تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا؟ جو جھوٹ بولے اللہ پر (کہ اولاد ہے) اور جھٹلائے سچا (دین) کو جب کہ آ گیا ہے اس کے پاس، کیا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ایسے کفار کیلئے؟
سورۃ 39
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اور جو (رسول اللہ) لے کر آیا سچا دین اور جس (صحابہؓ) نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ متقی ہیں
ان کیلئے وہ ہے ان کے رب کے پاس جو یہ چاہیں گے، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے
تاکہ معاف کر دے اللہ ان کے وہ برے عمل جو انہوں نے (پہلے) کئے، اور اچھا بدلہ عطا فرمائے انہیں جو نیک عمل وہ کرتے تھے
کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کیلئے اور یہ (کفار) خوف دلاتے ہیں آپکو اللہ کے سوا (غیر اللہ) سے، اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو نہیں ہے اس کیلئے کوئی ہدایت دینے والا
اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ زبردست انتقام لینے والا نہیں؟
اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو یقینا وہ کہیں گے اللہ نے، آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے سوا اگر چاہے اللہ مجھے نقصان پہونچانا تو کیا یہ (غیر اللہ) دور کر سکتے ہیں اس کے نقصان کو، یا ارادہ ہو اللہ کا میرے لئے رحمت کا تو کیا یہ روک سکتے ہیں اس کی رحمت کو؟ آپ کہہ دیں کہ کافی ہے میرے لئے اللہ، اسی پر توکل کرتے ہیں توکل کرنیوالے
کہہ دیجئے! کہ اے میری قوم! تم عمل کرو اپنی جگہ میں بھی عمل کرتا ہوں، تو جلد ہی تم جان لوگے
(کہ) کس پر آتا ہے عذاب رسوا کرنے والا، اور کس پر حائل ہوتا ہے قائم رہنے والا عذاب
بیشک ہم نے نازل کی ہے آپ پر یہ کتاب (قرآن) لوگوں کے لئے حق کی جانب سے، تو جو ہدایت پائے گا اپنے لئے پائے گا اور جو گمراہ رہے گا اس کی گمراہی اسی پے ہو گی، اور آپ ان پر وکیل نہیں
اللہ ہی وفات دیتا ہے نفوس (یعنی روحوں) کو ان کی موت کے وقت، اور جو شخص نہیں مرتا اپنی نیند میں، تو روک لیتا ہے اللہ جس شخص کی موت کا فیصلہ ہوتا ہے (بعد میں) اور بھیج دیتا ہے دوسری (روحوں) کو ایک وقت مقررہ تک کے لئے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے
کیا انہوں نے بنا رکھا ہے اللہ کے علاوہ سفارشی؟ آپ کہہ دیجئے! اگرچہ وہ مالک نہ ہوں کسی چیز کا اور نہ ہی عقل رکھتے ہوں
کہہ دیجئے! اللہ ہی کو ہے تمام سفارش کا اختیار، اسی کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
اور جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ وَحْدَهُ کا تو بدکتے ہیں ان کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور جب ذکر کیا جاتا ہے اس کے علاوہ (غیر اللہ) کا تو وہ خوش ہو جاتے ہیں
آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ! تو ہی پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا، تو ہی جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا، تو ہی فیصلہ فرمائے گا اپنے بندوں کے درمیان جس (توحید کے ماننے) میں یہ اختلاف کر رہے ہیں
اور اگر ظالموں کے پاس زمین میں جو ہے وہ سب ہو جائے، اور اتنا ہی اور ہو جائے اس کے پاس، اور فدیے میں دے اسے برے عذاب کے بدلے قیامت کے دن (تو قبول نہ ہو) اور ظاہر ہو گا ان کے سامنے اللہ کی طرف سے (عذاب) جس کا انہیں گمان نہ تھا
اور ظاہر ہوں گے ان کے برے عمل جو انہوں نے کمائے تھے، اور الٹا پڑے گا ان کا مذاق جو وہ اڑایا کرتے تھے
اور جب پہونچتی ہے انسان کو تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں پھر جب ہم عطا کرتے ہیں اسے اپنی طرف سے نعمت تو کہتا ہے یہ مجھے میرے علم کی وجہ سے دیا گیا ہے، بلکہ یہ آزمائش ہے اور لیکن اکثر ان میں نہیں جانتے ہیں
یقینا ایسا ہی کہا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، تو نہ فائدہ دیا انہیں جو کچھ انہوں نے کمایا تھا
تو پہونچی ان (پچھلوں) کو مصیبت جو انہوں نے کمایا، اور جو ظالم ہیں یہ سارے (کفار مکہ) جلد پہونچے گی مصیبت ان کی کمائی کی، اور یہ (ہمیں) عاجز نہیں کر سکتے (یعنی ہرا نہیں سکتے)
کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ بیشک اللہ کشادہ کر دیتا ہے روزی جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لئے
کہہ دو اے میرے بندو! جنہوں نے زیادتی کی اپنی جانوں پر تم ناامید نہ ہو اللہ کی رحمت سے، بیشک اللہ مغفرت فرماتا ہے گناہوں کی سارے کے سارے، بیشک وہ غفور اور رحیم ہے
اور تم رجوع کرو اپنے رب کی طرف، اور فرمانبرداری کرو اس کی، اس سے قبل کہ آجائے تمہارے پاس عذاب اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے
اور اتباع کرو اس بہترین چیز (قرآن) کی جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اس سے قبل کہ آجائے تمہارے پاس عذاب اچانک، اور تم سمجھ بھی نہ سکو
پھر (اسوقت یہ نہ) کہے کوئی شخص ہائے حسرت! اس پر کہ میں نے کوتاہی کی اللہ کی جانب (اطاعت) میں، اور یہ کہ میں تمسخر کرنیوالوں میں رہا
یا (اسوقت نہ) کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو یقینا میں متقیوں میں ہوتا
یا (نہ) کہے اس وقت جب عذاب کو دیکھ لے کاش! کہ میرا لوٹ جانا ہو جائے (دنیا میں) تو میں نیکوکاروں میں سے ہو جاؤں گا
کیوں نہیں یقینا (اب) آچکی ہے تیرے پاس میری آیتیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو ہو گیا کافروں میں
اور آپ دیکھیں گے قیامت کے دن ان لوگوں کو جنہوں نے جھوٹ باندھا تھا اللہ پر، ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا جہنم میں ٹھکانہ نہیں ہے (ان) تکبر کرنیوالوں کا
اور نجات دے گا اللہ ان لوگوں کو جو متقی ہوں گے ان کی کامیابی کے ساتھ، نہیں چھوئے گی انہیں کوئی برائی اور نہ وہ غمگین ہوں گے
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی تمام چیزوں پر وکیل (یعنی محافظ) ہے
اسی کے پاس ہے کنجیاں آسمانوں اور زمین کی، اور جن لوگوں نے انکار کیا اللہ کی آیتوں کا وہی ہیں خسارہ پانے والے
کہہ دیجئے! کیا غیر اللہ کیلئے تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں عبادت کروں اے جاہلو!
اور یقینا وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور ان (نبیوں) کی طرف جو آپ سے پہلے تھے، اگر آپ نے شرک کیا تو ضرور ضائع ہو جائے گا آپ کا عمل اور ضرور ہو جائیں گے خسارہ پانیوالوں میں
بلکہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور ہو جاؤ شکر کرنیوالوں میں سے
اور انہوں نے قدر نہیں کی اللہ کی جیسا اس کی قدر کا حق تھا، اور زمین ساری اسی کے قبضے میں ہو گی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں وہ پاک ہے اور اعلیٰ ہے اس سے جو اس کا شریک بناتے ہیں
اور پھونکا جائے گا صور میں تو بے ہوش ہو جائیں گے جو بھی ہے آسمانوں اور جو بھی زمین میں ہے، مگر جسے اللہ چاہے، پھر پھونکا جائے گا اس میں دوبارہ، تو جب ہی وہ سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے
اور چمک اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے، حاضر کئے جائیں گے نامہ اعمال، اور لائے جائیں گے انبیاء اور گواہ، اور فیصلے کئے جائیں گے ان کے درمیان برحق اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
اور پورا دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے عمل کیا، اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ (لوگ) کر رہے ہیں
اور ہانک لے جائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف جماعت بنا کر جب وہ آئیں گے اس کے پاس کھول دئے جائیں گے اس کے دروازے اور کہیں گے ان سے اس کے نگہبان (فرشتے) کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس رسول تم ہی میں سے؟ جو پڑھتے تھے تم پر تمہارے رب کی آیتیں اور ڈراتے تھے تمہیں تمہارے اس دن کی ملاقات سے؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں (آئے تھے) اور لیکن طے ہو جائے گی عذاب کی بات کافروں پر
کہا جائے گا (کہ اب) داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، اسی میں ہمیشہ رہنا ہے، تو کیا ہی برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنیوالوں کا
اور (اسی طرح) ہانکے جائیں گے وہ لوگ جو متقی ہیں جنت کی طرف جماعتوں کی شکل میں، یہاں تک کہ جب آجائیں گے اس کے پاس اور کھول دیے جائیں گے اس کے دروازے اور کہیں گے ان سے ان کے نگہبان سلام ہو تم پر تم خوش رہو اور داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کیلئے
