تمام کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے مگر یہ کہ اسرائیل (یعنی یعقوبؑ) نے خود حرام کیا تھا اپنے اوپر (گوشت اور دودھ اللہ کی رضاء کیلئے) تورات کے نازل ہونے سے پہلے (اے نبی!) آپ کہہ دیجئے کہ لے آؤ تورات اور پڑھو اسے اگر تم سچے ہو
سورۃ 3
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تو جو شخص جھوٹ گھڑے اللہ پر (کہ اپنی طرف سے یعقوب نے کوئی چیز حرام کی تو) اس کے بعد وہی ظالم ہیں
کہہ دیجئے کہ سچ فرمایا ہے اللہ نے، تو تم اتباع کرو ملت ابراہیم کی یکسو ہو کر (یعنی اللہ کی طرف) اور نہ تھے وہ (یعنی ابراہیم) مشرکوں میں سے
بیشک وہ پہلا گھر (جو) مقرر کیا گیا لوگوں کے لئے مکہ میں، جو مبارک اور ہدایت ہے تمام جہان کے لئے
اس کی کھلی نشانیوں میں مقام ابراہیم ہے، اور جو داخل ہوا اس میں وہ امن میں ہوتا ہے اور اللہ کیلئے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے، جو اس کی طرف جانے کی طاقت (یعنی مال) رکھتا ہو، اور جو انکار کرے تو بیشک اللہ بے نیاز ہے تمام جہانوں سے
آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب کیوں تم انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا، اور اللہ گواہ ہے اس پر جو کچھ تم کر رہے ہو
آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب کیوں تم روکتے ہو اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) اور اس میں عیب تلاشتے ہو، اور جبکہ تم خود گواہ ہو اور نہیں ہے اللہ بے خبر تمہارے اعمال سے
اے ایمان والو! اگر تم اطاعت کروگے کسی ایسے گروہ کی جو اہل کتاب میں سے ہے تو وہ لوٹا دیں گے تمہیں تمہارے ایمان لے آنے کے بعد کفر پر
اور تم کیسے کفر کرتے ہو، جبکہ پڑھی جاتی ہیں تم پر اللہ کی آیتیں اور تم میں اس کے رسول (موجود) ہیں، اور جو مضبوطی سے پکڑ لے اللہ (کے دین) کو، تو یقیناً اسے ہدایت دی گئی سیدھے راستے کی
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تم ہرگز نہ مرنا مگر (یہ کہ) تم مسلمان ہو کے ہی مرنا
مضبوطی سے پکڑ لو اللہ کی رسی کو سب مل کر، اور تفرقہ نہ ڈالو، اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) تھے دشمن تو اس نے الفت ڈال دی تمہارے دلوں میں، تو تم ہو گئے اس کی رحمت سے بھائی بھائی، اور تم تھے گڈھے کے کنارے پر آگ کے، تو اس (اللہ) نے تمہیں بچا لیا اس سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں، تاکہ تم ہدایت پاؤ
اور تم (مومنوں) میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بلائے بھلائی کی طرف اور حکم کرے نیک کاموں کا، اور روکے برے کاموں سے اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں
اور نہ ہو جانا تم ان لوگوں کی طرح (یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح) جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا بعد اس کے کہ آچکیں ان کے پاس روشن دلیلیں، اور یہی ہیں جن کیلئے بڑا عذاب ہے
جس (قیامت کے) دن سفید ہوں گے بعض چہرے اور سیاہ ہوں گے بعض چہرے، تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے کفر کیا تھا ایمان لانے کے بعد، تو تم چکھو عذاب کا مزہ بسبب اپنے کفر کے
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کے چہرے سفید ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اسمیں ہمیشہ رہیں گے
یہ اللہ کی آیتیں ہیں جن کی تلاوت ہم آپ پر کر رہے ہیں حق کی جانب سے، اور نہیں ہے اللہ کا ارادہ ظلم کا جہان والوں پر
اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں
تم بہترین امت ہو جو تم نکالے گئے (یعنی تم پیدا کئے گئے) ہو لوگوں کیلئے کہ تم حکم کرتے ہو بھلائی کا اور روکتے ہو برائی سے، اور ایمان رکھتے ہو اللہ پر، اور اگر ایمان لے آتے اہل کتاب تو یقیناً بہتر ہوتا ان کے لئے، ان میں کچھ ایمان والے بھی ہیں، اور اکثر ان میں فاسق ہیں
ہرگز نہیں (یہود و نصاریٰ) تم کو ضرر پہنچا سکتے سوائے کچھ تکلیف کے اور اگر وہ جنگ لڑیں تم سے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں، پھر ان کی کوئی مدد نہ کی جائے گی
