اور میں نہیں بری سمجھتا اپنے نفس کو، بیشک نفس تو حکم دیتا ہے برائی کا مگر جس پر رحم کردے میرا رب، بیشک میرا رب غفور اور رحیم ہے
سورۃ 12
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اور بادشاہ نے کہا کہ لے آؤ اسے میرے پاس، تاکہ میں خاص کرلوں اسے اپنے لئے، پھر جب کلام کیا اس سے تو کہا بیشک تم آج سے ہمارے پاس امانتدار مکین (یعنی رہنے والے) ہو
کہا بنا دو مجھے ملک کا خزانچی بیشک میں جانکار محافظ ہوں
اور اسی طرح ہم نے بسایا یوسف کو اس ملک میں کہ وہ رہے اس میں جہاں چاہے، ہم پہونچاتے ہیں اپنی رحمت جسے ہم چاہتے ہیں، اور ہم ضائع نہیں کرتے محسنین کے اجر کو
اور یقینا آخرت کا اجر بہتر ہے ایمان والوں کے لئے اور متقیوں کے لئے
اور آئے یوسف کے بھائی پھر داخل ہوئے اس کے پاس، تو اس نے انہیں پہچان لیا اور وہ (سارے بھائی انہیں) نہیں پہچان سکے
اور جب تیار کر دیا انہیں ان کا سامان تو کہا لے کے آنا میرے پاس تم اپنے بھائی (بنیامین) کو تم اپنے باپ کے پاس سے، تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا دیتا ہوں غلہ اور میں بہتر مہمان نواز ہوں
پھر اگر نہ لائے تم اسے میرے پاس، تو کوئی غلہ نہیں تمہارے لئے میرے پاس اور تم میرے قریب بھی مت آنا
انہوں نے کہا جلد ہی ہم خوشامد کریں گے اس کے بارے میں اسکے ابا سے، اور یقینا ہم ایسا ہی کرنیوالے ہیں
اور کہا اپنے خدام سے کہ ڈال دو ان کی پونجی ان کے کجاوے (یعنی سامان) میں، تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر اپنے گھرانے کی طرف جائیں، تاکہ وہ پھر لوٹیں
پھر جب وہ سب لوٹ آئے اپنے باپ کے پاس تو کہا اے ہمارے ابا! منع کیا گیا ہے ہمیں غلے سے، آپ بھیج دیجئے ہمارے ساتھ ہمارے بھائی (بنیامین) کو، تاکہ ہم غلہ لائیں اور بیشک ہم اس کی حفاظت کریں گے
کہا کیا میں یقین کروں تمہارا اس پر، جیسا کہ یقین کیا تھا تم پر اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں اس سے پہلے، تو اللہ بہتر محافظ ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے
اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو پائی انہوں نے اپنی پونجی، جو لوٹائی گئی تھی ان کی طرف کہا اے ہمارے ابا! ہمیں اور کیا چاہیے؟ یہ ہماری پونجی ہے جو ہمیں لوٹا دی گئی ہے، اور ہم غلہ لائیں گے اپنے گھر والوں کیلئے، اور حفاظت کریں گے اپنے بھائی کی، اور ہم زیادہ لائیں گے ایک اونٹ غلہ (اور) یہ غلہ آسان ہے (لانا)
کہا میں ہرگز نہیں بھیجوں گا اسے تمہارے ساتھ، یہاں تک کہ تم دو مجھے عہد اللہ کا، کہ تم ضرور لے کر آؤ گے میرے پاس اسے، مگر یہ کہ تم گھر جاؤ (کہیں پھنس جاؤ) پھر جب سب نے دیا اسے عہد، تو کہا اللہ وکیل ہے اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں
اور کہا اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا ایک دروازے سے، اور داخل ہونا متفرق (یعنی الگ الگ) دروازوں سے اور میں نہیں بچا سکتا تمہیں اللہ کی جانب سے کسی شے سے، اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں ہے، اسی پر میں توکل کرتا ہوں، اور اسی پر توکل کرنا چاہیے توکل کرنے والوں کو
اور جب داخل ہوئے اسی طرح جیسے حکم دیا تھا انہیں ان کے ابا نے، وہ نہیں بچا سکتے تھے انہیں اللہ (کی کسی بات) سے، مگر یعقوب کے دل میں ایک حاجت (یعنی خواہش) تھی جسے اس نے پوری کی، اور بے شک وہ صاحب علم تھا جو ہم نے سکھایا تھا اسے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور جب وہ داخل ہوئے یوسف کے پاس تو ٹھکانا دیا اپنے پاس اپنے بھائی (بنیامین) کو، کہا کہ بیشک میں تیرا بھائی ہوں، تو تم مایوس نہ ہو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں
پھر جب (یوسف نے) تیار کرا دیا ان کے لئے ان کا سامان، تو ڈال دیا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں، پھر پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو! یقیناً تم چور ہو!
انہوں نے کہا ان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے تم نے کیا کھویا ہے؟
انہوں نے کہا ہم نے کھویا ہے بادشاہ کا پیالہ، اور جو بھی لے کر آئے گا اسے، ایک اونٹ غلہ پائے گا، اور میں اس کا ضامن ہوں
انہوں نے کہا اللہ کی قسم! تمہیں معلوم ہے ہم نہیں آئے یہاں اسلئے کہ ہم فساد کریں اس زمین میں، اور نہ ہی ہم چور ہیں
انہوں نے کہا پھر کیا سزا ہو؟ اگر تم جھوٹے نکلے
انہوں نے کہا اس کی سزا وہی ہے جس کے سامان میں سے پایا جائے، تو اسی کو سزا ملے اس کی، ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں (یعنی چوروں) کو
تو شروع کیا (یوسف نے) ان سبھوں کی بوریوں سے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے، پھر نکالا اسے بوری سے اپنے بھائی کی، اس طرح کی چال ہم نے سکھائی تھی یوسف کو، وہ نہیں لے سکتا تھا اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون سے، مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے ہم بلند کرتے ہیں درجات جس کے چاہتے ہیں، اور ہر ایک ذوعلم (یعنی علم والے) کے اوپر میرا علم ہے
انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو چوری کی تھی اس کے بھائی نے بھی اس سے پہلے، یوسف نے چھپا لیا اس (بات) کو اپنے دل میں، اور ظاہر نہ کیا ان کے سامنے، کہا (چپکے سے) تم برے لوگ ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو
انہوں نے کہا اے عزیز! بیشک اس کا باپ بہت بوڑھا ہے، تو آپ پکڑ لیں ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ، ہم دیکھ رہے ہیں آپ کو یقینا آپ احسان کرنیوالوں میں سے ہیں
کہا اللہ کی پناہ کہ ہم پکڑیں اس کے علاوہ جس کے پاس ہم نے پایا اپنا سامان، یقیناً تب تو ہم ظالم ہو جائیں گے
پھر جب (سارے بھائی) ناامید ہوگئے اس سے تو اکیلے میں مشورہ کرنے لگے، کہا ان کے بڑے نے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے ابا نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا؟ اور اس سے پہلے بھی تم کوتاہی کر چکے ہو یوسف کے معاملے میں تو میں تو اس ملک سے ہرگز نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھے حکم دے یا میرے لیے اللہ کوئی حکم فرمائے، اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
تم لوٹ جاؤ اپنے ابا کے پاس اور کہو اے ہمارے ابا! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اور ہم نے اسی کی گواہی دی جس کا ہمیں علم تھا اور ہمیں غیب کی خبر نہیں (کہ کون کب کیا کر لے گا)
اور پوچھ لیجیے اس گاؤں سے جس میں ہم تھے، اور اس قافلہ سے بھی جس میں ہم آئے ہیں اور بیشک ہم سچے ہیں
کہا (حضرت یعقوب علیہ السلام نے) بلکہ تم نے بنا لیا ہے خود سے ایک معاملہ، تو اب صبر ہی بہتر ہے، ممکن ہے اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو ایک ساتھ، بےشک وہی جاننے والا حکمت والا ہے
اور اس نے ان سے منہ پھیر لیا، اور کہا ہائے افسوس یوسف پر! اور سفید ہو گئی تھیں اس کی آنکھیں غم سے، اور وہ (غم کیوجہ سے) گھل گئے تھے
کہا (بیٹوں نے باپ سے) اللہ کی قسم تم تذکرہ کرتے رہو گے یوسف کا، یہاں تک کہ تم بے بس ہو جاؤ، یا ہو جاؤ ہلاک ہونے والوں میں
کہا میں شکایت کرتا ہوں اپنی بے بسی اور غم کی اللہ کے سامنے اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے
اے میرے بیٹو! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی (بنیامین) کو اور ناامید مت ہو اللہ کی رحمت سے، بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں
پھر جب وہ سب داخل ہوئے ان کے پاس تو کہا اے عزیز! پہونچی ہے ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت، اور ہم لے کے آئے ہیں معمولی پونجی تو (اے عزیز مصر) آپ پورا غلہ دیجئے ہمیں اور صدقہ بھی دیجئے ہمیں، بےشک اللہ بدلہ دیتا ہے صدقہ دینے والوں کو
کہا کیا تمہیں معلوم ہے جو تم نے کیا تھا یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ؟ جب تم نادان تھے
(یوسف کے بھائیوں نے) کہا کیا تو ہی یوسف ہے؟ کہا میں ہی یوسف ہوں اور یہ (بنیامین) میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا، بیشک جو ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے (وہ محسن ہے) تو بیشک اللہ ضائع نہیں کرتا محسنین (یعنی نیکوکاروں) کے اجر کو
انہوں نے کہا اللہ کی قسم! یقینا ترجیح (یعنی بزرگی) دی تمہیں اللہ نے ہم پر، اور بیشک ہم خطا کار ہیں
(یوسف نے اپنے بھائیوں سے) کہا کوئی ملامت نہیں تم پر آج، مغفرت کرے اللہ تمہیں، اور وہ ارحم الراحمین ہے
لے کر جاؤ میری یہ قمیص اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو لوٹ آئے گی بصارت، اور لے آؤ میرے پاس تم اپنے تمام گھرانے کو
اور جب روانہ ہوا قافلہ تو کہا ان کے ابانے، بیشک میں پاتا ہوں یوسف کی خوشبو، اگر تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو
لوگوں نے کہا اللہ کی قسم! بیشک تم اپنی پرانی بھول میں پڑے ہو
پھر جب آیا بشارت دینے والا اس نے ڈال دیا اس (کرتے) کو ان کے چہرے پر، تو لوٹ آئی بصارت (یعنی روشنی) کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو تم نہیں جانتے
انہوں نے کہا اے ہمارے ابا! مغفرت طلب کیجیے ہمارے گناہوں کیلئے، کہ بیشک ہم ہی خطا کار ہیں
کہا عنقریب مغفرت طلب کرونگا تمہارے لیے اپنے رب سے، بیشک وہ غفور اور رحیم ہے
پھر جب داخل ہوئے یوسف کے پاس تو جگہ دی اس نے اپنے پاس اپنے ماں باپ کو، اور کہا داخل ہو جاؤ مصر میں اگر اللہ نے چاہا تو امن میں رہو گے
اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر، اور گر پڑے اس کے لئے سب سجدے میں، اور کہا اے میرے ابا! یہ تعبیر ہے میرے خواب کی اس سے پہلے کے، بنا دیا اسے میرے رب نے سچ، اور اس نے احسان کیا مجھ پر، جب مجھے نکالا قید سے، اور لے آیا تمہیں گاؤں سے، بعد اس کے کہ جھگڑا ڈال دیا تھا شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان، بیشک میرا رب باریک بینی سے کرتا ہے جو چاہتا ہے بیشک وہی جاننے والا حکمت والا ہے
اے میرے رب! یقینا تو نے عطا کی مجھے حکومت، اور تو نے سکھلائی مجھے باتوں کی تعبیر تو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا! تو ہی میرا ولی (یعنی دوست) ہے دنیا اور آخرت میں، تو وفات دینا مجھے اسلام کی حالت میں، اور ملا دینا مجھے صالحین کے ساتھ
(اے محمد) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے بتاتے ہیں آپ کو، اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب وہ جمع ہو گئے تھے اپنے امر میں (یوسف کے خلاف) اور وہ مکر کر رہے تھے
اور اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور اگرچہ آپ چاہیں تب بھی
اور نہیں آپ سوال کرتے ان سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، یہ تو نصیحت ہے جہان والوں کے لیے
اور کتنی ہی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں، وہ گزرتے ہیں ان پر سے (دن اور رات) اور ان سے منہ پھیر لیتے ہیں
اور ان (کفار اور مشرکین) میں سے اکثر اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود شرک کرتے ہیں
کیا یہ (مشرکین مکہ) بےخوف ہو گئے ہیں کہ آجائے ان پر اللہ کے عذابوں میں سے کوئی عذاب یا آجائے ان پر قیامت اچانک اور وہ سمجھ بھی نہ سکیں
کہہ دو یہ ہے میرا راستہ میں بلاتا ہوں اللہ کی طرف بصیرت (یعنی سمجھ بوجھ) کے ساتھ میں اور جنہوں نے میری اتباع کی (وہ بھی) اور اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں مشرکین میں سے نہیں
اور ہم نے (جو بھی) رسول بھیجے تجھ سے پہلے وہ سب مرد تھے، ہم نے وحی کی ان کی طرف وہ بستیوں کے رہنے والے تھے، تو کیا وہ زمین میں سیر نہیں کرتے اور دیکھتے نہیں کیا انجام کیا ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے متقیوں کے لیے، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے (پچھلی امتوں کے) رسول اور (پچھلی قوموں نے) گمان کر لیا کہ ان سے جھوٹ کہا گیا ہے (کہ عذاب آئے گا) تو آئی ان (پچھلے مومنوں) پر ہماری مدد، تو بچا لیا گیا جسے ہم نے چاہا، اور نہیں رد ہوتا ہمارا عذاب مجرم قوم سے
یقینا عبرت ہے ان (انبیاء علیہم السلام) کے قصوں میں عقلمندوں کے لیے، نہیں ہے اس (قرآن) کی بات گھڑی ہوئی، اور بلکہ تصدیق کرتی ہے اپنے سامنے (کتاب) کی، اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کیلئے
سورۃ 13
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ا ل م ر، یہ کتاب کی آیتیں ہیں، اور جو کچھ نازل کیا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے وہ برحق ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
اللہ وہ ہے جس نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں (یعنی کھمبوں) کے جنہیں تم دیکھ رہے ہو، پھر (اللہ) قائم ہوا عرش پر اور مسخر (یعنی قابو میں) کیا سورج اور چاند کو، ہر ایک جاری ہے اپنے وقت مقررہ پر، وہ تدبیر کرتا ہے، وہ (اللہ) تفصیل سے بیان کرتا ہے اپنی آیات کو تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات پے یقین کرو
اور وہی ہے (اللہ) جس نے پھیلا دیا ہے زمین کو اور اسی نے بنائے اس میں پہاڑ اور نہریں، اور تمام طرح کے پھل اس نے بنائے ان (پھلوں) کو جوڑوں میں، وہ ڈھانکتا ہے رات سے دن کو، بیشک ان (چیزوں) میں نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کیلئے
اور زمین میں ٹکڑے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، اور انگور کے باغ ہیں اور کھیتیاں اور کھجوریں ہیں ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی اور بعض نہیں ملتے، سینچائی کی جاتی ہے ایک پانی سے، اور ہم نے فضیلت دی ہے ایک پھل کو دوسرے پر مزہ میں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
اور اگر تمہیں تعجب ہے تو تعجب ہونا چاہئے ان کی اس بات پر کہ جب ہم ہو جائیں گے مٹی تو کیا پھر نئی مخلوق بنائے جائیں گے؟ یہی وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں اپنے رب کا، اور یہی وہ (کافر) ہیں طوق ہوں گی (قیامت کے دن) ان کی گردنوں میں، اور یہی دوزخی ہیں، یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور وہ جلد مانگتے ہیں تم سے برائی (یعنی عذاب) بھلائی سے پہلے، اور گزر چکی ہیں ان سے پہلے بہت سی (عذاب کی) مثالیں، اور بیشک تمہارا رب صاحب مغفرت ہے لوگوں کے لئے ان کے ظلم کے باوجود، اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے
اور کفار (مکہ) کہتے ہیں کہ کیوں نہیں نازل کی گئی اس (نبی) پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے، تم تو صرف ڈرانیوالے ہو اور ہر قوم کیلئے ایک ہادی ہوتا ہے
اللہ کو معلوم ہے کہ جو کچھ ہر مادہ کے پیٹ میں ہے اور جو پیٹ میں کم یا زیادہ ہوتا ہے (کہ کب اور کیسا پیدا ہوگا) اور اسکے پاس ہر چیز کی مقدار (یعنی اندازہ) ہے
(اللہ کو) علم ہے غیب کا اور ظاہر کا (اور) وہ بلند و برتر ہے
برابر ہے (اللہ رب العزت کے لئے) تم میں سے کوئی چپکے سے کہے (کوئی بات) یا پکار کر اور جو چھپ جائے رات میں یا چلے پھرے دن میں
اس (انسان) کے لئے محافظ (فرشتے) ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے جو حفاظت کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے، بیشک اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کی حالت جب تک وہ خود نہ بدلے اپنے آپ کو، اور جب اللہ چاہتا ہے کسی قوم کے ساتھ برائی (یعنی عذاب) تو اسے کوئی رد نہیں کر سکتا، اور نہیں ہوتا ان کیلئے اس کے سوا کوئی ولی (یعنی مددگار)
وہی ہے (اللہ) جو دکھاتا ہے تمہیں بجلی خوف اور امید دلانے کے لیے اور پیدا کرتا ہے بھاری بادلوں کو
اور تسبیح کرتی ہے بجلی اس کی حمد کے ساتھ اور فرشتے بھی (کرتے ہیں) اس کے خوف سے اور وہ بھیجتا ہے بجلیوں کو پھر گرا دیتا ہے انہیں جس پر چاہتا ہے، اور یہ (کفار) جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں، اور (جبکہ) وہ بڑی قوت والا ہے
اسی کو پکارنا برحق ہے، اور (کفار) جن کو پکارتے ہیں اس کے سوا وہ جواب نہیں دیتے انہیں کچھ بھی، مگر (ایسا ہے) جیسے کوئی پھیلائے پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ کہ اس کے منہ میں آجائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا، اور کافروں کی پکار گمراہی کے سوا کچھ نہیں
اور اللہ ہی کیلیے سجدہ کرتے ہیں جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اور ان کے سائے بھی (عاجزی کرتے ہیں) صبح اور شام
(اے نبی) کہہ دو کون ہے رب آسمانوں اور زمین کا کہہ دو اللہ ہی ہے، کہہ دو پھر کیا تم نے بنا رکھا ہے اللہ کے سوا معبود جو مالک نہیں اپنے لیے بھی کسی نفع کا اور نہ ہی نقصان کا، کہہ دو کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہو سکتا ہے؟ یا کیا برابر ہو سکتے ہیں اندھیرا اور روشنی؟ کیا جنہیں انہوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے انہوں نے بھی اللہ کی مخلوق جیسی کوئی مخلوق بنائی ہے کہ پھر مشتبہ (یعنی ملی جلی) ہو گئی ہے مخلوق ان پر (یعنی ان کی نظر میں؟) کہہ دو اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر شے کو، اور وہ اکیلا اور زبردست ہے
اس نے نازل کیا آسمان سے پانی پھر بہنے لگی وادیاں اپنی وسعت کے بقدر، پھر اٹھا لایا (وہ) سیلاب جھاگ کو اوپر، اور جس چیز کو تپاتے ہیں آگ میں بنانے کے لیے زیور یا کوئی سامان اس پر بھی جھاگ ہوتا ہے اس جیسا، اسی طرح اللہ بیان فرماتا ہے حق اور باطل کو پھر جو جھاگ ہوتا ہے نکل جاتا ہے خشک ہو کر، اور جو فائدہ پہونچاتا ہے لوگوں کو تو وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے اسی طرح اللہ (سبحانہ وتعالی) بیان فرماتا ہے مثالوں کو
جنہوں نے قبول کیا اپنے رب کا حکم ان کے لئے بھلائی ہے، اور جنہوں نے قبول نہ کیا اس کا حکم اگر ان کے لئے ہو جائے جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس جیسا اور بھی ہو جائے اس کے ساتھ (قیامت کے دن اور) اسے وہ فدیے میں دیدے (تو بھی قبول نہ ہو) یہی ہیں وہ جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے
تو کیا جو شخص جانتا ہو کہ جو کچھ نازل کیا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے وہ برحق ہے، وہ اس کے برابر ہو سکتا ہے جو اندھا ہو؟ نصیحت تو عقل والے ہی پکڑتے ہیں
(اور عقل والے وہ ہیں) جو پورا کرتے ہیں اللہ کے عہد کو اور نہیں توڑتے (اللہ کے) عہد کو
اور (یہی ہیں) جو جوڑتے ہیں (رشتوں کو) جسے حکم دیا ہے اللہ نے جوڑنے کا، اور ڈرتے ہیں اپنے رب سے، اور خوف رکھتے ہیں برے حساب سے
اور وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضاء چاہنے کے لیے، اور نماز قائم کی اور خرچ کیا جو ہم نے انہیں دیا ہے چھپ کر اور اعلانیہ اور دور کرتے ہیں بھلائی کے ذریعے برائی کو انہیں کے لیے آخرت کا گھر ہے
ہمیشہ کے باغ میں وہ داخل ہوں گے اس میں اور جنہوں نے اصلاح کی ہوگی اپنے باپ دادا اور اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کی (وہ بھی ہمیشہ رہیں گے اس میں) اور فرشتے داخل ہوں گے ان کے پاس ہر دروازے سے
(کہیں گے) سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے، تو کیا ہی بہتر ہے آخرت کا گھر
اور جو لوگ توڑتے ہیں اللہ کا عہد ایسے مضبوط کرنے کے بعد، اور توڑتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم فرمایا ہے، اور وہ فساد کرتے ہیں زمین میں، یہی ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے
اللہ کشادہ کر دیتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) اور وہ خوش ہیں دنیا کی زندگی پر، اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ نہیں مگر تھوڑا سامان
اور کہتے ہیں کافر کہ کیوں نہیں نازل کی گئی اس (نبی) پر کوئی آیت (بطور معجزہ) اس کے رب کی طرف سے، کہہ دو بیشک اللہ گمراہ کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور ہدایت اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے
جو ایمان والے ہیں ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے اللہ کے ذکر سے خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی اطمینان ہوتا ہے دلوں کو
جو لوگ ایمان لائے اور عمل کئے نیک ان کے لیے خوشخبری اور کیا ہی بہتر ٹھکانا ہے
(اے نبی) اسی طرح ہم نے بھیجا تمہیں ایک امت میں یقینا گزر چکی ہیں اس سے پہلے بھی کئی امتیں، تاکہ تم پڑھ کے سناؤ انہیں جو ہم نے وحی کی ہے تمہاری طرف، اور وہ انکاری ہیں رحمان کے، کہہ دو وہی میرا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے
اور اگر قرآن ایسا (کلام) ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ چلائے جاتے یا ٹکڑے ہو جاتے اس کے ذریعے زمین یا کلام کرتے اس کے ذریعے مردے (تب بھی یہ ایمان نہ لاتے) بلکہ سب کام کا اختیار اللہ کو ہے، تو کیا مایوس ہو گئے ایمان والے اس بات سے کہ اگر چاہتا اللہ (تو) ہدایت دے دیتا سارے لوگوں کو، اور ہمیشہ کافروں پر آتی رہے گی ان کی کمائی کی وجہ سے مصیبت یا حائل ہوتی رہے گی ان کے گھر کے قریب سے، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو، بیشک اللہ نہیں خلاف کرتا اپنے وعدے کا
یقینا مذاق اڑایا گیا ہے رسولوں کا تم سے پہلے بھی (پچھلی امتوں میں، پہلے) تو میں نے ڈھیل دی کافروں کو پھر میں نے پکڑا انہیں تو کیسا رہا میرا عذاب؟
تو کیا جو (خدا) قائم ہو ہر شخص پر (نگہبان اور جانتا ہو) جو اس نے کیا ہے، اور انہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے لیے شریک (یہ اللہ کے برابر ہیں؟) کہہ دو بتلاؤ ان کے نام؟ کیا تم بتاتے ہو اللہ کو وہ بات جسے وہ نہیں جانتا زمین میں، یا تم ظاہری باتیں کرتے ہو (جو منہ میں آجائے) بلکہ مزین کر دیا گیا ہے کافروں کے لئے ان کا مکر، اور انہیں روک دیا گیا ہے راستے سے، اور جسے گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے کوئی بھی اسے ہدایت دینے والا
ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں اور یقینا آخرت کا عذاب بہت ہی سخت ہے، اور نہیں ہوگا انہیں کوئی اللہ سے بچانے والا
(اللہ بیان فرماتا ہے) اس جنت کی مثال جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں سے (وہ ایسی ہے کہ) بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں اس کے میوے دائمی (یعنی ہمیشہ) رہیں گے اور اس کے سائے بھی، یہ انجام ہے متقیوں کا اور کافروں کا انجام آگ ہے
جنہیں ہم نے کتاب دی (قرآن) وہ خوش ہوتے ہیں اس سے جو تم پر نازل کیا گیا اور جماعتوں میں سے بعض (یہود و نصاری) انکار کرتے ہیں اس کی بعض باتوں کا، کہہ دو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عبادت کروں اللہ کی، اور نہ شریک کروں اسکے ساتھ کسی کو اسی کی طرف میں بلاتا ہوں، اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے
اور اسی طرح ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو عربی میں، اور اگر تم اتباع کروگے ان کی خواہشوں کی بعد آجانے کے اس (قرآنی) علم کے تو تمہارا اللہ کی طرف سے کوئی مددگار اور بچانے والا نہ ہوگا
اور (اے نبی) یقینا ہم نے بھیجے کئی رسول تم سے پہلے، اور ہم نے دی تھی انہیں بیویاں اور اولاد، اور ممکن نہیں کسی رسول کے لئے کہ وہ لے آئے کوئی آیت اللہ کے حکم کے سواء، ہر ایک وقت کے لیے جو حکم ہے وہ طے ہے
مٹاتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور ثابت (یعنی باقی) رکھتا ہے (جسے چاہتا ہے) اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) ہے
اور اگر ہم دکھا دیں تمہیں بعض وہ وعدہ جو ہم نے ان سے کیا ہے یا ہم تمہیں وفات دیں (پھر دکھائیں انکاعذاب) تو تمہارے ذمہ پہنچا دینا ہے، اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے
کیا (کفار) نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو گھٹا رہے ہیں اس کے اطراف (یعنی کناروں) سے (دین پھیلا کر) اور اللہ ہی حکم کرتا ہے کوئی ہٹانے والا نہیں اس کے حکم کو، اور وہ جلد حساب لینے والا ہے
اور یقینا مکر کر چکے ہیں ان سے پہلے لوگ بھی، تو تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں، وہ جانتا ہے جو کوئی بھی کچھ کرتا ہے، اور جلد ہی جان لیں گے کفار کہ کس کے لئے ہے بہتر انجام آخرت کے گھر کا
اور کہتے ہیں کافر کہ تم رسول نہیں ہو (اے نبی) کہہ دو کہ کافی ہے اللہ کی گواہی میرے اور تمہارے درمیان، اور جس کے پاس (پچھلی) کتاب کا علم ہے (وہ بھی گواہ ہے)
سورۃ 14
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ا ل ر (اے نبی) یہ ایک کتاب ہم نے نازل کی ہے اسے تمہاری طرف، تاکہ تم نکالو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف، اپنے رب کے حکم سے زبردست تعریف والے کے راستہ کی طرف
اللہ کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، اور تباہی ہوگی کافروں کی سخت عذاب کے ذریعے (قیامت کے دن، انہیں)
جو محبوب رکھتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں، اور روکتے ہیں اللہ کے راستے سے، اور تلاشتے ہیں اس (کے راستے) میں کجی، یہی ہیں وہ جو دور کی گمراہی میں پڑے ہیں
اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر ان کی قوم کی زبان میں، تاکہ (رسول) بیان کریں ان کے سامنے، تو گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے، اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست حکمت والا ہے
اور یقینا ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ، کہ نکالو اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف، اور یاد دلاؤ انہیں اللہ کے دن (قیامت) کی، بیشک اس میں نشانیاں ہیں تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لیے
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے کہ یاد کرو اللہ کی نعمت جو تم پر ہے، جب اس نے نجات دی تمہیں فرعون کی قوم سے، وہ تمہیں تکلیف دیتے تھے برے عذاب کی اور ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو، اور اس میں بڑی آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے
اور جب حکم دیا تمہارے رب نے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں زیادہ دوں گا تمہیں، اور اگر تم ناشکری کرو گے (تو) بیشک میرا عذاب سخت ہے
اور کہا موسیٰ نے اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے کفر کرو گے، تو بھی اللہ غنی (یعنی بے پرواہ) تعریف والا ہے
کیا نہیں پہونچی تمہیں ان لوگوں کی خبر جو تم سے پہلے تھے، نوح کی قوم اور عاد اور ثمود، اور جو ان کے بعد ہوئے، جنہیں نہیں جانتا اللہ کے سوا کوئی، آئے ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر، تو انہوں نے رکھ لئے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں پر (ناگواری میں) اور کہا ہم انکار کرتے ہیں انکا جو تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے، اور بیشک ہم شک میں ہیں تم ہمیں بلاتے ہو جس (دین) کی طرف شک ہی شک ہے
کہا ان کے رسولوں نے کیا تمہیں اللہ (کے بارے) میں شک ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین، وہ بلاتا ہے تمہیں تاکہ وہ مغفرت کردے تمہارے گناہوں کی، اور مہلت دے تمہیں ایک مقررہ وقت تک، انہوں نے کہا تم تو بشر (یعنی انسان) ہو ہماری طرح، تم چاہتے ہو کہ تم روک دو ہمیں ان چیزوں سے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، تو لے آؤ ہمارے سامنے کوئی کھلا معجزہ
کہا ان سے ان کے رسولوں نے ہم بشر ہیں تمہاری طرح، اور لیکن اللہ احسان کرتا ہے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور ممکن نہیں ہمارے لئے کہ ہم لے آئیں تمہارے لئے کوئی معجزہ اللہ کی اجازت کے بغیر، اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے ایمان والوں کو
اور ہم کیوں نہ توکل کریں اللہ پر یقینا اس نے ہدایت دی ہے ہمیں اپنے راستے کی، اور ہم ضرور صبر کریں گے اس ایذاء (یعنی تکلیف) پر جو تم ہمیں دیتے ہو، اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے توکل کرنیوالوں کو
اور کہا کافروں نے اپنے رسولوں سے کہ ہم نکال دیں گے تمہیں اپنے ملک سے، یا تو تم لوٹ آؤ ہماری ملت (یعنی دین) میں، تو وحی کی انہیں ان کے رب نے کہ ہم ضرور ہلاک کریں گے (ان) ظالموں کو
اور ہم ضرور آباد کر دیں گے تمہیں اس زمین میں ان کے بعد یہ اس کے لیے ہے جو ڈرتا ہو میرے سامنے کھڑے ہونے سے، اور جسے خوف ہو میرے عذاب سے
اور انہوں نے فیصلہ چاہا اور نامراد ہوا ہر ایک سرکش اور ضدی
اور اسکے پیچھے دوزخ ہے اور پلایا جائے گا اسے پانی پیپ کا
گھونٹ گھونٹ پیئے گا اس (پیپ کے پانی) کو اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور آئے گی موت اس پر ہر طرف سے اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت ترین عذاب ہوگا
مثال ان کی جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کا، ان کے اعمال راکھ کی طرح ہیں جسے شدید ہوا اڑا دے آندھی کے دن، نہیں قدرت رکھیں گے ایسے لوگ جو کچھ بھی انہوں نے کمایا، یہ دور کی گمراہی میں پڑے ہیں
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو، اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (اس دنیا سے ہلاک کر کے) اور لے آئے نئی مخلوق
اور یہ (کام) اللہ پر کچھ مشکل نہیں
اور (جبنھی) سامنا کریں گے اللہ کے تو ضعیف (یعنی کمزور) متکبروں سے کہیں گے کہ ہم تو تھے (دنیا میں) تمہارے تابع تو کیا تم بچا سکتے ہو ہمیں اللہ کے عذاب سے کچھ (تکبر کرنیوالے کمزوروں سے) کہیں گے اگر ہمیں اللہ ہدایت کرتا تو ہم تمہیں ہدایت کرتے اب برابر ہے ہمارے لیے کہ ہم چیخیں یا صبر کریں، نہیں ہے (اب) ہمارے لیے کوئی پناہ
اور کہے گا شیطان جب فیصلہ ہو چکے گا بیشک اللہ نے جو وعدہ کیا تھا تم سے وہ وعدہ سچا تھا، اور میں نے جو وعدہ کیا تھا تم سے میں نے وعدہ خلافی کی تمہارے ساتھ اور (ہاں) نہیں تھا میرا تم پر کوئی زور (دنیا میں) میں نے تو صرف دعوت دی تھی تمہیں اور تم نے قبول کرلی میری دعوت، تو تم مجھے ملامت مت کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں چیخوں تم پر اور نہ تم چیخو مجھ پر، بیشک میں انکار کرتا ہوں اس شرک سے جو تم شریک ٹھہرایا کرتے تھے مجھے اس سے پہلے، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان جنتوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ رہیں گے ان میں اپنے رب کے حکم سے، ان کے لئے ان میں سلامتی کی دعاء ہوگی
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کیسے بیان کی ہے اللہ نے مثال کلمہ طیبہ کی جیسا کہ ایک پاک درخت ہو جس کی جڑ ثابت (یعنی مضبوط) اور اس کی شاخ آسمان میں ہو
وہ لاتا ہو اپنا پھل ہر زمانے میں اپنے رب کے حکم سے اور اللہ بیان کرتا ہے مثالیں لوگوں کے لئے تاکہ وہ غور و فکر کریں
اور ناپاک کلمے کی مثال ایک ناپاک درخت کی طرح ہے پھیلی ہو (جسکی جڑیں) زمین کے اوپری حصے میں، اور اسے قرار (یعنی ٹھہراؤ) نہ ہو
ثابت قدم رکھتا ہے اللہ ایمان والوں کو قول ثابت (یعنی سچی بات) پر دنیا اور آخرت کی زندگی میں، اور گمراہ کرتا ہے ظالموں کو، اور اللہ وہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے
کیا تم نے ان (کفار مکہ) کو نہیں دیکھا جنہوں نے بدل دی اللہ کی نعمت کو کفر سے، اور حائل کر دیا (یعنی اتار دیا) اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں
جہنم میں وہ داخل ہوں گے، اور وہ برا ٹھکانا ہے
اور انہوں نے بنا لیا ہے اللہ کے لیے شریک تاکہ گمراہ کریں اس کے راستے سے، کہہ دو فائدہ اٹھا لو بیشک تمہارا ٹھکانہ آگ ہے
کہہ دو میرے (ان) بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ قائم کریں نماز، اور خرچ کریں اس میں سے جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے چھپ کر اور اعلانیہ اس سے پہلے کہ آئے وہ دن جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی (جو کام آئے)
اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالا اس کے ذریعے پھلوں میں سے رزق تمہارے لئے، اور مسخر کیا تمہارے لئے کشتیوں کو جو چلتی ہیں سمندر میں اس کے حکم سے، اور مسخر کیا تمہارے لئے نہروں کو
تمہارے لئے سورج اور چاند کو آگے پیچھے (چلنے والے) اور مسخر کیا تمہارے لئے رات اور دن کو
اور عطا کیں تمہیں ہر وہ چیز جو تم نے سوال کیا (یعنی تمام ضرورتوں کی چیز) اور اگر اللہ کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان ظالم اور ناشکرا ہے
اور جب کہا ابراہیم نے اے میرے رب! بنادے اس شہر (مکہ) کو امن والا اور بچا مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے
اے میرے رب! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، تو جو میری اتباع کرے گا وہ مجھ میں سے ہے، اور جو میری نافرمانی کے گا تو بیشک تو غفور اور رحیم ہے
اے رب ہمارے! میں نے بسائی ہے اپنی اولاد کو وادیء غیر ذی زرع میں (جہاں کھیتی نہیں) تیرے محترم گھر کے پاس، اے رب ہمارے! تاکہ نماز کو قائم رکھیں، تو تو بنادے لوگوں کے دلوں کو مائل ہونے والا ان کی طرف، اور رزق دے انہیں پھلوں میں سے تاکہ وہ شکر ادا کریں
اے رب ہمارے! بیشک تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ہم اعلانیہ کرتے ہیں، اور نہیں ہے چھپی ہوئی اللہ پر کوئی چیز زمین میں اور نہ ہی آسمان میں
تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے عطا کئے مجھے بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق، بیشک میرا رب دعاؤں کا خوب سننے والا ہے
اے رب! بنا مجھے قائم کرنے والا نماز کو اور میری اولاد کو بھی، اے ہمارے رب! اور قبول فرما میری دعاء کو
اے ہمارے رب! مغفرت فرمانا میری اور میرے ماں باپ کی اور مومنوں کی اس دن جس دن قائم ہو حساب
اور تم ہرگز گمان نہ کرو کہ اللہ بے خبر ہے ان کاموں سے جو ظالم کرتے ہیں، یقینا مہلت دے رکھی ہے انہیں اس دن تک جس میں پھٹی رہ جائیں گی نگاہیں
وہ سر اٹھائے ہوئے دوڑتے جارہے ہوں گے (اور) وہ اپنی طرف اپنی پلکیں بھی نہیں جھپک پائیں گے اور ان کے دل اڑ رہے ہوں گے
(اے نبی) ڈراؤ لوگوں کو اس دن سے کہ آئے گا ان پر عذاب تو کہیں گے ظالم اے ہمارے رب! مہلت دے ہمیں تھوڑی مدت تک کہ ہم قبول کر لیں تیری دعوت کو اور اتباع کر لیں رسولوں کی، کیا تم نے قسم نہیں کھائی تھی اس پہلے کہ نہیں ہے تمہارے لئے کوئی زوال (یعنی حساب و کتاب)
اور تم ٹھہرے ان لوگوں کی بستیوں میں جنہوں نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پر اور واضح تھا تمہارے لئے کہ کیا کیا تھا ہم نے ان کے ساتھ اور ہم نے بیان کی تھیں تمہارے سامنے مثالیں
اور یقینا ان (کفار اور مشرکین) نے مکاری کی، اور ان کی مکاری اللہ کے سامنے ہے، اور اگرچہ ان کی مکاری ایسی تھی کہ ان سے پہاڑ بھی چھوڑ دے اپنی جگہ
تو تم (اے نبی) ہرگز گمان نہ کرو کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کریگا، بیشک اللہ زبردست انتقام لینے والا ہے
جس دن بدل دی جائے گی اس زمین کو دوسری زمین سے، اور سب پیش ہوں گے اللہ کے سامنے جو ایک ہے زورآور ہے
اور تم دیکھو گے مجرمین کو اس (قیامت کے) دن جکڑے ہوئے زنجیروں میں
کرتے ہوں گے ان کے گندھک کے، اور ڈھانک لے گی ان کے چہروں کو آگ
تاکہ بدلہ دے اللہ ہر شخص کو اس کے کیے کا، بیشک اللہ جلد ہی حساب لینے والا ہے
یہ (قرآن) لوگوں کو پہونچانے کی چیز ہے اور تاکہ ڈرایا جائے اس (قرآن) کے ذریعے سے، اور تاکہ جان لیں کہ وہی ایک معبود ہے، اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقلمند