اور جو بھی جاندار ہے زمین میں اللہ ہی پر ان کا رزق ہے اور وہ جانتا ہے اس کا مستقر (کہ کہاں زندگی گزارے گا) اور مستودع (کہ جہاں دنیا کو الوداع کہے گا) سب کتاب مبین میں ہے (یعنی لوح محفوظ میں)
سورۃ 11
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اور وہی ہے (اللہ) جس نے بنائے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں، اور اس کا عرش (یعنی تخت) پانی پر تھا، تاکہ وہ آزمائے تمہیں کہ تم میں کون بہتر عمل کرتا ہے، اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اگر تم کہو کہ مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے تو یقیناً وہ لوگ کہیں گے جو کافر ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے
اور اگر ہم مؤخر کر دیں (یعنی روک دیں) ان سے عذاب ایک مقرر مدت تک، تو ضرور کہیں گے (کافر کہ) کس نے روکا ہے اسے؟ خبردار! جس دن آئے گا ان پر (عذاب) نہ پھیرا جائے گا ان سے، اور الٹا پڑے گا ان پر وہ مذاق جو وہ اڑایا کرتے تھے
اور اگر ہم مزہ چکھاتے ہیں انسان کو اپنی رحمت کا پھر ہم چھین لیتے ہیں اسے اس سے (تو انسان) مایوس اور ناشکرا ہو جاتا ہے
اور اگر ہم مزہ چکھاتے ہیں نعمتوں کا بعد اس تکلیف کے جو اسے پہونچی، تو کہتا ہے میری تکلیف دور ہو گئی مجھ سے (پھر) بیشک وہ اترانے والا فخر یلا ہو جاتا ہے
مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور نیک عمل کئے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے (ان کے رب کی طرف سے)
تو کیا آپ چھوڑ دیں گے بعض ان وحی کو جو آپ کی طرف کی جا رہی ہے، اور آپ کا دل تنگ ہو جائے گا ان کے اس کہنے سے کہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس (نبی) پر کوئی خزانہ؟ یا کیوں نہیں آیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ؟ آپ تو صرف ڈرانیوالے ہیں، اور اللہ ہر چیز کا وکیل (یعنی ذمے دار) ہے
کیا (کافر) کہتے ہیں کہ گھڑ لیا ہے اس (نبی) نے اس (قرآن) کو، کہہ دو تو تم لے آؤ دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی ہی اور بلا لاؤ جو بھی طاقت ہے تمہیں اللہ کے علاوہ (کو) اگر تم سچے ہو
(اے کافرو!) تو اگر وہ جواب نہ دیں تمہیں تو جان لو کہ نازل کیا گیا ہے (قرآن) اللہ کے علم سے (یعنی اللہ کی جانکاری میں ہے) اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم اسلام لاتے ہو؟
جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت (یعنی عیش) ہم پورا دیتے ہیں اسی (دنیا) میں انہیں ان کے عمل کا، اور ان کیلئے اس میں کوئی کمی نہیں کی جاتی یہ وہی ہیں جن کے لیے
نہیں ہے آخرت میں آگ کے سوا کچھ، اور برباد ہو جائے گا جو کچھ انہوں نے کیا اس (دنیا) میں، اور باطل ہو جائے گا جو کچھ انہوں نے (دنیا میں) کمایا تھا
تو کیا جو شخص دلیل پر ہو اپنے رب کی طرف سے، اور پڑھی (یعنی دی) جاتی ہو اس کی گواہی اللہ کی طرف سے، اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی گواہ ہو جو امام اور رحمت تھی، یہی لوگ ایمان رکھتے ہیں اس (قرآن) پر اور جو انکار کرتا ہے اس (قرآن) کا جماعتوں میں سے تو آگ ہی ہے اس کے وعدے کی جگہ، تو تم نہ ہو جاؤ شک میں اس (قرآن) کی طرف سے، بیشک یہ برحق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا؟
جو باندھے اللہ پر جھوٹ، یہی ہیں وہ (کافر) جو پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے، اور کہیں گے گواہ (فرشتے) کہ یہی ہیں جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اپنے رب پر، خبردار! اللہ کی لعنت ہے (ایسے) ظالموں پر (یہی وہ ظالم ہیں) جو روکتے ہیں
اللہ کے راستے سے اور تلاشتے ہیں اس میں کجی، اور یہی آخرت کے انکاری ہیں یہ لوگ نہیں ہیں
عاجز کرنے والے زمین میں، اور نہ ہوگا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست (آخرت میں) انہیں دگنا عذاب دیا جائے گا نہیں طاقت رکھتے ہیں یہ لوگ سننے کی اور نہ ہی دیکھنے کی یہی ہیں جنہوں نے خسارہ میں ڈالا اپنے آپ کو
اور بھول گئے انہیں جن (غیر اللہ) کو وہ گھڑا کرتے تھے
بیشک یہی لوگ آخرت میں خسارہ (یعنی نقصان) اٹھانے والے ہوں گے
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور عاجزی کی اپنے رب کے سامنے (یعنی جھکتے رہے اللہ کے سامنے) وہی جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
مثال دی جاتی ہے دو فریقوں کی جیسے ایک (کافر ہے جو) اندھا اور بہرا ہو، اور دوسرا (مؤمن ہے جو) دیکھنے اور سننے والاہو کیا دونوں مثال برابر ہو سکتی ہے، تو کیا تم غور نہیں کرتے؟
اور یقیناً ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف (کہا) بیشک میں تمہیں کھلا ڈرانے والا ہوں
کہ نہ عبادت کرو اللہ کے سوا (کسی کی) بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر دردناک دن کے عذاب سے
تو کہا کافروں کے سرداروں نے اس کی قوم کے، کہ ہم دیکھ رہے ہیں تمہیں ایک انسان ہماری ہی طرح، اور ہم نہیں دیکھ رہے ہیں تمہاری اتباع کرنے والوں کو مگر ان ہی کو جو ہم میں گھٹیا ہیں کھلی نظروں سے، اور ہم نہیں دیکھ رہے ہیں تمہاری ہم پر کوئی فضیلت، بلکہ ہم تمہیں گمان کرتے ہیں جھوٹا
اس نے کہا اے میری قوم! تمہارا کیا خیال ہے اگرچہ میں دلیل پے ہوں اپنے رب کی طرف سے، اور اس نے عطا کی مجھ پر رحمت اپنی طرف سے تو اندھا پن ڈال دیا گیا ہے تم پر، کیا میں زبردستی (ہدایت) تم پر ڈال دوں، اور تم اسے ناپسند کر رہے ہو
اور اے میری قوم! میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی مال کا، میرا اجر اللہ پر ہے، اور میں نہیں دھتکار نے والا ایمان والوں کو، بیشک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے، اور لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں جاہل قوم
اور اے میری قوم! کون میری مدد کرے گا اللہ کی طرف سے اگر میں انہیں دھتکاروں، تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟
اور میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں ان لوگوں کو جنہیں حقیر جانتی ہیں تمہاری آنکھیں کہ ہرگز نہ دے گا انہیں اللہ کوئی بھلائی، اللہ زیادہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے (ایسا کہوں تو) بیشک میں ظالموں میں ہو جاؤنگا
انہوں نے کہا اے نوح! بیشک تو نے جھگڑا کیا ہم سے اور بہت جھگڑا کر چکا تو ہم سے تو (عذاب) لے آ جنکا وعدہ تو ہم سے کرتا ہے، اگر تو سچا ہے
نوح نے کہا لائے گا تم پے اسے اللہ اگر وہ (اللہ) چاہے گا اور تم اسے عاجز نہیں کرسکو گے
اور نہ نفع دے گی تمہیں میری نصیحت اگر میں چاہوں خیر خواہی کرنا تمہارے لئے اگر اللہ چاہے تمہیں گمراہ کرنا، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
کیا (کافر) کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے (نبی نے) کہہ دو اگر میں نے گھڑا ہے اسے تو اسکا گناہ مجھ پر ہے اور میں بری ہوں اس جرم سے جو تم کرتے ہو
اور وحی کی گئی نوح کی طرف کہ ہرگز نہ ایمان لائے گا تیری قوم میں سے (اب کوئی) مگر وہ جو لا چکا، تو تم مایوس نہ ہونا (ان پر) جو کچھ وہ کر رہے ہیں
اور بناؤ کشتی ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت مخاطب ہونا مجھ سے ان ظالموں کے بارے میں کیونکہ یہ غرق ہونیوالے ہیں
اور وہ بنانے لگے کشتی اور جب گزرتے اس پر سے اس کی قوم کے سردار تو وہ تمسخر (یعنی مذاق) کرتے (تو نوح) کہتے اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے جیسے تم ہنستے ہو
تو عنقریب تم جان لوگے کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر حائل ہوتا ہے دائمی عذاب (یعنی ہمیشہ کا عذاب)
یہاں تک کہ جب آیا ہمارا حکم اور ابل پڑا تنور، ہم نے کہا سوار کر لو اس (کشتی) میں ہر قسم کے جوڑے (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو بھی مگر انہیں (نہیں بٹھاؤ) جن کے متعلق طے ہو چکی ہے بات، اور جو ایمان لائے (انہیں بٹھالو) اور نہیں لائے تھے ایمان اس کے ساتھ مگر بہت تھوڑے لوگ
اور کہا سوار ہو جاؤ اسمیں اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا بیشک میرا رب غفور اور رحیم ہے
اور وہ (کشتی اللہ کے حکم سے) چل پڑی انہیں لے کر موجوں میں پہاڑ کی طرح اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کو وہ ایک کنارے پر تھا، کہ اے میرے بیٹے سوار ہو جاؤ ہمارے ساتھ، اور نہ ہو جاؤ کافروں کے ساتھ
کہا (بیٹے نے) میں جلد ہی پناہ لے لونگا کسی پہاڑ کی، وہ بچا لے گا مجھے پانی سے، کہا کوئی بچانے والا نہیں آج اللہ کے حکم سے، مگر جس پر وہ رحم کر دے اور حائل ہوگئی ان دونوں کے درمیان موج، تو ہو گیا وہ ڈوبنے والوں میں
اور کہا گیا اے زمین! نگل جا اپنا پانی، اور اے آسمان تھم جا اور پانی سکھا دیا گیا، اور فیصلہ تمام ہوا، اور ٹھہر گئی (کشتی چھ ماہ کے بعد) جودی پہاڑ پر، اور کہہ دیا گیا ظالم قوم سے کہ دور ہو جاؤ (اللہ کی رحمت سے)
اور پکارا نوح نے اپنے رب کو تو کہا اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے، اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے، اور تو احکم الحاکمین ہے