مار دی گئی ان پر ذلت جہاں بھی وہ پائے جائیں، مگر یہ کہ اللہ کی رسی یا لوگوں کی رسی پکڑ رکھی ہوں (اسلام قبول کر کے یا جنگ بندی کا معاہدہ کر لیں) اور وہ مستحق ہو گئے اللہ کے غضب کے اور ڈال دی گئی ان پر مسکینی، یہ اس لئے کہ بیشک یہ (یہودی اور عیسائی) انکار کرتے ہیں آیتوں کا اللہ کی اور قتل کرتے تھے نبیوں کا ناحق، یہ اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں اور حد سے بڑھتے ہیں
نہیں ہیں برابر تمام اہل کتاب ان میں بعض گروہ (حق پر) قائم ہیں، جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کی رات کے وقت، اور سجدے بھی کرتے ہیں
وہ ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر، اور حکم کرتے ہیں بھلائی کا اور روکتے ہیں برائی سے، اور وہ جلدی کرتے ہیں خیر کے کاموں میں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو نیک لوگوں میں سے ہیں
اور یہ (اہل کتاب) جو کرتے ہیں خیر کے کام تو ہرگز نہیں کی جائے گی ان کی ناقدری، اور اللہ خوب جانتا ہے متقیوں کو
بیشک کافروں کو ہرگز کام نہ آئیں گے ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ کے پاس کچھ بھی، اور یہی وہ لوگ ہیں جو جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
(ان کفار کے خرچ کی) مثال جو وہ کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں ایک (تیز) ہوا کی طرح ہے جس میں پالا ہو جو پہنچے ظالم قوم کی کھیتی پر اور اسے ہلاک (یعنی تہس نہس) کر دے، (ایسی صورت میں) اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے
اے ایمان والو! نہ بناؤ تم اپنا رازدار تم اپنے علاوہ کسی (غیرمسلمان) کو (ورنہ وہ) نہیں کمی کریں گے تمہاری تباہی میں، وہ چاہتے ہیں کہ تم تکلیف میں پڑ جاؤ، یقیناً ظاہر ہے بغض ان کے منہ سے، اور جو چھپا ہے ان کے سینوں میں وہ تو اور بڑا ہے، یقیناً ہم نے بیان کر دی ہیں تمہارے لئے آیتیں اگر تمہیں عقل ہو
تم ہی ہو وہ لوگ تم محبت کرتے ہو ان سے اور وہ (غیرمسلمان) تم سے محبت نہیں کرتے، اور تم ایمان رکھتے ہو ان کی تمام کتابوں پر اور جب وہ ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں چباتے ہیں تم پر انگلیاں مارے غصہ کے، کہہ دو کہ تم مر جاؤ اپنے غصہ کی وجہ سے، بیشک اللہ خوب جانتا ہے دلوں کے راز کو
اگر پہنچتی ہے تمہیں بھلائی تو برا لگتا ہے ان (کافروں) کو، اور اگر پہنچتی ہے تمہیں برائی تو وہ خوش ہوتے ہیں اس سے، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو نہ ضرر پہنچائے گی ان کی چال تمہیں کچھ بھی، بیشک اللہ نے ان کے اعمال کا احاطہ کر رکھا ہے
اور (اے نبی) جب تم نکل رہے تھے صبح کو اپنے گھرانے سے ٹھکانہ پکڑا رہے تھے مومنوں کو جنگی مورچوں پر، اور اللہ خوب سن اور جان رہا تھا
جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے بزدلی کا (قبیلہ اوس، و خزرج نے) اور اللہ ان دونوں کا ولی تھا (کہ ساتھ دینے پر مائل کیا) اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے مومنوں کو
اور یقیناً مدد فرمائی تمہاری اللہ نے جنگ بدر میں، اور تم اس وقت بہت کمزور تھے، تو تم ڈرو اللہ سے تاکہ تم شکر گزار بن سکو
(جنگ بدر میں) جب تم کہہ رہے تھے مومنوں سے کہ کیا کافی نہ ہوگا تمہارے لئے کہ مدد کرے تمہاری تمہارا رب نازل ہونے والے تین ہزار فرشتوں سے
کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور آجائیں تمہارے پاس (کفار حملہ آور بن کر) فی الفور بھی، تو تمہارا رب تمہاری مدد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا جو شاندار ہوں گے (جنگی مہارت سے)
اور بنا دی اللہ نے (اس مدد کو) بشارت تمہارے لیے اور (اسلئے) تاکہ اطمینان ہو تمہارے دلوں کو اس سے، اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو زبردست حکمت والا ہے
(مقصد یہ تھا) کہ کاٹ دے کافروں کی ایک جماعت کو یا ذلیل کر ڈالے انہیں اور وہ لوٹیں نامراد ہو کر
(جنگ بدر کے کفار کے لیے) نہیں ہے آپ کے اختیار میں کچھ، اللہ چاہے تو توبہ قبول کرے ان کی یا عذاب دے انہیں کیونکہ وہ ظالم ہیں
اور اللہ ہی کا ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے (تمام کی بادشاہت) وہ مغفرت کرتا ہے جسے چاہتا ہے، اور عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے
اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ سود اضافے پر اضافہ کر کے، اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاسکو
اور تم ڈرو (قیامت کے دن کی) اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لئے
اور تم اطاعت کرو اللہ اور رسول کی، تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور جلدی کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو تیار کی گئی ہے متقیوں کے لئے
(یہ جنت ان کے لئے ہے) جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور پریشانی میں، اور پی جاتے ہیں غصہ کو اور معاف کر دیتے ہیں لوگوں کو، اور اللہ محبت کرتا ہے ان نیکوکاروں سے
اور جب ان سے کوئی فحش کام ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور کون مغفرت کرتا ہے گناہوں کی اللہ کے سوا، اور (ایسے لوگ) نہیں اڑے رہتے جان بوجھ کر جو وہ کر جاتے ہیں (گناہ)
انہیں لوگوں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کیا ہی بہتر اجر ہے عمل کرنے والوں کا
یقیناً گزر چکے ہیں تم سے پہلے بھی ایسے واقعے، تو تم سیر کرو زمین میں اور دیکھو کہ کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا
یہ (قرآن) بیان ہے (عام) لوگوں کے لئے، اور ہدایت اور نصیحت ہے متقیوں کے لئے
اور نہ تم سست پڑو اور نہ غم کرو، اور تم ہی غالب رہو گے، اگر تم مومن ہو
اگر پہنچتا ہے تمہیں کوئی زخم تو یقیناً لوگوں کو بھی اسی طرح کا زخم پہنچا ہے، اور ان دنوں کو ہم بدلتے رہتے ہیں لوگوں کے درمیان، تاکہ جان لے اللہ ایمان والوں کو، اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے، اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا
اور تاکہ الگ کر دے اللہ ایمان والوں کو، اور مٹا دے کافروں کو
کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم داخل ہو جاؤ گے جنت میں، اور جبکہ ابھی نہیں معلوم کیا اللہ نے کہ تم میں کون جہاد کرنے والے ہیں، اور نہ جانے صبر کرنے والوں کو؟
اور یقیناً تم تمنا کر رہے تھے موت کی (جنگ بدر سے) پہلے کہ تم ملو اس سے، تو یقیناً اب تم نے اسے دیکھ لیا ہے جس کا تمہیں انتظار تھا
اور محمدؐ صرف رسول ہیں یقیناً ان سے پہلے بھی گزر چکے ہیں بہت سے رسول، تو کیا اگر وہ مر جائے یا شہید ہو جائے، تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ (دین سے) اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں کے بل تو وہ ہرگز اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا، اور عنقریب اللہ بدلہ دے گا شکر گزاروں کو
اور نہیں کوئی جاندار مر سکتا بغیر اللہ کے حکم کے مقرر وقت کے علاوہ، اور جو ارادہ کرتا ہے دنیوی اجر کا ہم عطا کرتے ہیں اسے اسی سے، اور جو ارادہ کرتا ہے آخرت کے اجر کا ہم عطا کرتے ہیں اسے اسی سے، اور عنقریب ہم بدلہ دیں گے شکر گزاروں کو
اور کتنے ہی نبیوں نے قتال کیا اور ان کے ساتھ بہت سے اللہ والوں نے بھی، تو نہ وہ سست پڑے اس پر جو تکلیف پہنچی انہیں اللہ کے راستے میں، اور نہ کمزور پڑے اور نہ وہ تھکے، اور اللہ محبت کرتا ہے صابرین سے
اور وہ یہی کہتے رہے کہ اے ہمارے رب! تو مغفرت فرما ہمارے گناہوں کی، اور ہمارے کاموں میں ہماری زیادتی کو (بھی معاف فرما) اور ثابت رکھنا ہمارے قدموں کو، اور مدد فرما ہماری کافر قوم پر
تو عطا کیا انہیں اللہ نے دنیا کا ثواب، اور آخرت کا ثواب تو بہت بہتر ہے، اور اللہ محبت کرتا ہے نیک لوگوں سے
اے ایمان والو! اگر تم اطاعت کروگے کافروں کی تو وہ لوٹا دیں گے تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل (یعنی دین سے باہر کر دیں گے) پھر تم پلٹ جاؤ گے خاسرین بن کر
بلکہ اللہ ہی تمہارا مولا ہے، اور وہی بہترین مددگار ہے
عنقریب ہم ڈال دیں گے دلوں میں کافروں کے رعب، اس وجہ سے کہ یہ شریک کرتے ہیں اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو جن کی کوئی دلیل نہیں نازل کی اللہ نے، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور برا ٹھکانہ ہے ان ظالموں کا
