کہا ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہ ہم ضرور تم کو نکال دیں گے اے شعیب! اور جو ایمان والے ہیں تمہارے ساتھ ان کو بھی اپنی بستی سے، یا تو تم ہماری ملت میں لوٹ آؤ (شعیب نے) جواب دیا کہ اگر چہ ہم اسے ناپسند کرتے ہو؟
سورۃ 7
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یقیناً ہم افتراء کریں گے اللہ پر جھوٹ اگر ہم لوٹ جائیں تمہارے دین میں، اس کے بعد کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دے دی ہے، اور ہم سے ممکن نہیں کہ ہم لوٹ جائیں اس (مذہب) میں مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے جو ہمارا رب ہے، اور وسیع ہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں، اے ہمارے رب! فیصلہ کر دے ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے مطابق، اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
اور کہا ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہ اگر تم اتباع کرو گے شعیب کی تو بیشک تم خسارہ اٹھاؤ گے
تو پکڑا انہیں زلزلے نے (زلزلے کی شروعات فرشتوں کی بھیانک چیخ سے ہوئی) تو وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے
جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ان کی یہ حالت ہو گئی گویا وہ ان (گھروں) میں تھے ہی نہیں جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو وہ خسارے میں پڑ گئے
تو منہ پھیر لیا ان سے (شعیب نے) اور فرمایا کہ اے میری قوم! میں نے پہونچا دی تم کو رسالت اپنے رب کی، اور میں نے خیر خواہی کی تمہاری (عذاب میں تم خود پڑ گئے) تو پھر کیسا افسوس اس کافر قوم پر
اور جب بھی ہم نے بھیجا کسی بستی میں کوئی نبی تو ہم نے پکڑا وہاں کے رہنے والوں کو تنگی اور تکلیف میں، تاکہ وہ گڑگڑائیں (اللہ کے سامنے اور رجوع کریں)
پھر ہم نے بدل دی بدحالی کی جگہ خوش حالی سے، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی، اور کہنے لگے کہ (ہم سے پہلے بھی) پہونچی تھی ہمارے آباء واجداد کو تنگی اور تکلیف، تو پکڑا ہم نے انہیں اچانک اور وہ سمجھ بھی نہ سکے
اور اگر یہ بستی (مدین) والے ایمان لے آتے (جو آج اردن میں ہے) اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم کھول دیتے ان پر برکتیں آسمان اور زمین کی، اور لیکن انہوں نے جھٹلایا (شعیب علیہ السلام کو) تو ہم نے پکڑا انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے
کیا بے خوف ہو گئے ان بستیوں کے رہنے والے کہ آجائے ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت جب وہ سو رہے ہوں
اور کیا بے خوف ہو گئے ان بستیوں کے رہنے والے کہ آجائے ان پر ہمارا عذاب دن کے وقت، جب وہ کھیل رہے ہوں
کیا بے خوف ہو گئے اللہ کی تدبیر سے تو اللہ کی تدبیر سے بے خوف خسارہ پانے والے ہی ہوتے ہیں
اور کیا یہ (مشرکین مکہ) راہ نہیں پائے (یعنی سبق نہیں لے پائے) جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں (کی ہلاکت) کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو مصیبت میں ڈال دیں انہیں بھی ان کے گناہوں کیوجہ سے، اور ہم مہر لگا دیں ان کے دلوں پر تو وہ سن نہ سکیں
ان بستیوں کے قصے ہم بیان کر رہے ہیں آپ سے اور یقیناً آئے تھے ان سب کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر تو وہ ایمان نہ لائے اور پہلے کی طرح جھٹلاتے رہے، اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ کافروں کے دلوں پر
اور نہ پایا ہم نے اکثر لوگوں میں وفائے عہد اور ہم نے پایا ان میں اکثر لوگوں کو فاسق
پھر ہم نے بھیجا ان (نبیوں) کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو انہوں نے ظلم کیا ان (نشانیوں) کے ساتھ، تو دیکھو کیسا ہوا انجام ان مفسدوں کا
اور موسیٰ نے فرمایا کہ اے فرعون! بیشک میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں
حقیقی بات یہ ہے کہ میں اللہ کے بارے میں وہی کہوں گا جو برحق (یعنی سچ) ہے، میں لے کے آیا ہوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل، تو تو بھیج دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو (یعنی غلامی سے آزاد کر)
(فرعون نے) کہا، اگر تم کوئی معجزہ لائے ہو تو پیش کرو اسے! اگر تم سچے ہو
تو ڈال دیا انہوں نے اپنا عصا، تو وہ صاف اژدھا بن گیا
اور کھینچ اپنا ہاتھ (گردن کے نیچے سے) تو وہ چمکتا ہوا ہو گیا دیکھنے والوں کے لئے
کہا سرداروں نے فرعون کی قوم کے کہ یہ (موسیٰ علیہ السلام) ماہر جادوگر ہے
یہ چاہتا ہے کہ نکال دے تم کو تمہاری زمین (مصر) سے تو تم کیا مشورہ دیتے ہو
انہوں نے کہا کہ آپ مہلت دیجیئے ان کو اور ان کے بھائی کو، اور شہروں میں بلانے والوں کو بھیج دیجیئے
کہ وہ لے کے آئیں آپ کے پاس تمام جانکار جادوگر
اور آگئے جادوگر فرعون کے پاس، کہنے لگے کہ ہمارے لئے کوئی اجر ہے اگر ہم غالب آئیں
(فرعون نے) کہا کہ ہاں اور تم مقربین میں ہو جاؤ گے
(ان جادوگروں نے) کہا کہ اے موسیٰ! آپ ڈالیئے (جو آپ کو ڈالنا ہے) اور یا ہم ڈالیں
(موسیٰ نے) کہا کہ تم ہی ڈالو، تو جب انہوں نے ڈالا تو سحر کر دیا لوگوں کی آنکھوں پر (یعنی نظر بندی کر دی) اور ان پر ہیبت طاری کر دی، اور بڑا جادو پیش کیا
اور ہم نے وحی کی موسیٰ کو کہ ڈال دیجیئے اپنا عصا! تو جب ہی وہ نگلنا شروع کر دیا جو انہوں نے بنایا تھا
تو واقع ہو گیا حق اور باطل ہو گئے وہ سب جو عمل انہوں نے کئے تھے
تو وہ مغلوب ہو گئے وہاں اور پلٹے ذلیل ہو کر
اور گر گئے جادوگر سجدے میں
کہنے لگے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں رب العالمین پر
جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا
فرعون کہنے لگا کہ تم موسیٰ پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں بے شک یہ مکر ہے جو تم نے کیا ہے شہر میں، تاکہ تم نکال دو اس (شہر) سے یہاں کے رہنے والوں کو، تو اب تم جلد ہی جان لو گے
میں کاٹ دوں گا تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں، پھر تم سب کو سولی دوں گا
انہوں نے کہا کہ بیشک ہم (مر کر) اپنے رب ہی کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں
اور تو ہم سے اسلئے انتقام لے رہا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اپنے رب کی آیات پر، جب کہ وہ آگئی ہیں ہمارے پاس اے ہمارے رب! ڈال دے ہمارے اوپر صبر، اور وفات دے ہمیں مسلمان بنا کر
اور کہا سرداروں نے فرعون کی قوم کے، کہ کیا تم چھوڑ دو گے موسیٰ اور ان کی قوم کو، کہ وہ فساد کرتے پھریں ملک میں، اور وہ چھوڑے رہیں تم کو اور تمہارے معبودوں کو (فرعون نے) کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیں گے، اور بیشک ہم ان پر زور رکھتے ہیں
کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد حاصل کرو اللہ سے اور صبر کرو، بیشک یہ زمین اللہ کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جس کو وہ چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، اور بہتر انجام متقیوں کا ہے
(قوم کے لوگ) کہنے لگے کہ ہم کو اذیت دی گئی آپ سے قبل بھی اور آپ کے ہمارے پاس آنے کے بعد بھی (موسیٰ نے) کہا کہ ممکن ہے تمہارا رب ہلاک کر دے تمہارے دشمنوں کو، اور وہ خلیفہ بنا دے تم کو اس زمین کا پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیا عمل کرتے ہو
اور ہم نے پکڑا فرعون والوں کو قحط سالی (یعنی بھکمری) میں، اور پھلوں کی پیداوار میں کمی کرکے، تاکہ وہ نصیحت قبول کریں
تو جب آتی ان پر خوشحالی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہی، اور اگر آتی ان کو بدحالی (تو) منحوس بتلاتے موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو، خبردار! ان کی نحوست اللہ کی طرف سے ہے، اور لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں
اور کہتے کیسی ہی نشانی ہمارے سامنے لے آؤ کہ اس کے ذریعے سے تم جادو کرو ہم پر، تو جب بھی ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے
پھر ہم نے بھیجا ان پر طوفان اور ٹڈیاں (یعنی کیڑے) اور کھٹمل اور مینڈک اور خون کہ یہ سب کھلے معجزے تھے، تو وہ تکبر کرتے رہے، اور وہ مجرم لوگ تھے
اور جب واقع ہوتا ان پر کوئی عذاب تو کہتے کہ اے موسیٰ! دعا کیجیئے ہمارے لیے اپنے رب سے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ ہٹا دیں ہم سے اس عذاب کو تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے، اور ہم ضرور بھیج دیں گے آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو
پھر جب ہم دور کر دیتے ان سے اس عذاب کو ایک وقت تک کہ جو (عذاب) ان کو پہونچنا تھا، تو وہ عہد توڑ دیتے
پھر ہم نے انتقام لیا ان سے (اس طرح کہ) ہم نے غرق کر دیا انہیں دریا میں، اس وجہ سے کہ وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، اور وہ ان سے غافل تھے
اور ہم نے وارث بنایا ان لوگوں کو جو کمزور تھے زمین کے پورب سے لے کر پچھم (مصر سے شام تک) کا، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، اور پورا ہوا آپ کے رب کا بہتر وعدہ بنی اسرائیل پر ان کے صبر کی وجہ سے، اور ہم نے برباد کر دیا جو بنا رکھے تھے (کارخانے) فرعون اور اس کی قوم نے اور جو وہ اونچے محل بنوائے تھے
اور ہم نے پار کرایا بنی اسرائیل کو دریا، تو وہ آئے (یعنی گزرے) ایک قوم پر سے جن کے لوگ جھکے بیٹھے تھے اپنے بتوں پر، کہنے لگے اے موسیٰ! بنا دیجیئے ہمارے لیے بھی ایک معبود! جیسے ان کے معبود ہیں آپ نے فرمایا بیشک تم لوگ جاہل ہو
بے شک یہ تباہ ہوں گے اور جس کام میں یہ ہیں وہ بھی، اور باطل ہے یہ کام جو یہ کر رہے ہیں
فرمایا کیا اللہ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تلاشوں اور اس نے فضیلت دی ہے تم کو تمام جہان والوں پر
اور جب ہم نے نجات دی تم کو فرعون والوں سے جو تم کو بری تکلیفیں دیتے تھے قتل کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو، اور زندہ چھوڑ دیتے تھے تمہاری عورتوں کو، اور اس میں بڑی آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے
اور ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے تیس راتوں کا، اور تمام کیا اسے دس (رات مزید) سے تو تمام ہوئی اس کے رب کی ملاقات چالیس راتوں میں، اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری خلافت کرنا میری قوم میں، اور اصلاح کرتے رہنا، اور اتباع مت کرنا مفسدین کے راستے کی
اور جب آئے موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر، اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا کہا اے میرے رب! دکھا مجھے میں دیکھنا چاہتا ہوں تجھ کو، کہا تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے، اور لیکن تم دیکھو اس پہاڑ کی طرف، اگر وہ برقرار رہا اپنی جگہ پر تو تم مجھے دیکھ لو گے، تو جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے، پھر جب افاقہ ہوا (ہوش میں آئے تو) کہا تیری ذات پاک ہے میں توبہ کرتا ہوں اور میں اول مؤمن ہوں
کہا اے موسیٰ! میں نے چن لیا ہے تم کو لوگوں پر اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لئے، تو لے لو جو کچھ میں عطا کروں تم کو اور ہو جاؤ شاکرین میں سے
اور ہم نے لکھ کر دی انہیں (تورات کی) تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، تو تم پکڑ لو ان کو پوری قوت سے (یعنی عمل کرو) اور تم حکم کرو اپنی قوم کو کہ وہ بھی پکڑیں اسے اچھی طرح، جلد تم کو دکھاؤں گا فاسقوں کا گھر (ملک شام میں عمالقہ قوم کا)
پھر میں انہیں پھیر دوں گا اپنی آیتوں سے جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق، اور اگر یہ (بنی اسرائیل) دیکھ لیں ساری نشانیاں بھی تو بھی ایمان نہیں لائیں گے ان پر، اور اگر وہ دیکھیں ہدایت کا راستہ تو اسے وہ نہیں بنائیں گے راستہ، اور وہ دیکھیں گمراہی کا راستہ تو اسے وہ بنالیں گے اپنا راستہ، یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور وہ ان سے غافل ہیں
اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو ان کے اعمال ضائع ہو گئے، انہیں وہی سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے
اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے (طور پہاڑ پر جانے کے) بعد اپنے زیوروں سے بچھڑا، جس کا ایک جسم تھا اور وہ ڈکارتا تھا (بیل کی آواز کی طرح) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں ہدایت دیتا ہے کسی راستے کی، اسے معبود بنا لیا (ان بنی اسرائیلیوں نے) اور وہ ہو گئے ظالم
اور جب نادم ہوئے اور سمجھ لیا کہ بے شک وہ گمراہ ہو گئے ہیں، تو کہنے لگے اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہماری مغفرت نہ کی، تو بے شک ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے
اور جب لوٹے موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ اور افسوس (کی حالت) میں، تو کہا کیا ہی بری خلافت کی تو نے میری میرے بعد (اے ہارون!) کیا تم نے جلدی کی اپنے رب کے حکم میں، اور ڈال دیں (موسیٰ نے ایک طرف) تختیاں، اور اپنے بھائی کا سر پکڑا اسے اپنی طرف کھینچنے لگا، اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے (اے میرے بھائی) یقیناً قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ وہ لوگ مجھے قتل کر دیتے، تو مت برا کہو مجھ کو دشمنوں کے سامنے، اور مجھے نہ بناؤ (یعنی میرا شمار نہ کرو) ظالموں کے ساتھ
کہا اے میرے رب! مغفرت فرما میری اور میرے بھائی کی، اور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں، اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والوں میں ہے
بے شک جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا، عنقریب وہ پائیں گے غضب اپنے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں، اور اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں افتراء کرنے والوں کو
اور جنہوں نے برے کام کیے پھر توبہ کی اس کے بعد اور ایمان لے آئے، تو بے شک تیرا رب اس (توبہ) کے بعد بخشنے والا مہربان ہے
اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیا تختیوں کو، اور ان تختیوں میں ہدایت اور رحمت تھیں ان لوگوں کیلئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں
اور چن لیا موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مردوں کو ہمارے وعدے (پر لانے) کے لیے پھر جب پکڑا انہیں زلزلے نے، تو کہا اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو ہلاک کر دیتا انہیں اس سے پہلے اور مجھے بھی، کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو ہم میں سے بے وقوفوں نے کیا ہے؟ یہ تیری آزمائش ہے تو گمراہ کرتا ہے اسکے ذریعے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے تو مغفرت فرما ہماری اور رحم فرما ہم پر، اور تو بہتر مغفرت فرمانیوالا ہے
اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی، بیشک ہم رجوع کرتے ہیں تیری طرف فرمایا میں اپنا عذاب پہونچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں، اور میری رحمت سب چیزوں سے وسیع ہے، تو جلد ہی میں لکھوں گا ان کے لیے (رحمت) جو ڈرتے ہیں (اپنے رب سے) اور جو زکوٰۃ دیتے ہیں، اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں
وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول نبی اُمّی کی (صلی اللہ علیہ وسلم) جسے وہ پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ ان کو حکم کرتا ہے نیکی کا اور روکتا ہے برے کام سے، اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں، اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں، اور اتارتا ہے ان پر سے ان کا بوجھ (شرک وبدعات کا) اور وہ قید وبند جو ان پر تھے، تو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت کی اور اس کی مدد کی اور اتباع کی اس نور (یعنی قرآن) کی جو نازل کیا گیا ان کے ساتھ، یہی لوگ نجات پانے والے ہیں
کہہ دو اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور وہی موت دیتا ہے، تو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر، جو (خود) ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات پر، اور تم اتباع کرو اس کی تاکہ تم ہدایت پاسکو
اور موسیٰ کی قوم میں سے بعض گروہ ہیں جو حق کی راہ بتاتے ہیں اور اسی کے مطابق انصاف کرتے ہیں
اور ہم نے کاٹ (یعنی بانٹ) دئے انہیں بارہ جماعتوں میں، اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کی طرف جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا، کہ مارو اپنی لاٹھی پتھر پر، تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے یقیناً جان لیا تمام لوگوں نے اپنے پینے کی جگہ کو، اور ہم نے سایہ کیا ان پر بادلوں کا، اور ہم نے نازل کیا ان پر من اور سلویٰ کھاؤ پاک چیزیں جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے، اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے اوپر ہی ظلم کرتے تھے
اور جب کہا گیا انہیں کہ تم ٹھہرو اس بستی (بیت المقدس) میں، اور کھاؤ جہاں سے تم چاہو اور کہو توبہ توبہ، اور داخل ہو دروازہ میں جھک کر، تو ہم مغفرت کر دیں گے تمہاری خطائیں، اور عنقریب ہم زیادہ اجر دیں گے محسنین کو
تو بدل دی ان ظالموں نے بات کو دوسری بات سے، جو ان سے کہی گئی تھی، پھر ہم نے نازل کیا ان پر آسمان سے عذاب اس لیے کہ وہ ظلم کیا کرتے تھے
اور پوچھو ان سے اس بستی (مدین، یا ایلہ) کا حال جو دریا کے کنارے تھی، جب وہ حد سے بڑھ جاتے تھے سنیچر (یعنی ہفتے) کے دن، جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں سنیچر کے دن پانی کے اوپری حصے پر، اور جس دن سنیچر نہ ہوتا تو نہ آتیں ان کے پاس اسی طرح ہم نے انہیں آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ ان (یہودیوں) کو کیوں نصیحت کرتے ہو (اس یہودی) قوم کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے، یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے، انہوں نے کہا تمہارے رب کے سامنے عذر پیش کرنے کے لیے اور شاید کہ یہ ڈرجائیں
پھر جب وہ بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے نجات دی (انہیں) جو منع کرتے تھے برے کام سے اور ہم نے پکڑا ظالموں کو مایوس کن عذاب میں ان کی نافرمانی کیوجہ سے
پھر جب وہ (اس کام میں) حد سے آگے بڑھ گئے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، تو ہم نے کہا ان سے ہو جاؤ ذلیل بندر
اور جب تیرے رب نے حکم دیا کہ ضرور اللہ بھیجتا رہے گا ان (یہودیوں) پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو انہیں برا عذاب دیتا رہے، بے شک تیرا رب جلدی عذاب دینے والا ہے، اور بے شک وہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے
اور ہم نے بانٹ دیا ان (یہودیوں) کو زمین میں، بعض ان میں نیک ہیں اور بعض اس کے علاوہ ہیں (برے) اور ہم نے انہیں آزمایا بھلائیوں اور برائیوں سے تاکہ وہ رجوع کریں (اللہ سے)
پھر خلیفہ بنے ان کے بعد ناخلف (یعنی نالائق) لوگ وارث بن گئے کتاب (تورات اور انجیل) کے، لینے لگے اس ادنیٰ زندگی کا مال ومتاع اور وہ کہتے ہماری مغفرت کر دی جائے گی اور اگر ان کے سامنے اب بھی آئے ایسا ہی (مال تو) وہ اسے لے لیں گے، کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا تھا کہ (کچھ) نہ کہیں اللہ پر سچ کے سوا اور انہوں نے پڑھا ہے جو اس (تورات اور انجیل) میں ہے، اور آخرت کا گھر بہتر ہے متقیوں کے لیے تو کیا تم سمجھتے نہیں
اور جن لوگوں نے مضبوطی سے پکڑا کتاب کو، اور قائم کرتے رہے نماز، بے شک ہم ضائع نہیں کریں گے مصلحین (یعنی اپنے کو سدھار نیوالوں) کے اجر کو
اور جب ہم نے لٹکایا ان پر پہاڑ کو گویا کہ وہ سائبان (یعنی چھت) ہو، اور انہیں گمان ہوا کہ وہ ان پہ واقع ہونے والا ہے (ہم نے کہا) لے لو جو ہم نے عطا کیا ہے تمہیں قوت کے ساتھ اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم متقی بن سکو
اور جب نکالا تیرے رب نے آدم کی اولاد کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور گواہی لی ان سے خود ان پر، کیا میں تمہارا رب نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں، ہم گواہی دیتے ہیں (کہ آپ ہمارے رب ہیں) کہیں تم کہنے لگو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے
یا کہنے لگو کہ شرک کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے، اور ہم ان کی اولاد ہیں ان کے بعد، تو کیا تو ہمیں اس لیے ہلاک کرتا ہے جو کیا باطل لوگوں نے
اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتیں تاکہ وہ رجوع کریں
اور انہیں پڑھ کے سناؤ اس (بلعم باعوراء) کا حال جسے ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں، پھر وہ نکل گیا اس سے پھر پیچھے لگا اس کے شیطان، تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا
اور اگر ہم چاہتے تو بلند کرتے اسے ان (آیتوں کی برکت) سے لیکن اس نے سمجھا کہ ہمیشہ رہنا ہے دنیا میں، اور اس نے اتباع کی اپنی خواہش کی، اس (بلعم باعوراء) کی مثال کتے کی طرح ہے، اگر تم بوجھ لادو اس پر تو بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دوا سے تو بھی ہانپے یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، تو بیان کر دو (اے نبی کافروں کے سامنے یہ) قصے شاید کہ یہ غور وفکر کریں
بری مثال ہے ان (کافروں) کی جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، اور وہ اپنے اوپر ہی ظلم کر رہے ہیں
جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پر ہے، اور جسے گمراہ کر دے تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں
اور یقیناً ہم نے پیدا کیے ہیں جہنم کے لیے بہت سے جن اور انسان کو، ان کے دل ہیں پر ان سے سمجھتے نہیں، اور آنکھیں ہیں پر ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں، وہ ایسے ہیں جیسے جانور بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں، یہی لوگ غافل ہیں
اور اللہ ہی کے لیے ہیں سب اچھے نام، تو پکارو اسے ان ناموں سے، اور چھوڑ دو ان کو جو کجی (اور کمی) نکالتے ہیں اس کے ناموں میں عنقریب انہیں بدلہ دیا جائے گا اس عمل کا جو وہ کیا کرتے ہیں
اور جو مخلوق ہم نے پیدا کیں ان میں سے (امت محمدیہ) ایک ایسی جماعت ہے جو سچی راہ بتاتی ہے اور اسی کے (مطابق) وہ لوگ انصاف کرتے ہیں
اور (یہ کفار) جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو ہم انہیں آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں سے وہ جان بھی نہ پائیں گے
اور میں انہیں مہلت دے رہا ہوں، بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے
کیا انہوں نے غور نہیں کیا ہے کہ نہیں ہیں ان کے ساتھی (نبی) مجنوں وہ تو صرف کھلا ڈرانے والا ہے
اور کیا (ان کفار نے) نہیں دیکھا آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کو اور (دوسری چیزوں کو) جو اللہ نے پیدا کی ہیں، اور ممکن ہے ان کا وقت (یعنی موت) قریب ہو، پھر (یہ کفار، اس قرآن کے بعد) کس بات پر اس کے بعد ایمان لائیں گے
جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، اور انہیں (اللہ) چھوڑ دیتا ہے ان کی شرارت میں بھٹکنے کے لئے
(کفار) پوچھتے ہیں تجھ سے قیامت کے بارے میں کہ کب وہ واقع ہوگی؟ کہہ دو اس کا علم میرے رب کے پاس ہے وہی ظاہر کرے گا اسے اس کے وقت پر، بھاری بات ہوگی آسمانوں اور زمین میں (جب قیامت واقع ہوگی) وہ تم پر اچانک آجائے گی وہ تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا کہ تمہیں تحقیق ہو اس کی، کہہ دو اس کا علم اللہ کے پاس ہے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
(اے نبی صلی) کہہ دو میں مالک نہیں خود اپنے لئے کسی نفع کا اور نہ ہی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے، اور اگر میں جانتا غیب کی بات کو تو حاصل کر لیتا اپنے لئے بہت سی خیر، اور مجھے نہیں پہونچتی کوئی تکلیف، میں تو صرف ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں
وہ وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے اور اسی سے اس کا جوڑ بنایا، تاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے پھر جب ڈھانک لیا (میاں بیوی سے ملے) تو اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، پھر اسے لیے پھرتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی (میاں بیوی نے) دعاء کی اللہ سے جو ان دونوں کا رب ہے کہ اگر تو نے عطا کی ہمیں صالح اولاد تو ہم ضرور ہو جائیں گے شکر گزاروں میں سے
پھر جب اللہ نے عطا کی ان دونوں کو صالح اولاد تو دونوں نے بنا لیا اس کیلئے شریک اس میں جو (اولاد اللہ نے) ان دونوں کو عطا کی تو اعلیٰ ہے اللہ (یعنی اللہ پاک ہے) اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں
کیا شریک بناتے ہیں (ایسوں کو) جو کچھ بھی نہیں پیدا کر سکتے اور وہ خود پیدا کئے گئے ہیں
اور وہ نہیں طاقت رکھتے ان کی مدد کی، اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں
اور (اے نبی صلی) اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو تمہاری اتباع نہیں کریں گے، برابر ہے ان کے لئے کہ تم انہیں پکارو یا خاموش رہو
بے شک جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے سوا (اے کفار اور مشرکین) وہ تمہاری طرح بندے ہیں، پھر جب تم پکارتے ہو انہیں تو انہیں جواب دینا چاہیے تمہیں اگر تم سچے ہو (کہ یہ معبود ہیں?)
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں، یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہوں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں، کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو پکارو پھر میرے خلاف تدبیر کرو، اور مجھے مہلت بھی نہ دو
بیشک میرا دوست اللہ ہے جس نے کتاب نازل فرمائی، اور وہ دوست رکھتا ہے صالحین کو
اور جنہیں تم پکارتے ہو اس (اللہ) کے سوا وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہی خود اپنی مدد کر سکتے ہیں
اور اگر تم انہیں (یعنی کفار کو) ہدایت کی طرف پکارو تو وہ نہیں سنیں گے، اور تو دیکھتا (یعنی سمجھتا) ہے کہ وہ تیری طرف دیکھتے ہیں، حالانکہ وہ کچھ نہیں دیکھتے
معاف کر دو اور حکم دو نیکی کا اور اعراض کرو (یعنی بچتے رہو) جاہلوں سے
اور اگر تجھے کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے کسی بھی طرح کا وسوسہ تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو، بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے
بے شک وہ لوگ جو متقی ہیں جب انہیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آتا ہے تو وہ یاد کر لیتے ہیں (اللہ کو) پھر اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں (کہ یہ شیطانی چال ہے)
اور جو ان (شیاطین) کے بھائی ہیں وہ انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر وہ اس میں کمی نہیں کرتے
اور جب تو نہیں لاتا ان کے پاس کوئی آیت (یعنی معجزہ) تو کہتے ہیں کہ تو فلاں معجزہ کیوں نہیں لایا؟ کہہ دو میں اس کی اتباع کرتا ہوں جو وحی کی جاتی ہے مجھ پر میرے رب کی طرف سے، یہ دلیلیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے
اور جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اسے اور چپ رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور یاد کرو اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے بغیر چیخے چلائے صبح اور شام (یعنی ہمیشہ اللہ کو یاد کرو) اور نہ ہو جاؤ غافلوں میں سے
بے شک جو تیرے رب کے پاس (فرشتے) ہیں وہ تکبر نہیں کرتے اس کی عبادت سے اور وہ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں
سورۃ 8
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(تمہارے ساتھی) سوال کرتے ہیں تجھ سے مال غنیمت کے بارے میں، کہہ دو غنیمت کا مال اللہ اور رسول کا ہے، تم ڈرو اللہ سے اور صلح کرو آپس میں، اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اگر تم مؤمن ہو
بیشک ایمان والے وہی ہیں کہ (ان کے سامنے) جب ذکر کیا جائے اللہ کے نام کا تو ڈر جاتے ہیں ان کے دل، اور جب تلاوت کی جائیں ان پر اس کی آیتیں (تو) زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں
(یہی ہیں) جو قائم کرتے ہیں نماز اور جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے (اس میں سے) خرچ کرتے ہیں
یہی ہیں حقیقت میں مؤمن، ان کے درجے ہیں ان کے رب کے پاس (جنت) اور مغفرت اور رزق کریم (یعنی عزت والا رزق) ہے
جیسا کہ نکالا تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ (جنگ بدر کیلئے) اور بیشک مؤمنوں کے بعض گروہ ناپسند کر رہے تھے (کم تعداد کیوجہ سے)
(بعض صحابہ) جھگڑ رہے تھے تجھ سے حق کے بارے میں اسکے بیان ہونے کے بعد، گویا وہ ہانکے جا رہے ہوں موت کی طرف اور وہ (موت کو) دیکھ رہے ہوں
اور جب وعدہ کر رہا تھا تم سے اللہ کہ دو جماعتوں میں سے ایک (کفار کا تجارتی قافلہ یا لشکر) تمہارا ہے، اور تم چاہتے تھے کہ بغیر کانٹے (یعنی بغیر پریشانی) کے ہو جائے تمہارے لئے، اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو حق ثابت کرے اپنے کلمے کے ذریعے اور کاٹ دے کافروں کی جڑ
تا کہ حق حق ہو جائے اور باطل باطل ہو جائے اور اگرچہ ناپسند ہو مجرموں کو
جب تم مدد طلب کر رہے تھے (جنگ بدر میں) اپنے رب سے تو اس نے جواب دیا تمہیں کہ میں مدد کروں گا تمہاری ایک ہزار فرشتے کے ذریعے لگاتار اور بنادی اسے اللہ نے خوشخبری
اور تاکہ مطمئن ہو جائیں اس کے ذریعے تمہارے دل، اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے
جب ڈھانک لیا تمہیں اونگھ نے امن کیلئے اس (اللہ) کی طرف سے، اور نازل کیا تم پر آسمان سے پانی (جنگ بدر میں) تاکہ پاک کر دے تمہیں اس کے ذریعے، اور دور کر دے تم سے شیطان کی گندگی (یعنی شیطانی وسوسے) اور جوڑے رکھے تمہارے دلوں کو، اور ثابت رکھے اس کے ذریعے تمہارے قدموں کو
جب حکم بھیجا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں تو (اے فرشتو!) تم ثابت قدم رکھو ایمان والوں کو عنقریب میں ڈال دوں گا کافروں کے دلوں میں رعب (جنگ بدر میں) تو تم مارو ان کی گردنوں پر اور مارو ان کے تمام پوروں (یعنی جوڑوں) پر
یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے (یعنی ان کفار نے) مخالفت کی اللہ اور اسکے رسول کی، اور جو مخالفت کرے گا اللہ اور اسکے رسول کی تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
یہ اسلئے کہ تم چکھو اس (عذاب) کا مزہ اور بیشک کافروں کیلئے آگ کا عذاب ہے
اے ایمان والو! جب تم ملو (یعنی بھڑ و جنگ میں) کافروں سے تو پیٹھ نہ پھیرو ان سے
اور جو پیٹھ پھیرے گا ان سے اس دن مگر یہ کہ جنگی پینترے کیلئے ہو یا اپنی جماعت سے ملنے کیلئے ہو (ورنہ) وہ مستحق ہو گا اللہ کے غضب کا، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا، اور تو نے (مٹی) نہیں پھینکی جبکہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی، اور تاکہ آزمائے (اللہ) مؤمنوں کو اپنی طرف سے اچھی طرح، بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے
یہ اسلئے کہ بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے کافروں کی چال کو
اگر تم فتح چاہتے ہو (اے کافرو!) تو یقیناً آچکی تمہارے (سامنے مؤمنوں کی) فتح اور اگر تم باز آؤ تو بہتر ہے تمہارے لیے، اور اگر دوبارہ (جنگ) کرو گے تو ہم بھی (ذلیل) کریں گے اور ہرگز نہ کام آئے گی تمہیں تمہاری جماعت کچھ بھی اگرچہ وہ کثیر ہوں (یعنی بہت ہوں) اور بے شک اللہ مؤمنوں کے ساتھ ہے
اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اور مت پھرو اس سے اور (جبکہ) تم سن رہے ہو
اور نہ ہو جاؤ تم ان (منافقین اور مشرکین) کی طرح جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں
بے شک برے جانوروں کی طرح ہیں یہ (منافقین اور مشرکین) اللہ کے نزدیک یہی بہرے گونگے ہیں جو نہیں سمجھتے
اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی خیر تو انہیں سنا دیتا (ان کے مرے ہوئے بزرگوں سے کہ آپ نبی ہیں) اور اگر وہ انہیں سنا بھی دے تو پلٹ جائیں گے اور وہ اعراض کریں گے
اے ایمان والو! قبول کرو اللہ اور رسول کا حکم جب (رسول) بلائیں (جہاد کی طرف) تمہیں جس کے ذریعے وہ حیات بخشے تمہیں اور جان لو کہ بیشک اللہ حائل ہے انسان اور اس کے دل کے درمیان، اور بیشک اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے
اور تم ڈرو اس فتنہ سے (یعنی عذاب سے) جو پہونچے گی تم میں سے بطور خاص ظالموں کو، اور جان لو کہ بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
اور یاد کرو جب تم تھوڑے اور کمزور تھے زمین میں، تمہیں خوف تھا کہ اچک نہ لیں تمہیں لوگ پھر اس (اللہ) نے ٹھکانہ دیا تمہیں اور تائید کی تمہاری اپنی مدد سے، اور رزق دیا تمہیں پاکیزہ (چیزوں سے) تاکہ تم شکر ادا کرو
اے ایمان والو! خیانت نہ کرو اللہ اور اس کے رسول سے اور خیانت نہ کرو آپس کی امانتوں میں، اور (جبکہ) تم جانتے ہو
اور جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں، اور بے شک اللہ کے پاس اجر عظیم ہے
اے ایمان والو! اگر تم ڈرو گے اللہ سے تو وہ بنائے گا تمہارے لئے فرقان (یعنی حق اور باطل کی تمیز) اور دور کر دے گاتم سے تمہارے گناہ اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
اور جب مکر کر رہے تھے تمہارے خلاف کافر (دارالندوہ کمیٹی میں) کہ تمہیں قید کر دیں یا تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں نکال دیں (مکہ سے) اور وہ مکر کر رہے تھے اور اللہ تدبیر کر رہا تھا، اور اللہ بہترین تدبیر کر نیوالا ہے
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان (کفار) کے سامنے ہماری آیتیں تو کہتے ہیں کہ یقیناً ہم نے سن لیا اور اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ دیں ایسی بات یہ کچھ نہیں سوائے پہلوں کے قصے کے
اور جب کہا (نضر بن حارث وغیرہ نے) اے اللہ! اگر یہ (قرآن) برحق ہے تیری طرف سے ہے، تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے، یا لے آ ہم پر دردناک عذاب
اور اللہ نہیں دیگا انہیں عذاب جب تک آپ ان کے بیچ ہیں، اور اللہ نہیں عذاب دینے والا انہیں اگر وہ مغفرت مانگ لیں اور کیوں نہ دے انہیں
اللہ عذاب جب کہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے اور یہ (کفار) اس کے (یعنی مسجد حرام کے) ولی (یعنی متولی) نہیں ہیں اس کے ولی تو متقی ہوتے ہیں اور لیکن اکثر ان میں جانتے ہی نہیں
اور ان (کفار مکہ) کی نماز بیت اللہ کے پاس کچھ نہیں سوائے سیٹیوں اور تالیوں کے، تو چکھو عذاب کا مزہ اس سبب سے کہ تم کفر کرتے تھے
بے شک جو کافر خرچ کرتے ہیں اپنا مال، تاکہ وہ روکیں اللہ کے راستے سے، تو جلد ہی وہ اور خرچ کریں گے پھر ہو جائے گا وہ (خرچ) ان پر حسرت پھر وہ مغلوب ہوں گے، اور جو کافر ہیں وہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے
تاکہ تمیز (یعنی جدا) کر دے اللہ ناپاک کو پاک سے (یعنی کفار کو مؤمنوں سے) اور ڈال دے ناپاکی ایک کی دوسرے پر، اور جمع کر دے ان سب کو پھر اسے ڈال دے جہنم میں، یہی لوگ خسارا پانے والے ہیں
کہہ دو کافروں سے کہ اگر وہ باز آجائیں تو معاف کر دیا جائے گا انہیں جو گزر چکا (اس سے پہلے ان سب باتوں کو) اور اگر وہ دوبارہ کرتے ہیں تو گزر چکے ہیں پہلوں کے واقعے
اور قتال کرو ان سے حتیٰ کہ نہ باقی رہے فتنہ (یعنی شرک) اور ہو جائے دین سارا اللہ ہی کے لئے، پھر اگر یہ باز آجائیں تو بیشک اللہ ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے
اور اگر وہ پھر جائیں تو جان لو کہ بیشک اللہ تمہارا دوست ہے (اے مومنو!) اور کیا ہی بہتر دوست ہے اور کیا ہی بہتر مددگار ہے