بہت با برکت ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے، اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
سورۃ 67
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس نے پیدا کیا موت اور حیات کو (اس لئے) تا کہ وہ آزمائے تمہیں کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے، اور وہ زبردست مغفرت کرنے والا ہے
جس نے پیدا کئے سات آسمان طبق در طبق (یعنی اوپر تلے) تو نہیں دیکھے گا رحمن کی پیدائش میں کوئی تفاوت (یعنی کمی) لوٹا اپنی نگاہ کیا دیکھ رہا ہے تو کوئی شگاف (یعنی دراڑ)
پھر لوٹا اپنی نگاہ دو بارہ لوٹ آئے گی تیری طرف تیری نگاہ ذلیل ہو کر اور وہ (نگاہ) تھکی ہوئی ہوگی
اور یقیناً ہم نے مزین کیا ہے آسمانِ دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے اور ہم نے بنایا ہے ان کو شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ، اور ہم نے تیار کر رکھا ہے ان کیلئے بھڑکتی آگ کا عذاب
اور جن لوگوں نے انکار کیا اپنے رب کا ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
جب وہ ڈالے جائیں گے اس میں تو سنیں گے اس کی چنگھاڑ اور وہ جوش مار رہی ہوگی
قریب ہے کہ پھٹ پڑے (جہنم) غصے سے، جب ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ پوچھے گا اس سے اس کا داروغہ کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس کوئی ڈرانیوالا
وہ کہیں گے ہاں کیوں نہیں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ڈرانے والا تو ہم نے (اسے) جھٹلایا تھا اور ہم نے کہا کہ نہیں نازل فرمایا اللہ نے کچھ بھی تم بڑی گمراہی میں ہو
اور (پھر) وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو ہم نہ ہوتے دوزخی لوگوں میں
تو وہ اعتراف (یعنی اقرار) کر لیں گے اپنے گناہوں کا تو (اب) پھٹکار ہے ان دوزخیوں کیلئے
بیشک جو لوگ ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے، ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے
اور تم چھپاؤ اپنی باتوں کو یا ظاہر کرو، بیشک وہ (اللہ) خوب جانتا ہے دلوں کی بات کو
کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا، اور وہ باریک بیں (بہت چھوٹی چیز کی) خبر رکھنے والا ہے
وہی ہے جس نے بنا دیا ہے تمہارے لئے زمین کو نرم، تو تم چلو اس کے راستوں میں، اور کھاؤ اس (زمین) سے رزق، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
کیا تم بے خوف ہو گئے ہو کہ جو آسمانوں میں ہے (اللہ) وہ تمہیں دھنسا دے زمین میں، اور اچانک وہ (زمین) کانپنے لگے
یا تم بے خوف ہو گئے کہ جو آسمانوں میں ہے (اللہ) وہ بھیج دے تم پر پتھروں کی بارش، تو جلد ہی تم جان لو گے کیسا رہا میرا ڈرانا
اور یقیناً جھٹلایا تھا ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی، تو کیسا رہا میرا عذاب؟
کیا یہ نہیں دیکھتے پرندوں کو اپنے اوپر صف بصف پر کھولتے سمیٹتے، انہیں کون تھامے ہوئے ہے سوائے رحمان کے؟ بیشک وہ ہر چیز کو خوب دیکھ رہا ہے
(تو کیا تم غور نہیں کرتے) کون ہے وہ فوج تمہاری جو مدد کرے تمہاری علاوہ رحمان کے، کافر تو صرف دھوکے ہی میں ہیں
کون ہے وہ (اللہ کے علاوہ) جو رزق دے تمہیں اگر وہ روک دے اپنی روزی، بلکہ (یہ کافر) اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور نفرت میں
تو کیا جو شخص چلتا ہو اوندھا اپنے منہ کے بل وہ زیادہ ہدایت والا ہے یا وہ جو چلتا ہو سیدھا اور سیدھے راستے پر ہو؟
کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے پیدا کیا تمہیں، اور اسی نے بنائے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل، تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو
کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے پھیلا دیا تمہیں زمین میں، اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے
اور (کافر) پوچھتے ہیں کہ کب آئے گا وہ وعدہ (عذاب کا) اگر تم سچے ہو
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، میں تو صرف کھلے طور پر ڈرانیوالا ہوں
تو جب دیکھ لیں گے اس (قیامت) کو قریب، تو برے ہو جائیں گے چہرے ان کافروں کے، اور کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جسے تم مانگا کرتے تھے
آپ کہہ دیجئے کہ اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور میرے ساتھیوں کو، یا رحم کرے ہم پر، تو کون بچائے گا کافروں کو دردناک عذاب سے
آپ کہہ دیجئے کہ وہ رحمن (بچائے گا) جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں، اور اسی پر ہم توکل کرتے ہیں، تو جلد تمہیں معلوم ہو جائے گا کون ہے کھلی گمراہی میں
آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر ہو جائے تمہارا پانی خشک (زمین کے اندر) تو کون ہے جو لا کر دے تمہیں صاف پانی؟
سورۃ 68
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ن، قسم ہے قلم کی اور جو لکھتے ہیں (فرشتے اس کی)
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے
اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) بیشک تیرے لئے اجر ہے بے انتہا
اور بیشک تو بڑے اخلاق پر ہے
تو جلد ہی تو بھی دیکھ لے گا، اور یہ (کافر) بھی دیکھ لیں گے (قیامت میں)
کہ تم میں سے کون آزمایا جاتا ہے
بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے اسے جو گمراہ ہے اس کے راستے سے، اور وہ ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے
تو اطاعت نہ کر جھٹلانیوالوں کی
چاہتے ہیں (مشرکین) کہ تو پھسل جا تو وہ بھی پھسل جائیں (دین سے)
اور تو اطاعت نہ کر گھٹیا قسم کھانیوالے کی
غیبت کرنیوالا، عیب لگانیوالا، چغلخوری
بھلائی سے منع کرنیوالا، حد سے بڑھنے والا گناہ گار کی
اُجڈ اس کے بعد بے نسب (یعنی حرامی) کی
اگر چہ وہ (ولید بن مغیرہ) مال اور اولاد والا ہے
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلوں کے قصے ہیں
جلد ہم داغیں گے اسکی سونڈ (یعنی ناک) پر
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزمایا، جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا، جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ توڑ لیں گے اس (باغ) کا پھل صبح ہوتے ہی
اور انشاء اللہ نہ کہا
تو پھر گئی اس (یمن کے قریب صنعاء کے باغ) پر ایک آفت تیرے رب کی، اور وہ سوتے رہ گئے
تو ہو گیا (باغ ایسا) جیسے کٹی ہوئی کھیتی
تو انہوں نے پکارا صبح ہوتے ہی
کہ صبح ہی چل پڑو اپنی کھیتی پر اگر تمہیں (پھل) توڑنا ہے
تو وہ چل پڑے اور وہ آپس میں چپکے باتیں کر رہے تھے
کہ کہیں داخل نہ ہو جائے تمہارے پاس آج کوئی مسکین
اور وہ صبح کو نکلے لپکتے ہوئے اپنی قدرت بھر
تو جب انہوں نے دیکھا (باغ کو) تو کہنے لگے یقیناً ہم بھول گئے (راستہ)
(نہیں نہیں) بلکہ ہم محروم ہو گئے
کہا ان میں جو بہتر تھا کہ میں نہیں کہتا تھا تم سے کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے؟
تو کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ظالم تھے
تو متوجہ ہوئے ایک دوسرے کی طرف اور آپس میں ملامت کرنے لگے
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے
ممکن ہے ہمارا رب بدلہ دے ہمیں اس سے بہتر، ہم (تواب) اپنے رب سے ہی رغبت (یعنی امید) رکھتے ہیں
اسی طرح عذاب آتا ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے، کاش! یہ جانتے
بیشک متقین اپنے رب کے پاس نعمتوں والی جنت میں ہوں گے
کیا ہم بنا دیں مسلمانوں کو مجرموں کی طرح
(اے مشرکین) تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسے فیصلے کر رہے ہو
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھ رہے ہو
کہ بیشک اس (جنت) میں تمہارے لئے وہ ہے جو تم پسند کرو
یا تم نے ہم سے قسمیں لی ہیں جو قیامت تک باقی رہے گی کہ تمہارے لئے وہ ہے جو تم فیصلہ کرو
پوچھو ان سے ان (مشرکین) میں کون اس بات کا ذمے دار ہے
یا ان کے شریک ہیں، تو انہیں چاہئے کہ وہ لے آئیں اپنے شریکوں کو اگر وہ سچے ہیں
جس دن کھول دی جائے گی پنڈلی (اللہ کی دیدار کیلئے) اور انہیں بلایا جائے گا سجدے کیلئے، تو وہ (سجدہ) نہیں کر سکیں گے
نیچی ہوں گی ان کی نگاہیں اور چھا جائے گی ان پر ذلت، اور یقیناً انہیں بلایا جاتا تھا سجدے کے لئے جب وہ صحیح سالم تھے (دنیا میں تو سجدہ نہیں کرتے تھے)
تو چھوڑ دو مجھے اور جو جھٹلاتا تھا اس کلام کو عنقریب ہم آہستہ آہستہ کھینچ لے جائیں گے انہیں (جہنم میں) اسطرح کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو گا
اور میں ڈھیل دے رہا ہوں انہیں، بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے
یا تم سوال کرتے ہو ان سے کسی اجر کا یا وہ جرمانہ تلے دبے جا رہے ہیں
یا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے جسے وہ لکھتے ہوں
تو جمے رہو اپنے رب کے حکم پر، اور نہ ہو جاؤ مچھلی والے (یونسؑ) کی طرح کہ جب اس نے پکارا (اپنے رب کو) تو وہ بہت غمگین تھا
اگر نہ پالتی اسے رحمت اس کے رب کی تو یقیناً اسے پھینک دیا جاتا چٹیل میدان میں اور وہ ملامت زدہ ہو جاتا
تو چن لیا اسے اس کے رب نے، اور بنا دیا اسے صالحین میں سے
اور قریب ہے کہ یہ کافر پھسلا دیں تمہیں اپنی نظروں سے (نظر لگا کر) جب وہ سنتے ہیں قرآن تو کہتے ہیں بیشک یہ مجنوں ہے
اور یہ (قرآن اللہ کی طرف سے) نصیحت ہے جہان والوں کیلئے
سورۃ 69
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حق ہونے والی (چیز قیامت)
کیا ہے حق ہونے والی
اور تجھے کیا معلوم کہ وہ حق ہونے والی کیا ہے
جھٹلایا ثمود اور عاد نے کڑ کڑاہٹ (والی قیامت) کو
تو جہاں تک ثمود کا تعلق ہے تو وہ ہلاک کئے گئے چنگھاڑ سے
اور جہاں تک عاد کا تعلق ہے تو وہ ہلاک کئے گئے سخت آندھی سے
مسخر (یعنی مسلط) رہی وہ (آندھی) ان پر سات رات اور آٹھ دن لگاتار، تو تم دیکھتے لوگوں کو اس (عمان کی سرزمین) میں پچھڑے ہوئے، گویا کہ وہ کھجور کے تنے ہوں کھوکھلے
کیا تو دیکھ رہا ہے ان میں کسی کو باقی
اور (اس قوم کے بعد) آیا فرعون، اور اس سے پہلے کے (لوگ) اور الٹی بستی والے (قوم لوط) خطاؤں کیوجہ سے
تو انہوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی، تو پکڑ انہیں (اللہ نے) زبردست پکڑ سے
جب پانی طغیانی پہ آیا، تو ہم نے سوار کیا تمہیں (اے نوح) کشتی میں
تا کہ ہم بنا دیں اسے تمہارے لئے نصیحت، اور یاد رکھے اسے کان اچھی طرح
تو (بوقت قیامت) جب پھونکی جائے گی صور میں ایک پھونک
اور اٹھا لئے جائیں گے زمین اور پہاڑ، تو وہ دونوں ٹکڑے کر دیے جائیں گے ایک ہی دفعہ میں
اس دن واقع ہو گی واقع ہونیوالی (قیامت)
اور پھٹ جائے گا آسمان، پھر وہ اسوقت بھوسا (یعنی ہلکا) ہو جائے گا
اور فرشتے اس (آسمان) کے کناروں پر ہوں گے، اور اٹھائے ہوئے ہوں گے تیرے رب کے عرش کو اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)
اس دن تم پیش کئے جاؤ گے، چھپی بات بھی تمہاری چھپی نہیں رہے گی
تو جسے عطا کیا جائے گا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں، تو وہ کہے گا کہ لو، پڑھو میرا نامہ اعمال
مجھے تو یقین تھا کہ مجھے ملنا ہے اپنا حساب
تو وہ عیش (اور) رضامندی (کی زندگی) میں ہو گا
اعلیٰ مقام جنت میں
جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے
(کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو مزے سے، جو تم نے عمل کئے پچھلے دنوں میں
اور جسے عطا کیا جائے گا اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں، تو وہ کہے گا کاش نہ دی جاتی مجھے میری کتاب
اور (کہے گا کاش) میں جانتا ہی نہیں کہ حساب کیا ہے
کاش! کہ (پھر) ہو جاتی موت
نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے
ہلاک کیا مجھ کو میری سلطنت نے
(اے فرشتو!) پکڑو اسے پھر جکڑو اسے
پھر جہنم میں داخل کرو اسے
پھر ستر ہاتھ کی زنجیر میں جکڑو اسے
بیشک یہ اللہ عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا
اور نہیں رغبت دلاتا تھا مسکین کے کھلانے پر
تو نہیں ہے اسکا آج یہاں کوئی دوست
اور نہ کوئی کھانا سوائے پیپ کے
کوئی نہیں کھا سکتا اس (کھانے) کو سوائے خطا کار کے
میں قسم کھاتا ہوں ان کی جنہیں تم دیکھتے ہو
اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے
بیشک یہ قول (قرآن) مکرم رسول سے (اللہ کی باتیں) ہیں
اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تھوڑے ہیں جو ایمان لاتے ہیں
اور نہیں ہے یہ قول کسی کاہن (یعنی جادوگر) کا تھوڑے ہی نصیحت پکڑتے ہیں
نازل کیا ہوا ہے یہ رب العالمین کی طرف سے
اور اگر کوئی کہنے والا ہمارے سامنے کہتا اس کلام (یعنی قرآن) کو
تو ہم پکڑ لیتے اسے دائیں ہاتھ سے
پھر ہم کاٹ دیتے اس کی سانس کی رگ
پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا
اور بیشک یہ (قرآن) نصیحت ہے متقیوں کیلئے
اور ہمیں معلوم ہے تم میں بعض (اسے) جھٹلاتے ہیں
اور بیشک یہ (جھٹلانا) حسرت ہو گا کافروں پر
اور بیشک یہ حقیقی اور یقینی (بات) ہے
تو تسبیح کرو اپنے ربِ عظیم کے نام کی
سورۃ 70
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سوال کیا ایک سوال کرنیوالے (نضر بن حارث) نے واقع ہونیوالے عذاب کے متعلق
کافروں سے کوئی دفاع کرنے والا نہ ہو گا
اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے
چڑھتے ہیں فرشتے اور روح (الامین) اس (اللہ) کی طرف ایک دن میں جس کی مقدار (یعنی مدت) پچاس ہزار سال کی ہے
تو تم (اے نبی) صبر کرو اچھی طرح
بیشک یہ (کافر) سمجھ رہے ہیں اس (عذاب) کو دور
اور ہم اسے سمجھتے ہیں قریب
جس دن ہو جائے گا آسمان تلچھٹ کی طرح
اور ہو جائیں گے پہاڑ رنگین اون کی طرح
اور نہ پوچھے گا کوئی دوست کسی دوست کو
ایک دوسرے کو دیکھیں گے (یعنی پہچانیں گے) چاہیں گے مجرم کہ کاش فدیے میں دیدے اس دن کے عذاب میں اپنے بیٹوں کو
اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو
اور اپنے کنبے (یا قلعے) کو جو اسے پناہ دیتا تھا
اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو پھر وہ نجات دلادے اپنے آپ کو
ہرگز نہیں بیشک وہ شعلے والی (آگ) ہے
کھینچنے والی ہے کھالوں کو
وہ (آگ) پکارے گی اسے جو پیچھے ہٹتا اور منہ موڑتا تھا (دین سے)
اور (جو) جمع کرتا اور سینت کے رکھتا تھا
بیشک انسان پیدا کیا گیا ہے کم ہمت (یعنی ہلکا)
جب پہنچتی ہے اسے برائی تو گھبراتا ہے
اور جب پہنچتی ہے اسے اچھائی تو منع کرتا ہے (بخیلی کی وجہ سے)
مگر وہ نمازی
جو اپنی نمازوں پر پابندی کرنے والے ہیں
اور جو اپنے مالوں میں حق مقرر کرتے ہیں
سائل (یعنی مانگنے والوں کیلئے) اور محروم کیلئے
اور جو تصدیق کرتے ہیں قیامت کے دن کی (یعنی یقین رکھتے ہیں)
اور وہ لوگ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں
بیشک ان کے رب کا عذاب امن کی چیز نہیں
اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں
سوائے اپنی بیویوں اور جو ملکیت میں ان کی لونڈیاں ہیں، تو بیشک ان میں کوئی ملامت نہیں
تو جو اس کے علاوہ چاہے تو وہ حد سے بڑھنے والے ہیں
اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت (یعنی لحاظ) کرتے ہیں
اور جو اپنی شہادت پر قائم رہتے ہیں
اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں
یہی لوگ جنتوں میں عزت والے ہیں
تو کیا ہو گیا ہے کافروں کو؟ کہ وہ تیری طرف دوڑتے ہوئے آتے ہیں
دائیں سے اور بائیں سے گروہ کے گروہ
کیا امید رکھتا ہے ان میں سے ہر ایک، کہ وہ داخل کیا جائے گا نعمتوں والی جنت میں
ہرگز نہیں، بے شک ہم نے پیدا کیا ہے انہیں جس چیز سے اسے وہ بھی جانتے ہیں
تو میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی بیشک ہم قادر ہیں
اس پر کہ انہیں بدل کر ان سے اچھے لوگ لے آئیں، اور ہم عاجز نہیں ہیں
تو چھوڑ دو انہیں کہ فضولیات میں پڑے رہیں اور کھیلتے رہیں یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے
جس دن یہ نکلیں گے قبروں سے دوڑتے ہوئے، گویا کہ وہ (بتوں کے) تھان کی طرف دوڑ رہے ہوں
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، چھائی ہوئی ہو گی ان پر ذلت، یہ ہے وہ دن جسکا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا
سورۃ 71
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بیشک ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف، کہ (اے نوح!) تم ڈراؤ اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ آجائے ان پے دردناک عذاب
کہا اے میری قوم! میں تمہارے لئے کھلا ڈرانیوالا ہوں
کہ تم عبادت کرو اللہ کی، اور ڈرو اسی سے، اور اطاعت کرو میری
وہ مغفرت فرمائے گا تمہارے گناہوں کی اور مہلت (یعنی عمل کا موقع) دے گا تمہیں ایک وقت مقررہ (موت) تک، بیشک اللہ کا وعدہ جب آ جاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی، کاش کہ تم جانو
کہا (نوح نے) اے میرے رب! بیشک میں نے دعوت دی اپنی قوم کو رات اور دن
تو میری دعوت سے یہ اور زیادہ فرار ہونے لگے
اور بیشک میں نے جب بھی بلایا انہیں تا کہ تو مغفرت فرما دے ان کی، انہوں نے ڈال لیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں، اور انہوں نے اوڑھ لیا اپنے کپڑوں کو (یعنی منہ چھپا لیا) اور اڑ گئے، اور بڑا تکبر کیا
پھر میں نے دعوت دی انہیں کھلم کھلا
پھر میں نے دعوت دی انہیں اعلانیہ اور چپکے بھی
تو میں نے کہا (کہ اے میری قوم!) مغفرت طلب کرو اپنے رب سے، بے شک وہ بڑا مغفرت کرنیوالا ہے
وہ بھیجے گا آسمان سے تم پر لگاتار بارش
اور وہ (اللہ رب العزت) مدد کرے گا تمہاری مال اور اولاد سے اور بنائے گا تمہارے لئے باغات اور بنائے گا تمہارے لئے نہریں
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم امید نہیں رکھتے اللہ صاحب وقار سے
اور یقیناً اسی نے پیدا کیا تمہیں طرح طرح سے
کیا تم نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیا اللہ نے سات آسمانوں کو طبق در طبق (ایک کے اوپر دوسرا)
اور بنایا ان (آسمانوں) میں چاند کو روشنی والا، اور بنایا سورج کو چراغ
اور اللہ نے اگایا (یعنی پیدا کیا) تمہیں زمین سے (سبزہ) اگانے کی طرح
پھر وہ لوٹائے گا تمہیں اسی (زمین) میں، اور نکالے گا تمہیں اچھی طرح
اور اللہ نے بنایا تمہارے لئے زمین کو بچھونا
تا کہ تم چلو اس (زمین) کے کشادہ راستوں پر
کہا نوحؑ نے اے میرے رب! بیشک انہوں نے نافرمانی کی میری اور اتباع کی ایسے لوگوں کی جن کے مال اور اولاد نے ان کو خسارے میں ہی زیادہ کیا
اور انہوں نے بڑا مکر کیا
اور انہوں نے کہا کہ ہرگز نہ چھوڑنا اپنے معبودوں کو، اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ، اور سواع، اور یغوث، اور یعوق، اور نسر کو
اور یقینا (ان پانچ بتوں نے) بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے (یا رب) تو اور زیادہ کر دے ان ظالموں کی گمراہی کو
اپنی خطاؤں کیوجہ سے وہ غرق کئے گئے اور داخل کئے گئے آگ میں اور نہ پایا انہوں نے اپنے لئے اللہ کے سوا کوئی مددگار
اور کہا نوح نے کہ اے میرے رب! تو نہ چھوڑ زمین پر کافروں کا کوئی گھر
اگر تو چھوڑ دے گا انہیں تو یہ گمراہ کریں گے تیرے بندوں کو، اور یہ فاجر (گناہگار) اور کافر ہی پیدا کریں گے
اے میرے رب! تو مغفرت فرما میری اور میرے والدین اور جو داخل ہوئے میرے گھر میں ایمان کی حالت میں اور (تمام) مومن مردوں اور مؤمنہ عورتوں کی، اور ظالموں کی تباہی تو اور زیادہ فرما
سورۃ 72
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے
(جو) رہنمائی کرتا ہے سیدھی راہ کی تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز شریک نہیں کریں گے اپنے رب کے ساتھ کسی کو
اور بیشک اعلیٰ ہے بزرگی ہمارے رب کی نہیں بنائیں اس نے بیوی اور نہ ہی اولاد
اور بیشک کہتا ہے ہم میں کا بیوقوف اللہ پر جھوٹی بات (کہ اسے اولاد ہے)
اور بیشک ہمارا یقین تو یہ تھا کہ ہرگز نہیں کہیں گے انسان اور جنات اللہ پر جھوٹی بات
اور بیشک چند انسانوں میں کے لوگ پناہ طلب کیا کرتے ہیں جنوں کے لوگوں سے، جس سے ان (جنوں) کی سرکشی اور زیادہ ہو جاتی ہے
اور بیشک انہوں نے (انسانوں نے) گمان کر رکھا تھا جس طرح تم (جنوں) نے گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی (رسول) کو نہیں بھیجے گا
اور بیشک ہم پہنچے آسمان کو تو ہم نے پایا اسے بھرا ہوا سخت پہریدار اور شعلوں سے
اور (اس قرآن سے پہلے) ہم بیٹھا کرتے تھے اسکے (سننے کے) ٹھکانوں پے، تو جو سننا چاہتا ہے اب وہ پاتا ہے اپنے لئے ایک شعلہ گھات میں
اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب کا ارادہ ہے ان کے ساتھ بھلائی کا
اور بیشک ہم میں بعض نیکوکار ہیں اور بعض اس کے علاوہ ہیں، ہم مختلف طریقوں پر ہیں
اور ہمارا یقین ہے کہ ہم ہرگز عاجز نہیں کر سکتے اللہ کو زمین میں، اور ہم ہرگز عاجز نہیں کر سکتے اسے بھاگ کر
اور بیشک جب ہم نے سنی ہدایت (کی بات) تو ہم ایمان لے آئے اس پر، اور جو ایمان لائے گا اپنے رب پر تو نہیں ہو گا خوف اسے کسی کمی اور نہ ظلم کا
اور ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور ہم میں بعض نافرمان بھی ہیں، تو جو فرمانبردار ہوا تو وہی ہیں جنہوں نے تلاش لیا سیدھا راستہ
اور جو نافرمان ہیں تو وہ جہنم کے ایندھن ہیں
اور اگر (مکہ والے) قائم رہتے سیدھے راستے پر، تو یقیناً ہم انہیں سیراب کرتے ڈھیروں پانی (یعنی رزق) سے
تا کہ ہم آزمائیں انہیں اسمیں (خوشحالی سے) اور جو اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے تو ڈالے گا اللہ اسے سخت عذاب میں
اور بیشک مسجدیں اللہ کیلئے ہیں، تو تم مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو
اور جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ (رسول اللہ) اسے پکارنے کیلئے تو قریب تھا کہ یہ (کافر) اس پر ٹوٹ پڑیں
کہئے میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں، اور نہیں شریک ٹھہراتا میں اسکے ساتھ کسی کو
کہہ دیجئے میں نہیں مالک تمہارے لئے کسی نقصان یا نفعے کا
کہہ دیجئے ہرگز نہیں بچا سکتا مجھے اللہ سے کوئی اور میں ہرگز نہیں پا سکتا اس کے سوا کوئی پناہ
(مجھے) پہونچادینا ہے (حکم) اللہ کی طرف سے اور اسکے پیغامات، اور جو نافرمانی کریگا اللہ اور اسکے رسول کی، تو بے شک اس کیلئے جہنم کی آگ ہے، رہے گاوہ اسمیں ہمیشہ
یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں اسے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے (تو یقین ہو گا) تو جلد وہ جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی تعداد کم ہے
کہئے مجھے نہیں معلوم کیا قریب ہے (قیامت) جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے، یا بندی ہے اس کیلئے میرے رب نے کوئی مہلت
وہ غیب کا جاننے والا ہے اور نہیں ظاہر کرتا ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر
سوائے جس رسول سے وہ راضی ہو، تو بیشک وہ لگا دیتا ہے اس (رسول) کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے (فرشتوں کو) پہرے دار
تا کہ جان لے (اللہ) کہ یقینا انہوں نے پہنچا دیا اپنے رب کے پیغام اور احاطہ کر رکھا ہے ان کے پاس (کی چیزوں) کو، اور شمار کر رکھا ہے ہر چیز کو عدد بَعدد
سورۃ 73
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے چادر اوڑھنے والے
قیام کریں رات کو (تہجد کی نماز میں) تھوڑا
آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کر لیں
یا زیادہ کر لیں اس پر، اور قرآن کو پڑھیں ٹھہر ٹھہر کر
بیشک عنقریب ہم ڈالیں گے تجھ پر ایک بھاری بات (قرآن)
بیشک رات کا اٹھنا شدید روندنیوالا ہے، اور بات کو بہت درست طریقے سے رکھنے والا بھی ہے
بیشک تجھے دن میں بہت مشغولیت رہتی ہے
تو ذکر کیا کرو اپنے رب کے نام کا، اور متوجہ ہو جاؤ سب سے کٹ کر اس کی طرف اچھی طرح
وہ رب ہے مشرق اور مغرب کا، نہیں ہے کوئی معبود اسکے سوا تو تم اسی کو بناؤ اپنا کارساز
اور صبر کرو اس پر جو کچھ (کافر) کہتے ہیں، اور چھوڑ دو انہیں اچھی طرح
اور چھوڑ دو مجھے اور ان جھٹلانیوالوں نعمت والوں کو اور مہلت دو انہیں تھوڑی
بیشک ہمارے پاس بیڑیاں اور جہنم ہیں
اور کھانا ہے (حلق میں) اٹکنے والا، اور دردناک عذاب ہے
جس دن کانپ اٹھیں گے زمین اور پہاڑ، اور ہو جائیں گے پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح
(اے کافر) بیشک ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول کو (جو) گواہی دینے والا ہے تم پر، جیسا کہ ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف رسول (موسیٰؑ کو)
تو نافرمانی کی فرعون نے رسول کی، تو ہم نے پکڑا اسے سخت پکڑ میں اور وبال (مصیبت) میں
تو کیسے تم بچو گے اس دن جسکا تم نے انکار کیا وہ (قیامت کا دن) بنا دیگا بچوں کو بوڑھا
آسمان پھٹ جائے گا اس (کی ہولناکی) سے اسکا وعدہ ہو کر رہے گا
بیشک یہ نصیحت ہے، تو جو چاہے بنالے اپنے رب کی طرف راستہ
آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ قیام کرتے ہیں (تہجد میں) قریب دو تہائی رات میں، اور آدھی رات میں، اور ایک تہائی رات میں، اور اس جماعت کو بھی جو آپ کے ساتھ ہے اور اللہ ہی مقرر کرتا ہے رات اور دن کو، وہ جانتا ہے کہ تم ہرگز شمار نہیں کر سکو گے اسے (یعنی رات گزرنے کا اندازہ) تو اس نے قبول کی تمہاری توبہ، تو تم پڑھو جو میسر ہو قرآن میں سے وہ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، اور بعض زمین میں چل پھر کر تلاش کر رہے ہوں گے اللہ کا فضل (یعنی روزی) اور دوسرے جنگ لڑ رہے ہوں گے اللہ کے راستے میں، تو تم پڑھو جو میسر ہو اس (قرآن) میں سے، اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکوٰۃ، اور اللہ کو بہتر قرض دو (خیرات اور صدقات کے ذریعے) اور جو تم آگے بھیجو گے اپنے لئے خیر (کے کام) میں سے، تم پاؤ گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور اجر عظیم، اور مغفرت طلب کرو اللہ سے، بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے
سورۃ 74
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے کپڑا اوڑھنے والے
کھڑے ہو جاؤ اور ڈراؤ (اہل مکہ کو)
اور اپنے رب کی تکبیر (یعنی بڑائی) بیان کرو
اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کرو
(بتوں کی) ناپاکی کو چھوڑ دو
اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کرو
اور اپنے رب (کی راہ) میں صبر کرو
تو جب پھونکا جائے گا صور میں
تو وہ دن بڑا سخت دن ہو گا
کافروں پر آسان نہ ہو گا (وہ دن قیامت کا ہو گا)
چھوڑ دو مجھے اور میں نے پیدا کیا ہے (اس ولید بن مغیرہ کو) اکیلا
اور میں نے عطا کیا ہے اسے بہت سا مال
اور اولاد حاضر رہنے والی
اور میں نے اسے خوب تیاری سے دیا ہے
پھر وہ امید رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں
ہرگز نہیں، بیشک وہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے
عنقریب میں اسے (جہنم کی) چڑھائی پے چڑھاؤں گا
بیشک اس نے غور کیا اور اندازہ کیا
تو مارا جائے وہ کیسا اس نے اندازہ کیا
پھر وہ مارا جائے، کیسا اس نے اندازہ کیا
پھر اس نے دیکھا
پھر تیوری چڑھائی اور منہ بنایا
پھر پیچھے ہٹا اور تکبر کیا
تو (نبی کا پیغام سن کر) کہنے لگا یہ تو صرف جادو ہے چلا آتا ہوا
یہ تو صرف انسانی کلام ہے
عنقریب میں داخل کروں گا اسے سقر (یعنی دوزخ) میں
اور تمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے
نہ وہ باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے
جھلسا دے گی انسان کو
اس پر انیس (فرشتے مقرر) ہیں
اور ہم نے بنایا ہے دوزخ کے داروغہ فرشتوں کو، اور ہم نے بنائی ہے ان کی تعداد کو آزمائش کافروں کے لئے (19 کیوں اور بیس کیوں نہیں؟) تا کہ یقین کریں وہ لوگ جو اہل کتاب ہیں، اور زیادہ ہو ایمان ان لوگوں کا جو ایمان والے ہیں، اور شک میں نہ پڑیں اہل کتاب اور مؤمنین، اور کہیں گے وہ (منافقین) جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر بھی، کہ کیا ارادہ ہے اللہ کا اس مثال سے؟ اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے، اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور نہیں جانتا تمہارے رب کی فوج کو اس کے سوا کوئی، یہ نصیحت ہے انسانوں کیلئے
ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی
اور قسم ہے رات کی جب وہ پیچھے جائے
قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہو جائے
بیشک وہ (جہنم) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے
ڈرانیوالی ہے (وہ) انسانوں کو
جو چاہے تم میں سے آگے بڑھے (ایمان میں) یا جو چاہے تم میں سے پیچھے ہٹے
ہر شخص جو اس نے کمایا وہ گروی (یعنی ضمانت) ہے
سوائے دائیں ہاتھ والوں کے
(جو جنتی ہوں گے وہ) جنت میں سوال کریں گے
مجرموں سے
(کہ) کس چیز نے داخل کیا تمہیں دوزخ میں؟
وہ کہیں گے ہم نہیں تھے نمازی (یعنی دنیا میں غافل تھے)
اور ہم کھانا نہیں کھلاتے تھے مسکینوں کو
اور ہم بحث کیا کرتے تھے بحث کرنیوالوں کے ساتھ (گمراہی کی حمایت میں)
اور ہم جھٹلایا کرتے تھے قیامت کے دن کو
یہاں تک کہ آگئی ہمیں موت
تو نفع نہ دے گی انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش
تو کیا ہو گیا ہے انہیں، کہ نصیحت سے وہ اعراض کر رہے ہیں
گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکے ہوئے
جو فرار ہوتے ہیں شیر سے
بلکہ چاہتا ہے ہر ایک ان میں سے، کہ اسے عطا کی جائیں کھلی کتابیں (کہ بغیر عمل تمہاری مغفرت ہے)
ہرگز نہیں بلکہ یہ خوف نہیں رکھتے قیامت کا
ہرگز نہیں، بیشک یہ (قرآن) نصیحت ہے
تو جو چاہے نصیحت حاصل کرے اس (قرآن) سے
اور نصیحت وہی حاصل کرتا ہے جسے اللہ چاہتا ہے، وہی ہے بچانیوالا اور وہی ہے مغفرت کرنیوالا
سورۃ 75
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی
اور میں قسم کھاتا ہوں اپنے نفس پر ملامت کرنے والوں کی
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم (دوبارہ) ہرگز نہیں جمع کریں گے اس کی ہڈیاں
کیوں نہیں؟ ہم قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں اس کی پور کو (ہر ایک جوڑ کو)
بلکہ انسان چاہتا ہے کہ نافرمانی کرتا جائے آگے آگے
پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا؟
تو جب (آئے گی قیامت تو) پتھرا جائیں گی نگاہیں
اور بے نور ہو جائے گا چاند
اور جمع کر دیئے جائیں گے سورج اور چاند
کہے گا انسان اس دن کہ کہاں فرار ہوں (قیامت کی ہولناکی کیوجہ سے)
ہرگز نہیں، کوئی پناہ نہیں
تمہارے رب کے پاس ہی پناہ ہے
بتایا جائے گا انسان کو اس دن جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا ہو گا
بلکہ انسان اپنے آپ پے خود گواہ ہو گا
اور اگرچہ وہ ڈالے گا اپنا عذر (بہانہ)
(اے نبیؑ) آپ حرکت نہ دیں اپنی زبان کو کہ آپ جلدی کریں اس (قرآن کو پڑھنے) میں
بیشک ہم پر ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا
ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اتباع کریں اس کے پڑھنے کی
پھر بیشک ہم پر (ذمے داری) ہے اس کے بیان کی
ہرگز نہیں بلکہ تم محبت رکھتے ہو جلدی ملنے والی (دنیا) کی
اور چھوڑ دیتے ہو آخرت کو
بعض چہرے اس دن تازہ ہوں گے
اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے
اور بعض چہرے اس دن اداس ہوں گے
گمان کر رہے ہوں گے (کافر) کہ معاملہ کیا جائے گا ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا
ہرگز نہیں جب پہنچ جاتی ہے (روح) حلق کو
اور کہا جاتا ہے کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنیوالا ہے
اور یقین ہو جاتا ہے کہ جدائی کا وقت ہے
اور لپٹ جاتی ہے پنڈلی (دوسری) پنڈلی سے
(اب) تیرے رب کی طرف ہی چلنا ہے
تو نہ اس نے تصدیق کی نہ نماز پڑھی (دنیا میں ابو جہل نے)
اور لیکن جھٹلایا اور منہ پھیرا
پھر چلا گیا اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا
بہت تباہی ہو تیری اور بہت تباہی ہو تیری
پھر بہت تباہی ہو تیری اور بہت تباہی ہو تیری
کیا سمجھتا ہے انسان کہ (اسے) چھوڑ دیا جائے گا سدا؟
کیا وہ ایک نطفہ (یعنی قطرہ) نہ تھا منی کا جو ٹپکایا گیا؟ (ماں کے پیٹ میں)
پھر لوتھڑا ہوا پھر پیدا کیا اور درست کیا
پھر بنایا اس سے جوڑا مذکر اور مؤنث (یعنی نر اور مادہ جو اللہ نے چاہا)
کیا وہ (اللہ) نہیں اس پر قادر کہ زندہ کر دے مردے کو؟
سورۃ 76
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یقیناً آیا ہے انسان پر زمانے میں سے ایک ایسا زمانہ کہ وہ قابل ذکر بھی نہ تھا
بیشک ہم نے پیدا کیا انسان کو (مرد اور عورت کے پانی سے) ملے ہوئے نطفے سے، اسے آزمانے کے لئے، تو ہم نے بنایا اسے سننے اور دیکھنے والا
بیشک ہم نے ہدایت دے دی ہے اسے سیدھے راستے کی، چاہے تو وہ شکرگزار بنے، اور چاہے تو ناشکرا بنے
بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہے کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ
بیشک نیک لوگ پییں گے اس جام سے جس میں ملاوٹ ہوگی کافور کی
وہ ایک چشمہ ہے، جس سے پییں گے اللہ کے بندے، کھولے جائیں گے اسے (جدھر چاہیں گے)
(یہ ان کیلئے ہو گا جو) پوری کرتے ہیں نذر، اور ڈرتے ہیں اس دن سے جس کی برائی پھیل جائے گی
اور جو کھلاتے ہیں کھانا اس (اللہ) کی محبت میں مسکین کو، یتیم کو، اور قیدیوں کو
(یہ سمجھ کر کے) ہم کھلاتے ہیں تمہیں رضاء کے لئے اللہ کی، ہم نہیں چاہتے ہیں تم سے کوئی بدلہ اور نہ شکرگزاری
بیشک ہم خوف رکھتے ہیں اپنے رب سے، اس دن کا جو اداسی اور سختی والا ہے
تو بچالے گا انہیں اللہ اس دن کی برائی سے، اور ڈالے گا ان پر تازگی اور خوشی
اور ان کا بدلہ ان کے صبر کیوجہ سے ہو گا جنت اور ریشمی لباس
ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے اس میں مسندوں پر، نہیں دیکھیں گے اس میں سورج (کی تپش) اور نہ ٹھنڈک (کی تکلیف)
اور قریب ہوں گے ان پر سائے اور قریب ہوں گے پھلوں کے گچھے بہت قریب
اور پھیرے (یعنی پیش کیے) جائیں گے ان پر چاندی کے برتنوں اور ان پیالوں کو جو ہوں گے شیشے کے
شیشے چاندی کے ہوں گے، جن کی بناوٹ بہترین ہوں گی
اور پلائے جائیں گے انہیں اس میں (وہ) جام جن کی ملاوٹ زنجبیل کی ہو گی
ایک چشمہ ہے اس (جنت) میں جس کا نام سلسبیل ہے
ان کے اردگرد وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں، جب تم انہیں دیکھو گے تو گمان کرو گے کہ وہ موتی ہیں بکھرے ہوئے
اور جب تم دیکھو گے اور پھر دیکھو گے تو نعمت (ہی نعمت) اور بڑی بادشاہت (پاؤ گے)
اعلیٰ ہوں گے ان کے کپڑے پتلے ہرے ریشم اور موٹے ریشم کے، اور پہنایا جائے گا انہیں کنگن چاندی کا، اور پلائے گا انہیں ان کا رب پاکیزہ شراب
(کہا جائے گا) یہ ہے تمہارے لئے بدلہ، اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی (جو تو نے دنیا میں کی)
بیشک ہم نے نازل کیا ہے تم پر قرآن تھوڑا تھوڑا
تو تم جمے رہو اپنے رب کے حکم پر، اور نہ اطاعت کرو ان میں سے کسی گناہگار یا ناشکرے کی
اور یاد کرو اپنے رب کا نام صبح اور شام
اور رات میں سجدے کرو اس کے سامنے، اور تسبیح کیا کرو اس کی رات میں دیر تک
بیشک یہ لوگ چاہتے ہیں جلدی (یعنی دنیا) کو، اور چھوڑ دیتے ہیں اپنے پیچھے بھاری دن (قیامت) کو
ہم نے ان (کافر) کو پیدا کیا اور ہم نے مضبوط بنائے ان کے جوڑ، اور جب ہم چاہیں ان جیسے کسی اور سے بدل لائیں گے
بیشک یہ (قرآن) نصیحت ہے، تو جو چاہے بنالے اپنے رب کی طرف راستہ
اور تم لوگوں کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے
وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالموں کے لئے اس نے تیار کر رکھا ہے دردناک عذاب
سورۃ 77
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بھیجی جانیوالی خوش کن ہواؤں کی قسم
پھر سخت آندھی کی قسم
اور بکھیرنے والی ہواؤں کی قسم
(حق اور باطل میں) فرق کرنیوالے کی قسم
اور وحی لانیوالے فرشتوں کی قسم
عذر کرو یا ڈرو
جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے، وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے
جب ستارے مٹادیئے جائیں گے
اور جب آسمان پھٹ جائے گا
اور جب پہاڑ اڑادیئے جائیں گے
اور جب رسولوں کو وقت مقرر پر لایا جائے گا
کس دن کی تاخیر ہے؟
فیصلے کے دن کی
اور (اے نبیؑ) تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
پھر ہم لے آئے ان کے بعد پچھلوں کو
اسی طرح ہم کرتے ہیں (سلوک) مجرموں کے ساتھ
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
کیا ہم نے پیدا نہیں کیا تمہیں گھٹیا پانی سے؟
پھر ہم نے بنایا اسے محفوظ جگہ (پیٹ) میں
ایک وقت مقررہ تک
پھر ہم نے اندازہ کیا اور ہم بہتر اندازہ کرنے والے ہیں
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟
زندوں کو اور مردوں کو بھی
اور ہم نے بنائے اس میں بلند پہاڑ، اور ہم نے پلایا تمہیں میٹھا پانی
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
چلو اس (دوزخ) کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
چلو اس سائے کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں
وہ سایہ نہ ہو گا اور نہ بچا سکے گا شعلے سے
بیشک (جہنم) پھینکیں گی چنگاریاں جو محل کے برابر ہوں گی
گویا کہ وہ زرد اونٹ ہوں
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
یہ وہ دن ہے کہ (مجرمین) بول بھی نہ سکیں گے
اور نہیں اجازت دی جائے گی انہیں معذرت کی
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
یہ فیصلے کا دن ہے ہم جمع کریں گے تمہیں اور اگلوں کو
تو اگر تمہارے پاس کوئی چال ہو تو چل لو
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
بیشک متقین سایوں میں، اور چشموں میں ہوں گے
اور ان میووں میں جن کی وہ خواہش کریں
کھاؤ اور پیو مزے سے اس کے سبب جو تم عمل کیا کرتے تھے
بیشک اسی طرح ہم بدلہ دیں گے نیکی کرنیوالوں کو
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
کھاؤ اور فائدہ اٹھا لو تھوڑا، بیشک تم لوگ مجرم ہو
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیں کرتے ہیں
تباہی ہو گی اس دن جھٹلانے والوں کی
تو اس (قرآن کی) بات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے؟