہ کہا تھا تم دونوں سے کہ بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے ظلم کیا اپنے اوپر، اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا، تو یقیناً ہم ہو جائیں گے خسارہ پانے والوں میں
ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور زینت بھی ہے، اور تقوے کا لباس اس سے بہتر ہے یہ اللہ کی آیتیں (نصیحت کیلئے) ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑ سکو
اے اولادِ آدم! (کہیں) شیطان تم کو کسی فتنے میں نہ ڈال دے، جیسا کہ اس نے نکال دیا تھا تمہارے ماں باپ کو جنت سے، ان دونوں کا لباس اتروا دیا، تاکہ وہ دکھائے ان دونوں کو ان دونوں کی شرم گاہیں، بے شک وہ (شیطان) تم کو دیکھتا ہے وہ اور اس کا لشکر بھی ایسی جگہ سے کہ تم ان کو نہیں دیکھ پاتے، بے شک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو نہیں لاتے ایمان
اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے پایا ہے اپنے باپ دادا کو اسی پر، اور اللہ نے ہمیں اسکا حکم دیا ہے آپ کہہ دیجیئے کہ بیشک اللہ فحش باتوں کا حکم نہیں دیتا، کیا تم کہتے ہو اللہ پر ایسی بات جس کا تمہیں علم نہیں
آپ کہہ دیجیئے کہ میرے رب نے حکم دیا ہے انصاف کا، اور یہ کہ تم قائم کرو اپنا رخ ہر سجدے کے وقت (قبلے کی طرف) اور پکارو اسے مخلص بن کر اسکے دین میں، (تم کو اللہ نے) جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے
بعض فریق کو اللہ نے ہدایت دی، اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی بیشک ان لوگوں نے بنا لیا ہے شیطانوں کو دوست اللہ کے علاوہ، اور گمان رکھتے ہیں کہ بیشک وہ ہدایت پر ہیں
اے اولادِ آدم! تم اختیار کیا کرو زینت مسجد کی ہر حاضری کے وقت (بن سنور کے جاؤ) اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
آپ فرما دیجیئے کہ کس نے حرام کیا ہے اللہ کی پیدا کی ہوئی زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالا ہے، اور پاکیزہ رزق کو آپ کہہ دیجیئے کہ یہ چیزیں دنیوی زندگی میں مؤمنوں کے لئے ہیں، قیامت کے روز خالص ہوں گی (اہل ایمان کے لئے) ہم اسی طرح آیات کی تفصیل کرتے ہیں جاننے والوں کیلئے
کہہ دو میرے رب نے حرام کیا ہے فحش باتوں کو جو ظاہری ہیں، اور جو باطنی ہیں، اور گناہ کو اور ناحق ظلم کو، اور یہ کہ تم شریک ٹھہراؤ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور یہ کہ تم کہو اللہ کے بارے میں وہ جو تم جانتے نہیں
اے اولادِ آدم! اگر تمہارے پاس رسول آئیں تم ہی میں سے جو بیان کریں تم پر میری آیتیں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور اصلاح کرے تو ان پر نہ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے، یہی لوگ ہیں جو پائیں گے جو کچھ ان کے نصیب میں لکھا ہے (عذاب) یہاں تک کہ جب آتے ہیں ان کے پاس ہمارے فرشتے ان کو وفات دینے، تو کہتے ہیں، کہاں گئے (وہ معبود) جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے وہ کہتے ہیں ہم سے سب غائب ہو گئے، اور اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (موت کے وقت) کہ وہ کافر ہیں
فرمائے گا (اللہ) کہ داخل ہو جاؤ ان جماعتوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں جنات میں سے اور انسانوں میں سے آگ میں، جب کوئی جماعت داخل ہو گی لعنت کرے گی دوسری جماعت پر، یہاں تک کہ جب اس میں سب داخل ہو جائیں گے، تو کہیں گے، پچھلے لوگ پہلے لوگوں کے بارے میں کہ اے ہمارے رب! انہوں نے گمراہ کیا تھا ہمیں تو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے، اللہ فرمائے گا سب کیلئے دوگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے
اور کہیں گے پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے (جہنم میں) کہ تم کو ہم پر کوئی فضل نہیں، تو تم بھی عذاب کا مزہ چکھو بسبب اسکے جو کچھ تم (دنیا میں گناہ) کمایا کرتے تھے
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا، نہ کھولے جائیں گے ان (خبیث روحوں) کیلئے آسمان کے دروازے اور وہ لوگ کبھی جنت میں داخل نہ ہونگے، یہاں تک کہ داخل ہو جائے اونٹ سوئی کے ناکے (یعنی سوراخ) میں اور ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے (یہ وہ ہیں کہ) ہم کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یہی لوگ جنتی ہیں، اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور ہم کھینچ لیں گے ان (جنتیوں) کے دلوں سے کینہ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ لوگ کہیں گے تمام تعریف اللہ کے لئے ہے، جس نے ہم کو اس کی طرف رہنمائی کی، اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ کرتا، یقیناً آئے تھے ہمارے رب کے رسول سچی باتیں لے کر اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ اس جنت کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے
اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکاریں گے کہ یقیناً ہم نے سچ پایا اسے جو ہمارے رب نے وعدہ فرمایا تھا ہم سے، تو کیا تم نے بھی سچ پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا، وہ کہیں گے ہاں، پھر پکارے گا ایک پکار نے والا (فرشتہ) ان کے درمیان میں کہ اللہ کی لعنت ہو ان ظالموں پر
اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہو گا (جنت اور جہنم کے درمیان) اور اعراف پر بہت سے لوگ ہوں گے، وہ پہچانیں گے ہر ایک کو ان کی نشانی سے (یعنی چہروں سے) اور پکار کر کہیں گے اہل جنت کو السلام علیکم! ابھی یہ (اہل اعراف جنت میں) داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے
اور پکاریں گے اہل اعراف بہت سے لوگوں کو جن کو (اہل اعراف) پہچانیں گے، ان کی نشانی سے، کہیں گے کہ کچھ کام نہ آئی تمہاری جماعت اور جو تم تکبر کیا کرتے تھے
کیا یہ وہی (مؤمنین) ہیں جن کیلئے تم قسمیں کھایا کرتے تھے، کہ اللہ ان پر رحمت نہ فرمائے گا (ان کو حکم ہو گا کہ) داخل ہو جاؤ جنت میں تم پر نہ خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے
اور پکاریں گے اہل دوزخ اہل جنت کو، کہ ڈال دو ہمارے اوپر تھوڑا پانی (یعنی ہمیں تھوڑا پانی پلا دو) یا جو رزق اللہ نے تم کو دے رکھا ہے (وہی دے دو، جنتی) کہیں گے کہ بیشک اللہ نے حرام کر دیا ہے ان دونوں چیزوں کو کافروں کیلئے
(یہ وہ ہوں گے) جنہوں نے بنارکھا تھا دنیا میں اپنے دین کو کھیل تماشہ اور دھوکے میں ڈال رکھا تھا ان کو دنیاوی زندگی نے، تو ہم بھی آج بھول جائیں گے ان کو جیسا کہ انہوں نے بھلا رکھا تھا ملاقات کو اپنے اس دن کی، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے
کیا وہ انتظار کر رہے ہیں اسکی تاویل کا (آخری انجام کا) جس دن آئے گی اسکی تاویل، اس دن کہیں گے وہ جو پہلے سے بھو لے ہوئے تھے، کہ یقیناً آئے تھے ہمارے رب کے رسول حق بات لے کر، تو کیا اب کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وہ ہماری سفارش کرے، یا ہمیں لوٹا دیا جائے، تو ہم عمل کریں گے اس کے علاوہ جو عمل ہم کیا کرتے تھے، یقینا انہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا اور وہ بھول گئے انہیں جنہیں یہ (دنیا میں معبود) گھڑا کرتے تھے
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ ڈھانک دیتا ہے رات سے دن کو وہ طلب کرتا ہے اسے جلدی جلدی (رات کے پیچھے دن آتا ہے) اور سورج اور چاند اور ستارے مسخر ہیں اس کے حکم سے، خبردار! اللہ ہی خالق ہے اور حکم (کا اختیار اسی کو) ہے، بابرکت ہے اللہ جو تمام عالم کا رب ہے
اور مت کرو فساد دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی اصلاح کر دی گئی ہے، اور تم پکارو اللہ کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے، بیشک اللہ کی رحمت قریب ہے نیکو کاروں سے
اور وہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے بشارت بنا کر اپنی رحمت کے درمیان سے، یہاں تک کہ جب ہوائیں اٹھا لیتی ہیں بھاری بادلوں کو، تو ہم اس (بادل) کو خشک زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس (بادل) سے پانی برساتے ہیں پھر نکالتے ہیں اس (پانی) سے ہر قسم کے پھل، اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت پکڑو
اور پاکیزہ زمین سے نکلتی ہے اس کی پیداوار اس کے رب کے حکم سے، اور جو خراب (زمین) ہے اس کی پیداوار بہت کم نکلتی ہے، اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آیتوں کو ان لوگوں کے لئے جو شکر ادا کرتے ہیں
یقینا ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے
اور کیا تم تعجب کرتے ہو اس بات سے کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسے شخص پر جو تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ ڈرائے تم کو، اور تاکہ تم ڈر جاؤ، اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
تو جھٹلایا انہوں نے ان کو تو ہم نے نجات دی نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے انہیں بھی، اور ہم نے غرق کر دیا جن لوگوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو، بیشک وہ لوگ (دل کے) اندھے تھے
اور (ہم نے بھیجا) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو، انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، تمہارا کوئی معبود نہیں اس (اللہ) کے سوا، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟
اور کیا تم تعجب کرتے ہو کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسے شخص پر جو تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ تم کو ڈرائے، اور تم یاد کرو کہ جب اللہ نے تم کو خلیفہ بنایا قوم نوح کے بعد، اور زیادہ صلاحیت دی تم کو مخلوق میں، تو یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو تاکہ تم فلاح پاؤ
انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، اور ہم چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے تو لے آؤ (عذاب ہم پر) جس کا تم وعدہ کر رہے ہو ہم سے، اگر تم سچے ہو
(ہود نے) فرمایا کہ یقیناً واقع ہو گا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب، کیا تم جھگڑتے ہو مجھ سے چند ایسے ناموں کے بارے میں جو رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اللہ نے نہیں نازل کی اس کی کوئی دلیل (معبود ہونے کی) تو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں
تو ہم نے نجات دی ان کو اور ان کے ساتھ والوں کو اپنی رحمت سے، اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا، اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (ہم نے بھیجا) انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں یقیناً آ چکی ہے تمہارے پاس ایک واضح دلیل تمہارے رب کی طرف سے، یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لئے نشانی، تو اس کو چھوڑ دو چرنے کیلئے اللہ کی زمین میں، اور تم مت چھونا اسے برائی سے، ورنہ آپکڑے گا تمہیں دردناک عذاب
(حضرت صالح علیہ السلام نے قوم سے فرمایا) اور تم یاد کرو جب اللہ نے تم کو خلیفہ بنایا عاد کے بعد، اور ٹھکانہ دیا تم کو زمین میں (یعنی زمین پر بسایا) تم بناتے ہو سہولت سے محل، اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو تو (اے میری قوم) تم یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو اور تم مت پھر و زمین میں فسادی بن کر
کہا متکبر سرداروں نے (حضرت صالح علیہ السلام کی) قوم کے کمزوروں سے جو کہ ایمان لے آئے تھے ان میں سے کیا تم جانتے ہو کہ صالح بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے انہوں نے کہا کہ بے شک ہم جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں
تو انہوں نے کاٹ دیا (معجزے سے لائی گئی) اونٹنی کو، اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے، اور کہنے لگے کہ اے صالح! تم لے آؤ (عذاب) جس کا تم وعدہ کر رہے ہو ہم سے، اگر تم رسولوں میں سے ہو
تو منہ پھیر لیا ان سے (صالح نے) اور فرمایا کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو پہونچا دی اپنے رب کی رسالت، اور میں نے تمہیں نصیحت کی اور لیکن تم ناصح لوگوں کو پسند نہیں کرتے
اور (ہم نے بھیجا) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو، انہوں نے کہا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، یقیناً آ چکی ہے تمہارے پاس واضح دلیل تمہارے رب کی طرف سے تو تم ناپ اور تول پورا کیا کرو اور کم کر کے مت دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت فساد کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد (کہ برے عمل اصلاح کو بگاڑتے ہیں) یہ خیر ہے تمہارے لئے اگر تم مؤمن ہو
اور مت بیٹھا کرو تمام راستوں پر اس غرض سے کہ تم دھمکیاں دو (اللہ پر ایمان لانیوالوں کو) اور روکو اللہ کے راستے سے ایمان والوں کو اور تلاش کرو اس میں کجی، اور یاد کرو جب تم کم (تعداد میں) تھے پھر اللہ نے تم کو زیادہ کر دیا، اور دیکھو کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا
اور اگر چہ تم میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے ہیں اس پر جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اور کچھ ایمان نہیں لائے ہیں تو صبر کرو (ایمان نہ لانے والے) یہاں تک کہ فیصلہ کر دے اللہ ہمارے درمیان، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والوں میں ہے
کہا ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہ ہم ضرور تم کو نکال دیں گے اے شعیب! اور جو ایمان والے ہیں تمہارے ساتھ ان کو بھی اپنی بستی سے، یا تو تم ہماری ملت میں لوٹ آؤ (شعیب نے) جواب دیا کہ اگر چہ ہم اسے ناپسند کرتے ہو؟
یقیناً ہم افتراء کریں گے اللہ پر جھوٹ اگر ہم لوٹ جائیں تمہارے دین میں، اس کے بعد کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دے دی ہے، اور ہم سے ممکن نہیں کہ ہم لوٹ جائیں اس (مذہب) میں مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے جو ہمارا رب ہے، اور وسیع ہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں، اے ہمارے رب! فیصلہ کر دے ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے مطابق، اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
تو منہ پھیر لیا ان سے (شعیب نے) اور فرمایا کہ اے میری قوم! میں نے پہونچا دی تم کو رسالت اپنے رب کی، اور میں نے خیر خواہی کی تمہاری (عذاب میں تم خود پڑ گئے) تو پھر کیسا افسوس اس کافر قوم پر
پھر ہم نے بدل دی بدحالی کی جگہ خوش حالی سے، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی، اور کہنے لگے کہ (ہم سے پہلے بھی) پہونچی تھی ہمارے آباء واجداد کو تنگی اور تکلیف، تو پکڑا ہم نے انہیں اچانک اور وہ سمجھ بھی نہ سکے
اور اگر یہ بستی (مدین) والے ایمان لے آتے (جو آج اردن میں ہے) اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم کھول دیتے ان پر برکتیں آسمان اور زمین کی، اور لیکن انہوں نے جھٹلایا (شعیب علیہ السلام کو) تو ہم نے پکڑا انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے
اور کیا یہ (مشرکین مکہ) راہ نہیں پائے (یعنی سبق نہیں لے پائے) جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں (کی ہلاکت) کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو مصیبت میں ڈال دیں انہیں بھی ان کے گناہوں کیوجہ سے، اور ہم مہر لگا دیں ان کے دلوں پر تو وہ سن نہ سکیں
ان بستیوں کے قصے ہم بیان کر رہے ہیں آپ سے اور یقیناً آئے تھے ان سب کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر تو وہ ایمان نہ لائے اور پہلے کی طرح جھٹلاتے رہے، اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ کافروں کے دلوں پر
پھر ہم نے بھیجا ان (نبیوں) کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو انہوں نے ظلم کیا ان (نشانیوں) کے ساتھ، تو دیکھو کیسا ہوا انجام ان مفسدوں کا
حقیقی بات یہ ہے کہ میں اللہ کے بارے میں وہی کہوں گا جو برحق (یعنی سچ) ہے، میں لے کے آیا ہوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل، تو تو بھیج دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو (یعنی غلامی سے آزاد کر)
(موسیٰ نے) کہا کہ تم ہی ڈالو، تو جب انہوں نے ڈالا تو سحر کر دیا لوگوں کی آنکھوں پر (یعنی نظر بندی کر دی) اور ان پر ہیبت طاری کر دی، اور بڑا جادو پیش کیا
فرعون کہنے لگا کہ تم موسیٰ پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں بے شک یہ مکر ہے جو تم نے کیا ہے شہر میں، تاکہ تم نکال دو اس (شہر) سے یہاں کے رہنے والوں کو، تو اب تم جلد ہی جان لو گے
اور تو ہم سے اسلئے انتقام لے رہا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اپنے رب کی آیات پر، جب کہ وہ آگئی ہیں ہمارے پاس اے ہمارے رب! ڈال دے ہمارے اوپر صبر، اور وفات دے ہمیں مسلمان بنا کر
اور کہا سرداروں نے فرعون کی قوم کے، کہ کیا تم چھوڑ دو گے موسیٰ اور ان کی قوم کو، کہ وہ فساد کرتے پھریں ملک میں، اور وہ چھوڑے رہیں تم کو اور تمہارے معبودوں کو (فرعون نے) کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیں گے، اور بیشک ہم ان پر زور رکھتے ہیں
کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد حاصل کرو اللہ سے اور صبر کرو، بیشک یہ زمین اللہ کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جس کو وہ چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، اور بہتر انجام متقیوں کا ہے
(قوم کے لوگ) کہنے لگے کہ ہم کو اذیت دی گئی آپ سے قبل بھی اور آپ کے ہمارے پاس آنے کے بعد بھی (موسیٰ نے) کہا کہ ممکن ہے تمہارا رب ہلاک کر دے تمہارے دشمنوں کو، اور وہ خلیفہ بنا دے تم کو اس زمین کا پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیا عمل کرتے ہو
تو جب آتی ان پر خوشحالی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہی، اور اگر آتی ان کو بدحالی (تو) منحوس بتلاتے موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو، خبردار! ان کی نحوست اللہ کی طرف سے ہے، اور لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں
اور جب واقع ہوتا ان پر کوئی عذاب تو کہتے کہ اے موسیٰ! دعا کیجیئے ہمارے لیے اپنے رب سے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ ہٹا دیں ہم سے اس عذاب کو تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے، اور ہم ضرور بھیج دیں گے آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو
اور ہم نے وارث بنایا ان لوگوں کو جو کمزور تھے زمین کے پورب سے لے کر پچھم (مصر سے شام تک) کا، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، اور پورا ہوا آپ کے رب کا بہتر وعدہ بنی اسرائیل پر ان کے صبر کی وجہ سے، اور ہم نے برباد کر دیا جو بنا رکھے تھے (کارخانے) فرعون اور اس کی قوم نے اور جو وہ اونچے محل بنوائے تھے
اور ہم نے پار کرایا بنی اسرائیل کو دریا، تو وہ آئے (یعنی گزرے) ایک قوم پر سے جن کے لوگ جھکے بیٹھے تھے اپنے بتوں پر، کہنے لگے اے موسیٰ! بنا دیجیئے ہمارے لیے بھی ایک معبود! جیسے ان کے معبود ہیں آپ نے فرمایا بیشک تم لوگ جاہل ہو
اور جب ہم نے نجات دی تم کو فرعون والوں سے جو تم کو بری تکلیفیں دیتے تھے قتل کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو، اور زندہ چھوڑ دیتے تھے تمہاری عورتوں کو، اور اس میں بڑی آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے
اور ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے تیس راتوں کا، اور تمام کیا اسے دس (رات مزید) سے تو تمام ہوئی اس کے رب کی ملاقات چالیس راتوں میں، اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری خلافت کرنا میری قوم میں، اور اصلاح کرتے رہنا، اور اتباع مت کرنا مفسدین کے راستے کی
اور جب آئے موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر، اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا کہا اے میرے رب! دکھا مجھے میں دیکھنا چاہتا ہوں تجھ کو، کہا تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے، اور لیکن تم دیکھو اس پہاڑ کی طرف، اگر وہ برقرار رہا اپنی جگہ پر تو تم مجھے دیکھ لو گے، تو جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے، پھر جب افاقہ ہوا (ہوش میں آئے تو) کہا تیری ذات پاک ہے میں توبہ کرتا ہوں اور میں اول مؤمن ہوں
اور ہم نے لکھ کر دی انہیں (تورات کی) تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، تو تم پکڑ لو ان کو پوری قوت سے (یعنی عمل کرو) اور تم حکم کرو اپنی قوم کو کہ وہ بھی پکڑیں اسے اچھی طرح، جلد تم کو دکھاؤں گا فاسقوں کا گھر (ملک شام میں عمالقہ قوم کا)
پھر میں انہیں پھیر دوں گا اپنی آیتوں سے جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق، اور اگر یہ (بنی اسرائیل) دیکھ لیں ساری نشانیاں بھی تو بھی ایمان نہیں لائیں گے ان پر، اور اگر وہ دیکھیں ہدایت کا راستہ تو اسے وہ نہیں بنائیں گے راستہ، اور وہ دیکھیں گمراہی کا راستہ تو اسے وہ بنالیں گے اپنا راستہ، یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور وہ ان سے غافل ہیں
اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے (طور پہاڑ پر جانے کے) بعد اپنے زیوروں سے بچھڑا، جس کا ایک جسم تھا اور وہ ڈکارتا تھا (بیل کی آواز کی طرح) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں ہدایت دیتا ہے کسی راستے کی، اسے معبود بنا لیا (ان بنی اسرائیلیوں نے) اور وہ ہو گئے ظالم
اور جب نادم ہوئے اور سمجھ لیا کہ بے شک وہ گمراہ ہو گئے ہیں، تو کہنے لگے اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہماری مغفرت نہ کی، تو بے شک ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے
اور جب لوٹے موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ اور افسوس (کی حالت) میں، تو کہا کیا ہی بری خلافت کی تو نے میری میرے بعد (اے ہارون!) کیا تم نے جلدی کی اپنے رب کے حکم میں، اور ڈال دیں (موسیٰ نے ایک طرف) تختیاں، اور اپنے بھائی کا سر پکڑا اسے اپنی طرف کھینچنے لگا، اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے (اے میرے بھائی) یقیناً قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ وہ لوگ مجھے قتل کر دیتے، تو مت برا کہو مجھ کو دشمنوں کے سامنے، اور مجھے نہ بناؤ (یعنی میرا شمار نہ کرو) ظالموں کے ساتھ
بے شک جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا، عنقریب وہ پائیں گے غضب اپنے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں، اور اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں افتراء کرنے والوں کو
اور چن لیا موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مردوں کو ہمارے وعدے (پر لانے) کے لیے پھر جب پکڑا انہیں زلزلے نے، تو کہا اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو ہلاک کر دیتا انہیں اس سے پہلے اور مجھے بھی، کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو ہم میں سے بے وقوفوں نے کیا ہے؟ یہ تیری آزمائش ہے تو گمراہ کرتا ہے اسکے ذریعے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے تو مغفرت فرما ہماری اور رحم فرما ہم پر، اور تو بہتر مغفرت فرمانیوالا ہے
اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی، بیشک ہم رجوع کرتے ہیں تیری طرف فرمایا میں اپنا عذاب پہونچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں، اور میری رحمت سب چیزوں سے وسیع ہے، تو جلد ہی میں لکھوں گا ان کے لیے (رحمت) جو ڈرتے ہیں (اپنے رب سے) اور جو زکوٰۃ دیتے ہیں، اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں
وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول نبی اُمّی کی (صلی اللہ علیہ وسلم) جسے وہ پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ ان کو حکم کرتا ہے نیکی کا اور روکتا ہے برے کام سے، اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں، اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں، اور اتارتا ہے ان پر سے ان کا بوجھ (شرک وبدعات کا) اور وہ قید وبند جو ان پر تھے، تو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت کی اور اس کی مدد کی اور اتباع کی اس نور (یعنی قرآن) کی جو نازل کیا گیا ان کے ساتھ، یہی لوگ نجات پانے والے ہیں
کہہ دو اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور وہی موت دیتا ہے، تو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر، جو (خود) ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات پر، اور تم اتباع کرو اس کی تاکہ تم ہدایت پاسکو
اور ہم نے کاٹ (یعنی بانٹ) دئے انہیں بارہ جماعتوں میں، اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کی طرف جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا، کہ مارو اپنی لاٹھی پتھر پر، تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے یقیناً جان لیا تمام لوگوں نے اپنے پینے کی جگہ کو، اور ہم نے سایہ کیا ان پر بادلوں کا، اور ہم نے نازل کیا ان پر من اور سلویٰ کھاؤ پاک چیزیں جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے، اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے اوپر ہی ظلم کرتے تھے
اور جب کہا گیا انہیں کہ تم ٹھہرو اس بستی (بیت المقدس) میں، اور کھاؤ جہاں سے تم چاہو اور کہو توبہ توبہ، اور داخل ہو دروازہ میں جھک کر، تو ہم مغفرت کر دیں گے تمہاری خطائیں، اور عنقریب ہم زیادہ اجر دیں گے محسنین کو
اور پوچھو ان سے اس بستی (مدین، یا ایلہ) کا حال جو دریا کے کنارے تھی، جب وہ حد سے بڑھ جاتے تھے سنیچر (یعنی ہفتے) کے دن، جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں سنیچر کے دن پانی کے اوپری حصے پر، اور جس دن سنیچر نہ ہوتا تو نہ آتیں ان کے پاس اسی طرح ہم نے انہیں آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ ان (یہودیوں) کو کیوں نصیحت کرتے ہو (اس یہودی) قوم کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے، یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے، انہوں نے کہا تمہارے رب کے سامنے عذر پیش کرنے کے لیے اور شاید کہ یہ ڈرجائیں
پھر جب وہ بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے نجات دی (انہیں) جو منع کرتے تھے برے کام سے اور ہم نے پکڑا ظالموں کو مایوس کن عذاب میں ان کی نافرمانی کیوجہ سے
اور جب تیرے رب نے حکم دیا کہ ضرور اللہ بھیجتا رہے گا ان (یہودیوں) پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو انہیں برا عذاب دیتا رہے، بے شک تیرا رب جلدی عذاب دینے والا ہے، اور بے شک وہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے
اور ہم نے بانٹ دیا ان (یہودیوں) کو زمین میں، بعض ان میں نیک ہیں اور بعض اس کے علاوہ ہیں (برے) اور ہم نے انہیں آزمایا بھلائیوں اور برائیوں سے تاکہ وہ رجوع کریں (اللہ سے)
پھر خلیفہ بنے ان کے بعد ناخلف (یعنی نالائق) لوگ وارث بن گئے کتاب (تورات اور انجیل) کے، لینے لگے اس ادنیٰ زندگی کا مال ومتاع اور وہ کہتے ہماری مغفرت کر دی جائے گی اور اگر ان کے سامنے اب بھی آئے ایسا ہی (مال تو) وہ اسے لے لیں گے، کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا تھا کہ (کچھ) نہ کہیں اللہ پر سچ کے سوا اور انہوں نے پڑھا ہے جو اس (تورات اور انجیل) میں ہے، اور آخرت کا گھر بہتر ہے متقیوں کے لیے تو کیا تم سمجھتے نہیں
اور جب ہم نے لٹکایا ان پر پہاڑ کو گویا کہ وہ سائبان (یعنی چھت) ہو، اور انہیں گمان ہوا کہ وہ ان پہ واقع ہونے والا ہے (ہم نے کہا) لے لو جو ہم نے عطا کیا ہے تمہیں قوت کے ساتھ اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم متقی بن سکو
اور جب نکالا تیرے رب نے آدم کی اولاد کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور گواہی لی ان سے خود ان پر، کیا میں تمہارا رب نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں، ہم گواہی دیتے ہیں (کہ آپ ہمارے رب ہیں) کہیں تم کہنے لگو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے
اور انہیں پڑھ کے سناؤ اس (بلعم باعوراء) کا حال جسے ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں، پھر وہ نکل گیا اس سے پھر پیچھے لگا اس کے شیطان، تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا
اور اگر ہم چاہتے تو بلند کرتے اسے ان (آیتوں کی برکت) سے لیکن اس نے سمجھا کہ ہمیشہ رہنا ہے دنیا میں، اور اس نے اتباع کی اپنی خواہش کی، اس (بلعم باعوراء) کی مثال کتے کی طرح ہے، اگر تم بوجھ لادو اس پر تو بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دوا سے تو بھی ہانپے یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، تو بیان کر دو (اے نبی کافروں کے سامنے یہ) قصے شاید کہ یہ غور وفکر کریں
اور یقیناً ہم نے پیدا کیے ہیں جہنم کے لیے بہت سے جن اور انسان کو، ان کے دل ہیں پر ان سے سمجھتے نہیں، اور آنکھیں ہیں پر ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں، وہ ایسے ہیں جیسے جانور بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں، یہی لوگ غافل ہیں
اور اللہ ہی کے لیے ہیں سب اچھے نام، تو پکارو اسے ان ناموں سے، اور چھوڑ دو ان کو جو کجی (اور کمی) نکالتے ہیں اس کے ناموں میں عنقریب انہیں بدلہ دیا جائے گا اس عمل کا جو وہ کیا کرتے ہیں
اور کیا (ان کفار نے) نہیں دیکھا آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کو اور (دوسری چیزوں کو) جو اللہ نے پیدا کی ہیں، اور ممکن ہے ان کا وقت (یعنی موت) قریب ہو، پھر (یہ کفار، اس قرآن کے بعد) کس بات پر اس کے بعد ایمان لائیں گے
(کفار) پوچھتے ہیں تجھ سے قیامت کے بارے میں کہ کب وہ واقع ہوگی؟ کہہ دو اس کا علم میرے رب کے پاس ہے وہی ظاہر کرے گا اسے اس کے وقت پر، بھاری بات ہوگی آسمانوں اور زمین میں (جب قیامت واقع ہوگی) وہ تم پر اچانک آجائے گی وہ تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا کہ تمہیں تحقیق ہو اس کی، کہہ دو اس کا علم اللہ کے پاس ہے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
(اے نبی صلی) کہہ دو میں مالک نہیں خود اپنے لئے کسی نفع کا اور نہ ہی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے، اور اگر میں جانتا غیب کی بات کو تو حاصل کر لیتا اپنے لئے بہت سی خیر، اور مجھے نہیں پہونچتی کوئی تکلیف، میں تو صرف ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں
وہ وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے اور اسی سے اس کا جوڑ بنایا، تاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے پھر جب ڈھانک لیا (میاں بیوی سے ملے) تو اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، پھر اسے لیے پھرتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی (میاں بیوی نے) دعاء کی اللہ سے جو ان دونوں کا رب ہے کہ اگر تو نے عطا کی ہمیں صالح اولاد تو ہم ضرور ہو جائیں گے شکر گزاروں میں سے
پھر جب اللہ نے عطا کی ان دونوں کو صالح اولاد تو دونوں نے بنا لیا اس کیلئے شریک اس میں جو (اولاد اللہ نے) ان دونوں کو عطا کی تو اعلیٰ ہے اللہ (یعنی اللہ پاک ہے) اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں
بے شک جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے سوا (اے کفار اور مشرکین) وہ تمہاری طرح بندے ہیں، پھر جب تم پکارتے ہو انہیں تو انہیں جواب دینا چاہیے تمہیں اگر تم سچے ہو (کہ یہ معبود ہیں?)
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں، یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہوں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں، کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو پکارو پھر میرے خلاف تدبیر کرو، اور مجھے مہلت بھی نہ دو
اور اگر تم انہیں (یعنی کفار کو) ہدایت کی طرف پکارو تو وہ نہیں سنیں گے، اور تو دیکھتا (یعنی سمجھتا) ہے کہ وہ تیری طرف دیکھتے ہیں، حالانکہ وہ کچھ نہیں دیکھتے
بے شک وہ لوگ جو متقی ہیں جب انہیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آتا ہے تو وہ یاد کر لیتے ہیں (اللہ کو) پھر اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں (کہ یہ شیطانی چال ہے)
اور جب تو نہیں لاتا ان کے پاس کوئی آیت (یعنی معجزہ) تو کہتے ہیں کہ تو فلاں معجزہ کیوں نہیں لایا؟ کہہ دو میں اس کی اتباع کرتا ہوں جو وحی کی جاتی ہے مجھ پر میرے رب کی طرف سے، یہ دلیلیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے