کہا (ابراہیم ع) نے تو کس مقصد سے تشریف لائے ہیں اے فرشتو؟
سورۃ 51
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
انہوں نے کہا کہ بیشک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم (قوم لوط) کی طرف
تاکہ ہم برسائیں ان پر (بطور عذاب) مٹی کے کنکر
نشان زدہ ہیں تیرے رب کی طرف سے، حد سے بڑھنے والوں کیلئے
تو ہم نے نکال لیا (اس بستی سے انہیں) جو اس میں مؤمن تھے
تو ہم نے نہیں پایا اس (بستی) میں ایک گھر کے علاوہ کوئی گھر مسلمانوں کا
اور چھوڑ دی ہم نے اس میں ایک نشانی ان کیلئے جو خوف رکھتے ہیں دردناک عذاب سے
اور موسیٰ (کے واقعے) میں (بھی عبرت ہے) جب ہم نے بھیجا اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر
تو وہ پلٹا اپنے امراء (سلطنت) کی طرف اور کہا (یہ) جادوگر ہے یا مجنوں ہے
تو پکڑا ہم نے اسے اور اس کی فوج کو اور پھینک دیا انہیں دریا میں، وہ تھا ہی ملامت کے قابل
اور عاد (کے واقعے) میں (بھی نصیحت ہے) جب کہ ہم نے بھیجی ان پر سخت آندھی
نہیں چھوڑی کسی چیز کو جس (قوم عاد) پر سے وہ گزری، مگر یہ کہ اسے کر دیا چورہ چورہ
اور ثمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے، جب ان سے کہا گیا کہ تم فائدہ اٹھا لو کچھ دنوں تک
تو انہوں نے زیادتی کی اپنے رب کے حکم میں، تو پکڑا انہیں بجلی کی کڑک نے، اور وہ دیکھتے رہ گئے
تو نہ طاقت ہوئی انہیں کھڑے ہونے کی، اور نہ وہ بدلہ لے سکے
اور نوح کی قوم کا بھی (یہی حال ہوا جو ان قوموں سے) پہلے ہوئی، بیشک وہ لوگ بھی فاسق تھے
اور آسمان کو ہم نے بنایا (اپنے) ہاتھوں سے، اور بیشک ہم نے ہی اسے وسعت دی ہے (یعنی بڑا بنایا ہے)
اور زمین کو ہم نے فرش بنایا ہے، تو کیا ہی بہتر ہم بچھانیوالے ہیں
اور ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا جوڑوں (کی شکل) میں تا کہ تم نصیحت حاصل کرو
تو تم دوڑو اللہ کی طرف، بیشک میں تمہارے لئے اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں
اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود، بیشک میں تمہارے لئے اس (اللہ) کی طرف سے کھلا ڈرانیوالا ہوں
اسی طرح جو بھی رسول آئے ان کے پاس جو ان (کفار مکہ) سے پہلے (قوم) گزری ہیں، تو انہوں نے (بھی) کہا یا تو تو جادوگر ہے یا مجنوں ہے
کیا یہ وصیت کر گئے ہیں ایک دوسرے کو اسطرح کی نہیں بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں
تو آپ منہ پھیر لیں ان سے آپ پر کوئی ملامت نہیں
اور نصیحت کرتے رہیں تو بیشک نصیحت نفع دیتی ہے مؤمنوں کو
اور میں نے پیدا کیا ہے جنات اور انسانوں کو اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں
میں نہیں چاہتا ان سے روزی، اور نہ میں یہ چاہتا کہ وہ مجھے کھلائیں
بیشک اللہ ہی روزی دینے والا زبردست قوت والا ہے
تو بیشک جن ظالموں نے گناہ کیا ہے (آپؐ کو جھٹلا کر) انہیں ان کے ساتھیوں کے گناہ جیسا انجام (یعنی عذاب) ہو گا، تو وہ جلدی طلب نہ کریں مجھ سے
تو تباہی ہو گی ان کافروں کی ان کے اس دن جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے
سورۃ 52
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے طور کی
اور لکھی ہوئی کتاب (قرآن) کی
جو (کتاب) کھلے ورقوں میں ہے
قسم ہے بیت معمور (آسمانی کعبہ) کی
قسم ہے اونچی چھت (آسمان) کی
قسم ہے جوش مارتے سمندر کی
بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونیوالا ہے
نہیں ہے اسے کوئی دفاع کرنیوالا (یعنی روکنے والا)
جس دن کانپ اٹھے گا آسمان اچھی طرح
اور چلنے لگیں گے پہاڑ اچھی طرح
تو تباہی ہو گی اس دن (دین، اور قرآن کو) جھٹلانے والوں کیلئے
جو اپنی خرافات میں کھیل رہے ہیں
جس دن انہیں دھکے دے کر لایا جائے گا جہنم کی آگ کی طرف
(فرشتے کہیں گے) یہی وہ (جہنم کی) آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
(جہنم کے داروغہ کہیں گے) کیا یہ جادو ہے، یا تم دیکھتے ہی نہیں
داخل ہو جاؤ اس (دوزخ) میں، تو تم صبر کرو یا صبر نہ کرو برابر ہے تم پر، بے شک تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم (دنیا میں) عمل کیا کرتے تھے
بیشک متقی جنتوں میں اور نعمتوں میں ہوں گے
خوش ہوں گے ان پر جو عطا کرے گا انہیں ان کا رب، اور بچالے گا انہیں ان کا رب جہنم کے عذاب سے
تم کھاؤ اور پیو مزے لے کر، ان اعمال کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے
ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے تختوں پر صف بصف، اور ہم ان کی شادی کرا دیں گے بڑی آنکھوں والی حوروں سے
اور جو لوگ ایمان لائے اور اتباع کی ان کی اولاد نے بھی ایمان میں تو ہم ملا دیں گے ان سے ان کی اولاد کو (جنت میں ساتھ) اور ہم کمی نہیں کریں گے ان کے عمل سے کچھ بھی، ہر شخص جو اس نے کمایا گروی ہو گا (یعنی اسے وہ ملے گا)
اور ہم عطا کریں گے انہیں میوے اور گوشت جو وہ چاہیں گے
وہ جھپٹیں گے ایک دوسرے سے اسمیں جام (شراب کا، یہ جھپٹنا) لغو نہ ہو گا اس میں اور نہ گناہ کی بات ہو گی
اور پھریں گے ان کے اردگرد نو عمر بچے (یعنی خادم) گویا کہ وہ موتی ہوں چھپے ہوئے (موتی کے خول میں)
اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے (دنیا کے حالات)
کہیں گے ہم اس سے پہلے اپنے گھرانے (دنیا) میں ڈرا کرتے تھے (اللہ سے)
تو احسان کیا اللہ نے ہم پر، اور اس نے بچالیا ہمیں جھلسانے والے عذاب سے
بیشک ہم اس سے پہلے (عبادت کیلئے) اسی کو پکارتے تھے بیشک وہ احسان کرنیوالا اور مہربان ہے
تو آپ نصیحت کیجئے! کیونکہ آپ نہ تو اپنے رب کے فضل سے کاہن (یعنی جادوگر) ہیں اور نہ ہی مجنوں
کیا (یہ کافر) کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (کہتے ہیں) ہم انتظار کر رہے ہیں اس (نبیؐ) پر زمانے کے حادثے کا
کہہ دیجئے! تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنیوالوں میں ہوں
کیا ان کی عقلیں انہیں ان (باتوں) کا حکم دیتی ہیں، یا وہ ہیں ہی سرکش لوگ
کیا یہ کہتے ہیں کہ گھڑ لیا ہے (نبیؐ نے قرآن) بلکہ یہ ایمان نہیں لائیں گے
تو لے آئیں ایک بات ہی اس جیسی، اگر یہ سچے ہیں
کیا یہ (کفار) پیدا کئے گئے ہیں بغیر کسی کے، یا یہ خود خالق ہیں
کیا (ان کفار نے) پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو، بلکہ یہ یقین کرنیوالے نہیں
کیا ان (کفار) کے پاس خزانے ہیں تیرے رب کے، یا یہ داروغہ ہیں (خزانوں کے)
کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے، اور وہ سنتے ہیں (آسمان کی باتیں) تو لے آئیں اپنی سنی ہوئی بات کھلی دلیل کے طور پر
کیا اس (اللہ) کیلئے بیٹیاں ہیں، اور تمہارے لئے بیٹے
کیا تم سوال کرتے ہو ان سے کسی اجر کا تو کیا وہ کسی تاوان (یعنی جرمانے) کے تلے دبے جا رہے ہیں
کیا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے، اور وہ اسے لکھ لیتے ہیں
کیا یہ (کفار) ارادہ کر رہے ہیں کسی چال کا، تو جو کافر ہیں، چال انہیں پہ پڑتی ہے (الٹی)
کیا ان کیلئے اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے، اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں
اور اگر یہ (کفار) دیکھ لیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا (عذاب کا، تو) کہیں گے یہ بادل ہے تہ بہ تہ
تو چھوڑ دو انہیں یہاں تک کہ یہ ملیں اپنے اس دن سے جس میں یہ بے ہوش کر دیئے جائیں گے
اس دن نہ فائدہ دے گی انہیں ان کی چال کچھ بھی، اور نہ ان کی مدد کی جائے گی
اور بیشک ان کے لئے جو ظالم ہیں عذاب ہے اس (عذاب) کے علاوہ بھی، اور لیکن ان لوگوں میں اکثر نہیں جانتے
تو صبر کرو اپنے رب کے حکم (کے انتظار) میں، بیشک تو ہماری آنکھوں (یعنی نگرانی) میں ہے اور تسبیح کرو حمد کے ساتھ اپنے رب کی جس وقت تم قیام کرو (نماز میں)
اور رات میں تسبیح کرو اسکی، اور ستاروں کے (ڈوبنے کے) بعد
سورۃ 53
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے تارے کی جب وہ ڈوبنے لگے
نہ گمراہ ہوا تمہارا ساتھی (نبی صلی) اور نہ بہکا
اور وہ نہیں کہتا اپنی خواہش سے (کوئی بات)
وہ تو صرف وحی ہے جو وحی کی جاتی ہے
سکھایا اس (نبی) کو شدید قوت والے (جبرئیل) نے
قوت والا ہے قائم ہوا
وہ آسمان کی بلندی پر
پھر قریب ہوا اور قریب ہوا
پھر (نبیؐ) ہو گیا دو کمانوں کے قریب یا اس سے بھی زیادہ قریب
تو (جبرئیل نے) وحی پہونچائی اس کے بندے (نبی) کو جو وحی کی
جھوٹ نہیں کہا دل نے جو دیکھا (نبی نے)
کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (نبیؐ) دیکھتے ہیں
اور یقیناً اس نے نازل ہوتے ہوئے اسے ایک اور مرتبہ بھی دیکھا
سدرۃ المنتہی کے پاس
اسی (سدرۃ) کے پاس جنت الماویٰ ہے
جب چھا رہا تھا سدرہ پر (وہ نور) جو چھانا تھا
نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی (نبیؐ کی)
یقیناً اس (نبیؐ) نے دیکھیں نشانیاں اپنے رب کی بڑی نشانیوں میں سے
کیا خیال ہے تمہارا لات اور عزیٰ (بت) کے بارے میں
اور تیسرا اور آخری منات (بت کے بارے میں)
کیا تمہارے لئے بیٹے اور اللہ کیلئے بیٹیاں ہیں
یہ تقسیم تو بہت بری ہے
یہ وہ نام ہیں (بتوں کے) جو تم نے رکھ لئے ہیں اور تمہارے باپ داداؤں نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل، یہ اتباع کرتے ہیں گمان کی اور جو چاہے ان کا دل (اسی کی) اور یقیناً آچکی ہے ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت
کیا انسان کیلئے جس کی وہ تمنا کرتا ہے (مل جاتا ہے)
تو اللہ ہی کو (اختیار) ہے آخرت اور دنیا کا
اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی ان (کفار اور مشرکین) کو، مگر جس کیلئے اللہ اجازت دے، اور جسے چاہے، اور (جس سے) راضی ہو
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ فرشتوں کا نام رکھتے ہیں عورتوں کے نام جیسا
اور نہیں ہے ان (کفار اور مشرکوں) کو اس کا کوئی علم، وہ اتباع کرتے ہیں گمان کی، اور بیشک گمان نہیں فائدہ دیتا حق کے معاملے میں کچھ بھی
تو آپ اعراض کریں اس سے جو منہ موڑتا ہے ہمارے ذکر سے، اور اسکا (یعنی ایسے لوگوں کا) ارادہ تو صرف دنیوی زندگی ہے
یہی پہونچ ہے ان کے علم کی، بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے اسے جو گمراہ ہے اس کے راستے سے، اور وہ خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت یافتہ ہے
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تا کہ اللہ بدلہ دے انہیں جنہوں نے برائی کی ان کے عمل کا، اور بدلہ دے انہیں بھی جنہوں نے اچھائی کی ان کے اچھے عمل کا
جو لوگ اجتناب کرتے (یعنی بچتے) ہیں بڑے گناہوں سے اور فحش کاموں سے، سوائے چھوٹے گناہ کے، بیشک تیرا رب بہت مغفرت کرنیوالا ہے، وہ خوب جانتا ہے تمہیں (اس وقت بھی) جب اس نے پیدا کیا تمہیں زمین سے، اور جبکہ تم بچے تھے اپنی ماؤں کے پیٹوں میں تھے، تو تم پاک نہ سمجھو اپنے آپ کو وہ خوب جانتا ہے اسے جو متقی ہے
کیا آپ نے (ولید بن مغیرہ کو) دیکھا جس نے منہ موڑ لیا
اور بہت کم دیا اور (ہاتھ) روک لیا
کیا اس کے پاس علم غیب ہے اور وہ (سب کچھ) دیکھ رہا ہے
کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں تھی
اور ابراہیم جس نے پورا کیا (وعدے کو)
نہیں اٹھائے گا کوئی شخص بوجھ کسی دوسرے کا
اور انسان کیلئے وہی ہو گا جسکی وہ کوشش کرے گا
اور بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھ لی جائے گی
پھر بدلہ دیا جائے گا اسے پورا پورا
اور بیشک آپ کے رب کی طرف ہی پہونچنا ہے
اور بیشک وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے
اور بیشک وہی مارتا ہے اور وہی جلاتا ہے
اور بیشک اسی نے پیدا کیا ہے جوڑا نر اور مادہ کا
نطفے سے، جبکہ وہ ٹپکایا جاتا ہے
اور بیشک اسی کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا (اسی کو اختیار ہے)
اور بیشک وہی غنی کرتا ہے اور وہی مالدار بناتا ہے
اور بیشک وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے
اور بیشک اسی نے ہلاک کیا عاد اول کو
اور ثمود کو بھی باقی نہ چھوڑا
اور نوح کی قوم کو اس سے پہلے، بیشک وہ لوگ بڑے ظالم اور سرکش تھے
اور مؤتفکہ (لوط کی قوم) کو اسی نے الٹ دیا
تو ڈھانک لیا (عذاب نے) جیسا ڈھانکنا تھا
تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت پہ جھگڑو گے؟
یہ (نبیؐ) ڈرانیوالے ہیں پہلے ڈرانیوالوں میں سے
آگئی آنیوالی (جلد ہی آنے والی ہے قیامت)
نہ ہو گا اللہ کے سوا کوئی اس (کے عذاب) کو دور کرنیوالا
تو کیا تم اس قرآن پے تعجب کرتے ہو؟
اور تم ہنستے ہو روتے نہیں؟
اور تم غافل ہو (قیامت سے، ان کو چھوڑو و مؤمنو)
تم سجدہ کرو اللہ کے سامنے اور (اسی کی) عبادت کرو
سورۃ 54
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قیامت قریب ہے اور چاند (دو ٹکڑوں میں) پھٹ گیا
اور اگر یہ (قریش) دیکھتے ہیں کوئی معجزہ تو اعراض کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے پہلے سے چلا آرہا ہے
اور انہوں نے جھٹلایا اور اتباع کی اپنی خواہشوں کی، اور ہر کام کیلئے ایک وقت مقرر ہے
اور یقیناً ان کے پاس آچکی ہیں وہ خبریں (قرآن میں) جن میں ڈانٹ ڈپٹ ہے (نصیحت کی)
پہونچی ہوئی حکمت کی بات ہے (یہ قرآن) تو فائدہ نہ ہوا ڈرانیوالوں سے
تو منہ پھیر لو ان سے (اے نبیؐ) جس دن پکارے گا پکارنیوالا (فرشتہ) ناپسندیدہ چیز (میدان محشر) کی طرف
جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نگاہیں، وہ نکلیں گے قبروں سے، گویا کہ وہ ٹڈی ہوں پھیلی ہوئی
دوڑ رہے ہوں گے پکارنیوالے (فرشتے) کی طرف، اور کافر کہیں گے یہ دن بہت مشکل ہے
جھٹلایا ان سے پہلے نوح کی قوم نے، تو انہوں نے جھٹلایا ہمارے بندے کو اور انہوں نے مجنوں کہا اور جھڑک دیا
تو پکارا نوح نے اپنے رب کو کہ میں مغلوب (بے بس) ہوں تو میری مدد فرما
تو ہم نے کھول دیا آسمان کے دروازوں کو زور دار پانی سے
اور ہم نے جاری کر دیا زمین سے چشموں کو، تو مل گیا پانی (اللہ کے) حکم سے جو مقدر تھا
اور ہم نے سوار کیا اسے تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر
جو چل رہی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے یہ بدلہ تھا اس (عذاب) کا جس کا انکار کیا گیا تھا
اور یقیناً ہم نے چھوڑا اس (کشتی) کو نشانی بنا کر، تو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنیوالا؟
تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا ڈرانا؟
اور یقیناً ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن کو سمجھنے کیلئے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنیوالا؟
جھٹلایا قوم عاد نے، تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا ڈرانا؟
بیشک ہم نے بھیجی ان پر ہوا مسلسل چلنے والی منحوس دن میں مسلسل چلنے والی
(ہوا) پھینک رہی تھی لوگوں کو، گویا کہ وہ تنے ہوں کھجور کے جڑ سے اکھڑے ہوئے
تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا ڈرانا؟
اور یقیناً ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن کو سمجھنے کیلئے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
جھٹلایا ثمود کی قوم نے ڈرانے والوں کو
تو انہوں نے کہا کیا ہم اپنے میں سے ایک شخص کی اتباع کریں، تب تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں جا پڑیں گے
کیا اتاری گئی نصیحت اسی پر ہم سب کے درمیان، بلکہ وہ (صالح) جھوٹا اور ڈینگیں مار رہا ہے
عنقریب وہ جان لیں گے کل (قیامت میں) کہ کون جھوٹا اور ڈینگیں مار رہا تھا
بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیں اونٹنی ان کی آزمائش کیلئے تو (اے صالح) تو انتظار کر ان کا اور صبر کر
اور متنبہ کر دو انہیں کہ پانی تقسیم ہے ان کے درمیان، ہر ایک اپنے پینے (کی باری) پر حاضر ہو
تو انہوں نے پکارا اپنے ساتھی کو، تو اس نے وار کیا اور کوچیں (ٹانگیں) کاٹ دیں
تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا ڈرانا؟
بیشک ہم نے بھیجی ان پر ایک چیخ (فرشتوں کے ذریعے) تو وہ ایسے ہو گئے جیسے کانٹوں کے ڈھیر کا چورہ
اور یقیناً ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن کو سمجھنے کیلئے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنیوالا؟
جھٹلایا لوط کی قوم نے بھی ڈرانیوالوں کو
بیشک ہم نے بھیجے (یعنی برسائے) ان پر پتھر، سوائے لوط کے گھرانے کے، ہم نے نجات دی انہیں سحر کے وقت
رحمت سے اپنی طرف سے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں (اسے) جو شکر کرتا ہے
اور یقیناً (لوط) نے ڈرایا انہیں ہماری پکڑ سے، تو انہوں نے جھگڑا کیا ڈرانیوالوں سے
اور قوم نے پھسلایا لوط کو ان کے مہمانوں کے بارے میں، تو ہم نے مٹا دیں ان کی آنکھیں (کہا) چکھو مزہ میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا
اور یقیناً انہوں نے صبح کی تو ان پر دائمی عذاب آیا
تو چکھو مزہ میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا
اور یقیناً ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن کو سمجھنے کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
اور یقیناً آئے تھے فرعونیوں کے پاس بھی ڈرانیوالے
انہوں نے جھٹلایا ہماری تمام نشانیوں کو، تو ہم نے پکڑا انہیں زبردست قوت کے ساتھ
(اے کفار مکہ) کیا تمہارے کافران (کافروں) سے بہتر ہیں؟ یا تمہارے لیے کوئی برائت (یعنی چھوٹ) ہے پچھلی کتابوں میں
یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانیوالی جماعت ہیں
عنقریب ہارے گی یہ جماعت، اور بھاگے گی پیٹھ پھیر کر
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے، اور قیامت سخت اور کڑوی چیز ہے
بیشک مجرمین گمراہی میں اور عذاب میں ہیں
جس دن وہ گھسیٹے جائیں گے آگ میں اپنے منہہوں کے بل (کہا جائے گا) مزہ چکھو دوزخ کی آگ لگنے کا
بیشک ہم نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے بقدر اندازہ (فٹ اور درست)
اور ہمارا حکم ایک آنکھ جھپکنے جیسا ہوتا ہے
اور یقیناً ہم نے ہلاک کیا ہے تم جیسی جماعتوں کو، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟
اور ہر شے (یعنی ہر عمل جو) انہوں نے کئے سب نامہء اعمال میں ہیں
اور ہر چھوٹی اور بڑی (چیز) سطر بسطر ہے
بیشک متقین جنتوں اور نہروں میں (مزے لے رہے) ہوں گے
عزت کے مقام میں، قدرت والے بادشاہ کے پاس
سورۃ 55
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
رحمٰن نے
سکھایا ہے قرآن کو
اسی نے پیدا کیا ہے انسان کو
اور اسی نے سکھایا ہے اسے بیان (یعنی بولنا)
سورج اور چاند حساب کے لیے ہیں (سالوں اور مہینوں کے)
اور تارے اور درخت سجدہ کرتے ہیں
اسی نے آسمان کو بلند کیا، اور اسی نے رکھی ترازو (انصاف کے لیے)
تاکہ نہ بڑھو تم حد سے وزن میں (ناپ تول میں)
اور قائم کرو وزن انصاف کے ساتھ، اور خسارہ نہ کرو وزن میں (لوگوں کے ساتھ)
اور زمین کو اسی نے بچھائی مخلوق کیلئے
جس میں میوے ہیں اور کھجوریں خوشے (یعنی گچھے) والے
اور دانے ہیں بھوسے والے، اور خوشبو والے (پھول)
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اس نے پیدا کیا انسان کو سوکھی مٹی سے ڈھیلے کی طرح کی
اور پیدا کیا جنات کو آگ کے شعلے سے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وہ رب ہے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اسی نے جاری کئے دو دریا جو مل کر چلتے ہیں
دونوں میں آڑ ہے دونوں (کا پانی) ملتے نہیں
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
نکلتے ہیں دونوں سے موتی اور مونگے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اور اسی کی (ملکیت میں) سمندر میں جہاز ہوتے ہیں پہاڑ جیسے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
سب فنا ہوں گے جو اس پر ہے
اور باقی رہے گی تیرے رب کی ذات جو جلال اور اکرام والی ہے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مانگتے ہیں سب اسی سے جو بھی ہے آسمانوں اور زمین میں ہر روز ہے اس کی ایک الگ شان
تو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
عنقریب ہم فارغ ہو جائیں گے تمہارے لئے اے دو بوجھ
تو (اے انس و جن) کس کس نعمت کو اپنے رب کی تم دونوں جھٹلاؤ گے؟
اے گروہ جنات اور انسان کے اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ تم نکل سکو کناروں سے آسمانوں اور زمین کے تو تم نکل جاؤ؟ تم نہیں نکل سکتے بغیر طاقت کے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
چھوڑے جائیں گے تم پر آگ کے شعلے اور دھواں، تو تم دونوں مقابلہ نہ کر سکو گے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
تو جب پھٹ جائے گا آسمان اور وہ ہو جائے گا سرخ چمڑے جیسا
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اس دن نہیں سوال کیا جائے گا اس کے گناہوں کے بارے میں کسی انسان اور نہ کسی جن سے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
پہچانے جائیں گے مجرم اپنے چہروں سے، اور پکڑے جائیں گے پیشانیوں اور قدموں سے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
یہ ہے وہ جہنم جسے جھٹلایا کرتے تھے مجرم
وہ چکر کھائیں گے اس (جہنم) کے اور کھولتے پانی کے درمیان
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اور جو (متقی) ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ان کیلئے دو باغ ہیں
تو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
دونوں شاخوں والے ہوں گے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
دونوں میں ہر قسم کے میوے جوڑوں میں ہوں گے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے فرش پر جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے اور جھکے ہوں گے دونوں باغ (کے پھل)
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ان میں نیچی نگاہوں والیاں ہیں نہ چھوا انہیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ ہی کسی جن نے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
گویا کہ وہ (حوریں) یاقوت اور مرجان کی ہوں گی
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
تو (اے انس و جن) کس کس نعمت کو تم دونوں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے؟
اور دونوں باغوں کے علاوہ دو باغ ہیں
تو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
دونوں سبز ہیں
تو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
دونوں میں ابلتے چشمے ہیں
تو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
دونوں میں میوے ہیں اور کھجور اور انار بھی
تو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ان میں عورتیں ہیں بہت حسین
کس کس نعمت کو تم دونوں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے؟
حوریں ہیں رکی ہوئی خیموں میں
تو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
نہ چھوا انہیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ ہی کسی جن نے
تو (اے انس و جن) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے سبز مسندوں اور حسین فرشوں پر
تو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
بابرکت ہے تیرے رب کا نام، جو جلال اور اکرام والا ہے
سورۃ 56
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جب واقع ہو گی واقع ہونیوالی (قیامت)
نہیں ہے اسکے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ
(کسی کو) پست اور (کسی کو) بلند کرنیوالی ہے
جبکہ کانپ اٹھے گی زمین
اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے پہاڑ
تو وہ (پہاڑ) ہو جائیں گے غبار اڑنیوالے
اور تم (اس وقت) ہو جاؤ گے تین جماعتوں میں
تو داہنے ہاتھ والے (کیا ہی اچھے ہوں گے) داہنے ہاتھ والے
اور بائیں ہاتھ والے (کیا ہی برے ہوں گے) بائیں ہاتھ والے
اور اول (یعنی نیک اعمال میں آگے بڑھنے والے) اول ہوں گے
یہی مقربین ہوں گے
نعمتوں والی جنتوں میں
بڑی جماعت اگلوں کی ہو گی (انصار اور مہاجرین کی)
اور چھوٹی جماعت پچھلوں کی ہو گی (صحابہ کے بعد کی)
یہ چار پائیوں پر ہوں گے سونے کے تاروں کی
ٹیک لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے
چکر دیں گے ان کے پاس ایسے بچے جو ہمیشہ رہیں گے
پیالے اور جگ اور معین (شراب) کا جام (لے کر یہ بچے چکر لگائینگے)
نہ درد سر ہو گا اس (کے پینے) سے اور نہ وہ بہکیں گے
اور میوے ہوں گے جو بھی وہ پسند کریں گے
اور پرندوں کا گوشت جن (پرندوں) کو وہ چاہیں گے
اور حوریں بڑی آنکھوں والیاں
جیسے موتی ہوں چھپے ہوئے
یہ بدلہ ہو گا ان کے اعمال کا
وہ نہیں سنیں گے اس (جنت) میں لغوبات اور نہ گناہ کی بات
صرف سلامتی ہی سلامتی کی بات ہو گی
اور دائیں ہاتھ والے (جنتی) کیا ہی (بہتر ہوں گے) دائیں ہاتھ والے
بیریوں میں بغیر کانٹوں کی
اور کیلے ہوں گے تہ بہ تہ
اور سائے لمبے لمبے
اور پانی بہتے ہوئے (جھرنے)
اور میوے بکثرت
نہ کٹے پھٹے ہوں گے (میوے) اور نہ منع ہو گا
اور فرش ہوں گے اونچے اونچے
بیشک ہم نے پیدا کیا ہے ان (حوروں) کو اچھی طرح
اور ہم نے بنایا ہے انہیں باکرہ (یعنی کنواری)
محبت والیاں ایک عمر کی
دائیں ہاتھ والوں کیلئے
بڑی جماعت ہو گی اگلوں کی (آدم سے آپؐ تک)
اور بڑی جماعت ہو گی پچھلوں کی (آپکی امتی کی)
اور بائیں ہاتھ والے کیا ہی برے ہوں گے بائیں ہاتھ والے
گرم ہوا اور گرم پانی میں (ہوں گے)
اور جلتے سائے میں
(جو) نہ ٹھنڈا ہو گا اور نہ راحت ہو گی
بیشک یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) خوش عیش تھے
اور وہ اصرار کرتے (یعنی اڑے رہتے) تھے گناہوں پر بڑے بڑے
اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟
اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اگلے؟
آپ کہہ دیجئے بیشک (سب) اگلے اور پچھلے (زندہ ہوں گے)
ضرور جمع کئے جائیں گے، ایک مقرر دن (قیامت) میں
پھر یقیناً تم اے گمراہو! (اور) جھٹلانے والو!
ضرور کھانیوالے ہو (زہریلے) درخت سے (جسکانام) زقوم ہے
اور بھرنیوالے ہو اسی (درخت) سے پیٹوں کو
پھر پینے والے ہو اس (کھانے) پر کھولتا پانی
پھر پینے والے ہو (اس پانی کو) پیاسے اونٹوں کی طرح
یہ ان کی مہمانی ہو گی قیامت کے دن
ہم نے تم کو پیدا کیا ہے، تو تم کیوں نہیں تصدیق کرتے؟ (یعنی سچ مانتے)
تو کیا خیال ہے تمہارا جو منی تم ٹپکاتے ہو
کیا تم پیدا کرتے ہو (انسان کو) یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟
ہم نے مقرر کیا ہے تمہارے درمیان موت کو، اور ہم عاجز نہیں ہیں
اس پر کہ ہم بدل دیں تمہاری جگہ کسی اور مخلوق کو، اور ہم پیدا کر دیں تمہیں کسی اور مخلوق میں جسے تم جانتے نہیں
اور یقیناً تمہیں معلوم ہے اپنی پہلی پیدائش، تو تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے
تمہارا کیا خیال ہے (اسمیں) جو کھیتی تم کرتے ہو؟
کیا تم اگاتے ہو اسے یا ہم اگانیوالے ہیں؟
اگر ہم چاہیں تو بنا دیں اس (کھیتی) کو چورہ چورہ، اور تم رہ جاؤ باتیں بناتے ہوئے
کہ ہم پر تو جرمانہ پڑ گیا
بلکہ ہم تو محروم ہو گئے (یعنی تم ناشکری کرنے لگو)
تمہارا کیا خیال ہے پانی کے بارے میں جسے تم پیتے ہو؟
کیا تم نے نازل کیا ہے اس (پانی) کو بادلوں سے یا ہم نازل کرنیوالے ہیں
اگر ہم چاہیں تو بنا دیں اس (پانی) کو کھارا، تو تم کیوں نہیں شکر ادا کرتے
تمہارا کیا خیال ہے اس آگ کے بارے میں جسے تم جلاتے ہو؟
کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کے درخت کو یا ہم پیدا کرنیوالے ہیں؟
ہم نے بنا دی ہیں ان (چیزوں) کو نصیحت، اور فائدے کی چیز بھی مسافروں کے لئے
تو تسبیح بیان کرو اپنے رب کے نام کی جو بہت عظمت والا ہے
تو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے ڈوبنے کی
اور بیشک یہ بہت بڑی قسم ہے! اگر تم جانو
بیشک یہ قرآن مکرم ہے
جو ایک پوشیدہ کتاب میں ہے (لوح محفوظ میں)
اسے پاک لوگ ہی چھوئیں
یہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کی طرف سے
تو کیا تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے ہو
اور تم اپنا رزق (یعنی حصہ اور مشغلہ) یہ بناتے ہو کہ بے شک تم اسے جھٹلاتے ہو
تو کیوں نہیں (تم روک لیتے روح کو؟) جب وہ پہونچتی ہے حلق کو
اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو
اور ہم بہت قریب ہوتے ہیں اس (مرنیوالے) کے تمہارے بنسبت، اور لیکن نہیں دیکھ سکتے تم
تو کیوں نہیں اگر تم کسی کے قرض دار نہیں
تو لوٹا لو اس (روح) کو؟ اگر تم سچے ہو (کہ حالات سے ہم مرتے ہیں)
تو جو ہو گا مقربین میں (اللہ تعالیٰ کے)
اسکے لئے راحت اور خوشبو اور نعمت والی جنت ہے
اور جو ہو گا داہنے ہاتھ والوں میں سے
تو سلامتی ہے تیرے لئے کہ تو داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے
اور جو جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے
تو مہمانی ہو گی (اس کی)
اور داخل ہو گا جہنم میں
بیشک یہ برحق اور یقینی (بات) ہے
تو تسبیح بیان کرو اپنے بڑے رب کے نام کی
سورۃ 57
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تسبیح کرتے ہیں اللہ کی آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، اور وہ زبردست حکمت والا ہے
اسی (ذات واحد) کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن (یعنی چھپا) ہے، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر قائم ہوا عرش پر وہ جانتا ہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں (پانی مردے وغیرہ)، اور جو نکلتا ہے اس سے (دانے غلے) اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے (فرشتے حکم) اور جو کچھ چڑھتا ہے اس میں (فرشتے اعمال دعائیں) اور وہ (اللہ) تمہارے ساتھ ہے جہاں تم ہو، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں
وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں، اور وہ داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور وہ خوب جانتا ہے دلوں کے راز کو
ایمان لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر، اور خرچ کرو اس میں سے جس (مال) میں اللہ نے بنایا تمہیں (دوسروں کا) جانشین، تو جو ایمان لائیں تم میں سے اور خرچ کریں ان کیلئے بڑا اجر ہے
اور کیا ہو گیا تمہیں کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر، اور رسول تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ تم ایمان لے آؤ اپنے رب پر، اور یقیناً لیا ہے (اللہ نے) تم سے پکا عہد، اگر تم مومن ہو
وہ (اللہ ہی) ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر واضح آیتیں، تاکہ وہ نکالے تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف، اور بیشک اللہ تم پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ خرچ نہیں کرتے اللہ کے راستے میں، اور اللہ ہی کی میراث ہے آسمانوں اور زمینوں کی، نہیں ہے برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا فتح مکہ سے پہلے اور قتال کیا (یعنی جنگ لڑی) یہ وہ لوگ ہیں جن کے درجے بڑے ہیں ان سے جنہوں نے خرچ کیا فتح کے بعد اور قتال کیا، اور سب سے اللہ کا وعدہ بھلائی کا ہے، اور اللہ باخبر ہے اس سے جو کچھ تم کر رہے ہو
(اور وہ شخص) کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے پھر اللہ اضافہ فرما کر دے اسے اس کیلئے، اور اس کیلئے اجر کریم ہو جائے
قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ مومن مردوں اور عورتوں کیلئے دوڑ رہا ہو گا ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں سے (کہا جائے گا) خوشخبری ہے تمہیں آج ان جنتوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ رہنا ہے یہ ہے بڑی کامیابی
اس دن (یعنی قیامت کے دن) کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے، کہ انتظار کرو ہمارا (تاکہ) ہم بھی فائدہ اٹھا لیں تمہارے نور سے کہا جائے گا لوٹ جاؤ اپنے پیچھے پھر تلاشو روشنی، تو ڈالدی جائے گی (مومنین و منافقین) کے بیچ ایک دیوار، اس (دیوار) میں دروازہ ہو گا اسکے اندر رحمت (یعنی جنت) ہو گی، اور باہر عذاب ہو گا (جہنم کا)
(منافقین) پکاریں گے انہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (دنیا میں) کہیں گے کہ ہاں تھے اور لیکن فتنے میں پڑے تھے، اور انتظار کر رہے تھے اور شک میں تھے، اور دھوکے میں رکھا تمہیں آرزوؤں (یعنی نفس) نے، یہاں تک کہ آ گیا اللہ کا امر (موت) اور دھوکے میں رکھا تمہیں اللہ کی جانب سے غرور (یعنی شیطان) نے
تو آج نہیں لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ (یعنی بدلہ) اور نہ ہی کافروں سے تمہارا ٹھکانہ آگ ہے، وہی تمہارا مولیٰ (یعنی ٹھکانہ) ہے، اور کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
کیا نہیں آ گیا (اب بھی) وقت ایمان والوں کے لئے، کہ ڈر جائیں ان کے دل اللہ کے ذکر سے اور جو نازل ہوا حق کی جانب سے (اس کیوجہ سے) اور نہ ہو جائیں (یہ منافقین) ان کی طرح جن (یہودیوں) کو دی گئی تھی کتاب ان سے پہلے پھر جب گزرا ان پر زمانہ تو سخت ہو گئے ان کے دل، اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں
جان لو کہ اللہ ہی زندہ کرتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد، یقیناً ہم نے بیان کر دی ہیں تمہارے لئے اپنی آیتیں تاکہ تم عقل سے کام لو
بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ (کے نام پر کسی) کو قرضِ حسنہ دے تو اللہ انہیں اضافے کے ساتھ دے گا، اور ان کے لئے اجر کریم ہے
اور جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر، یہی وہ لوگ ہیں جو صدیق اور شہید (کے درجے میں) ہیں اپنے رب کے نزدیک، ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور بھی ہے، اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور جھٹلاتے ہیں ہماری آیتوں کو، یہی لوگ جہنم میں رہنے والے ہیں
(اے لوگو!) جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشہ اور زینت اور فخر (کرنا) ہے آپس میں اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے، اس بارش کی طرح ہے کہ اچھی لگتی ہے کفار (یعنی کسانوں) کو اس کی پیداوار، پھر لہلہاتی ہے تو تم دیکھتے ہو اسے زرد رنگ میں، پھر وہ ہو جاتی ہے چورہ چورہ، اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی بھی ہے، اور نہیں ہے دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کے کچھ
(اے لوگو!) سبقت کرو (یعنی دوڑ پڑو) مغفرت اور اپنے رب کی اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کے برابر ہے، یہ تیار کی گئی ہے ان کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر یہ اللہ کا فضل ہے وہ عطا کرتا ہے اسے جسے وہ چاہتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
جو مصیبت بھی آتی ہے دنیا میں اور تمہاری جانوں میں، وہ لکھی ہوئی ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں اس (مصیبت) کو، بیشک یہ (کام) اللہ پر آسان ہے
تاکہ تم نہ افسوس کرو اس پر جو فوت ہو جائے (ہاتھ سے نکل جائے) اور نہ خوش ہو (نہ اتراؤ) اس پر جو اس نے عطا کیا ہے تمہیں اور اللہ نہیں پسند کرتا اترانیوالے فخریلئے کو
(یہی ہیں) جو بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کا، اور جو منہ پھیرے گا تو بیشک اللہ بے نیاز اور قابلِ تعریف ہے
یقیناً ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو کھلی دلیلوں کے ساتھ، اور ہم نے نازل فرمایا ان کے ساتھ کتاب اور میزان (یعنی انصاف) تاکہ قائم رہیں لوگ انصاف پر اور ہم نے نازل کیا لوہے کو جس میں سخت جنگی سامان اور فائدے ہیں لوگوں کیلئے، اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے، بیشک اللہ زبردست قوت والا ہے
اور بیشک ہم نے بھیجا (رسول بنا کر) نوح اور ابراہیم کو، اور ہم نے جاری رکھی ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب، تو ان میں کچھ ہدایت یافتہ ہو ئے اور اکثر ان میں فاسق رہے
پھر بھی ہم بھیجتے رہے لگاتار ان کے بعد اپنے رسولوں کو اور ہم نے بھیجا ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو، اور عطا کی اسے انجیل، اور ہم نے ڈالیں ان کے دلوں میں جنہوں نے اس کی اتباع کی شفقت اور رحمت اور رہبانیت (ترک دنیا) کی ابتداء انہوں نے کی (جو عیسائی ہیں) ہم نے نہیں لکھا ان پر اسے سوائے اللہ کی رضاء کی تلاش کے، تو انہوں نے اسکی رعایت نہ کی جیسا رعایت کا حق تھا پھر ہم نے عطا کیا ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر، اور اکثر ان میں فاسق ہیں
اے ایمان والو ! ڈرو اللہ سے، اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر، عطا کرے گا (اللہ) تمہیں دو گنا اجر اپنی رحمت سے، اور بنا دے گا تمہارے (پل صراط) کے لئے نور، تم چلو گے اس کی روشنی میں، اور وہ مغفرت کردے گا تمہاری، اللہ بخشنے والا مہربان ہے
تاکہ جان لیں اہل کتاب کہ وہ کچھ بھی قدرت (یعنی اختیار) نہیں رکھتے اللہ کے فضل میں، اور بیشک فضل (وکرم کا کل اختیار) اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے