کس چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں (کفار اور مشرکین)
سورۃ 78
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بڑی خبر (قیامت) کے بارے میں
جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں
ہرگز نہیں عنقریب یہ جان لیں گے
پھر ہرگز نہیں عنقریب یہ جان لیں گے
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا
اور پہاڑوں کو کھونٹے (نہیں بنائے)
اور ہم نے پیدا کیا تمہیں جوڑوں میں (مردعورت کے)
اور ہم نے بنایا تمہاری نیند کو آرام (کا ذریعہ)
اور ہم نے بنایا رات کو پردہ
اور ہم نے بنایا دن کو روزی کا ذریعہ
اور ہم نے بنائے تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان)
اور ہم نے بنایا ایک روشن چراغ (سورج کو)
اور ہم نے نازل کیا بادلوں سے پانی زوردار
تاکہ ہم نکالیں اس (پانی کے ذریعے) سے دانے اور سبزیاں
اور باغات گھنے
بیشک فیصلے کے دن کا وقت مقرر ہے (قیامت مقرر وقت پر آئے گی)
اس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم سب چلے آؤ گے فوج درفوج
اور کھول دیا جائے گا آسمان تو ہو جائیں گے اس میں دروازے
اور چلادیے جائیں گے پہاڑ تو وہ ہو جائیں گے ریت (کی طرح)
بیشک دوزخ گھات میں ہے
سرکشوں کا ٹھکانہ ہے
رہیں گے اس میں وہ مدتوں
نہ وہ مزہ چکھیں گے اس میں ٹھنڈک کا، نہ پانی کا
سوائے گرم پانی اور بہتی پیپ کے
ان کو بدلہ دیا جائیگا پورا
بیشک وہ امید نہیں رکھتے تھے حساب کی
اور وہ جھٹلاتے تھے (دنیا میں) ہماری آیتوں کو
اور ہر چیز کو ہم نے شمار کر رکھا ہے لکھ کر (نامہء اعمال میں)
تو تم مزہ چکھو اور کچھ نہیں ہم تمہارا عذاب زیادہ کرتے رہیں گے
بیشک متقی لوگ کامیاب ہوں گے
باغات اور انگور ہیں
اور نوجوان ہم عمر (حوریں ہیں)
اور جام ہیں چھلکتے ہوئے
نہیں سنیں گے اسمیں کوئی لغو بات اور نہ جھوٹی باتیں
یہ عطا ہوگی تیرے رب کی طرف سے حساب سے
اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، وہ رحمان ہے، اختیار نہیں ہو گا اس سے بات کرنے کا
جس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور فرشتے صفیں باندھ کر، تو کوئی کلام نہ کرسکے گا مگر جسے رحمن اجازت دیدے اور وہ ٹھیک بات کرے گا (جو توحید کا اقراری ہوگا)
یہ دن برحق ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنالے
ہم نے ڈرا دیا ہے تمہیں قریب آنے والے عذاب سے، جس دن دیکھ لے گا انسان جو کچھ کمایا ان کے ہاتھوں نے، اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہوجاتا
سورۃ 79
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے (نزاعی) سختی سے روح نکالنے والوں کی
نشاطی (آسانی) کیفیت کی قسم!
اور تیرنے والے (فرشتے) کی قسم
سبقت کرنے، آگے بڑھنے والے (فرشتے) کی قسم
تدبیر کرنیوالے (فرشتے) کی قسم!
جس دن کانپے گی کانپنے والی (زمین)
اس کے بعد ایک اور پیچھے آئے گی
بہت سے دل اس دن دھڑکنے والے ہوں گے
نگاہیں نیچی ہوں گی
(دنیا میں) کہتے تھے کیا ہم پہلی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے
کیا جب ہم گلی ہوئی ہڈیاں ہوجائیں گے (تو دوبارہ جینا؟)
کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا خسارے کی بات ہوگی
وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہے
تو جب ہی وہ میدان میں (جمع) ہو جائیں گے
کیا پہونچی ہے تمہیں موسیٰ کی خبر؟
جب کہ پکارا تھا انہیں ان کے رب نے پاک میدان طوی میں
(کہ) تم جاؤ فرعون کے پاس بیشک اس نے سرکشی کی ہے
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی پاکیزگی (یعنی اصلاح) چاہتا ہے
اور میں راہ دکھاؤں تجھے تیرے رب کی طرف (تاکہ اس سے) تو ڈرے
تو دکھائی اس نے اسے بڑی نشانی
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی
پھر پلٹا اور دوڑا (یا کوشش کرنے لگا)
پھر جمع کیا (سب کو) اور پکارا
کہا کہ میں تم سب کا رب اعلی ہوں
تو پکڑا اسے اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے
بیشک اس میں عبرت ہے اس کیلیے جو ڈرے
کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا بنانا (جسے اللہ نے بنایا ہے)
بلندی کی اس کی چھت کو پھر اسے درست کیا اور تاریک بنایا اسکی رات کو
اور نکالا اسی سے دن کو
اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا
(پھر اللہ ہی نے) نکالا اسی (زمین) سے پانی اور اسی (زمین) سے چارہ
اور پہاڑوں کو گاڑ دیا
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کیلیے ہیں
تو جب آئے گی بڑی آفت (قیامت کی)
اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی ہوگی
اور ظاہر کر دیا جائے گا جہنم کو تاکہ دیکھ لے (اسے جہنمی)
تو جس نے سرکشی کی ہوگی (دنیا میں)
اور ترجیح دی ہوگی دنیوی زندگی کو
تو بیشک جہنم ہی اسکا ٹھکانہ ہو گا
اور جو ڈرتا رہا ہو گا اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے، اور روکا ہو گا اپنے نفس کو خواہش سے
تو بیشک جنت ہی اسکا ٹھکانہ ہوگی
(کافر) پوچھتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں کہ کب واقع ہوگی
کیا تعلق آپ کو اس کے تذکرے سے؟
اس کے علم کی انتہاء آپ کے رب کے ہی پاس ہے
آپ تو صرف ڈرائیں انہیں جو اس (کے تذکرے) سے ڈرتا ہو
جس دن یہ دیکھ لیں گے اسے (تو سمجھیں گے دنیا میں) صرف ایک شام یا صبح ٹھہرے
سورۃ 80
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(نبی) بے توجہ ہوا اور منہ موڑ لیا
کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا
تجھے کیا خبر شاید وہ رہنمائی حاصل کرتا
یا نصیحت سنتا اور فائدہ پہونچاتی اسے نصیحت
بہر حال جو بے پرواہ ہے
اس کی طرف تو توجہ کرتا ہے
اور تجھ پر کوئی الزام نہیں اگر وہ ایمان نہ لائے
اور (عبداللہ ابن مکتوم) جو آیا تیرے پاس دوڑتا ہوا
اور وہ ڈرتا ہے (اللہ سے)
تو اس سے بے رخی کرتا ہے
ہرگز (یہ ٹھیک) نہیں بیشک یہ (قرآن) نصیحت ہے
تو جو چاہے اس سے نصیحت پکڑے
(قرآن) مکرم صحیفوں میں ہے
جو بلند اور پاک ہے
لکھنے والے (فرشتوں) کے ہاتھوں (میں ہے)
مکرم (اور) نیک (فرشتوں کے)
مارا جائے انسان، کیسا وہ ناشکرا ہے
کس چیز سے پیدا کیا اسے (اللہ نے)
ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے اسے، پھر تقدیر مقرر کی اسکی
پھر راستہ آسان کیا اسکا (خیر اور شر)
پھر اسے موت دے گا اور پھر قبر میں دفن ہو گا
پھر جب چاہے گا اسے زندہ کرے گا
ہرگز نہیں، نہیں پورا کیا اس (اللہ) کے حکم کو
انسان کو چاہئے کہ وہ دیکھے اپنے کھانے (کی چیزوں) کو
بیشک ہم نے خوب پانی برسایا
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح
پھر ہم نے اگائے اس میں اناج
اور انگور اور ترکاری
اور زیتون اور کھجور (اس پانی کے ذریعے)
اور گھنے باغات
اور میوے اور چارہ
تمہارے لئے اور تمہارے چوپایوں کیلیے
تو جب آئے گی چنگھاڑ (صور پھونکنے کی آواز)
اس دن فرار ہو گا آدمی اپنے بھائی سے
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے
ہر ایک شخص کو ان میں سے اس دن ایسی فکر ہو گی جو اس کے لئے کافی ہو گی
اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے
ہنستے ہوئے (اور) خوش ہوں گے
اور بہت سے چہرے پر اس (قیامت کے) دن گرد پڑی ہوئی ہوگی
چڑھی ہوگی ان پر سیاہی (ذلت کی اور)
یہی کافر اور فاجر ہوں گے
سورۃ 81
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا
اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گی
اور جب پہاڑ چلادیئے جائیں گے (ہواؤں میں)
اور جب حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی
اور جب جنگلی جانور جمع کئے جائیں گے
اور جب سمندر بھڑ کادیئے جائیں گے
اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی
اور جب زندہ گاڑی ہوئی بچیوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا
کہ کس گناہ میں وہ قتل کی گئیں
اور جب نامہ اعمال کھول دیئے جائیں گے
اور جب آسمان کی کھال اتارلی جائے گی
اور جب جہنم کو بھڑ کایا جائے گا
اور جب جنت کو سجایا جائے گا (یا قریب لائی جائے گی)
شخص جان لے گا جو کچھ وہ لے کر حاضر ہو گا
پس قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ستارے کی
چلنے اور چھپنے والے ستاروں کی
اور رات کی جب ختم ہونے لگے
اور صبح کی جب طلوع ہو جائے
یقیناً یہ (قرآن) کہا ہوا (یعنی لایا ہوا) ہے ایک بزرگ فرشتے کے ذریعے
جو قوت والا ہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک مقام ہے
