پاک ہے وہ ذات (اللہ رب العزت کی) جس نے راتوں رات سیر کرائی اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے، تاکہ ہم دکھائیں اسے اپنی کچھ نشانیاں، بیشک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے
سورۃ 17
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اور ہم نے دی موسیٰ کو کتاب، اور ہم نے بنایا اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لئے، کہ نہ بناؤ میرے سوا کسی کو وکیل (یعنی کارساز)
یہ (بنی اسرائیل) اولاد ہیں ان کی جنہیں ہم نے سوار کیا تھا نوح کے ساتھ، بیشک وہ (نوح) شکرگزار بندہ تھا
اور ہم نے فیصلہ کیا تھا بنی اسرائیل کیلئے ان کی کتاب (تورات) میں کہ تم ضرور فساد کروگے زمین (یروشلم) میں دو مرتبہ، اور بڑی سرکشی کرو گے
پھر جب آیا ان دو میں کا پہلا وعدہ تو ہم نے بھیجے تم پر اپنے سخت جنگجو بندے (بابل کے بادشاہ بخت نصر) کو تو وہ گھس گئے تمہارے گھروں میں، اور اللہ کا وعدہ ہو کر رہا
ہم نے پلٹ دی تمہاری باری ان (دشمنوں) پر، اور ہم نے مدد دی تمہیں مال اور اولاد کے ذریعے، اور ہم نے بنایا تمہیں کثیر تعداد والا
(اے بنی اسرائیل) اگر تم نے بھلائی کی (تو) تم نے اپنے لئے کی، اور اگر برائی کی تو وہ بھی اسی کیلئے ہے، پھر جب آیا دوسرا وعدہ، تاکہ وہ برے کردیں تمہارے چہروں کو، اور داخل ہوجائیں مسجد میں جس طرح پہلی بار داخل ہوئے تھے، اور تاکہ وہ تباہ و برباد کردیں اچھی طرح
ممکن ہے تمہارا رب رحم کردے تم پر، اور اگر تم لوٹ کر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریں گے، اور ہم نے بنایا ہے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ
بیشک یہ قرآن وہ راہ بتاتا ہے جو قائم ہے (یعنی سیدھا ہے) اور بشارت دیتا ہے ان مؤمنین کو جو صالح عمل کرتے ہیں بیشک ان کے لئے اجر کبیر (یعنی بڑا اجر) ہے
اور بےشک جو لوگ نہیں ایمان لاتے آخرت پر، ہم نے تیار کیا ہے ان کے لیے دردناک عذاب
اور مانگتا ہے (تکلیف اور مصیبت میں) انسان برائی جس طرح وہ بھلائی مانگتا ہے، اور انسان جلد باز ہے (کیوں کہ وہ بد دعا کرنے لگتا ہے)
اور ہم نے بنادی ہیں رات اور دن کی دو نشانیاں، پھر ہم مٹا دیتے ہیں رات کی نشانی کو اور ہم بنا دیتے ہیں دن کی نشانی کو روشن، تاکہ تم تلاش کرو فضل اپنے رب کا اور تاکہ تم معلوم کرسکو سالوں کی اور حساب کی گنتی، اور ہم نے ہر چیز کی خوب تفصیل کر دی ہیں (آخرت کی تیاری کیلئے)
اور ہر انسان کے ہم نے لگا دیا ہے اسکا نامہء اعمال اسکی گردن میں، اور ہم نکالیں گے اسے قیامت کے دن کتاب کی شکل میں، وہ پالے گا اسے کھلا ہوا
پڑھ لو اپنا نامہء اعمال کافی ہے تو خود آج اپنے حساب کے لئے
(اے انسان یاد رکھو) جو ہدایت پائے گا وہ اپنے لئے ہی پائے گا، اور جو گمراہ ہوا تو وہ گمراہی اسی پے ہے، اور کوئی بوجھ نہ اٹھائے گا کسی دوسرے کا، اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ ہم بھیج نہ دیں کسی رسول کو
اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں ہلاک کرنے کا کسی بستی کو، تو ہم حکم دیتے ہیں وہاں کے عیش پسند لوگوں کو فسق (یعنی نافرمانی) کریں اس میں، تو حق ہو جاتا ہے ان پر قول (عذاب کا) پھر ہم اسے تباہ کر دیتے ہیں اچھی طرح
اور کتنی قوموں کو ہم نے ہلاک کئے نوح کے بعد، اور کافی ہے تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا
جو چاہتا ہے دنیا تو ہم جلد دیتے ہیں اسے اس میں سے جو ہم چاہتے ہیں جس کیلئے ارادہ کرتے ہیں پھر ہم نے بنا رکھا ہے اس کے لئے جہنم، وہ داخل ہو گا اسمیں ذلیل و خوار ہو کر
اور جو چاہتا ہے آخرت اور اس کے لئے سعی (یعنی کوشش) بھی کرتا ہے اور وہ مؤمن بھی ہے، تو ان کی یہ سعی مشکور (یعنی قدر کے قابل) ہے
ہر ایک کو ہم مدد دیتے ہیں ان (یعنی مؤمنوں) کو بھی اور ان (یعنی کافروں) کو بھی تیرے رب کی عطا سے، اور نہیں ہے تیرے رب کی عطا میں کوئی رکاوٹ
دیکھو ہم نے کیسی فضیلت دی ہے ایک کو دوسرے پر اور آخرت کے درجات بہت بڑے ہیں اور بہت بڑی فضیلت ہے
نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، ورنہ تم بیٹھ جاؤگے ذلیل (اور) رسوا ہو کر
اور فیصلہ ہے تیرے رب کا کہ عبادت نہ کرو اس کے سوا کسی کی، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور اگر پہونچ جائیں تیرے سامنے بڑھاپے کو ان میں سے ایک یا دونوں، تو نہ کہو ان دونوں کو اف بھی، اور نہ جھڑکوانہیں اور ان دونوں سے کریم (یعنی نرم) بات کرو
اور جھکائے رکھنا ان دونوں کے سامنے بازو عاجزی سے محبت بھری، اور کہو اے میرے رب! رحم فرما ان دونوں پر جس طرح دونوں نے تربیت کی میری بچپن میں
تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے، اگر تم صالح (یعنی نیک) ہوگے تو بیشک وہ (اللہ) توبہ کرنے والوں کی مغفرت کرتا ہے
اور دے دو رشتے داروں کو ان کا حق اور مسکین اور مسافر کو بھی، اور بے جا (یعنی فالتو) خرچ نہ کرو
بیشک بے جا خرچ کرنے والے ہوتے ہیں شیطانوں کے بھائی، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے
اور اگر تجھے اعراض کرنا پڑے ان (رشتے داروں) سے تو تم چاہت رکھو رحمت کی اپنے رب کی (کہ اللہ دے تو ہم تمہیں دیں گے) اور کہو ان سے نرم بات
اور نہ بناؤ اپنے ہاتھ کو بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دو، پھر تم بیٹھ جاؤگے ملامت زدہ گھبراہوا ہو کر (یعنی نہ بخل کرو نہ فالتو خرچ)
بیشک تیرا رب کشادہ (یعنی زیادہ) کرتا ہے رزق جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر دیکھنے والا ہے
اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے ہم رزق دیتے ہیں انہیں بھی اور تمہیں بھی، بیشک ان کا قتل کرنا بڑی خطا ہے (اللہ کے نزدیک)
اور نہ قریب جاؤ زنا کے، بیشک وہ فحش اور برا راستہ ہے
اور مت قتل کرو کسی شخص کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ (جیسے جنگ میں) اور جو قتل کیا گیا وہ مظلوم ہے تو ہم نے بنایا ہے اس کے ولی کو بااختیار تو حد سے نہ بڑھو قصاص (یعنی قتل کا بدلہ لینے) میں بیشک اس (مظلوم) کی مدد کی جانی چاہئے
اور نہ قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر بہتر طریقے سے، یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے (تو اس کا مال لوٹا دو) اور پورا کرو عہد، بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا
اور پورا کرو ناپ کو جب تم ناپو اور وزن بھی کرو صحیح ترازو سے، یہ بہتر کام ہے اور بہتر انجام ہے (اس کا)
اور (یہ بھی یاد رکھو) پیچھے نہ پڑو (اس بات کے) جس کا نہ ہو تمہیں علم، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا (تم سے قیامت کے دن)
اور نہ چلو زمین پر اترا کے (تکبر سے) بیشک تو ہرگز نہیں پھاڑ سکتا زمین کو اور تو ہرگز نہیں پہونچ سکتا پہاڑوں کی لمبائی کو
یہ سارے کام تمہارے رب کے پاس برے اور ناپسندیدہ ہیں
یہ (وہ حکمت ہے) جو وحی کے ذریعے بتائی ہے تجھے تیرے رب نے (یہ) حکمت میں سے ہے، اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ورنہ تو ڈال دیا جائے گا جہنم میں ملامت زدہ کر کے دھکیل کر
کیا چن کر دئے ہیں تمہیں تمہارے رب نے بیٹے، اور بنا لیا ہے فرشتوں کو بیٹیاں (اللہ کی پناہ) بیشک تم بڑی بات کہہ رہے ہو (اے کفار مکہ)
اور یقینا ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اس قرآن میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (پھر بھی) اور انہیں کچھ زیادہ نہیں ہوتا نفرت کے سوا
کہہ دو اگر اس کے ساتھ ہوتے معبود جیسا یہ کہتے ہیں، جب تو وہ تلاش لیتے عرش والے کی طرف کوئی راستہ
وہ پاک ہے، اور اعلی ہے اس سے جو یہ کہتے ہیں (کہ فرشتے بیٹیاں ہیں) بہت بلند و برتر ہے (اللہ کی ذات)
تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے، اور جو بھی چیز ہے وہ تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ، اور لیکن تم نہیں سمجھتے ان (تمام مخلوق) کی تسبیح کو، بیشک وہ (اللہ) بردبار مغفرت کرنے والا ہے
اور جب تم پڑھتے ہو قرآن تو ہم ڈال دیتے ہیں تمہارے اور ان (کفار) کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک چھپا ہوا پردہ
اور ڈال دئے ہیں ہم نے ان کے دلوں پر پردے، تاکہ وہ اس (قرآن) کو نہ سمجھیں، اور ان کے کانوں میں پردہ ہے، اور جب تم ذکر کرتے ہو صرف اپنے رب کا قرآن میں تو وہ پلٹ جاتے ہیں اپنی ایڑیوں کے بل نفرت سے
ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں، جب یہ لوگ تیری طرف کان لگاتے ہیں، اور جس وقت آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ اگر تم اتباع کرو گے (نبی کی) تو ایک جادو کیا ہوا شخص کی اتباع کرو گے
دیکھو کیسی انہوں نے بیان کیں تمہاری مثالیں، تو وہ گمراہ ہو گئے پھر وہ طاقت نہیں رکھتے کسی راستے کی
اور (کفار) کہتے ہیں کیا جب ہم ہڈیاں اور چورہ ہو جائیں گے، کیا ہم اٹھائے جائیں گے جدید (یعنی نئی) مخلوق بناکر
(اے نبی) کہہ دو تم ہوجاؤ پتھر یا لوہا
یا کوئی اور مخلوق جس کو تم بڑا سمجھتے ہو اپنے دلوں میں، تو جلد ہی (یہ کفار) کہیں گے کون لوٹائے گا ہمیں دوبارہ، کہہ دو وہی جس نے پیدا کیا تمہیں پہلی مرتبہ، تو جلد ہی ہلائیں گے تمہاری طرف اپنے سروں کو اور کہیں گے، کہ کب ہو گا وہ؟ کہہ دو ممکن ہے کہ وہ (قیامت) قریب ہی ہے
اس دن وہ پکارے گا تمہیں تو تم (چلے آؤ گے) قبول کرتے ہوئے اس کی حمد، اور تم گمان کروگے کہ قلیل (یعنی کم) مدت تم ٹھہرے (دنیا میں)
اور کہہ دو میرے بندوں سے کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو، بیشک شیطان جھگڑا ڈالتا ہے (لوگوں کے درمیان) آپس میں، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
تمہارا رب خوب جانتا ہے تمہیں اگر وہ چاہے تو رحم کرے تم پر، اور اگر وہ چاہے تو عذاب دے تمہیں، اور ہم نے نہیں بھیجا ہے تم کو ان پر وکیل (یعنی ذمے دار) بناکر
اور (اے نبی) تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں، اور ہم نے فضیلت دی ہے بعض نبی کو بعض پر، اور ہم نے عطا کی تھی داؤد (علیہ السلام) کو زبور
کہہ دو (کافروں سے) تم پکارو جن پر تمہارا گمان ہے اس (اللہ) کے سوا، تو وہ نہیں ہیں مالک کہ دور کرسکیں تمہاری تکلیف اور نہ اسے بدل سکتے ہیں
یہ (کفار) جن (فرشتوں اور بزرگوں) کو پکارتے ہیں وہ خود تلاشتے ہیں اپنے رب کا وسیلہ کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہو جائے (اللہ کے) اور وہ امید رکھتے ہیں اسکی رحمت کی، اور ڈرتے ہیں اسکے عذاب سے، بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے
اور ایسے (نافرمانوں کی) جو بھی بستی ہے ہم ہلاک کردیں گے اسے قیامت سے پہلے، یا اسے سخت عذاب دیں گے، یہ بات کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی ہے
اور ہم نے اس لئے منع کر دیا ہے بھیجنا معجزے کا، کہ ان (معجزوں) کو جھٹلایا تھا پہلوں نے، اور ہم نے عطا کیا تھا ثمود کو اونٹنی کا کھلا معجزہ، تو انہوں نے ظلم کیا اس (اونٹنی) پر، اور ہم بھیجتے ہیں معجزے خوف دلانے کے لئے (نہ کہ فرمائش پے)
اور جب ہم نے کہا تم سے کہ بیشک تمہارے رب نے احاطہ کر رکھا ہے لوگوں کا، اور ہم نے بنا دیا اس خواب کو جو ہم نے تمہیں دکھایا (معراج کا واقعہ) فتنہ لوگوں کیلئے اور شجر ملعونہ (کہ جہنم میں درخت؟) کو بھی (جس کا ذکر) قرآن میں ہے اور ہم خوف دلاتے ہیں انہیں تو ان کی سرکشی اور زیادہ ہو جاتی ہے
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو انہوں نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے کہا کیا میں سجدہ کروں (ایسے شخص کو) جسے تو نے پیدا کیا ہے مٹی سے
کہا (شیطان نے) کیا خیال ہے تمہارا یہ جسے تو نے مکرم کیا ہے مجھ پر، اگر تو نے مہلت دی مجھے قیامت کے دن تک، تو میں ضرور قابو میں کرلوں گا اسکی اولاد کو مگر تھوڑے ہی بچیں گے
فرمایا تم جاؤ (اب دنیا میں) تو جو کوئی اتباع کرے گا تیری ان میں سے تو بیشک جہنم تمہارا بدلہ ہے (اور) بدلہ پورا ملے گا
اور بہکالو جتنی طاقت ہے تمہیں ان میں سے اپنی آواز کے ذریعے، اور دوڑالو ان پر اپنے سوار اور پیادے (یعنی لشکر) کو، اور شریک ہو جاؤ ان کے مالوں اور اولاد میں، اور وعدہ کرلو ان سے، اور ان سے شیطان کا وعدہ صرف دھوکا ہے
بیشک میرے بندوں پر نہیں چلے گا تمہارا کوئی زور اور کافی ہے تیرا رب کارساز
تمہارا رب وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے لئے کشتیاں دریا میں، تاکہ تم تلاش کرو اس کا فضل بیشک وہ تم پر بڑا مہربان ہے
اور جب پہونچتی ہے تمہیں کوئی مصیبت دریا میں تو وہ بھول جاتے ہیں تم کو جنہیں تم پکارتے تھے اللہ کے سوا پھر جب وہ (خدا) نجات دیتا ہے تمہیں خشکی کی طرف، تو تم اعراض کرنے لگتے ہو، اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے
تو کیا تم بےخوف ہوگئے کہ وہ دھنسا دے تمہیں خشکی کی جانب لاکر (زمین میں) یا بھیج دے تم پر پتھروں کی بارش، پھر تم نہ پاؤگے اپنے لئے کسی کو وکیل (یعنی مددگار)
یا تم بےخوف ہو گئے کہ وہ لوٹا لائے دوبارہ تمہیں اس (دریا) میں، پھر بھیج دے تم پر ہوا کا طوفان، پھر (اللہ) غرق کر دے تمہیں تمہارے کفر کیوجہ سے پھر تم نہ پاؤگے اپنے لئے ہم پر کوئی پیچھا کرنے والا
اور ہم نے مکرم بنایا آدم کی اولاد کو، اور سواری دی انہیں خشکی اور دریا میں اور ہم نے رزق دیا انہیں پاک چیزوں میں سے، اور ہم نے بہت بڑی فضیلت دی انہیں اپنی بہت ساری مخلوق پر
(یاد کرو اس دن کو) جس دن ہم بلائیں گے ہر شخص کو ان کے امام (یعنی سردار) کے ساتھ، تو جسے دیا جائے گا اس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں، تو وہ پڑھیں گے اپنا اعمال نامہ، اور نہ ظلم کیا جائے گا ان پر ذرہ برابر
اور جو کوئی اس (دنیا) میں اندھا رہا (دین سے) تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا، اور بہت گمراہ ہو گا راستے سے
اور قریب تھا کہ یہ (کفار) بہکا دیں تجھے ان وحی کے بارے میں جو ہم نے کی تیری طرف، تاکہ تو گھڑ لے ہم پر غیر اللہ کو، پھر تو وہ تجھے اپنا دوست بنا لیں گے
اور اگر ہم نہ رکھتے ثابت قدم تجھے، تو قریب تھا کہ تو جھک جاتا ان کی طرف کچھ نہ کچھ تھوڑا
پھر ہم چکھاتے تجھے زندگی میں اور موت کے بعد دہرا عذاب کا مزہ، پھر تو نہ پاتا اپنے لئے ہماری طرف سے کوئی مددگار (دنیا اور آخرت میں)
اور قریب تھا کہ یہ (کفار) اکھاڑ دیتے تجھے اس زمین (مکہ) سے تاکہ وہ نکالیں تجھے اس سے، پھر وہ بھی نہ ٹھہر پاتے تمہارے پیچھے مگر تھوڑے دن
یہی طریقہ رہا ہے جو بھی ہم نے بھیجے ہیں تم سے پہلے اپنے رسول (ان کا بھی) اور تم نہیں پاؤ گے ہمارے طریقوں میں کوئی تبدیلی
نماز قائم کرو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور فجر کی نماز میں قرآن پڑھنا بھی، بیشک فجر کی نماز میں قرآن پڑھنے میں مجمع ہوتا ہے (فرشتوں کا)
اور رات میں تہجد پڑھا کرو جو نفل (یعنی زائد) عبادت ہے تیرے لئے قریب ہے پہونچا دے تجھے تیرا رب مقام محمود (یعنی شفاعت کے مقام) میں
اور کہو اے میرے رب مجھے داخل کر (مدینے میں) اچھائی کے ساتھ، اور مجھے نکال (مکہ سے) اچھائی کے ساتھ، اور بنادے میرے لئے اپنی طرف سے غلبہ اور مددگار
اور کہہ دو کہ آگیا حق (فتح مکہ کے طور پے اسلام کا غلبہ) اور مٹ گیا باطل بیشک باطل مٹنے ہی والا تھا
اور ہم نازل کرتے ہیں قرآن میں (ایسی چیزیں) کہ وہ شفاء اور رحمت ہیں مؤمنوں کیلئے، اور نہیں ہے ظالموں کے لیے مگر خسارہ (اس قرآن سے)
اور جب ہم انعام کرتے ہیں انسان پر تو وہ اعراض کرتا ہے، اور پہلو تہی کرتا ہے (یعنی لوگوں سے بچتا ہے) اور جب پہونچتی ہے اسے کوئی تکلیف (تو) ناامید ہو جاتا ہے
کہہ دو کہ ہر شخص عمل کرتا ہے اپنے طریقے پر، اور تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہے زیادہ سیدھی راہ پر
اور (کفار) سوال کرتے ہیں تجھ سے روح کے بارے میں، کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے، اور تمہیں علم تھوڑا عطا کیا گیا ہے (اسلئے روح کی حقیقت نہیں جان سکتے)
اور اگر ہم چاہیں تو چھین لیں جو کچھ ہم نے وحی کی ہے تیری طرف، پھر تو نہ پائے گا اپنے لئے ہماری طرف سے کوئی وکیل
مگر یہ رحمت ہے تیرے رب کی، بیشک اس کا فضل بہت بڑا ہے تجھ پر
(اے نبی) کہہ دو اگر جمع ہو جائیں تمام انسان اور جنات (اس کام) پر کہ لے آئیں اس طرح کا قرآن، تو وہ نہیں لا سکتے اس جیسا، اور اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو جائیں
اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کر دی ہیں لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال، پھر بھی انکار کرتے ہیں اکثر لوگ اور ناشکری کرتے ہیں
(کافروں نے) کہا ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے تم پر یہاں تک کہ تو جاری کر دے ہمارے لئے زمین میں کوئی چشمہ (بطور معجزہ)
یا ہو تیرے لئے کوئی باغ کھجور اور انگور کا، اور تو جاری کر دے نہریں اس (باغ) کے بیچ سے
یا گرا دے آسمان سے ہم پر جیسا تمہارا گمان ہے (عذاب کا) کوئی ٹکڑا یا تو لے آ اللہ اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے
یا ہو تیرے لئے کوئی گھر سونے کا، یا تو چڑھ جا آسمان میں (پھر بھی) ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے تیرے چڑھنے پر بھی، یہاں تک کہ تو نازل کر دے ہم پر کوئی ایسی کتاب جسے ہم پڑھ سکیں، کہہ دو میرا رب پاک ہے میں تو صرف ایک بشر اور رسول ہوں
اور نہیں منع ہے لوگوں کو کہ ایمان لائیں، جب کہ آگئی ان کے پاس ہدایت (اس چیز نے روکا) کہ کہنے لگے کیا اللہ نے بھیجا ہے آدمی کو رسول بناکر؟
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دو اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اطمینان سے، تو ہم یقیناً نازل کر دیتے ان پر آسمان سے فرشتہ ہی رسول بناکر
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دو کہ کافی ہے اللہ گواہ میرے اور تمہارے درمیان، بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر دیکھنے والا ہے
اور جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت والا ہے، اور جسے گمراہ کر دے تو تم ہرگز نہ پاؤ گے ان کے لئے کوئی دوست اللہ کے سوا اور ہم جمع کریں گے انہیں قیامت کے دن ان کے منہوں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے بناکر، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب بھی بجھنے لگے گی (آگ) تو ہم زیادہ ان پر اور بھڑکا دیں گے
یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ انہوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا، اور کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور چورہ ہو جائیں گے تو ہم اٹھائے جائیں گے نئی مخلوق بناکر
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، وہ قادر ہے کہ پیدا کرے ان جیسے، اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک نہیں، تو بھی ظالموں نے انکار کیا (اور) صرف ناشکری کی
کہہ دو (ان کافروں سے) اگر تم مالک ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے کا، تو تم روک لیتے خرچ کے ڈر سے، اور انسان بڑا تنگ دل ہے
اور یقینا ہم نے عطا کیں موسی کو نو کھلی نشانیاں، تو (اے نبی) تم پوچھ لو بنی اسرائیل سے جب آئے موسی ان کے پاس تو کہا ان سے فرعون نے، میں گمان کرتا ہوں تجھے اے موسی کہ تو جادو کیا ہوا شخص ہے
کہا (موسی نے) یقینا تمہیں معلوم ہے کہ نازل کیا ہے ان (معجزوں) کو آسمانوں اور زمین کے رب نے نصیحت کیلئے، اور بیشک میں گمان کرتا ہوں تجھے اے فرعون کہ تو ہلاک ہو نیوالا ہے
پھر اس نے ارادہ کیا کہ نکال دے انہیں (اس مصر کی) زمین سے، تو ہم نے غرق کر دیا اسے اور اس کے ساتھ کے سب کو
اور ہم نے کہا اس (واقعے) کے بعد بنی اسرائیل سے کہ تم ٹھہرو (اس مصر کی) زمین میں، پھر جب آئے گا آخرت کا وعدہ، ہم لے آئیں گے تمہیں سمیٹ کر
اور حق کے ساتھ ہم نے نازل کیا ہے اس (قرآن) کو، اور حق کے ساتھ یہ نازل ہوا، اور ہم نے بھیجا ہے تجھے بشارت دینے اور ڈرانیوالا بناکر
اور ہم نے قرآن کو تھوڑا کر کے اتارا تاکہ تم پڑھو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر اور ہم نے نازل کیا ہے اسے آہستہ آہستہ
کہہ دو (کافروں سے) کہ تم ایمان لاؤ اس پر یا نہ لاؤ، بیشک جنہیں علم دیا گیا ہے اس سے پہلے (کی کتاب کا) جب تلاوت کی جاتی ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں تھوڑیوں (یعنی منہ) کے بل سجدے میں
اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب بیشک ہمارے رب کا وعدہ ہو کر رہے گا
اور وہ گر جاتے ہیں تھوڑیوں کے بل روتے ہوئے، اور زیادہ ہو جاتی ہے ان کی عاجزی
(اے نبی) کہہ دو (ان کفار سے) کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو، جس نام سے بھی پکارو سب اسی کے بہتر نام ہیں، اور نہ چلا کر پڑھو اپنی نماز کو اور نہ بالکل ہی آہستہ اور (بلکہ) تم تلاشو درمیانی راستہ
اور کہہ دو سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے نہیں بنائی ہے کوئی اولاد اور نہ کوئی شریک ہے اس کی سلطنت میں، اور نہ کوئی مددگار ہے اس کا کمزوری کی وجہ سے، اور خوب خوب اس کی تکبیر بیان کرو
سورۃ 18
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمام تعریف اللہ کے لئے ہیں جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں بنائی اس میں کوئی کجی (یعنی ٹیڑھا پن)
قائم ہے (یہ کتاب قرآن) تاکہ ڈرائے (نبی) سخت عذاب سے اس (خدا) کی طرف سے، اور بشارت دے مؤمنین کو جو نیک عمل کرتے ہیں، بےشک ان کے لئے اجر حسنہ (یعنی اچھا بدلہ) ہے
(مؤمنین) ٹھہریں گے اس (جنت) میں ہمیشہ
اور ڈرائیں (ان کو) جو کہتے ہیں کہ بنالی ہیں اللہ نے اولاد
نہیں ہے انہیں اس کا کوئی علم، اور نہ ان کے باپ دادا کو، بہت بڑی بات نکالی انہوں نے اپنے منہوں سے (کہ اللہ کو اولاد ہے) وہ تو صرف جھوٹ کہتے ہیں
تو (اے نبی) کیا تم ہلاک کر لوگے اپنی جان ان کے پیچھے، اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو اس بات پر افسوس کرتے ہوئے
بیشک ہم نے بنایا ہے جو زمین پر ہے وہ اس (زمین) کی زینت ہے، تاکہ ہم آزمائیں انہیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرتا ہے
اور بیشک ہم بنانے والے ہیں جو کچھ اس پر ہے (سب کو) چٹیل میدان
کیا تم گمان کرتے ہو کہ بیشک اصحاب کہف اور رقیم (بستی) والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب (لوگ) تھے
جب پناہ لیں چند جوانوں نے غار میں، پھر کہا اے ہمارے رب! عطا کر ہم پر اپنی طرف سے رحمت، اور آسان کر دے ہمارے لئے ہمارے معاملے کو کامیابی کے ساتھ
پھر ہم نے ماری (تھپکی سلانے کے لیے) ان کے کانوں پر غار میں کئی سال تک کیلئے
پھر ہم نے اٹھایا انہیں تاکہ ہم معلوم کریں کہ دو گروہوں میں سے کون (لوگ) کتنی مدت شمار کرتے ہیں جو وہ ٹھہرے
ہم بیان کرتے ہیں تم پر ان کی خبریں برحق، بیشک وہ چند جوان تھے جو ایمان لے آئے تھے اپنے رب پر، اور ہم نے زیادہ کر دیں ان کی ہدایت
اور ہم نے مربوط (یعنی مضبوط) رکھا ان کے دلوں کو، جب وہ کھڑے ہوئے اور کہا اے ہمارے رب! تو ہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا، ہم ہرگز نہ پکاریں گے اسکے سوا کسی معبود کو (اگر ایسا کیا) تو ہم غلط بات کہیں گے
یہ ہماری قوم ہے انہوں نے بنا لئے ہیں اللہ کے سوا اور معبود، کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی کھلی دلیل، تو اس سے بڑا ظالم کون ہوگا؟ جو گھڑے اللہ پر جھوٹ