اور یقیناً سچ کر دیا تم سے اللہ نے اپنے وعدے کو، جب تم قتل رہے تھے انہیں اس کے حکم سے، یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور تم جھگڑ پڑے ایک معاملے میں (یعنی مورچہ چھوڑنے میں جسے نہ چھوڑنے کی تاکید تھی) اور تم نے نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے دکھا دیا تھا تمہیں جو تم چاہ رہے تھے تم میں سے بعض دنیا چاہ رہے تھے، اور تم میں سے بعض آخرت چاہ رہے تھے، تو پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا (یعنی جنگ جتانے کے بعد ہرا دیا) تاکہ تم کو آزمائے اور یقیناً اس نے معاف کر دیا تمہیں، اور اللہ بڑے فضل والا ہے مومنوں پر
(جنگ احد میں) جب تم چڑھ رہے تھے (پہاڑ پر) اور مڑ کے بھی نہیں دیکھ رہے تھے کسی کو، اور رسول پکار رہے تھے تمہیں تمہارے پیچھے سے تو پہنچا تمہیں غم در غم، تاکہ تم غم نہ کرو جو فوت ہو چکا تم سے (یعنی تمہارے ہاتھ سے جو نکل گیا) اور نہ اس پہ جو تکلیف تمہیں پہنچی، اور اللہ باخبر ہے ان اعمال سے جو تم کرتے ہو
پھر اس نے نازل فرمایا تم پر اس غم کے بعد امن اونگھ کی شکل میں جو چھا گئی تم میں سے ایک جماعت پے اور ایک جماعت (یعنی منافقین) کو اپنی جان کی پڑی تھی، وہ گمان کر رہے تھے اللہ کے بارے میں ناحق جاہلی گمان (کہ نبی حق پر ہیں تو مدد کیوں نہیں؟) اور کہہ رہے تھے کیا ہمیں بھی معاملے میں کوئی اختیار ہے آپ کہہ دیجئے کہ معاملے کا اختیار صرف اللہ کو ہے، وہ جو چھپا رہے تھے اپنے دلوں میں (نفاق) وہ ظاہر نہیں کر رہے تھے آپ کے سامنے کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں بھی معاملے میں کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کئے جاتے، آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے پھر بھی جن کیلئے قتل لکھا جا چکا ہوتا وہ قتل ہوتے اپنے بستر (یا مقتل) پر بھی، تاکہ اللہ آزمائے جو تمہارے سینوں میں ہے اور پاک کر دے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات کو
بیشک جو لوگ پلٹ گئے تم میں سے اس دن (جنگ احد میں) جس دن دو جماعتیں آپس میں بھڑیں، بہکا دیا تھا انہیں شیطان نے ان کی بعض کرتوتوں کیوجہ سے، اور یقیناً اللہ نے معاف کر دیا انہیں، بیشک اللہ مغفرت کرنے والا بردبار (یعنی بہت برداشت کرنے والا) ہے
اے ایمان والو! تم ان کافروں کی طرح نہ ہو جانا جو کہتے تھے اپنے بھائیوں سے اس وقت جب وہ سفر میں ہوتے یا غزوے (یعنی جہاد) میں ہوتے، کہ کاش یہ ہوتے ہمارے پاس تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے (اس کی وجہ یہ ہے) کہ اللہ بنا دے اس (خیال) کو حسرت ان کے دلوں میں، اور اللہ ہی حیات دیتا ہے اور موت دیتا ہے، اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو
اور اگر تم قتل کئے جاؤ اللہ کے راستے میں یا اپنی موت مرو تو یقیناً مغفرت اور رحمت ہے اللہ کی طرف سے یہ اس سے بہتر ہے جو یہ (منافق) جمع کر رہے ہیں
اور اگر تم مر جاؤ یا قتل کئے جاؤ اللہ ہی کی طرف جمع کئے جاؤ گے
تو یہ رحمت ہے اللہ کی طرف سے کہ آپ نرم دل ہیں ان کیلئے، اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یقیناً یہ بھاگ جاتے آپ کے پاس سے، تو آپ انہیں معاف کر دیں اور استغفار کریں ان کے لئے اور مشورہ کریں ان سے معاملے میں، تو جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو توکل کریں اللہ پر، بے شک اللہ محبت کرتا ہے توکل کرنے والوں سے
اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، اور اگر وہ تمہیں رسوا کر دے تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے اس کے بعد، اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے مومنوں کو
اور نہیں ہے ممکن نبی کیلئے کہ ان سے خیانت ہو جائے اور جو خیانت کرے گا وہ آئے گا اپنی خیانت کے ساتھ قیامت کے دن، پھر پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کیا، اور ان پے نہیں کیا جائے گا ظلم
تو کیا جو شخص اتباع کرتا ہو اللہ کی رضاء کی وہ اس کے برابر ہو گا جو مستحق ہو اللہ کی ناراضگی کا اور جس کا ٹھکانہ جہنم ہو، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
ان کے درجے ہیں اللہ کے پاس، اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے جو (نیک اور بد) عمل وہ کر رہے ہیں
یقیناً احسان کیا اللہ نے مومنوں پر، جب کہ بھیجا ان میں ایک رسول ان ہی میں سے، جو پڑھ کر سناتا ہے انہیں اس کی آیتیں اور انہیں پاک کرتا ہے اور سکھاتا ہے انہیں کتاب اور حکمت، اور اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے
اور جب بھی پہنچی تمہیں کوئی مصیبت تو یقیناً تم نے بھی پہنچائی اس سے دوگنی مصیبت پھر بھی تم کہتے ہو کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری ہی طرف سے ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اور (جنگ احد میں) جو مصیبت پہنچی تمہیں اس دن جس دن دو جماعتیں بھڑیں تو وہ اللہ کے حکم سے تھی، اور تاکہ اللہ جان لے مومنوں کو (ظاہری طور پر)
اور تاکہ اللہ جان لے منافقوں کو، اور کہا گیا ان سے کہ آؤ قتال کرو اللہ کے راستے میں، یا دفاع کرو (یعنی کافروں کو ہٹاؤ) تو وہ کہنے لگے کہ اگر ہم قتال جانتے تو ضرور ساتھ دیتے تمہارا وہ کفر سے اس دن زیادہ قریب تھے بنسبت ایمان کے، وہ اپنے منہ سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں (کہ ہمارے جنگ میں نہ جانے سے مسلمان کمزور ہوں گے) اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپا رہے ہیں
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا اپنے بھائیوں کے بارے میں اور خود وہ بیٹھے رہے، کہ اگر وہ بھی ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے کہہ دیجئے! کہ تو تم دور کر لو اپنے آپ سے موت کو اگر تم سچے ہو
اور ہرگز تم نہ سمجھو ان لوگوں کو جو قتل کئے گئے ہیں اللہ کے راستے میں مردہ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں
خوش ہیں اس پر جو عطا کر رکھا ہے انہیں اللہ نے اپنے فضل سے، اور خوشخبری دے رہے ہیں انہیں جو ابھی نہیں ملے ہیں ان سے ان کے پیچھے ہیں، کہ نہ کوئی خوف ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے (قیامت کے دن)
وہ خوشیاں منا رہے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے، اور (اس سے بھی کہ) بیشک اللہ ضائع نہیں کرتا مومنوں کے اجر کو
جن لوگوں نے قبول کیا اللہ اور رسول (کے حکم) کو، بعد اس کے کہ پہنچی انہیں تکلیف یہ ان میں سے ہیں جنہوں نے نیکی کی اور تقویٰ اختیار کیا ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے
یہ وہ (مومن) ہیں کہ جب کہا ان سے لوگوں نے کہ بہت سے (کافر) لوگ جمع ہو گئے ہیں تمہارے لئے (یعنی مقابلے کیلئے) تو تم ڈرو ان سے، تو اس بات سے اور زیادہ ہو گیا ان کا ایمان، اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت بہتر کارساز ہے
تو وہ لوٹے اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ، نہ پہنچی انہیں کوئی برائی (یعنی تکلیف) اور انہوں نے اتباع کی اللہ کی رضاء کی، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
بیشک یہ شیطان ہیں (کفار) جو خوف دلاتے ہیں اپنے دوستوں (یعنی ساتھیوں) کے ذریعے تو تم نہ ڈرو ان سے اور مجھ سے ہی ڈرو، اگر تم مومن ہو
اور نہ غم میں ڈالیں تمہیں وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں، بیشک وہ ہرگز ضرر نہ پہنچا سکیں گے اللہ کو کچھ بھی، اللہ کا ارادہ ہے کہ ان کے لئے کوئی حصہ نہ ہو آخرت میں اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے
بیشک جو لوگ سودا کرتے ہیں کفر کا ایمان کے بدلے، وہ ہرگز ضرر نہ پہنچا سکیں گے اللہ کو کچھ بھی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
اور ہرگز گمان نہ کریں یہ کافر کہ ہماری دی ہوئی مہلت ان کیلئے بہتر ہے بیشک یہ مہلت ہم اس لئے دے رہے ہیں انہیں، تاکہ وہ اور زیادتی کریں گناہوں میں، اور ان کے لئے تو گھٹیا عذاب ہے
نہیں چھوڑ دے گا اللہ مومنوں کو اسی حال پے جس پر تم ہو، یہاں تک کہ وہ الگ کر دے ناپاک کو پاک سے، اور نہیں ہے اللہ کا یہ طریقہ کہ وہ اطلاع دے تمہیں غیب کی اور لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے، تو تم ایمان لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا اجر ہے
