اے (اہل کتاب کے) ایمان والو! پورے کرو (آپؐ کی اطاعت کے) عہد کو، حلال کئے گئے ہیں تمہارے لئے مویشی چوپائے، ان کے سوا جن کے (نام) پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے تمہیں (جو) نہیں ہے شکار کی جگہ جب تم حالت احرام میں ہو، بیشک اللہ حکم کرتا ہے جو چاہتا ہے
اے ایمان والو! نہ کرو بے حرمتی اللہ کے شعائر کی (جیسے کعبہ، قرآن، مسجد وغیرہ کی) اور نہ محترم مہینوں کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ پٹے پہنائے گئے جانوروں کی اور نہ ان آنے والوں کی بیت اللہ کو وہ تلاشتے ہیں اپنے رب کا فضل اور اس کی رضاء، اور جب تم حلال ہو جاؤ (یعنی احرام اتار لو) تو شکار کر سکتے ہو، اور ہرگز تمہیں جرم پے آمادہ نہ کرے اس قوم کی دشمنی جنہوں نے تمہیں روکا تھا مسجد حرام سے کہ تم حد سے گزر جاؤ، اور تم تعاون (یعنی مدد کرو) نیکی اور تقوے کے کام میں، اور نہ تعاون کرو گناہ اور زیادتی میں اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
حرام کیا گیا تم پر مردار (یعنی مرے ہوئے جانور) اور خون اور سور کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا نام پکارا گیا ہو، اور جو گلا گھٹنے سے اور جو چوٹ سے اور جو اونچائی سے گر کے مرا ہو، اور جو جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو، اور جسے درندوں نے کھایا ہو مگر اسے تم ذبح کر ڈالو (تو حلال ہے) اور جو آستانوں (مزاروں) پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کیا گیا ہو تیر مار کر (جوے کے تیروں کے ذریعے) یہ سب گناہ ہیں آج مایوس ہو گئے کفار تمہارے دین سے، تو نہ ڈرو تم ان سے اور مجھ سے ڈرو، آج میں نے مکمل کر دیا ہے تمہارے لئے تمہارے دین کو اور مکمل کر دی تم پر اپنی نعمت اور میں راضی ہو گیا تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر، تو جو مجبور ہو بھوک کیوجہ سے گناہ کی طرف میلان نہ ہو (تو مرا جانور کھا سکتا ہے) اللہ معاف کر نیوالا اور رحم کر نیوالا ہے
پوچھتے ہیں آپ سے (عدی بن حاتم) کہ کیا حلال ہے ان کے لئے؟ کہہ دیجئے کہ حلال کی گئی ہیں تمہارے لئے تمام پاک چیزیں، اور جو سکھایا ہے تم نے شکاری جانوروں کو، تم نے جو انہیں سکھایا ہے وہ اللہ نے تمہیں سکھایا ہے، تو تم اس سے کھالو جس شکار کو وہ تمہارے لئے (پکڑ کر) روک رکھیں اور اس پر اللہ کے نام کا ذکر کر لیا کرو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے
آج حلال کی گئی ہیں تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں اور اہل کتاب کا کھانا (ذبیحہ یعنی ذبح کیا ہوا جانور) تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں (اہل کتاب کیلئے) اور پاکدامن عورتیں اہل کتاب کی تمہارے لئے (حلال ہیں) جب کہ تم ادا کرو ان کے مہر، یہ (نکاح) پاکدامنی کیلئے ہو نہ کہ بدکاری کیلئے اور نہ چھپی یاری کیلئے، جو ایمان (لانے) سے انکار کرے گا تو یقیناً اس کے اعمال ضائع ہو گئے (دنیا میں) اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا
اے ایمان والو! جب تم کھڑے ہو نماز کیلئے تو دھو لو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت اور مسح کرو اپنے سروں کا اور دھو لو اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت اور اگر تم جنابت (کی حالت) میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آئے یا تم عورتوں سے ملے ہو پھر نہ پاؤ پانی تو تیمم کرو پاک مٹی سے، پس مسح کرو اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر اس (مٹی) سے، اللہ نہیں چاہتا تم پر (کسی قسم کی) تنگی ڈالنا، اور لیکن اس کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں پاک کر دے اور تمام کرے اپنی نعمت تم پر (یعنی دین کا طریقہ مکمل کرے) تاکہ تم شکر گزار بن سکو
اور تم یاد کرو اللہ کی ان نعمتوں کو جو تمہارے اوپر ہے اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہدہ ہوا ہے جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور ڈرتے رہو اللہ سے، بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے
اے ایمان والو! تم ہو جاؤ قائم کرنے والے اللہ کیلئے شہادت کو انصاف کے ساتھ، اور ہرگز جرم پے آمادہ نہ کرے تمہیں کسی قوم کی دشمنی کہ تم عدل نہ کرو، عدل کیا کرو یہ تقوے کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
اے ایمان والو! یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہے، جب کہ ایک (یہودی) قوم نے چاہا تم پر ہاتھ پھیلانا (یعنی حملہ کرنا) تو روک دیا (اللہ نے) ان کے ہاتھوں کو تم (تک پہنچنے) سے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور اللہ ہی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہئے
اور یقیناً لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے، اور ہم نے مقرر فرمائے ان ہی میں سے بارہ سردار، اور اللہ نے فرمایا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم رکھو گے اور زکوۃ دیتے رہو گے اور ایمان رکھو گے میرے رسولوں پر، اور ان کی مدد کرتے رہو گے، اور قرض دیتے رہو گے اللہ کو بہتر قرض (اللہ کی رضاء کیلئے خیرات) تو یقیناً میں تمہاری برائیاں تم سے دور رکھوں گا اور میں ضرور داخل کروں گا تمہیں ان جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تو اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو یقیناً وہ گمراہ ہو گا سیدھے راستے سے
پھر ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے بنا دیئے ان کے دلوں کو سخت کہ وہ بدل دیتے تھے کلام کو اس کی جگہ سے (تورات میں) اور انہوں نے بھلا دیا اس حصے کو جسکی انہیں نصیحت کی گئی تھی، مسلسل اطلاع ملتی رہے گی تجھے ان کی خیانت کی، مگر تھوڑے (لوگ) ایسے نہیں بھی تھے، تو تم انہیں معاف کر دو اور درگزر کرو بیشک اللہ محبت کرتا ہے احسان کر نیوالوں سے
اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا، تو انہوں نے بھلا دیا اس حصے کو جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ڈال دیئے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت تک کیلئے، اور عنقریب اللہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے
اے اہل کتاب! یقیناً آچکا ہے تمہارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرے گا تمہارے لئے بہت سی وہ باتیں کتاب (تورات) کی جو تم چھپا رہے تھے، اور وہ معاف کرے گا بہت سی باتوں کو، یقیناً آچکا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور (آپؐ) اور واضح کتاب (قرآن)
ہدایت دیتا ہے اللہ اس (قرآن) کے ذریعے اسے جو اتباع کرے اسکی رضاء کی سلامتی کے راستے کی طرف، اور وہ نکالتا ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف اپنے حکم سے، اور ہدایت دیتا ہے انہیں سیدھے راستے کی طرف
یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے (اے نبی صلی) آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ کون ہے جو اللہ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ اگر اللہ کا ارادہ ہلاک کرنے کا ہو مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو تو؟ اور اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین میں اور ان دونوں کے درمیان میں، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اور کہتے ہیں یہود و نصاریٰ کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے اللہ کیوں سزا دیتا ہے؟ نہیں بلکہ تم بھی ایک انسان ہو اس کی مخلوق میں سے وہ مغفرت کرتا ہے جسے چاہتا ہے، اور عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
اے اہل کتاب! یقیناً آگیا ہے تمہارے پاس ہمارا رسول وہ بیان کرتا ہے تمہارے سامنے (اور) رسولوں کے ایک وقفے کے بعد آیا ہے تا کہ تم یہ نہ کہو کہ نہیں آیا تھا ہمارے پاس کوئی بشیر اور نہ ہی نذیر، تو یقیناً اب آگیا ہے تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم! یاد کرو اللہ کی اس نعمت کو جو تم پر ہے، جب اس نے بنایا تم میں سے انبیاء، اور تمہیں بادشاہ بنایا اور عطا کیا تمہیں (من اور سلویٰ فرعون سے نجات وغیرہ) جو نہیں عطا کیا تمام عالم میں کسی کو
انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ! وہاں تو زور آور لوگ ہیں اور ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے وہاں جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں، تو اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہو جائیں گے
کہا دو شخصوں نے جو ڈرتے تھے اللہ سے جن پر اللہ کا انعام تھا کہ تم داخل ہو جاؤ ان کے پاس (بیت المقدس کے) دروازے تک، تو جب تم داخل ہو گے اس میں تو بیشک تم غالب آجاؤ گے، اور تمہیں اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے اگر تم مومن ہو
کہا (اللہ نے) کہ بیشک حرام کر دی گئی ہے (بیت المقدس) ان پر چالیس سال تک، یہ بھٹکتے رہیں گے زمین میں (مصر اور شام کے درمیان) تم مت کرنا افسوس اس فاسق قوم پر
اور (اے نبی) پڑھ سناؤ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کی خبریں، ان دونوں نے ایک قربانی پیش کی تو قبول ہو گئی ان میں سے ایک کی قربانی، اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی، تو وہ کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا، اس نے کہا اللہ قبول کرتا ہے متقیوں کا عمل
پھر بھیجا اللہ نے ایک کوے کو جو زمین کھودنے لگا، تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح چھپائے اپنے بھائی کی لاش کو، وہ کہنے لگا، ہائے افسوس! کیا میں اس کوے سے بھی عاجز ٹھہرا، کہ میں چھپا دیتا اپنے بھائی کی لاش کو؟ پھر وہ نادمین میں سے ہو گیا
اسی وقت سے ہم نے لکھ دیا بنی اسرائیل پر کہ بیشک جو شخص قتل کرے گا کسی کو بغیر کسی وجہ کے، یا فساد کرے گا زمین میں تو گویا اس نے قتل کر دیا تمام لوگوں کو اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا، اور یقیناً آئے ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول واضح دلیلیں لے کر، پھر ان میں کے اکثر لوگ اس کے بعد بھی زمین میں حد سے بڑھنے والے ہی رہے
ان کا بدلہ جو اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا کاٹ دیئے جائیں مخالف جانب سے ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے (یعنی ملک سے نکال دیا جائے اگر اسلامی ملک ہو) یہ ان کی دنیوی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے
کافروں کے لئے اگر وہ سب کچھ ہو جائے جو زمین میں ہے اور بلکہ اسی کے مثل اور بھی ہو جائے (اور وہ ان سب کو) فدیے میں دینا چاہیں قیامت کے دن عذاب کے بدلے تو بھی قبول نہ ہو ان سے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
کیا تجھے معلوم نہیں؟ کہ اللہ ہی کی بادشاہت ہے (تمام) آسمانوں اور زمین کی وہ عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اے رسول! آپ غم نہ کیجئے ان لوگوں کے پیچھے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں وہ ان (منافقوں) میں سے ہیں جو اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کے دل میں ایمان نہیں اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو جھوٹ باتیں سننے کے عادی ہیں اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو نہیں آئے اب تک آپ کے پاس (یہودیوں کے سردار) وہ کلمات کو بدل دیتے ہیں ان کی جگہوں سے، کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہی حکم دیا جائے (جو تورات میں انہوں نے بدل رکھا ہے) تو قبول کر لینا اسے اور اگر نہ دیں یہ حکم تو چھوڑ دینا، اور اللہ کا ارادہ جس کو فتنے میں ڈالنے کا ہو تو آپ اس کے لئے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مالک نہیں یہی وہ لوگ ہیں کہ نہیں ہے اللہ کا ارادہ ان کے دلوں کو پاک کرنے کا، ان کے لئے دنیا میں بھی بڑی رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
(یہ) جاسوسی کرنے والے ہیں اور حرام کے کھانے والے ہیں، تو اگر یہ تمہارے پاس آئیں (تو تمہیں اختیار ہے) فیصلہ کرو ان کے درمیان یا اعراض کرو ان سے، اگر تم ان سے منہ پھیر لو گے تو بھی یہ تم کو ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، اور اگر تم فیصلہ کرو تو فیصلہ کرو ان میں انصاف کے ساتھ، بیشک اللہ محبت رکھتا ہے عدل والوں کے ساتھ
وہ کیسے تم کو فیصلہ کرنے والا بناتے ہیں اپنے پاس تورات ہوتے ہوئے جس میں اللہ کے احکام ہیں، پھر اس کے بعد بھی پھر جاتے ہیں، دراصل یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں
بے شک ہم نے نازل فرمائی ہے تورات جس میں ہدایت اور نور ہے، فیصلے کرتے تھے اس کے مطابق (یہودیوں میں) انبیاء، اور جو اسلام لائے ہوئے یہودی ہیں اور اللہ والے اور علماء ہیں کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کی ذمے داری دی گئی تھی اور وہ اس پر (خود ہی) گواہ ہیں تو تم ان لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ہی ڈرو، اور مت کرو سودا میری آیتوں کا تھوڑے فائدے کیلئے، جو نہ کرے فیصلے اس کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی کافر ہیں
اور ہم نے یہ بات لکھ دی تھی ان (یہودیوں) پر اس (تورات) میں کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے، اور جو نہ کرے فیصلے اس کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی ظالم ہیں
اور ہم نے بھیجا ان (موسیٰ) کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو جو تصدیق کرنے والے تھے اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی اور ہم نے عطا فرمائی انہیں انجیل جس میں روشنی اور ہدایت تھیں اور وہ تصدیق کرتی تھی اپنے سے پہلے (کی کتاب) تورات کی اور وہ (تورات) ہدایت اور نصیحت تھی متقیوں کے لئے
اور انجیل والوں کو بھی چاہئے کہ فیصلہ کریں اس کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اس (انجیل) میں، اور جو فیصلہ نہ کرے اللہ کے نازل کردہ کے مطابق تو وہی فاسق ہیں
اور ہم نے نازل فرمائی ہے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب (قرآن) جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کا محافظ ہے، تو فیصلہ کیجئے ان کے درمیان اس کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے، اور نہ اتباع کیجئے ان کی خواہشات کی جب کہ آچکا آپ کے پاس حق، تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے مقرر کر دیئے ہیں ایک شریعت اور دستور، اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، اور لیکن وہ آزماتا ہے تمہیں اس میں جو اس نے تمہیں دیا ہے تو تم سبقت کرو خیر کے کاموں میں، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے ہو
اور آپ فیصلہ کیجئے ان کے درمیان اس کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشوں کی اتباع نہ کیجیئے اور ان سے ڈرتے رہئیے کہ کہیں یہ آپ کو فتنے میں نہ ڈال دیں بعض ان حکموں میں جو اللہ نے نازل کئے ہیں آپ کی طرف، تو اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو جاں لو کہ اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ انہیں مصیبت میں ڈالے ان کے بعض گناہوں کی کیوجہ سے اور بیشک اکثر لوگ نا فرمان ہی ہوتے ہیں
اے ایمان والو! تم نہ بناؤ یہودیوں اور نصاریٰ (یعنی عیسائیوں) کو اپنا دوست، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے تم میں سے تو بے شک وہ انہی میں سے ہو گا اور بیشک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو
آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے، وہ (منافقین) جلدی جلدی (دوستی) کر رہے ہیں ان (یہودیوں) سے کہتے ہیں ہمیں ڈر ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی مصیبت ہم پر آپڑے، ممکن ہے اللہ دے دے فتح (مکہ) یا اپنے پاس سے کوئی حکم لائے (یہودیوں کو مدینے سے نکلنے کا) پھر یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر نادم ہوں گے
اور کہیں گے ایمان والے (ان منافقین کے بارے میں قیامت میں) کیا یہی وہ لوگ ہیں جو قسمیں کھاتے تھے اللہ کی اپنی قسموں میں زور ڈال کر کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے اعمال ضائع ہو گئے اور یہ ہو گئے خسارے میں
اے ایمان والو! جو پھر جائے تم میں سے اپنے دین سے، تو اللہ جلد لائے گا ایسی قوم کو جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی (وہ لوگ) نرم ہوں گے مومنوں پر اور سخت ہوں گے کافروں پر، وہ جہاد کریں گے اللہ کے راستے میں، اور نہیں خوف کریں گے ملامت کر نیوالے کی ملامت کا یہ اللہ کا فضل ہے وہ عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے
اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنائے ہوئے ہیں (چاہے وہ) اہل کتاب ہوں تم سے پہلے کے، یا کفار ہوں، اور تم اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم مومن ہو
آپ کہہ دیجیئے اے اہل کتاب تم اسلئے انتقام لے رہے ہو ہم سے کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور جو کچھ ہماری جانب نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس سے پہلے (اس پر) اور بیشک تم میں اکثر فاسق ہیں
آپ کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ کہ اس سے زیادہ برا عذاب پانے والا اللہ کے نزدیک (کون ہے؟) وہ جس پر اللہ نے لعنت کی اور غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا، اور (جنہوں نے) عبادت کی شیطان کی یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہ بہت بھٹکے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے
اور (منافقین) جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور یقیناً وہ داخل ہوئے تھے کفر کے ساتھ ، اور اسی کفر کے ساتھ ہی نکلے اور اللہ خوب جانتا ہے جو یہ چھپا رہے ہیں
اور کہا یہودیوں نے کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں (بخل کی وجہ سے) انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، اور ان پر لعنت کی گئی ان کے اس کہنے کی وجہ سے، بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں وہ خرچ کرتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور یقیناً ان میں سے اکثر کو تو سرکشی اور کفر میں اور بڑھا دیتا ہے جو کچھ نازل کیا گیا ہے تیری طرف تیرے رب کی طرف سے، اور ہم نے ڈال دیئے ہیں ان میں آپس میں عداوت اور بغض قیامت تک کے لئے، وہ جب بھی بھڑ کانا چاہتے ہیں جنگ کی آگ کو، تو اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کیلئے، اور اللہ فسادیوں سے محبت نہیں کرتا
اور اگر یہ قائم رہتے تورات اور انجیل پر اور جو نازل فرمایا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے، تو یقیناً یہ (روزی) کھاتے اپنے اوپر سے (بارش کے ذریعے) اور اپنے پیروں کے نیچے سے (زمین کی پیداوار سے) ایک جماعت ان میں درمیانی حالت پر ہے، اور اکثر ان میں برے اعمال کرتے ہیں
اے رسول! پہونچا دیں جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے نہیں پہونچائی اس (اللہ) کی رسالت کو، اور اللہ بچا لے گا آپ کو لوگوں سے، بے شک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا
آپ کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں یہاں تک کہ تم قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے، تو یقیناً اور زیادہ کر دیتا ہے ان میں سے اکثر کو (یہ قرآن) جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے شرارت اور انکار میں ، تو آپ افسوس نہ کریں ان کافروں پر
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے اور جو صابی (یعنی ستارہ پرست) ہوئے اور جو عیسائی ہوئے (ان میں) جو بھی اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے، اور نیک عمل کرے، تو نہ ہو گا کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور (پھر) بھیجا ہم نے ان کی طرف رسولوں کو، جب بھی آیا ان کے پاس کوئی رسول (اللہ کا احکام لے کر) جن کو انہوں نے ناپسند کیا، تو بعض فریق کو انہوں نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کر دیا
اور انہوں نے گمان کیا کہ کوئی آزمائش نہ ہو گی، تو وہ اندھے، اور بہرے ہو گئے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر اندھے اور بہرے ہو گئے ان میں سے اکثر اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے ان اعمال کو جو وہ کر رہے ہیں
یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ بے شک اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے اور خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے، بے شک جو اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے تو یقیناً اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا
وہ لوگ بھی کافر ہو گئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، اور نہیں ہے کوئی معبود اس معبود کے سوا وہ اکیلا ہے، اور اگر یہ باز نہ آئے اس سے جو یہ کہہ رہے ہیں تو یقیناً پہونچے گا ان لوگوں کو جو ان میں سے کافر ہیں دردناک عذاب
مسیح ابن مریم سوا رسول کے اور کچھ نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ان کی والدہ سچی تھیں دونوں (ماں بیٹے) کھانا کھایا کرتے تھے، آپ دیکھیے کہ کس طرح ہم بیان کر رہے ہیں ان کے لیے آیتیں پھر دیکھئے وہ کہاں بہک رہے ہیں
کہہ دیجیئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو (یعنی زیادتی) نہ کرو اور پیروی نہ کرو ان لوگوں کی خواہشوں کی جو بہک چکے ہیں پہلے سے، اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں، اور گمراہ ہو گئے ہیں سیدھے راستے سے
آپ دیکھیں گے ان (یہودیوں) میں سے بہت سے لوگوں کو کہ وہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، جو کچھ انہوں نے اپنے لئے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت برا ہے کہ اللہ ناراض ہوا ان سے، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے
اور اگر یہ (یہودی) ایمان لاتے اللہ پر، اور نبی پر، اور جو نازل کیا گیا ہے ان کی طرف تو یہ ان (کفار) سے دوستی نہ کرتے، اور لیکن ان میں اکثر لوگ فاسق ہیں
یقیناً آپ پائیں گے لوگوں میں زیادہ عداوت (یعنی دشمنی) رکھنے والے ایمان والوں کیلئے یہودیوں اور مشرکوں کو، اور یقیناً آپ انہیں پائیں گے ایمان والوں سے سب سے زیادہ دوستی کے قریب جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں، یہ اس لئے کہ ان میں علماء اور زاہد (پرہیز گار) ہیں، اور اس وجہ سے کہ وہ تکبر نہیں کرتے
اور جب (یہ عیسائی قرآن) سنتے ہیں جو نازل کیا گیا ہے رسول کی طرف، تو آپ دیکھیں گے انکی آنکھیں بہہ پڑتی ہیں آنسو سے جیسا کہ انہوں نے پہچان لیا ہو حق کو، کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے ہیں تو لکھ لے ہم کو گواہوں کے ساتھ (کہ اللہ ایک ہے)
تو پہونچائے گا ان کو اللہ ان کے اس کہنے کی وجہ سے ایسی جنت میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (یہ عیسائی) ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے
نہیں مواخذہ کرتا تمہارا اللہ تمہاری لغو قسم (حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے کی قسم) پر اور لیکن مواخذہ کرتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کر دو (کہ حلال کو حرام سمجھ لو) اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا کھلانا ہے اوسط (یعنی درمیانی) درجے کا جو اپنے گھرانے کو کھلاتے ہو، یا ان کو پہناؤ (کپڑا) یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو نہ پائے (یہ چیز) تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جب تم قسم کھاؤ، اور حفاظت کرو اپنی قسموں کی (کفارہ ادا کر کے) اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں تاکہ تم شکر گزار بن سکو
اے ایمان والو! یقیناً شراب اور جوا اور تھان (یعنی مزاروں پر چڑھاو) اور تیر (نام نکالنے کیلئے استعمال کرنا) گندگی ہے، اور شیطانی کام ہے ان سے اجتناب کرو (یعنی بچو) تاکہ تم فلاح پاسکو
شیطان چاہتا ہے کہ واقع کرا دے تمہارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جوئے کے ذریعے سے، اور روک دے تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے، تو کیا تم رک جاؤ گے؟ (شیطان کیوجہ سے اللہ کے ذکر اور نماز سے)
نہیں ہے ایسے لوگوں پر گناہ جو کہ ایمان رکھتے ہوں اور نیک عمل کرتے ہوں اس چیز میں کوئی جس کو وہ کھاتے پیتے رہے (پہلے سے) جبکہ وہ لوگ تقویٰ رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک عمل کرتے ہوں پھر تقویٰ کرتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں پھر تقویٰ کرتے ہوں اور نیک عمل کرتے ہوں، اللہ ایسے نیکو کاروں سے محبت رکھتا ہے
اے ایمان والو! اللہ آزمائے گا تمہیں شکار کی چیزوں کے ذریعے، جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہونچ جائیں گے (حالت احرام میں شکار منع ہے) تاکہ اللہ معلوم کر لے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے تو جو شخص اس کے بعد حد سے نکلے گا اس کے لئے دردناک عذاب ہے
اے ایمان والو! شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو، اور جو شخص قتل کرے گا اسے تم میں سے جان بوجھ کر، تو اس پر اسی کے مثل (جانور واجب) ہو گا جو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو صاحب عدل شخص کریں، وہ جانور کعبہ تک پہونچایا جائے یا پھر کفارہ دے مساکین کو کھانا کھلا کر، یا اس کے برابر روزے رکھے، تاکہ اپنے کئے کا مزہ چکھے، پھر اللہ معاف کریگا جو اس نے کیا اور جو شخص دوبارہ (یہ حرکت) کرے گا، تو انتقام لے گا اللہ اس سے اور اللہ زبردست ہے انتقام لینے والا
حلال کیا گیا ہے تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے فائدے کے لئے ہے اور مسافروں کے لئے، اور حرام کیا گیا ہے تم پر خشکی کا شکار (پکڑنا) جب تک تم حالت احرام میں رہو، اور تم اللہ سے ڈرو جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے
اللہ نے بنایا ہے کعبہ کو بیت الحرام لوگوں کے قیام کیلئے، اور شہر حرام (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم) کو اور قربانی والے جانور کو بھی اور پٹے پہنائے (اللہ کیلئے نذر کئے ہوئے) جانوروں کو بھی، یہ اس لئے تاکہ تم جان لو بے شک اللہ جانتا ہے جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
آپ فرما دیجیئے کہ برابر نہیں ناپاک اور پاک، اور اگرچہ آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو (یعنی حلال و حرام، نیک و بد، مسلم و کافر) اللہ سے ڈرتے رہو اے عقلمندو! تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ
اے ایمان والو! مت سوال کرو ایسی چیزوں کے بارے میں کہ اگر ظاہر کر دی جائیں تم پر تو بری لگیں تمہیں (کسی نے پوچھا حج ہر سال فرض ہے؟) اور تم سوال کر رہے ہو اس کے بارے میں اس وقت جبکہ نازل کیا جا رہا ہے قرآن تو ظاہر کر دی جائیں گی تمہارے لئے، جبکہ اللہ نے اسے معاف کر رکھا ہے، اور اللہ بڑی مغفرت والا بڑے حلم والا ہے
نہیں بنایا اللہ نے بحیرہ، اور نہ سائبہ، اور نہ وصیلہ، اور نہ حام (یہ جانور بتوں کے نام چھوڑے جاتے تھے) اور لیکن کافر گھڑتے ہیں اللہ پر (اس طرح کا) جھوٹ، اور اکثر ان میں عقل نہیں رکھتے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ نے جو (احکام) نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف، تو کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے پایا اپنے آباء کو اگرچہ ان کے آباء (یعنی باپ دادا) نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں
اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو نہیں نقصان پہونچا سکتا تمہیں (یہ کافر) جو گمراہ ہے اگر تم ہدایت پر ہو، اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے پھر بتلا دے گا تم سب کو وہ (اللہ) جو عمل تم کیا کرتے ہو
اے ایمان والو! گواہ بنا لو آپس میں جبکہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو تو دو صاحب عدل شخص کو جو تمہارے اپنوں میں سے ہوں، اور دو (گواہ) غیروں میں سے ہوں، اگر تم کہیں سفر میں ہو زمین (یعنی ملک میں یا کسی جگہ میں ایسی جگہ میں) آجائے تمہیں موت کی مصیبت تو روک لو دونوں کو بعد نماز (عصر) کے پھر دونوں قسم کھائیں اللہ کی اگر تمہیں شک ہو، ہم نہیں سودا کرتے (یعنی نہیں چاہتے اس (قسم) کے بدلے کوئی فائدہ) اگر چہ کوئی قرابت دار ہی ہو (گواہ) اور ہم نہیں چھپارہے ہیں اللہ کیلئے گواہی کو، ہم اس حالت میں سخت گناہگار ہوں گے
پھر اگر یہ ظاہر ہو کہ وہ دونوں (پہلے گواہ) کسی گناہ کے مستحق ہوئے ہیں، تو بعد کے دو (گواہ) کھڑے ہوں ان پہلے دو کی جگہ، جنہیں حق ہے اپنے دو پہلے گواہوں پر تو وہ دونوں (بعد والے) قسم کھائیں اللہ کی کہ ہماری گواہی زیادہ حقدار ہے (سچائی میں) ان دو پہلے گواہ کے بنسبت اور ہم نے زیادتی نہیں کی، ورنہ ہم ظالموں میں سے ہوں گے
یہ طریقہ بہتر ہے کہ وہ پیش کریں گے گواہی ٹھیک طور پر یا (اس بات سے) ڈریں گے کہ ان دو پہلوں کی قسمیں بعد والے دو کی قسموں سے رد ہو جائیں گی، اور ڈرو اللہ سے اور سنو، اور اللہ ہدایت نہیں دیتا فاسقوں کو
جب اللہ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم یاد کرو میری وہ نعمت جو تم پر ہے اور تمہاری والدہ پر ہے، جب میں نے تائید کی تمہاری روح القدس (جبریل) کے ذریعے تم کلام کرتے تھے لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں بھی (کرو گے) اور جب کہ میں نے تعلیم دی تم کو کتاب اور حکمت (کی باتوں) کی اور تورات اور انجیل کی، اور جب کہ تم بناتے تھے مٹی سے پرندے کی شکل میرے حکم سے (بطور معجزہ) پھر تم پھونک مارتے تھے اس میں، تو وہ پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے، اور تم اچھا کر دیتے تھے پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے، اور جب تم نکالتے تھے مردوں کو میرے حکم سے، اور جب کہ میں نے روکا بنی اسرائیل کو تم سے جب تم آئے تھے ان کے پاس دلیلیں لے کر، پھر کہا کافروں نے ان میں سے کہ یہ کھلا جادو ہے
اور جب میں نے حواریین (یعنی عیسیٰ کے شاگرد) کو حکم دیا کہ تم ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول (عیسیٰ) پر انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور آپ گواہ رہیئے کہ ہم فرماں بردار ہیں
جب کہا حواریوں نے کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان (یعنی دستر خوان) نازل فرما دے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو
انہوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دلوں کو اطمینان ہو جائے، اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا، اور ہم ہو جائیں اس پر گواہی دینے والوں میں سے
کہا عیسیٰ ابن مریم نے (یعنی دعا کی) کہ اے اللہ اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر ایک دستر خوان آسمان سے، کہ وہ ہو جائے ہمارے لئے ہمارے اول اور آخر کیلئے عید (خوشی کی بات) اور تیری طرف سے ایک نشانی، اور تو ہم کو رزق عطا فرما اور تو بہتر رزق دینے والا ہے
اللہ نے فرمایا میں نازل کرنے والا ہوں وہ (کھانا) تم لوگوں پر، پھر جو کفر کرے گا تم میں سے اسکے بعد تو میں اسکو ایسی سزا دوں گا کہ نہ دوں گا وہ سزا میں کسی کو جہان والوں میں
جب اللہ فرمائے گا (قیامت کے دن) کہ اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے کہا تھا لوگوں سے کہ بناؤ مجھے اور میری ماں کو دو معبود اللہ کے علاوہ؟ کہے گا عیسیٰ کہ پاک ہے تیری ذات، میرے لئے ممکن نہ تھا کہ میں ایسی بات کہوں جس (کے کہنے) کا مجھ کو حق نہیں، اگر میں نے کہا ہو گا تو تجھ کو اس کا علم ہو گا، تو جانتا ہے میرے دل کی بات اور میں نہیں جانتا جو کچھ تیرے اندر ہے (اس کو) بیشک تو ہی غیب کو خوب جاننے والا ہے
میں نے تو ان سے وہی کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا، کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں رہا (دنیا میں) پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا (تو) تو ہی ان پر نگہبان رہا اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے
فرمائے گا اللہ (قیامت کے دن) کہ یہ وہ دن ہے کہ نفع دے گی سچوں کو ان کی سچائی، ان کیلئے جنت ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان (جنتیوں) سے راضی ہو گا اور یہ (جنتی) اللہ سے راضی ہوں گے، یہی بڑی کامیابی ہے