اور وہ کہیں گے تمام تعریف اللہ کیلئے جس نے سچ کیا ہمارے لئے اپنا وعدہ، اور ہمیں وارث بنایا (جنت کی) زمین کا، کہ ہم ٹھکانہ بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں، تو کیا ہی بہتر اجر ہے عمل کرنیوالوں کا
اور تم دیکھو گے فرشتوں کو حلقہ باندھے ہوئے عرش کے ارد گرد وہ تسبیح کریں گے حمد کے ساتھ اپنے رب کی، اور فیصلہ کیا جائے گا ان کے درمیان انصاف سے، اور کہا جائے گا تمام تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جو رب ہے تمام جہانوں کا
سورۃ 40
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حم
نازل کی ہوئی ہے یہ کتاب اس اللہ کی طرف سے (جو) زبردست جانکار ہے
مغفرت کرنیوالا ہے گناہوں کی اور توبہ قبول کرنیوالا ہے سخت عذاب اور انعام والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف لوٹنا ہے
نہیں جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں مگر وہی جو کافر ہیں تو دھوکے میں نہ ڈالے آپ کو ان لوگوں کی چمک دمک شہروں میں (یعنی تجارت اور مال)
جھٹلایا اس سے پہلے قوم نوح نے اور ان کے بعد کی جماعتوں نے بھی، اور ارادہ کیا ہر امت نے اپنے رسول کو پکڑنے (یعنی گرفتار کرنے) کا، اور جھگڑا کیا باطل طریقے سے تاکہ وہ نیچا دکھائیں ان کے ذریعے حق کو، تو میں نے پکڑا انہیں، تو کیسا رہا میرا عذاب؟
اور اسی طرح سچ ہو گئے آپ کے رب کے کلمے ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا کہ بیشک وہ دوزخی ہیں
جن (فرشتوں) نے اٹھا رکھا ہے عرش کو اور جو اسکے آس پاس ہیں وہ تسبیح کرتے ہیں حمد کے ساتھ اپنے رب کی اور ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور استغفار کرتے ہیں ایمان والوں کے لئے (کہتے ہیں) اے ہمارے رب! وسیع ہے ہر چیز پر تیری رحمت اور علم تو مغفرت فرما توبہ کرنے والوں کی اور جنہوں نے اتباع کی تیرے راستے کی اور تو بچا لے انہیں دوزخ کے عذاب سے
اے ہمارے رب! داخل کر انہیں ہمیشہ کی جنتوں میں جن کا تو نے وعدہ کیا ہے ان سے اور وہ بھی جو نیک ہوں گے ان کے باپ دادا ان کی بیویاں اور ان کی اولاد، بیشک تو ہی زبردست حکمت والا ہے
اور بچالے انہیں برائیوں سے اور تو جسے بچالے گا برائیوں سے اس دن کی، تو یقینا تو نے رحم کر دیا اس پر، اور یہی بڑی کامیابی ہے
بے شک جنہوں نے کفر کیا انہیں (قیامت میں) آواز دی جائے گی کہ یقیناً (آج) اللہ کا غصہ تم پر بہت بڑا ہے تمہارے اس غصے سے کہ جب تمہیں بلایا جاتا تھا ایمان کی طرف تو تم کفر کرتے تھے
وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں موت دی دو بار اور حیات دی دو بار ہم اعتراف کرتے ہیں اپنے گناہوں کا تو کیا (اب یہاں سے) نکلنے کا کوئی راستہ ہے
یہ (عذاب) اسلئے ہے کہ جب بلایا جاتا تھا تمہیں اللہ وَحْدَهُ کی طرف تو تم کفر کرتے تھے، اور اگر شریک کیا جاتا اس کے ساتھ کسی کو تو تم مان لیتے تھے، تو (آج) فیصلہ اللہ ہی کا ہے جو بلند و برتر ہے
وہی ہے جو دکھاتا ہے تمہیں اپنی نشانیاں، اور نازل کرتا ہے تمہارے لئے آسمان سے رزق، اور نصیحت وہی پکڑتا ہے جو رجوع کرتا ہے (اللہ سے)
تو (اے مؤمنو!) تم پکارو اللہ کو اس کے دین میں مخلص بن کر اور اگر چہ ناپسند ہو کافروں کو
وہ بلند درجوں والا عرش کا مالک ہے، وہ ڈالتا ہے روح (یعنی وحی) اپنے حکم سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں، تاکہ وہ (نبی) ڈرائے ملاقات کے دن سے
جس دن وہ سب سامنا کریں گے (اللہ کا) نہیں چھپی ہو گی اللہ سے ان کی کوئی چیز، آج کس کی بادشاہت ہے؟ اللہ ہی کی ہے جو واحد (اور) غالب ہے
آج بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہو گا، آج (کسی پر کوئی) ظلم نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے
اور ڈرایئے انہیں آنے والے دن (قیامت کے سخت عذاب) سے، جب کہ دل حلق تک پہونچ جائیں گے غم سے، نہ ہو گا ظالموں کا کوئی دوست اور نہ سفارشی جس کی اطاعت کی جائے گی
وہ (اللہ) جانتا ہے آنکھوں کی خیانت اور سینوں کی چھپی باتوں کو
اور اللہ فیصلہ کرے گا برحق اور جنہیں وہ پکارتے ہیں اسکے سوا، وہ (غیر اللہ) فیصلہ نہیں کر سکتے کسی چیز کا، بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے
کیا یہ لوگ سیر نہیں کرتے زمین میں اور دیکھتے نہیں کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ وہ تھے ان سے زیادہ قوت والے، اور ان کے آثار (و یادگار) ہیں زمین میں، تو پکڑا انہیں اللہ نے ان کے گناہوں کیوجہ سے، اور نہ ہوا ان کیلئے اللہ کی جانب سے کوئی بچانیوالا
یہ اسلئے کہ آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر، تو انہوں نے انکار کیا تو پکڑا انہیں اللہ نے، بیشک وہ قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے
اور یقینا ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ
فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا (یہ) جادوگر اور جھوٹا ہے
تو جب آئے ان کے پاس (موسیٰ) حق لے کر ہماری طرف سے، تو انہوں نے کہا کہ قتل کر دو ان کے لڑکوں کو جو ایمان لائے ہیں اس کے ساتھ، اور زندہ رکھو ان کی لڑکیوں کو، اور کافروں کی چال سوائے گمراہی کے کچھ نہیں
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں قتل کر دوں موسیٰ کو اور اسکو چاہئے کہ پکارے اپنے رب کو، مجھے خوف ہے کہ یہ تمہارا دین نہ بدل دے، یا پھیلائے ملک میں فساد
اور موسیٰ نے کہا میں پناہ مانگتا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ان تمام تکبر کرنیوالوں سے جو ایمان نہیں رکھتے حساب کے دن پر
اور کہا ایک مؤمن مرد نے جو فرعون کے گھرانے سے تھا وہ چھپائے ہوئے تھا اپنا ایمان، کہ کیا تم قتل کرتے ہو ایسے شخص کو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، اور یقینا وہ لے کے آیا ہے تمہارے پاس دلیلیں تمہارے رب کی، اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر یہ سچا ہے تو پہونچے گا تمہیں (عذاب) جس کا وعدہ یہ تم سے کر رہا ہے، بیشک اللہ نہیں ہدایت دیتا اسے جو مسرف (یعنی حد سے بڑھ جانیوالا) اور جھوٹا ہو
اے میری قوم! آج تو بادشاہت ظاہری طور پے ہے تمہاری اس زمین میں، تو کون مدد کرے گا ہماری اللہ کے عذاب سے جب وہ ہم پے آجائے گا، کہا فرعون نے میں وہی دکھاتا (یعنی سمجھاتا) ہوں تم کو جو میں دیکھ رہا ہوں، اور میں رہنمائی کرتا ہوں تمہاری صحیح راستے کی
کہا اس مؤمن نے اے میری قوم! مجھے خوف ہے تم پر (اس سے پچھلی) امتوں کے دن جیسا
جیسا حال ہوا قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد (بہت سی امتوں) کا، اور اللہ نہیں چاہتا ظلم کرنا اپنے بندوں پر
اور اے میری قوم! مجھے ڈر ہے تم پر چیخ و پکار کے دن کا (تناد، نداء سے ہے)
جس دن تم بھاگو گے پیٹھ پھیر کر، نہ ہو گا تمہیں اللہ سے بچانیوالا کوئی اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں
اور یقینا آئے تھے تمہارے پاس یوسف اس سے پہلے دلیلیں لے کر، تو تم مسلسل شک میں رہے جو وہ لے کر آئے تمہارے پاس اسمیں، یہاں تک کہ جب وہ مر گئے، تم کہنے لگے اللہ نہیں بھیجے گا ان کے بعد کسی کو رسول بنا کر، اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا اور شک کرنیوالا ہو
جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، بڑے گناہ کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ان کے نزدیک جو ایمان لائے ہیں، اسی طرح اللہ مہر لگا دیتا ہے ہر ایک متکبر سرکش کے دل پر
اور فرعون نے کہا اے ہامان بناؤ میرے لیے ایک محل تاکہ میں پہونچ جاؤں ان راستوں کے ذریعے
آسمانوں کے راستوں تک اور اطلاع پاؤں موسیٰ کے معبود کی اور بیشک میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے، اور اسی طرح مزین کر دئے گئے فرعون کیلئے اس کے برے اعمال، اور روک دیا گیا سیدھے راستے سے اور فرعون کی چال تباہی میں ہی رہی
اور کہا اس مؤمن شخص نے اے میری قوم! تم اتباع کرو میری میں رہنمائی کروں گا تمہاری نیکی کے راستے کی
اے میری قوم! یہ حیات دنیا تھوڑا فائدہ ہے، اور بیشک آخرت ہی قرار (یعنی سکون) کا گھر ہے
جس شخص نے کوئی گناہ کیا تو اسے اسی گناہ کے مثل بدلہ ملے گا، اور جس نے نیکی کی (چاہے وہ) مرد ہو یا عورت اور (ہاں) وہ مؤمن ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جو داخل ہوں گے جنت میں، اور انہیں رزق دیا جائے گا اسمیں بے حساب
اے میری قوم! کیا بات ہے میں بلاتا ہوں تمہیں نجات کی طرف، اور تم بلاتے ہو مجھے آگ کی طرف
تم مجھے بلاتے ہو کہ میں انکار کروں اللہ کا اور اس کے ساتھ شریک کروں جس کا کوئی علم مجھے نہیں، اور میں بلاتا ہوں تمہیں زبردست مغفرت کرنیوالے کی طرف
یقینا تم بلا رہے ہو مجھے اس کی طرف جو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں، اور بیشک ہمیں لوٹنا ہے اللہ کی طرف، اور بیشک مسرفین (یعنی حد سے بڑھنے والے) ہی دوزخی ہیں
تو تم جلد ہی یاد کرو گے جو میں کہہ رہا ہوں تم سے، اور میں سپرد کرتا ہوں اپنا معاملہ اللہ کی طرف، بیشک اللہ خوب دیکھ رہا ہے اپنے بندوں کو
تو بچا لیا اللہ نے اس (مؤمن مرد) کو ان کے برے مکر سے، اور الٹا پڑا آل فرعون پر برا عذاب
آگ کے سامنے وہ پیش کئے جاتے ہیں صبح اور شام، اور جس دن قیامت قائم ہو گی (تو فیصلہ ہو گا اور حکم ہو گا کہ) داخل کرو آل فرعون کو سخت عذاب میں
اور جب جھگڑیں گے (حساب و کتاب ہونے کے بعد) دوزخ میں تو کہیں گے کمزور تکبر کرنیوالوں سے، ہم (اس سے پہلے دنیا میں) تمہارے تابع تھے، تو کیا تم دور کر سکتے ہو ہم سے اس آگ کا کچھ حصہ؟
کہیں گے تکبر کرنیوالے ہم سب اس (آگ) میں ہیں، بیشک اللہ فیصلہ کر چکا ہے اپنے بندوں کے درمیان (اب اسی میں رہنا ہے)
اور کہیں گے جہنمی جہنم کے داروغہ سے تم دعا کرو اپنے رب سے وہ کم کر دے ہم سے ایک دن کا عذاب
وہ کہیں گے کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس تمہارے رسول کھلی نشانیاں لے کر؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں! وہ کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا گمراہ کن (یعنی بے اثر) ہو گی
یقینا ہم مدد کریں گے اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں، اور اس دن بھی جب کھڑے ہوں گے گواہی دینے والے (فرشتے)
اس دن نفع نہ دے گی ظالموں کو ان کی معذرت اور ان کیلئے لعنت ہو گی اور ان کیلئے برا گھر ہو گا
اور یقینا ہم نے عطا کی موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت اور ہم نے وارث بنایا بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) کا
ہدایت و نصیحت تھیں عقل والوں کیلئے (اس کتاب میں)
تو (اے نبی) تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور تم استغفار کرو اپنے گناہ کی، اور تسبیح بیان کرو حمد کے ساتھ اپنے رب کی صبح اور شام (یعنی ہمیشہ)
بے شک جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جو (نہیں) آئی ان کے پاس، ان کے دلوں میں کبر ہے، وہ نہیں پہونچنے والے اس (حد) کو (کہ دین کو مٹا دیں) تو تم اللہ کی پناہ مانگتے رہو بیشک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے
یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش بہت بڑی (چیز) ہے انسان کی پیدائش سے، اور لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں (یعنی غور و فکر نہیں کرتے)
اور نہیں ہیں برابر اندھے اور دیکھنے والے اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے، نہیں ہیں وہ بدکار کے برابر، تم بہت کم لوگ نصیحت پکڑتے ہو
بیشک قیامت آنیوالی ہے اس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے، اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
اور فرمایا تمہارے رب نے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا تمہاری دعائیں، بیشک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل ہو کر
اللہ ہی ہے جس نے بنائی تمہارے لئے رات تاکہ تم سکون حاصل کرو اسمیں اور دن کو دیکھنے کے لیے (روشن) بنایا، بیشک اللہ یقیناً فضل کرنیوالا ہے لوگوں پر اور لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
یہی ہے اللہ جو تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو
اسی طرح بہکائے جاتے ہیں وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے
اللہ ہی ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو قرار (نہ سخت، نہ دلدل) اور آسمان کو چھت، اور تمہاری صورتیں بنائیں اور کیا ہی بہتر صورت بنائیں تمہاری، اور رزق دیا تمہیں پاکیزہ، یہی اللہ تمہارا رب ہے، تو بابرکت ہے اللہ (جو) رب ہے سارے جہاں کا
وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم پکارو اسے مخلص بن کر اس کے دین میں، تمام تعریف اللہ کیلئے ہے (جو) رب ہے تمام جہانوں کا
آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے منع کیا گیا ہے ان کی عبادت سے جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے سوا، جبکہ آچکی ہیں میرے پاس دلیلیں میرے رب کی، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جھکوں تمام جہانوں کے رب کے سامنے
وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر لوتھڑے سے پھر وہ نکالتا رہا ہے تمہیں بچے کی شکل میں، پھر تاکہ تم پہنچو قوت (یعنی اپنی جوانی) کو پھر تم ہو جاؤ بوڑھے، اور تم میں سے بعض وفات پا جاتے ہیں وقت سے پہلے، اور تم میں سے بعض پہنچتے ہیں مقرر وقت کو، اور تاکہ تم عقل پکڑو
وہی ہے جو حیات دیتا ہے اور موت دیتا ہے پھر جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو اسے کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے
کیا تو نے انہیں دیکھا جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں (جھوٹ بتا کر) وہ کہاں بہک رہے ہیں؟
جن لوگوں نے جھٹلایا کتاب کو اور (معجزے کو) جو ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کے ساتھ، تو عنقریب وہ جان لیں گے
جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں (طوق لوہے کا کڑا) اور زنجیریں ہوں گی (پھر) وہ گھسیٹے جائیں گے
کھولتے ہوئے پانی میں، اور پھر جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے
پھر پوچھا جائے گا ان سے کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھے
اللہ کے سوا، وہ کہیں گے کہ وہ بھول گئے ہمیں، بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو پکارتے ہی نہ تھے اسی طرح اللہ بھی بھلا دے گا کافروں کو
یہ اسلئے ہے کہ تم خوشیاں منایا کرتے تھے زمین میں ناحق اور جیسا کہ تم اکڑ کیا کرتے تھے
(تو اب) داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ اسی میں رہو، تو کیا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنیوالوں کا
تو آپ صبر کریں اللہ کا وعدہ سچا ہے، ہم آپکو دکھائیں بعض وہ (عذاب) جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے ان سے یا ہم وفات دے دیں آپکو (تب دکھائیں) وہ ہماری طرف لوٹائے جائیں گے
اور یقیناً ہم نے بھیجے ہیں رسول آپ سے پہلے بھی ان میں بعض کے قصے بیان کئے ہیں آپ سے، اور بعض کے ہم نے بیان نہیں کیے آپ سے، اور ممکن نہیں کسی رسول کو کہ وہ لے آئے کوئی نشانی اللہ کی اجازت کے بغیر پھر جب آئے گا اللہ کا حکم فیصلہ کر دیا جائے گا حق کے ساتھ، اور خسارے میں رہیں گے وہاں باطل
اللہ ہی ہے جس نے بنائے تمہارے لیے چوپائے ان میں بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو
اور تمہارے لیے ان میں نفع ہے تاکہ تم پہونچو اس کے ذریعے اپنی حاجت کو جو تمہارے دلوں میں ہے، اور ان پر اور کشتیوں پر تم سواری کرتے ہو
اور وہ (اللہ) دکھاتا ہے تمہیں اپنی نشانیاں، تو تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے؟
تو کیا یہ (کفار مکہ) سیر نہیں کرتے زمین میں اور دیکھتے نہیں کیسا انجام ہوا ان سے پہلوں کا جو ان سے تعداد میں زیادہ تھے اور قوت میں سخت تھے اور ان کے آثار (و یادگار) ہیں زمین میں، تو نہ فائدہ دیا انہیں جو کچھ انہوں نے کمایا تھا
تو جب آئے ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر، تو وہ اترانے لگے اپنے پاس کے علم (و گمان) پر اور الٹا پڑا ان پر وہ مذاق جو وہ اڑایا کرتے تھے
تو جب انہوں نے دیکھا ہمارا عذاب (تو) کہنے لگے ہم ایمان لاتے ہیں اللہ وَحْدَهُ پر، اور ہم انکار کرتے ہیں جن کو ہم نے اس کا شریک بنایا تھا
تو نفع نہ دیا انہیں ان کے ایمان نے جب انہوں نے دیکھ لیا ہمارے عذاب کو، یہی طریقہ رہا ہے اللہ کا جو گزرتا رہا ہے اس کے بندوں میں، اور خسارے میں رہے وہاں کافر
سورۃ 41
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حٰم
نازل کی گئی ہے (یہ کتاب) رحمان اور رحیم کی طرف سے
اس کتاب کی آیتوں کی تفصیل کی گئی (یہ) قرآن عربی میں ہے اس قوم کیلئے جو جانتی ہے (عربی زبان)
بشارت سنانیوالی اور ڈرانیوالی ہے پھر بھی اعراض کرتے ہیں ان کے اکثر لوگ اور سنتے نہیں
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر پردہ ہے جس کی طرف تم بلا رہے ہو ہمیں، اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے، اور ہمارے اور تمہارے درمیان حجاب ہے، تو تم عمل کرو اور بیشک ہم بھی عمل کر رہے ہیں
کہہ دیجئے! کہ میں بشر ہوں تمہاری طرح مجھ پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، تو تم قائم رہو اس (اللہ) کی طرف اور مغفرت چاہو اسی سے، اور تباہی ہے مشرکوں کیلئے
(یہ مشرکین وہی لوگ ہیں) جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور یہی ہیں وہ جو آخرت کے انکاری ہیں
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ان کے لئے اجر ہے نہ ختم ہونے والا
آپ کہہ دیجئے! کہ کیا تم انکار کرتے ہو اس (اللہ رب العزت) کا جس نے پیدا کیا زمین کو دو دنوں میں اور تم بناتے ہو اس کا شریک، یہی رب ہے سارے جہاں کا
اور اس نے بنائے اسمیں پہاڑ اس کے اوپر سے، اور برکت دی اس (زمین) میں، اور مقرر کیں اسمیں غذائیں چار دنوں میں یہ جواب ہے سوال کرنیوالوں کیلئے (جس کے ذہن میں سوال ہو)
پھر توجہ کی آسمان کی طرف اور وہ (آسمان) دھواں تھا، تو فرمایا اس سے اور زمین سے کہ آؤ تم دونوں خوشی سے یا ناخوشی سے، دونوں نے کہا ہم آتے ہیں اطاعت گزار بن کر
تو فیصلہ فرمایا سات آسمان (بنانے) کا دو دنوں میں اور وحی کی (یعنی حکم دیا) ہر آسمان میں اس کے کام کے متعلق، اور ہم نے مزین کیا آسمان دنیا کو ستاروں سے اور حفاظت کی (شیطان سے) یہ تدبیر ہے زبردست علم والے کی
تو اگر یہ اعراض کریں تو کہہ دیجئے! کہ میں ڈراتا ہوں تمہیں اس کڑک (والے عذاب) سے جیسی کڑک عاد اور ثمود (پر آئی)
جب آئے تھے ان کے پاس رسول ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے (کہا) کہ تم نہ کرو عبادت اللہ کے سوا کسی کی، تو انہوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا (رسول بنا کر) ہم انکار کرتے ہیں ان کا جو تم لے کر آئے ہو
تو جہاں تک عاد کا تعلق ہے تو انہوں نے تکبر کیا زمین میں ناحق، اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ قوت میں؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا بیشک جس اللہ نے پیدا کیا انہیں وہ ان سے شدید قوت والا ہے، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے
تو بھیجی ہم نے ان پر تیز ہوا منحوس دنوں میں (قوم عاد پر جو ہود علیہ السلام کی قوم ہے) تاکہ ہم مزہ چکھائیں انہیں عذاب کا دنیا کی زندگی میں اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کرنے والا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی
اور جہاں تک ثمود کا تعلق ہے تو انہوں نے محبوب رکھا اندھے پن کو ہدایت پر، تو پکڑا انہیں ذلت کے عذاب کی کڑک نے، بسبب ان کی کمائی کے (قوم ثمود صالح علیہ السلام کی قوم ہے)
اور ہم نے نجات دی ایمان والوں اور متقیوں کو
اور اس دن جمع کئے جائیں گے (یہ سارے کے سارے) اللہ کے دشمن آگ کے پاس پھر ان کی صف بندی کی جائے گی
یہاں تک کہ جب آئیں گے اس (جہنم) کے پاس تو گواہی دیں گے ان پر انکے کان اور انکی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی
وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے کیسے شہادت دی تم نے ہمارے خلاف، وہ کہیں گی ہمیں بولنے کی قوت دی اللہ نے جس نے بولنے کی قوت دی ہر چیز کو، اور اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
اور جیسا کہ تم نے چھپ کے کیا تھا (اپنا بد اعمال) کہ (نہیں) گواہی دیں گے تم پر تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں، اور لیکن تم نے یہ گمان کیا تھا کہ بیشک اللہ جانتا ہی نہیں تمہارے بہت سے عمل کو
یہ تمہارا گمان تھا جو تم نے گمان کیا تھا (دنیا میں) اپنے رب کے بارے میں، اسی نے تمہیں ہلاک کیا اور تم ہو گئے خسارہ پانے والوں میں سے
تو (اب آخرت میں) اگر یہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ان کا ٹھکانہ ہے، اور اگر یہ توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی
اور ہم نے مقرر کئے ہیں ان کیلئے دوست (شیاطین کو) جنہوں نے مزین کر دئے تھے ان کے اگلے اور پچھلے (اعمال) کو، اور سچ ہوئی ان پر بات (عذاب کی) جس طرح گزری ہوئی امت میں ہوئی ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے بیشک وہ ہو گئے خسارہ پانیوالے
اور کافروں نے کہا کہ مت سنو اس قرآن کو، اور لغو بات کرو اس میں (یعنی چیخو چلاؤ سیٹیاں تالیاں بجاؤ وغیرہ) تاکہ تم غالب آجاؤ
تو ہم یقیناً مزہ چکھائیں گے ان کافروں کو سخت عذاب کا (قیامت کے دن) اور ضرور بدلہ دیں گے انہیں ان کے برے اعمال کا جو وہ کیا کرتے ہیں
ان اللہ کے دشمنوں کی سزا (قیامت کے دن) آگ ہے ان کیلئے اسمیں ہمیشہ کا گھر ہے (اسلئے ہے یہ) بدلہ کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے
اور کافر کہیں گے اے ہمارے رب! دکھا دیجئے ہمیں وہ لوگ جنہوں نے گمراہ کیا تھا ہمیں جنوں اور انسانوں کے (تاکہ) ہم ڈالیں ان دونوں کو اپنے قدموں کے نیچے تاکہ دونوں ہو جائیں (جہنم میں) سب سے نیچے
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر قائم رہے (اس پر) نازل ہوتے ہیں ان پر فرشتے (اور کہتے ہیں) تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو، اور بشارت سن لو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا
ہم (فرشتے اللہ کی طرف سے) دوست ہیں تمہارے دنیوی زندگی میں اور آخرت میں بھی، اور تمہارے لئے ہے اس (جنت) میں (وہ سب کچھ) جو تم چاہو گے اور تمہارے لئے ہے اسمیں وہ جو تم مانگو گے
مہمانی ہے غفور (اور) رحیم کی طرف سے
اور اس سے بہتر بات کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں
اور اچھائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتے، دفع کرو (یعنی دور کرو) بھلائی کے ذریعے برائی کو تو جب (تم دیکھو گے) تمہارے اور اس (دشمن) کے بیچ عداوت بھی ہو تو وہ دوست اور مددگار ہو جائیں گے
اور یہ باتیں ان ہی کو ملتی ہیں جو صبر کرتے ہیں، اور یہ باتیں ان ہی کو ملتی ہیں جو بڑے نصیب والے ہیں
اور جب تمہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ طلب کرو، بیشک وہ بہت ہی سننے اور جاننے والا ہے
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں دن، اور رات، اور سورج اور چاند، تم سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو (بلکہ) سجدہ کرو اس اللہ کے لئے جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اسی کی عبادت کرنی ہے (تو)
تو اگر یہ تکبر کریں تو وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے نزدیک ہیں وہ تسبیح کرتے رہتے ہیں اسی کی رات اور دن (یعنی ہمیشہ) اور وہ سستی نہیں کرتے
اور اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ تو زمین کو بنجر دیکھتا ہے، تو جب ہم نازل کرتے ہیں اس پر پانی تو وہ تازہ ہو جاتی ہے اور ابھر جاتی ہے، بیشک جس نے اسے حیات دی وہی حیات دینے والا ہے مُردوں کو، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے
بیشک جو کجروی (یعنی قیل وقال) کرتے ہیں ہماری آیتوں میں وہ ہم سے چھپے نہیں ہیں، تو جو آگ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو آئے امن کے ساتھ قیامت کے دن؟ تم عمل کرو جو تم چاہو بیشک وہ (اللہ) دیکھ رہا ہے تمہارے اعمال کو
جنہوں نے انکار کیا ذکر (یعنی قرآن) کا جو آچکا انکے پاس (وہ بھی چھپے نہیں) اور بیشک یہ (قرآن) زبردست کتاب ہے
نہیں آسکتا اس کے پاس باطل اسکے آگے سے اور نہ ہی اسکے پیچھے سے، یہ (قرآن) نازل کیا گیا ہے حکمت والے قابل تعریف کی طرف سے
آپ سے وہی کہا جا رہا ہے جو کہا گیا آپ سے پہلے رسولوں سے (جادوگر اور مجنون وغیرہ) بیشک آپکا رب معاف کرنیوالا اور دردناک عذاب دینے والا ہے
اور اگر ہم بناتے اس (قرآن) کو عجمی (غیر عرب) زبان میں تو یقینا کہتے تفصیل کیوں نہیں کی گئیں اسکی آیتوں کی؟ عجمی (کتاب) اور عربی (رسول؟) کہہ دیجئے یہ (قرآن) ایمان والوں کیلئے ہدایت اور شفا ہے، اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، اور یہ (قرآن) ان پر اندھا پن ہے یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں پکارا جا رہا ہو دور کی جگہ سے
اور یقیناً ہم نے عطا کی موسیٰ کو کتاب (یعنی تورات) تو اختلاف کیا گیا اس میں اور اگر یہ بات طے نہ ہوتی آپ کے رب کی طرف سے تو فیصلہ کیا جاچکا ہوتا ان کے درمیان (عذاب کا) اور بیشک یہ لوگ شک ہی شک میں ہیں اس (قرآن) کی طرف سے
جو نیکی کرے گا وہ اسی کیلئے ہے، اور جو برائی کرے گا تو (اسکا وبال) اسی پر ہے، اور آپ کا رب ظلم کرنیوالا نہیں اپنے بندوں پر