اور ہرگز گمان نہ کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس میں جو اللہ نے انہیں دے رکھا ہے اپنے فضل سے، کہ وہ ان کیلئے بہتر ہے، بلکہ وہ برا ہے ان کے لئے، عنقریب طوق ڈالے جائیں گے (یعنی گردن میں زنجیر) ان کے بخل کے سبب قیامت کے دن اور اللہ ہی کی میراث ہے آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ باخبر ہے اس عمل سے جو تم کر رہے ہو
یقیناً اللہ نے سنا ان (یہودیوں) کا قول جنہوں نے کہا کہ بیشک اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں جلد ہی ہم لکھ لیتے ہیں جو انہوں نے کہا، اور ان کا قتل کرنا انبیاء کو ناحق بھی، اور ہم ان سے کہیں گے کہ مزہ چکھو بھڑکتی آگ کے عذاب کا
یہ (عذاب) تمہارے ہاتھوں کی کمائی (کا بدلہ) ہے، اور بیشک اللہ نہیں ظلم کرتا اپنے بندوں پر
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا کہ بیشک اللہ کا معاہدہ ہے ہم سے کہ ہم ایمان نہ لائیں کسی رسول پر یہاں تک کہ وہ (رسول) پیش کریں ہمارے سامنے قربانی، اور اسے کھا جائے آگ (جلا دے) آپ کہہ دیجئے کہ یقیناً آئے تھے رسول مجھ سے پہلے بھی معجزوں کے ساتھ، اور (ان فرمائشی معجزوں کے ساتھ بھی) جو تم نے کہا، تو کیوں تم نے قتل کیا انہیں، اگر تم سچے ہو
تو اگر (یہ یہودی) جھٹلائیں آپ کو تو یقیناً جھٹلائے گئے ہیں بہت سے رسول آپ سے پہلے بھی، جو آئے تھے روشن دلیلیں اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تمہیں پورا دیا جائے گا تمہارا اجر قیامت کے دن، تو جو بچا لیا جائے آگ سے اور داخل کر دیا جائے جنت میں، تو یقیناً وہ کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے
یقیناً تمہاری آزمائش کی جائے گی تمہارے مالوں اور جانوں کے ذریعے، اور یقیناً تم سنو گے اہل کتاب سے تم سے پہلے کے اور مشرکوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک یہ ہمت کے کام ہیں
اور جب عہد لیا اللہ نے اہل کتاب سے کہ تم ضرور بیان کرو گے اس (نبی) کے بارے میں لوگوں سے، اور اسے نہیں چھپاؤ گے، تو پھینک دیا انہوں نے اس (عہد) کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے، اور سودا کیا اس کا تھوڑے فائدے کیلئے، تو کیا ہی برا سودا کیا انہوں نے
آپ ہرگز گمان نہ کریں ان لوگوں کے بارے میں جو خوش ہوتے ہیں اس پر جو انہوں نے کیا اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف اس پے بھی کی جائے جو انہوں نے نہیں کیا، آپ ہرگز گمان نہ کریں کہ وہ بچ نکلیں گے آگ سے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں یقیناً نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے
جو لوگ یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر (یعنی لیٹے ہوئے) اور غور و فکر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تو نے اسے بے فائدہ، تو پاک ہے، تو بچا لے ہمیں آگ کے عذاب سے
اے ہمارے رب! تو جسے داخل کرے گا آگ میں، تو یقیناً تو رسوا کرے گا اسے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا
اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ ایک منادی نداء دے رہا ہے ایمان کیلئے، کہ ایمان لے آؤ اپنے رب پر، تو ہم ایمان لے آئے، اے ہمارے رب! تو مغفرت فرما ہمارے گناہوں کی اور دور فرما ہم سے ہمارے گناہوں کو، اور وفات دینا ہمیں نیکوکاروں کے ساتھ
اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے کیا ہے، اور نہ رسوا کرنا ہمیں قیامت کے دن بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا
تو قبول فرمائی ان کی دعاء ان کے رب نے، بیشک میں ضائع نہیں کرتا عمل کرنے والے کے عمل کو تم میں سے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، تم ایک دوسرے سے ہو، تو جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میرے راستے میں ایذاء دی گئی اور جنہوں نے قتال کیا اور قتل کئے گئے، میں ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کر دوں گا، اور ضرور داخل کروں گا انہیں ان جنتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہ ہے ثواب اللہ کی طرف سے، اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے
ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے تمہیں کافروں کی چمک دمک شہروں میں
یہ تھوڑا فائدہ ہے، پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے
لیکن جو لوگ ڈرتے ہیں اپنے رب سے، ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے جاری ہیں نہریں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ مہمانی ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ کے پاس بہت ہی بہتر ہے نیکوکاروں کے لئے
اور بیشک اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر، اور ان پر بھی جو نازل کیا گیا تمہاری طرف، اور جو نازل کیا گیا خود ان کی طرف، اللہ ہی سے ڈرتے ہیں، اور نہیں سودا کرتے اللہ کی آیتوں کا تھوڑے فائدے کیلئے، یہی ہیں جن کیلئے اجر ہے ان کے رب کے پاس، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے
اے ایمان والو! تم صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو (یعنی دوسروں کو بھی صبر کیلئے کہو) اور ایک دوسرے سے ربط رکھو، اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاسکو
سورۃ 4
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے، اور پیدا کیا اس سے اس کا جوڑا (یعنی اس کی بیوی) اور پھیلایا ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو ایک دوسرے سے، اور ارحام سے ڈرو (یعنی تعلق بگاڑنے سے بچو) بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے
اور دے دو یتیموں کو ان کا مال، اور نہ بدلو ناپاک (مال) کو پاک سے، اور نہ کھاؤ ان کے مال کو اپنے مال سے ملا کر، بے شک یہ بڑا گناہ ہے
اور اگر تم ڈرتے ہو یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے تو نکاح کر لو جو تمہیں پسند ہو عورتیں، دو اور تین اور چار سے تو اگر خوف ہو تمہیں کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو یا جو تمہارے ملک میں ہو لونڈی، یہ زیادہ قریب بات ہے کہ تم زیادتی نہیں کرو گے
اور دے دو عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے، پھر اگر وہ اس میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ معاف کر دیں تو تم کھاؤ (یعنی لے لو) اسے خوشی خوشی
اور نہ دو بے وقوفوں کو تم اپنا مال جنہیں اللہ نے بنایا ہے تمہارے لیے قیام (یعنی گزارے کا ذریعہ) اور کھلاؤ انہیں اور پہناؤ انہیں ان (مالوں) سے، اور کہو ان سے بھلی بات
اور آزمائش کر لو یتیموں کی یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جائیں نکاح کی عمر کو، پھر اگر تم محسوس کرو ان میں ہوشیاری، تو دے دو انہیں ان کا مال، اور نہ کھاؤ ان کا مال اسراف اور جلدی میں کہ وہ بڑے ہو جائیں، (اور اپنا مال لے لیں) اور جو غنی ہو وہ بچے، اور جو فقیر (یعنی غریب) ہو تو وہ کھائے بھلے طریقے سے، پھر جب دو انہیں ان کا مال تو گواہ بنا لو ان پر، اور کافی ہے اللہ حساب لینے کے لئے
مردوں کیلئے حصہ ہے، جو (مال) چھوڑا ہے ماں باپ اور قرابت داروں نے، اور عورتوں کا بھی حصہ ہے جو چھوڑا ہے ماں باپ اور رشتے داروں نے، اگرچہ (مال) قلیل ہو یا کثیر حصہ فرض ہے
اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور مسکین، تو دو انہیں اس سے، اور کہو ان سے بھلی بات
اور چاہیے کہ (یتیموں کے بارے میں اسی طرح) ڈریں جو چھوڑ جاتے ہیں اپنے پیچھے ضعیف بچے، وہ (جس طرح) ڈرتے ہیں ان پر تو انہیں چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور کہیں سیدھی بات
بے شک جو لوگ کھاتے ہیں یتیموں کا مال ظلم سے وہ اپنے پیٹ بھرتے ہیں آگ سے، اور عنقریب وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں
اللہ وصیت کرتا ہے تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، پھر اگر ہوں عورتیں دو سے اوپر تو ان کے لیے دو تہائی حصہ ہے جو چھوڑا ہے ترکہ، اور اگر ایک ہی عورت ہو تو اس کے لیے آدھا ہے، اور اس کے والدین میں سے ہر ایک کیلئے ان میں سے چھٹا حصہ ہے جو چھوڑا ہے ترکہ اگر ہو اس کی کوئی اولاد، پھر اگر نہ ہو اس کی کوئی اولاد، اور وارث ہیں ماں باپ، تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہے، پھر اگر ہوں اس (میت) کے بھائی بہن بھی تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے، وصیت جو کی (پوری کریں) اور قرض کی ادائیگی کے بعد، تمہارے باپ یا تمہارے بیٹے میں سے تم نہیں جانتے کہ ان میں کون زیادہ قریب ہیں تم سے نفع کے اعتبار سے، یہ فریضہ (یعنی حصہ) مقرر ہے اللہ کی طرف سے، بے شک اللہ جانکار حکمت والا ہے
اور تمہارا آدھا حصہ ہے جو ترکہ چھوڑا تمہاری عورتوں نے، اگر نہ ہو ان کی کوئی اولاد، پھر اگر ہو ان کی کوئی اولاد تو تمہارا چوتھائی حصہ ہے جو وہ چھوڑ جائیں وصیت جو عورتوں نے کی (پوری کریں) اور قرض کی ادائیگی کے بعد، اور عورتوں کے لیے چوتھائی حصہ ہے جو تم نے ترکہ چھوڑا اگر نہ ہو تمہاری اولاد پھر اگر ہو تمہاری اولاد تو ان کا آٹھواں حصہ ہے جو تم نے ترکہ چھوڑا بعد اس وصیت کے جو تم کر جاؤ یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، اور اگر مرد یا عورت کلالہ ہو (یعنی والدین یا اولاد نہ ہو) اور اس میت کا ایک بھائی یا ایک بہن ہے تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے، تو اگر (بہن بھائی) زیادہ ہوں اس سے تو سب شریک ہوں ایک تہائی میں، وصیت جو کی (پوری کریں) اور قرض کی ادائیگی کے بعد، بغیر کسی کو ضرر پہنچائے ہوئے یہ وصیت ہے اللہ کی، اور اللہ جاننے والا تحمل کرنے والا ہے
یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی وہ داخل کرے گا اسے جنت میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے
اور جو نافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اس کی حدوں سے اللہ اسے آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے گھٹیا عذاب ہے
اور جو فحش کرے تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ طلب کرو ان پر اپنوں میں سے چار مرد، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو روک لو ان (عورتوں) کو گھروں میں یہاں تک کہ ان کی وفات ہو جائے، یا بنائے اللہ ان کے لیے کوئی راستہ
اور تم میں سے جو دو (مرد) بدکاری کریں، تو ان کو اذیت (یعنی سزا) دو پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
اللہ توبہ قبول کرتا ہے ان کی جو کر جاتے ہیں برائی جہالت کی وجہ سے پھر توبہ کر لیتے ہیں جلد ہی، تو یہی ہیں وہ لوگ جن کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہے جو برے کام کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب آجائے ان میں سے کسی کی موت کا وقت تو کہتا ہے کہ بے شک اب میں توبہ کرتا ہوں، اور اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی قبول نہیں ہے جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں، یہی ہیں جن کے لیے ہم نے تیار کیا ہے دردناک عذاب
اے ایمان والو! تمہیں یہ حلال نہیں کہ تم وارث بنو عورتوں کا زبردستی، اور نہ روکو انہیں کہ تم لے لو بعض وہ مال جو تم نے دیا ہے انہیں، مگر یہ کہ وہ کھلا فحش کریں، اور معاشرت (یعنی سلوک) کرو ان کے ساتھ اچھی طرح سے تو اگر وہ تمہیں نا پسند ہوں تو ممکن ہے کہ تمہیں ایک چیز پسند نہ آئے مگر اللہ نے رکھی ہو اس میں بھلائی بہت سی
اور اگر تم چاہو بدلنا ایک عورت کو دوسری عورت سے، اور تم نے دیا ہو ان میں ایک کو بہت سا مال تو مت لو اس میں سے کچھ بھی، کیا تم لینا چاہو گے اس سے بہتان اور کھلا گناہ
اور کیسے تم لوگے اسے اور یقیناً تم فیضیاب ہوئے ہو ایک دوسرے سے، اور ان عورتوں نے تم سے لیا تھا پختہ عہد
اور مت نکاح کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے باپ اور دادا نکاح کر چکے ہیں مگر جو گزر چکا (یعنی پہلے ہو چکا)، بے شک یہ فحش اور گناہ ہے اور برا راستہ ہے
حرام ہیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور تمہاری جن ماؤں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری عورتوں کی مائیں اور تمہاری عورتوں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہاری گود میں پرورش پائی ہے جن سے تم مل چکے ہو اور جن سے تم نہیں ملے ہو تو (ان کی بیٹیوں سے نکاح میں) گناہ نہیں تم پر اور عورتیں تمہارے بیٹوں کی جو حقیقی بیٹے ہیں (تم پر حرام ہیں) اور یہ کہ تم جمع کرو (ایک ساتھ نکاح میں) دو بہنوں کو، مگر جو پہلے گذر چکا سو گذر چکا، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے