اور ان لوگوں نے کہا جو امید نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی، کہ کیوں نہیں نازل کئے گئے ہم (کافروں) پر فرشتے، یا ہم دیکھ ہی لیں اپنے رب کو، یقیناً انہوں نے تکبر میں بہت بڑا سمجھ لیا ہے اپنے آپ کو، اور بہت بڑی سرکشی کی ہے
سورۃ 25
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس دن وہ دیکھ لیں گے فرشتوں کو، کوئی خوشخبری نہ ہو گی اس دن مجرموں کے لیے اور کہیں گے پردہ پردہ (کر دیا جائے ان فرشتوں سے)
اور ہم متوجہ ہوں گے ان اعمال کی طرف جو عمل انہوں نے کئے تھے، پھر ہم بنادیں گے انہیں راکھ بکھری ہوئی
اصحاب جنت اس دن بہترین ٹھکانے میں ہوں گے، اور سب سے بہتر قیلولہ (یعنی آرام) کی جگہ میں ہوں گے
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں کے ساتھ اور نازل کئے جائیں گے فرشتے بکثرت
اس دن حقیقی حکومت رحمان کی ہی ہوگی، اور وہ دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا
اور اس دن کاٹ کھائے گا ظالم اپنا ہاتھ، کہے گا ہائے میری تباہی! میں نے بنایا ہوتا رسول کے ساتھ کا راستہ
ہائے میری تباہی! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا
یقیناً گمراہ کیا مجھے (شیطان نے) نصیحت سے بعد اس کے جبکہ آگئی تھی میرے پاس، اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہی ہے
اور رسول کہے گا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا
اور اسی طرح ہم بناتے رہے ہیں ہر ایک نبی کا دشمن مجرموں کو، اور کافی ہے تیرا رب ہدایت کرنے اور مدد کرنے کے لیے
اور کہتے ہیں کافر کہ کیوں نازل نہیں کیا گیا اس (نبی) پر قرآن ایک ہی بار میں، اس طرح (ہم نے اسلئے نازل کیا) تاکہ ہم ثابت رکھیں اس کے ذریعے تمہارے دل کو اور (اسلئے) ہم نے نازل کیا اسے ٹھہر ٹھہر کر
اور وہ نہیں لاسکتے تمہارے سامنے اس (قرآن) جیسا، جس طرح ہم لائے ہیں تمہارے سامنے حق کی جانب سے اور احسن (یعنی عمدہ) تفسیر
یہ وہ ہیں جو جمع کئے جائیں گے اپنے چہروں کے بل جہنم میں، یہی برے مرتبے والے ہیں اور بہت گمراہ ہیں راستے سے
اور یقیناً ہم نے عطا کی موسیٰ کو کتاب، اور ہم نے بنایا اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر
پھر ہم نے کہا تم دونوں جاؤ ان لوگوں کی طرف جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، تو ہم نے انہیں تباہ کر دیا اچھی طرح
اور نوح کی قوم کو بھی جب انہوں نے جھٹلایا رسولوں کو تو ہم نے انہیں غرق کر دیا، اور ہم نے بنادیا انہیں لوگوں کے لیے نشانی، اور ہم نے تیار کر رکھا ہے ظالموں کے لیے دردناک عذاب
اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کو بھی (یعنی حضرت صالح کے بعد کی قوم کو) اور بہت سی قوموں کو ان کے درمیان کی
ہم نے بیان کی تھیں ہر ایک قوم کیلئے مثالیں، اور سب کو ہم نے ہلاک کر دیا اچھی طرح
اور یقیناً یہ گزرتے ہیں اس بستی پر سے جس پر برسائی گئی بری بارش (پتھر کی) تو کیا یہ لوگ اسے دیکھتے نہیں رہے ہیں، بلکہ یہ لوگ امید ہی نہیں رکھتے جی اٹھنے کی
اور جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو تم سے مذاق کرنے لگتے ہیں کہ کیا یہی ہے جسے اللہ نے بھیجا ہے رسول بنا کر
(کافر کہتے ہیں) قریب تھا کہ یہ (نبی) ہمیں دور کر دیتا ہمارے معبودوں سے اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے، اور انہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا جب وہ دیکھیں گے عذاب کو کہ کون زیادہ گمراہ تھا راستے سے
کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے بنالیا ہے اپنا معبود اپنی خواہش کو تو کیا تم ہو سکتے ہو اس کا وکیل (یعنی ذمہ دار)
یا تم گمان کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں، یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں راستے سے
کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ کیسے اس نے پھیلایا ہے سایہ کو، اور اگر چاہتا تو بنادیتا اسے ساکن (یعنی ٹھہرا ہوا) پھر ہم نے بنایا ہے سورج کو اس پر دلیل (یعنی سایہ پھیلانے کا ذریعہ)
پھر ہم قبضے میں کر لیتے ہیں اس (سورج) کو آسانی سے
اور وہی ہے جس نے بنادیا تمہارے لیے رات کو لباس اور نیند کو راحت، اور اس نے بنا دیا ہے دن کو چلنے پھرنے کے لیے
اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر اپنی رحمت کے درمیان سے، اور ہم نازل کرتے ہیں آسمان سے پاک پانی
تاکہ ہم زندہ کریں اس (پانی) سے مردہ زمین کو اور پلائیں اسے اپنی پیدا کی ہوئی مخلوق چوپایوں اور بہت سے آدمیوں کو
اور یقیناً ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اس (قرآن) کو ان کے درمیان، تاکہ نصیحت حاصل کریں پھر بھی بہت سے لوگ انکار کرتے ہیں اور ناشکری کرتے ہیں
اور اگر ہم چاہتے تو بھیج دیتے ہر گاؤں میں ایک ڈرانے والا
تو تم اتباع نہ کرو کافروں کی اور ان کے ساتھ بڑا جہاد کرو اس (قرآن) کے ذریعے
اور وہی ہے جس نے ملا دیا دو دریاؤں کو، یہ (ایک) میٹھا خوشگوار ہے اور یہ (دوسرا) کھارا (اور) کڑوا ہے، اور اس (اللہ) نے بنادئے ہیں ان دونوں کے بیچ پردہ اور رکاوٹ
اور وہی ہے جس نے پیدا کیا پانی سے انسان کو تو اس نے بنائے اس کے لیے رشتے اور سسرالی رشتے بھی، اور تمہارا رب ہر چیز پر قادر ہے
اور وہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے سوا جو نہ نفع دیتے انہیں اور نہ ہی نقصان پہنچاتے انہیں اور کافر اپنے رب سے پیٹھ پھیرنے والا ہے
اور ہم نے بھیجا ہے تمہیں خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر
کہہ دو نہیں سوال کرتا میں تم سے اس پر کسی اجر کا، مگر جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ بنانا (تو وہ بنا سکتا ہے)
اور تم توکل کرو اس زندہ (خدا) پر جو نہیں مرے گا، اور تسبیح کرو اس کی حمد کے ساتھ، اور وہ کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر
وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں، پھر قائم ہوا عرش پر، وہ رحمان ہے تو تم پوچھو اس کے بارے میں کسی باخبر سے (وہ باخبر ذات اللہ ہی کی ہے)
اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ سجدہ کرو رحمان کو، تو وہ کہتے ہیں کون ہے رحمان، کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تم حکم دو ہمیں، اور زیادہ ہو جاتی ہے ان کی نفرت
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے بنائے آسمان میں ستارے، اور بنائے اس میں چراغ (یعنی سورج) اور روشن چاند
اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے (تو) جو چاہے نصیحت پکڑے یا جو چاہے شکر ادا کرے
اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر نرمی سے، اور جب مخاطب ہوتے ہیں ان سے جاہل تو کہتے ہیں سلامتی کی بات
اور یہی ہیں جو رات گزارتے ہیں اپنے رب کے سامنے سجدے میں اور قیام (یعنی نماز) میں
اور یہی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بے شک اس (جہنم) کا عذاب چمٹنے والا ہے
بے شک وہ برا ٹھکانہ اور بری قیام گاہ ہے
اور یہی ہیں جو جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی کرتے ہیں، اور ان دونوں کے درمیان اعتدال برتتے ہیں
اور یہی ہیں جو نہیں پکارتے اللہ کے سوا کسی اور معبود کو، اور ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے، اور وہ زنا نہیں کرتے، اور جس شخص نے ایسا کیا وہ جا ملا گناہ سے
دگنا عذاب دیا جائے گا اسے قیامت کے دن، اور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیا، تو یہی ہیں جن کی برائیوں کو اللہ بدل دے گا بھلائیوں سے، اور اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے
اور جس نے توبہ کی اور نیک کام کیا تو بے شک وہ رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف
اور یہی ہیں جو گواہی نہیں دیتے جھوٹ باتوں کی، اور جب گزرتے ہیں لغو باتوں سے تو گزرتے ہیں کریمانہ (یعنی شریفانہ) طور سے
اور جب نصیحت کی جاتی ہے انہیں ان کے رب کی آیتوں سے تو نہیں گرتے ان پر بہرے اور اندھے ہو کر
اور وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! عطا فرما ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک، اور بنادے ہمیں متقیوں کا امام
یہی لوگ ہیں جنہیں بدلہ دیا جائے گا بالا خانے سے ان کے صبر کی وجہ سے، اور ان سے ملاقات کریں گے (فرشتے) اس میں، دعا و سلام کے ساتھ
ہمیشہ رہیں گے اس میں، کیا ہی بہتر ٹھکانہ ہے اور مقام ہے
کہہ دو پرواہ نہیں کرتا تمہاری میرا رب اگر نہ پکارو تم اسے، تو یقیناً تم نے جھٹلایا ہے تو جلد ہی ہوگی لازمی سزا
سورۃ 26
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طسم
یہ آیتیں ہیں روشن کتاب (قرآن) کی
(اے نبیؐ) کیا تم اپنے آپ کو ہلاک کر لوگے اگر وہ ایمان نہیں لاتے
اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے ایسی نشانی کہ ان کی گردنیں جھک جائیں اس کی وجہ سے
اور جب بھی آتی ہے ان (کافر) کے پاس کوئی نصیحت رحمان کی طرف سے نئی (تو) وہ اس سے اعراض کرتے ہیں
تو انہوں نے جھٹلایا تو عنقریب آئے گی ان کے پاس (عذاب کی) وہ خبریں جن کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے
کیا انہوں نے نہیں دیکھا زمین کو کتنی ہم نے اگائی ہیں اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں
بے شک اس میں نشانی ہے، اور نہ ہوئے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے
اور بے شک تیرا رب ہی ہے وہ جو زبردست رحم کرنے والا ہے
اور جب نداء دی تیرے رب نے موسیٰ کو کہ جاؤ ظالم قوم کے پاس
فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟
کہا اے میرے رب! مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے
اور تنگ ہو جائے گا میرا سینہ اور نہ بول سکے گی میری زبان تو، تو بھیج دے ہارون کو (پیغام دے)
اور ان کے سامنے میرا ایک گناہ بھی ہے، تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں
فرمایا ہرگز نہیں تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، بے شک ہم تمہارے ساتھ ہیں اور سن رہے ہیں
تم دونوں جاؤ فرعون کے پاس اور کہو کہ بے شک ہم رسول ہیں رب العالمین کی طرف سے
اور تم بھیجو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو
کہا کیا ہم نے پرورش نہیں کی تھی تمہاری اپنے درمیان بچپن میں، اور تم ٹھہرے رہے ہمارے بیچ اپنی عمر کے کئی سال
اور تو نے وہ کیا جو تمہیں کرنا تھا (یعنی ایک شخص کا قتل) اور (اب) تو ناشکروں میں ہو گیا
کہا جب میں نے وہ کام کیا تھا تو میں بے خبر تھا
تو میں فرار ہو گیا تم سے کیوں کہ مجھے خوف تھا تم سے، تو عطا کی مجھے میرے رب نے حکمت اور بنایا مجھے رسولوں میں سے
اور یہ احسان جو تو مجھ پر جتاتا ہے (تو کیا اسی لئے) تو نے غلام بنا رکھا ہے بنی اسرائیل کو
کہا فرعون نے رب العالمین کون ہے؟
فرمایا وہ رب ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے (ان سب کا) اگر تمہیں یقین ہو
کہا اپنے ارد گرد والوں سے کیا تم سنتے نہیں؟
فرمایا وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا بھی رب ہے
کہا بے شک تمہارا رسول جو بھیجا گیا ہے تمہاری طرف، یقیناً (یہ) مجنوں ہے
فرمایا وہ رب ہے مشرق اور مغرب اور جو ان دونوں کے درمیان ہے (ان سب کا) اگر تم عقل رکھتے ہو
کہا اگر تو نے بنایا کوئی معبود میرے سوا تو میں تمہیں قید میں ڈال دوں گا
فرمایا اگرچہ میں لے کے آیا ہوں تیرے پاس ایک روشن چیز
کہا تو لے آ اسے اگر تو سچا ہے
تو اس نے ڈالا اپنا عصا، تو اسی وقت وہ کھلا اژدھا بن گیا
اور کھینچا اپنا ہاتھ تو اسی وقت وہ چمکدار ہو گیا دیکھنے والوں کیلئے
کہا اپنے ارد گرد کے سرداروں سے کہ بے شک یہ جانکار جادوگر ہے
چاہتا ہے کہ نکال دے تمہیں تمہارے ملک سے اپنے جادو کے ذریعے، تو تم کیا مشورہ دیتے ہو؟
کہا مہلت دو اسے اور اس کے بھائی کو اور بھیجو (مصر کے) شہروں میں جمع کرنے والے (چپراسیوں) کو
وہ لے کے آئیں تمہارے پاس تمام جانکار جادوگر
تو جمع کئے گئے سب جادوگر ایک مقرر دن میں
اور کہا گیا لوگوں سے کیا تم سب جمع ہو چکے
تاکہ ہم اتباع کریں جادوگروں کی اگر وہ غالب آئیں
پھر جب آگئے جادوگر تو انہوں نے کہا فرعون سے، کیا ہمارے لئے کوئی اجر (یعنی انعام) ہے اگر ہم غالب آگئے
کہا ہاں اور بے شک تم ہو جاؤ گے مقربین میں
کہا ان سے موسیٰ نے ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے
تو انہوں نے ڈالیں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں، اور کہا فرعون کی عزت کی قسم! بے شک ہم ہی غالب ہوں گے
تو ڈالا موسیٰ نے اپنا عصا، تو وہ نگلنے لگا جو انہوں نے گھڑا تھا (یعنی بنایا تھا)
تو گر گئے جادوگر سجدے میں
کہا ہم ایمان لاتے ہیں رب العالمین پر
جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا
کہا کیا تم ایمان لے آئے میری اجازت سے پہلے ہی، بے شک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تمہیں سکھایا ہے جادو، تو جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا، میں ضرور کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں خلاف سمت سے، اور میں ضرور سولی دوں گا تم سب کو
کہا کوئی حرج نہیں بے شک ہم اپنے رب کی طرف ہی منتقل ہونے والے ہیں (سولی کے بعد)
بے شک ہمیں امید ہے کہ مغفرت کر دے گا ہماری خطاؤں کو ہمارا رب (اس لئے) کہ ہم اول ایمان لانے والے ہیں
اور ہم نے وحی کی موسیٰ کو کہ رات میں لے کر نکلو میرے بندوں کو، بے شک تمہارا پیچھا کیا جائے گا
تو بھیجا فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والے (چپراسیوں) کو
(کہا) کہ یہ ایک تھوڑی سی تعداد ہے
اور بیشک انہوں نے ہمیں بہت غصہ دلایا ہے
اور بے شک ہماری جماعت (یعنی فوج) ڈرانے والی ہے
تو ہم نے نکال دیا انہیں باغوں اور چشموں سے
اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے
اسی طرح ہوا، اور ہم نے وارث بنایا ان (چیزوں) کا بنی اسرائیل کو
تو انہوں نے پیچھا کیا ان کا سورج نکلنے کے وقت
تو جب دیکھا دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو تو کہا موسیٰ کے ساتھیوں نے ہم تو پکڑے گئے
کہا ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے جلد ہی وہ مجھے راہ بتائے گا
تو ہم نے وحی کی موسیٰ کو کہ مارو اپنی لاٹھی کو دریا پر، تو پھٹ گیا (دریا) پھر ہو گیا ہر ٹکڑا بڑے پہاڑ کی طرح
اور ہم نے قریب کیا وہاں دوسرے (فرعونیوں) کو
اور ہم نے نجات دی موسیٰ کو اور ان کے ساتھ کے تمام لوگوں کو
پھر ہم نے غرق کر دیا دوسرے (فرعونیوں) کو
بے شک اس میں نشانی ہے، اور نہ ہوئے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
اور پڑھ سناؤ انہیں ابراہیم کی خبر
جب کہا اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟
انہوں نے کہا ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہم ان ہی پے جھکے رہتے ہیں
کہا کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں جب تم پکارتے ہو؟
یا تمہیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟
انہوں نے کہا بلکہ ہم نے پایا ہے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے ہوئے
کہا تمہارا کیا خیال ہے (ان کے بارے میں) جن کی تم عبادت کرتے ہو؟
تم اور تمہارے پہلے باپ دادا
تو بے شک یہ (بت) دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے
جس نے پیدا کیا مجھے پھر وہی راہ دکھاتا ہے مجھے
اور وہی ہے جو کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے
اور وہی ہے جو موت دے گا مجھے پھر زندہ کرے گا مجھے
اور وہی ہے جس پر مجھے امید ہے کہ میری خطاؤں کی مغفرت فرمائے گا قیامت کے دن
اے میرے رب! عطا فرما مجھے حکمت، اور ملا دے مجھے صالحین کے ساتھ
اور بنا دے مجھے سچوں کی زبان (یعنی میرا ذکر باقی رکھ) بعد والوں میں
اور بنا دے مجھے وارث نعمت والی جنت کا
اور مغفرت فرما میرے باپ کی بے شک وہ گمراہوں میں سے ہے
اور رسوا نہ کرنا مجھے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے
جس دن نہیں نفع دیں گے مال اور نہ اولاد
مگر جو لے کر آئے گا اللہ کے پاس پاک دل
اور سجائی جائے گی جنت متقیوں کیلئے
اور بھڑکایا جائے گا جہنم کو سرکشوں کے لئے
اور کہا جائے گا ان سے کہاں ہیں وہ (معبود) جن کی تم عبادت کرتے تھے؟
اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں یا بدلہ لے سکتے ہیں؟
تو وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں اور سب گمراہوں کو بھی
اور ابلیس کی فوجوں کو بھی
اور وہ کہیں گے اس میں آپس میں جھگڑتے ہوئے
اللہ کی قسم! بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے
جب ہم برابر کیا کرتے تھے تمہیں رب العالمین کے
اور ہمیں گمراہ کیا ان مجرموں نے
تو اب کوئی ہمارا سفارشی نہیں
اور نہ کوئی دوست مددگار ہے
پھر اگر ہمیں دوبارہ دنیا میں جانا ہو جائے، تو ہم ہو جائیں گے ایمان والوں میں
بیشک اس میں نشانی ہے، اور نہ ہوئے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
جھٹلایا نوح کی قوم نے رسولوں کو
جب کہا ان سے ان کے بھائی نوح نے کیا تم ڈرتے نہیں؟
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں
تو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
اور میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا، میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے
تو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
انہوں نے کہا کیا ہم ایمان لائیں تجھ پر؟ اور تمہاری اتباع تو کر رکھی ہیں گھٹیا لوگوں نے
کہا اور مجھے علم نہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں (یعنی مجھے ان کے کام سے کوئی مطلب نہیں)
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، کاش کہ تم سمجھتے
اور میں نہیں دھتکارنے والا ایمان والوں کو
میں تو صرف کھول کر ڈرانے والا ہوں
انہوں نے کہا اگر تم باز نہ آئے اس سے تو اے نوح! تم ضرور ہو جاؤ گے سنگسار کئے جانے والوں میں (پتھر مار کر)
کہا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلایا ہے
تو، تو فیصلہ کر دے میرے اور ان کے درمیان اچھی طرح، اور نجات دے مجھے اور میرے ساتھ کے ایمان والوں کو
تو ہم نے نجات دی اسے اور اس کے ساتھ کے ایمان والوں کو بھری ہوئی کشتی میں
پھر ہم نے غرق کر دیا بعد باقی (لوگوں) کو
یقیناً اس میں نشانی ہے، اور نہ ہوئے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
جھٹلایا قوم عاد نے رسولوں کو
جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟ (اللہ سے)
بے شک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں
تو تم ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو
اور میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا، میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے
کیا تم بناتے ہو ہر اونچی جگہ پر نشانی کھیلنے کے لئے
اور تم بناتے ہو بڑے محل تاکہ تم ہمیشہ رہو گے
اور جب پکڑتے ہو تو پکڑتے ہو جبار بن کر (یعنی دوسروں پر ظلم کرتے ہو)
تو تم ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو
اور تم ڈرو اس ذات سے جس نے مدد کی تمہاری جسے تم بھی جانتے ہو
مدد کی تمہاری چوپایوں اور اولاد سے
اور باغوں اور چشموں سے
میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے
انہوں نے کہا برابر ہے ہم پر کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو تم نصیحت
یہ پہلوں کا طریقہ ہے (ڈرانا وغیرہ)
اور نہیں ہوگا ہمیں عذاب
تو انہوں نے جھٹلایا اسے تو ہم نے ہلاک کر دیا انہیں، بے شک اس میں نشانی ہے، اور نہ ہوئے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
جھٹلایا قوم ثمود نے رسولوں کو
جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے کیا تم ڈرتے نہیں؟
بے شک میں تمہارے لئے رسول ہوں امانت دار
تو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
اور میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے
کیا تم چھوڑ دئے جاؤ گے یہاں (دنیا میں) امن میں رہنے کیلئے
باغوں اور چشموں میں
اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے خوشے (یعنی گچھے) ملائم ہیں
اور تم تراش کر پہاڑوں کو گھر بناتے ہو فخر کیلئے
تو تم ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو
اور مت اطاعت کرو ان حد سے بڑھنے والوں کے حکم کی
جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور اصلاح نہیں کرتے
انہوں نے کہا بے شک تم پر تو کسی نے جادو کر دیا ہے
تو بھی ایک آدمی ہے ہماری طرح، تو لے آؤ کوئی نشانی (بطور معجزہ) اگر تم سچے ہو
کہا یہ اونٹنی ہے اس کے پینے کا اور تمہارے پینے کا ایک دن مقرر ہے
اور مت چھونا اسے برائی سے، ورنہ آ پکڑے گا تمہیں بڑے دن کا عذاب
تو انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے اس کے، پھر ہو گئے نادم (یعنی شرمندہ)
تو پکڑا انہیں عذاب نے، بے شک اس میں نشانی ہے، اور نہ ہوئے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
جھٹلایا لوط کی قوم نے رسولوں کو
جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے کیا تم ڈرتے نہیں؟
بے شک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں
تو تم ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو
اور میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا، میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے
کیا تم آتے ہو لڑکوں کے پاس دنیا کے لوگوں میں؟
اور چھوڑ دیتے ہو جو پیدا کی ہیں تمہارے رب نے تمہارے لئے بیویاں، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو
انہوں نے کہا اگر تم باز نہ آئے اے لوط! تو ضرور تم نکالے جاؤ گے
کہا بیشک میں تمہارے کام سے بے تعلق ہوں
اے میرے رب! نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس سے جو یہ کرتے ہیں
تو ہم نے نجات دی اسے اور اس کے تمام گھر والوں کو
سوائے (اس کی) بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں میں ہو گئی
پھر ہم نے تباہ کر دیا دوسرے سب کو
اور ہم نے برسائی ان پر (پتھروں کی) بارش، تو کیا ہی بری بارش تھی ڈرائے جانے والوں کیلئے
بے شک اس میں نشانی ہے، اور نہ ہوئے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
جھٹلایا جنگل والے (حضرت شعیبؑ کی قوم) نے رسولوں کو
جب کہا ان سے شعیب نے کیا تم ڈرتے نہیں؟
بے شک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں
تو تم ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو
اور میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے
پورا کرو ناپ اور تم نہ ہو جاؤ خسارہ کرنے والوں میں سے
اور وزن کرو صحیح ترازو سے
اور کم کر کے نہ دو لوگوں کو ان کی چیزیں، اور تم نہ پھرو زمین میں فسادی بن کر
اور تم ڈرو اس سے جس نے پیدا کیا تمہیں، اور (تم سے) پہلی مخلوق کو بھی
انہوں نے کہا تم پر جادو کیا گیا ہے
اور نہیں ہو تم مگر ہماری ہی طرح ایک انسان، اور ہم گمان کرتے ہیں کہ تم جھوٹوں میں سے ہو
تو تم گرا دو ہم پر کوئی ٹکڑا آسمان سے (عذاب کا) اگر تم سچے ہو
کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
تو انہوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑا انہیں عذاب نے سائبان (یعنی سائے) والے دن، بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا
بے شک اس میں نشانی ہے، اور نہ ہوئے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
اور بے شک یہ (قرآن) نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا
نازل کیا ہے اسے روح الامین (یعنی جبریلؑ) نے
تمہارے دل پر، تاکہ تم ہو جاؤ ڈرانے والوں میں سے
صاف عربی زبان میں
اور بے شک اس (قرآن) کی خبر پچھلی کتابوں میں بھی ہے
کیا نہیں ہے یہ نشانی (کافی) ان کے لئے، کہ جانتے ہیں اس (قرآن) کو بنی اسرائیل کے علماء بھی
اور اگر ہم اس (قرآن) کو کسی عجمی (یعنی غیر عرب) پر نازل کرتے
تو وہ پڑھتا اسے ان (عرب) کے سامنے، تو بھی اس پر ایمان نہ لاتے
اسی طرح ہم نے ڈال دیا ہے اس (انکار) کو مجرموں کے دلوں میں
وہ ایمان نہیں لائیں گے اس پر یہاں تک کہ وہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو
تو آئے گا ان پر وہ (عذاب) اچانک، اور وہ سمجھ بھی نہ سکیں گے
تو وہ کہیں گے کیا ہمیں مہلت مل سکتی ہے؟
کیا ہمارے عذاب کیلئے وہ جلدی کر رہے ہیں؟
تو تمہارا کیا خیال ہے اگر ہم انہیں فائدہ اٹھانے دیں چند سال (اور)
پھر آئے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے
(تو بھی) نہ کام آئے گا انہیں جو یہ فائدہ اٹھا رہے ہیں
اور ہم نے ہلاک نہیں کی ایسی کوئی بستی مگر (آئے تھے) ان کے لیے ڈرانے والے
نصیحت (کے لئے ہے یہ عذاب) اور ہم ظالم نہیں ہیں
اور نہیں نازل ہوئے اس (قرآن) کو لے کر شیاطین
اور ممکن نہیں ان کے لئے اور نہ ہی وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیں
بے شک وہ اس کے سننے سے بھی معزول (یعنی دور) ہیں
تو تم نہ پکارو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو، ورنہ تم بھی ہو جاؤ گے عذاب دئے جانے والوں میں
اور تم ڈراؤ اپنے قریبی رشتے داروں کو
اور جھکائے رکھو اپنا بازو (بہتر سلوک کرو) ان کیلئے جو اتباع کرتے ہیں تمہاری ایمان والوں میں سے
تو اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو میں بری ہوں تمہارے عمل سے (یعنی بے تعلق ہوں)
اور توکل کرو زبردست رحم کرنے والے پر
جو تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے، جب تم قیام (یعنی نماز) میں ہوتے ہو
اور تمہارا پلٹنا سجدہ کرنے والوں کے ساتھ (بھی وہ دیکھ رہا ہوتا ہے)
بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے
کیا میں بتاؤں تمہیں کس پر اترتے ہیں شیاطین؟
وہ اترتے ہیں ہر گھڑنے والے گناہ گار پر
وہ ڈالتے ہیں (دلوں میں) سنی ہوئی باتیں، اور اکثر ان میں جھوٹے ہوتے ہیں
اور شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی (یعنی میدان) میں بھٹکتے پھرتے ہیں؟
اور بے شک وہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں ہیں
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور یاد کیا اللہ کو کثرت سے اور بدلہ لیا بعد مظلوم ہونے کے، اور عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ وہ پلٹتے ہیں (جہنم میں)
سورۃ 27
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طس، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور روشن کتاب کی
ہدایت اور بشارت ہے (ان) مومنوں کیلئے
جو لوگ قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں
بے شک جو لوگ نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، ہم نے مزین (یعنی اچھا) کر دیا ہے ان کے لیے ان کے اعمال کو تو وہ بھٹکتے رہتے ہیں
یہی ہیں جن کیلئے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں خسارہ میں ہوں گے
اور بے شک تم کو دیا جا رہا ہے قرآن حکمت والے علم والے کی طرف سے
جب کہا موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہ میں نے محسوس کی ہے آگ، جلد ہی میں لے کر آتا ہوں وہاں سے تمہارے لئے کوئی خبر، یا لے کر آتا ہوں کوئی سلگتا ہوا انگارہ تاکہ تم تاپ سکو
پھر جب آئے موسیٰ وہاں تو ندا (یعنی آواز) دی گئی کہ برکت دی گئی ہے جو آگ میں (خدا کا نور) ہے اور جو اس کے آس پاس ہیں (فرشتے) اور اللہ پاک ہے جو تمام جہان کا رب ہے
اے موسیٰ! بے شک میں اللہ ہوں زبردست حکمت والا
اور ڈال دو اپنی لاٹھی تو جب دیکھا اسے کہ اس طرح چل رہی ہے گویا سانپ ہو، تو بھاگا پیٹھ پھیر کر اور مڑ کر بھی نہ دیکھا، اے موسیٰ! ڈرو مت، بیشک ڈرا نہیں کرتے میرے پاس رسول
مگر جس نے ظلم کیا پھر بدل دیا (اس برائی کو) اچھائی سے، تو بے شک میں مغفرت کرنے والا بہت مہربان ہوں
ڈالو اپنا ہاتھ اپنے بغل میں نکلے گا وہ (ہاتھ) سفید ہو کر بے عیب، یہ نو نشانیاں فرعون اور اس کی قوم کی طرف (لے کر جاؤ) بیشک وہ لوگ فاسق (یعنی بدکار) ہیں
پھر جب آئیں ان کے پاس ہماری نشانیاں آنکھیں کھولنے والی، تو کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے
اور انہوں نے انکار کر دیا ان (نشانیوں) کا ظلم اور تکبر سے، حالانکہ یقین ہو گیا تھا ان کے دل کو، تو دیکھو کیسا ہوا انجام فسادیوں کا؟
اور ہم نے عطا کیا تھا داؤد اور سلیمان کو علم، اور ان دونوں نے کہا تمام تعریف اللہ کیلئے ہے جس نے ہمیں فضیلت دی بہت سے اپنے مومن بندوں پر
اور وارث ہوا سلیمان داؤد کا، اور کہا اے لوگو ہمیں سکھائی گئی ہے پرندوں کی بولی، اور ہمیں عطا کی گئی ہے ہر چیز، بے شک یہ کھلا فضل ہے
اور جمع کئے جاتے تھے سلیمان کے پاس اس کے لشکر جن اور انسان اور پرندے، پھر ان کی جماعتیں بنائی جاتیں
یہاں تک کہ جب وہ آئے ایک وادی پر چیونٹیوں کی ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ اپنی بلوں میں، کہیں روند نہ ڈالیں تمہیں سلیمان اور اس کی فوجیں اور انہیں معلوم بھی نہ ہو
تو مسکرا کر ہنس پڑے اس کی بات سے، اور کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیری نعمت کا، جو تو نے انعام کیا مجھ پر اور میرے ماں باپ پر، اور یہ کہ میں صالح عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور داخل کر مجھے اپنی رحمت سے اپنے بندوں میں جو نیک ہیں
اور (سلیمان) نے پایا ایک پرندے کو تو کہا کیا بات ہے کہ میں نہیں دیکھتا ہدہد کو کیا وہ غائب ہے؟
میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا یا لے کر آئے وہ میرے پاس کوئی کھلی دلیل
پھر تھوڑی دیر بعد (ہدہد حاضر ہوا) تو کہا کہ میں نے اس خبر کا احاطہ کیا ہے جس کا احاطہ آپ کو نہیں، اور میں لے کر آیا ہوں آپ کے پاس قوم سبا سے ایک یقینی خبر
میں نے پایا ایک عورت کہ (جو) ملکہ ہے ان کی، اور عطا کی گئی ہے اسے ہر چیز، اور اس کا تخت بہت بڑا ہے
میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم (کے لوگ) سجدہ کرتے ہیں سورج کو اللہ کے سوا، اور مزین کر دیا ہے ان کیلئے شیطان نے ان کے اعمال کو، اور روک دیا ہے انہیں (اللہ کے) راستہ سے تو وہ ہدایت یافتہ نہیں
وہ کیوں سجدہ نہیں کرتے اللہ کو؟ وہی ہے جو نکالتا ہے چھپی ہوئی چیزوں کو آسمانوں اور زمین سے، اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ رب ہے عرش عظیم کا
(سلیمان نے) کہا ہم دیکھتے ہیں کہ کیا تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹوں میں سے ہے؟
لے جاؤ میرا یہ خط اور ڈال دو ان کی طرف پھر پلٹ آؤ ان کی طرف سے اور دیکھو وہ کیا (جواب) لے کر لوٹتے ہیں
(بلقیس) بولی اے درباریو! ڈالا گیا ہے میری طرف ایک مکرم خط
بیشک یہ (خط) سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ (شروع) ہے، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے
کہ تکبر نہ کرو میرے سامنے اور آؤ میرے پاس فرمانبردار بن کر
بولی اے درباریو! مشورہ دو مجھے میرے معاملے میں، میں نہیں لیتی فیصلہ کسی معاملے میں جب تک تم شریک نہ ہو
کہا (درباریوں نے) ہم طاقتور اور جنگجو لوگ ہیں، اور معاملہ تمہارے سامنے ہے، تو تم غور کرو کہ تمہیں کیا حکم کرنا ہے
(بلقیس) بولی بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے فساد زدہ کر دیتے ہیں، اور کرتے ہیں وہاں کے عزت دار کو ذلیل، اور اسی طرح وہ بھی کریں گے
اور میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ پھر دیکھتی ہوں کہ کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں قاصد (یعنی بھیجے گئے لوگ)
پھر جب آیا (قاصد) سلیمان کے پاس فرمایا کیا تم میری مدد کرنا چاہتے ہو مال سے، تو جو عطا کیا ہے مجھے اللہ نے اس سے بہتر ہے جو تمہیں عطا کیا ہے، بلکہ اپنے ہدیے سے تم ہی خوش رہو
لوٹ جاؤ ان کی طرف ہم لے کر آئیں گے ان پر ایسی فوج جن کا وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے، اور ہم ضرور نکالیں گے انہیں وہاں سے ذلیل کر کے اور وہ ذلیل ہوں گے
کہا اے درباریو! تم میں کون ہے جو لے کر آئے میرے پاس اس کا تخت، اس سے پہلے کہ وہ آئیں میرے پاس فرمانبردار ہو کر؟
کہا جنوں میں سے ایک عفریت (دیو جن) نے، میں لاؤں گا آپ کے پاس اسے قبل اس کے کہ آپ کھڑے ہوں اپنی جگہ سے، اور بے شک میں اس پر قوت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں
(آصف بن برخیا نے) کہا جس کے پاس کتابی علم تھا، میں لاؤں گا آپ کے پاس اسے قبل اس کے کہ جھپکیں آپ کی پلکیں، پھر جب دیکھا اسے موجود اپنے پاس، تو کہا یہ میرے رب کا فضل ہے، تاکہ وہ آزمائے مجھے کہ کیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شخص شکر کرتا ہے اپنے لئے ہی شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بھی بے پروا عزت والا ہے
کہا بدل دو اس کے (پہچاننے) لیے اس کے تخت کو، ہم دیکھیں کیا وہ پہچان پاتی ہے یا انہیں میں ہوتی ہے جو پہچان نہیں رکھتے
تو جب (بلقیس) آئی، کہا گیا کیا اسی طرح کا تخت ہے تمہارا؟ کہنے لگی گویا کہ یہ وہی ہے، اور ہمیں تو معلوم ہو گیا تھا اس سے پہلے ہی اور ہم ہو چکے ہیں فرمانبردار
اور روک دیا (سلیمان نے) اسے ان سے جن کی وہ عبادت کرتی تھی اللہ کے علاوہ، بے شک وہ کافروں میں سے تھی
اسے کہا گیا داخل ہو جاؤ اس محل میں تو جب دیکھا اس (حوض) کو گمان کیا اسے پانی سے بھرا ہوا حوض، اور کھول لیں اپنی پنڈلیاں، کہا (سلیمان نے) یہ محل جڑا ہوا ہے شیشے سے کہنے لگی اے میرے رب! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور میں مسلمان ہوتی ہوں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کیلئے
اور یقینا ہم نے بھیجا ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو کہ عبادت کرو اللہ کی، تو جب ہی وہ آپس میں دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے
کہا اے میری قوم! کیوں تم جلدی کرتے ہو برائی کے لئے بھلائی سے پہلے (کہ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو) کیوں نہیں مغفرت مانگتے اللہ سے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے
کہا ہم منحوس سمجھتے ہیں تم کو (اے صالح) اور تمہارے ساتھ والوں کو، کہا تمہاری نحوست اللہ کی طرف سے ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو
اور اس شہر میں نو سردار تھے جو فساد کرتے تھے زمین میں اور اصلاح نہیں کرتے تھے
(سرداروں نے) کہا قسم کھاؤ آپس میں اللہ کی کہ ہم رات میں حملہ کریں گے اس پر اور اس کے گھرانے پر، پھر ہم کہیں گے اس کے گھرانے سے کہ ہم شریک نہیں اس کے گھرانے کی ہلاکت میں اور ہم سچے ہیں
اور انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی تدبیر کی، اور وہ سمجھ نہ سکے
تو دیکھو کیا ہوا انجام ان کے مکر کا (نتیجہ یہ کہ) بیشک ہم نے ہلاک کر دیا انہیں اور ان کی ساری قوم کو
تو یہ ان کے گھر ہیں جو ویران ہیں ان کے ظلم کے سبب، بے شک اس میں نشانی ہے جاننے والوں کے لیے
اور ہم نے نجات دی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا
اور لوط نے جب کہا اپنی قوم سے، کیا تم فحش کرتے ہو جب کہ تم سمجھ دار (لوگ) ہو
کیا تم آتے ہو مردوں کے پاس شہوت کیلئے عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم جاہل لوگ ہو