یقیناً سن لی اللہ نے (خولہ بنت ثعلبہ کی) بات جو تم سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی، اور شکایت کر رہی تھی اللہ کے سامنے، اور اللہ سن رہا تھا تم دونوں کی بات بیشک اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے
سورۃ 58
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جو لوگ ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے (بیویوں کو ماں جیسی کہہ دیتے ہیں) وہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں پیدا کیا، اور بیشک اس طرح کی باتیں کہنا ناپسندیدہ اور جھوٹ ہے، اور بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے
اور جو لوگ ظہار کریں اپنی بیویوں سے، پھر وہ رجوع کر لیں اپنی ان باتوں سے جو انہوں نے کہی، تو ایک غلام آزاد کرے (بیوی سے) ملنے سے پہلے، اس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے، اور اللہ باخبر ہے اس سے جو تم کرتے ہو
تو جو شخص نہ پائے (غلام) تو وہ روزے رکھے دو مہینے لگاتار قبل اس کے کہ دونوں (میاں بیوی) ملیں، اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو تو وہ کھانا کھلائے ساٹھ مسکینوں کو، یہ اس لئے ہے تاکہ تم ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر، اور یہ اللہ کے حدود ہیں، اور کافروں کیلئے عذاب ہے دردناک
بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، وہ ذلیل کئے جائیں گے جیسے ذلیل کئے گئے ان سے پہلے کے لوگ، اور یقیناً ہم نے نازل کی ہیں واضح آیتیں، اور کافروں کیلئے گھٹیا عذاب ہے
جس دن اللہ (قبر سے) اٹھائے گا ان سب کو پھر بتائے گا انہیں جو عمل انہوں نے کئے، اللہ نے شمار رکھا ہے اسے اور وہ بھول گئے ہیں، اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، جب ہوتے ہیں مشورے میں تین لوگ تو وہ (یعنی اللہ رب العزت) ان کا چوتھا ہوتا ہے اور جب پانچ ہوتے ہیں وہ (اللہ) ان کا چھٹا ہوتا ہے، اور چاہے اس سے کم ہوں یا زیادہ وہ (اللہ) ان کے ساتھ ہوتا ہے چاہے وہ جہاں بھی ہوں، پھر وہ بتائے گا انہیں جو عمل وہ کیا کرتے تھے قیامت کے دن، بیشک اللہ ہر چیز کو جانتا ہے
کیا تو نے نہیں دیکھا جنہیں منع کیا گیا تھا (کانا پھوسی کے) مشورے سے پھر وہ دوبارہ کرنے لگے اسے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور وہ کانا پھوسی کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور نافرمانی کی رسول کی، اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو سلام کرتے ہیں ایسا جیسا اللہ نے تجھے نہیں کیا (السَّامُ عَلَیْکُمْ: تم پر موت ہو) اور وہ کہتے ہیں اپنے دل میں کہ کیوں سزا نہیں دیتا ہمیں اللہ اس پر جو ہم کہتے ہیں، ان کیلئے جہنم کافی ہے جس میں یہ داخل ہوں گے، تو وہ برا ٹھکانہ ہے
اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو جب تم (کسی معاملے میں رسول اللہ سے) مشورہ کرو تو تم نہ کرو مشورہ گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی (کی باتوں) کا، بلکہ تم مشورہ کرو نیکی اور تقویٰ کی باتوں پر اور ڈرو اللہ سے جس کی طرف تم (قیامت کے دن) جمع کئے جاؤ گے
یقیناً کانا پھوسی شیطانی (عمل) ہے (یہودی اور منافقین سلئے کرتے ہیں) تاکہ غم پہونچے ایمان والوں کو اور (جبکہ) نہیں وہ ضرر پہونچا سکتے کچھ بھی سوائے اللہ کے حکم سے، اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے ایمان والوں کو
اے ایمان والو! جب کہا جائے تم سے کہ جگہ بناؤ (دوسروں کیلئے) مجلسوں میں، تو تم جگہ بناؤ اللہ جگہ بنائے گا تمہارے لئے، اور جب کہا جائے کھڑے ہو جاؤ تو تم کھڑے ہو جاؤ اللہ بلند کر دے گا ایمان والوں کے تم میں سے اور اور ان لوگوں کے درجے جنہیں علم عطا کیا گیا، اور اللہ باخبر ہے تمہارے اس عمل سے جو تم کرتے ہو
اے ایمان والو! جب تم مشورہ کرو رسول سے (کسی معاملے میں) تو تم کچھ صدقہ کرو اپنے مشورے سے پہلے، یہ بہتر ہے تمہارے لئے اور پاکیزہ ہے، تو اگر (صدقہ) نہ پاؤ تو بیشک اللہ غفور (اور) رحیم ہے
کیا تم ڈر گئے (اے اصحاب رسول صدقہ) دینے سے، اپنے مشورے سے پہلے، تو جب تم نے ایسا نہیں کیا (غربت کیوجہ سے) تو اللہ نے معاف فرما دیا تمہیں، تو (اب) قائم کرو نماز اور ادا کرو زکوٰۃ، اور اطاعت کرو اللہ اور اسکے رسول کی، اور اللہ باخبر ہے تمہارے اعمال سے جو تم کرتے ہو
کیا تو نے نہیں دیکھا ان (منافقین) کو جنہوں نے دوستی کی اس (یہودی) قوم سے جن پر اللہ نے غضب کیا ہے، یہ (منافقین) نہ تمہارے ہیں نہ ان (یہودیوں) کے، قسمیں کھا رہے ہیں جھوٹی اور جانتے ہیں (کہ جھوٹ ہے)
تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب، بیشک وہ (دوستی کا عمل) برا ہے جو یہ کر رہے ہیں
انہوں نے بنا رکھا ہے اپنی قسموں کو ڈھال تو وہ روکتے ہیں (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے تو ان کیلئے گھٹیا عذاب ہے
ہرگز کام نہ آئیں گے (قیامت میں) ان کے مال اور نہ ہی ان کی اولاد اللہ کے پاس کچھ بھی، یہی وہ لوگ ہیں جو جہنمی ہیں وہ اس (جہنم) میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
جس دن اٹھائے گا اللہ ان سب کو (قبروں سے) تو یہ قسمیں کھائیں گے اللہ کے سامنے جس طرح قسمیں کھاتے ہیں تمہارے سامنے، اور وہ گمان کریں گے کہ وہ کسی دلیل پر ہیں (چھٹکارے کی) خبردار بیشک وہ جھوٹے ہیں
غلبہ ہے ان (منافقین) پر شیطان کا، اور بھلا دیا ہے انہیں (شیطانوں نے) اللہ کا ذکر، یہ شیطانی جماعت ہے، خبردار بیشک شیطانی جماعت ہی خسارے میں ہے
بیشک وہ (منافقین) جو حدود پھلانگتے (یعنی مخالفت کرتے) ہیں اللہ اور اسکے رسول کی، وہی سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں
لکھ دیا ہے اللہ نے کہ یقیناً میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے، بیشک اللہ زبردست قوت والا ہے
تم ہرگز نہ پاؤ گے کسی قوم کو جو ایمان رکھتی ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر پھر وہ محبت کریں (ان سے) جو مخالفت رکھیں اللہ اور اسکے رسول سے، اور اگرچہ وہ ہوں ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبے کے، یہی لوگ ہیں لکھ دیا ہے جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو، اور تائید کی اس (اللہ) نے ان کی اپنی روح (یعنی مدد) سے اور وہ داخل کرے گا انہیں جنتوں میں جن کے نیچے جاری ہیں نہریں، ہمیشہ رہیں گے ان میں، اللہ ان (مؤمنین) سے راضی ہوا، اور یہ (مؤمنین) اللہ سے راضی ہوئے، خبردار بیشک یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں (اور) یہی کامیاب ہونے والے ہیں
سورۃ 59
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تسبیح بیان کرتے ہیں اللہ ہی کیلئے جو بھی ہیں آسمانوں اور جو بھی ہیں زمین میں، اور وہ زبردست حکمت والا ہے
وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب (بنو نضیر کے یہودیوں) میں سے ان کے گھروں سے پہلے حشر (یعنی مڈ بھیڑ) میں، تمہارا گمان نہیں تھا کہ وہ نکلیں گے، اور وہ خود بھی گمان کر رہے تھے کہ بچالیں گے انہیں ان کے قلعے اللہ سے (بنو نضیر کی جنگ میں) تو آیا ان پر اللہ (کا حکم) ایسی جگہ سے کہ وہ گمان بھی نہ کر سکے، اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، وہ خراب کر رہے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اور مؤمنین کے ہاتھوں بھی، تو عبرت حاصل کرو اے آنکھ والو (یعنی عقل والو)
اور اگر نہ لکھی ہوتی اللہ نے ان پر جلا وطنی تو یقیناً انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا (قتل یا قیدی بنا کر) اور ان کیلئے آخرت میں آگ کا عذاب ہے
یہ اس لئے کہ انہوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول کی، اور جو مخالفت کرے گا اللہ کی، تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
جو بھی تم نے کاٹے کھجوروں کے درخت یا جنہیں تم نے چھوڑ دیا قائم ان کی جڑوں پر، تو یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا، اور تاکہ اللہ رسوا کرے فاسقوں کو
اور جو (مال فیء، بغیر لڑے) عطا کیا اللہ نے اپنے رسول کو ان سے، تو نہ دوڑائے تم نے اس پر اپنے گھوڑے اور نہ اونٹ، اور بلکہ اللہ (ہی ہے جو) مسلط کر دیتا ہے اپنے رسول کو جس پر چاہتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
جو (مال فیء، بغیر لڑے) عطا کیا اللہ نے اپنے رسول کو بستی والوں (بنو نضیر) کا وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور (رسول اللہ کے) رشتے داروں کا اور یتیموں اور مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے، تاکہ نہ رہ جائے دولت تمہارے مالداروں کے درمیان اور جو عطا کرے تمہیں رسول تو تم اسے لے لو، اور جس سے وہ روکے تمہیں اس سے تم رک جاؤ، اور تم ڈرو اللہ سے، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
(مال فیء) ان مہاجر فقراء کیلئے ہے جو نکالے گئے اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے (اس وجہ سے کہ) وہ تلاشتے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضاء، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ سچے (مؤمن) ہیں
اور (مال فیء، ان کیلئے بھی ہے) جنہوں نے ٹھکانہ بنایا بطور گھر (مدینے میں) اور ایمان میں ان سے پہلے ہیں، اور وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کر کے آتے ہیں ان کی طرف، اور وہ نہیں پاتے اپنے دلوں میں کوئی تنگی اس پر جو عطا کیا جائے (مہاجرین کو) اور وہ ترجیح دیتے ہیں اپنے اوپر (انہیں) اگرچہ انہیں فاقہ (یعنی بھوکمری) ہو، اور جسے بچالیا جائے اپنے نفس کے بخل سے تو وہی لوگ کامیاب ہیں
اور (مال فیء، ان کیلئے بھی ہے) جو آئیں گے ان کے بعد کہیں گے اے ہمارے رب! مغفرت فرما ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور نہ ڈال ہمارے دلوں میں کینہ ایمان والوں کیلئے، اے ہمارے رب! بیشک تو شفیق اور مہربان ہے
کیا نہیں دیکھا تو نے (عبداللہ بن ابی سلول اور ان کے ساتھی) منافقوں کو، جو کہتے ہیں اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہ اگر تم نکالے گئے تو یقیناً ہم بھی نکل جائیں گے تمہارے ساتھ، اور ہم نہیں مانیں گے تمہارے بارے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر تم سے جنگ کی جائے تو ضرور ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہ ہے بیشک یہ جھوٹے ہیں
اگر نکالے گئے (یہودی) تو یہ (منافقین) نہیں نکلیں گے ان کے ساتھ، اور اگر قتال کیا گیا ان کے ساتھ تو یہ مدد نہ کریں گے ان کی، اور اگر مدد کی بھی ان کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی
تمہارا خوف ان (یہودیوں) کے دلوں میں بہت زیادہ ہے اللہ (کے خوف) سے ایسا اسلئے کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں (اللہ کی طاقت)
یہ سب (یہودی) مل کر بھی تم سے لڑ نہیں سکتے، مگر یہ کہ قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کے پیچھے سے ان کی آپسی لڑائی بہت سخت ہے، تم (مسلمان) سمجھتے ہو ان (یہودیوں) کو ایک ساتھ اور ان کے دل جدا ہیں، یہ اسلئے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں
ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے پہلے گزرے ہیں (جنگ بدر میں) جنہوں نے چکھا اپنے کئے کا مزہ، اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے
شیطان کی طرح ہے کہ اس نے کہا انسان سے کفر کرو، تو جب اس نے کفر کیا، تو کہنے لگا میں بری ہوں تم سے، میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو رب ہے سارے جہاں کا
تو دونوں (شیطان اور کافر) کا انجام یہ ہو گا کہ بیشک دونوں آگ میں ہوں گے ہمیشہ رہیں گے اس میں، اور یہی سزا ہے ظالموں کی
اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے، اور چاہئے کہ دیکھ لے ہر شخص کہ اس نے کل (قیامت) کیلئے کیا آگے بھیجا ہے، اور ڈرو اللہ سے بیشک اللہ باخبر ہے اس عمل سے جو تم کرتے ہو
اور (مؤمنو!) تم مت ہو جانا ان کی طرح جنہوں نے بھلا دیا اللہ (کے حقوق) کو، تو اللہ نے بھی بھلا دیا انہیں اپنے آپ (کی فکر) سے، یہی فاسق ہیں (جو کفار، منافقین، مشرکین اور یہودی ہیں وہ اہل نار ہیں)
نہیں ہیں برابر اہل نار اور اہل جنت، اہل جنت ہی کامیاب ہیں
اگر ہم نازل کرتے اس قرآن کو کسی پہاڑ پر، تو یقیناً تم دیکھتے اس (پہاڑ) کو کہ جھک جاتا (اور) پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے، اور یہ وہ مثالیں ہیں جنہیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کیلئے تاکہ وہ غور و فکر کریں
وہی اللہ ہے (وحدہ لا شریک) جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا وہ رحمان (اور) رحیم ہے
وہی اللہ ہے (وحدہ لا شریک) جس کے سوا کوئی معبود نہیں، مالک ہے، پاک ہے، سلامتی والا ہے، امن دینے والا ہے نگہبان ہے، زبردست ہے، زور آور ہے، بڑائی والا ہے، پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں
وہی اللہ ہے پیدا کرنیوالا، درست بنانے والا صورت بنانیوالا، اسی کیلئے اچھے نام ہیں، تسبیح بیان کرتی ہے ہر چیز جو بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور وہ زبردست حکمت والا ہے
سورۃ 60
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے ایمان والو! نہ بناؤ تم میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست، تم (حاطب بن ابی بلتعہ) ڈالتے ہو ان (اہل مکہ) کی طرف محبت (کا پیغام) اور یقیناً وہ انکار کرتے ہیں اس حق کا جو آچکا ہے تمہارے پاس (اسلام) اور وہ نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو، کیوں کہ تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو تمہارا رب ہے اگر تم نکلتے ہو جہاد کیلئے میرے راستے میں اور میری رضا کی تلاش میں (تو اب ایمان لانے کے بعد) تم چھپ کے ان سے محبت کرتے ہو، اور مجھے معلوم ہے جو تم نے چھپایا اور جو تم نے اعلانیہ کیا، تم میں سے جو بھی اس (کام) کو کرے گا تو یقیناً وہ گمراہ ہو گا سیدھے راستے سے
اگر پالیں (یہ اللہ کے دشمن موقع) تم پر تو ہو جائیں تمہارے دشمن، اور بڑھائیں تم پر اپنا ہاتھ اور اپنی زبان برائی کے ساتھ، اور یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہو جاؤ
ہرگز فائدہ نہ دیں گی تمہیں تمہاری رشتے داری اور نہ ہی تمہاری اولاد قیامت کے دن (اللہ) فیصلہ فرمائے گا تمہارے درمیان، اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
یقیناً ہے تمہارے لئے بہترین نمونہ ابراہیم (کی زندگی) میں اور ان کے ساتھیوں میں، جب کہا انہوں نے اپنی قوم سے کہ ہم بری ہیں تم سے اور جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا، ہم نے انکار کر دیا ہے تمہارا، اور شروع ہو گئی ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ تم ایمان لاؤ اللہ وحدہٗ پر، مگر وہ بات (وعدے کے تحت تھی) جو ابراہیم نے اپنے باپ سے کہی کہ میں استغفار کروں گا تمہارے لئے، اور میں نہیں مالک تمہارے لئے اللہ کے سامنے کسی چیز کا، اے ہمارے رب! تجھ پر ہم توکل کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف ٹھکانہ ہے
اے ہمارے رب! تو نہ ڈال ہمیں آزمائش میں کافروں کی (غلبہ نہ فرما) اور مغفرت فرما ہماری اے ہمارے رب! بیشک تو ہی زبردست حکمت والا ہے
یقیناً تمہارے لیے ان (ابراہیم) میں بہترین نمونہ ہے، اس کیلئے جو امید رکھتا ہو اللہ کی (ملاقات کی) اور آخرت کے دن کی اور جو منہ پھیرے، تو بیشک اللہ بے نیاز قابل تعریف ہے
ممکن ہے کہ اللہ ڈال دے تمہارے درمیان اور جو عداوت رکھتے ہیں تم سے ان کے درمیان محبت، اور اللہ قادر ہے اور اللہ نہایت مغفرت کرنیوالا رحیم ہے
اور اللہ تمہیں نہیں منع کرتا ان لوگوں سے دوستی کرنے سے جنہوں نے تم سے جنگ نہیں کی دین کے بارے میں، اور تمہیں نہیں نکالا تمہارے گھروں سے، کہ تم بھلائی کرو ان کے ساتھ، اور انصاف کرو ان کے حق میں، بیشک اللہ محبت کرتا ہے انصاف کرنیوالوں سے
صرف اللہ روکتا ہے تمہیں ان لوگوں (کی محبت) سے جنہوں نے جنگ کی تم سے دین کے بارے میں، اور نکالا تمہیں تمہارے گھروں سے، اور مدد کی تمہارے نکالنے والوں کی، کہ تم دوستی کرو ایسے لوگوں سے، اور جو دوستی کرے گا ایسے لوگوں سے تو وہی ظالم ہیں
اے ایمان والو! جب آئیں تمہارے پاس مؤمن عورتیں ہجرت کر کے تو تم ان کا امتحان لو (کہ واقع مؤمنہ ہیں یا نہیں) اللہ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو، تو اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ مؤمنہ ہیں تو نہ لوٹاؤ انہیں کافروں کی طرف، یہ ان کے لئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کیلئے حلال ہیں، اور ادا کر دو انہیں (مہر) جو (ان کافروں نے) خرچ کیا ہو (مہر میں) اور نہیں ہے تم پر کوئی گناہ کہ تم نکاح کر لو ان عورتوں سے جبکہ تم نے دے دئے ہوں انہیں ان کا اجر (یعنی مہر) اور مت روکو اپنے پاس کافروں کی عزت کو (بیوی کافرہ ہو تو جانے دو) اور مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہو (مہر میں) اور چاہئے کہ وہ بھی مانگ لیں (مہر) جو ان کافروں نے خرچ کیا ہو یہ اللہ کا حکم ہے وہ فیصلہ کرتا ہے تمہارے درمیان، اور اللہ علم والا حکمت والا ہے
اور اگر چلی جائے تمہاری کوئی بیوی کافروں کی طرف، تو تم (مال آنے کا) انتظار کرو (جب آجائے) تو تم دے دو انہیں جو چلی گئی ہیں ان کی بیویاں (کافروں کی طرف) اس کے برابر جو انہوں نے خرچ کئے (مہر میں) اور ڈرو اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو
اے نبی! جب آئیں مؤمنہ عورتیں تمہارے پاس ان باتوں پر بیعت کرنے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، قتل نہیں کریں گی اپنی اولاد کو، اور نہیں باندھیں گی کوئی بہتان جو گھڑ لیں اپنے ہاتھوں اور پیروں سے (یعنی زنا نہیں کریں گی) اور نہ نافرمانی کریں گی تمہاری نیک کاموں میں تو تم ان سے بیعت لے لو، اور مغفرت طلب کرو ان کیلئے اللہ سے بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے
اے ایمان والو! نہ کرو تم دوستی اس (یہودی اور منافقین) قوم سے جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے، یقیناً وہ مایوس ہیں آخرت سے جیسے کافر مایوس ہیں قبر والوں سے (کہ کوئی حساب نہیں، بس مرنا اور سڑ گل جانا ہے)
سورۃ 61
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں (وہ سب ہی) جو کچھ بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں، اور وہ زبردست حکمت والا ہے
اے ایمان والو! تم کیوں کہتے ہو (وعدہ خلافی کی وہ بات) جو کرتے نہیں
بہت ناپسندیدہ ہے اللہ کے نزدیک (وہ بات) جو تم کہتے ہو وہ کرتے نہیں
بیشک اللہ محبت کرتا ہے ان لوگوں سے جو قتال کرتے ہیں اس کے راستے میں صف بصف، گویا کہ وہ دیوار ہوں سیسہ پلائی ہوئی
اور (یاد کرو) جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اے میری قوم! کیوں اذیت دیتے ہو تم مجھے اور یقیناً تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف، تو جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ٹیڑھا کر دیا ان کے دلوں کو اور اللہ ہدایت نہیں دیتا فاسق قوم کو
اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے اے بنی اسرائیل! بے شک میں رسول ہوں اللہ کا تمہاری طرف (اور اللہ کی جانب سے) میں تصدیق کرنیوالا ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی، اور بشارت دیتا ہوں ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد اسکا نام احمد ہو گا، تو جب وہ (نبیؐ) لے کر آئے ان کے پاس کھلی دلیلیں، تو وہ کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے
اور اس سے بڑا ظالم کون ہو گا؟ جو جھوٹ باندھے اللہ پر، اور جبکہ ان (کفار مکہ) کو بلایا جاتا ہے اسلام کی طرف، اور اللہ (ایسے) ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور (یعنی دین) کو اپنے منہ سے، اور اللہ مکمل کرنیوالا ہے اپنے نور کو، اگرچہ ناپسند ہو کافروں کو
وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر، تاکہ وہ ظاہر (یعنی غالب) کرے اسے تمام دینوں پر، اور اگرچہ ناپسند ہو مشرکوں کو
اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو، کیا میں بتاؤں تمہیں وہ تجارت، جو نجات دے تمہیں دردناک عذاب سے
(وہ یہ ہے کہ) تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر، اور تم جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے، یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانو
(اللہ رب العزت) معاف فرما دے گا تمہارے گناہوں کو، اور داخل کرے گا تمہیں ان جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، اور پاکیزہ رہنے کی جگہ جنت عدن میں (یقیناً تمہارے لئے) یہ بہت بڑی کامیابی ہے
اور دوسری (وہ نعمت) جسے تم چاہتے ہو، وہ اللہ کی مدد، اور قریبی فتح (فتح مکہ) ہے اور بشارت دو مؤمنوں کو
اے ایمان والو! تم ہو جاؤ اللہ کے مددگار، جس طرح کہا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں (یعنی اپنے شاگردوں) سے (کہ) کون میری مدد کرے گا اللہ کیلئے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں، تو ایمان لائی ایک جماعت بنی اسرائیل میں سے، اور انکار کیا ایک جماعت نے، تو ہم نے مدد کی مؤمنوں کی ان کے دشمنوں پر، تو وہ (مؤمن) ہو گئے غالب
سورۃ 62
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور جو کچھ بھی زمین میں ہے، (جو) بادشاہ ہے نہایت پاک زبردست حکمت والا ہے
وہی ہے جس نے بھیجا امیّوں (یعنی ان پڑھوں) میں ایک رسولؐ ان ہی میں سے، جو پڑھ کر سناتا ہے انہیں اس کی آیتیں، اور ان کو پاک کرتا ہے اور سکھاتا ہے انہیں کتاب اور حکمت اور اگرچہ یہ (اہل مکہ) تھے اس سے پہلے کھلی گمراہی میں
اور دوسروں کیلئے بھی (نبی ہیں) ان میں سے جو نہیں ملے ابھی ان سے (آنیوالے لوگ) اور وہ زبردست حکمت والا ہے
یہ (نبوت) اللہ کا فضل ہے وہ عطا کرتا ہے اسے جسے وہ چاہتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
مثال ان (یہودیوں) کی جنہیں تورات دی گئی، پھر انہوں نے نہیں اٹھایا (یعنی عمل نہیں کیا) ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جس پر لدی ہو کتابیں، بری مثال ہے ان کی جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو، اور اللہ ہدایت نہیں دیتا (ایسی) ظالم قوم کو
کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا گمان (یعنی دعویٰ) ہے کہ بیشک تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے علاوہ، تو تم تمنا کرو موت کی اگر تم سچے ہو
اور یہ تمنا نہیں کریں گے اس کی کبھی بھی بوجہ ان اعمال کے جو کما بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے، اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو
کہہ دیجئے! کہ (اے یہودیو!) جس موت سے تم فرار ہو رہے ہو وہ تمہیں مل کے رہے گی، پھر تم لوٹائے جاؤ گے غیب اور ظاہر کے جاننے والے کی طرف، تو وہ بتائے گا تمہیں جو عمل تم کیا کرتے تھے
اے ایمان والو! جب نداء (یعنی اذان) دی جائے نماز کیلئے جمعے کے دن، تو تم دوڑ پڑو اللہ کے ذکر کی طرف، اور چھوڑ دو تجارت (اور دیگر کام) یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانو
پھر جب نماز پوری کر چکو تو پھیل جاؤ زمین میں (روزی کی تلاش کے لیے) اور تلاش کرو اللہ کا فضل، اور اللہ کو یاد کرو کثرت سے، تاکہ تم فلاح پاسکو
اور جب (آپ کے صحابہؓ) دیکھتے ہیں کوئی تجارت یا کوئی تماشہ، تو دوڑ جاتے ہیں اس کی طرف اور وہ چھوڑ دیتے ہیں آپ کو کھڑا، آپ کہہ دیجئے! کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اس تماشہ اور تجارت سے، اور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے
سورۃ 63
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک آپ اس کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک یہ منافق جھوٹے ہیں
انہوں نے بنا رکھا ہے اپنی قسموں کو ڈھال (جنگ سے بچنے کیلئے) اور روکتے ہیں (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے، بیشک برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں
یہ اسلئے کہ یہ ایمان لے آئے پھر کافر ہو گئے، تو مہر لگا دی گئی انکے دلوں پر، تو یہ سمجھتے نہیں
اور جب آپ انہیں دیکھیں تو آپ کو تعجب ہو گا ان کے جسموں (کے ڈیل ڈول) پر اور جب یہ باتیں کرنے لگیں اور آپ سنیں ان کی باتوں کو (تو) گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار سے لگی ہوئیں ہر چیخ کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں (بزدلی کی وجہ سے) یہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہیں، اللہ انہیں غارت کرے، کہاں یہ بہک رہے ہیں؟
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ استغفار کریں تمہارے لئے اللہ کے رسول، تو مٹکاتے ہیں اپنا سر اور آپ دیکھیں گے کہ وہ رک جاتے ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں
برابر ہے ان پر (یعنی ان کے حق میں) آپ استغفار کریں ان کیلئے یا نہ کریں استغفار ان کیلئے، ہرگز اللہ مغفرت نہیں کرے گا ان کی بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا نافرمانوں کو (اس کے بعد آپ نے منافقوں کیلئے مغفرت کی دعاء چھوڑ دیں)
یہی وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ (یہ صحابہ کرامؓ) بھاگ جائیں، اور اللہ ہی کے خزانے ہیں آسمانوں کے اور زمین کے، اور لیکن یہ منافق نہیں سمجھتے
(یہ منافقین) کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے، تو ہم عزت والے ضرور نکالیں گے وہاں سے ذلت والے (مؤمنوں) کو، اور عزت تو صرف اللہ کیلئے اور اس کے رسول کیلئے اور ایمان والوں کیلئے ہے اور لیکن یہ منافقین نہیں جانتے (یعنی انہیں اللہ کے وعدے پر یقین نہیں)
اے ایمان والو! تمہیں غافل نہ کر دیں تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے، اور جو ایسا کرے گا تو یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ پانیوالے ہیں
اور خرچ کرو جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے تمہیں (موقع غنیمت جان کر) اس سے پہلے کہ آ جائے تم میں کسی کو موت، تو کہنے لگے اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی مہلت کیوں نہیں دی؟ کہ میں صدقہ کروں اور ہو جاؤں نیک لوگوں میں سے
اور ہرگز مہلت نہیں دیتا اللہ کسی شخص کو جب آجاتا ہے اس کا مقررہ وقت، اور اللہ باخبر ہے اس عمل سے جو تم کرتے ہو
سورۃ 64
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تسبیح بیان کرتی ہیں اللہ ہی کیلئے (تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے تو تم میں سے بعض کافر اور بعض ایمان والے ہیں، اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے ان اعمال کو جو تم کر رہے ہو
اسی نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو برحق، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں، اور بہت اچھی صورت بنائیں، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
وہ جانتا ہے جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں، اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو، اور اللہ سینوں کی باتوں کو جاننے والا ہے
کیا نہیں آئی تمہارے پاس اس سے پہلے کے کافروں کی خبر، جنہوں نے مزہ چکھا اپنے کئے کے وبال کا، اور جن کیلئے دردناک عذاب ہے (آخرت میں)
یہ اسلئے کہ بے شک آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر، تو انہوں نے کہا کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا، تو انکار کیا اور منہ پھیر لیا، اور اللہ نے بھی بے نیازی کی (انہیں چھوڑ کر) اور اللہ بے نیاز قابل تعریف ہے
گمان ہے ان کافروں کا کہ دوبارہ زندہ نہیں ہونا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں میرے رب کی قسم! تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا جو عمل تم نے کیا، اور یہ (کام) اللہ پر آسان ہے
تو تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس (قرآنی) نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے اور اللہ باخبر ہے اس عمل سے جو تم کرتے ہو
اس دن وہ جمع کرے گا تم کو جمع ہونے کے دن، وہ دن ہے ہار جیت کا (جنت اور دوزخ کا) اور جو شخص ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا، اور اسے داخل کرے گا جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ہمیشہ رہیں گے اس میں ہمیشہ ہمیش، یہی بڑی کامیابی ہے
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو وہی لوگ جہنمی ہیں وہ ہمیشہ رہیں گے اس میں، اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
جو مصیبت بھی پہونچتی ہے (انسانوں کو وہ) اللہ کی اجازت سے ہے اور جو ایمان لائے اللہ پر وہ اس کے دل کی رہنمائی کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، تو اگر تم پلٹ جاؤ تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف کھول کر پہونچا دینا ہے
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے مؤمنوں کو
اے ایمان والو! تمہاری (بعض) بیویاں اور (بعض) بچے تمہارے دشمن ہیں، تو بچتے رہو ان سے، اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر دو اور بخش دو، تو اللہ (بھی تمہیں) بخشنے والا مہربان ہے
تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے
تو ڈرو اللہ سے جہاں تک تمہاری طاقت ہو، اور سنو اور اطاعت کرو، اور خرچ کرو (اللہ کی راہ میں) یہ بہتر ہے تمہارے لئے اور جو بچالے اپنے آپکو نفس کی حرص (یعنی لالچ) سے، تو وہی کامیاب ہے
اگر تم اللہ کو بہتر قرض دو گے، تو وہ اسے بڑھا کر دیگا تمہارے لیے، اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا، اللہ بڑا قدر دان بڑا بردبار ہے
وہ جانتا ہے غیب اور ظاہر کو زبردست حکمت والا ہے
سورۃ 65
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے نبیؐ جب تم طلاق دو اپنی عورتوں کو تو طلاق دو ان کی عدت (یعنی پاکی کے دنوں) میں، اور عدت کا حساب رکھو، اور ڈرو اللہ سے (جو) تمہارا رب ہے نہ تم نکالو انہیں (عدت میں گالی گلوج کر کے) ان کے گھروں سے، اور نہ وہ خود ہی نکلیں، مگر جب کھلم کھلا کوئی بے حیائی کا کام کریں، اور یہ اللہ کے حدود ہیں اور جو آگے بڑھے گا اللہ کے حدود سے تو یقیناً اس نے ظلم کیا اپنے اوپر، تمہیں نہیں معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے (یعنی مرد رجوع کر لے)
تو جب وہ پہونچ جائیں اپنی عدت کو، تو انہیں روک لو بھلے طریقے سے یا جدا کر دو بھلے طریقے سے، اور گواہ مقرر کر لو دو عادل شخص کو اپنوں میں سے اور قائم کرو گواہی اللہ کے لئے، یہ وہ نصیحت ہے جو کی جاتی ہے اسے جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اور جو ڈرتا ہے اللہ سے اللہ بنا دیتا ہے اس کیلئے نکلنے (یعنی چھٹکارے) کی شکل
اور وہ روزی دیتا ہے اسے ایسی جگہ سے جسکا اسے گمان بھی نہ ہو، اور جو توکل کرے اللہ پر تو اللہ اسے کافی ہے بیشک اللہ کا حکم پورا ہو کے رہتا ہے، یقیناً بنا رکھا ہے اللہ نے ہر چیز کیلئے ایک مقرر اندازہ
اور جو عورتیں ناامید ہو گئی ہوں حیض سے تمہاری عورتیں (زیادہ عمر کی وجہ سے) اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے، اور جنہیں حیض نہ آیا ہو (ان کی بھی تین مہینے ہے) اور حاملہ کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ پیدا ہونے تک) ہے اور جو ڈرے گا اللہ سے اللہ بنا دیگا اس کیلئے اس کے کام میں آسانی
یہ اللہ کا حکم ہے جسے اس نے نازل کیا ہے تمہاری طرف، اور جو ڈرے گا اللہ سے اللہ مٹا دے گا اس کے گناہوں کو، اور وہ اسے اجر عظیم عطا کرے گا
تم رکھو ان (طلاق والی عورتوں) کو جہاں تم رہتے ہو اپنی طاقت کے مطابق، اور نہ ضرر پہونچاؤ انہیں تنگ کرنے کیلئے (یہ عدت کے دنوں کے حکم ہیں) اور اگر وہ حاملہ ہوں تو خرچ کرو ان پر یہاں تک کہ وضع حمل ہو (یعنی بچہ پیدا ہو) پھر اگر وہ دودھ پلائیں تمہارے بچے کو تو دو انہیں ان کی اجرت، اور مشورہ کر لیا کرو آپس میں بھلے طریقے سے اور اگر تمہیں پریشانی ہو آپس میں تو اس (بچے) کیلئے کوئی اور دودھ پلائے گی
خرچ کرنا چاہئے وسعت (یعنی مال) والے کو اپنی وسعت سے، اور جس پر رزق کی تنگی کی گئی ہو تو اسے خرچ کرنا چاہئے جو کچھ عطا کیا ہے اسے اللہ نے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اسی قدر جو عطا کر رکھا ہے اسے، عنقریب کر دے گا اللہ تنگی کے بعد آسانی
اور کتنی ہی بستی والوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں کے حکم سے، تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب لیا، اور انہیں ناپسندیدہ عذاب دیا
تو چکھا انہوں نے اپنے کئے کا مزہ، اور اس کے کئے کا انجام خسارہ ہی ہوا
تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان کیلئے سخت عذاب، تو ڈرو اللہ سے اے وہ عقلمندو جو ایمان لائے ہو! یقیناً نازل کی ہے اللہ نے تمہاری طرف نصیحت
رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھ کر سناتے ہیں تمہیں اللہ کی کھلم کھلا آیتیں، تاکہ وہ نکالیں ان لوگوں کو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اندھیرے سے روشنی کی طرف، اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے (اللہ) داخل کرے گا اسے ایسی جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے یقیناً بہترین روزی دے گا اللہ اسے
اللہ ہی ہے وہ جس نے پیدا کئے سات آسمان اور زمین بھی اسی کے مثل (یعنی سات زمین بھی) نازل ہوتا ہے اس کا حکم ان (آسمان اور زمین) کے درمیان، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور بیشک اللہ نے گھیر رکھا ہے ہر چیز کو اپنے علم سے
سورۃ 66
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے آپ کے لئے (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضاء چاہتے ہیں؟ اور اللہ بخشنے والا رحم کرنیوالا ہے
یقیناً اللہ نے فرض کیا ہے آپ کیلئے قسموں کو حلال کرنا (کفارہ دے کر) اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی علم والا حکمت والا ہے
اور جب چھپانے کو کہا نبیؐ نے اپنی بعض بیوی (حفصہؓ) سے ایک بات، تو جب اس (حفصہؓ) نے بتا دی اسکو اس (عائشہؓ) سے اور ظاہر کر دی اللہ نے اسکو اس (نبیؐ) پر تو تفتیش کی (نبیؐ نے) بعض باتوں کی اور چھوڑ دی بعض کو (حفصہؓ سے) تو جب (نبی نے) بتائی اس (حفصہؓ) کو یہ بات تو بولیں آپ کو کس نے خبر دی اسکی؟ فرمایا مجھے خبر دی جاننے والے خبر رکھنے والے (اللہ) نے
اگر تم (حفصہؓ اور عائشہؓ) دونوں توبہ کر لو اللہ کے سامنے (تو بہتر ہے) یقیناً تم دونوں کے دل ہٹ گئے ہیں (حق سے) اور اگر تم دونوں مظاہرہ کرو گی نبیؐ کے خلاف، تو بیشک اللہ اسکا کارساز ہے اور جبریلؑ اور نیک ایمان والے، اور فرشتے بھی ان کے علاوہ مدد گار ہیں
اگر (نبیؐ) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں ان کا رب عنایت فرمائے گا بدلے میں تم سے بہتر بیویاں، جو مسلمہ، مؤمنہ، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے رکھنے والیاں، بیوہ، اور کنواریاں ہوں گی
اے ایمان والو! بچاؤ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، اس پر فرشتے (مقرر) ہیں سخت (اور) مضبوط ہیں وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو حکم (اللہ) دیتا ہے انہیں (انہیں) اور وہ وہی کرتے ہیں جو حکم انہیں دیا جاتا ہے
اے کافرو! تم عذر (یعنی بہانہ) مت کرو آج، تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو عمل تم کیا کرتے تھے
اے ایمان والو! تم (سب مل کر) توبہ کرو اللہ کے سامنے سچی توبہ، (تو) ممکن ہے کہ تمہارا رب دور کر دے تم سے تمہارے گناہ، اور داخل کرے تمہیں ایسی جنتوں میں جاری ہیں جن کے نیچے نہریں، اس دن اللہ رسوا نہیں کرے گا نبیؐ کو اور ایمان والوں کو جو ان کے ساتھ ہیں، ان کا نور دوڑ رہا ہو گا ان کے سامنے اور ان کے دائیں سے وہ کہیں گے اے ہمارے رب مکمل فرما ہمارے لئے ہمارے نور کو (جنت میں داخل ہونے تک) اور مغفرت فرما ہماری، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے
اے نبیؐ! جہاد کرو کافروں اور منافقوں سے، اور سختی کرو ان پر (شریعت کے معاملے میں) اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
بیان کرتا ہے اللہ مثال کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی، یہ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے ماتحت تھیں، تو ان دونوں نے خیانت کی ان دونوں (نبیوں) کے ساتھ تو نہ فائدہ پہونچا سکے وہ دونوں ان دونوں کو اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، اور کہا جائے گا تم دونوں داخل ہو جاؤ آگ میں داخل ہونیوالوں کے ساتھ
اور بیان کرتا ہے اللہ مثال ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی، جب کہا اس نے کہ اے میرے رب! تو بنا دے میرے لئے اپنے پاس ایک گھر جنت میں، اور بچالے مجھے فرعون سے اور اس کے (برے) عمل سے، اور بچالے مجھے ظالم قوم سے
اور (ایک مثال ہے) مریم بنت عمران کی بھی جس نے حفاظت کی اپنی عزت کی، تو ہم نے پھونک دی اس میں اپنی روح، اور تصدیق کی اس (مریم) نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی، اور وہ تھیں فرماں برداروں میں سے