اور نہیں نازل کیا ہم نے اس کی قوم پر اس کے بعد آسمان سے کوئی لشکر اور ہم نہیں نازل کیا کرتے ہیں (اس طرح)
سورۃ 36
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ایک زور کی چیخ تھی، تبھی وہ بجھ کے رہ گئے
ہائے حسرت بندوں پر! جب بھی آئے ان کے پاس کوئی رسول تو انہوں نے ان کا مذاق اڑایا
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ہلاک کر دیا ان کے پہلے بہت سی قوموں کو، بیشک وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے
اور وہ سب ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے
اور ایک نشانی ہے ان کیلئے مردہ زمین، جس کو ہم نے زندہ کیا اور نکالا اس (زمین) سے دانا جسے وہ کھاتے ہیں
اور ہم نے بنائے اسمیں باغات کھجوروں اور انگوروں کے، اور ہم نے جاری کئے اس میں چشمے
تاکہ کھائیں اس کے پھل، اور نہیں بنایا ان (پھلوں) کو ان کے ہاتھوں نے تو وہ کیوں شکر ادا نہیں کرتے
پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کئے ہر چیز کے جوڑے، چاہے وہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں چاہے وہ خود (انسان) ہوں، اور وہ بھی جنہیں یہ جانتے بھی نہیں۔
اور ایک نشانی ان کیلئے رات ہے، ہم کھینچ نکالتے ہیں اس سے دن کو، تو جب ہی وہ اندھیرے میں ہو جاتے ہیں
اور سورج جاری ہے اپنے مستقر (یعنی ٹھکانے) پر، یہ مقرر کیا ہوا ہے زبردست علم والے کا
اور چاند کی ہم نے مقرر کر رکھی ہیں منزلیں، یہاں تک کہ وہ لوٹ کر پرانی (سوکھی) ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے
نہ سورج کیلئے ممکن ہے کہ چاند کو پکڑ لے، اور نہ رات سبقت کرسکتی ہے دن پر (کہ آگے بڑھ جائے) اور سب آسمان میں تیر رہے ہیں
اور ایک نشانی ان کیلئے (یہ) ہے کہ ہم نے سوار کیا ان کی ذریت (یعنی اولاد) کو بھری ہوئی کشتی میں
اور ہم نے پیدا کیں ان کے لئے اس جیسی (اور چیزیں) جن پر یہ سوار ہوتے ہیں
اور اگر ہم چاہتے تو غرق کر دیتے انہیں (کشتی میں) تو نہ کوئی پکار سننے والا ہوتا ان کی اور نہ وہ بچائے جاسکتے۔
یہ رحمت تھی ہماری طرف سے اور فائدہ اٹھانا ایک مدت تک کیلئے
اور جب کہا جاتا ہے ان (کفار مکہ) سے کہ ڈرو تم اپنے اگلے اور پچھلے (گناہوں) سے تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور جب بھی آتی ہے ان (کفار مکہ) کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی، تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں
اور جب کہا جاتا ہے ان (کفار مکہ) سے کہ خرچ کرو جو رزق تمہیں اللہ نے دیا ہے، تو کہتے ہیں کفار ایمان والوں سے کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں؟ جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلاتا (اللہ کو یہی منظور ہے کہ مسکین محتاج رہیں) تم ہو ہی کھلی گمراہی میں
وہ کہتے ہیں کہ کب ہو گا وہ وعدہ (عذاب کا) اگر تم سچے ہو
وہ انتظار کر رہے ہیں ایک چنگھاڑ (یعنی صور پھونکنے) کا جو آپکڑے گی انہیں، اور وہ جھگڑتے رہ جائیں گے
پھر نہ طاقت ہو گی انہیں وصیت کرنے کی، اور نہ اپنے اہل (وعیال) کی طرف لوٹ سکیں گے
اور پھونکا جائے گا صور میں، جب وہ اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے
کہیں گے ہائے ہماری تباہی! کس نے اٹھایا ہمیں ہمارے سونے کی جگہ سے، یہی ہے جس کا وعدہ رحمن نے کیا تھا، اور سچ کہا تھا رسولوں نے
وہ ہوگی (قیامت کی) ایک چنگھاڑ تو جب ہی وہ سب ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے
تو آج نہ ظلم کیا جائے گا کسی شخص پر کچھ بھی، اور تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو عمل تم کیا کرتے تھے
بیشک جنتی آج اپنے مشغلوں (یعنی کاموں) میں خوش ہوں گے
وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں مسندوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے
ان کیلئے اسمیں میوے ہوں گے، اور ان کیلئے وہ ہو گا جو وہ طلب کریں گے
سلام کہا جائے گا (انہیں) رب رحیم کی طرف سے
اور (کہا جائے گا مجرموں سے کہ) تم الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو!
کیا نہیں عہد لیا تھا میں نے تم سے اے آدم کی اولاد! کہ تم نہ عبادت کرنا شیطان کی، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے
اور یقینا اس (شیطان) نے بہکایا تم میں سے بہت سے لوگوں کو، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے (دنیا کی زندگی میں)
یہی جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا
داخل ہو جاؤ اس (جہنم) میں آج (اے مجرمو!) بسبب اپنے کفر کے
آج ہم مہریں لگا دیں گے ان کے مونہوں پر، اور باتیں کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ، اور گواہی دیں گے ان کے پاؤں، ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے
اگر ہم چاہیں تو (دنیا میں ہی) مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ راستہ چلیں تو کیسے دیکھ سکیں؟
اور اگر ہم (دنیا میں ہی) چاہیں تو بگاڑ دیں ان کو (ان کی صورتیں) ان کی جگہ پر تو وہ نہ طاقت رکھیں گے کہیں جانے کی اور نہ لوٹنے کی
اور جسے ہم عمر دیتے ہیں اسے الٹ دیتے ہیں پیدائشی (یعنی کمزور) حالت میں، تو کیا وہ عقل نہیں رکھتے
اور نہیں سکھایا ہم نے اس (نبی) کو شعر اور نہ ہی مناسب ہے اسکے لئے، یہ تو نصیحت اور واضح قرآن ہے
تاکہ وہ ڈرائے اسے جو زندہ ہے، اور حق ہو جائے بات کافروں پر (یعنی حجت تمام ہو جائے)
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک ہم نے پیدا کئے ان کیلئے اپنے ہاتھوں سے چوپائے، جن کے یہ مالک ہیں
اور ہم نے تابع کر دئے ہیں (چوپائے) ان کے، تو ان میں بعض سواری ہیں ان کی اور بعض کو کھاتے ہیں
اور ان کیلئے ان (جانوروں) میں اور بھی منافع ہے اور پینے کی چیزیں ہیں، تو کیا یہ شکر ادا نہیں کریں گے؟
اور وہ بناتے ہیں اللہ کے علاوہ کو معبود، تاکہ ان کی مدد کی جائے
وہ نہیں طاقت رکھتے ان کی مدد کی، اور وہ ان (بتوں کی حفاظت) کیلئے (خود) فوج بن کر حاضر رہتے ہیں
تو غمگین نہ کرے آپ کو ان کی بات بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ اعلانیہ کرتے ہیں
کیا غور نہیں کیا انسان نے کہ بیشک ہم نے پیدا کیا ہے اسے نطفے سے؟ تو جب ہی وہ کھلا جھگڑالو بن گیا
اور وہ (انسان) بیان کرتا ہے ہمارے لئے مثال، اور بھول گیا اپنی پیدائش (کی اصلیت) کہتا ہے کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب وہ چورہ ہو جائیں گی؟
کہہ دیجئے! وہی حیات دے گا اسے جس نے پیدا کیا تھا اول مرتبہ، اور وہ تمام پیدائش (کی حالت) کو خوب جاننے والا ہے
وہی ہے جس نے بنائی تمہارے لئے ہرے درخت سے آگ، جس (آگ کو) تم جلاتے ہو
کیا وہ (ذات وحدہ لاشریک) قادر نہیں جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، اس پر کہ وہ پیدا کرے ان کے مثل، کیوں نہیں؟ وہ بہت جانکار زبردست پیدا کرنے والا ہے
وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے کہتا ہے اسے ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے
تو پاک ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے ہر چیز کی، اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
سورۃ 37
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسم ہے صف درصف (فرشتوں) کی
اور قسم ہے ڈانٹنے والے (فرشتوں) کی
پھر قسم ہے تلاوت کرنیوالے کے ذکر کی
بیشک تمہارا معبود ایک ہی ہے
وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے اور وہ رب ہے مشرقوں (یعنی تمام طرف) کا
ہم نے مزین کیا ہے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے
اور حفاظت کی ہے تمام شیطان مردود سے
نہیں سن سکتے ملاء اعلی (یعنی اوپری دنیا) کی بات، اور وہ بھگائے جاتے ہیں ہر جانب سے
دھکے دے کر اور ان (شیاطین) کیلئے دائمی عذاب ہے
مگر جو اچکنا چاہے کوئی اچکا (شیطان) تو اسکا پیچھا کرتا ہے دہکتا ہوا شعلہ
تو پوچھو ان (کفار) سے ان (فرشتوں اور آسمانوں) کا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے، یا جو ہم نے پیدا کیا (انسان کو وہ تو آسان ہے) ہم نے پیدا کیا ہے اسکو چکنی مٹی سے
بلکہ تمہیں تعجب ہے اور وہ تمسخر کر رہے ہیں
اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت نہیں پکڑتے
اور جب دیکھتے ہیں کسی معجزے کو تو مذاق اڑاتے ہیں
اور کہتے ہیں یہ تو کھلا جادو ہے
کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈی تو کیا ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟
کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟
کہہ دو ہاں (یقینا ایسا ہی ہو گا) اور تم ذلیل ہو گے
وہ تو ایک چنگھاڑ ہو گی (صور پھونکنے کی) جب ہی وہ دیکھنے لگیں گے
اور کہیں گے ہائے ہماری تباہی! یہی ہے قیامت کا دن
یہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
(اے فرشتو!) جمع کرو ان سب کو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے جوڑے (یعنی پوجنے والوں کو اور جن کو یہ پوجا کرتے تھے ان) کو اور جنکی یہ عبادت کرتے تھے
اللہ کے علاوہ، اور راہ دکھاؤ انہیں جہنم کے راستے کی
اور روکو ان (کفار) کو بیشک ان سے سوال کیا جانا ہے
تمہیں کیا ہو گیا ہے تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے
بلکہ یہ (کفار) آج فرمانبردار بن گئے ہیں
اور متوجہ ہوں گے ایک دوسرے کی طرف (اور) سوال کریں گے
کہیں گے کہ تم آتے تھے ہمارے پاس ہماری دائیں طرف سے
(سردار) کہیں گے بلکہ تم خود نہ ہوئے ایمان لانے والے
اور نہ تھا ہمارا تم پر کوئی زور، بلکہ تم (خود) سرکش لوگ تھے
تو اب سچ ہو چکی ہے ہم (سب) پر ہمارے رب کی بات، اب ہمیں مزہ چکھنا ہی ہے
تو ہم نے تمہیں گمراہ کیا، کیوں کہ ہم خود گمراہ تھے
تو بیشک وہ سب اس دن عذاب میں شریک ہوں گے
بیشک اسی طرح ہم کیا کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ
یہ وہ ہیں جب ان سے کہا جاتا تھا (دنیا میں) کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے
اور کہتے تھے کہ کیا ہم ترک کر دیں اپنے معبودوں کو شاعر اور مجنوں کی بات پر؟
بلکہ (نبی) آئے ہیں حق لے کر اور سچ بتایا (پچھلے) رسولوں کو
یقیناً تم مزہ چکھنے والے ہو دردناک عذاب کا
(اے مجرمو!) اور تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو عمل تم کیا کرتے تھے
سوائے اللہ کے مخلصین بندوں کے
یہی ہیں جن کیلئے رزق معلوم (یعنی مقرر) ہے
میوے ہوں گے، اور وہ مکرم ہوں گے
نعمتوں والی جنتوں میں
مسندوں پر ایک دوسرے کے سامنے
پھیرا (یعنی دیا) جائے گا انہیں معین (شراب) کا جام
(شراب) سفید اور لذیذ ہو گی پینے میں
نہ اس (شراب کے پینے) میں دردِ سر ہو گا اور نہ وہ اس (کے پینے) سے بہکیں گے
اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی
گویا کہ جیسے چھپائے (یعنی چھلے) ہوئے انڈے
تو متوجہ ہو کر (جنتی) ایک دوسرے سے پوچھیں گے
کہے گا ان میں ایک کہنے والا، میرا ایک ساتھی تھا (دنیا میں)
(مجھے) کہتا تھا کیا تو سچ مانتا ہے؟ (قیامت کو)
کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈی، کیا ہمیں بدلہ دیا جائے گا؟
(ساتھی) کہے گا، کیا تم اس کی اطلاع چاہتے ہو؟
تو وہ اسکی اطلاع پائے گا، اور دیکھے گا اسے بیچ میں جہنم کے
کہے گا اللہ کی قسم! قریب تھا تو مجھے (بھی) ہلاک کر دیتا
اور اگر نہ ہوتی رحمت میرے رب کی، تو میں بھی حاضر کیا جاتا (جہنم میں)
تو کیا اب ہمیں مرنا نہیں ہے؟
سوائے ہماری پہلی موت کے (جو ہو چکی ہے) اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا
بیشک یہ کامیابی بہت بڑی ہے
اسی (کامیابی) کیلئے عمل کرنا چاہئے عمل کرنیوالوں کو
کیا یہ بہتر مہمانی ہے یا زقوم کا (بدبودار) درخت؟
بیشک ہم نے بنایا ہے اس (درخت) کو آزمائش ظالموں کیلئے (کفار کہتے ہیں کہ جہنم میں آگ ہے درخت کیسا؟)
بیشک وہ درخت نکلا ہوا ہے جہنم کی جڑ سے
اسکے خوشے (یعنی گچھے) ایسے ہیں گویا کہ شیطانوں کا سر
تو بیشک وہ (جہنمی) کھانیوالے ہیں اسی (درخت) سے اور بھرنیوالے ہیں اسی سے پیٹوں کو
پھر انہیں اس (کھانے) پر پانی دیا جائے گا کھولتا ہوا
پھر ان کا لوٹنا جہنم کی طرف ہو گا
(یہ اس وجہ سے کہ) یقینا انہوں نے پایا تھا اپنے باپ دادا کو گمراہ
تو وہ انہی کے پیچھے دوڑ پڑے
اور یقینا (عبرت نہ پکڑ سکے جبکہ) گمراہ ہو چکے تھے ان سے پہلے بھی بہت سے
اور یقینا ہم نے بھیجے تھے ان میں ڈرانیوالے
تو دیکھو کیسا انجام ہوا ڈرائے گئے لوگوں کا
سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے
اور یقینا پکارا ہمیں نوح نے، تو کیا ہی بہتر ہم جواب دینے والے ہیں
اور ہم نے نجات دی اسے اور اس کے لوگوں کو بڑی مصیبت سے
اور ہم نے بنا دی اس کی ذریت (یعنی اولاد) کو باقی رہنے والی
اور ہم نے باقی رکھا اسکے (تذکرے کو) بعد والوں میں
سلام ہو نوح پر تمام جہانوں میں
بیشک اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو
بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں تھا
پھر ہم نے غرق کر دیا دوسروں کو
اور بیشک اسی جماعت سے ابراہیم تھے
جب لے کے آئے وہ اپنے رب کے پاس قلبِ سلیم (یعنی بے عیب دل)
جب کہا اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟
کیا گھڑے ہوئے معبود کو اللہ کے سوا تم چاہتے ہو؟
تو کیا خیال ہے تمہارا ربّ العالمین کے بارے میں؟
تو اس نے ایک نظر ڈالی ستاروں کی طرف
اور کہا میں بیمار ہوں
تو اس سے پیٹھ پھیر کر چلے گئے (لوگ)
تو لپکے (ابراہیم) ان کے معبودوں کی طرف، اور کہا تم کھاتے کیوں نہیں؟
تمہیں کیا ہو گیا کہ تم بولتے نہیں
تو لپکے (ابراہیم) ان پر مارنے کیلئے دائیں ہاتھ سے
تو (لوگ) متوجہ ہوئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے
کہا کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم (خود) تراشتے ہو
اور اللہ نے پیدا کیا ہے تمہیں اور جو تم بناتے ہو (مورت انہیں بھی)
کہا بناؤ اس کیلئے ایک بنیاد (یعنی گڑھا) اور ڈال دو اسے دہکتی آگ میں
تو انہوں نے ارادہ کیا اس کے ساتھ چال چلنے کا تو ہم نے بنا دیا انکی چال کو نیچے
اور کہا میں جانیوالا ہوں اپنے رب کی طرف، جلد ہی وہ میری رہنمائی کرے گا
اے میرے رب! عطا فرما مجھے نیک اولاد
تو ہم نے بشارت دی اسے ایک بردبار بچے کی
پھر جب پہونچا وہ اس کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو، تو اس نے کہا اے میرے بچے! میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں تو تم غور کرو تمہارا کیا خیال ہے؟ کہا اے میرے ابا! کر ڈالئے جو حکم دیا گیا ہے آپ کو، جلد ہی آپ مجھے پائیں گے انشاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے
تو جب دونوں تیار ہو گئے اور لٹا دیا اس کو پیشانی کے بل
تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم
یقیناً تو نے سچ کر دیا اپنے خواب کو، بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو
بیشک یہ کھلی آزمائش تھی
اور ہم نے فدیے میں دیا اسے ایک بڑا ذبیحہ
اور ہم نے باقی رکھا ان کے تذکرے کو بعد والوں میں
سلام ہو ابراہیم (علیہ السلام) پر
اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو
بیشک وہ تھا ہمارے مؤمن بندوں میں
اور ہم نے بشارت دی اسے اسحاق نبی کی جو صالحین میں سے تھا
اور ہم نے برکت نازل فرمائیں اس (ابراہیم) پر اور اسحاق پر اور ان دونوں کی اولاد میں بعضے نیک ہیں اور بعض اپنے نفس پر کھلا ظلم کرنیوالے ہیں
اور یقیناً ہم نے احسان کیا موسیٰ اور ہارون پر
اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو اور ان دونوں کی قوم کو بڑی مصیبت سے
اور ہم نے مدد کی ان کی تو وہی غالب ہوئے
اور ہم نے عطا کی ان دونوں کو روشن کتاب
اور ہم نے ہدایت دی ان دونوں کو سیدھے راستے کی
اور ہم نے ان دونوں کے تذکرے کو باقی رکھا بعد والوں میں
سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر
بیشک اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو
یقیناً یہ دونوں ہمارے مؤمن بندوں میں تھے
اور بیشک الیاس بھی رسولوں میں سے تھے
جب کہا (الیاس) نے اپنی قوم سے کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں؟
کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو؟ اور چھوڑ دیتے ہو سب سے بہتر خالق کو؟
اللہ ہی تمہارا رب ہے اور رب ہے تمہارے اگلے اجداد کا
تو انہوں نے جھٹلایا اسے، تو بیشک وہ حاضر کئے جائیں گے (عذاب میں)
سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے
اور ہم نے اس (الیاس) کے تذکرے کو باقی رکھا بعد والوں میں
سلام ہو الیاس پر
بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنیوالوں کو
بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھا
اور بیشک لوط بھی رسولوں میں سے تھا
ہم نے نجات دی اسے اور ان کے تمام گھر والوں کو
سوائے اس بڑھیا کے جو ہوئی پیچھے رہنے والوں میں
پھر ہم نے ہلاک کر دیا دوسروں کو
اور بیشک تم گزرتے ہو ان (بستیوں) سے صبح
اور شام، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
اور بیشک یونس بھی رسولوں میں سے تھے
جب (یونس) بھاگ نکلے بھری کشتی کی طرف
تو قرعہ ڈالا (یعنی نام نکالا) تو وہ ہو گئے ہارنیوالوں میں سے
تو لقمہ بنا لیا اسے مچھلی نے، اور وہ ملامت کرنے لگے (اپنے آپ کو)
تو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا
تو یقینا وہ ٹھہرا رہتا اس کے پیٹ میں قیامت کے دن تک
تو ہم نے ڈال دیا انہیں چٹیل میدان میں اور وہ بیمار ہو گئے
اور ہم نے اگا دیا ان پر (یعنی ان کے لئے) یقطین کا درخت
اور ہم نے بھیجا انہیں ایک لاکھ بلکہ اس سے زیادہ آدمیوں کی طرف
تو وہ ایمان لے آئے، اور ہم نے فائدہ اٹھانے دیا انہیں ایک مدت تک
تو آپ پوچھئے ان سے! کہ کیا آپ کے رب کیلئے بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟
کیا ہم نے پیدا کیا فرشتوں کو مؤنث (یعنی عورت بنا کر) اور یہ موجود تھے (اس وقت)
خبردار بیشک یہ ان کی گھڑی ہوئی بات ہے جو یہ کہہ رہے ہیں
کہ اللہ نے (ایسا) پیدا کیا ہے، اور بیشک یہ جھوٹے ہیں
کیا چن لیا ہے اللہ نے (اپنے لئے) بیٹیوں کو بیٹوں پر
کیا ہو گیا ہے تمہیں تم کیسا فیصلہ کر رہے ہو؟
تو کیا تم غور نہیں کرتے؟
یا تمہارے پاس اس کی کوئی صاف دلیل ہے
تو تم لے آؤ اپنی ہی کتاب (بطور دلیل) اگر تم سچے ہو
اور وہ بناتے ہیں اللہ کے درمیان اور جنات کے درمیان بھی نسب (یعنی رشتہ) اور یقینا جنوں کو معلوم ہے کہ بیشک یہ (عذاب میں) حاضر کئے جائیں گے
اللہ پاک ہے اس سے جو یہ بیان کر رہے ہیں
سوائے! اللہ کے مخلص بندوں کے
تو بیشک تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو
تم اس (اللہ) کے خلاف کسی کو نہیں بہکا سکتے
مگر اسی کو جو داخل ہونے والا ہو جہنم میں
اور ہم (فرشتوں) میں سے کوئی ایسا نہیں جسے اپنا مقام معلوم نہ ہو
اور یقینا ہم صف بصف رہتے ہیں (عبادت میں)
اور ہم اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں
اور یہ (کفار) کہا کرتے تھے
اگر ہمارے پاس نصیحت ہوتی پہلوں کی طرح
تو یقینا ہم ہوتے اللہ کے مخلص بندے
تو (اب) انہوں نے انکار کیا اس (قرآن) کا تو عنقریب وہ جان لیں گے
اور یقیناً طے ہے ہماری بات ہمارے بندوں میں سے رسولوں کے متعلق
بیشک ان کی مدد کی جائے گی
اور بیشک ہماری فوج ہی غالب رہے گی
تو آپ منہ پھیر لیجئے ان (کفار) سے کچھ دنوں تک
اور آپ انہیں دکھاتے (اور سمجھاتے) رہیں، تو جلد ہی وہ دیکھ لیں گے (عذاب)
کیا یہ ہمارے عذاب کیلئے جلدی کر رہے ہیں؟
تو جب نازل ہو گا (عذاب) ان کے میدان میں تو بری صبح ہو گی ان ڈرائے گئے لوگوں کی
اور آپ منہ پھیر لیجئے ان سے کچھ دنوں تک
اور آپ انہیں دکھاتے (سمجھاتے) رہیں، تو جلد ہی وہ دیکھ لیں گے (عذاب)
پاک ہے آپ کا رب جو عزت والا ہے ہر اس چیز سے جو (مشرک) بیان کرتے ہیں
اور سلام ہے رسولوں پر
اور تمام تعریف اللہ کی ہے جو رب ہے سارے جہانوں کا
سورۃ 38
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ص! قسم اس قرآن کی جو نصیحت والا ہے
بلکہ کافر اپنی (جھوٹی) عزت اور ضد میں پڑے ہوئے ہیں
کتنی ہی ہم نے ہلاک کیا ہے ان سے پہلے امتوں کو تو انہوں نے پکارا اور نہ تھا وہ وقت چھٹکارے کا
اور ان (کافروں) کو تعجب ہوا کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانیوالا ان ہی میں سے، اور کہنے لگے کافر یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے
کیا بنا دیا ہے اس (نبی) نے سارے معبودوں کا ایک معبود؟ بیشک یہ چیز عجیب ہے
اور چل پڑے ان (کفار مکہ) کے سردار (یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جم جاؤ اپنے معبودوں پر، بیشک اس بات میں (نبی کا) کوئی ارادہ ہے (اپنی سرداری کا)
نہیں سنا ہم نے یہ (کہ ایک خدا کی عبادت کرو) پچھلی ملت میں، یہ گھڑی ہوئی بات ہے
کیا اس پر نازل کی گئی ہے نصیحت (یعنی وحی) ہمارے درمیان، بلکہ وہ شک میں ہیں میری نصیحت میں، بلکہ (ابھی) انہوں نے نہیں چکھا ہے میرے عذاب کا مزہ
کیا ان (کفار مکہ) کے پاس رحمت کے خزانے ہیں تیرے زبردست عطا کرنیوالے رب کے
کیا ان کی بادشاہت ہے آسمانوں و زمین کی اور ان دونوں کے درمیان کی، تو انہیں چاہئے کہ چڑھ جائیں اسباب (یعنی رسیوں) کے ذریعے (آسمان میں)
یہ ایک فوج ہے یہاں ہاری ہوئی جماعت میں سے
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور فرعون میخوں (خیموں کی کھونٹیوں) والے نے
اور ثمود نے اور قوم لوط نے اور اصحاب اَیکہ (یعنی شعیب کی قوم) نے، یہ لوگ بڑی جماعت کے تھے
ان تمام نے جھٹلایا رسولوں کو، تو حق (یعنی واقع) ہوا میرا عذاب
اور انتظار کر رہے ہیں یہ ایک چنگھاڑ کا، نہ ہو گی اس میں کوئی ڈھیل
اور کہا (نضر بن حارث وغیرہ کفار نے) اے ہمارے رب! جلد دے دے ہمیں ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے
صبر کریں آپ اس پر جو وہ کہتے ہیں، اور یاد کریں ہمارے بندے داؤد کو جو قوت والا تھا بیشک وہ رجوع کرنے والا تھا
بیشک ہم نے مسخر کر دیا تھا پہاڑوں کو اس کے ساتھ، تسبیح کرتے تھے (پہاڑ بھی) شام اور صبح
اور پرندے جمع ہو کر سب اسی (خدا) کیلئے رجوع کرتے تھے
اور ہم نے مضبوط کر دیا تھا اس کی سلطنت کو، اور ہم نے عطا کی تھیں اسے حکمت، اور بیان کی صلاحیت
اور کیا پہونچی ہے تم کو جھگڑنے والوں کی خبر؟ جب وہ کود آئے تھے محراب میں
جب وہ داخل ہوئے داؤد کے پاس، تو گھبرا گئے ان سے، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو جھگڑنے والوں نے زیادتی کی ہے ایک دوسرے پر، تو آپ فیصلہ کیجئے ہمارے درمیان حق کے ساتھ، اور ناانصافی نہ کیجئے، اور ہماری رہنمائی کیجیے سیدھی راہ کی طرف
یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں، اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، لیکن یہ کہتا ہے کفیل بنا دے مجھے اس کا بھی اور دباتا ہے مجھے خطاب (یعنی بات) میں
آپ نے فرمایا! یقینا اس نے ظلم کیا تجھ پر سوال کر کے تیری ایک دنبی کا اپنی دنبیوں میں ملا لینے کیلئے، اور اکثر حصے دار اس طرح کی زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے، اور کم ہی ہیں ایسے لوگ اور یقین ہو گیا داؤد کو کہ ہم نے آزمایا ہے اسے، تو استغفار کرنے لگے اپنے رب سے اور گر گئے سجدے میں اور رجوع کر لیا
تو ہم نے معاف کر دیا اسے اس پے، اور بیشک اس کا ہمارے نزدیک ایک مرتبہ ہے اور بہتر ٹھکانہ ہے
اے داؤد! بیشک ہم نے بنایا ہے تمہیں خلیفہ زمین میں، تو تم فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان حق (یعنی انصاف) کے ساتھ، اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ (خواہش) گمراہ دے گی تمہیں اللہ کی راہ سے، بیشک جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کی راہ سے ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے بھلا دیا ہے حساب کے دن کو
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل (یعنی ناحق) یہ گمان تو ان لوگوں کا ہے جو کافر ہیں، تو تباہی ہو گی کافروں کے لئے آگ سے
کیا ہم بنا دیں ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے زمین میں فساد کرنے والوں کی طرح، یا ہم بنا دیں متقیوں کو فجار (یعنی گناہگاروں) کی طرح؟
یہ کتاب (قرآن) ہم نے نازل کی ہے آپ کی طرف مبارک ہے، تاکہ لوگ غور و فکر کریں اسکی آیتوں پر اور نصیحت حاصل کریں عقلمند
اور ہم نے عطا کیا داؤد کو سلیمان کیا ہی بہتر بندہ تھا اور بیشک وہ رجوع کرنیوالا تھا
جب پیش کئے گئے ان کے سامنے شام کے وقت جید (یعنی عمدہ قسم کے) گھوڑے
تو کہنے لگے میں نے محبوب رکھا مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد پر یہاں تک کہ چھپ گیا (سورج) پردے میں
لوٹاؤ ان (گھوڑوں) کو میرے سامنے، تو لگے پھیرنے پنڈلیوں اور گردنوں پر (ہاتھ)
اور یقینا ہم نے آزمایا سلیمان کو، اور ہم نے ڈال دیا ان کی کرسی پر ایک جسم، پھر اس نے رجوع کر لیا
کہا کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور عطا فرما مجھے ایسا ملک جو ممکن نہ ہو کسی کیلئے میرے بعد، بیشک تو ہی عطا کرنے والا ہے
تو ہم نے مسخر کر دیا ان کے لئے ہوا کو، وہ چلتی تھی اس کے حکم سے نرمی سے جہاں وہ پہنچنا چاہتے
اور شیاطین میں بہت سے کاریگر اور غوطہ خور تھے
اور دوسرے (شیاطین) جکڑے بھی رہتے تھے زنجیروں میں
یہ ہماری عطا ہے تو تم احسان کرو (کسی کو دے کر) یا روک رکھو، کچھ حساب نہیں
اور بیشک وہ ہمارے نزدیک مرتبے والے ہیں اور بہتر ٹھکانہ ہے
اور ذکر کرو ہمارے بندے ایوب کا، جبکہ اس نے پکارا اپنے رب کو کہ پہونچایا ہے مجھے شیطان نے تکلیف اور عذاب
رگڑو اپنا پیر (تو نکلے گا پانی) یہ غسل کیلئے ٹھنڈا اور پینے کا پانی بھی ہو گا
اور ہم نے عطا فرمایا اسے اس کا گھرانا اور اتنا ہی اور بھی اس کے ساتھ اپنی رحمت سے، اور نصیحت ہے عقلمندوں کے لئے
اور مارو اپنے ہاتھ سے ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر اور حانث نہ ہو (یعنی قسم نہ توڑو) بیشک ہم نے پایا اس (ایوب) کو صابر، وہ کیا ہی بہتر بندہ تھا بیشک وہ رجوع کرنیوالا تھا
اور ذکر کرو ہمارے بندے ابراہیم، اور اسحاق، اور یعقوب کا جو ہاتھوں (یعنی قوت) اور آنکھوں (یعنی سمجھ) والے تھے
بیشک ہم نے خاص کر لیا تھا انہیں آخرت کے گھر کی یاد کے لئے
اور بیشک یہ سب (انبیاء) ہمارے نزدیک چنے ہوئے بہترین لوگ تھے
اور ذکر کرو اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل کا، اور یہ سب (انبیاء) بہترین لوگ تھے
یہ نصیحت ہے اور بیشک متقیوں کیلئے بہتر ٹھکانہ ہے
ہمیشہ کی جنت میں ان کیلئے دروازے کھلے ہوئے ہیں
ٹیک لگائے ہوں گے اس میں طلب کریں گے اس میں بہت سے میوے اور شراب
اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نظروں والی ہم عمر (حوریں)
یہ ہے وہ وعدہ جو تم سے کیا گیا تھا (یہ ملے گا) حساب کے دن
بیشک یہ ہماری وہ روزی ہے جسکے لئے خاتمہ نہیں (ہمیشہ رہے گی)
یہ ہے (انعام) اور بیشک سرکشوں کیلئے برا ٹھکانہ
جہنم ہے وہ داخل ہوں گے اس میں، تو کیا ہی برا بچھونا ہے
یہ ہے (عذاب) تو وہ مزہ چکھیں گے اس میں گرم پانی اور پیپ کا
اور اس کے علاوہ اسی شکل کا اور بھی (عذاب)
یہ (کافروں کی) فوج ہے جائے گی تمہارے ساتھ (آگ میں) کوئی مرحبا (خوش آمدید) نہیں یہ داخل ہوں گے آگ میں
وہ کہیں گے (اپنے سرغنہ سے) تمہار ابھی کوئی مرحبا نہیں (یہاں) تم ہم سے آگے رہے (گمراہی میں) اور بری جگہ میں
کہیں گے (ماننے والے) اے ہمارے رب! یہ جو مقدم (یعنی آگے) ہوا ہم سے (گمراہی میں) تو زیادہ کر ان کا عذاب دگنا آگ میں
اور کہیں گے (جہنمی) ہمیں کیا ہوا ہم نہیں دیکھ رہے ہیں ان لوگوں کو جنہیں ہم شمار کرتے تھے شریر
ہم نے تو ان (غریبوں) کا مذاق اڑایا تھا (دنیا میں) یا ہماری آنکھیں بہک رہی ہیں
بیشک یہ حقیقی بات ہے کہ آپس میں جھگڑیں گے اہل دوزخ
کہہ دو میں تو ڈرانیوالا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا اور زبردست ہے
(وہ) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کا، وہ زبردست مغفرت کرنیوالا ہے
کہہ دو یہ (دوزخ) بہت بڑی خبر ہے
تم اس سے اعراض کر رہے ہو
نہیں ہے مجھ کو کوئی علم ملاء اعلی (یعنی فرشتوں) کا جب وہ جھگڑ رہے تھے (آدم کی پیدائش میں)
مجھے وحی کی گئی ہے کہ میں تو صرف کھلا ڈرانیوالا ہوں
جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں پیدا کرنے والا ہوں انسان کو مٹی سے
تو جب میں درست کر دوں اسے، اور پھونک دوں اس میں اپنی روح تو تم واقع ہو جانا (یعنی گر پڑنا) اس کیلئے سجدے میں
تو سجدہ کیا تمام فرشتوں نے
سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا کافروں میں سے
فرمایا اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، جسے میں نے پیدا کیا اپنے ہاتھوں سے، کیا تو نے تکبر کیا؟ یا تو اعلی مرتبہ ہو گیا ہے؟
کہا میں بہتر ہوں اس (آدم) سے، تو نے پیدا کیا مجھے آگ سے، اور تو نے پیدا کیا اسے مٹی سے
فرمایا تو نکل جا یہاں سے بیشک تو مردود ہے
اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت کے دن تک
کہنے لگا اے میرے رب! تو مہلت دے مجھے اٹھائے جانیوالے دن (قیامت) تک
فرمایا تجھے مہلت دی گئی
وقت معلوم کے دن (قیامت) تک
کہنے لگا تو تیری عزت کی قسم! یقینا میں بہکاؤں گا ان سب کو (دنیا میں)
سوائے تیرے مخلص بندوں کے
فرمایا یہ سچ ہے، اور میں بھی سچ ہی کہتا ہوں
(کہ) میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اور جو تیری اتباع کرے گا ان سے
کہہ دیجئے! کہ میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا اور نہ میں تکلف کرنیوالوں میں سے ہوں
یہ (قرآن) نصیحت ہے تمام جہان کیلئے
اور یقینا تم جان لو گے اس خبر (کی حقیقت) کو کچھ مدت بعد
سورۃ 39
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نازل کی گئی ہے یہ کتاب اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے
بیشک ہم نے نازل کی ہے اس کتاب کو آپ کی طرف برحق تو عبادت کرو اللہ کی مخلص بن کر اس کے دین میں
خبردار! اللہ کا دین خالص ہے، اور وہ لوگ جنہوں نے بنا رکھے ہیں اس کے سوا معبود! (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ یہ قریب کر دیں گے ہمیں اللہ سے مرتبے میں، بیشک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں بیشک اللہ نہیں ہدایت دیتا اسے جو جھوٹا اور ناشکرا ہے
اگر اللہ کا ارادہ ہوتا اولاد بنانے کا تو چن لیتا جو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے جسے وہ چاہتا، اس کی ذات پاک ہے، وہ اکیلا اور قوت والا ہے
اسی نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو برحق، وہ لپیٹتا ہے رات کو دن پر اور لپیٹتا ہے دن کو رات پر، اور اسی نے مسخر کیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک جاری ہے مقررہ مدت تک کے لیے، خبردار! وہ زبردست مغفرت کرنیوالا ہے
اسی نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے، پھر بنایا اس سے اس کا جوڑا اور نازل فرمائے تمہارے لئے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے (اور) وہ پیدا کرتا ہے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر تین اندھیروں میں، یہی اللہ تمہارا رب ہے اسی کی بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں بہک رہے ہو
اگر تم ناشکری کرو گے تو بیشک اللہ بے نیاز ہے تم سے، اور وہ نہیں راضی ہوتا اپنے بندوں کی ناشکری سے، اور اگر تم شکر کرو گے تو وہ راضی ہو گا تم سے، اور نہیں اٹھائے گا کوئی کسی کا بوجھ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے، تو وہ تمہیں بتلا دے گا جو عمل تم کیا کرتے تھے، بیشک وہ جانتا ہے دلوں کی باتوں کو
اور جب پہونچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو وہ پکارتا ہے اپنے رب کو رجوع ہو کر، پھر جب عطا کرتا ہے اسے نعمت اپنی طرف سے، تو وہ بھول جاتا ہے اسے دعاء کرتا تھا جس سے وہ پہلے، اور بنا لیتا ہے اللہ کیلئے شریک تاکہ وہ گمراہ کرے اس کے راستے سے، آپ کہہ دیجئے! تم فائدہ اٹھا لو اپنے کفر کے باوجود تھوڑا، بیشک تم دوزخی ہو
کیا وہ جو فرمانبردار ہو رات کے اوقات میں سجدے اور قیام کرتا ہو ڈرتا ہو آخرت سے اور امید رکھتا ہو رحمت کی اپنے رب کی (اور جو ایسا نہ ہو وہ برابر ہے؟) (اے نبی) کہہ دو کیا برابر ہیں وہ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے ہیں؟ یقینا نصیحت تو عقلمند ہی پکڑتے ہیں
کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! تم ڈرو اپنے رب سے، جو نیکی کرتے ہیں اس دنیا میں ان کیلئے نیک بدلہ ہے، اور اللہ کی زمین وسیع (یعنی بڑی) ہے، بیشک پورا دیا جائے گا صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے
آپ کہہ دیجئے! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عبادت کروں اللہ کی مخلص بن کر اس کے دین میں
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا فرمانبردار ہو جاؤں
کہہ دیجئے! بیشک میں ڈرتا ہوں اگر میں نافرمانی کروں اپنے رب کی، عذاب سے بڑے دن کے
کہہ دیجئے میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں مخلص بن کر اس کا اپنے دین میں
تو تم عبادت کرو جس کی چاہو اس کے سوا، کہہ دیجئے کہ بیشک خسارہ اٹھانیوالے وہ ہیں جنہوں نے خسارہ میں ڈالا اپنے آپ کو اور اپنے گھرانے کو قیامت کے دن، یاد رکھو کہ یہی خسارہ ہے کھلا ہوا
ان کیلئے ان کے اوپر سے سایہ ہو گا آگ کا اور ان کے نیچے سے بھی سایہ ہو گا، یہی ہے جس سے ڈرا رہا ہے اللہ اپنے بندوں کو اے میرے بندو! تم مجھ سے ہی ڈرو
اور جنہوں نے اجتناب (یعنی پرہیز) کیا طاغوت (یعنی شیطان) کی عبادت سے، اور رجوع کیا اللہ کی طرف ان کیلئے بشارت ہے، تو بشارت دیجئے میرے (ان) بندوں کو
جو سنتے ہیں بات کو، پھر اتباع کرتے ہیں اس اچھی بات کی، یہی ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی عقلمند ہیں
تو کیا جس پر حق (یعنی ثابت) ہو گئی ہو عذاب کی بات، تو کیا آپ بچا سکتے ہیں (ایسے لوگوں کو) جو آگ میں ہوں؟
لیکن جو لوگ ڈرتے ہیں اپنے رب سے ان کے لئے بالا خانے (یعنی اونچے محل) ہیں جن کے اوپر بھی بالا خانے بنے ہیں، بہہ رہی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہ اللہ کا وعدہ ہے، اور اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے نازل کیا ہے آسمان سے پانی، تو پہونچا دیا اسے زمین کے چشموں میں، پھر وہ نکالتا ہے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگ کی کھیتیاں، پھر لہلہاتی ہیں اور آپ دیکھتے ہیں اس (کے رنگ) کو پیلا، پھر بنا دیتا ہے انہیں ریزہ ریزہ بیشک اسمیں نصیحت ہے عقل والوں کے لئے
جس شخص کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے اسلام کے لئے تو وہ نور پر ہوتا ہے اپنے رب کی طرف سے، اور تباہی ہے ان کیلئے جن کے دل سخت ہو گئے ہیں اللہ کے ذکر سے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں
اللہ نے نازل کی ہے بہترین بات کتاب (کی شکل میں قرآن جو) مشابہ (یعنی آیتیں ملتی جلتی) ہیں اور دہرائی گئی ہیں، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ان سے جو خوف رکھتے ہیں اپنے رب سے، پھر نرم ہو جاتے ہیں ان کی کھالیں (یعنی جسم) اور دل اللہ کے ذکر سے، یہ ہے اللہ کی ہدایت وہ ہدایت دیتا ہے اس کے ذریعے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو نہیں ہے اس کیلئے کوئی ہدایت دینے والا
تو جو بچالے اپنے چہرے کو برے عذاب سے قیامت کے دن (وہ کامیاب ہے) اور ظالموں سے کہا جائے گا چکھو مزہ اس کا جو تم کمایا کرتے تھے
جھٹلایا تھا انہوں نے جو ان سے پہلے تھے، تو آیا ان پر عذاب وہاں سے کہ وہ سمجھ بھی نہ سکے
تو مزہ چکھایا انہیں اللہ نے رسوائی کا دنیوی زندگی میں، اور آخرت کا عذاب تو سب سے بڑا ہے کاش! کہ یہ جانتے
اور یقینا ہم نے بیان کی ہیں لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
قرآن عربی میں ہے جس میں کوئی کجی (یعنی ٹیڑھا پن) نہیں تاکہ وہ ڈریں
بیان کرتا ہے اللہ مثال ایک (غلام) شخص کی جس کے شریک (یعنی مالک) کئی ضدی لوگ ہوں، اور دوسرا غلام سلیم (یعنی نیک) شخص کا ہو، کیا یہ دونوں مثالیں برابر ہیں؟ تمام تعریف اللہ کی ہیں، بلکہ ان میں اکثر لا علم ہیں
یقینا آپ کو موت آئے گی اور بیشک انہیں بھی مرنا ہے
پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (جب اللہ مظلوم کو حق دلوائے گا)