اسی (اللہ) کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم، اور جو نکلتے ہیں پھل اپنے غلافوں (یا چھلکوں) سے اور جو حمل سے ہوتی ہے مادہ اور جو بچے وہ جنتی ہے سب کا علم اسی کو ہے، اور جس دن پکارے گا اللہ ان (مشرکوں) کو، کہ کہاں ہیں میرے شریک؟ وہ کہیں گے ہم نے تو تجھے کہہ دیا کہ ہم میں کوئی اسکا گواہ نہیں
سورۃ 41
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اور گم ہو جائیں گے ان سے جنہیں یہ پکارا کرتے تھے اس سے پہلے، اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ اب نہیں ہے ان کیلئے کوئی پناہ
نہیں تھکتا انسان خیر کی دعاء مانگنے سے، اور اگر پہونچتی ہے اس (انسان) کو کوئی تکلیف تو وہ مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے
اور اگر ہم مزہ چکھائیں اسے رحمت کا اپنی طرف سے مصیبت کے بعد جو اسے پہونچی، تو ضرور وہ کہے گا یہ تو میرا حق ہے، اور میرا گمان نہیں کہ قیامت قائم ہوگی، اور اگر میں لوٹایا بھی گیا اپنے رب کی طرف تو بیشک میرے لئے اسکے پاس اچھائی ہی ہوگی، تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو عمل وہ کرتے تھے، اور ضرور ہم مزہ چکھائیں گے انہیں سخت عذاب کا
اور جب ہم انعام کرتے ہیں انسان پر تو اعراض کرتا ہے اور موڑتا ہے اپنا پہلو (تکبر سے) اور جب پہونچتی ہے اسے برائی تو لمبی دعائیں کرتا ہے
آپ کہہ دیجئے! تمہارا کیا خیال ہے اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو پھر تم نے انکار کیا اس کا، تو اس سے بڑا گمراہ کون ہو گا جو دور کی ضد میں پڑا ہوا ہے
عنقریب ہم دکھائیں گے انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں (کائنات میں) اور ان کی اپنی ذات میں بھی (کہ کیسے ہم نے پیدا کیا) یہاں تک کہ واضح ہو جائے گا ان پر حق، کیا یہ کافی نہیں آپ کے رب (کی گواہی) کیلئے کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے
خبردار! بیشک وہ شک میں ہیں اپنے رب کی ملاقات (یعنی قیامت) میں، خبردار! بیشک وہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے
سورۃ 42
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حٰم
عٓسٓقٓ
اسی طرح وحی کی جاتی رہی ہے تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف (اللہ کی طرف سے) جو زبردست حکمت والا ہے
اسی (وحدہ لا شریک) کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند و برتر ہے
قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اوپر سے (جلال کیوجہ سے) اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں تعریف کے ساتھ اپنے رب کی اور استغفار کرتے ہیں ان کیلئے جو زمین میں ہیں، خبردار! بیشک اللہ بہت مغفرت کرنیوالا اور رحیم ہے
اور جن لوگوں نے بنا لیا ہے اس کے علاوہ کو دوست (یعنی کارساز) اللہ ان (کی حرکتوں) پر نگہبان ہے، اور آپ نہیں ہیں ان (کفار اور مشرکین) پر وکیل
اسی طرح ہم نے وحی کی ہے آپ کی طرف قرآن کو عربی میں، تاکہ آپ ڈرائیں مکہ والوں اور اس کے آس پاس والوں کو اور آپ ڈرائیں جمع ہونے کے دن سے جس میں کوئی شک نہیں، ایک فریق جنت میں ہو گا اور ایک فریق جہنم میں
اور اگر اللہ چاہتا تو بنا دیتا ان سب کو ایک ہی امت میں، اور لیکن وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالموں کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار
کیا ان (کفار اور مشرکین) نے بنا لئے ہیں اسکے سوا اور معبود، تو (یقینا) اللہ ہی معبود ہے وہی حیات دیتا ہے مُردوں کو اور وہی ہر چیز پر قادر ہے
اور جو تم نے اختلاف کیا ہے اس (دین) کی کسی چیز میں تو اس کا فیصلہ اللہ کے پاس ہے یہ اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے توکل کیا، اور اسکی طرف میں رجوع کرتا ہوں
وہ پیدا کرنیوالا ہے آسمانوں اور زمین کا، اسی نے بنائے تمہارے لئے تمہی میں سے جوڑے اور چوپایوں کے جوڑے (بنائے) وہ پھیلا رہا ہے تمہیں اس (زمین) میں، نہیں ہے اسی کی طرح کوئی بھی، اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے
اسی کے پاس ہے کنجیاں آسمانوں اور زمین کی، وہ زیادہ دیتا ہے رزق جسے چاہتا ہے، اور تنگ بھی کرتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
(اللہ نے) شریعت بنادی تمہارے لئے دین کو، جس کی وصیت کی اس نے نوح کو، اور جس کی وحی کی ہم نے تمہاری طرف، اور جس کی وصیت کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو، کہ تم قائم کرو (اس) دین کو، اور تفرقہ نہ ڈالو اس میں، مشکل ہے مشرکین پر (یہ دین) جس کی طرف آپ بلا رہے ہیں انہیں اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف جسے وہ چاہتا ہے، اور ہدایت اسی کو دیتا ہے اپنی طرف جو رجوع کرتا ہے
اور ان لوگوں نے تفرقہ کیا بعد اس کے کہ آچکا ان کے پاس علم آپسی ضد میں، اور اگر (قیامت کی) بات طے نہ ہوتی آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک (تو) یقیناً فیصلہ ہو جاتا ان کے درمیان اور بیشک جو وارث بنے اہل کتاب اپنے پہلے (اہل کتاب) کے بعد وہ بھی شک ہی شک میں ہیں اس (قرآن) میں
تو اس (قرآن) کی طرف تم بلاؤ اور جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم دیا گیا ہے، اور اتباع نہ کرو ان کی خواہشوں کی اور کہو میں ایمان لایا اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں انصاف کروں تمہارے درمیان، اللہ ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے اعمال ہمارے اور تمہارے تمہارے لئے ہیں، کوئی حجت نہیں ہمارے اور تمہارے درمیان، اللہ جمع کرے گا ہم کو، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
اور جو حجت کرتے ہیں اللہ (کی باتوں) میں بعد اس کے کہ قبول کر لی ہیں انہیں (مسلمانوں نے) ان کی حجت باطل ہے ان کے رب کے نزدیک، اور ان پر غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
اللہ ہی ہے جس نے نازل کی ہے کتاب حق کے ساتھ اور میزان (یعنی انصاف) اور آپ کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی ہو؟
وہ جلدی کر رہے ہیں اس (قیامت) کے بارے میں جو ایمان نہیں رکھتے اس پر، اور جو ایمان رکھتے ہیں وہ تو اس سے ڈرتے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ بیشک وہ برحق ہے، خبردار! بیشک جو جھگڑ رہے ہیں قیامت کے بارے میں بیشک وہ دور کی گمراہی میں ہیں
اللہ لطیف (یعنی مہربان) ہے اپنے بندوں پر وہ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور وہ زبردست قوت والا ہے
جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی ہو، ہم زیادہ دیتے ہیں اسے اس کی کھیتی میں اور جس کا ارادہ (صرف) دنیا کی کھیتی کا ہو، تو ہم عطا کرتے ہیں اسے اسی سے، اور ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
کیا ان کے شرکاء نے شریعت بنائی ہیں ان کے لئے دین میں جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ہے، اور اگر فیصلے کی بات (قیامت) طے نہ ہوتی، تو فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان اور بیشک ظالموں کے لئے ہی دردناک عذاب ہے
آپ دیکھیں گے ظالموں کو ڈرتے ہوئے جیسا انہوں نے کمایا وہ واقع ہونے والا ہے ان پر، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ جنت کے باغات میں ہوں گے، ان کے لئے وہ ہو گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس یہی بہت بڑا فضل ہے
یہی وہ (جنت کا وعدہ) ہے جسکی بشارت دیتا ہے اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور عمل کئے نیک (تو) کہہ دیجئے! میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا، مگر رشتے کی محبت (کا ہی لحاظ کرو) جو شخص کرے گا کوئی نیکی تو ہم زیادہ کردیں گے اس کیلئے اس (کام) میں نیکی، بیشک اللہ مغفرت کرنیوالا قدر دان ہے
کیا یہ کہتے ہیں کہ (آپ نے) گھڑ لیا ہے اللہ پر جھوٹ، تو اگر چاہے اللہ تو مہر لگادے آپ کے دل پر (اگر گھڑتے تو) اور اللہ مٹاتا ہے باطل کو اور حق کو حق ثابت کرتا ہے اپنے کلمے سے، بیشک وہ جاننے والا ہے سینے کی باتوں کو
اور وہی (اللہ) ہے جو توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں کی، اور معاف فرماتا ہے گناہوں کو، اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
اور وہ قبول کرتا ہے دعائیں ایمان والوں اور نیک عمل کرنیوالوں کی، اور زیادہ کردیتا ہے انہیں اپنے فضل سے، اور (جو) کفار ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہے
اور اگر زیادہ کردے اللہ اپنے (تمام) بندوں کی روزی کو، تو یقیناً وہ بغاوت کر دیں زمین میں، اور لیکن اللہ نازل کرتا ہے بقدر ضرورت جسے چاہتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر اور دیکھ رہا ہے
اور وہی ہے جو نازل کرتا ہے بارش لوگوں کے ناامید ہو جانے کے بعد اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت، اور وہ قابل تعریف دوست ہے
اور اس کی نشانیوں میں سے پیدائش ہے آسمانوں اور زمین کی اور اسی نے پھیلایا ہے ان دونوں میں (یعنی آسمانوں اور زمینوں میں) جاندار کو، اور وہ اسکے جمع کرنے پر جب چاہے قادر ہے
اور جو پہونچتی ہے تمہیں مصیبت تو وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے، اور وہ بہت سی باتوں کو (اپنی رحمت سے) معاف فرما دیتا ہے
