تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو، اور بنایا اندھیرے کو اور نور کو، پھر بھی یہ کافر (غیر اللہ کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ کتنی بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا ان سے پہلے، انہیں اس طرح بسایا تھا دنیا میں کہ تم (مکہ والوں) کو بھی نہیں بسایا، اور ہم نے بھیجی آسمان سے ان پر لگاتار بارش، اور ہم نے نہریں جاری کیں ان کے نیچے سے، پھر ہم نے ہلاک کر دیا ان (پہلے لوگوں) کو ان کے گناہوں کے سبب، اور پیدا کر دیا ان کے بعد دوسری قوموں کو
اور یہ (کفار) کہتے ہیں کہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس (نبی) پر کوئی فرشتہ، اور اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے تو فیصلہ کر دیا جاتا (موت کا) پھر انہیں مہلت نہیں دی جاتی
ان سے پوچھو کہ کس کا ہے وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، کہہ دو سب کچھ اللہ ہی کا ہے، اس نے لازم کر لیا ہے اپنے اوپر رحم وہ ضرور جمع کرے گا تم سب کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا وہ ایمان نہیں لاتے ہیں
کہہ دو کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا ولی بناؤں جو بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا اور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور وہ نہیں کھاتا، کہہ دو مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں ہو جاؤں سب سے پہلا فرمانبردار اور (حکم دیا گیا ہے کہ) تو ہرگز مشرکوں میں نہ ہونا
آپ کہہ دیجئے کہ کون سی چیز گواہی کے لئے سب سے بڑی ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان، اور بطور وحی کے بھیجا گیا ہے میرے پاس یہ قرآن، تا کہ میں ڈراؤں تم کو اسکے ذریعے سے اور جس کو پہونچے (یہ قرآن ان سب کو) کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور معبود ہے، آپ کہہ دیجیئے کہ میں گواہی نہیں دیتا، آپ کہہ دیجئے کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور بیشک میں بری ہوں تمہارے شرک سے
جن (اہل کتاب) کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس (رسول) کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا وہ ایمان نہیں لائیں گے
ان میں بعض ایسے (کافر) ہیں کہ آپ کی طرف کان لگائے رہتے ہیں اور ہم نے ڈال دیا ہے ان کے دلوں پر پردہ، کہ وہ نہ سمجھیں، اور ان کے کانوں میں بھی پردہ ہے اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں تو بھی وہ ان (نشانیوں) پر ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو جھگڑتے ہیں آپ سے کہتے ہیں کافر اس (قرآن) میں پہلوں کے قصے ہیں
اور اگر آپ (اس وقت) دیکھیں جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے، کاش ہم لوٹا دیئے جائیں (دنیا میں) تو نہیں جھٹلائیں گے ہم اپنے رب کی آیات کو، اور ہم ہو جائیں گے مؤمنوں میں
بلکہ سامنے آگئی ان کے جس کو وہ چھپایا کرتے تھے اس کے قبل (کہ مشرک نہیں تھے) اور اگر یہ لوٹا دیئے جائیں تو وہی کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور بیشک یہ جھوٹے ہیں
اور اگر آپ دیکھیں جب یہ کھڑے کئے جائیں گے اپنے رب کے سامنے (اللہ) فرمائے گا کیا یہ (عذاب) برحق نہیں؟ کہیں گے کیوں نہیں؟ قسم اپنے رب کی! اللہ فرمائے گا تو چکھو عذاب کا مزہ اپنے کفر کے سبب
یقیناً خسارہ میں ہیں وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا اللہ سے ملنے کو، یہاں تک کہ جب قیامت آ جائے گی اچانک، کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو اس کے بارے میں ہوئی، اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر لادے ہوئے ہوں گے، خبردار! برا بوجھ ہو گا جس کو وہ لادے ہوئے ہوں گے
یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بیشک غم میں ڈالتی ہے آپ کو وہ باتیں جو یہ (کفار مجنون یا جادوگر وغیرہ) کہتے ہیں، تو یہ آپ کو نہیں جھٹلاتے، یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں
اور یقیناً تکذیب کی جاچکی ہے رسولوں کی آپ سے پہلے بھی، تو انہوں نے صبر کیا اپنے جھٹلائے جانے پر، اور ان کو ایذائیں پہونچائی گئیں، یہاں تک کہ آگئی ان پے ہماری مدد اور نہیں کوئی بدلنے والا اللہ کی باتوں کو، اور یقیناً آ چکی ہے آپ کے پاس رسولوں کی خبریں
اور اگر تکلیف دہ ہے آپ پر ان کا اعراض (یعنی دین کو نہ ماننا) تو اگر آپ کو یہ طاقت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں سیڑھی لگا کر کوئی نشانی لے آئیں ان کے لئے اور اگر اللہ چاہتا تو جمع کر دیتا ان سب کو ہدایت پر، تو (اے نبی) آپ نادانوں میں سے نہ ہو جائیں
اور یہ لوگ کہتے ہیں کیوں نہیں نازل کی گئی ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے، آپ فرما دیجیئے کہ بیشک اللہ قادر ہے اس پر کہ وہ نشانی نازل فرما دے، اور لیکن اکثر ان میں علم نہیں رکھتے
اور جو چوپائے ہیں زمین میں، اور جو پرندے اڑتے ہیں اپنے دونوں بازوؤں سے، وہ سب تمہاری طرح امت (یعنی جماعت) ہیں، ہم نے نہیں چھوڑی کتاب میں کوئی چیز، پھر سب اپنے رب کی طرف ہی جمع کئے جائیں گے
آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر آ جائے تم پر اللہ کا کوئی عذاب، یا تم پر قیامت آ جائے، تو کیا تم غیر اللہ کو پکارو گے (اس مصیبت کے وقت) اگر تم سچے ہو
تو کیوں نہیں وہ گڑگڑائے جب آیا ان پر ہمارا عذاب؟ اور لیکن سخت ہو گئے ان کے دل اور مزین کر دیا ان کیلئے شیطان نے ان کے اعمال کو جو (دنیا میں) وہ کیا کرتے تھے
تو جب انہوں نے بھلا دیا وہ نصیحت جو انہیں کی گئی تھی، تو ہم نے کھول دئے ان پر ہر چیز کے دروازے، یہاں تک کہ جب وہ خوش ہو گئے ان چیزوں پر جو ان کو دی گئی تھیں تو ہم نے ان کو پکڑ لیا، پھر وہ مایوس ہو گئے
آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر اللہ اخذ کر لے (ختم کر دے) تمہاری سماعت اور بصارت، اور مہر لگا دے تمہارے دلوں پر تو اللہ کے سوا اور کوئی معبود ہے جو تم کو پھر لا کر دے اسے آپ دیکھئے تو کیسے ہم بیان کر رہے ہیں آیات کو پھر بھی وہ کنارہ کرتے ہیں
آپ کہہ دیجئے کہ میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اتباع کرتا ہوں ان وحی کی جو میری طرف کی جاتی ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر ہو سکتا ہے؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟
اور آپ ڈرائیے اس (قرآن) کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس بات سے خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے (وہاں) نہ کوئی ان کا مددگار ہو گا اور نہ کوئی شفیع تا کہ یہ ڈریں
اور آپ نہ دھتکاریں ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، وہ چاہتے ہیں اس کی رضاء، نہیں ہے آپ پر ان کا حساب کچھ بھی اور آپ کا حساب ان پر نہیں کچھ بھی، اگر آپ انہیں دھتکاریں گے تو آپ ہو جائیں گے ظالمین میں سے
اور اسی طرح ہم نے آزمایا بعض کو بعض کے ذریعے، تا کہ یہ لوگ کہا کریں کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے ہمارے بیچ کیا اللہ خوب نہیں جانتا شکر گزاروں کو
اور یہ (صحابہ) جب آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں، تو کہئے سلامتی ہو تم پر، لکھ لیا ہے تمہارے رب نے رحمت فرمانا اپنے ذمے، بیشک جو شخص تم میں سے برا کام کرے گا جہالت میں پھر وہ اس کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو اللہ بڑی مغفرت کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ، آپ کہہ دیجئے کہ نہیں کرتا میں اتباع تمہاری خواہشات کی، پھر تو میں گمراہ ہو جاؤں گا، اور ہدایت پانیوالوں میں نہ رہوں گا
آپ کہہ دیجئے کہ میں دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے، اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو، وہ میرے پاس نہیں جس (عذاب) کی تم جلدی کر رہے ہو، حکم اللہ کے اختیار میں ہے، اللہ حق کو بیان کر دیگا، اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
آپ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کے لئے تم جلدی کر رہے ہو، تو میرے درمیان اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے
اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، ان کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے، اور وہ جانتا ہے جو خشکی میں ہے اور جو دریاؤں میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے، اور کوئی دانہ زمین کی تاریکی میں نہیں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز، مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں (لوح محفوظ میں)
اور وہی ہے جو وفات دیتا ہے تمہیں رات (کی نیند) میں، اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو دن میں (اس کو بھی) پھر تم کو بھیجتا ہے (نیند سے) تاکہ مقرر وقت پورا ہو (زندگی کی) پھر اسی کی طرف تم کو لوٹنا ہے، پھر وہ تم کو بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے
اور وہ غالب ہے اپنے بندوں پر، اور وہ (اللہ) بھیجتا ہے تم پر محافظ (فرشتہ) یہاں تک کہ جب آتی ہے تم میں سے کسی کو موت وفات دیتے ہیں اسے ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اور وہ کوتاہی نہیں کرتے
آپ کہہ دیجئے کہ کون نجات دیتا ہے تمہیں اندھیروں سے خشکی اور دریا کے تم پکارتے ہو اسے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے، کہ اگر تو ہم کو ان سے نجات دیدے تو ہم ضرور ہو جائیں گے شکر کرنیوالوں میں
آپ کہہ دیجئے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ بھیج دے تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے، یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (دھنسا دے) یا تم کو بھڑا دے کسی جماعت سے اور چکھا دے ایک دوسرے سے جنگ کا مزہ، آپ دیکھئے ہم کس طرح بیان کرتے ہیں آیات کو تاکہ وہ سمجھ سکیں
اور جب آپ دیکھیں ان (کافروں) کو جو عیب نکالتے ہیں ہماری آیات میں، تو اعراض کریں ان سے (ایسے وقت میں دور رہیں) یہاں تک کہ وہ مشغول ہو جائیں کسی اور بات میں اور اگر بھلا دے آپ کو شیطان تو نہ بیٹھیں یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے ساتھ
اور چھوڑ دیں ان لوگوں کو جنہوں نے بنا رکھا ہے اپنے دین کو کھیل اور تماشہ، اور دھوکے میں ڈال رکھا ہے انہیں دنیوی زندگی نے، اور آپ نصیحت کریں اس (قرآن) کے ذریعہ سے، تاکہ پھنس نہ جائے کوئی شخص جو اس نے کمایا، نہ ہو گا اس کا اللہ کے سوا کوئی مددگار اور نہ سفارشی اور اگر دنیا بھر کا بدلہ بھی دے ڈالے (قیامت کے دن یہ کفار اور مشرکین) تب بھی ان سے نہ لیا جائے، یہی ہیں جو پھنس گئے اپنے کمائی کے سبب ان کے لئے کھولتا پانی (پینے کے لئے) ہو گا، اور دردناک عذاب ہو گا جیسا کہ وہ کفر کرتے تھے
آپ کہہ دیجئے کہ کیا ہم پکاریں اللہ کے سوا اسکو جو نہ ہم کو نفع پہونچا سکے اور نہ نقصان، اور کیا ہم پھر جائیں اپنی ایڑیوں کے بل اس کے بعد کہ ہم کو ہدایت کر دی ہے اللہ نے اس شخص کی طرح جسکو بھٹکا دیا ہو شیطانوں نے جنگل میں اسکے ساتھی بلا رہے ہوں اس کو ہدایت کی طرف کہ آؤ ہماری طرف آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے، اور ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم فرماں بردار ہو جائیں رب العالمین کیلئے
اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو برحق، اور جس دن وہ کہے گا ہو جا، تو وہ ہو جائے گا اس کا کہنا برحق ہے اور اسی کی حکومت ہو گی جس دن پھونکا جائے گا صُور میں وہ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا، اور وہی حکیم اور خبیر ہے
اور حجت کی ان سے ان کی قوم نے آپ نے فرمایا کیا تم حجت کرتے ہو مجھ سے اللہ کے معاملے میں اور یقیناً اس نے میری رہنمائی کی، اور میں نہیں ڈرتا ان سے جن کو تم شریک بناتے ہو اسکے ساتھ، اگر چاہے میرا رب ہی کچھ، وسیع ہے میرے رب کا علم ہر چیز پر، کیا تم پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتے
اور کیسے ڈروں میں (ان چیزوں سے) جن کو تم نے شریک بنایا ہے، اور تم نہیں ڈرتے (اس بات سے کہ) تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی تم پر، تو ان دو فریقوں میں کون زیادہ مستحق ہے امن کا اگر چہ تم جانتے ہو
اور ہم نے عطا کئے ان کو اسحاق اور یعقوب، ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی، اور نوح کو ہدایت کی اس سے پہلے، اور ان کی ذریت (یعنی اولاد) میں سے داؤد کو اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو ہدایت کی اور اسی طرح ہم جزاء دیتے ہیں محسنین کو
یہی ہیں جنہیں ہم نے عطا کیں کتاب اور حکمت اور نبوت، تو اگر یہ (کفار اور مشرکین) اس (آپ کی نبوت) کا انکار کریں، تو ہم نے مقرر کیا ہے ایسے لوگوں کو جو اس کے منکر نہیں ہیں (وہ ہیں انصار اور مہاجرین)
یہ وہ (انبیاء) ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی تو آپ ان کی ہدایت کی اقتداء کیجئے، آپ کہہ دیجیئے میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا، یہ تو نصیحت ہے جہان والوں کیلئے
اور ان (یہودیوں) نے قدر نہ کی اللہ کی جیسا قدر کا حق تھا، جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے نازل نہیں کی کسی بشر پر کوئی شے، کہہ دیجیئے کہ کس نے نازل کی وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آئے تھے، جو کہ نور اور ہدایت ہے لوگوں کیلئے بنا دیا تم نے اسے ٹکڑوں میں، تم ظاہر کرتے ہو کچھ کو، اور چھپاتے ہو بہت سی باتوں کو، اور سکھایا گیا تم کو جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباء کہہ دیجیئے کہ اللہ نے (نازل فرمایا) پھر چھوڑ دیجئے ان کو ان کے خرافات میں کھیلنے کیلئے
اور یہ کتاب (قرآن) جس کو ہم نے نازل کی مبارک ہے تصدیق کرنے والی ہے اپنے سامنے والی کتابوں کی، تاکہ آپ ڈرائیں مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو، اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں آخرت پر وہی اس پر ایمان لاتے ہیں، اور وہی اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں
اور اس (مسیلمہ کذاب) سے بڑا ظالم کون ہوگا، جو افتراء کرے اللہ پر جھوٹ یا کہے وحی کی جاتی ہے میری طرف، جبکہ نہیں وحی کی جاتی ہے اس کی طرف کچھ بھی اور جو کہے میں بھی نازل کردونگا جیسا اللہ نے نازل کیا ہے اور اگر آپ دیکھیں جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے، اور (ان کی طرف موت کے) فرشتے بڑھا رہے ہوں گے اپنا ہاتھ، کہ نکالو اپنی جانیں آج تمہیں دیا جائے گا ذلت کا عذاب اس سبب سے کہ تم کہا کرتے تھے اللہ پر ناحق بات (دنیا کی زندگی میں) اور تم اس (اللہ) کی آیات سے تکبر کرتے تھے
اور تم آگئے ہو ہمارے پاس فرداً فرداً جس طرح ہم نے پیدا کیا تھا تم کو اوّل بار، اور تم چھوڑ آئے جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اپنی پیٹھوں کے پیچھے اور ہم نہیں دیکھ رہے ہیں تمہارے ساتھ تمہاری شفاعت کرنے والوں کو، جن پر تم گمان رکھتے تھے کہ وہ تمہارے معاملے میں شریک ہیں، یقیناً وہ کٹ گئے تمہارے بیچ سے، اور وہ بھول گئے تمہیں جن پر تم گمان کرتے تھے
بیشک اللہ پھاڑ کر نکالتا ہے دانے کو اور گٹھلیوں کو، وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے، اور نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ سے (بے جان سے جان نکالتا ہے) یہی ہے اللہ، تو تم کہاں بہک رہے ہو؟
وہ پھاڑ نکالتا ہے صبح کو اور اس نے بنایا رات کو سکون کے لئے، اور سورج اور چاند کو حساب (کا ذریعہ) بنایا ہے، یہ تقدیر ہے (یعنی تدبیر ہے) زبردست علم والے کی طرف سے
اور وہی ہے جس نے بنایا تمہارے لئے ستاروں کو، تاکہ تم راہ پاؤ ان کے ذریعے خشکی اور دریا کے اندھیروں میں، بیشک ہم نے تفصیل کی ہیں آیتوں کی جاننے والوں کیلئے
اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے، پھر ایک مستقر (زندگی گذارنے کی جگہ) اور ایک مستودع (دنیا سے الوداع) ہے بیشک ہم نے تفصیل کی ہیں آیتوں کی لوگوں کے لیے تاکہ وہ سمجھیں
اور وہی ہے جس نے نازل کیا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالا اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نباتات کو، پھر ہم نے نکالیں اس سے سبزیاں پھر ہم نکالتے ہیں اس سے دانے ترکیب (یعنی ترتیب) کے ساتھ اور کھجور میں سے خوشے جو نیچے کو لٹکتے ہیں، اور باغات انگوروں کے اور زیتون کے اور انار کے بعض ایک دوسرے سے مشابہ (ملتے جلتے) اور بعض غیر مشابہ ہیں، دیکھو اس کے پھل کو جب پھل آتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو (کون کر رہا ہے؟) بے شک ان میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لئے
اور انہوں نے بنا لیا ہے جنوں کو شریک اللہ کیلئے اللہ ہی نے پیدا کیا ہے ان کو، اور انہوں نے گھڑ رکھے ہیں اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بغیر علم کے، اور وہ پاک ہے اور اعلیٰ ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں
وہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا، کیسے ہو سکتی ہے اس (اللہ) کی کوئی اولاد، اور نہیں ہے اس کی کوئی بیوی، اور اسی نے پیدا کیا ہے ہر چیز کو اور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
یقیناً آچکے ہیں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے بصائر (یعنی نصیحتیں) جو دیکھ لے گا وہ اپنا فائدہ کرے گا اور جو اندھا رہے گا وہ اپنا نقصان کرے گا، اور میں نہیں تمہارا محافظ
اور (اے مسلمانو!) گالی مت دو ان کو جن کو یہ پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ، پھر وہ اللہ کو گالی دیں گے دشمنی میں، بغیر کسی علم کے، اسی طرح ہم نے مزین کر رکھا ہے ہر امت کے لئے ان کا عمل، پھر اپنے رب ہی کی طرف ان سب کو لوٹنا ہے، تو وہ (اللہ) ان کو بتلا دے گا جو عمل وہ کیا کرتے تھے
اور (مشرکین) قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی اپنی قسموں میں زور ڈال کر کہ اگر آ جائے ان کیلئے کوئی نشانی تو وہ ضرور ایمان لے آئیں گے اس پر کہہ دو نشانیاں اللہ کے پاس ہیں، اور تم کو خبر نہیں (اے نبی) یقیناً جب وہ آجائیں گی یہ ایمان نہیں لائیں گے
اور ہم پھیر دیں گے ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو، جیسا کہ یہ ایمان نہیں لائے اس (نبی) پر پہلی مرتبہ، اور ہم چھوڑ دیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے
اور اگر ہم نازل کرتے ان (کفار) کے پاس فرشتوں کو، اور باتیں کرنے لگتے ان سے مردے، اور ہم جمع کر دیتے ان پر تمام شئے ان کے سامنے تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے، مگر اللہ ہی چاہے، اور لیکن اکثر ان میں جاہل ہیں
اور اسی طرح ہم نے پیدا کئے ہر نبی کے لئے دشمن شیطان انسانوں اور جنوں میں سے ان (جن و انس) کے بعض وسوسہ ڈالتے ہیں بعض کو چکنی چپڑی باتوں کا، دھوکہ میں ڈالنے کیلئے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو وہ نہ کرتے (ایسا کام) تو آپ چھوڑ دیں انہیں افتراء کرنے کیلئے
تو کیا میں غیر اللہ کو تلاشوں اپنا حکم (یعنی فیصلہ کرنیوالا) اور وہ جس نے نازل کی ہے تمہاری طرف ایک مفصل کتاب، اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ بیشک یہ نازل کی گئی ہے آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے، تو آپ ہرگز نہ ہو جائیں شک کر نیوالوں میں
اور کیا ہو گیا ہے تم کو کہ نہ کھاؤ (ایسے جانور) جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور یقیناً اللہ نے تفصیل بتا دی ہے تم کو، جو تم پر حرام ہے، مگر جب تم اضطراری حالت میں ہو (بھوک سے مجبور، تو حلال ہے) اور بہت سے لوگ گمراہ کرتے ہیں اپنی خواہشات کیوجہ سے بغیر علم کے، بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو
اور مت کھاؤ (ایسے جانوروں کو) جن پر نہ لیا گیا ہو اللہ کا نام، اور بیشک یہ فسق (یعنی گناہ) ہے اور بیشک شیاطین دل میں بات ڈالتے ہیں اپنے (انسان) دوستوں کے تا کہ یہ جدال (یعنی جھگڑا) کریں تم سے اور اگر تم اطاعت کرو گے ان کی تو یقیناً تم مشرک ہو جاؤ گے
کیا جو مردہ ہو (کافر) پھر ہم نے اسکو زندہ کیا (مؤمن) اور ہم نے اس کو نور دیا (قرآن) وہ اس نور کے ذریعے لوگوں میں چلتا ہو (یہ) اسکی طرح ہو گا جو اندھیرے میں ہو اس سے نکلنا نہیں چاہتا ہو اسی طرح مزین کر دئے گئے ہیں کافروں کے اعمال جو وہ کرتے ہیں
اور اسی طرح ہم نے بنایا ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں کو مجرم، تاکہ وہ مکر کریں اس میں، اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ساتھ ہی مکر کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں
اور جب آتی ہے انکے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم کو بھی ایسی ہی (رسالت) نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے اللہ خوب جانتا ہے (کہ) کسے وہ بنائے اپنا رسول، جلد پہونچے گی ان کو جنہوں نے جرم کیا ذلت اللہ کے پاس اور عذاب سخت ترین ان کے مکر کیوجہ سے
تو جس شخص کے لئے اللہ ارادہ کرتا ہے ہدایت کا اس کے سینے کو شرح صدر کر دیتا ہے اسلام کیلئے (یعنی کھول دیتا ہے) اور جس کو چاہے گمراہ کرنا اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے، گویا کہ وہ چڑھ رہا ہو آسمان میں، اسی طرح اللہ ڈال دیتا ہے گندگی (یعنی گمراہی) میں انہیں جو ایمان نہیں لاتے
اور جس دن اللہ جمع کرے گا ان (تمام مخلوق) کو اور کہے گا اے جنات کی جماعتو! تم نے بہتوں کو اپنا بنا لیا تھا انسانوں میں سے، تو کہیں گے ان کے دوست انسانوں میں سے، اے ہمارے رب فائدہ حاصل کیا تھا ہم نے ایک دوسرے سے، اور ہم پہونچ گئے اپنے مقرر وقت کو جو تو نے مقرر کیا تھا ہمارے لئے (اللہ) فرمائے گا آگ ہی ہے تمہارا ٹھکانہ جس میں ہمیشہ رہو گے، مگر جسے اللہ چاہے، بیشک آپ کا رب حکمت والا علم والا ہے
اے جنات اور انسانوں کی جماعتو! کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس رسول تم ہی میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم سے میری آیتیں، اور ڈراتے تھے تم کو اس (قیامت کے) دن کی ملاقات سے وہ کہیں گے ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (کہ آئے تھے) اور دھوکے میں ڈالا ان کو دنیوی زندگی نے، اور بیشک یہ لوگ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ یہ کافر تھے
اور آپ کا رب غنی ہے رحمت والا ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے، اور خلیفہ مقرر کرے تمہارے بعد جس کو چاہے، جیسا کہ تم کو پیدا کیا ہے ایک دوسری قوم کی ذریت (یعنی اولاد) سے
آپ فرما دیجیئے کہ اے میری قوم! تم عمل کرتے رہو اپنی جگہ، میں بھی عمل کر رہا ہوں، جلد ہی تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت کا انجام کس کے لئے (نفع والا) ہو گا اور بیشک نہیں فلاح پاتے ظالم
اور بنا لئے ہیں (مشرکین نے) اللہ کیلئے جو کھیتی اور جانور پیدا کیے ہیں ان میں حصے، کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے اپنے گمان سے اور یہ ہمارے شرکاء (معبود) کا ہے، تو جو ان کے شرکاء کا ہے وہ اللہ کی طرف نہیں پہونچتا، اور جو اللہ کا ہے وہ پہونچ جاتا ہے ان کے شرکاء کی طرف، کیا ہی برا وہ فیصلہ کرتے ہیں
اور اسی طرح مزین کر دیا ہے (معبودوں نے) بہت سے مشرکین کیلئے ان کی اولاد کا قتل کرنا، تاکہ وہ ان کو برباد کریں، اور تاکہ ملاوٹ کر دیں ان پر ان کے دین میں، اور اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا کام نہ کرتے، تو چھوڑ دیں انہیں جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں
اور وہ کہتے ہیں یہ جانور اور کھیتی چھوڑ دئے گئے ہیں اسے کوئی نہ کھائے، مگر جسے ہم چاہیں اپنے گمان سے، اور بعض جانوروں کی پیٹھ (سواری کے لیے) حرام کر دی گئی ہیں، اور کچھ جانور پر یہ لوگ نہیں لیتے اللہ کا نام، اللہ پر افتراء کرتے ہیں، عنقریب (اللہ) انہیں سزا دے گا ان کے افتراء کی
اور وہ کہتے ہیں کہ جو پیٹ میں ہے ان جانوروں کے، وہ خالص ہمارے مردوں کیلئے ہے، اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور اگر وہ مردہ جنے تو وہ سب اس میں شریک ہیں، عنقریب اللہ ان کو ان کی (غلط) بیانی کی سزا دیگا، بیشک وہ حکمت والا ہے اور وہ علم والا ہے
یقیناً خسارے میں ہیں وہ جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی میں بغیر علم کے اور انہوں نے حرام کر لیا جو رزق اللہ نے انہیں دیا تھا اللہ پر افتراء کرتے ہوئے، بیشک یہ گمراہ ہیں اور نہیں ہیں یہ ہدایت پانیوالے
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے، جو بیلوں والے ہیں، اور جو غیر بیلوں والے بھی ہیں (چھتریوں کی طرح) اور کھجور اور کھیتی کے مختلف ہیں پھل، اور زیتون، اور انار، ایک دوسرے سے بعض مشابہ (یعنی ملتے جلتے) ہیں اور بعض غیر مشابہ (الگ قسم کے) ہیں، کھاؤ ان کے پھل جب پھل آئے، اور ادا کرو اسکا حق کٹائی کے دن (عُشر دے کر) اور اسراف نہ کرو بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا اسراف کر نیوالوں کو
اور جانوروں میں بعض بوجھ اٹھانیوالے اور بعض چھوٹے قد کے ہیں، کھاؤ جو رزق اللہ نے تم کو دیا ہے، اور مت اتباع کرو شیطان کے نقش قدم کی بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
(اللہ نے پیدا کئے) آٹھ جوڑے بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو، آپ کہہ دیجیئے کہ کیا اللہ نے ان دونوں مذکر (نر) کو حرام کیا ہے، یا دونوں مؤنث (مادہ) کو، یا جو شامل ہے دونوں ماداؤں کے پیٹ میں؟ مجھے بتاؤ علم (کی دلیل) سے (اے مشرکو!) اگر تم سچے ہو
اور اونٹ میں سے دو، اور گائے میں سے دو (اللہ نے پیدا کئے) آپ کہہ دیجیئے کہ کیا اللہ نے ان دونوں مذکر کو حرام کیا ہے یا دونوں مؤنث کو، یا جو شامل ہے دونوں ماداؤں کے رحم (یعنی پیٹ) میں؟ کیا تم موجود تھے (اللہ کے پاس اس وقت) جس وقت وصیت کی اللہ نے تم کو اس کی؟ تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو افتراء کرے اللہ پر جھوٹ تا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے بغیر علم کے بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا (ایسے) ظالموں کو
آپ کہہ دیجیئے میں نہیں پاتا جو وحی میری طرف کی گئی ہے ان میں حرام کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہتا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو، بے شک وہ نجس (یعنی ناپاک) ہے اور گناہ ہے، یا نام لیا گیا ہو غیر اللہ کا جس (جانور) پر، پھر جو مجبور ہو جائے اللہ سے بغاوت و عداوت میں نہ کھائے تو آپ کا رب غفور اور رحیم ہے
اور یہود پر ہم نے حرام کر دیئے تھے تمام ناخن والے جانور، اور گائے اور بکری میں سے ہم نے حرام کر دی تھیں ان (یہودیوں) پر ان دونوں کی چربیاں، مگر جو (چربی) لگی ہو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے یا جو ملی ہو ہڈی سے، یہ سزا دی ہم نے ان کو ان کی بغاوت کیوجہ سے اور بے شک ہم سچے ہیں
عنقریب کہیں گے مشرکین کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم حرام ٹھہراتے کسی چیز کو، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے چکھا ہمارے عذاب کا مزہ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تمہارے پاس کوئی علم (یعنی دلیل) ہے؟ تو نکالو اسے ہمارے سامنے، اور تم اتباع کرتے ہو گمان کی، اور تم صرف اٹکل لگاتے ہو
آپ کہہ دیجیئے بلاؤ تم اپنے گواہوں کو جو شہادت دیں کہ اللہ نے حرام کیا ہے ان چیزوں کو، پھر اگر وہ گواہی دیں تو آپ اس کی گواہی نہ دیں (یعنی نہ مانیں) اور مت اتباع کریں ان کی خواہشات کی جو جھٹلاتے ہیں ہماری آیتوں کو، اور جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، اور وہ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں
آپ کہہ دیجیئے کہ آؤ میں پڑھ کر سناتا ہوں جو حرام کیا ہے تمہارے رب نے تم پر، وہ یہ ہے کہ مت شریک ٹھہراؤ اللہ کے ساتھ کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور قتل مت کرو اپنی اولاد کو بھوک مری کی وجہ سے، ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو بھی اور مت قریب جاؤ فحش (یعنی بے حیائی اور برائی) کے چاہے ظاہری ہو یا باطنی، اور قتل مت کرو کسی شخص کا جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ (یعنی جنگ میں) وہ نصیحت کرتا ہے تمہیں اسکی تا کہ تم عقل سے کام لو
اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر بہتر طریقے سے، یہاں تک کہ وہ پہونچ جائے جوانی کو (تو حوالے کر دو) اور پورا کرو ناپ اور تول انصاف کے ساتھ، ہم نہیں تکلیف دیتے کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ، اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، اگرچہ وہ شخص قرابتدار ہی ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو، ان باتوں کی نصیحت کرتا ہے اللہ تم کو، تاکہ تم نصیحت پکڑو
اور بیشک یہ ہے میرا راستہ جو سیدھا ہے، تو اتباع کرو اس (راستے) کی اور مت اتباع کرو (دوسرے) راستوں کی، ورنہ جدا کر دیگا تمہیں اس کے راستے سے، اللہ نصیحت کرتا ہے تم کو اسکی، تاکہ تم متقی بن سکو
پھر ہم نے عطا کی موسیٰ کو کتاب (تورات) مکمل کرنے کے لئے (نعمت ان پر) جنہوں نے احسن عمل کئے، اور تفصیل ہر شئے کی اور ہدایت اور رحمت تا کہ یہ (بنی اسرائیل) اپنے رب کی ملاقات پر یقین کریں
یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بھی زیادہ ہدایت پر ہوتے تو یقیناً آگئی ہے تمہارے پاس دلیل (بطور قرآن) تمہارے رب کی طرف سے جو ہدایت و رحمت ہے، تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو جھٹلائے اللہ کی آیتوں کو اور روکے اس سے، ہم جلد ہی سزا دیں گے انہیں جو روکتے ہیں ہماری آیتوں سے برے عذاب کا ان کے روکنے کی وجہ سے
کیا یہ (کافر) انتظار کر رہے ہیں کہ آئیں ان کے پاس فرشتے، یا آئے آپ کا رب، یا آ جائے آپ کے رب کی کوئی نشانی جس روز آئے گی آپ کے رب کی کوئی نشانی، نہ فائدہ دیگا کسی شخص کو اسکا ایمان لانا جو نہ رکھتا ہو ایمان پہلے سے یا نہ کمایا ہو اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیک عمل، آپ فرما دیجیئے کہ تم انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہیں
بے شک جن (یہودیوں اور عیسائیوں) نے تفرقہ کیا اپنے دین میں، اور ہو گئے جماعتوں میں، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر وہ بتلا دیگا انہیں جو وہ کرتے تھے
آپ کہہ دیجیئے کہ بے شک ہدایت دی ہے مجھ کو میرے رب نے سیدھے راستے کی وہ قائم رہنے والا دین ملت ابراہیم ہے جو یکسو تھے (اللہ کی طرف متوجہ) اور نہ تھے وہ مشرکوں میں
آپ فرما دیجیئے کہ کیا غیر اللہ کو میں تلاشوں (یعنی بناؤں) اپنا رب، جبکہ وہ رب ہے ہر چیز کا، اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسی پر ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا، پھر تم سب کو اپنے رب کے پاس لوٹنا ہے، پھر وہ تم کو بتائے گا جس (دین کے معاملے) میں تم اختلاف کرتے تھے
اور وہی ہے جس نے بنایا تم کو خلیفہ زمین میں (ارض کا استعمال زمین ملک اور دنیا کیلئے ہوتا ہے) اور بلند کئے ایک کے دوسرے پر درجات (مالدار اور غریب) تاکہ تم کو آزمائے ان چیزوں میں جو عطا کی اس نے تمہیں، بیشک آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے، اور بیشک وہ بڑی مغفرت کرنیوالا مہربان ہے