حم
سورۃ 46
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یہ کتاب (قرآن کریم) نازل کی گئی ہے اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے۔
ہم نے پیدا کیا ہے (اپنی قدرت سے) آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، برحق (یعنی تدبیر سے) ایک مقرر وقت کیلئے اور کافروں کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے (اس سے) منہ موڑتے ہیں
آپ کہہ دیجئے! کیا خیال ہے تمہارا جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے سوا ، دکھاؤ مجھے انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ، یا ان کا کوئی شریک ہے آسمانوں میں لے آؤ اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کوئی علمی آثار (یعنی کوئی نقل جو پہلے کی کتابوں میں ہو) اگر تم سچے ہو
اور اس سے بڑا گمراہ کون ہو گا؟ جو پکارے اللہ کے سوا (ایسوں کو) جو اس کی دعا قبول نہ کرے قیامت کے دن تک ، اور وہ (معبود) ان کی پکار سے غافل ہوں
اور جب جمع کیا جائے گا لوگوں کو (قیامت میں) تو یہ (معبود) ہو جائیں گے ان کے دشمن ، اور یہ ان کی عبادت سے انکار کریں گے
اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری واضح آیتیں ، تو کافر کہتے ہیں حق کے بارے میں جب کہ (حق) آچکا ہے ان کے پاس ، کہ یہ کھلا جادو ہے
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے گھڑ لیا ہے اس (قرآن) کو آپ کہیں اگر میں نے گھڑا ہے اسے تو تم نہیں مالک میرے لئے اللہ کی طرف سے کچھ بھی وہ خوب جانتا ہے جو تم باتیں بنا رہے ہو اس (قرآن) کے متعلق وہ کافی ہے اس پر گواہ میرے اور تمہارے درمیان اور وہ بہت مغفرت کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے
آپ کہہ دیجئے! میں کوئی نیا رسول نہیں ، اور میں نہیں جانتا کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا (معاملہ) کیا جائے گا ، میں تو اتباع کرتا ہوں اس وحی کی جو میری طرف کی جاتی ہے ، اور میں تو صرف کھلا ڈرانے والا ہوں
آپ کہہ دیں کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر ہو (قرآن) اللہ کی طرف سے اور تم نے اس کا انکار کیا ہو ، اور گواہی دے چکا ہے ایک گواہ (عبد اللہ بن سلام نے) بنی اسرائیل کا اس جیسی (کتاب تورات) کی تو وہ (بنی اسرائیل) ایمان لاچکا ، اور تم تکبر کر رہے ہو ، بیشک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو
اور کہا کافروں نے ایمان والوں سے کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ ہم سے سبقت نہ کرتے اس کی طرف ، اور جب انہوں نے ہدایت حاصل نہیں کی اس (قرآن) سے تو جلد ہی یہ کہیں گے یہ قدیم جھوٹ ہے
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام (یعنی رہنما) اور رحمت تھی ، اور یہ کتاب (قرآن) تصدیق کرنیوالی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ (نبی) ڈرائے ظالموں کو ، اور بشارت ہے (قرآن میں) محسنین (یعنی مومنین) کیلئے
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے (یہی مومنین اور محسنین ہیں) تو نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے
یہی لوگ جنتی ہیں جو ہمیشہ اسی میں رہیں گے ، یہ بدلہ ہو گا اس عمل کا جو وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے
اور ہم نے وصیت کی (یعنی حکم دیا) انسان کو اپنے والدین سے حسن سلوک کا حمل میں رکھا اسے اسکی ماں نے تکلیف کے ساتھ اور جنا اسے تکلیف کے ساتھ اسکے حمل کی اور اسکے دودھ کی مدت تیس ماہ ہے ۔ یہاں تک کہ جب وہ پہونچتا ہے جوانی کو اور پہونچتا ہے چالیس سال کی عمر کو (نیک ہو تو) کہتا ہے یا رب مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیری اس نعمت کا جو تو نے انعام کی ہے مجھ پر اور میرے والدین پر کہ میں نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو ، اور تو صالح بنا میرے لئے میری اولاد کو ، بیشک میں توبہ کرتا ہوں تیرے سامنے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں
یہی وہ لوگ ہیں ہم قبول فرماتے ہیں جن کے نیک اعمال جو انہوں نے عمل کئے ، اور ہم معاف کر دیتے ہیں ان کے برے اعمال کو (یہ لوگ) جنتی لوگوں میں ہیں (جنت کا) وعدہ سچا ہے جو ان سے کیا جارہا ہے
اور جس نے اپنے والدین سے کہا اف (تعجب ہے) کیا تم دونوں مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا (قبر سے) جبکہ گزر چکی ہیں امتیں مجھ سے قبل اور وہ دونوں (والدین) مدد طلب کرتے ہیں اللہ سے اور (کہتے ہیں) تباہی ہو تیری تو ایمان لے آ ، بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے ، تو وہ کہتا ہے یہ تو پہلوں کے قصے ہیں
یہی ہیں وہ لوگ جن پر طے ہے بات (اللہ کی طرف سے عذاب کی) یہ ان جماعتوں میں سے ہیں جو گزر چکی ہیں ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے ، بیشک یہ خسارہ پانیوالے ہیں
اور ہر ایک کے درجے ہیں ان کے اعمال کے مطابق ، تاکہ پورا بدلہ دیا جائے انہیں ان کے اعمال کا ، اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
اور جس دن پیش کئے جائیں گے وہ لوگ جو کافر ہیں جہنم کے سامنے (کہا جائے گا) تم مزے اڑا چکے اپنے حصے کا تم اپنی (دنیوی) زندگی میں ، اور تم فائدے اٹھاچکے اس سے (دنیا کی زندگی میں) تو آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا گھٹیا عذاب کا ، اسوجہ سے کہ تم تکبر کیا کرتے تھے زمین میں ناحق ، اور اس وجہ سے کہ تم فسق (یعنی گناہ) کیا کرتے تھے
اور یاد کرو عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) کو جبکہ ڈرایا اس نے اپنی قوم کو احقاف (یعنی پہاڑوں) میں ، اور یقیناً گزر چکے ہیں ڈرانیوالے ان سے پہلے اور ان کے بعد (نبیوں نے کہا) کہ تم عبادت نہ کرو کسی کی اللہ کے سوا بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے
انہوں نے کہا کیا آپ اس لئے آئے ہیں ہمارے پاس کہ آپ روکیں ہمیں اپنے معبودوں سے تو لے آئیں ہم پر (وہ عذاب) جس کا آپ وعدہ کرتے ہیں ہم سے ، اگر آپ سچے ہیں
کہا اس کا علم اللہ کے پاس ہے ، اور میں پہونچاتا ہوں تمہیں وہ جو پیغام دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور لیکن میں دیکھتا ہوں تمہیں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو
تو جب انہوں نے دیکھا اس (عذاب) کو بادل (کی طرح) آتا ہوا اپنی وادیوں میں ، کہنے لگے یہ بادل برسنے والا ہے ہم پر (نہیں) بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے (یہ) ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے
تباہ کر دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے ، تو وہ ایسے ہو گئے کہ نہ دکھائی دیتے تھے ان کے مکان کے سوا کچھ بھی ، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو
یقیناً ہم نے بسایا تھا (قوم عاد) کو اسطرح جیسے تمہیں بھی نہیں بسایا اس (دنیا) میں ، اور ہم نے بنائے تھے ان کے کان ، آنکھیں ، اور دل تو کچھ فائدہ نہ دیا انہیں ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے ، جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور الٹا پڑا ان پے وہ مذاق جو وہ اڑایا کرتے تھے
اور (اے نبیؐ) یقیناً ہم نے ہلاک کی ہیں تمہارے آس پاس کی بستیاں ، اور پھیر پھیر کے ہم نے بیان کی ہیں اپنی نشانیاں ، تاکہ وہ رجوع کریں
تو کیوں نہیں مدد کی ان کی جو انہوں نے بنا رکھا تھا اللہ کے علاوہ قرب حاصل کرنے کیلئے معبود؟ بلکہ وہ بھول گئے انہیں ، یہ تھے ان کے گھڑے ہوئے (معبود) جنہیں وہ گھڑا کرتے تھے
اور جب ہم نے پھیرا (یعنی بھیجا) تمہاری طرف جنوں کی ایک جماعت کو کہ وہ سنیں قرآن ، تو جب وہ حاضر ہوئے (نبیؐ کے) پاس ، تو کہنے لگے (ایک دوسرے سے) خاموش رہو ، تو جب پورا ہوا (پڑھنا) تو لوٹ گئے اپنی قوم کی طرف ڈرانے کیلئے
کہنے لگے اے ہماری قوم! بیشک ہم نے سنی ہے وہ کتاب جو نازل کی گئی ہے موسیٰ کے بعد ، جو تصدیق کرتی ہے اپنے سامنے (کتابوں) کی ، جو رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف
اے ہماری قوم! قبول کرو اللہ کے داعی (نبیؐ) کو ، اور ایمان لاؤ اس پر ، اللہ معاف کردے گا تمہارے گناہوں کو اور پناہ دے گا تمہیں درد ناک عذاب سے
اور جو قبول نہیں کرے گا اللہ کے داعی (یعنی نبیؐ) کو تو وہ عاجز نہیں کر سکے گا زمین میں (اللہ کو) اور نہ ہو گا اس کے لئے کوئی مدد گار اللہ کے سوا ، یہی ہیں کھلی گمراہی میں
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ، اور وہ نہیں تھکا ان کے پیدا کرنے میں ، وہ قادر ہے اس پر کہ وہ حیات دے مُردوں کو ، کیوں نہیں؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے
اور اس دن پیش کئے جائیں گے کافر جہنم کے سامنے (اور کہا جائے گا) کیا یہ برحق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (برحق ہے ، اللہ) فرمائے گا ، تو مزہ چکھو عذاب کا بسبب تم اپنے کفر کے
تو (اے نبیؐ) صبر کریں جیسا صبر کیا اعلیٰ ہمت رسولوں نے ، اور جلدی نہ کریں ان کے (عذاب) لئے ، جس دن یہ دیکھ لیں گے جس (عذاب) کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے ، تو (معلوم ہو گا) دن کی ایک گھڑی ٹھہرے (دنیا میں ، آپ کا کام) پہونچا دینا ہے ، تو فاسق ہی ہلاک ہوں گے
سورۃ 47
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کے راستے سے اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیئے
اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور اس پر بھی ایمان لائے جو نازل کیا گیا محمدؐ پر ، اور وہی برحق دین ہے ان کے رب کی طرف سے ، اللہ معاف کردے گا ان کے گناہوں کو ، اور اصلاح کردے گا ان کے حال کی
یہ اسلئے کہ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا وہ اتباع کرتے ہیں باطل کی ، اور بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے انہوں نے اتباع کی برحق (دین) کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے ، اسی طرح اللہ بیان کرتا ہے لوگوں کیلئے ان کی مثالیں (یعنی حالات)
تو جب تم (جنگ میں) بھڑو کافروں سے تو مارو گردنوں پر ، یہاں تک کہ جب تم کچل ڈالو ان کو تو مضبوطی سے باندھو (یعنی گرفتار کرو ، اختیار ہے کہ) احسان کرو یا فدیہ لے کر (چھوڑ دو) یہاں تک کہ لڑائی رکھ دے اپنے ہتھیار (جنگ ختم ہو جائے) یہی (حکم ہے) اور اگر اللہ چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا ، اور لیکن (اللہ) آزماتا ہے تم کو ایک دوسرے سے ، اور جو قتل کیے گئے اللہ کے راستے میں تو اللہ ہرگز ضائع نہیں کرے گا ان کے اعمال کو
جلد ہی ہدایت دے گا انہیں اور اصلاح کردے گا ان کے حالات کی
اور داخل کرے گا انہیں اس جنت میں جس کی پہچان انہیں کرا دی ہے (اللہ نے)
اے ایمان والو! اگر تم مدد کرو گے اللہ کی تو وہ تمہاری مدد کرے گا ، اور تم کو ثابت قدم رکھے گا
اور جو کافر ہیں تو تباہی ہے ان کی اور (اللہ) ضائع کر دے گا ان کے اعمال کو
یہ اسلئے کہ بیشک انہوں نے ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کیا (قرآن) تو ضائع کر دیا ان کے اعمال کو
تو کیا انہوں نے سیر نہیں کی زمین میں اور دیکھا نہیں کہ کیسا انجام ہوا ان سے پہلوں کا ، تباہ کر دیا اللہ نے انہیں ، اور کافروں کی یہی مثالیں (یعنی سزائیں) ہیں
یہ اسلئے ہے کہ بیشک اللہ دوست ہے ایمان والوں کا ، اور یقیناً کافروں کا نہیں ہو گا کوئی دوست
بیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ایسی جنت میں جاری ہیں جن کے نیچے نہریں ، اور جو کافر ہیں وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں (دنیا کا) اور کھا رہے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں ، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے
اور کتنی بستیاں ایسی تھیں جو زیادہ قوت والی تھیں تمہاری اس بستی (بستی مکہ) سے جس سے تجھے نکالا ، ہم نے ہلاک کر دیا انہیں ، تو کوئی مدد گار نہ ہوا ان کا
تو کیا وہ شخص جو دلیل پر ہو اپنے رب کی (اسکی طرح ہو گا) جسکے مزین کئے گئے ہوں برے عمل ، اور وہ تابع ہو اپنی خواہشات کی
مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں سے (یہ ہے کہ) اس میں نہریں ہیں پانی کی بغیر بد بو والی ، اور نہریں ہیں دودھ کی جن کا نہیں بدلتا ذائقہ ، اور نہریں ہیں شراب کی جن میں لذت ہے پینے والوں کیلئے ، اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں ، اور ان کیلئے وہاں ہر قسم کے پھل ہیں اور مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے (یہ اس جیسا ہو گا) جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہو؟ اور انہیں پلایا جائے گا کھولتا پانی جو ٹکڑے کر دے گا ان کی آنتیں
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو سنتے رہتے ہیں کان لگا کر تمہاری طرف یہاں تک کہ جب نکلتے ہیں تمہارے پاس سے تو پوچھتے ہیں اہل علم (صحابہؓ) سے کہ اس (رسول) نے کیا کہا تھا ابھی؟ یہی ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے ، اور وہ اتباع کرتے ہیں اپنی خواہشوں کی
اور جو ہدایت یافتہ ہیں تو زیادہ کر دیتا ہے اللہ ان کی ہدایت کو ، اور عطا فرماتا ہے انہیں ان کا تقویٰ (یعنی ہدایت کی توفیق)
تو کیا یہ انتظار کر رہے ہیں قیامت کا کہ آجائے ان پے اچانک ، تو یقیناً آچکی ہیں اس کی شرطیں (یعنی علامتیں) تو کہاں سے ملے انہیں نصیحت جب وہ آجائے گی ان پے
تو جان لو بیشک اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور مغفرت طلب کرو اپنے گناہوں کی اور مومن مردوں اور مؤمنہ عورتوں کیلئے بھی ، اللہ جانتا ہے تمہارا پلٹنا اور تمہارا ٹھکانا (یعنی دن اور رات کے معمولات)
اور کہتے ہیں وہ جو (کچے) ایمان والے ہیں کیوں نہیں نازل کی جاتی ہے کوئی سورت (جنگ کیلئے) تو جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورہ محکم والی ، اور اسمیں ذکر ہوتا ہے قتال کا ، تو آپ دیکھتے ہیں جنکے دلوں میں بیماری ہے وہ دیکھتے ہیں آپ کی طرف جیسے وہ دیکھتا ہے جس پرغشی (یعنی بیہوشی) چھائی ہو موت کی ، تو بہت تباہی ہو ان کی
اطاعت کرتے اور اچھی بات کہتے اور جب (جنگ ہو تو اس) امر کا ارادہ کرتے تو کاش وہ سچے رہتے اللہ (کے وعدے) پے تو بہتر ہوتا ان کیلئے
تو تم سے یہ ممکن ہے اگر تم ولی (یعنی حاکم) بن جاؤ تو فساد کرو زمین میں ، اور توڑ دو تم اپنے رشتوں کو
یہ وہی لوگ ہیں جن پر لعنت کی اللہ نے ، تو بہرا کر دیا ہے (اللہ نے) انہیں اور اندھی کر دی ہیں ان کی آنکھیں
کیا یہ غور و فکر نہیں کرتے قرآن میں؟ کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں
بیشک جو لوگ پلٹ جاتے ہیں (جہاد سے) اپنی پیٹھوں کے بل ، اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت واضح ہو چکی ہے ، شیطان نے بہتر بنا دیا ان کیلئے (اعمال کو) اور (اللہ نے) انہیں ڈھیل دے رکھی ہے
یہ اسلئے کہ کہا (منافقین نے مشرکوں سے) جنہوں نے ناپسند کیا جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہم عنقریب اطاعت کریں گے تمہاری بعض (دینی) امور میں ، اور اللہ جانتا ہے ان کے راز کو
تو کیا حال ہو گا؟ جب وفات دیں گے انہیں فرشتے اور ماریں گے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر
یہ اسلئے کہ انہوں نے اتباع کی اس چیز کی جو ناراض کرتی ہے اللہ کو ، اور ناپسند کی اس کی رضا ، تو برباد کر دیئے اس نے ان کے اعمال
کیا یہ سمجھ رکھا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ ہرگز نہ نکالے گا اللہ ان کے کینوں کو
اور اگر ہم چاہیں تو دکھا دیں تمہیں ان سب کو ، اور تم پہچان لو انہیں ان کے چہرے سے ، اور یقیناً تم پہچان لو گے انہیں ان کی بات کے انداز سے ، اور اللہ جانتا ہے تمہارے اعمال کو
اور یقیناً ہم آزمائیں گے تمہیں تاکہ ہم جان لیں جہاد کرنیوالوں کو تم میں سے اور صبر کرنیوالوں کو ، اور ہم جان لیں تمہاری خبروں (یعنی حالتوں) کو
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) اور مخالفت کی رسول کی بعد اس کے جبکہ واضح ہو چکی ان کیلئے ہدایت ، یہ ہرگز اللہ کا کچھ نقصان نہ کر سکیں گے ، اور عنقریب اللہ ضائع کر دے گا ان کے اعمال کو
اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی ، اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) پھر مر گئے کفر کی حالت میں ، تو ہرگز اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا
تو تم کمزور نہ پڑو اور نہ بلاؤ انہیں صلح کیلئے اور تم ہی اعلیٰ (یعنی غالب) رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے ، اور وہ ہرگز ضائع نہیں کرے گا تمہارے اعمال کو
بیشک دنیوی زندگی کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو عطا کرے گا اللہ تمہیں تمہارا اجر اور وہ (اللہ) نہیں مانگتا تم سے تمہارا مال
اگر وہ مانگے تم سے (مال) اور زور دے کر مانگے تم سے تو تم بخیلی کرو گے اور وہ نکال دے گا تمہارے کینے کو
تم ہی ہو تمہیں بلایا جاتا ہے تاکہ خرچ کرو اللہ کے راستے میں ، تو تم میں سے بعض (ایسے بھی ہیں جو) بخیلی کرتے ہیں ، اور جو بخل کرتا ہے وہ اپنے لئے بخل کرتا ہے ، اور اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو ، اور اگر تم پلٹ جاؤ تو وہ بدل کر لائے گا تمہاری جگہ کسی اور قوم کو ، پھر وہ تمہاری طرح نہ ہوں گی
سورۃ 48
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بیشک (اے نبیؐ) ہم نے آپ کو کھلی فتح دی ہے
تاکہ معاف فرمائے اللہ آپ کے وہ گناہ جو آگے ہوئے اور جو پیچھے ہوئے، اور مکمل کرے اپنی نعمت آپ پر، اور رہنمائی کرے آپ کی سیدھے راستے کی
اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے (فتح مکہ کے ذریعے)
وہی ہے جس نے نازل کیا سکون مومنوں کے دلوں میں، تاکہ (مومنین) زیادہ کریں اپنے ایمان کے ساتھ مزید ایمان کو، اور اللہ ہی کے لشکر ہیں آسمانوں اور زمین کے اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے
تاکہ (اللہ) داخل کرے مؤمن مردوں اور مؤمنہ عورتوں کو ان جنتوں میں بہ رہی ہیں جن کے نیچے نہریں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور دور کر دے ان (مؤمنوں) سے ان کے گناہ، اور یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے
اور تاکہ عذاب دے ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو گمان رکھتے ہیں اللہ کے بارے میں برے (کہ دین کی مدد نہیں کی جائے گی) ان ہی پر برائی کا دائرہ (یعنی گردش) ہے، اور غضب ہوا اللہ کا ان پر، اور انہیں لعنت کی، اور تیار کر رکھا ہے ان کے لئے جہنم، اور وہ برا ٹھکانہ ہے
اور اللہ ہی کے لئے (تمام) لشکر ہیں آسمانوں اور زمین کے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
بیشک ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانیوالا بناکر
تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ اور اسکے رسول پر اور اسکی مدد کرو اور اس کی عزت کرو اور تسبیح بیان کرو اس کی صبح اور شام
بیشک جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھوں پر، تو جو عہد توڑے تو بے شک وہ اپنے (نقصان) کیلئے توڑتا ہے، اور جو پورا کرے جو عہد اس نے اللہ سے کیا ہے، تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا
عنقریب کہیں گے تم سے (عمرہ پر جانے سے) پیچھے رہ جانے والے دیہاتی، ہمیں مشغول کر دیا تھا ہمارے مال اور اہل (و عیال) نے، تو آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے، یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، آپ کہہ دیں کون مالک ہو گا تمہارا اللہ کے پاس کچھ بھی، اگر وہ تمہیں نقصان پہونچانا چاہے یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے، بلکہ تم لوگ جو عمل کر رہے ہو اس سے اللہ باخبر ہے
بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ پائیں گے رسول اور مسلمان اپنے گھروں کو (مدینہ) کبھی بھی، اور بس گیا تھا یہ (خیال) تمہارے دلوں میں، اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا (کہ اللہ مدد نہیں کریگا) اور تم ہی ہو ہلاک ہونیوالے
اور جو ایمان نہ لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر، تو بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہے ایسے کافروں کیلئے دہکتی آگ
اور اللہ کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی وہ مغفرت کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ مغفرت کرنیوالا رحم کرنیوالا ہے
عنقریب کہیں گے پیچھے رہ جانے والے جب تم جاؤ گے مال غنیمت کی طرف اسے لینے، چھوڑ دیں ہمیں اب ہم اتباع کریں آپ کی (جنگ خیبر میں) وہ چاہتے ہیں کہ بدل دیں اللہ کے کلام کو آپ کہہ دیں تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے اسی طرح کہا ہے اللہ نے پہلے ہی، تو عنقریب وہ کہیں گے، بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، (دراصل) یہ وہ لوگ ہیں جو بہت ہی کم سمجھتے ہیں
آپ کہہ دیں پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہ عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک سخت جنگجو قوم (روم کے عیسائی) کی طرف تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، تو اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے گا، اور اگر تم منہ پھیرو گے جیسا کہ پہلے بھی تم نے منہ پھیرا ہے، تو اللہ عذاب دے گا تمہیں دردناک عذاب
(یہ لوگ جنگ میں نہ جائیں تو) نہیں ہے اندھے پر کوئی حرج اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ بیمار پر کوئی حرج، اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ اور اسکے رسول کی اسے اللہ داخل کرے گا ایسی جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، اور جو منہ پھیر لے، عذاب دے گا اسے دردناک عذاب
یقیناً راضی ہوا اللہ ان مؤمنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے تجھ سے درخت کے نیچے، تو معلوم کر لیا اللہ نے جو (ایمان) ان کے دلوں میں تھا، تو نازل کی اللہ نے سکینت ان پر (یعنی اطمینان) اور عطا کی انہیں قریب ہی (خیبر کی) فتح
اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وہ حاصل کریں گے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
اور وعدہ کیا ہے اللہ نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا (آگے بھی) جنہیں تم حاصل کرو گے، تو وہ جلد دیگا تمہیں یہ (غنیمت) اور روکا لوگوں کے (حملے کے) ہاتھوں کو تم سے تا کہ ہو ایک نشانی مؤمنوں کیلئے اور اللہ رہنمائی کرے تمہاری سیدھے راستے کی
اور دوسری وہ (غنیمتیں) جن پر تم نے قابو نہیں پایا، یقیناً اللہ کے احاطے میں ہے (آئندہ کی) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اور اگر جنگ کرتے تم سے کافر (خیبر کی جنگ میں) تو یقیناً بھاگ جاتے پیٹھ پھیر کر، پھر وہ نہ پاتے (اپنے لئے) کوئی کارساز اور نہ مددگار
اللہ کا طریقہ ہے (مدد کرنا) جو چلا آیا ہے پہلے سے، اور تم ہرگز نہ پاؤ گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی
وہی ہے جس نے روکا کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے وادی مکہ (حدیبیہ) میں اس کے بعد کہ کامیاب کر دیا تھا تمہیں ان پر (اللہ نے) اور اللہ دیکھ رہا ہے جو عمل تم کر رہے ہو
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور روکا تم کو مسجد حرام سے اور قربانی کے جانوروں کو روکے رکھا اس کی قربان گاہ میں پہونچنے سے، اور اگر نہ ہوتے (بہت سے) ایسے مؤمن مرد اور مؤمنہ عورتیں جن کے بارے میں تمہیں معلوم نہ تھا تم روند ڈالتے انہیں پھر تمہیں مصیبت پہونچتی انکی وجہ سے انجانے میں، تا کہ داخل کرے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اور اگر یہ الگ الگ ہو تے تو ان میں سے جو کافر تھے ہم ان کو عذاب دیتے دردناک عذاب
جب کہ ڈال لیا ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت (یعنی غرور) جاہلی حمیت کی طرح تو نازل کی اللہ نے سکینت (بطور صبر) اپنے رسول پر اور مؤمنین پر اور جمائے رکھا انہیں تقوے کی بات پر، اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اہل بھی تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
یقیناً سچا دکھایا اللہ نے اپنے رسول کو خواب، حق (یعنی اللہ) کی جانب سے کہ یقیناً تم داخل ہو گے مسجد حرام میں ان شاء اللہ امن کے ساتھ، سر منڈواتے ہوئے اور (بال) کترواتے ہوئے بے خوف ہو کر وہ جانتا ہے (صلح کا فائدہ) جسے تم نہیں جانتے، تو اس نے عنایت کی اس کے علاوہ بھی ایک قریبی فتح (خیبر کی)
وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تا کہ وہ ظاہر (یعنی غالب) کرے اس دین کو تمام دین پر اور اللہ کی گواہی کافی ہے
محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ سخت ہیں کافروں پر رحمدل ہیں آپس میں، تو، انہیں دیکھے گا کہ وہ رکوع اور سجدے کرتے ہیں وہ تلاشتے ہیں اللہ کا فضل اور اسکی رضاء، ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کی نشانی ہے، ان (مؤمنوں) کی یہ مثال تورات میں ہے اور ان کی یہی مثال انجیل میں بھی ہے، اس کھیتی کی طرح جس نے نکالی اپنی کونپل اور مضبوط کیا اسے پھر موٹی ہوئی، پھر کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر، اور خوش کیا کسانوں کو تا کہ غصہ دلائے ان کی (یہ مثال) کافروں کو، اور وعدہ کیا ہے اللہ نے ایمان والوں اور نیک اعمال کرنیوالوں سے مغفرت اور اجر عظیم کا
سورۃ 49
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے ایمان والو! آگے نہ بڑھو اللہ اور اس کے رسول سے (عزت اور احترام کی وجہ سے) اور ڈرو اللہ سے، بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے
اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر، اور تم نہ کرو اونچی اپنی آواز ان کے سامنے اپنی بات میں جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ ضائع ہو جائیں تمہارے اعمال اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
بیشک جو لوگ پست رکھتے ہیں اپنی آواز رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کا اللہ نے امتحان لیا ہے تقوے کے اعتبار سے، ان کیلئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے
بیشک جو لوگ پکارتے ہیں آپ کو حجروں کے پیچھے سے ان میں سے اکثر بے عقل ہیں
اور اگر یہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود نکل آجاتے ان کے پاس، تو یہ بہتر ہوتا ان کیلئے، اور اللہ غفور اور رحیم ہے
اے ایمان والو! اگر آئے تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر، تو تم تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم تکلیف پہونچادو کسی قوم کو جہالت (یعنی نادانی) میں پھر تم اپنے کئے پر نادم ہو جاؤ
اور جان لو کہ تمہارے بیچ اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ تمہاری بات مان لیں اکثر امور میں، تو تم مشکل میں پڑ جاؤ گے اور لیکن اللہ نے محبوب بنا دیا ہے تمہارے لئے ایمان کو، اور مزین کر دیا ہے اسے تمہارے دلوں میں اور ناپسند فرمایا ہے تمہارے لئے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو، یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں
یہ اللہ کا فضل اور نعمت ہے (تمہارے اوپر) اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اگر دو جماعتیں مؤمنوں کی آپس میں لڑ پڑیں تو اصلاح کرا دیا کرو ان دونوں کے بیچ، پھر اگر زیادتی کرے ان دونوں میں ایک دوسری پر تو تم لڑو اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ رجوع کرے اللہ کے حکم سے، تو اگر رجوع کرلے تو صلح کرا دو ان دونوں میں انصاف کے ساتھ، اور انصاف کرو، بیشک اللہ محبت کرتا ہے انصاف کرنے والوں سے
یقیناً مؤمن بھائی بھائی ہیں تو اصلاح کرا دیا کرو اپنے دو بھائیوں کے درمیان اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے
اے ایمان والو! ایک قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہو، اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں (اللہ کے نزدیک) اور نہ الزام لگاؤ ایک دوسرے پر، اور نہ پکارو کسی کو برے لقب سے، برا ہے گناہ کے نام سے پکارنا ایمان لے آنے کے بعد (مثلاً اے کافر) اور جو توبہ نہ کریں (اس سے) تو وہی ظالم ہیں
اے ایمان والو! اجتناب کرو (یعنی بچو) بہت بدگمانیوں سے (یعنی عیب نہ تلاشو) بیشک بعض بدگمانیاں گناہ ہیں، اور تجسس (یعنی ٹوہ) میں نہ پڑو اور نہ کرے غیبت کوئی تم میں کسی کی، کیا کوئی پسند کرتا ہے تم میں کہ وہ کھائے اپنے مردہ بھائی کا گوشت تم اس سے کراہت کرتے ہو، اور ڈرو اللہ سے، بیشک اللہ توبہ قبول کرنیوالا مہربان ہے
اے لوگو! بیشک ہم نے پیدا کیا ہے تم کو ایک مرد اور عورت سے، اور ہم نے بنا دیئے ہیں تمہارے کنبے اور قبیلے تا کہ تم پہچانو (آپس میں) اللہ کے پاس تم میں باعزت وہ ہے جو زیادہ ڈرنیوالا ہے، بیشک اللہ علیم اور خبیر ہے
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لے آئے ہیں، آپ کہہ دیں تم ایمان نہیں لائے ہو، بلکہ تم کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں، اور ابھی داخل نہیں ہوا ایمان تمہارے دلوں میں، اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کرے گا بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے
یقیناً مؤمن وہ ہیں جو ایمان لائیں اللہ اور اس کے رسول پر، پھر شک میں نہ پڑیں، اور جہاد کریں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں، یہی سچے (مؤمن) ہیں
کہہ دیجئے کہ کیا تم جتاتے ہو اللہ کو اپنی دینداری، اور اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے
وہ احسان جتاتے ہیں آپ پر کہ وہ اسلام لے آئے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ تم احسان مت جتاؤ مجھ پر اپنے اسلام لانے کا، بلکہ اللہ کا احسان ہے تم پر کہ اس نے ہدایت دی تمہیں ایمان کی اگر تم سچے ہو
بیشک اللہ جانتا ہے غیب کی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم عمل کر رہے ہو
سورۃ 50
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ق! قرآن کی قسم! جو بزرگی والا ہے
بلکہ انہیں تعجب ہے کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانیوالا انہیں میں سے، تو کافروں نے کہا یہ چیز عجیب ہے
کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی، تو یہ دوبارہ لوٹنا دور کی بات ہے
یقیناً ہمیں معلوم ہے جو گھٹاتی ہے زمین انہیں (گوشت، ہڈی) اور ہمارے پاس محفوظ کتاب ہے
بلکہ انہوں نے جھٹلایا حق کو ان کے پاس آنے کے بعد، تو وہ الجھن والے معاملے میں ہیں
کیا انہوں نے نہیں دیکھا آسمان کو اپنے اوپر، کیسے ہم نے بنایا ہے اسے، اور زینت دی اسے (تاروں سے) اور نہیں ہے اسمیں کوئی سوراخ
اور زمین کو ہم نے بچھا دیا، اور ڈال دیئے ہم نے اس میں پہاڑ، اور اگائے ہم نے اس میں تمام طرح کے خوشنما جوڑے
بصیرت اور نصیحت ہے ہر رجوع کرنیوالے بندے کیلئے
اور ہم نے نازل کیا آسمان سے بابرکت پانی، اور ہم نے اگائے اس کے ذریعے باغات اور دانے (یعنی اناج) کٹنے والے
اور کھجوروں کے بلند درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں
رزق ہے میرے بندوں کیلئے اور ہم نے زندہ کیا اس (پانی) سے مردہ شہر کو، اسی طرح نکلنا ہے (قبروں سے)
جھٹلایا ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور نبی کو کنویں میں ڈالنے والوں نے اور ثمود (صالح کی قوم) نے
اور (جھٹلایا) عاد نے اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے (یعنی قوم نے)
اور اصحاب ایکہ (قوم شعیب) نے اور قوم تبع (یمن کے بادشاہ کی قوم) نے ان سبھوں نے جھٹلایا رسولوں کو، تو سچ ہوا میرا عذاب
تو کیا ہم تھک گئے پہلی بار پیدا کر کے بلکہ یہ شک میں ہیں جدید تخلیق (یعنی نئی پیدائش) میں
اور یقیناً ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو، اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ پیدا ہوتا ہے ان کے دل میں، اور ہم زیادہ قریب ہیں اس کی جان کی رگ سے بھی
جبکہ ملے ہوتے ہیں دو ملنے والے (فرشتے، انسان سے) ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا
(انسان) جو لفظ نکالتا ہے (منہ سے) اس کے پاس نگہبان (فرشتہ) تیار رہتا ہے
اور آئے گی موت کی بیہوشی (یہ) برحق ہے یہ (وہی ہے) جس سے تو بھاگا کرتا تھا
اور پھونکا جائے گا صور میں، یہ وعدہ (عذاب) کا دن ہے
اور آئے گا ہر شخص اسکے ساتھ ایک ہانکنے والا (فرشتہ) اور ایک گواہی دینے والا (فرشتہ) ہو گا
یقیناً تو غفلت میں اس (دن) سے، تو ہم نے ہٹا دیا تیرے سامنے سے تیرا پردہ، تو تیری آنکھ آج بہت تیز ہے
اور کہے گا اس کا ساتھی (فرشتہ) یہ (تیرا عمل) میرے سامنے حاضر ہے
تم دونوں (فرشتے) ڈالدو جہنم میں ہر کافر سرکش کو
(کیوں کہ یہ) منع کرتا تھا خیر سے، حد سے گزرنیوالا شک کرنیوالا تھا
جس نے بنا رکھا تھا اللہ کے ساتھ دوسرا معبود، تو تم دونوں (فرشتے) ڈالدو اسے سخت عذاب میں
کہے گا اس کا ساتھی (شیطان) اے ہمارے رب! میں نے نہیں گمراہ کیا تھا اسے، بلکہ یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا
فرمائے گا مت جھگڑو میرے سامنے، یقیناً میں نے بھیج دیا تھا پہلے ہی تمہاری طرف وعید (یعنی عذاب کا وعدہ)
نہیں بدلی جاتی بات میرے سامنے، اور نہ میں ظلم کرنیوالا ہوں اپنے بندوں پر
اس دن ہم کہیں گے جہنم سے، کیا تو بھر گئی، وہ کہے گی کیا کوئی اور بھی ہے؟
اور قریب لائی جائے گی جنت متقیوں کیلئے (جو یقیناً) دور نہ ہو گی
یہی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع اور حفاظت کرنیوالے کیلئے ہے
جو ڈرا رحمان سے بن دیکھے اور رجوع کرنیوالا دل لے کر
داخل ہو اس (جنت) میں سلامتی کے ساتھ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے
ان کیلئے وہ ہو گا جو وہ چاہیں گے اسمیں، اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ ہے
اور کتنی ہی امتوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ان سے پہلے، جو ان سے شدید پکڑ والی تھیں تو وہ لوگ بھاگنے لگے شہروں میں (عذاب سے) کہ کوئی ٹھکانہ ہے؟
بیشک ان (واقعات) میں نصیحت ہے اس کیلئے جسے دل ہو، یا جو کان دھرنے والا ہو اور وہ جو حاضر (دماغ) ہو
اور یقیناً ہم نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے (سب کو) چھ دن میں، اور نہیں پہنچی ہمیں کوئی تھکاوٹ
تو آپ صبر کریں اس پر جو کچھ یہ کہتے ہیں، اور تسبیح کریں اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج نکلنے سے پہلے اور (سورج) غروب ہونے سے پہلے بھی
اور رات میں تسبیح کریں (تہجد پڑھیں) اور نمازوں کے بعد بھی
اور سنو جس دن پکارے گا ایک پکارنے والا (فرشتہ) قریب کی جگہ سے
جس دن وہ سنیں گے چنگھاڑ برحق (سچ مچ) یہ دن ہو گا (قبروں سے) نکلنے کا
بیشک ہم ہی حیات دیتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹنا ہے
جس دن پھٹ جائے گی زمین ان سے پھر دوڑ پڑیں گے، یہ جمع کرنا ہم پر آسان ہے
ہم جانتے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں، اور آپ ان پر جبر کرنیوالے نہیں، تو آپ نصیحت کیجئے انہیں قرآن کے ذریعے جو ڈرتا ہو میرے وعید (یعنی ڈرانے) سے
سورۃ 51
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے ذرات کے (بکھرنے کی)
پھر قسم ہے (بادلوں کو اٹھانیوالی) ہواؤں کی
پھر قسم ہے کشتیوں کی آسانی سے چلنے کی
پھر قسم ہے کام تقسیم کرنیوالے (فرشتوں) کی
تم سے کیا گیا وعدہ سچا ہے (قیامت کا)
اور بیشک فیصلہ واقع ہونیوالا ہے
قسم ہے راستے والے آسمان کی (جس سے فرشتے گزرتے ہیں)
بیشک تم (اے کفار مکہ) اختلافی بات میں پڑے ہوئے ہو
پھیرا وہی جاتا ہے اس (قرآن) سے جو خود پھرا ہو (نبی، اور ایمان سے)
مارے جائیں اٹکل لگانے والے
وہ جو پڑے ہیں غفلت میں بھولے ہوئے
یہ (کفار مکہ) سوال کرتے ہیں کہ کب آئے گا قیامت کا دن؟
اس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے
(کہا جائے گا) تم چکھو مزہ اپنے فتنے کا یہی ہے (وہ عذاب) جس کی تم جلدی کرتے تھے (یہ ان کفار مکہ سے کہا جائے گا)
بیشک متقی جنتوں اور چشموں میں ہوں گے
لے رہے ہوں گے وہ جو عطا فرمائے گا انہیں ان کا رب، کیوں کہ وہ اس سے پہلے نیکوکار تھے (دنیا میں)
وہ بہت کم رات میں سویا کرتے تھے (اللہ کی یاد میں گزارتے تھے)
اور سحر کے وقت وہ توبہ اور استغفار کیا کرتے تھے
اور اپنے مالوں میں حق سمجھتے تھے سائل اور محروم کیلئے
اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین کرنیوالوں کیلئے
اور خود تمہارے اندر بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں
اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور (ثواب و عذاب بھی) جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی، بیشک یہ (ثواب و عذاب بھی) برحق ہیں اسی طرح ہیں جس طرح تم بول رہے ہو (کفار مکہ سے)
کیا پہونچی ہے تجھے (اے نبیؐ) خبر ابراہیم کے مکرم مہمانوں کی
جب داخل ہوئے (فرشتے) ان کے پاس تو سلام کیا (ابراہیم نے) سلام کا جواب دیا (اور دل میں کہا یہ) اجنبی معلوم پڑتے ہیں
پھر لپکے اپنے گھر والوں کی طرف، اور لے کے آئے ایک موٹا بچھڑا (بھنا ہوا)
اور قریب رکھا اسے ان کی طرف، اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں؟
تو تجسس ہوا ان سے خوف کا، انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے، اور انہوں نے بشارت دی ان کو ایک علم والے لڑکے (اسحاق ع) کی
تو متوجہ ہوئی ان کی بیوی (سارہ) چیختی ہوئی تو مارا اپنے چہرے پر، اور کہا میں تو بڑھیا اور بانجھ ہوں
انہوں نے کہا (یعنی فرشتوں نے کہا) اسی طرح فرمایا ہے تیرے رب نے، بیشک وہ حکیم اور علیم ہے