اور جو فرمانبرداری کرے گی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اور نیک کام کرے گی تو ہم اسے دوگنا اجر دیں گے، اور ہم نے تیار کر رکھا ہے اس کے لئے بہترین رزق
سورۃ 33
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، یہ کہ تم تقویٰ اختیار کرو، اور تم نرم لہجے میں نہ کرو بات، ورنہ وہ طمع (یعنی امید) کرے گا جس کے دل میں مرض ہے، اور (ہاں) تم بھلے طریقے سے بات کرو
اور لازم پکڑو اپنے گھروں کو اور نہ ظاہر کرو پہلے جاہلیت کے زمانے کی طرح (بناؤ سنگار) اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکوٰۃ، اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی، اللہ چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے گندگی (یعنی نبی کے) گھرانے سے اور تمہیں پاک صاف کر دے
اور یاد کرو جو پڑھی جاتی ہیں تمہارے گھروں میں اللہ کی آیتیں اور حکمت (کی باتیں) یقیناً اللہ باریک بیں خبر رکھنے والا ہے
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور سچے مرد اور سچی عورتیں، صبر کرنیوالے مرد اور صبر کرنیوالی عورتیں، اور عاجزی کرنیوالے مرد اور عاجزی کرنیوالی عورتیں، اور خیرات کرنیوالے مرد اور خیرات کرنیوالی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنیوالے مرد اور حفاظت کرنیوالیاں، اور ذکر کرنیوالے مرد اللہ کا کثرت سے اور ذکر کرنیوالیاں (یہ وہ ہیں کہ) تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان کیلئے مغفرت اور اجر عظیم
اور نہیں ہے کسی مؤمن اور نہ ہی مؤمنہ کیلئے جب کہ اللہ اور اس کے رسول نے فیصلہ کر دیا ہو کسی معاملے کا، کہ ہو ان کیلئے کوئی اختیار (خود) ان کے معاملے میں، جو نافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی تو یقینا وہ کھلی گمراہی میں جا پڑے گا
جب تم کہہ رہے تھے اس شخص (زید) سے جس پر اللہ نے انعام کیا تھا اور تم نے بھی انعام کیا تھا اس پر کہ تم رکھو اپنے پاس اپنی بیوی کو اور اللہ سے ڈرو، اور تم چھپائے ہوئے تھے اپنے دل میں (وہ بات) جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا، اور تم ڈررہے تھے لوگوں سے، اور اللہ کا زیادہ حق ہے کہ تم اس سے ڈرو، تو جب زید نے پوری کرلی (اپنی ضرورت) اس عورت سے، ہم نے نکاح کر دیا تمہارا اس سے، تاکہ نہ ہو مؤمنوں پر کوئی حرج منہ بولے بیٹے سے نکاح کرنے میں، جب کہ وہ پوری کر لیں (اپنی ضرورت) ان عورتوں سے، اللہ کا حکم ہو کر رہتا ہے
نہیں ہے نبی پر کوئی حرج اسمیں جو فرض کر دیا ہو اللہ نے ان کیلئے، اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان میں بھی جو گزر چکے ہیں پہلے، اور اللہ کا کام مقرر (یعنی طے) ہے ۔
(انبیاء ایسے تھے) جو پہونچایا کرتے تھے اللہ کے پیغام کو اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے، اور وہ نہیں ڈرتے تھے کسی سے اللہ کے سوا، اور کافی ہے اللہ حساب لینے کے لئے
نہیں ہیں محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ اور لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم پہ ہیں، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے
اے ایمان والو! تم اللہ کو یاد کرو کثرت سے
اور تسبیح کرو اسکی صبح اور شام
وہ (اللہ) جو رحمتیں بھیجتا ہے تم پر، اور اسکے فرشتے بھی، تاکہ وہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف، اور اللہ مؤمنوں پر بہت مہربان ہے
دعاء ہوگی (فرشتوں کی) ان مؤمنوں کیلئے سلامتی کی جس دن وہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے، اور تیار کر رکھا ہے ان کیلئے اجر کریم۔
اے نبی! یقیناً ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بناکر اور بشارت دینے والا اور ڈرانیوالا بناکر
اور بلانیوالا (بناکر) اللہ کی طرف اسکے حکم سے، اور روشن چراغ (بناکر)
اور آپ بشارت دیجئے مؤمنوں کو ! کہ بیشک ان کیلئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے
اور آپ نہ اطاعت کریں کافروں اور منافقوں کی، اور چھوڑ دیں ان کی اذیت کو (جو وہ پہونچائے) اور توکل کریں اللہ پر، اور کافی ہے اللہ کام بنانیوالا
اے ایمان والو! جب تم نکاح کرو مؤمنہ عورتوں سے پھر طلاق دے دو انہیں چھونے (یعنی ملنے) سے پہلے، تو نہیں ہے ان پر کوئی عدت جسے تم شمار کرو تو تم سامان دو انہیں، اور رخصت کرو انہیں بھلے طریقے سے
اے نبی! ہم نے حلال کر دی ہیں تمہارے لئے تمہاری وہ بیویاں جنہیں تم نے عطا کر دیئے ہیں ان کے مہر، اور وہ بھی جو تمہاری ملکیت میں لونڈیاں ہیں جو اللہ نے غنیمت میں دی ہیں تمہیں، اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہیں، اور وہ مؤمنہ عورت جو ہبہ (یعنی حوالہ) کردے اپنے آپ کو نبی کیلئے اگر نبی کا ارادہ بھی ہو اس سے نکاح کا (یہ ہبہ اور بغیر مہر کے نکاح) بطور خاص تمہارے لئے ہے مؤمنوں کے علاوہ یقینا ہم جانتے ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں (نکاح کی شرط، مہر وغیرہ) ان پر ان کی بیویوں اور باندیوں کے بارے میں یہ اسلئے کہ نہ باقی رہے تجھ پر کوئی حرج اور اللہ غفور اور رحیم ہے
تم دور رکھو جس (بیوی) کو چاہو ان میں سے اور جسے تم چاہو اپنے پاس رکھو، اور جسے تم چاہو (بلانا) جسے تم نے الگ کر دیا تھا تو تم پر کوئی گناہ نہیں، یہ قریب ترین بات ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں، اور وہ غم نہ کریں اور سب راضی رہیں اس پر جو تم عطا کرو انہیں، اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے، اللہ علم اور حلم والا ہے (بہت برداشت کرنے والا)
حلال نہیں تمہارے لئے اور عورتیں ان (عورتوں) کے بعد اور نہ بدلو ان کی جگہ کسی اور بیوی سے، اگرچہ اچھا لگے تمہیں ان کا حسن مگر جو تمہاری ملکیت میں لونڈیاں ہوں (اسے بدل سکتے ہو) اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے
اے ایمان والو! تم مت داخل ہو نبی کے گھروں میں مگر یہ کہ اجازت دی جائے تمہیں کھانے کی، اور نہ تم انتظار میں رہو اس کے پکنے کا، اور لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو تم داخل ہو، اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ اور (وہیں) دل لگی کی باتیں نہ کرنے لگو، بے شک تمہاری ان باتوں سے اذیت ہوتی ہے نبی کو، تو وہ حیا کرتے ہیں تم سے اور اللہ نہیں حیا کرتا حق کے معاملے میں، جب تم ان (نبی کی بیویوں) سے مانگو کوئی چیز تو پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ پاکیزگی کی بات ہے تمہارے دلوں کے لیے اور ان کے دلوں کیلئے بھی، اور نہیں ہے تمہارے لئے مناسب کہ تم ایذاء دو رسول اللہ کو، اور نہ کرنا تم ان کی بیویوں سے نکاح ان کے (گزر جانے کے) بعد کبھی بھی، بے شک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ) ہے
تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک اللہ کو ہر چیز کا علم ہے
(ان عورتوں پر) کوئی گناہ نہیں کہ وہ (سامنے ہوں) اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بھائیوں کے بیٹوں اور اپنی بہنوں کے بیٹوں اور اپنی (میل جول کی) عورتوں اور جو ان کی ملکیت میں غلام ہوں اور تم اللہ سے ڈرتی رہو، بیشک اللہ ہر چیز پر شاہد ہے (یعنی دیکھ رہا ہے)
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں نبیؐ پر، اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور سلام بھیجو زیادہ سے زیادہ
بیشک جو لوگ ایذاء دیتے ہیں اللہ اور اسکے رسول کو، لعنت ہے ان پر اللہ کی دنیا اور آخرت میں، اور تیار کر رکھا ہے ان کیلئے گھٹیا عذاب
اور جو لوگ ایذاء دیتے ہیں مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے، یقینا وہ بوجھ اٹھاتے ہیں (اپنے اوپر) بہتان اور کھلے گناہ کا
اے نبی! کہہ دو اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مؤمنوں کی عورتیں سے کہ وہ لٹکا لیا کریں اپنے اوپر اپنی چادریں (پردہ کے لیے) یہ قریب ترین بات ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ حیاء والیاں ہیں) اور انہیں تکلیف نہیں دی جائے گی، اور اللہ مغفرت کرنے والا مہربان ہے
اگر نہ آئیں باز یہ منافقین اور وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینے میں افواہیں پھیلانے والے، تو ہم مسلط کر دیں گے آپ کو ان (کی تباہی) پر، پھر وہ چند دن ہی آپ کے ساتھ اس (شہر) میں رہ سکیں گے
لعنت ہے ان پر، جہاں بھی پائے جائیں پکڑے جائیں اور قتل کئے جائیں اچھی طرح
اللہ کا طریقہ رہا ہے ان میں بھی جو ان سے پہلے گزرے ہیں، اور ہرگز تم نہ پاؤگے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی
لوگ سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں، آپ کہہ دیجئے ! کہ اسکا علم اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر ممکن ہے کہ قیامت قریب ہی ہو
بیشک اللہ نے لعنت کی ہے کافروں پر، اور تیار کر رکھی ہے ان کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ
وہ رہیں گے اس میں ہمیشہ، وہ نہ پائیں گے کوئی دوست اور نہ مددگار
اس دن پلٹے جائیں گے ان (کافروں) کے چہرے آگ میں (تو) کہیں گے کہ کاش! ہم اطاعت کرتے اللہ اور اطاعت کرتے رسول کی
اور کہیں گے اے ہمارے رب ! بیشک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، تو انہوں نے گمراہ کر دیا ہمیں سیدھے راستے سے
اے ہمارے رب ! تو انہیں دگنا عذاب دے، اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما
اے وہ لوگ! جو ایمان لائے ہو تم نہ ہو جاؤ ان کی طرح جنہوں نے ایذاء دی موسیٰ کو، تو اللہ نے انہیں بری فرمادی (اس بات سے) جو انہوں نے کہی تھی، اور وہ اللہ کے نزدیک صاحب مرتبہ تھے
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی باتیں کہو
وہ درست کر دے گا تمہارے اعمال کو اور تمہارے گناہوں کو معاف فرما دیگا اور جو اطاعت کرے گا اللہ اور اسکے رسول کی، تو یقینا اس نے بڑی کامیابی پالی
بیشک ہم نے پیش کیا اپنی امانت (یعنی فرائض اور احکام) کو آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر، تو انکار کر دیا (سب نے) اسکے اٹھانے سے، اور ڈر گئے اس سے تو اٹھا لیا اسے انسان نے بیشک وہ بڑا ہی ظالم اور جاہل ہے
تاکہ عذاب دے اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو، اور اللہ توبہ قبول فرمائے مؤمن مردوں اور مؤمنہ عورتوں کی، اور اللہ بڑی مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے
سورۃ 34
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمام تعریف اللہ ہی کیلئے ہے، جس کیلئے ہے (وہ سب) جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی تعریف ہے آخرت میں، اور وہ باخبر حکمت والا ہے
وہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو نکلتا ہے اس سے، اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں، اور وہ رحم کرنے والا مغفرت کرنے والا ہے
اور کفار کہتے ہیں کہ نہیں آئے گی ہم پر قیامت آپ کہہ دیجئے ! کہ کیوں نہیں میرے رب کی قسم ! جو عالم الغیب ہے کہ وہ یقینا تم پر آئے گی، نہیں چھپی ہے اس (اللہ) سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں، اور نہ چھوٹی (چیز چھپی ہے) اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ سب کھلی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہے
تاکہ وہ بدلہ دے ایمان والوں کو اور نیک عمل کرنیوالوں کو، یہی ہیں جن کیلئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے
اور جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں میں عاجز کرنے (یعنی نیچا دکھانے) کی یہی ہیں جن کیلئے بڑا دردناک عذاب ہے
اور وہ دیکھتے (یعنی سمجھتے) ہیں جنہیں عطا کیا گیا ہے علم، کہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وہ برحق ہے، اور (اللہ) ہدایت دیتا ہے زبردست تعریف والے کے راستے کی طرف
اور کہتے ہیں (آپس میں) کافر کیا ہم بتلائیں تمہیں ایک ایسے شخص (محمدؐ) کے بارے میں، جو تمہیں بتاتا ہے کہ جب تم ٹکڑے ٹکڑے ہوجاؤ گے تو بیشک تم نئی مخلوق بنائے جاؤ گے
اس (نبیؐ) نے گھڑ لیا ہے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون ہے، بلکہ جو لوگ ایمان نہیں رکھتے آخرت پر وہی عذاب میں اور دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
کیا وہ غور نہیں کرتے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین (کی چیزوں) پر، اگر ہم چاہیں تو دھنسا دیں انہیں زمین میں یا گرادیں ان پر کوئی ٹکڑا آسمان سے (عذاب کا) یقیناً اسمیں نشانی ہے ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے
اور ہم نے عطا کیا داؤد کو اپنی طرف سے فضل، اے پہاڑو! تسبیح کرو اس کے ساتھ اور پرندے بھی، اور ہم نے نرم کر دیا تھا اس کیلئے لوہا
کہ بناؤ تم زرہیں (یعنی جنگی کرتے) اور جوڑو (اندازے سے) کڑیوں کو، اور عمل کرو نیک، بیشک میں دیکھ رہا ہوں تمہارے اعمال کو
اور سلیمان کیلئے ہوا کو (مسخر کر دیا تھا) صبح کی منزل اس کی ایک مہینے کی اور شام کی بھی ایک مہینے کی (ہوتی تھی) اور بہا دیا ہم نے ان کیلئے تانبے کا چشمہ، اور جنوں میں سے بعض کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو نافرمانی کرتا تھا ان میں سے ہمارے حکم سے، ہم مزہ چکھائیں گے اسے بھڑکتی آگ کے عذاب کا
(جنات) بناتے تھے اس کیلئے جو (سلیمان) چاہتے تھے، محراب، اور مجسمے، اور ٹب حوض کی طرح، اور دیگیں رکھی ہوئی (چولہوں پر بہت بڑی) عمل کرو اے آل داؤد! شکر گزاری کیلئے، اور میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہوتے ہیں
تو جب ہم نے فیصلہ کیا ان پر موت کا تو نہیں بتایا ان (جنات) کو اس کی موت کے بارے میں سوائے زمینی کیڑے کے جو کھانے لگے اس کی لاٹھی کو، تو جب (سلیمان) گر پڑے تو جنوں نے جانا (کہنے لگے) کاش ! ہم جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے ذلت کی سزا میں
یقیناً تھی قوم سبا کے ٹھکانوں میں نشانی (جو آج یمن میں ہے) دو باغ تھے ان کے دائیں اور بائیں (یعنی باغ ہی باغ تھے) کھاؤ اپنے رب کی روزی، اور شکر ادا کرو اس (رب) کا، شہر پاکیزہ تھا اور رب مغفرت کرنیوالا
تو انہوں نے اعراض کیا (یعنی نافرمانی کی) تو ہم نے بھیج دیا ان پر سیلاب زور کا، اور ہم نے بدل دیئے ان کے دونوں باغوں کو دو ایسے باغ سے جن دونوں کے پھل بدمزہ اور جھاؤ (یعنی جنگلی پیڑ) اور کچھ بیری کے درختوں سے
یہ بدلہ ہم نے دیا انہیں ان کی ناشکری کیوجہ سے، ہم (اسی طرح) بدلہ دیتے ہیں ناشکروں کو
اور ہم نے بنائی تھیں ان (قوم سبا) کے درمیان اور بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی چند اور بستیاں جو راستے پر ظاہر تھیں، اور ہم نے مقرر کر دی تھیں ان میں سیر (منزلیں) سیر کرو ان میں رات اور دن امن کے ساتھ
تو انہوں نے کہا اے ہمارے رب ! دور کر دے ہمارے سفر، اور انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو ہم نے بنا دیا انہیں قصے کہانی، اور ہم نے کر دئے ان کے ٹکڑے ٹکڑے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک صبر وشکر کرنیوالے کے لئے
اور یقیناً سچ کر دیا ان کے بارے میں شیطان نے اپنا گمان، یہ لوگ اس کے تابع ہو گئے، سوائے مؤمنوں کی ایک جماعت کے
اور نہ تھا (شیطان) کا ان پر کوئی زور، مگر (ہم نے ایسا کیا) تاکہ ہم جان لیں ان کو جو ایمان رکھتے ہیں آخرت پر (اور انہیں بھی) جو اس سے شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے
کہہ دیجئے ! کہ پکارو جن پر تم گمان کرتے ہو اللہ کے سوا، نہیں ہیں وہ (غیر اللہ) مالک ذرہ برابر (کسی چیز کا) آسمانوں میں اور نہ زمین میں، نہ ان (غیر اللہ) کا ان میں کوئی حصہ ہے، نہ ان میں سے کوئی اس (اللہ) کا مددگار ہے
اور نہیں نفع دے گی شفاعت اسکے پاس، مگر جن کیلئے اجازت دی جائے، یہاں تک کہ جب ان (فرشتوں) کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے، تو (دوسرے فرشتوں سے) پوچھتے ہیں کیا فرمایا تمہارے رب نے؟ وہ (فرشتے) کہتے ہیں حق فرمایا، اور وہ اعلیٰ اور بہت بڑا ہے
پوچھیئے کہ کون رزق دیتا ہے تمہیں آسمانوں اور زمین سے، کہہ دیجئے ! کہ اللہ، اور بیشک ہم میں یا تم میں (کوئی ایک) ہدایت پر ہے اور (دوسرا) کھلی گمراہی میں
کہہ دیجئے ! کہ تم سے سوال نہیں کیا جائے گا اس جرم کے بارے میں جو ہم نے کیا، اور نہ ہم سے سوال کیا جائے گا اس جرم کے بارے میں جو تم کرتے ہو
کہہ دیجئے کہ جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر فیصلے کر دے گا ہمارے درمیان برحق، اور وہ جانکار فیصلہ کرنیوالا ہے
کہہ دیجئے ! کہ مجھے دکھاؤ ان شرکاء کو جنہیں تم ملاتے ہو اس (اللہ) کے ساتھ (ایسا) ہرگز نہیں ! بلکہ وہ اللہ زبردست حکمت والا ہے
ہم نے بھیجا ہے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور یہ (کفار اور مشرکین) کہتے ہیں کب آئے گا وہ وعدہ (قیامت کا؟) اگر تم سچے ہو
کہہ دیجئے کہ تمہارے لئے دن مقرر ہے نہ تم تاخیر کرسکوگے اس سے ایک ساعت (یعنی ایک گھڑی) اور نہ تقدیم (یعنی آگے بڑھ سکوگے)
اور کہتے ہیں کافر کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ اس (کتاب) پے جو اس سے پہلے ہے، اور کاش ! تم دیکھتے ان ظالموں کو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے (اور) لوٹائیں گے ایک دوسرے پر بات (یعنی الزام لگائیں گے ایک دوسرے پر) کہیں گے وہ لوگ جو کمزور تھے ان لوگوں سے جو تکبر کرتے تھے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مؤمن ہوتے
کہیں گے تکبر کرنے والے کمزوروں سے، کیا ہم نے روکا تھا تمہیں ہدایت سے (دنیا کی زندگی میں) بعد اس کے جب کہ وہ آگئی تھی تمہارے پاس، بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے
اور (پھر) کہیں گے کمزور تکبر کرنیوالوں سے، بلکہ دن اور رات کا تمہارا مکر جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم انکار کریں اللہ (کی ذات) کا، اور ہم بنائیں اس کے ساتھ شریک، اور وہ (متکبرین) چھپانا چاہیں گے ندامت کیوجہ سے جب وہ دیکھیں گے عذاب کو، اور ہم ڈالیں گے طوق کافروں کی گردنوں میں (یعنی لوہے کی کڑی) انہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو عمل وہ کیا کرتے تھے
اور جب بھی ہم نے بھیجا کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، تو کہا (وہاں کے) خوشحال لوگوں نے، بیشک ہم انکار کرتے ہیں اس چیز کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو
اور کہا ہمیں زیادہ ہے مال اور اولاد (تم سے) اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا
کہہ دیجئے ! کہ میرا رب کشادہ کرتا ہے رزق جس کیلئے چاہتا ہے اور تنگ بھی کر دیتا ہے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایسی (چیز) نہیں جو قریب کر دیں تمہیں ہمارے پاس مرتبے میں، مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو یہی ہیں جن کیلئے اجر میں اضافہ ہے بسبب ان کے اعمال کے، اور وہ بالاخانوں (یعنی اونچے محل) میں امن سے رہیں گے
اور جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں میں عاجز (یعنی مقابلہ) کرنیکی، یہی ہیں (جو) عذاب میں حاضر کئے جائیں گے
کہہ دیجئے ! میرا رب کشادہ کرتا ہے رزق جس کیلئے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لئے (جسے وہ چاہتا ہے) اور جو چیز تم خرچ کرو گے وہ پیچھے ملے گی اسکے، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
اور اس دن وہ جمع کرے گا ان سب کو، پھر (اللہ) فرمائے گا فرشتوں سے کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے
(فرشتے) کہیں گے تیری ذات پاک ہے تو ہے ہمارا ولی علاوہ ان (مشرکین) کے، بلکہ یہ عبادت کرتے تھے جنوں کی، ان میں اکثر ان ہی پر ایمان رکھتے تھے
تو آج نہ ہوگا مالک کوئی کسی کے نفعے کا اور نہ نقصان کا اور ہم کہیں گے ظالموں سے (قیامت کے دن) کہ چکھو مزہ اس آگ کے عذاب کا جسے تم جھٹلا دیا کرتے تھے
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں، تو کہتے ہیں یہ آدمی (یعنی نبیؐ) تمہیں روکنا چاہتا ہے (ان سے) جس کی عبادت کرتے تھے تمہارے باپ دادا، اور کہتے ہیں کہ یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے، اور کہا کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ آچکا ان کے پاس کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے
اور نہیں عطا کیں ہم نے ان (مکہ والوں) کو کتابیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں، اور نہیں بھیجا ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانیوالا
اور جھٹلایا تھا ان سے پہلوں نے بھی، اور نہیں پہونچے یہ اس کے دسویں حصے کو بھی جو ہم نے عطا کیا تھا ان (پہلوں) کو تو انہوں نے جھٹلایا میرے رسولوں کو، تو کیسا تھا میرا عذاب
کہہ دیجئے ! کہ میں نصیحت کرتا ہوں تمہیں ایک بات کی، کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لئے دو دو یا فرداً فرداً (یعنی تنہا تنہا) پھر تم غور کرو تمہارے صاحب (یعنی نبیؐ) کو کوئی جنون نہیں، وہ تو ڈرانے والا ہے تمہیں سامنے کے شدید عذاب سے
کہہ دیجئے ! میں نہیں سوال کرتا تم سے کسی اجر کا وہ تمہیں ہی (مبارک) ہو، میرا اجر تو اللہ کے ذمے ہے، اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے
کہہ دیجئے ! بیشک میرا رب پھینک دیتا ہے حق کے ذریعے (باطل کو، اور وہ) غیب کا جاننے والا ہے
کہہ دیجئے، آچکا ہے حق (یعنی قرآن) نہ پہلے کچھ کر سکا باطل اور نہ (آج) کر سکے گا
کہہ دیجئے ! کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی (کا وبال) مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں بسبب وحی کے جو میرا رب میری طرف کرتا ہے، بیشک وہ قریب ہی سننے والا ہے
اور کاش آپ دیکھ لیں جب (کفار) گھبرائیں گے اور بھاگ نہ سکیں گے اور پکڑ لئے جائیں گے قریب کی جگہ سے
اور کہیں گے ہم ایمان لاتے ہیں اس (قرآن) پر، اور کیسے وہ پکڑ پائیں گے (قرآن و ایمان کو) دور کی جگہ سے
اور یقیناً انہوں نے انکار کیا تھا اس (قرآن) کا اس سے پہلے اور وہ پھینکتے رہے بن دیکھے دور کی جگہ سے (کہ قیامت نہیں ہے)
اور حائل کر دیا جائے گا ان کے درمیان اور انکی چاہتوں کے درمیان (پردہ) جیسا کیا گیا ان جیسی جماعتوں کے ساتھ اس سے پہلے (جو جہنم میں داخل ہو گئے) بیشک وہ بھی تھے شک ہی شک میں
سورۃ 35
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمام تعریف اللہ کیلئے ہے جو پیدا کرنیوالا ہے آسمانوں اور زمین کا، اور بنانے والا ہے فرشتوں کو اپنا پیغمبر جو پروں والے ہیں دو دو اور تین اور چار، وہ (اللہ) زیادہ کرتا ہے مخلوق میں (بناوٹ) جیسا چاہتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے
جب کھول دیتا ہے اللہ لوگوں کیلئے اپنی رحمت تو کوئی روکنے والا نہیں اسے، اور جسے وہ روک دیتا ہے تو کوئی بھیجنے والا نہیں اسے اس کے بعد، اور وہ زبردست حکمت والا ہے
اے لوگو! تم یاد کرو اللہ کی نعمت جو تم پر ہے، کیا کوئی خالق ہے سوائے اللہ کے جو رزق دے تمہیں آسمان و زمین سے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں بہک رہے ہو؟
اور اگر یہ (کافر) جھٹلاتے ہیں آپ کو تو یقیناً جھٹلائے گئے ہیں رسول آپ سے پہلے بھی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام کام
اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، تو ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے تمہیں دنیا کی زندگی، اور ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے تمہیں اللہ کیجانب سے دھوکے باز (شیطان)
بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے، تو تم اسے دشمن ہی سمجھو، وہ بلاتا ہے اپنے (شیطانی) گروہ (کے انسان) کو تاکہ وہ ہو جائیں جہنمی
جو لوگ کافر ہو گئے ان کیلئے سخت عذاب ہے، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ان کیلئے مغفرت اور بڑا اجر ہے
تو کیا جس کیلئے مزین کر دئے گئے ہیں اس کے برے اعمال، اور وہ انہیں بہتر سمجھتا ہو (کیا وہ ہدایت پے ہوگا) تو بیشک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے، تو آپ نہ ڈالیں ہلاکت میں اپنی جان کو ان پر حسرت کر کے، بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں
اور اللہ ہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو پھر وہ اٹھاتی ہیں بادلوں کو پھر ہم ہانکتے ہیں ان (بادلوں) کو مردہ زمین کی طرف، پھر ہم زندہ کر دیتے ہیں اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد اسی طرح دوبارہ جی اٹھنا ہے
جو چاہتا ہے عزت تو اللہ ہی کیلئے ہے ساری عزت، اسی کی طرف چڑھتے ہیں کلمہء طیبہ، اور نیک عمل بلند کرتا ہے ان (کلمہء طیبہ) کو، اور جو لوگ مکر کرتے ہیں برائیوں کیلئے ان کیلئے سخت عذاب ہے، اور ان کا مکر اور وہ (دونوں) برباد ہوں گے
اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے، پھر بنایا تمہیں جوڑا (مرد اور عورت کا) اور حاملہ ہونا عورتوں کا اور جنم دینا اس کے علم میں ہے، اور جو کوئی عمر پاتا ہے عمر جتنی بھی ہو اور جس کی عمر میں کمی کی جاتی ہے سب کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہے، بیشک یہ اللہ پر آسان ہے
اور نہیں ہیں برابر دو دریا یہ ایک میٹھا ہے پیاس بجھاتا ہے خوشگوار ہے اس کا پینا، اور یہ (دوسرا) نمکین اور کڑوا ہے، اور تم ان دونوں میں سے کھاتے ہو گوشت تازہ اور نکالتے ہو زیورات جنہیں تم پہنتے ہو، اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو ان (دریاؤں) میں پانی کو چیرتی ہوئیں، تاکہ تم تلاش کرو اس کا فضل، اور تاکہ تم شکر ادا کرو
وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور وہ داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور اسی نے مسخر (یعنی قابو میں) کیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک جاری ہے (اپنے) وقت مقررہ پر، یہی ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہت ہے، اور جنہیں تم پکارتے ہو اس کے سوا وہ نہیں ہیں مالک قطمیر (یعنی کھجور کی گٹھلی کے چھلکے) کے بھی
اگر تم ان (غیر اللہ) کو پکارو تو وہ نہیں سنتے تمہاری پکار، اور اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دیں گے تمہیں، اور قیامت کے دن وہ انکار کریں گے تمہارے شرک سے، اور نہیں خبر دے گا تمہیں کوئی (آخرت کے انجام کا) خبیر جیسا
اے لوگو! تم فقیر ہو اللہ کے سامنے، اور اللہ بے نیاز تعریفوں والا ہے
اگر وہ چاہے تو ختم کردے تمہیں اور لے آئے نئی مخلوق
اور نہیں ہے یہ اللہ پر کچھ مشکل
اور نہیں اٹھائے گا بوجھ اٹھانیوالا بوجھ دوسرے کا، اور اگر بلائے گا کوئی بوجھ اٹھانیوالا اپنا بوجھ اٹھانے کیلئے، تو وہ نہیں اٹھائے گا اس میں سے کچھ بھی، اگر چہ ہو وہ اسکا قریبی، تم ڈراؤ انہیں جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے، اور قائم کرتے ہیں نماز، اور جو پاک ہو گا (کفر سے) تو وہ اپنے لئے ہی پاک ہوگا، اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے
اور نہیں ہے برابر اندھا اور دیکھنے والا
اور نہ تاریکی اور نہ ہی روشنی
اور نہ سایہ اور نہ دھوپ (برابر ہے)
اور نہیں برابر ہو سکتے زندہ اور مردے، بیشک اللہ سناتا ہے (قبول کی توفیق) جس کو چاہتا ہے اور آپ نہیں سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں
آپ صرف ڈرانیوالے ہیں
بیشک ہم نے بھیجا ہے آپ کو حق دے کر خوشخبری سنانیوالا اور ڈرانیوالا بناکر اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں نہ گزرا ہو کوئی ڈرانیوالا
اور اگر یہ (کافر) جھٹلاتے ہیں آپ کو تو یقیناً جھٹلایا تھا (رسولوں کو) جو ان سے پہلے آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول معجزے اور صحیفے (چھوٹی کتابیں) اور روشن کتاب لے کر
پھر میں نے پکڑا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا تھا تو کیسا رہا میرا عذاب؟
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی، پھر ہم نے نکالے اس کے ذریعہ سے پھل مختلف رنگوں کے، اور پہاڑوں کے بھی حصے ہیں سفید اور سرخ اور مختلف رنگ ہیں ان کے اور بہت کالے بھی ہیں
اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں ان کے اسی طرح یقیناً ڈرتے ہیں اللہ سے اس کے بندوں میں علم والے، بیشک اللہ زبردست مغفرت کرنیوالا ہے
بیشک جو لوگ تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی اور قائم کرتے ہیں نماز اور خرچ کرتے ہیں جو ہم نے رزق دیا ہے ان کو چھپا کر اور اعلانیہ، وہ امید رکھتے ہیں ایسی تجارت کی جو ہرگز تباہ نہ ہوگی
تاکہ وہ (اللہ) پورا دے انہیں ان کا اجر اور زیادہ دے ان کو اپنے فضل سے، بیشک وہ مغفرت کرنیوالا قدردان ہے
اور جو وحی ہم نے کی ہے آپ کی طرف اس (قرآنی) کتاب کو وہ برحق ہے جو تصدیق کرتی ہے اپنے سے پہلی کتابوں کی، بیشک اللہ اپنے بندوں پر باخبر دیکھنے والا ہے
پھر ہم نے وارث بنایا اس (قرآنی) کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے (امت محمدیہؐ کو) تو ان میں بعضوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، اور ان میں بعض متوسط درجے (یعنی بیچ) کے ہیں، اور ان میں بعض سبقت کرتے ہیں خیر کے کاموں میں اللہ کے حکم سے، یہی ہے بہت بڑا فضل
ہمیشہ کی جنت میں وہ داخل ہوں گے، انہیں پہنایا جائے گا اس میں سونے کے کنگن اور موتی، اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا
اور وہ کہیں گے تمام تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جس نے دور کر دیا ہم سے غم کو، بیشک ہمارا رب مغفرت کرنے والا بڑا قدردان ہے
جس نے حائل (یعنی داخل) کیا ہم کو ہمیشہ رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے، نہیں پہونچے گی ہمیں اس میں کوئی تکلیف، اور نہیں پہونچے گی ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ
اور جو کافر ہیں ان کیلئے جہنم کی آگ ہے، نہ ہو گی ان کی قضا؟ (یعنی موت) کہ وہ مر جائیں، اور نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے ان کا عذاب، اسی طرح ہم بدلہ دیں گے تمام کافروں کو
اور وہ چیخیں گے اس (جہنم) میں کہ اے ہمارے رب! نکال دے ہمیں ہم اچھے کام کریں گے ان کے علاوہ جو ہم کیا کرتے تھے (اللہ کہے گا) کیا ہم نے تمہیں عمر نہ دی تھی جسے نصیحت پکڑنا ہوتی (اسمیں) وہ نصیحت پکڑ لیتا، اور جبکہ آئے تھے تمہارے پاس ڈرانیوالے، تو (اب) مزہ چکھو، ظالموں کیلئے کوئی مددگار نہیں
بیشک اللہ جاننے والا ہے غیب کی باتیں آسمانوں اور زمین کی، بیشک وہی جاننے والا ہے سینوں کی باتوں کو
وہی ہے جس نے بنایا تمہیں خلیفہ زمین میں، تو جو کفر کرے گا تو اسی پر کفر (کا وبال) ہوگا، اور نہیں زیادہ کرے گا کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے پاس سوائے ناراضگی کے کچھ، اور نہیں زیادہ کرے گا کافروں کو ان کا کفر (ان کے رب کے پاس) سوائے خسارے کے کچھ
کہئے! تمہارا کیا خیال ہے تمہارے ان شرکاء کے بارے میں جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے سوا؟ دکھاؤ مجھے انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں؟ یا ان کا کچھ حصہ ہے آسمانوں میں، یا ہم نے عطا کی ہے انہیں کوئی کتاب، یا وہ کسی دلیل پر ہیں اس (کتاب کے حوالے) سے، بلکہ ظالموں کا وعدہ ایک دوسرے سے سوائے دھوکا کے کچھ نہیں
بیشک اللہ نے تھام رکھا ہے آسمانوں اور زمین کو کہ وہ دونوں (زائل) یعنی ہل نہ جائے، اور اگر وہ دونوں زائل ہو جائیں، تو ان دونوں کو تھامنے والا کون ہے؟ اس کے بعد بیشک وہ (اللہ) حلیم اور مغفرت کرنیوالا ہے
اور ان (مشرکین) نے قسمیں کھائی تھی اللہ کی اپنی قسموں میں زور ڈال کر، کہ اگر آئے ان کے پاس کوئی ڈرانیوالا تو ضرور ہوں گے وہ زیادہ ہدایت یافتہ تمام امتوں میں، تو جب آیا ان کے پاس ڈرانیوالا تو زیادہ ہو گئی ان کی نفرت
(مشرکین نے) تکبر کیا زمین میں اور بری چال چلی، اور بری چال چلنے والے پر ہی پڑتی ہے، تو کیا وہ انتظار کر رہے ہیں پہلوں کے طریقے کا؟ (یعنی ہلاکت کا) تو تم ہرگز نہ پاؤ گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی، اور تم ہرگز نہ پاؤ گے اللہ کے طریقے میں کوئی حائل (یعنی داخل) ہو نیوالا
اور کیا یہ چلتے پھرتے نہیں زمین میں، اور دیکھتے نہیں کیا انجام ہوا ان کا جو ان سے پہلے تھے؟ اور وہ قوت میں ان سے زیادہ تھے، اور اللہ کی ذات ایسی نہیں ہے کہ وہ اسے عاجز کر دے (یعنی ہرا دے، نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں، بیشک وہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے
اور اگر اللہ مؤاخذہ (یعنی پکڑ) کرے لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو نہ چھوڑے اس کی پیٹھ (یعنی زمین) پر ایک جاندار کو اور لیکن وہ مہلت دے رہا ہے ان کو ایک مقرر وقت تک، تو جب آجائے گا ان کا وقت، تو بیشک اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا
سورۃ 36
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰس
قسم ہے قرآن حکیم کی
بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں
سیدھے راستے پر ہیں
نازل ہوا ہے (یہ قرآن) زبردست رحیم کی طرف سے
تاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے، تو یہ غافل ہیں
یقینا طے ہے یہ بات ان میں اکثر پر کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے
ہم نے ڈال دئے ہیں ان کی گردنوں میں طوق، پھر وہ ٹھوڑیوں (یعنی ڈاڑھی کی جگہ) تک ہیں، تو وہ سر اٹھائے ہوئے ہوں گے (قیامت میں)
اور ہم نے ڈال دیا ہے ان کے سامنے پردہ (دنیا کا) اور ان کے پیچھے پردہ (آخرت کو جھٹلانے کا) ہم نے ڈھانک دیا ہے ان کو وہ نہیں دیکھ سکتے
اور برابر ہے ان کیلئے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، یہ ایمان نہیں لائیں گے
صرف اسی کو آپ ڈرا سکتے ہیں جو اتباع کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمن سے بن دیکھے، تو آپ بشارت دیں اسکو مغفرت اور اجر کریم کی
بیشک ہم ہی زندہ کریں گے مُردوں کو، اور ہم لکھ لیتے ہیں (اعمال) جو وہ آگے بھیجتے ہیں اور جو پیچھے چھوڑتے ہیں، اور ہر چیز کا ہم نے شمار کر رکھا ہے لوح محفوظ میں
اور بیان کیجئے ان کیلئے مثال ایک بستی (انطاکیہ، ترکی) والوں کی، جب آئے تھے اسمیں رسول
جب ہم نے بھیجا ان کے پاس دو (رسولوں) کو تو انہوں نے جھٹلایا دونوں کو، تو ہم نے قوت دی تیسرے سے، تو ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول بناکر بھیجے گئے ہیں
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو بشر (یعنی آدمی) ہو ہماری طرح اور نہیں نازل کی رحمان نے کوئی چیز، تم جھوٹ بولتے ہو
انہوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے، بیشک ہم تمہاری طرف رسول بھیجے گئے ہیں
اور ہمارے ذمہ تو صرف کھول کر پہونچانا ہے
انہوں نے کہا کہ ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں پتھر ماریں گے، اور پہونچے گی تم کو ہم سے سخت تکلیف
انہوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا جو نصیحت تمہیں کی جا رہی ہے (اسے نحوست کہتے ہو) بلکہ تم حد سے بڑھے ہوئے ہو
اور آیا (اس) شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا کہنے لگا کہ اے میری قوم! تم اتباع کرلو ان رسولوں کی
اتباع کرو (ان کی) جو نہیں سوال کرتا تم سے کسی اجر کا، اور وہ ہدایت یافتہ ہیں
اور مجھے کیا ہوا کہ میں اسکی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا، اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
کیا میں بناؤں اس (اللہ) کے علاوہ کو معبود، اگر چاہے رحمان مجھے کوئی نقصان پہونچانا تو کچھ نفع نہ پہنچا سکے مجھے ان (غیر اللہ) کی سفارش، اور نہ وہ مجھے بچا سکیں
بیشک جب تو میں کھلی گمراہی میں پڑ جاؤں گا
بیشک میں ایمان رکھتا ہوں تمہارے رب پر تو تم میری سنو!
کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ جنت میں، کہنے لگا کاش! میری قوم کے لوگ جانتے
جس طرح مغفرت کر دی میری میرے رب نے، اور بنا دیا مجھے مکرمین میں سے