اور تم عاجز نہیں کر سکتے (اللہ کو) زمین میں، اور نہیں ہے تمہارے لئے اللہ کے علاوہ کوئی کارساز، اور نہ ہی مددگار
اور اس کی نشانیوں میں سے کشتیاں (چلتی) ہیں دریا میں پہاڑوں کی طرح
اگر وہ چاہے تو روک دے ہوا کو تو وہ (کشتیاں) ہو جائیں کھڑی ان (دریاؤں) کی پیٹھ پر، بیشک اسمیں نشانیاں ہیں ہر صبر اور شکر کرنیوالے کیلئے
یا وہ تباہ کردے انہیں جیسا انہوں نے کمایا اور وہ معاف کرتا ہے بہت سے (گناہ) کو
اور جان لیں وہ جو جھگڑتے ہیں ہماری نشانیوں میں کہ نہیں ہے ان کیلئے کوئی پناہ
تو جو چیزیں تمہیں عطا کی گئی ہیں وہ (تھوڑا) سامان ہے حیات دنیا کا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں
اور جو اجتناب کرتے (یعنی بچتے) ہیں کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائیوں سے، اور جب کبھی وہ غصہ کرتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں
اور یہی ہیں وہ جو قبول کرتے ہیں اپنے رب کو اور نماز قائم کرتے ہیں، اور اپنے معاملے میں مشورہ کرتے ہیں آپس میں، اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے انہیں اس میں سے خرچ کرتے ہیں
اور جب پہونچتی ہے ان پر زیادتی تو وہ بدلہ لیتے ہیں
اور بدلہ برائی کا اسی جیسی برائی سے (لیتے ہیں) اور جو معاف کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک اللہ محبت نہیں کرتا ظالموں سے
اور جو بدلہ لے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد، تو یہ وہ ہیں جن پر کوئی راستہ (یعنی گناہ) نہیں
بے شک راستہ (یعنی گناہ) تو ان پر ہے جو ظلم کریں لوگوں پر، اور بغاوت (و فساد) کریں زمین میں ناحق، یہی وہ لوگ ہیں جن کیلئے (اللہ کی طرف سے) دردناک عذاب ہے
اور جو صبر کرے اور معاف کردے (تو) بیشک یہ یقیناً ہمت کے کام ہیں
اور جسے اللہ گمراہ کردے تو نہیں ہے اس کے لئے کوئی دوست اس کے بعد، اور تم دیکھو گے ظالموں کو جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ کیا (اب دنیا میں) لوٹنے کا کوئی راستہ ہے
اور تم دیکھو گے انہیں جب وہ پیش کئے جائیں گے اس (جہنم) پر، ڈر رہے ہوں گے ذلت سے اور دیکھیں گے چھپی نظروں سے، اور کہیں گے ایمان والے بیشک خسارے میں وہی ہے جنہوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو اور اپنے گھرانے کو (آج) قیامت کے دن، خبردار! بیشک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں رہیں گے
اور نہ ہو گا ان کے لئے (قیامت کے دن) کوئی مددگار جو مدد کرے ان کی اللہ کے علاوہ اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لئے کوئی راستہ نہیں
(اے لوگو!) قبول کرو اپنے رب (کے احکام) کو اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن جو نہ ہور د اس کے لیے اللہ کی طرف سے، نہ ہو گی تمہارے لئے کوئی پناہ اس دن اور نہ تم انکار کرسکو گے (قیامت کے دن)
تو اگر یہ (کفار) اعراض کریں تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر محافظ بنا کر، آپ کے ذمہ تو صرف (پیغام) پہونچانا ہے، اور جب ہم مزہ چکھاتے ہیں انسان کو اپنی رحمت کا تو وہ خوش ہو جاتا ہے اس سے، اور اگر پہونچتی ہے انہیں مصیبت انکے اعمال کیوجہ سے تو بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہو جاتا ہے
اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں کی اور زمین کی وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے (اور) وہ عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں، اور عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹے
یا جوڑا دیتا ہے انہیں بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی، اور (مصلحت کے مدنظر) بنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے بانجھ، بیشک وہ بہت جاننے والا بہت قدرت والا ہے
اور ممکن نہیں کسی بشر کیلئے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے، یا بھیجے کسی فرشتے کو اور وہ (فرشتہ) وحی کرے اسکے حکم سے جو اللہ چاہے، بیشک وہ اعلیٰ اور حکمت والا ہے
اور اسی طرح ہم نے وحی کی آپکی طرف روح (یعنی قرآن) کو اپنے حکم سے آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا ہے؟ اور لیکن ہم نے بنایا ہے اس (قرآن) کو نور، ہم ہدایت دیتے ہیں اس (نور) کے ذریعے جسے ہم چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے، اور بیشک آپ یقیناً راہ دکھاتے ہیں سیدھے راستے کی
اللہ کے راستے کی، اسی (اللہ) کیلئے ہے جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور جو کچھ ہے زمین میں، خبردار! اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں
سورۃ 43
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حم
قسم ہے اس واضح کتاب (قرآن) کی
ہم نے بنایا ہے اس قرآن کو عربی زبان میں، تاکہ تم سمجھ سکو
اور بیشک یہ (قرآن) لوح محفوظ میں ہے ہمارے نزدیک اعلیٰ اور حکمت والا ہے
کیا ہم روک دیں تم سے اس نصیحت (یعنی قرآن) کو اسلئے کہ تم حد سے بڑھنے والے ہو
اور کتنے ہی نبی بھیجے ہم نے پہلوں میں بھی (آپ سے قبل)
اور جب بھی آیا ان کے پاس کوئی نبی (تو) انہوں نے اس کا مذاق اڑایا
تو ہم نے ہلاک کر دیا (انہیں جو) ان سے زیادہ پکڑ والے تھے، اور گزر چکی ہے مثال پہلوں کی
اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو ضرور کہیں گے پیدا کیا ہے انہیں زبردست علم والے نے
(وہی اللہ ہے) جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو فرش (یعنی بچھونا) اور اسی نے بنائے تمہارے لئے اس میں راستے تاکہ تم راہ پاسکو
اور اسی (اللہ) نے نازل فرمایا آسمان سے پانی بقدر ضرورت، تو ہم نے زندہ کیا اس (پانی) کے ذریعے مردہ شہر کو، اسی طرح تم نکالے جاؤ گے
اور وہ جس نے پیدا کیا تمام چیزوں کو جوڑوں میں، اور بنائے تمہارے لئے کشتیاں اور جانور جن پر تم سوار ہوتے ہو
تاکہ تم سواری کرو ان (جانوروں) کی پیٹھوں پر، پھر تم یاد کرو اپنے رب کی نعمت کو جب تم سوار ہو جاؤ ان پر، اور کہو پاک ہے وہ ذات جس نے مسخر کیا (قابو میں کیا) ہمارے لئے اسے، اور نہیں ہم قابو کر سکتے تھے اسے
اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں
اور انہوں نے بنا لیا ہے اس (اللہ) کے بندوں میں سے حصہ (یعنی معبود) بیشک انسان کھلا ناشکرا ہے
کیا اللہ نے بنالی ہیں اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں (اپنے لئے) اور چن دیا ہے تمہارے لئے بیٹے
اور جب بشارت دی جاتی ہے ان میں کسی کو (بیٹی کی) جو وہ بیان کرتا ہے مثال رحمٰن کیلئے، تو ہو جاتا ہے اس کا چہرہ سیاہ اور وہ غمگین ہو جاتا ہے
کیا جن کی پرورش زیورات میں ہوں اور وہ جھگڑے میں (بات) واضح نہ کر سکیں (وہ بیٹیاں معبود؟)
اور انہوں نے بنا دیا ہے فرشتوں کو عورتیں (اللہ کی پناہ) جو بندے ہیں رحمٰن کے، کیا یہ گواہ ہیں ان کی پیدائش کے؟ جلد لکھ لی جاتی ہے ان کی یہ گواہی (کی بات) اور ان سے سوال کیا جائے گا
اور وہ کہتے ہیں اگر چاہتا رحمٰن تو ہم ان (فرشتوں) کی عبادت نہیں کرتے، نہیں ہے انہیں اس کی کچھ خبر، وہ اپنی طرف سے گھڑتے ہیں (جھوٹ)
کیا ہم نے عطا کی انہیں کوئی کتاب اس (قرآن) سے پہلے تو وہ اسے تھامے ہوئے ہیں؟
بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر، اور بیشک ہم ان ہی کے پیچھے ہدایت یافتہ ہیں
اسی طرح جب بھی ہم نے بھیجا آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا تو کہا (وہاں کے رہنے والے) خوشحال لوگوں نے، کہ ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو اس طریقے پر، اور بیشک ہم ان کے پیچھے مقتدی (یعنی پیروکار) ہیں
کہا (نبی نے) اگرچہ میں لایا ہوں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت کی چیز جس پر تم نے پایا اپنے اجداد کو، کہا بیشک ہم اس کے انکاری ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے
تو ہم نے انتقام لیا ان سے تو دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا؟
اور جب کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے ابا سے اور اپنی قوم سے بیشک میں بری ہوں ان سے جنکی تم عبادت کرتے ہو
مگر جس نے مجھے پیدا کیا بیشک وہی مجھے ہدایت دیگا
اور (اللہ نے) بنا دیا اس کلمہ (لا الہ) کو باقی اسکے بعد والوں میں تاکہ وہ بھی رجوع کریں
بلکہ میں نے فائدہ دیا انہیں اور ان کے اجداد کو حتیٰ کہ آگیا ان کے پاس حق اور کھلا رسول
اور جب آیا ان کے پاس حق (اللہ کی طرف سے) تو انہوں نے کہا یہ جادو ہے اور بیشک ہم اس کے انکاری ہیں
اور کہنے لگے، کیوں نہ نازل کیا گیا اس قرآن کو کسی بڑے آدمی پر ان دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں
کیا یہ تقسیم کریں گے آپ کے رب کی رحمت (یعنی نبوت) کو ہم نے تقسیم کی ہے ان کی معیشت (یعنی روزی) دنیوی زندگی میں، اور ہم نے بلند کئے ہیں ایک کے دوسرے پر درجات، تاکہ بنائے ایک دوسرے کو سخری (یعنی خادم دنیا کے نظام چلانے کیلئے) اور آپ کے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو کچھ یہ جمع کر رہے ہیں
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی امت میں ہو جائیں گے (مال کی وجہ سے) تو یقیناً ہم بنا دیتے رحمٰن کے انکاری کے گھروں کی چھتوں کو چاندی کی، اور زینوں کو (بھی) جن پر وہ چڑھا کرتے ہیں
جن پر وہ ٹیک لگاتے ہیں
اور سونے کی (بھی چیزیں بنا دیتے) اور یہ ساری چیزیں دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور آخرت آپ کے رب کے نزدیک متقیوں کے لئے ہے
اور جو زندگی گزارتا ہے رحمٰن کے ذکر سے غافل ہو کر ہم مقرر کرتے ہیں اس پر ایک شیطان تو وہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے
اور بے شک وہ (شیاطین) انہیں روکتے ہیں (میرے) راستے سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ ہدایت یافتہ ہیں
یہاں تک کہ جب وہ آئے گا ہمارے پاس کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کی دوری ہو جاتی، تو کیا ہی برا ساتھی تھا (میرا شیطان)
اور ہرگز وہ نفع نہ دے گا تمہیں آج جب کہ تم نے ظلم کیا تھا بیشک تم (اور تمہارا دوست شیطان) عذاب میں شریک رہو گے
تو کیا تم سنا سکتے ہو بہرے کو، یا راہ دکھا سکتے ہو اندھے کو، اور جو کھلی گمراہی میں ہو
تو اگر ہم لے جائیں تمہیں (موت دے کر) تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (آخرت میں)
یا ہم دکھائیں گے تمہیں جو وعدہ ہم نے کیا ہے ان سے (عذاب کا) بیشک ہم ان پر قادر ہیں
تو تھام لو (قرآن کو) جو وحی کے ذریعے دیا گیا ہے تمہیں بیشک تم سیدھے راستے پر ہو
اور بیشک یہ (قرآن) نصیحت ہے تمہارے لئے، اور تمہاری قوم کیلئے اور جلد تم سے سوال کیا جائے گا
اور پوچھو! (رسولوں سے) جنہیں ہم نے بھیجا تھا تم سے پہلے کہ کیا ہم نے بنایا تھا رحمان کے علاوہ کوئی معبود جن کی عبادت کی جائے؟
اور یقیناً ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس، تو کہا بیشک میں رسول ہوں تمام جہانوں کے رب کا
تو جب وہ آئے ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر تو جب ہی وہ ان کا مذاق اڑانے لگے
اور جو نشانی ہم انہیں دکھاتے تھے وہ بڑی ہوتی تھی دوسری سے، اور ہم نے پکڑا انہیں عذاب میں تاکہ وہ رجوع کریں
اور انہوں نے کہا (موسیٰ سے کہ) اے جادوگر! دعا کرو ہمارے لئے اپنے رب سے (عذاب ٹالنے کی) جیسا اسکا تم سے وعدہ ہے ہم ہدایت قبول کر لیں گے
ان سے عذاب، تو جب ہی وہ توڑ دیتے (وعدہ)
اور نداء (یعنی آواز) دی فرعون نے اپنی قوم میں، اور کہا اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرا مصر کا ملک؟ اور یہ نہریں جو بہہ رہی ہیں میرے (محلوں کے) نیچے، تو کیا تم دیکھتے نہیں؟
کیا میں بہتر نہیں اس (موسیٰ) سے جو گھٹیا ہے، اور یہ قریب بھی نہیں کہ بیان کر سکے (بات کو اچھی طرح)
تو کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر سونے کے کنگن، یا (کیوں نہیں) آئے اس کے ساتھ فرشتے پر باندھ کر (صف بصف)
تو (فرعون نے) خوف دلایا اپنی قوم کو، تو انہوں نے اطاعت کر لی اسکی، بیشک وہ فاسق قوم تھی
تو جب انہوں نے غصہ دلایا ہمیں ہم نے انتقام لیا ان سے، تو ہم نے غرق کر دیا ان سب کو
تو بنا دیا ہم نے انہیں گزرا ہوا، اور مثال بنادی پچھلوں کے لئے
اور جب بیان کی جاتی ہے (عیسیٰ) ابن مریم کی مثال جب تمہاری قوم اس (خوشی) کیوجہ سے چیخنے لگتی ہے
اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (عیسیٰ) نہیں بیان کرتے ہیں (یہ بات) تم سے مگر جھگڑنے کیلئے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو
(عیسیٰ تو) صرف بندہ ہے انعام کیا ہے ہم نے اس پر اور ہم نے بنایا ہے اسے مثال بنی اسرائیل کے لئے
اور اگر ہم چاہتے تو یقیناً بنا دیتے تمہاری جگہ فرشتے زمین میں اور وہی خلافت کرتے (زمین میں)
اور بیشک (عیسیٰ) علامت ہے قیامت کیلئے تو تم ہرگز شک نہ کرو اس (قیامت) میں اور میری اتباع کرو، یہی سیدھا راستہ ہے
اور ہرگز نہ روکے تمہیں شیطان، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
اور جب آئے عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے لے کر تو کہا میں لے کے آیا ہوں تمہارے پاس حکمت اور تاکہ میں بیان کر دوں تمہارے لئے بعض (توریت کے احکام) جس میں تم اختلاف کرتے ہو، تو تم ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو
بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے، تو تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے
تو اختلاف کیا (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں، تو تباہی ہو گی ظالموں کے لئے دردناک دن کے عذاب سے
یہ (قیامت اور آخرت کے انکاری) انتظار کر رہے ہیں قیامت کا کہ آجائے ان پر اچانک اور وہ (اس وقت) سمجھ بھی نہ سکیں گے
دوست اس (قیامت کے) دن ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے سوائے متقیوں کے
اے میرے بندو! (اگر تم متقی اور پرہیزگار ہو تو) نہ کوئی خوف ہو گا تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے
جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان بھی تھے
(تو ان سے کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں اور خوشیاں مناؤ
پھیری جائیں گی ان کے سامنے پلیٹیں سونے کی اور پیالیاں، اور اس میں وہ ہو گا جو ان کا دل چاہے اور جن سے ان کی آنکھوں کو لذت ہو (سب وہاں ہو گا) اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے
یہی وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے جاؤ گے بسبب تمہارے اعمال کے (جو دنیا میں کئے)
تمہارے لئے اس میں بکثرت میوے ہوں گے جنہیں تم کھاؤ گے
(اور پھر وہاں جو مجرمین ہوں گے تو) بیشک مجرمین جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے
نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور وہ اسی میں مایوس پڑے رہیں گے
اور نہیں کیا ہم نے ان (ظالموں) پر ظلم بلکہ یہ خود ہی ظالم تھے
اور وہ پکاریں گے (داروغہ کو) اے مالک! تیرا رب ہمارا کام تمام کر دے (موت سے) کہے گا تم کو ٹھہرنا ہے (یہیں)
یقیناً ہم (فرشتے) آئے تھے تمہارے پاس حق لے کر، اور لیکن تم میں اکثر حق کے انکاری تھے
انہوں نے ٹھان لیا تھا ایک امر (سازش کا) تو بیشک ہم نے بھی ٹھان لیا ہے (عذاب)
کیا ان کا گمان ہے کہ ہم نہیں سنتے ہیں ان کی چھپی باتوں کو اور ان کی کانا پھوسی کو، کیوں نہیں ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں
آپ کہہ دیجئے! کہ اگر رحمٰن کی اولاد ہو تی، تو میں پہلا عبادت کرنے والا ہوتا
پاک ہے وہ جو رب ہے آسمانوں اور زمین اور عرش کا اس سے جو کچھ یہ بیان کر رہے ہیں
تم چھوڑ دو انہیں وہ بحث کرتے رہیں اور کھیل کرتے رہیں یہاں تک کہ جاملیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے
اور وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی معبود ہے، اور وہ جانکار حکمت والا ہے
اور برکت والا ہے وہ جس کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اور قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
اور نہیں ہیں وہ مالک جنہیں یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں شفاعت کا، مگر (ہاں) وہ جو شہادت دیں حق کی اور وہ عمل بھی کرتے ہوں
اور اگر سوال کرو ان سے کس نے پیدا کیا ہے انہیں تو یقیناً کہیں گے اللہ نے پھر وہ کہاں بہک رہے ہیں
اور قسم ہے (رسولؐ کے) اس کہنے کی (کہ) اے میرے رب! بیشک یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے
تو تم ان سے منہ پھیر لو (قیامت تک کیلئے) اور کہہ دو سلام، عنقریب وہ جان لیں گے
سورۃ 44
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حم
قسم ہے اس کھلی کتاب (قرآن) کی
بیشک ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو بابرکت رات (لیلۃ القدر) میں، بیشک ہم ڈرانیوالے ہیں
اسی (رات) میں فرق (یعنی فیصلہ) کیا جاتا ہے ہر حکمت والے کام کا
حکم ہماری طرف سے بیشک ہم ہی ہیں بھیجنے والے (قرآن)
رحمت ہے (یہ قرآن) آپ کے رب کی طرف سے بیشک وہ جانکار سننے والا ہے
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تمہیں یقین ہو
اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی حیات اور موت دیتا ہے وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلوں کا
بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں
تو آپ انتظار کریں اس دن کا جب آسمان لائے گا کھلا دھواں
ڈھانک لے گا وہ (دھواں) لوگوں کو، یہ دردناک عذاب ہو گا
(لوگ کہیں گے) اے ہمارے رب! دور کردے ہم سے یہ عذاب اب ہم ایمان لاتے ہیں
کہاں سے ہو ان کیلئے نصیحت اور یقیناً آئے تھے ان کے پاس واضح رسول
پھر منہ پھیر لیا (کفار مکہ نے) ان سے اور کہا جانکار مجنوں ہے
اگر ہم دور کر دیں (تم کفار سے) عذاب تھوڑا تو بیشک تم پھر لوٹ آؤ گے (کفر پر)
جس دن ہم پکڑیں گے بڑی سخت پکڑ (جنگ بدر میں) بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں
اور یقیناً آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا تھا ان کے پاس مکرم رسول (موسیٰ)
کہ (ادا کرو) یعنی حوالے کر مجھے اللہ کے بندوں کو بیشک میں تمہارے لئے امانتدار رسول ہوں
اور تم زیادتی نہ کرو اللہ کے سامنے بیشک میں لانے والا ہوں تمہارے سامنے کھلی دلیل
اور بیشک میں پناہ مانگتا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی کہ تم پتھر مارو مجھے
اور اگر تم ایمان نہیں لاتے مجھ پر تو الگ رہو مجھ سے (یعنی میرے قتل سے)
تو پکارا اپنے رب کو کہ بیشک یہ مجرم لوگ ہیں
تو (فرمایا) تم نکلو میرے بندوں کو لے کر رات میں، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا
اور چھوڑ دینا دریا کو جما ہوا، بیشک یہ فوج غرق ہونیوالی ہے
کتنے ہی چھوڑ گئے (فرعون اور اسکی قوم) باغات اور چشمے
اور کھیتیاں اور عمدہ مکان
اور نعمت، جن میں (فرعون اور اسکی قوم) عیش کیا کرتے تھے
اسی طرح (ہوا) اور ہم نے وارث بنا دیا ان کا دوسری قوم (بنی اسرائیل) کو
تو نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ انہیں مہلت دی گئی
اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو گھٹیا عذاب (یعنی مصیبت) سے
فرعون سے بیشک وہ سرکش اور حد سے بڑھنے والوں میں تھا
اور یقیناً ہم نے چنا تھا ان (بنی اسرائیل) کو اپنے علم سے جہان والوں پر
اور ہم نے عطا کی تھیں انہیں نشانیاں جن میں کھلی آزمائش تھی (موسیٰ کے معجزے پر ایمان لانا)
بیشک یہ (کفار مکہ بھی) کہہ رہے ہیں
کہ یہی ہماری پہلی موت ہو گی اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے
تو لے آؤ (اے نبیؐ) ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو
کیا یہ (کفار مکہ) بہتر ہیں یا تبع کی قوم جو ان سے پہلے تھی (ملک یمن میں) ہم نے انہیں ہلاک کر دیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے
اور ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کیلئے
ہم نے پیدا کیا ان دونوں کو برحق (آزمائش کیلئے) اور لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے (اس لئے غافل ہیں)
بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے ان سب کیلئے
اس دن نہ کام آئے گا کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی، اور نہ ان کی مدد کی جائے گی
مگر جس پر رحم فرمادے اللہ بیشک وہ زبردست رحم کرنیوالا ہے
بیشک زقوم کا درخت
گناہگار کا کھانا ہو گا
پگھلے ہوئے تانبے کی طرح وہ کھولے گا پیٹ میں
جیسے کھولتا ہوا گرم پانی
پکڑو اسے (اے فرشتو!) اور گھسیٹ کے لے جاؤ اسے جہنم کے بیچ میں
پھر بہاؤ اس کے سر کے اوپر سے عذاب کا کھولتا پانی
(دوزخیوں کو کہا جائے گا) چکھو مزہ بیشک تو تو زبردست عزت دار تھا
بیشک یہی ہے (ہمارا عذاب) جس میں تم شک کیا کرتے تھے
بیشک متقی امن کے مقام میں ہوں گے
باغوں اور چشموں میں
وہ پہنے ہوئے (بیٹھے) ہوں گے باریک اور موٹے ریشم کے لباس آمنے سامنے
اسی طرح (ہو گا) اور ہم شادی کرا دیں گے ان کی بڑی آنکھوں والی حوروں سے
وہ مانگیں گے اس میں تمام طرح کے میوے امن (یعنی ٹھاٹ) سے
وہ نہیں چکھیں گے اس (جنت) میں مگر پہلی موت کا مزہ، بچا لے گا انہیں (اللہ) جہنم کے عذاب سے
یہ فضل ہو گا تمہارے رب کا، یہی ہے بڑی کامیابی
تو ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو تمہاری زبان میں، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
تو تم انتظار کرو بیشک وہ بھی انتظار کریں
سورۃ 45
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حم
یہ کتاب نازل کی ہوئی ہے زبردست حکمت والے کی طرف سے
بیشک آسمانوں اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں مومنوں کے لئے
اور خود تمہاری پیدائش میں اور جو اس نے پھیلا رکھا ہے جانوروں کو اسمیں بھی نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کیلئے
اور رات اور دن کے آنے جانے میں، اور جو کچھ نازل کیا ہے اللہ نے آسمان سے رزق، اور وہ زندہ کرتا ہے اس (پانی) کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد، اور ہواؤں کے چلنے میں نشانیاں ہیں لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں
یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں برحق، تو اللہ کی ان باتوں اور آیتوں کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے؟
تباہی ہے ہر گھڑنیوالے گناہگار کیلئے
وہ سنتے ہیں اللہ کی آیتیں جو پڑھی جاتی ہیں ان پر پھر وہ اڑے رہتے ہیں تکبر پر، گویا کہ سنی ہی نہیں تو خبر سنا دیجئے انہیں دردناک عذاب کی
اور جب معلوم ہوتا ہے انہیں ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کے بارے میں تو اس کا مذاق بناتے ہیں یہی ہیں جن کے لئے گھٹیا عذاب ہے
ان کے پیچھے جہنم ہے اور انہیں کچھ فائدہ نہ دے گا جو کچھ انہوں نے کمایا، اور نہ وہ (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے بنا یا اللہ کے سوا کارساز، ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے
یہ (قرآن) ہدایت ہے، اور جن لوگوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا، ان کے لئے دردناک عذاب کا عذاب ہے
اللہ ہی ہے جس نے مسخر (یعنی قابو میں) کیا تمہارے لئے دریا کو، تاکہ کشتیاں چلیں اس میں اس کے حکم سے، اور تاکہ تم تلاش کرو اس کا فضل، اور تاکہ تم شکرگزار بنو
اور اس نے مسخر کیا تمہارے لئے آسمانوں اور زمین کی ساری چیز کو اپنی طرف سے، بیشک اسمیں نشانیاں ہیں غور وفکر کرنے والوں کیلئے
آپ کہہ دیں ایمان والوں سے کہ وہ معاف کریں ان لوگوں کو جو نہیں امید رکھتے (اجر کی) اللہ کے دنوں (یعنی آخرت) پر تاکہ بدلہ دے اس قوم کو ان کا جو وہ کماتے ہیں
جو نیکی کرے گا تو اپنے لئے کرے گا، اور جو برائی کرے گا تو (اس کا وبال) اسی پر ہے، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے
یقیناً ہم نے عطا کی تھی بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت۔ اور ہم نے رزق دیا تھا انہیں پاکیزہ، اور ہم نے فضیلت دی انہیں تمام جہانوں پر
اور ہم نے عطاکیں انہیں دلیلیں امر (یعنی دین) کی تو انہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ آچکا تھا ان کے پاس علم آپسی ضد میں، بیشک تمہارا رب فیصلہ کر دے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جن (چیزوں) میں یہ اختلاف کر رہے ہیں
پھر ہم نے ڈالا آپ کو شریعت پر دین کے، تو آپ اتباع کریں اس کی۔ اور نہ اتباع کریں ان (کفار) کی خواہشوں کی جو علم نہیں رکھتے
بیشک یہ لوگ ہرگز کام نہیں آسکتے آپ کے اللہ کے پاس کچھ بھی، اور بیشک ظالم دوست ہیں ایک دوسرے کے، اور اللہ دوست ہے متقیوں کا
یہ (قرآن) بصیرت (یعنی نصیحت) ہے لوگوں کیلئے اور ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لئے جو یقین رکھتی ہے
کیا یہ گمان ہے ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے، کیا ان کا زندہ رہنا اور ان کا مردہ ہونا برابر ہے، برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں
اور اسی نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو برحق (یعنی درست) اور تاکہ بدلہ دیا جائے ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے بنارکھا ہے اپنا معبود اپنی خواہش کو تو گمراہ کر دیا اسے اللہ نے اپنے علم کیوجہ سے اور مہر لگادی اس کے کان اور دل پر، اور ڈال دیا اس کی آنکھ پر پردہ، تو کون ہدایت دے گا اسے اللہ کے بعد؟ کیا تم غور نہیں کرتے
اور انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں، اور ہمیں زمانہ (بوڑھا اور حادثہ) ہلاک کرتا ہے، اور انہیں اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف گمان لگاتے ہیں
اور جب تلاوت کی جاتی ہے ان کے سامنے ہماری واضح آیتوں کی، تو وہ اپنی حجت میں کہتے ہیں، لے آؤ ہمارے باپ داداؤں کو اگر تم سچے ہو
آپ کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں حیات دیتا ہے پھر وہی تمہیں موت دے گا، پھر وہی تمہیں جمع کرے گا قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی، اور جس دن قائم ہو گی قیامت اس دن خسارے میں ہوں گے باطل
اور آپ دیکھیں گے ہر امت کو گھٹنوں کے بل (خوف سے) ہر امت کو بلایا جائے گا انکے نامہ اعمال کی طرف کہ آج تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو عمل تم کیا کرتے تھے
یہ ہے ہماری کتاب جو بول رہی ہے تمہارے بارے میں حق (یعنی سچ) بیشک ہم لکھوا لیا کرتے تھے جو تم عمل کیا کرتے تھے
تو جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے، تو داخل کرے گا انہیں ان کا رب اپنی رحمت (یعنی جنت) میں، یہی کامیابی ہے کھلی ہوئی
اور لیکن جنہوں نے کفر کیا (میں کہوں گا) کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں تو تم تکبر کرتے رہے، اور تم ہو گئے مجرم لوگ
اور جب کہا جاتا تھا (تم سے) کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے ہم کچھ گمان رکھتے ہیں (قیامت پر، لیکن) ہمیں یقین نہیں ہے
اور ظاہر ہو جائیں گی ان کی برائیاں جو وہ کیا کرتے تھے، اور الٹا پڑے گا ان پر وہ مذاق جو وہ اڑایا کرتے تھے
اور کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے، جیسا کہ تم نے بھلا دیا تھا اپنے اس دن کی ملاقات کو اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اور نہیں ہے تمہارے لئے کوئی مددگار
یہ اسلئے کہ بیشک تم نے مذاق اڑایا تھا اللہ کی آیتوں کا اور دھوکے میں رکھا تمہیں دنیا کی زندگی نے، تو آج نہ وہ نکالے جائیں گے اس (دوزخ) سے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی
تو تمام تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور رب ہے تمام جہانوں کا
اور اسی (ذات وحدہ لاشریک) کی بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں، اور وہ زبردست حکمت والا ہے