اور جب تم الگ ہو گئے ہو ان سے اور (ان سے بھی) جن کی یہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے سوا، تو پناہ لو غار میں، پھیلا دے گا تم پر تمہارا رب اپنی رحمت، اور آسان کر دے گا تمہارے لئے تمہارے معاملے کو نرمی سے
اور (اے نبی) اگر دیکھتے سورج کو جب وہ طلوع ہوتا تھا تو جھک جاتا تھا ان کے (غار کے) دائیں طرف، اور جب غروب ہوتا تھا تو کترا جاتا تھا ان کے بائیں طرف، اور وہ میدان میں تھے اس (غار) کے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے تو تم ہرگز نہ پاؤ گے اس کے لئے کوئی ولی یا ہدایت دینے والا
اور (اے نبی اگر تو دیکھتا) تو گمان کرتا انہیں جاگتا ہوا، حالانکہ وہ سو رہے ہیں، اور ہم پلٹتے رہتے ہیں انہیں دائیں اور بائیں طرف، اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے (بیٹھا) ہے چوکھٹ پر، اگر تم جھانک کر دیکھو انہیں تو پلٹ بھاگو ان سے فرار ہوکر، اور بھر جائے تم پر ان کا رعب
اور اسی طرح ہم نے اٹھایا انہیں، تاکہ وہ سوال کریں ایک دوسرے سے، کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے تم کتنی دیر ٹھہرے، انہوں نے کہا ہم ٹھہرے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، انہوں نے کہا تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنی دیر تم ٹھہرے، تو (اب) بھیجو اپنے میں سے ایک کو اپنا روپیہ دے کر اس شہر میں پھر وہ دیکھے کہ کون سا کھانا پاکیزہ ہے، تو وہ لے آئے تمہارا کھانا وہاں سے، اور انہیں چاہئے کہ ہوشیاری سے جائے، اور نہ محسوس ہو تمہارے بارے میں کسی کو
بیشک اگر وہ غلبہ پا جائیں گے تم پر تو تمہیں سنگسار کر دیں گے (پتھر مارکر) یا وہ لوٹالیں گے تمہیں اپنی ملت میں، پھر تم ہرگز فلاح نہ پاسکو گے کبھی بھی
اور اسی طرح ہم نے ظاہر کر دی ان کی خبر تاکہ (لوگ) جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے (کہ مرنے کے بعد جینا ہے) اور بیشک قیامت میں کوئی شک نہیں پھر جھگڑنے لگے لوگ آپس میں ان کے معاملے میں، تو انہوں نے کہا بنا دو ان پر ایک عمارت، ان کا رب خوب جانتا ہے انہیں، کہا ان لوگوں نے جو غلبہ رکھتے تھے اپنے معاملے میں (وقت کے بادشاہ یا وزیروں نے) کہ ہم ضرور بنائیں گے ان پر ایک مسجد
جلد ہی کہیں گے (اہل کتاب کہ) وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے، اور بعض کہیں گے پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے بن دیکھے تیر ماریں گے، اور بعض کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے کہہ دو میرا رب خوب جانتا ہے ان کی تعداد انہیں تھوڑے ہی لوگ جانتے ہیں (جیسے ان کے زمانے اور گھرانے کے لوگ) تو تم نہ جھگڑو ان کے بارے میں مگر سرسری اور نہ پوچھو ان (یہود) میں کسی سے ان (اصحاب کہف) کے بارے میں
اور ہرگز نہ کہو کسی چیز کے متعلق کہ میں کروں گا اسے کل
مگر یہ کہ ان شاء اللہ کہہ لیا کرو اور یاد کر لیا کرو اپنے رب کو جب تم بھول جاؤ، اور کہو امید ہے رہنمائی کرے گا مجھے میرا رب ایسی ہدایت کی کہ زیادہ قریب تر ہو اس ہدایت سے بھی
اور (اصحاب کہف) ٹھہرے اپنے غار میں تین سو سال اور زیادہ نو سال (تین سو نو سال)
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دو اللہ بہتر جانتا ہے جتنی مدت وہ ٹھہرے، اسی کو ہے غیب کا علم تمام آسمانوں اور زمین کا، کیا ہی بہتر وہ دیکھنے اور سننے والا ہے، اور نہیں ہے ان کے لئے اللہ کے سوا کوئی مددگار، اور وہ (اللہ) نہیں شریک ٹھہراتا اپنے حکم میں کسی کو
اور تلاوت کرو جو وحی کی گئی ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی کتاب سے، نہیں ہے کوئی بدلنے والا اس کے کلمے کو، اور تم ہرگز نہ پاؤ گے اس کے سوا کوئی پناہ
اور (اے نبی) جمائے رکھیں اپنے آپ کو ان (غریب صحابہ رضی اللہ عنہم) کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، وہ چاہتے ہیں اسکی رضاء، اور تم نہ پھیرو اپنی آنکھوں کو ان (غریبوں) سے کہ چاہنے لگو زینت (کہ سردار مسلمان ہوں دین کو فائدہ ہو) دنیوی زندگی کی، اور نہ اتباع کرو اس (امیہ بن خلف) کی جس کے دل کو ہم نے غافل کر دیا ہے اپنی یاد سے، اور اس نے اتباع کی ہے اپنی خواہش کی، اور اسکا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے
اور کہو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہے ظالموں کے لئے آگ، گھیر لیں گی انہیں اس کی قناتیں، اور اگر وہ مدد مانگیں گے تو مدد دی جائے گی اس پانی سے جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو گا، جھلسا دے گا (ان کے) چہروں کو، کیا ہی برا پینا ہو گا، اور کیا ہی بری جگہ ہو گی
(ان جہنمیوں کے علاوہ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ہم ضائع نہیں کریں گے اس کا اجر جس نے اچھے عمل کئے
پہنائے جائیں گے انہیں ان (نعمت والی جنتوں) میں سونے کے کنگن، اور وہ پہنیں گے سبز لباس باریک اور موٹے ریشم کا ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے ان میں مسندوں پر، کیا ہی بہتر بدلہ ہے، اور کیا ہی اچھی جگہ ہے (اللہ کے بندوں کیلئے)
اور بیان کرو ان کے سامنے مثال دو لوگوں کی، ان دونوں میں سے ایک کو ہم نے دو باغ دئے تھے انگور کے، اور ہم نے گھیر رکھا تھا ان دونوں باغوں کو کھجور کے درختوں سے، اور ہم نے لگا رکھی تھی ان دونوں کے درمیان بھی کھیتی
دونوں باغوں میں پھل آئے اور اس میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی، اور ہم نے جاری کی تھی ایک نہر بھی ان دونوں کے درمیان
اور آیا اس پر پھل، تو کہا اس نے اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے، کہ میں زیادہ ہوں تجھ سے مال میں، اور زیادہ معزز ہوں تعداد میں
اور وہ داخل ہوا اپنے باغ میں ظلم کرتا ہوا اپنی جان پر (تکبر میں) کہا میرا گمان نہیں کہ برباد ہو گا یہ (باغ) کبھی بھی
اور میرا گمان نہیں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے، اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو میں ضرور پاؤں گا اس سے بھی بہتر جگہ (وہاں)
کہا اس سے اس کے (دوسرے) ساتھی نے باتیں کرتا ہوا، کہ کیا تو انکار کرتا ہے اس (ذات) کا جس نے پیدا کیا تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے پھر درست کیا تجھے ایک آدمی بناکر
لیکن وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں نہیں شریک ٹھہراتا اپنے رب کے ساتھ کسی کو
اور کیوں نہیں جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں تو کہا جو چاہے اللہ وہی ہوتا ہے اور کوئی طاقت نہیں اللہ کے سوا، اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں
(اگر چاہے) تو ممکن ہے میرا رب عطا کرے مجھے تیرے باغ سے بہتر، اور بھیج دے اس (تیرے باغ) پر آفت آسمان سے، پھر وہ ہوجائے چٹیل میدان
یا ہو جائے اس کا پانی خشک تو تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے اس (پانی) کو لوٹانے کی
اور گھیر لیا گیا اس کے پھل کو (آفت کے ذریعے) تو وہ رہ گیا ملتا ہوا اپنے ہاتھوں کو اس پر جو اس نے خرچ کیا تھا اس (باغ) میں، اور وہ (باغ) گر پڑا اپنی چھتریوں پر، اور وہ کہنے لگا ہائے میری تباہی کاش میں شریک نہیں ٹھہراتا اپنے رب کے ساتھ کسی کو
اور نہ ہوئے اس کیلئے کسی جماعت کے لوگ جو اس کی مدد کرتے اللہ کے سوا، اور نہ وہ خود ہی بدلہ لے سکا
یہاں سب اختیار اللہ ہی برحق کا ہے، اسی کا ثواب بہتر ہے، اور اسی کا بدلہ بہتر ہے
اور بیان کرو ان (کفار مکہ) کے سامنے مثال دنیا کی زندگی کی وہ پانی کی طرح ہے جسے ہم نازل کرتے ہیں آسمان سے، پھر وہ مل جاتا ہے زمین کے نباتات سے (یعنی زمین کی ہریالی سے) پھر وہ ہو جاتا ہے چورہ چورہ، پھر اڑا دیتی ہیں اسے ہوائیں، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
مال اور اولاد تو زینت ہیں دنیا کی زندگی کی، اور باقی رہنے والے نیک (اور) بہتر عمل تیرے رب کے پاس ثواب کے اعتبار سے بہتر ہے، اور امید کے اعتبار سے بھی بہتر ہے
اور اس دن ہم چلائیں گے پہاڑوں کو اور تو دیکھے گا زمین کو صاف میدان اور ہم جمع کریں گے سب کو اور ہم نہیں چھوڑیں گے ان میں سے کسی کو بھی
اور وہ پیش کئے جائیں گے تمہارے رب کے سامنے صف باندھ کر یقیناً تم آگئے ہمارے پاس جیسا ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی بار، بلکہ تم نے خیال کیا تھا کہ ہم نہیں مقرر کریں گے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت
اور رکھا جائے گا اعمال نامہ پھر تو دیکھے گا مجرموں کو ڈر رہے ہوں گے جو اس میں ہے اس سے، اور کہیں گے ہائے ہماری تباہی! کیا ہو گیا ہے اس اعمال نامے کو نہیں چھوڑی اس نے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز مگر سب کو شمار کر لیا ہے، اور وہ پائیں گے جو عمل انہوں نے کئے تھے سب حاضر (یعنی موجود) اور نہیں ظلم کرے گا تیرا رب کسی پر
اور جب ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا تو نافرمانی کی اس نے اپنے رب کے حکم کی، تو کیا تم بناتے ہو اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست میرے علاوہ، اور وہ تمہارے دشمن ہیں (یاد رکھو کہ) ظالموں کے لیے کیا ہی برا بدلہ ہے
میں نے نہیں بلایا ان (جنوں) کو آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش کے وقت اور نہ خود ان کی پیدائش کے وقت، اور میں نہیں بناتا گمراہوں کو (اپنا) مددگار
اور جس دن (اللہ رب العزت) فرمائے گا کہ پکارو میرے شریکوں کو جن پر تم گمان کرتے تھے، تو وہ پکاریں گے انہیں مگر وہ نہیں جواب دیں گے انہیں، اور ہم نے بنادی ہے ان کے درمیان ہلاکت کی جگہ
اور (قیامت کے دن) دیکھیں گے مجرمین آگ کو اور گمان کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور وہ نہیں پائیں گے اس سے پھرنے کا کوئی راستہ
اور یقینا ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی ہے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر ایک (چیز کی) مثال کو، اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے (تمام طرح کی مثال کے باوجود)
اور نہیں ہے منع لوگوں کیلئے کہ وہ ایمان لائیں، جب کہ آگئی ان کے پاس ہدایت، اور استغفار کریں اپنے رب سے، مگر یہ کہ آئے ان پے پہلوں جیسا معاملہ، یا آجائے ان پے عذاب سامنے (پھر ایمان لائیں گے؟)
اور ہم تو بھیجتے ہیں رسولوں کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر، اور جھگڑا کرتے ہیں وہ لوگ جو کافر ہیں ناحق تاکہ وہ نیچا دکھائیں اس (جھگڑے) کے ذریعے حق کو اور انہوں نے بنالیا میری آیتوں کو اور جس (رسالت) سے انہیں ڈرایا گیا اسے بھی مذاق
اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا؟ جسے نصیحت کی جائے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے، تو وہ اعراض کرے اس سے، اور بھول جائے اسے جو کچھ آگے بھیجا اس کے ہاتھوں نے، بیشک ہم نے ڈال دئے ہیں ان کے دلوں پر پردہ کہ وہ نہ سمجھیں اسے، اور ان کے کانوں میں بھی پردہ ہے، اور اگر تم بلاؤ انہیں ہدایت کی طرف تو وہ ہرگز ہدایت نہ پائیں گے کبھی بھی
اور تیرا رب مغفرت کرنے والا رحمت والا ہے، اگر وہ پکڑ کرے ان کی جو کچھ انہوں نے کیا، تو جلد ان پر عذاب بھیج دیتا، بلکہ ان کے لئے ایک وعدہ مقرر ہے، وہ ہرگز نہیں پائیں گے اس کے سوا کوئی پناہ
اور یہ وہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا ہے جب انہوں نے ظلم کیا تھا، اور ہم نے مقرر کیا تھا ان کی ہلاکت کا ایک وقت
اور جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع بن نون) سے کہ میں نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ میں پہونچ جاؤں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ یا میں گزار دوں صدیاں (چلتے ہوئے)
تو جب وہ دونوں پہونچے دو دریاؤں کے جمع ہونے کی جگہ، دونوں بھول گئے اپنی مچھلی کو، تو بنالیا (مچھلی نے) اپنا راستہ دریا میں سرنگ کی طرح
پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے، تو کہا اپنے جوان سے کہ لے آؤ ہمارے پاس ہمارا ناشتہ، یقیناً پہونچی ہے ہمیں اس سفر میں تھکاوٹ
(موسیٰ سے نوجوان خادم نے) کہا کیا آپ نے غور کیا؟ جب ہم نے پناہ لی تھی اس پتھر کے پاس، تو میں بھول گیا مچھلی کو، اور مجھے بھلا دیا شیطان نے کہ اس کا تذکرہ کروں، اور اس (مچھلی) نے بنالیا تھا اپنا راستہ سمندر میں عجیب طرح سے
کہا یہی ہے (وہ جگہ) جو ہم تلاش کر رہے تھے، پھر دونوں پلٹے اپنے قدموں کے نشان کا پیچھا کرتے ہوئے
تو ان دونوں نے پایا ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، عطا کی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سے، اور اسے ہم نے سکھایا تھا اپنی طرف سے علم
کہا اس سے موسیٰ نے کیا میں آپ کی اتباع کر سکتا ہوں اس شرط پر کہ آپ سکھائیں مجھے وہ علم جو ہدایت کا علم آپ کو سکھایا گیا ہے
کہا آپ ہرگز صبر نہیں کر پائیں گے میرے ساتھ
اور کیسے آپ صبر کریں گے اس امر میں جس کی خبر کا آپ کو احاطہ ہی نہیں
(موسیٰ علیہ السلام نے) کہا جلد آپ مجھے پائیں گے ان شاء اللہ صابر (یعنی جمے رہنے والا) اور میں نافرمانی نہیں کروں گا آپکی کسی بات میں
کہا تو اگر آپ میرے پیچھے چلنا چاہیں تو سوال نہ کریں مجھ سے کسی چیز کے متعلق یہاں تک کہ میں خود کروں آپ سے اس کا ذکر
تو چل پڑے دونوں، یہاں تک کہ جب دونوں سوار ہوئے کشتی میں (تو حضرت خضر نے) اسے پھاڑ دیا کہا (موسیٰ نے) کیا آپنے اس لئے پھاڑا ہے اسکو تاکہ غرق ہوجائیں اسکے لوگ، یقیناً آپ نے عجیب کام کیا ہے
کہا کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ طاقت نہیں رکھ سکیں گے میرے ساتھ صبر کی
کہا آپ میرا مؤاخذہ نہ کیجئے میرے بھول جانے پر، اور نہ ڈالئے مجھ پر میرے معاملے میں سختی
پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان دونوں کی ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے، تو (حضرت خضر نے) قتل کر دیا اسے، کہا (موسیٰ نے) کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کا قتل کیا ہے بغیر کسی وجہ کے، یقیناً آپ نے ناپسندیدہ کام کیا ہے