فرمایا اے نوح! بیشک وہ نہیں ہے تیرے گھر والوں میں سے، بیشک اس کا عمل غیر صالح (یعنی اچھا نہیں) ہے، تو تم مت سوال کرو مجھ سے جس کا تمہیں علم نہیں، میں نصیحت کرتا ہوں تمہیں کہ (اے نوح) تم نہ ہو جاؤ جاہلوں میں سے
کہا اے میرے رب! بیشک میں پناہ مانگتا ہوں تیری کہ سوال کروں تجھ سے جسکا مجھے علم نہیں، اور اگر تو نے مغفرت نہ کی میری اور رحم نہ کیا مجھ پے، تو میں ہو جاؤنگا خسارہ اٹھانیوالوں میں
کہا گیا اے نوح! اتر جاؤ (کشتی سے) ہماری سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر اور تمہارے ساتھ والوں پر ہے، اور بعض وہ امت جنہیں ہم فائدہ دیں گے پھر پہونچے گا انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب
(اے محمدؐ) یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم وحی کے ذریعے بتاتے ہیں آپ کو، نہ تھا آپ کو اسکا علم اور نہ آپ کی قوم کو اس سے پہلے، تو آپ صبر کریں، بیشک بہتر انجام متقیوں کے لئے ہے
اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (ہم نے بھیجا) کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمہارے لئے اسکے سوا کوئی معبود، تم صرف افتراء کرتے ہو (جھوٹ گھڑتے ہو)
اے میری قوم! میں نہیں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجر کا میرا اجر اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو اپنے رب سے پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ بھیجے گا آسمان سے تم پر لگا تار بارش، اور زیادہ کر دے گا تمہاری قوت در قوت کو، اور نہ پھرو تم مجرمین بن کر
کہا اے ہود! نہ آیا تو میرے پاس کوئی معجزہ لے کر اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سے، اور ہم نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر
ہم کہتے ہیں کہ چمٹ گیا ہے تجھ سے کوئی ہمارا معبود اسے برا کہنے کیوجہ سے، کہا بیشک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بری ہوں اس شرک سے جو تم کرتے ہو
اس کے سوا تو تم سب مل کر میرے خلاف چال چلو، پھر مجھے مہلت بھی نہ دو
میں نے توکل کیا ہے اللہ پر جو میرا اور تمہارا رب ہے، کوئی بھی ایسا جاندار نہیں (زمین پر) مگر یہ کہ اس کی پیشانی اس (اللہ) نے پکڑ رکھی ہے، بیشک میرے رب کا راستہ سیدھا ہے
پھر اگر تم پھر جاؤ گے تو بیشک میں نے پہونچا دیا تمہیں جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا تمہاری طرف، اور خلیفہ بنائے گا میرا رب کسی اور قوم کو تمہاری جگہ، اور تم کچھ بھی ضرر نہیں پہونچا سکو گے اسے، بیشک میرا رب ہر چیز پر محافظ ہے
اور جب آیا ہمارا حکم تو ہم نے نجات دی ہود اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو اپنی رحمت سے اور نجات دی ہم نے انہیں سخت ترین عذاب سے
اور یہ عاد تھے، جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا، اور نافرمانی کی اس کے رسولوں کی، اور انہوں نے اتباع کی ہر ایک جبار سرکش کی (یعنی ظالم اور نافرمان کی)
اور پیچھے لگا دی گئی اس دنیا میں بھی لعنت اور قیامت کے دن بھی، خبردار! بیشک عاد نے انکار کیا اپنے رب کا، خبردار! دور ہوئی عاد (اللہ کی رحمت سے جو) قومِ ہود ہے
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارا اس کے سوا کوئی معبود، اسی نے پیدا کیا تمہیں زمین سے اور آباد کیا تمہیں اس میں تو تم مغفرت طلب کرو اس سے اور توبہ کرو اس (رب) سے، بیشک میرا رب قریب ہے قبول کرنے والا
انہوں نے کہا اے صالح! ہمیں تم سے امید تھی اس سے پہلے کیا؟ تم ہمیں منع کرتے ہو کہ ہم نہ عبادت کریں جن کی عبادت کرتے تھے ہمارے باپ دادا اور ہم بڑے شک میں ہیں جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں
(صالح نے) کہا اے میری قوم! تمہارا کیا خیال ہے اگرچہ میں دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور آچکی ہے اسکی طرف سے میرے پاس رحمت، تو میری مدد کون کرے گا اللہ کی طرف سے اگر میں اسکی نافرمانی کروں، تو تم خسارے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتے میرے ساتھ
اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ہے (بطور) نشانی تو چھوڑ دو اسے اللہ کی زمین میں کھانے (پینے کے لیے) اور نہ چھونا اسے برائی سے ورنہ آپکڑے گا تمہیں جلد عذاب
پھر انہوں نے کاٹ دئے اس کے پاؤں تب صالح نے کہا فائدہ اٹھا لو تین دن تک اپنے گھروں میں، یہ وعدہ ہے (اللہ کا) جو جھوٹا نہ ہوگا
پھر جب آیا ہمارا حکم (عذاب کا) تو ہم نے نجات دی صالح کو اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے، بیشک تیرا رب زبردست قوت والا ہے
اور پکڑ لیا ان ظالموں کو چنگھاڑ (فرشتوں کی خوفناک آواز) نے تو وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے
(ایسے ہو گئے) گویا کہ وہ تھے ہی نہیں کبھی اس میں، خبردار! ثمود نے انکار کیا اپنے رب کا، خبردار! ثمود دور ہوئے (اپنے رب کی رحمت سے)
اور یقیناً آئے ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر، انہوں نے کہا سلام، اس نے بھی کہا سلام، تو فوراً ہی لے کر آئے بھنا ہوا بچھڑا
جب دیکھا ان (فرشتوں) کے ہاتھ نہیں پہونچ رہے ہیں اس کی طرف، تو انہیں برا لگا ان سے اور تجسس ہوا خوف کا، انہوں نے کہا خوف نہ کرو بیشک ہم بھیجے گئے ہیں لوط کی قوم کی طرف
اور اس کی عورت کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی پھر ہم نے اسے بشارت دی اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بھی
بولیں ہائے توبہ کیا میں جنوں گی؟ میں تو بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں بیشک یہ تو عجیب بات ہے
انہوں نے کہا کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم پر (جب کہ) اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں تم پر اے گھر والو، بیشک وہ (اللہ) تعریف والا بزرگی والا ہے
پھر جب دور ہوا ابراہیم سے رعب (یعنی ڈر) اور آئی (یعنی مل گئی) اسے خوشخبری تو وہ جھگڑنے لگا ہم سے قوم لوط کے بارے میں
بیشک ابراہیم بردبار نرم دل اور رجوع کرنے والا تھا (اللہ کی طرف)
اے ابراہیم! اعراض کرو ان باتوں سے (یعنی چھوڑ دو) بیشک آ چکا ہے حکم تیرے رب کا، اور بیشک آئے گا ان پر عذاب جو رد ہونے والا نہیں
اور جب آئے ہمارے فرشتے لوط کے پاس تو برا محسوس ہوا اسے اور تنگ ہو گیا ان کی وجہ سے دل اور کہا آج کا دن بڑا سخت ہے
اور آئی اس کے پاس اس کی قوم دوڑتی ہوئی (یعنی لوط کے پاس آئی) اور یہ لوگ پہلے سے ہی برے کام کیا کرتے تھے، کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں یہ پاک ہیں تمہارے لیے (تم نکاح کرلو) تم اللہ سے ڈرو، اور مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کے سامنے، کیا تم میں کوئی بھی نیک آدمی نہیں؟
انہوں نے کہا یقیناً تجھے معلوم ہے نہیں ہے ہمیں تیری بیٹیوں میں کوئی دلچسپی، اور یقیناً تجھے معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں
کہا کاش! کہ مجھے تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی، یا میں پناہ لے پاتا کسی زبردست سہارے کی
فرشتوں نے کہا اے لوط! ہرگز یہ نہ پہونچ سکیں گے تم تک، تم نکلو اپنے گھرانے کو لے کر رات کے کسی حصے میں، اور کوئی مڑ کر نہ دیکھے تم میں سے مگر تیری بیوی (دیکھے گی) بیشک وہ مصیبت اس کو پہونچنے والی ہے جو ان سب کو پہونچے گی، بیشک ان کا (عذاب کا) وقت صبح کا ہے، کیا صبح قریب نہیں؟
تو جب آیا ہمارا حکم تو ہم نے اس کے اونچے کو نیچے کر دیا اور ہم نے برسائیں ان پر پتھروں کی کنکریاں تہ بہ تہ (کہ کون سی کنکری کسے لگے گی)
نشان زدہ تھی (کنکریاں) تیرے رب کی طرف سے، اور یہ بستیاں (اردن کی) ان ظالمین (مکہ) سے دور نہیں
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (کو بھیجا) کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارے لئے کوئی معبود اس کے سوا، اور نہ کمی کرو ناپ اور تول میں، بے شک میں دیکھتا ہوں تمہیں بخیر (یعنی خوشحال) اور میں ڈرتا ہوں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے
اور اے میری قوم! پورا کرو ناپ اور تول کو انصاف سے، اور نہ کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں، اور نہ پھرو زمین میں فسادی بن کر (ناپ اور تول میں کمی بھی اللہ کے نزدیک بڑا جرم ہے)
اللہ کا دیا ہوا (بغیر کمی کے) بہتر ہے تمہارے لیے، اگر تم مؤمن ہو، اور میں تم پر محافظ نہیں (کہ جبر کروں بس سمجھا سکتا ہوں)
انہوں نے کہا اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں ان (بتوں) کو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، یا ہم نہ کریں اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں، بیشک تو بہت بھولا آدمی ہے
کہا اے میری قوم! تمہارا کیا خیال ہے اگر چہ میں دلیل پے ہوں اپنے رب کی طرف سے اور اس نے مجھے رزق دیا ہے اپنی طرف سے بہتر رزق، اور میرا ارادہ ایسا نہیں ہے کہ میں خلاف کروں تمہارے سامنے اس کام میں جس سے میں منع کرتا ہوں تم کو، میرا ارادہ صرف اصلاح کا ہے جہاں تک میری طاقت ہے اور مجھے توفیق اللہ کی طرف سے ہے، اسی پے میں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
اور اے میری قوم! ہرگز جرم پے آمادہ نہ کرے تمہیں میری ضد کہ پہونچے تمہیں وہ مصیبت جو مصیبت پہونچی قومِ نوح یا قومِ ہود یا قومِ صالح کو اور لوط کی قوم تم سے دور نہیں (آج مدین معان کے نام سے جانا جاتا ہے جو اردن میں ہے)
اور مغفرت طلب کرو اپنے رب سے، پھر رجوع کرو اس کی طرف، بیشک میرا رب مہربان محبت کرنے والا ہے
انہوں نے کہا اے شعیب! ہم بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تم کہتے ہو، اور بیشک ہم کمزور دیکھتے ہیں تمہیں اپنے بیچ اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم سنگسار کر دیتے تجھے، اور تو ہم پر کوئی زور نہیں رکھتا
کہا اے میری قوم! کیا میرا کنبہ ہونا زیادہ عزت کی بات ہے تمہارے لئے اللہ کے نزدیک اور تم نے ڈال دیا ہے اس (کے احکام) کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے بیشک میرے رب نے احاطہ کر رکھا ہے تمہارے اعمال کا
اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو میں بھی عمل کرتا ہوں (اپنی جگہ) عنقریب تم جان لو گے کس پر آتا ہے رسوا کرنے والا عذاب، اور کون جھوٹا ہے اور تم انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
اور جب آ گیا ہمارا حکم تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو اپنی رحمت سے، اور آ پکڑا ظالموں کو چنگھاڑ نے تو وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے (یعنی منہ کے بل گرے ہوئے اس طرح کے)
گویا وہ تھے ہی نہیں اس میں (کبھی) خبردار! دور ہوئے مدین جیسے دور ہوئے ثمود (اللہ کی رحمت سے)
اور یقیناً ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ
فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس، تو انہوں نے اتباع کی فرعون کے حکم کی، اور فرعون کے حکم میں کوئی بھلائی نہ تھی
وہ آگے ہوگا اپنی قوم کے قیامت کے دن، پھر انہیں وارد (یعنی داخل) کرے گا آگ میں، اور کیا ہی بری جگہ ہے جہاں وہ وارد ہوگا
اور لگا دی گئی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن تک کے لیے بھی، کیا ہی برا انعام ہے جو انہیں دیا جائے گا
یہ ان بستیوں کی خبریں ہیں جنہیں ہم سنا رہے ہیں تجھے، ان میں (کچھ تو) قائم ہیں، اور کچھ مٹ چکی ہیں
اور ہم نے نہیں ظلم کیا ان پر اور لیکن انہوں نے ظلم کیا اپنے اوپر اور نہ فائدہ پہونچایا انہیں ان کے معبودوں نے جنہیں وہ پکارتے تھے اللہ کے سوا کچھ بھی، جب آیا حکم تیرے رب کا اور سوائے تباہی کے کچھ زیادہ نہ کیا انہیں (ان کے معبودوں نے)
اور اسی طرح پکڑتا ہے تیرا رب جب پکڑتا ہے کسی بستی کو اور وہ ظالم ہو تو بے شک اس کی پکڑ سخت تکلیف دہ ہوتی ہے
بے شک ان (بستیوں) میں نشانی ہے اس کیلئے جو ڈرتا ہے آخرت کے عذاب سے یہ دن ہے جمع ہونے کا لوگوں کے لیے، اور یہ حاضری کا دن ہے (جو قیامت کا دن ہے)
اور ہم مہلت دیتے ہیں اسے تھوڑی مدت کے لیے
جب وہ دن آئے گا تو کوئی شخص بات نہ کر سکے گا اس (اللہ) کی اجازت کے بغیر اور ان میں بعض شقی (بد بخت) اور بعض سعید (نیک) ہیں تو جو شقی ہیں وہ آگ میں ہوں گے
ان کے لئے اس میں چیخ و پکار ہوں گی
ہمیشہ رہیں گے اس میں جب تک قائم ہیں آسمان اور زمین (یعنی ہمیشہ کے لئے) مگر جو چاہے تیرا رب، بے شک تیرا رب خوب کرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے
اور جو سعید (یعنی نیک) ہیں وہ جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں جب تک قائم ہیں آسمان اور زمین، مگر جو تیرا رب چاہے، یہ عطا ہوگی جو ختم نہ ہوگی
تو نہ ہو جاؤ تم شک میں جن کی عبادت یہ کرتے ہیں، یہ ایسی ہی عبادت کرتے ہیں جس طرح ان کے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں ان سے پہلے، اور بیشک ہم پورا دیں گے انہیں (عذاب کا) ان کا حصہ بغیر کسی کمی کے
اور یقیناً ہم نے عطا کی موسیٰ کو کتاب (تورات) پھر اختلاف کیا گیا اس میں، اور اگر (قیامت کی) بات طے نہ ہوتی تیرے رب کی طرف سے تو فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بیشک وہ شک ہی شک میں ہیں
اور بیشک سب کو پورا بدلہ دے گا تیرا رب ان کے اعمال کا، بیشک وہ باخبر ہے اس سے جو کچھ وہ کر رہے ہیں
تو تم قائم رہو اس پے جو حکم تجھے دیا گیا ہے، اور (وہ بھی قائم رہیں) جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی اور حد سے نہ بڑھو، بیشک وہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
اور مت جھکو ان کی طرف جو ظلم (یعنی کفار) ہیں ورنہ چھوئے گی تمہیں بھی آگ اور نہ ہوگا تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی مددگار، پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی
اور نماز قائم کرو دن کے دونوں طرف (فجر سے مغرب تک) اور کچھ حصہ رات میں، بیشک نیکیاں دور کردیتی ہیں برائیوں کو، یہ نصیحت ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے
اور صبر کرو بیشک اللہ ضائع نہیں کرتا محسنین (یعنی نیکی کرنے والوں) کے اجر کو
تو کیوں نہ ہوئے ان (پچھلی) امتوں میں تم سے پہلے اولوبقیۃ (یعنی علماء، اور اللہ والے) (جو) روکتے فساد پھیلانے سے ملک میں مگر چند لوگ ہوئے جنہیں ہم نے بچا لیا ان میں سے، اور ظالموں نے اتباع کی اپنے میں کے خوش عیش لوگوں کی، اور جو مجرم تھے ان کی
اور تمہارا رب ہلاک نہیں کرتا بستیوں کو ظلم کی وجہ سے، اور (اگر وہاں کے) رہنے والے مصلح (یعنی نیک لوگ) ہوں
اور اگر چاہتا تمہارا رب تو بنا دیتا لوگوں کو ایک امت میں، اور وہ (پچھلے لوگ بھی) مسلسل اختلاف کرتے رہے
مگر جس پر رحم کر دے تمہارا رب، اور اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے، اور طے ہے تمہارے رب کی یہ بات کہ میں ضرور بھر دونگا جہنم کو تمام جنوں اور انسانوں سے
اور ہم ان تمام رسولوں کی خبریں تم پر اس لیے بیان کرتے ہیں کہ ہم ثابت رکھیں ان کے ذریعے تمہارے دل کو، اور آچکا تمہارے پاس ان خبروں کے ذریعے حق اور نصیحت اور یاد دہانی مومنوں کے لیے
اور کہہ دو ان (کفار اور مشرکین) سے جو ایمان نہیں لاتے کہ تم عمل کرو اپنی جگہ، ہم اپنی جگہ عمل کرتے ہیں
اور تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں
اور اللہ ہی جانتا ہے غیب کی بات آسمانوں اور زمین کی، اور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ کرو، اور تمہارا رب غافل نہیں ہے اس عمل سے جو تم کیا کرتے ہو
سورۃ 12
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ال، ر، یہ آیتیں ہیں روشن کتاب (قرآن) کی
بیشک ہم نے نازل کیا ہے اس قرآن کو عربی زبان میں تاکہ تم لوگ سمجھ سکو (اس قرآن کو)
(اے نبیؐ) ہم بیان کرتے ہیں تم پر بہترین قصے جیسا کہ ہم نے وحی کی تیری طرف اس قرآن کو، اور اگرچہ تم تھے اس (قصۂ یعقوب اور یوسف) سے پہلے غافل
جب کہا یوسف نے اپنے باپ سے کہ اے میرے ابا! میں نے (خواب میں) دیکھا ہے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو، میں نے دیکھا ہے انہیں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
کہا اے میرے بیٹے! مت بیان کرنا اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے (ورنہ) وہ تیرے خلاف چال چلیں گے، بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
اور (اے یوسف) اسی طرح چن لے گا تجھے تیرا رب اور سکھائے گا تجھے تیرے خواب کی تعبیر، اور پوری کرے گا اپنی نعمتیں تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر، جیسا کہ (اللہ) پوری کر چکا ہے اسے تیرے باپ دادا پر اس سے پہلے ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام) پر، بیشک تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے
یقیناً ہیں یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں نشانیاں سوال کرنے والوں کے لیے
جب کہا (بھائیوں نے) یوسف اور اس کا بھائی زیادہ محبوب ہیں ہمارے ابا کو ہم سے اور ہم طاقتور جماعت ہیں، بیشک ہمارے ابا کھلی غلطی پر ہیں
قتل کر دو یوسف کو یا پھینک دو اسے کسی زمین میں، تاکہ خالی ہو جائے تمہارے لئے تمہارے باپ کی توجہ، اور تم ہو جاؤ اسکے بعد صالح (یعنی چہیتے) لوگ
کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے، کہ قتل نہ کرو یوسف کو، اور ڈالدو اسے ویران کنوئیں میں، تاکہ اٹھا لے جائے اسے کوئی قافلہ، اگر تم کرنے ہی والے ہو (تو)
انہوں نے کہا اے ہمارے ابا کیا ہو گیا ہے آپ کو کہ آپ ہم پر یقین نہیں کرتے یوسف (کے معاملے) پر اور ہم تو اسکے ناصح (یعنی خیر خواہ) ہیں
بھیج دیجئے اسے ہمارے ساتھ کل وہ کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اسکے محافظ ہیں
اس نے کہا مجھے غم ہوتا ہے اس سے کہ تم لے جاؤ اسے اور میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کھا جائے اسے بھیڑیا اور تم اس سے غافل رہو
انہوں نے کہا اگر اسے کھا جائے بھیڑیا، اور ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، بیشک ہم اس وقت خسارہ (یعنی نقصان) اٹھانے والے ہوں گے
تو جب وہ گئے اسے لے کر اور جمع ہو گئے اس پر کہ اسے ڈال دیں ویران کنوئیں میں، تو ہم نے وحی کی یوسف کی طرف کہ تو ضرور بتائے گا انہیں (ایک دن) ان کے اس کام کو اور وہ نہیں پہچانیں گے (تجھے)
اور وہ سب آئے اپنے باپ کے پاس رات میں روتے ہوئے
کہا اے ہمارے ابا! ہم گئے اور آگے نکل گئے (دوڑنے میں) اور ہم نے چھوڑ دیا تھا یوسف کو اپنے سامان کے پاس تو کھا گیا اسے بھیڑیا اور آپ یقین نہیں کریں گے ہم پر اور اگرچہ ہم سچے ہیں
اور وہ لے آئے تھے اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر، اس نے کہا نہیں بلکہ تم نے گھڑ لی ہے خود سے ایک بات، تو اب صبر ہی بہتر ہے، اور اللہ ہی مدد گار ہے اس (بات) پر جو تم بیان کر رہے ہو
اور آیا ایک قافلہ تو انہوں نے بھیجا اپنے پانی بھرنے والے کو، تو اس نے ڈالا اپنا ڈول، بولا ہائے خوش خبری! یہ تو بچہ ہے، اور انہوں نے چھپا لیا اسے تجارت کا مال سمجھ کر، اور اللہ خوب جان رہا تھا جو کچھ وہ کر رہے تھے
اور (بھائیوں نے) بیچ دیا اسے معمولی قیمت پر چند درہم میں (تقریباً بیس درہم میں) اور وہ اس (یوسف کے معاملے) سے ناواقف تھے
اور کہا (عزیزِ مصر قطیفار نے) جس نے خریدا تھا اسے مصر سے اپنی عورت سے، کہ اس کی عزت کرنا ممکن ہے یہ نفع دے ہمیں، یا ہم بنا لیں گے اسے بیٹا، اور اس طرح ہم نے بسایا یوسف کو (ملک مصر کی) زمین میں، اور تاکہ ہم سکھائیں اسے باتوں کی تعبیر، اور اللہ غالب ہے اپنے کام (اور تمام احکام) پر اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور جب وہ پہونچا اپنی جوانی کو، تو ہم نے عطا کیا اسے حکم اور علم اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین (یعنی نیک لوگوں) کو
اور بہکایا اسے اس عورت (زلیخا) نے جس کے گھر میں (یوسف) تھا، اور عورت نے بند کر لیے دروازے اور کہنے لگی آؤ، اس نے کہا اللہ کی پناہ، بے شک میرے رب نے مجھے بہتر ٹھکانا دیا ہے، بے شک ظالم فلاح نہیں پاتے
اور یقیناً اس عورت نے تو اس کا ارادہ کر لیا تھا، اور وہ بھی کر لیتے اگر اپنے رب کی (نبوت کی) دلیل نہ دیکھ لیتے اسی طرح ہوا، تاکہ ہم پھیر دیں اس سے برائی اور بے حیائی، بیشک وہ ہمارے مخلصین (یعنی خاص) بندوں میں سے تھا
اور دونوں دوڑے دروازے کی طرف اور پھاڑ دی عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے، اور دونوں نے پایا عورت کے خاوند کو دروازے کے پاس، کہنے لگی کہ کیا سزا ہو جو ارادہ کرے تمہاری اہلیہ سے برائی کا، یا تو قید کیا جائے یا درد ناک سزا دی جائے
(یوسف نے) کہا اسی نے مجھے بہکایا ہے، اور شہادت دی ایک شاہد نے عورت کے گھرانے میں سے (ایک چار مہینے کے بچے نے) کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے، اور یہ (یوسف) جھوٹا ہے
اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو یہ (زلیخا) جھوٹی ہے اور وہ (یوسف) سچا ہے
پھر جب دیکھا (عزیز مصر نے) اس کا کرتا پھٹا ہوا پیچھے سے، تو کہا (اپنی بیوی سے) بیشک یہ تمہاری چال ہے بیشک تمہاری چال بہت بڑی ہے
یوسف اعراض کرو تم اس معاملے سے، اور تو (اے عورت) استغفار کر اپنے گناہ سے بیشک تو ہی خطا کاروں میں سے ہے
اور کہنا شروع کیا شہر کی عورتوں نے، کہ عزیز کی عورت (زلیخا) نے پھسلا رکھا ہے اپنے غلام کو، بیشک اس کی محبت میں فریفتہ ہو گئی ہے، ہم اس (عورت زلیخا) کو کھلی غلطی پر دیکھتی ہیں
پھر جب سنی (عزیز کی بیوی زلیخا نے) ان کی ملامت، تو ان (عورتوں) کو بلا بھیجا، اور تیار کی ان کے لئے ایک مجلس، اور دی ان میں سے ہر ایک کو چھری اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے نکل آؤ، پھر جب انہوں نے دیکھا اسے تو بڑی بات ہو گئی، اور کاٹ لیے سبھوں نے اپنے ہاتھوں کو اور کہا ہائے اللہ! یہ انسان نہیں، یہ تو مکرم (یعنی نیک) فرشتہ ہے
(زلیخا نے) کہا یہی ہے وہ جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھیں اور یقیناً میں نے ہی بہکایا تھا اسے پر یہ بچے رہے، اور اگر اس نے نہ کیا وہ جو میں حکم دیتی ہوں اسے، تو یہ ضرور قید کر لیا جائے گا اور ہو جائے گا ذلیلوں میں سے
کہا اے میرے رب! قید خانہ زیادہ بہتر ہے میرے لیے، اس سے جس کی طرف یہ بلا رہی ہیں مجھے اور اگر تو نہ پھیرے گا مجھ سے ان کی چال کو تو میں پہونچ جاؤنگا ان کی طرف، اور میں ہو جاؤنگا جاہلوں میں سے
تو قبول کی اس کی دعا ان کے رب نے تو پھیر دی اس سے ان (عورتوں) کی چال کو، بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے
پھر ظاہر ہو گیا ان کے سامنے اس کے بعد جو انہوں نے دیکھی نشانیاں (الزام دبانے کیلئے) اسے قید کر دیا ایک مدت تک
اور داخل ہوئے اسکے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان، ان میں سے ایک نے کہا میں دیکھتا ہوں (خواب میں) کہ شراب نچوڑ رہا ہوں، اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ میں نے اٹھا رکھی ہے اپنے سر پر روٹی (کی ٹوکری) کھا رہے ہیں پرندے اس سے، بتاؤ ہمیں اس کی تعبیر، ہم تجھے نیکو کار میں سے سمجھتے ہیں
کہا نہیں آئے گا تم دونوں کا کھانا جسے تم بطور رزق کھاتے ہو، مگر میں بتا دونگا تم دونوں کو اسکی تعبیر اسکے آنے سے قبل، یہ وہ چیزیں ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی ہیں، بیشک میں نے چھوڑ دی ہے ان لوگوں کی ملت جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر، اور وہ آخرت کے بھی انکاری ہیں
اور میں نے اتباع کی ہے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کی، ممکن نہیں ہمارے لئے کہ ہم شریک ٹھہرائیں اللہ کے ساتھ کسی بھی شئے کو، یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر بھی، اور لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
اے قید خانے کے ساتھیو! کیا متفرق (یعنی جدا جدا) رب بہتر ہیں، یا اکیلا اللہ جو زبردست ہے؟
جس کی تم عبادت کرتے ہو اس کے سواء وہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھے ہیں نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل، حکومت سوائے اللہ کے کسی کی نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ تم نہ عبادت کرو اس کے سواء (کسی اور کی) یہ قائم دین ہے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اے قید خانے کے ساتھیو! تم دونوں میں کا ایک پلائے گا اپنے آقا کو شراب، اور دوسرے کو سولی دی جائے گی، پھر کھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے فیصلہ کیا جا چکا ہے جس کے بارے میں تم دونوں سوال کر رہے ہو
اور کہا (یوسف نے) جس کے بارے میں گمان تھا کہ وہ نجات پائے گا ان دونوں میں سے، کہ تم تذکرہ کرنا میرا اپنے آقا کے پاس، پھر بھلا دیا اسے شیطان نے تذکرہ کرنا اپنے آقا سے، تو (یوسف) ٹھہرے رہے قید میں کئی اور سال (سات برس، پانچ پہلے رہ چکے تھے)
اور کہا بادشاہ (ولید بن نردان) نے کہ میں (خواب میں) دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں کھا جاتی ہیں سات دبلی گائیں، اور سات ہری بالیاں اور سات خشک بالیاں (خواب میں دیکھتا ہوں) اے دربار یو! بتاؤ مجھے میرے خواب کی تعبیر، اگر تم خواب کی تعبیر جانتے ہو؟
انہوں نے کہا یہ خیالی خواب ہیں، اور ہم نہیں جانتے (اس طرح کے) خیالی خوابوں کی تعبیر
اور کہا وہ جو نجات پا گیا تھا دونوں میں سے، اور یاد آیا اسے ایک مدت کے بعد، کہ میں بتلاؤں گا تمہیں اس کی تعبیر، تو تم بھیجو مجھے
اے یوسف اے میرے دوست! بتائیں ہمیں (تعبیر) کہ سات موٹی گائیں ہیں (جنہیں) کھا جاتی ہیں سات دبلی گائیں، اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں، تاکہ میں لوٹ جاؤں لوگوں کی طرف اور انہیں بھی معلوم ہو جائے
کہا (حضرت یوسف نے) تم کھیتی کرنا سات سالوں تک لگا تار، پھر جو تم کاٹو (فصل تو اسے) چھوڑ دینا اس کی بالیوں میں، مگر تھوڑا جو تم کھاؤ (اسے بالیوں سے نکال لینا)
پھر آئیں گے اس کے بعد سات سخت سال (قحط سالی کے) کھائیں گے جو تم نے جمع کیا تھا ان (قحط) کے لئے، مگر تھوڑا تم روک رکھنا (بیج کیلئے)
پھر آئے گا اس کے بعد ایک سال، اس میں بارش برسائی جائے گی لوگوں پر، اور اس میں وہ نچوڑیں گے (رس یا شراب وغیرہ)
اور بادشاہ نے کہا لے آؤ میرے پاس اسے، پھر جب آیا قاصد اسکے پاس، تو کہا لوٹ جاؤ اپنے آقا کے پاس، اور پوچھو ان سے ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا؟ جنہوں نے کاٹ لئے تھے اپنے ہاتھ، بیشک میرا رب ان کی چال کو خوب جانتا ہے
(بادشاہ نے) کہا تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو پھسلایا تھا، انہوں نے کہا اللہ کی پناہ ہمیں نہیں معلوم ہوئی اس میں کوئی برائی عزیز کی عورت (زلیخا) بولی کہ اب ظاہر ہو گیا ہے سچ، میں نے ہی اسے پھسلایا تھا، اور بیشک وہ سچے لوگوں میں سے ہے
یہ اس لیے کیا تاکہ جان لیں (عزیز مصر) کہ بیشک میں نے خیانت نہیں کی ان کے ساتھ غائبانے میں، اور بیشک اللہ نہیں رہنمائی کرتا خائنین کی چال میں