اطاعت گزار اور امانت دار ہے
اور تمہارا ساتھی (محمدؐ) دیوانہ نہیں
اور یقیناً اس نے اس (جبریل) کو آسمان کے کھلے کنارے پر بھی دیکھا ہے
یہ (نبی) غیب کی باتوں (کو بتلانے) میں بخیل نہیں ہے
اور نہیں ہے یہ (قرآن) شیطان مردود کا کلام
پھر تم کہاں جارہے ہو (کہاں بہک رہے ہو؟)
یہ تو نصیحت ہے جہان والوں کیلیے
جو چاہے تم میں سیدھی راہ چلے
اور تم (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کچھ نہیں چاہ سکتے (ہدایت کے معاملے میں) مگر یہ کہ اللہ رب العالمین ہی چاہے
سورۃ 82
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جب آسمان پھٹ جائے گا (اللہ کے جلال سے)
اور جب ستارے جھڑ جائیں گے
اور جب سمندر بہ نکلیں گے
اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی
ہر شخص جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا
اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تمہیں؟ اپنے ربّ کریم سے
جس نے تجھے پیدا کیا پھر درست کیا تجھے اور برابر کیا تجھے
جس صورت میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دیا (یعنی جوڑ دیا)
ہرگز نہیں بلکہ تم جھٹلاتے ہو قیامت کو
اور بیشک تم پر محافظ ہیں (فرشتے)
کراماً (اور) کاتبین
وہ (فرشتے بطور نگراں) جانتے ہیں جو تم کرتے ہو
بیشک نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے
اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں ہوں گے
وہ اس (جہنم) میں داخل ہوں گے قیامت کے دن
وہ اس سے غائب نہیں ہو پائیں گے (بھاگ کر)
اور تجھے کیا معلوم کہ بدلے کا دن کیا ہے؟
پھر (سنو) تجھے کیا معلوم کہ بدلے کا دن کیا ہے؟
جس دن کوئی شخص کسی شخص کا کچھ کام نہ آئے گا، اور (تمام) حکم اس دن اللہ کے اختیار میں ہوگا
سورۃ 83
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تباہی ہوگی ناپ تول میں کمی کرنیوالوں کیلیئے
جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں
اور جب انہیں ناپ کر دیتے ہیں یا وزن کر کے دیتے ہیں انہیں (تو) وہ کم دیتے ہیں
کیا یقین نہیں کرتے وہ کہ بے شک انہیں مرنے کے بعد جینا ہے
اس عظیم (قیامت کے) دن میں
جس دن کھڑے ہوں گے لوگ ربّ العالمین کے سامنے
ہرگز نہیں بیشک بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے
تجھے کیا معلوم کہ سجین کیا ہے؟
وہ لکھی ہوئی کتاب (نامہ اعمال) ہے
تباہی ہوگی اس (قیامت کے) دن جھٹلانیوالوں کی
وہ جو (دنیا میں) جھٹلاتے ہیں بدلے کے دن کو
اور وہی جھٹلاتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا گنہگار ہوتا ہے
جب پڑھی جاتی ہیں اس (ولید) کے سامنے ہماری آیتیں تو کہتا ہے یہ قصے ہیں اگلوں کے
ہرگز نہیں بلکہ زنگ ہے ان (کفار) کے دلوں پر ان کے اعمال کیوجہ سے
ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے پردے میں رکھے جائیں گے (تاکہ دیدار نہ ہو)
پھر بیشک یہ لوگ داخل ہوں گے جہنم میں
پھر کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ دن جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
ہرگز نہیں، بیشک نیکو کاروں کے اعمال نامے علیین میں ہوں گے
اور تجھے کیا معلوم کہ علیین کیا ہے؟
وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی
اسکا مشاہدہ (نگرانی) کرتے ہیں مقربین (فرشتے)
نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے
مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے
(اے نبی) تم پہچان لو گے ان کے چہروں کی نعمتوں کی تازگی سے
پلائی جائے گی انہیں مہر بند خالص شراب
جس پر مشک کی مہر ہوگی، اس (کام) میں آگے بڑھنا چاہئے
آگے بڑھنے والوں کو اور اس کی ملاوٹ تسنیم کی ہوگی (تسنیم ایک چشمے کا نام ہے جنت میں)
وہ چشمہ جس کا (پانی) پئیں گے مقربین
بیشک جو مجرم تھے وہ ایمان والوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے
اور جب گزرتے تھے ان کے پاس سے تو آنکھوں سے اشارے کرتے تھے
اور جب پلٹتے اپنے گھرانے کی طرف (تو) پلٹ کر ان کی ہی باتیں کرتے
اور جب دیکھتے انہیں تو کہتے یقیناً یہ گمراہ لوگ ہیں
اور (جبکہ) یہ نہیں بھیجے گئے ان پر محافظ بنا کر
تو آج وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ان کافروں کا مذاق اڑائیں گے
مسندوں پر بیٹھے (نظارے) دیکھ رہے ہوں گے
ویسا ہی ثواب (یعنی بدلہ) پائیں گے کفار، جیسا وہ کیا کرتے تھے
سورۃ 84
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جب آسمان پھٹ جائے گا
اور اس کے رب کے حکم سے ایسا ہو گا اور یہ حقیقت ہے
اور جب زمین پھیلا دی جائے گی
اور ڈال دے گی (زمین) جو اسمیں (دفن) ہے اور خالی ہوجائے گی
اور اس کے رب کے حکم سے ایسا ہو گا اور یہ حقیقت ہے
اے انسان! بے شک تو محنت کر کے (خیر ہو یا شر) اپنے رب سے ملنے والا ہے
تو جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا
تو عنقریب ہی اسکا حساب آسانی سے لیا جائے گا
اور وہ اپنے لوگوں کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا
اور جس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا
تو جلد ہی وہ پکارے گا موت کو
اور وہ داخل ہو گا بھڑکتی آگ میں
یہ (دنیا میں) اپنے گھرانے میں خوش مگن رہتا تھا
اس کا گمان تھا کہ وہ ہرگز نہ لوٹے گا (میری طرف)
کیوں نہیں؟ اس کا رب اسے خوب دیکھ رہا تھا
قسم ہے شفق کی (سورج ڈوبنے کی لالی کی)
اور قسم ہے رات کی اور جو وہ جمع کرے (اندھیرے میں جاندار)
اور قسم ہے چاند کی جب وہ مکمل ہو جائے
یقیناً تم ایک حالت سے دوسری پر پہنچو گے
تو کیوں وہ ایمان نہیں لاتے؟
اور جب پڑھا جاتا ہے ان کے پاس قرآن تو وہ سجدہ نہیں کرتے
بلکہ یہ جو کفار ہیں وہی جھٹلا رہے ہیں (قرآن کو)
اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں
تو (اے نبی) خبر دو انہیں دردناک عذاب کی
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ان کیلئے اجر ہے نہ ختم ہونیوالا
سورۃ 85
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
برجوں والے آسمان کی قسم
اور وعدے کے دن کی قسم
شاہد (قیامت) اور مشہود (یوم عرفہ) کی قسم
مارے جائیں گڑھا کھودنیوالے (واقعہ عیسائی مسلم کا ہے آپ سے پہلے)
(وہ) ایک آگ تھی ایندھن والی
جب وہ اس کے پاس بیٹھے تھے (تماشائی بن کر)
اور وہ ایمان والوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے اس کا نظارہ کر رہے تھے
اور وہ نہیں سزا دے رہے تھے ایمان والوں کو مگر صرف اس بات کی کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے، جو زبردست قابلِ تعریف ہے
جس کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز کو خوب دیکھ رہا ہے
بیشک جن لوگوں نے تکلیف دی مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو، پھر انہوں نے توبہ نہ کی، تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کیلئے بھڑکتی آگ کا عذاب ہے
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہی بڑی کامیابی ہے
بیشک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے
وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور دوبارہ پیدا کرے گا
اور وہ مغفرت کرنیوالا اور محبت کرنیوالا ہے
عرش کا مالک اور بزرگی والا ہے
جو چاہے اسے کر گزرنے والا ہے
(اے نبی) کیا تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے
فرعون اور ثمود کے
بلکہ کافر تو جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں
اور اللہ نے گھیر رکھا ہے انہیں پیچھے سے
بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)
سورۃ 86
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے آسمان اور طارق کی
اور تجھے کیا معلوم کہ طارق کیا ہے
(طارق) روشن ستارہ ہے
ہر شخص پر محافظ (فرشتہ) ہے
تو انسان کو چاہیئے کہ وہ خود دیکھے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا
پیدا کیا گیا (منی کے) اچھلتے پانی سے
جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کے درمیان سے
بیشک اللہ اسے (دوبارہ) لوٹانے پر قادر ہے
جس دن جانچا جائے گا راز (چھپی باتوں) کو
تو نہ ہوگی اسکے پاس قوت اور نہ مددگار
قسم ہے آسمان کی جو لوٹاتا ہے (بارش کو)
اور زمین کی جو پھٹتی ہے (پیداوار کیلیئے)
بیشک یہ (قرآن) فیصلہ کرنیوالا کلام ہے
اور نہیں ہے یہ مذاق کی بات
بیشک یہ (کافر) بڑی چال چل رہے ہیں
اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں
تو کافروں کو مہلت دو انہیں تھوڑی مہلت اور دو
سورۃ 87
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تسبیح بیان کرو تم اپنے رب اعلیٰ کے نام کی
جس نے پیدا کیا، اور درست بنایا
اور جس نے تقدیر بنائی، پھر ہدایت دی
اور جس نے نکالا چارہ
پھر بنا دیتا ہے اسے (سکھا کر) کالا اور چورہ
جلد ہی ہم تجھے پڑھائیں گے (یہ قرآن) پھر تو نہ بھولے گا
مگر جو اللہ چاہے (بھلانا) بے شک وہ جانتا ہے ظاہر اور چھپی چیزوں کو
ہم آسانی پیدا کر دیں گے تیرے لئے
تو تم نصیحت کرتے رہو کہ فائدہ دیتی ہے نصیحت
نصیحت وہی پکڑے گا جو ڈرتا ہے
اور (نصیحت سے) وہ بچتا ہے جو بدقسمت ہے
وہی ہے جو داخل کرے گا بڑی آگ (جہنم) میں
پھر وہ نہ مرے گا اسمیں اور نہ جیئے گا
یقیناً فلاح وہ پائے گا جو (شرک سے) پاک رہے گا
اور جس نے ذکر کیا اپنے رب کے نام کا، اور نماز پڑھتا رہا
بلکہ تم ترجیح دیتے ہو دنیا کی زندگی کو
اور آخرت بہتر اور بہت باقی رہنے والی ہے
بیشک یہ (باتیں) پہلی کتابوں میں بھی ہیں
ابراہیمؑ اور موسیٰؑ کی کتابوں میں
سورۃ 88
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کیا آئی ہے تم تک ڈھانک لینے والی (قیامت کی) خبر
اس دن بہت سے چہرے ڈر رہے ہوں گے
(جیسے) محنت سے تھکے ہوئے ہوں
وہ داخل ہوں گے آگ میں دہکتی ہوئی
پلایا جائے گا نہایت گرم چشمے کا پانی
نہ ہوگا ان کیلئے کھانا سوائے کانٹے کے اور کچھ
جو نہ موٹا کرے گا (انسان کو) اور نہ بھوک مٹائے گا
(بہت سے) چہرے اس دن تازہ ہوں گے
اپنی کوشش پر خوش ہوں گے
جنتوں میں بلند و بالا
نہیں سنیں گے اس (جنت) میں کوئی لغو بات
اس میں چشمہ جاری ہو گا
اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے
اور پیالے ہوں گے مناسب
اور قالین ہوں گی صف بصف
اور مخملی مسندیں بچھی ہوئی ہوں گی
کیا یہ نہیں دیکھتے اونٹوں کو کہ وہ کس طرح پیدا کئے گئے
اور آسمان کو کہ کیسے وہ بلند کیا گیا
اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ گاڑ دیئے گئے ہیں
اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے
تو آپ نصیحت کریں آپ نصیحت کرنیوالے ہیں
آپ ان پر داروغہ نہیں
مگر جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا
اسے اللہ بہت بڑا عذاب دے گا
بیشک ہماری طرف ان کو لوٹنا ہے
پھر ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا
سورۃ 89
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے فجر (کے وقت) کی
اور (ذی الحجہ کی) دس راتوں کی
اور جوڑ اور بے جوڑ (چیزوں) کی
اور قسم ہے رات کی جب وہ ڈھلنے لگے
کیا یہ قسم کافی نہیں عقلمندوں کیلیئے
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کیا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ
ارم کے ساتھ ستونوں والے
جسکی طرح نہیں پیدا کی گئی (کوئی قوم) ملکوں میں
اور ثمود جو پتھر تراشا کرتے تھے (گھر بنانے کیلئے) وادی میں
اور فرعون جو میخوں والا تھا (بہت سے خیمے لگاتا تھا)
جنہوں نے زیادتی کی تھی شہروں میں
اور بہت فساد مچایا تھا ان (شہروں) میں
تو برسایا ان پر تیرے رب نے عذاب کا کوڑا
بیشک تیرا رب گھات میں ہے
تو انسان کو جب آزماتا ہے اسے اس کا رب، اور عزت دیتا ہے اور نعمت دیتا ہے اسے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی
اور جب اس کو آزماتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے اس پر اس کی روزی تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کیا
ہرگز (یہ درست) نہیں بلکہ تم یتیموں کی عزت نہیں کرتے
اور تم ترغیب نہیں دیتے مسکینوں کے کھلانے پر
اور تم کھا جاتے ہو میراث سمیٹ کر
اور تم مال سے بہت محبت کرتے ہو
ہرگز (ایسا) نہیں جب ہوجائے گی زمین ٹکڑے ٹکڑے
اور آجائے گا تیرا رب اور فرشتے صف بصف (قیامت کے دن)
اور لایا جائے گا جہنم کو اس دن، اس دن یاد کرے گا انسان نصیحت کو، اور کہاں سے ملے گی انہیں نصیحت
کہے گا کہ کاش! میں کما کے بھیجا ہوتا اپنی زندگی کیلئے
تو اس دن اس کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہو گا
اور نہ ہو گی اس کی قید جیسی کسی کی قید
اے اطمینان والی روح!
تو لوٹ جا اپنے رب کی طرف راضی برضاء
تو داخل ہوجا میرے بندوں میں
اور تو داخل ہوجا میری جنت میں
سورۃ 90
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
میں قسم کھاتا ہوں اس شہر (مکہ) کی
اور آپ کا قیام ہے اس شہر (مکہ) میں
اور (قسم ہے) باپ اور بچے کی
یقیناً ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو محنت کیلیئے
کیا (انسان) یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر نہیں ہے کسی کی قدرت
کہتا ہے کہ میں نے تو خرچ کر ڈالا بہت سا مال
کیا (انسان) یہ گمان کرتا ہے کہ اسے نہیں دیکھ رہا ہے کوئی
کیا ہم نے نہیں بنائیں اس کی دو آنکھیں
اور ایک زبان اور دو ہونٹ
اور ہم نے ہدایت دی اسے (خیر اور شر) دونوں راستوں کی
تو نہ آیا وہ اس گھاٹی تک
اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟
وہ ہے آزاد کرنا گردن (یعنی غلام) کا
اور بھوک کے دن میں کھانا کھلانا
قریبی (رشتے دار) یتیموں کو
یا بدحال مسکینوں کو
پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور وصیت کرتے رہے ایک دوسرے کو صبر کی اور وصیت کرتے رہے ایک دوسرے کو رحم کرنے کی
یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (جنتی)
اور جنہوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا یہی ہیں بائیں ہاتھ والے (جہنمی)
ان پر آگ ہوگی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی
سورۃ 91
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی
اور چاند کی جب اس (سورج) کے پیچھے آئے
اور دن کی جسکو وہ روشن کرے
اور قسم ہے رات کی جب (سورج کو) ڈھانپ لے
اور قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی
اور زمین کی اور اسکے بچھانے کی
اور جان کی اور اسے درست کرنے کی
تو (اللہ نے) سمجھا دیا اسے بدی اور تقوے کا راستہ
یقیناً وہ کامیاب ہوا جو پاک رہا (شرک سے)
اور یقیناً وہ نامراد ہوا جس نے چھوڑ دیا (نفس کو آزاد)
جھٹلایا ثمود نے اپنی سرکشی کیوجہ سے
جب کھڑا ہوا ان میں کا ایک بدبخت آدمی
تو کہا ان سے اللہ کے رسول (صالحؑ) نے کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی (باری مقرر ہے)
تو جھٹلایا ان کو اور کاٹ ڈالا اونٹنی کو، تو ہلاک کر دیا انہیں ان کے رب نے ان کے گناہوں کیوجہ سے اور برابر کر دیا اس (بستی) کو
اور (اللہ) نہیں ڈرتا اس کے انجام سے
سورۃ 92
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے رات کی جب چھا جائے
اور دن کی جب روشن ہو
اور جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو
یقیناً تمہاری کوشش مختلف ہے (نیک اور بد)
تو جس نے عطا کیا (اللہ کیلیئے) اور ڈرا
اور تصدیق کی نیک باتوں کی
تو جلد ہی ہم اس کیلیئے آسانی پیدا کر دیں گے آسانی کیلیئے
اور جس نے بخل کیا اور لا پرواہ رہا (دین سے)
اور جھٹلایا نیک بات کو
تو جلد ہی ہم میسر کر دیں گے اس کیلیئے تنگی
اور نہ کام آئے گا اسے اس کا مال جب وہ ہلاک ہوگا (موت آئے گی)
بیشک ہم پر ہے راہ دکھانا
اور بیشک ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا
تو میں نے ڈرا دیا ہے تمہیں شعلے والی آگ (جہنم) سے
جس میں صرف بدبخت داخل ہو گا
جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا
اور جلد ہی دور رکھا جائے گا اس (جہنم) سے متقی کو
جو عطا کرتا ہے اپنا مال پاکی کیلیئے
اور جو بھی اس کے پاس کوئی نیکی لے کر جائے گا بدلہ پائے گا
مگر یہ کہ اپنے رب اعلیٰ کی رضاء کیلیئے ہو
اور عنقریب وہ (اللہ سے) رضامند ہو جائے گا
سورۃ 93
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے چاشت کے وقت کی (جب سورج بلند ہو)
اور رات کی جب چھا جائے
نہ چھوڑا تجھے تیرے رب نے اور نہ بے تعلق ہوا
اور یقیناً تیرے لئے آخرت بہتر ہے دنیا سے
اور یقیناً جلد عطا کرے گا تجھے تیرا رب (دنیا اور آخرت کا اجر) اور تو راضی ہو جائے گا
کیا اس نے نہیں پایا تجھے یتیم تو ٹھکانا دیا
اور پایا تجھے راہ بھولا ہوا تو ہدایت دی (شریعت اور ایمان کی)
اور پایا تجھے فقر میں تو غنی کر دیا
تو تم یتیموں پر سختی نہ کرو
اور سائلوں کو نہ جھڑکو
اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتے رہو (شکر کے طور پر)
سورۃ 94
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا (اسلام کیلیئے)
اور ہم نے اتار دیا تجھ پر سے تیرے بوجھ کو
جس نے توڑ دی تھی تیری پیٹھ کو
اور ہم نے بلند کر دیا تیرا ذکر (دنیا اور جہان میں)
تو بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
تو بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
تو جب تو فارغ ہو تو عبادت میں لگ جاؤ
اور اپنے رب کی طرف رغبت رکھو (یعنی دل لگاؤ)
سورۃ 95
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی
اور طورِ سینا کی
اور قسم ہے اس امن والے شہر (مکہ) کی
یقیناً ہم نے پیدا کیا انسان کو بہترین صورت میں
پھر ہم نے اسے نیچوں سے نیچا کر دیا (جوانی کے بعد بڑھاپے میں)
مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ان کے لئے اجر ہے نہ ختم ہونے والا
تو کیوں یہ (کفار) جھٹلاتے ہیں تمہیں دین کے آجانے کے بعد
کیا اللہ حاکموں کا حاکم نہیں؟
سورۃ 96
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا
پیدا کیا انسان کو خون کے لوتھڑے سے،
تم پڑھو اور تیرا رب بڑا کرم والا ہے
جس نے سکھایا قلم کے ذریعے
سکھایا انسان کو جو وہ نہیں جانتا تھا
ہرگز نہیں بیشک انسان سرکش ہے
اسلئے کہ وہ اپنے آپ کو بے پرواہ سمجھتا ہے
بیشک تیرے رب کی طرف ہی لوٹنا ہے
کیا تو نے دیکھا (ابوجہل کو) جو روکتا ہے
(نبی کو) جب وہ بندہ نماز پڑھتا ہے
تمہارا کیا خیال ہے اگرچہ (نبی) ہدایت پر ہے
اور حکم دیتا ہے تقوے کا
تمہارا کیا خیال ہے اگرچہ جھٹلاتا ہے اور منہ پھیرتا ہے
کیا معلوم نہیں کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے
ہرگز نہیں اگر باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے
یہ پیشانی جھوٹے خطا کار کی ہے
تو چاہئے کہ وہ اپنی مجلس والوں کو بلالے
ہم بھی فرشتوں کو بلالیں گے
خبردار اسکی اطاعت ہرگز نہ کرو، اور سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ
سورۃ 97
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بیشک ہم نے نازل کیا اس (قرآن کریم) کو لیلۃ القدر میں
اور آپ کو کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے
لیلۃ القدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے
نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح (یعنی حضرت جبرئیلؑ) اس میں اپنے رب کے حکم سے ہر حکم کے ساتھ
سلامتی کی ہوتی ہے، فجر کے طلوع ہونے تک
سورۃ 98
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نہیں ہیں اہل کتاب کے کافر اور مشرک باز آنے والے جب تک کہ نہ آجائے ان کے پاس واضح دلیل
اللہ کی جانب سے ایک رسول (صلی) جو پڑھے (قرآن) پاک صحیفوں میں سے
جن (صحیفوں) میں مضبوط احکام ہیں
اور تفرقہ کیا اہل کتاب نے بعد اس کے کہ آچکی تھی ان کے پاس واضح دلیل (قرآن)
اور انہیں تو حکم دیا گیا کہ عبادت کریں صرف اللہ کی مخلص بن کر اس کے دین میں یکسو ہو کر (اللہ کی طرف) اور نماز کو قائم کریں اور زکوۃ دیتے رہیں اور یہی قائم دین ہے
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اہل کتاب میں سے اور مشرکوں میں سے وہ جہنم کی آگ میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہ لوگ بہترین مخلوق ہیں
ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کی جنتیں ہیں، جن کے نیچے جاری ہیں نہریں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا، اور یہ اس سے راضی ہوئے یہ (نصیحت) اس کیلئے ہے جو ڈرے اپنے رب سے
سورۃ 99
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جب زمین جھنجھوڑ دی جائے گی
اور نکال دے گی زمین اپنے (مردوں کے) بوجھ کو باہر
کہے گا انسان کیا ہو گیا ہے اس (زمین) کو
اس دن بیان کر دے گی اپنی خبریں (اچھائی، برائی)
(اس لئے) کہ تیرے رب کا حکم ہو گا اسے
اس دن ہوں گے لوگ جماعتوں میں تاکہ دکھائے جائیں انہیں ان کے اعمال
تو جس نے عمل کیا ہو گا ذرہ برابر بھی خیر وہ اسے دیکھ لے گا
تو جس نے عمل کیا ہو گا ذرہ برابر بھی شر وہ اسے دیکھ لے گا
سورۃ 100
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
گھوڑوں کی قسم ہانپتے ہوئے دوڑنیوالے
پھر آگ نکالنے ٹاپوں کی
پھر غارت کرنے والوں کی صبح کے وقت
تو اڑاتے ہیں اس وقت غبار
پھر گھس جاتے ہیں اسکے ساتھ جمگھٹے میں
بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے
اور بیشک وہ اس پر خود ہی گواہ ہے
اور بیشک یہ (انسان) مال کی محبت میں سخت ہے
تو کیا اسے معلوم نہیں ہے کہ نکالے جائیں گے جو قبروں میں ہیں
اور حاصل کر لیا جائے گا (راز) جو سینوں میں ہے
بیشک ان کا رب ان سے اس دن خوب باخبر ہو گا
سورۃ 101
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کھڑکھڑانیوالی
کیا ہے وہ کھڑکھڑا دینے والی
تجھے کیا معلوم وہ کھڑکھڑانیوالی چیز کیا ہے؟
جس دن ہو جائیں گے لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح
اور ہو جائیں گے پہاڑ روئی کی طرح دھنی ہوئی
تو جس کا بھاری ہو گا وزن
تو وہ عیش اور رضامندی کی زندگی میں ہو گا
اور جس کا ہلکا ہو گا وزن
اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہو گا
تجھے کیا معلوم کہ ماہیۃ کیا ہے؟
وہ بہت گرم آگ ہے
سورۃ 102
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
غافل کر دیا تمہیں زیادتی نے (مال کی چاہت کی)
یہاں تک کہ تم جا لوگے قبروں سے
ہرگز نہیں تم عنقریب جان لو گے
پھر ہرگز نہیں تم عنقریب جان لو گے
ہرگز نہیں جب تم جان لو گے تو یقین کرو گے
یقیناً تم دیکھو گے جہنم کو
پھر دیکھو گے اسے آنکھوں سے تو یقین کرو گے
پھر تم سے ضرور سوال کیا جائے گا اس دن نعمتوں کے بارے میں
سورۃ 103
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
زمانے کی قسم
بیشک انسان خسارے میں ہے (آخرت کو بھول کر)
سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور آپس میں حق کی وصیت کی اور صبر کی نصیحت کی
سورۃ 104
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تباہی ہے تمام عیب لگانے اور غیبت کرنیوالوں کی
جو جمع کرتا ہے مال اور گنتا رہتا ہے اسے
سمجھتا ہے کہ اسکا مال ہمیشہ رہنے والا ہے
ہرگز نہیں وہ ضرور پھینکا جائے گا حطمہ میں
اور (اے نبی) تجھے کیا معلوم کہ حطمہ کیا ہے؟
وہ اللہ کی آگ ہے جلائی ہوئی
جو پہنچ جائے گی دلوں تک
بیشک وہ (آگ) ان پر بند کر دی جائے گی
بڑے بڑے ستونوں (والی جہنم) میں
سورۃ 105
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کیا حال کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ
کیا نہیں بنا دیا ان کی چال کو گمراہی میں (یعنی ناکام)
اور بھیجے ان پر پرندوں کے جھنڈ
(جو) مار رہے تھے انہیں پتھروں کی کنکریاں
تو بنا دیا (اللہ نے) انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح
سورۃ 106
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(اللہ نے) قریش کو مانوس کیا
انہیں مانوس کیا جاڑے اور گرمی کے سفر سے (تجارت کیوجہ سے)
تو انہیں چاہئے کہ عبادت کریں اس گھر کے رب کی
جس نے کھلایا انہیں بھوک میں، اور امن دیا انہیں خوف سے
سورۃ 107
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کیا تو نے دیکھا (ابوجہل کو) جو جھٹلاتا ہے دین کو
تو یہی ہے وہ جو دھتکارتا ہے یتیم کو
اور نہیں ترغیب دیتا مسکین کو کھلانے کی (ان سے نفرت کیوجہ سے)
تو تباہی ہے ان نمازیوں کیلیئے
جو اپنی نماز سے غافل ہیں
جو ریا کاری کرتے ہیں
اور منع کرتے ہیں مدد کی چیزوں سے
سورۃ 108
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بیشک ہم نے عطا کیا آپ کو (حوض) کوثر
تو نماز پڑھئیے اپنے رب کے لئے، اور قربانی کیجئے
بے شک آپ کا دشمن تباہ ہونے والا ہے
سورۃ 109
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو
نہ میں عبادت کرتا اسکی جس کی تم عبادت کرتے ہو
نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں
اور نہ میں عبادت کروں گا، جس کی تم عبادت کرتے ہو
اور نہ تم اس کی عبادت کرنیوالے ہو، جس کی میں عبادت کرتا ہوں
تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین
سورۃ 110
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جب آئے گی اللہ کی مدد اور فتح
اور آپ دیکھیں گے لوگوں کو وہ داخل ہوں گے اللہ کے دین میں فوج در فوج (فتح مکہ میں)
تو تسبیح کیجئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ، اور استغفار کیجئے اس (اللہ) سے، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے
سورۃ 111
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ (دین، اور دنیا) اور وہ ہلاک ہو گیا
نہ فائدہ دیا اسے اسکا مال، اور نہ وہ جو اسنے کمایا
عنقریب وہ داخل ہو گا آگ میں شعلوں والی
اور اس کی بیوی بھی جو لکڑیوں کا گٹھا اٹھا لایا کرتی تھی
اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسی ہوا کرتی تھی
سورۃ 112
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ ایک ہے
(اور) اللہ بے نیاز ہے (اسے کسی کی ضرورت نہیں)
نہ وہ پیدا ہوا نہ پیدا کیا گیا
اور نہیں ہے کوئی اس کی برابری کرنیوالا
سورۃ 113
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آپ کہہ دیجئے! کہ میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی
اس شر سے جو اس (اللہ) نے پیدا کیا
اور اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے
اور شر سے پھونک مارنیوالیوں کے گرہوں میں
اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے
سورۃ 114
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
(اے نبی) آپ کہہ دیجئے کہ میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی
لوگوں کے مالک کی
لوگوں کے معبود کی
خناس کے وسوسے کے شر سے
جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں
(وہ چاہے) جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں