گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو اجازت طلب کرتے ہیں تم سے اور وہ غنی (یعنی مالدار) ہیں وہ راضی ہیں کہ ہو جائیں پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ، اور اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں پر، تو وہ جانتے نہیں
سورۃ 9
(منافقین) عذر کریں گے جب تم ان کی طرف واپس جاؤ گے (غزوہء تبوک سے) کہہ دو تم عذر مت کرو ہم ہرگز یقین نہیں کریں گے تم پر، یقیناً بتا دی ہیں ہمیں اللہ نے تمہاری خبریں، اور عنقریب دیکھے گا اللہ تمہارے عمل کو اور اس کا رسول بھی، پھر تم لوٹائے جاؤ گے (قیامت کے دن) غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف، تو وہ بتلا دے گا تمہیں جو عمل تم کیا کرتے تھے
(منافقین) عنقریب قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمہارے سامنے جب تم لوٹو گے ان کی طرف (غزوہء تبوک سے) تاکہ تم اعراض کرو ان سے (یعنی معاف کر دو انہیں) تو معاف کر دو انہیں، بیشک وہ ناپاک ہیں، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، یہ بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے
وہ قسمیں کھائیں گے تمہارے سامنے تاکہ تم راضی ہو جاؤ ان سے، اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ، تو بھی اللہ راضی نہیں ہوتا فاسقوں (یعنی نافرمانوں) سے
اعرابی (یعنی دیہاتی) بہت سخت ہیں کفر اور نفاق (دوغلا پن) میں، اور اسی قابل ہیں کہ وہ نہ جانیں حدود جو نازل فرمائے ہیں اللہ نے اپنے رسول پر، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اور بعض اعرابی (یعنی دیہاتی) ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان (یعنی جرمانہ) اور انتظار کرتے ہیں تمہارے لئے مصیبت کا، ان ہی پر بری مصیبت ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
اور بعض اعرابی (یعنی دیہاتی) ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور سمجھتے ہیں اپنے خرچ کو قربت کا ذریعہ اللہ کے پاس اور رسول کی دعاء کا ذریعہ، خبردار! بیشک وہ قربت کا ذریعہ ہے ان کے لئے، عنقریب داخل کرے گا انہیں اللہ اپنی رحمت میں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
جو لوگ آگے اور پہلے ہجرت کرنے والوں میں اور مدد دینے والوں میں ہیں، اور جنہوں نے اتباع کی ان (پہلوں) کی بھلائی میں، راضی ہوا اللہ ان (صحابہ) سے اور وہ راضی ہوئے اس سے، اور ان کے لیے جنت ہیں جاری ہیں جن کے نیچے نہریں، ان (جنتوں) میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے
اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں سے (بعض دیہاتی) منافق اور بعض اہل مدینہ بھی اڑے ہوئے ہیں نفاق پر تم انہیں نہیں جانتے (معلوم ہوا کہ نبی غیب نہیں جانتے) ہم انہیں جانتے ہیں، ہم سزا دیں گے انہیں دوگنی پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف
اور دوسرے ایسے (مسلمان) ہیں جنہوں نے اعتراف (یعنی اقرار) کیا ہے اپنے گناہوں کا، خلط ملط (یعنی ملے ہوئے) ہیں ان کے نیک اور دوسرے بد عمل ممکن ہے اللہ توبہ قبول کرے ان کی بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
قبول کرو ان کے مالوں میں سے صدقہ (تاکہ) پاک کر دے انہیں اور صاف کر دے انہیں اسکے ذریعے اور دعاء کرو ان کیلئے بیشک تمہاری دعاء سکون کا ذریعہ ہے ان کیلئے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
کیا نہیں جانتے یہ کہ بیشک اللہ ہی قبول فرماتا ہے توبہ اپنے بندوں کی، اور صدقات کو قبول فرماتا ہے، اور بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
اور کہہ دو عمل کرو تو عنقریب دیکھ لیں گے اللہ تمہارے کام کو اور اس کے رسول اور مومنین، اور عنقریب تم لوٹائے جاؤ گے غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف، پھر وہ بتا دے گا تمہیں جو کچھ تم عمل کرتے تھے
اور دوسرے بعض امید وار ہوں گے اللہ کے حکم کے چاہے عذاب دے انہیں یا معاف کر دے انہیں، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اور جنہوں نے بنائی مسجد ضرر (یعنی نقصان) پہونچانے اور کفر کرنے اور مومنوں میں تفریق ڈالنے کے لیے، اور گھات لگانے کے لیے ان لوگوں کے جو جنگ کر چکے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے پہلے اور ضرور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا ارادہ تو اچھائی کا تھا، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں
آپ قیام نہ کریں اس (مسجد) میں کبھی بھی، یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی ہو پہلے دن سے ہی وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں قیام کرو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں، اور اللہ پسند کرتا ہے پاک رہنے والوں کو
تو جس کی بنیاد رکھی گئی ہو تقوے پر اللہ کی جانب سے اور اس کی رضاء پر وہ بہتر ہے؟ یا وہ بہتر ہے جس کی بنیاد رکھی گئی ہو ایک گرنے والے گڑھے کے کنارے پر؟ تو گر جاؤ اس کے ساتھ جہنم کی آگ میں (اے منافقوں!) اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو
مسلسل ان کی بنیاد جو انہوں نے بنائی شک ڈالتی رہے گی ان کے دلوں میں اور یہ کہ ٹکڑے ہوتے رہیں گے ان کے دل، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
بیشک اللہ نے سودا کر لیا ہے مومنین سے ان کی جان اور ان کے مال کے بدلے میں جنت کا، وہ جنگ لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں، تو وہ قتال کرتے ہیں اور قتل کیے بھی جاتے ہیں (اللہ کا یہ) وعدہ ہے ان کیلئے برحق تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور جس نے پورا کیا اپنا وعدہ اللہ سے کیا ہوا تو تم (اے نبی) بشارت دو اپنے اس بیع (یعنی تجارت) کی جو تم نے اس سے کی، اور یہ (بشارت اور تجارت یقیناً) بڑی کامیابی ہے
توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، حکم کرنے والے اچھے کاموں کا، اور روکنے والے بری باتوں سے، اور حفاظت کرنے والے اللہ کے حدود کی (یہ مؤمنین ہیں) اور بشارت دے دو مومنوں کو
نہیں مناسب نبی اور ایمان والوں کو کہ مغفرت کی دعاء کریں مشرکوں کیلئے، اگرچہ وہ قرابتدار (یعنی رشتے دار ابو طالب اور ابوجہل ہی کیوں نہ) ہوں، بعد اس کے کہ بیان ہو چکا ان (نبی) کے سامنے کہ بیشک وہ جہنمی ہیں
اور ابراہیم کا اپنے باپ (آزر) کے لیے استغفار کرنا ایک وعدے کے تحت تھا جو وعدہ (ابراہیم) اس سے کر چکے تھے پھر جب بیان ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو بری (یعنی بے تعلق) ہو گئے اس سے بیشک ابراہیم نرم دل بردبار (برداشت کرنیوالے) تھے
اور اللہ نہیں گمراہ کرتا کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد، یہاں تک کہ وہ بیان کر دیتا ہے ان کے سامنے جن چیزوں سے انہیں بچنا ہے، بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے
بیشک اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین میں، وہ حیات دیتا ہے اور موت دیتا ہے، اور نہیں ہے تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ ہی مددگار
یقیناً توبہ قبول کی اللہ نے نبی کی اور مہاجرین اور انصار کی جنہوں نے اتباع کی ان کی (یعنی نبی کی) ساعتِ عسرت (یعنی پریشانی کے وقت، جنگِ تبوک) میں بعد اس کے کہ ٹیڑھے ہو گئے تھے ان میں سے بعض فریق کے دل، پھر توبہ قبول کی ان کی بیشک وہ ان پر شفیق اور رحیم ہے
اور وہ تین (کعب، مرارہ، اور ہلال رض) جو پیچھے رہ گئے تھے (جنگ تبوک میں جانے سے) یہاں تک کہ تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے، اور تنگ ہو گئیں ان پر ان کی جانیں، اور یقین ہو گیا کہ کوئی پناہ نہیں سوائے اسی کی طرف آنے کے، پھر توبہ کی توفیق دی انہیں تاکہ وہ توبہ کریں، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے اور ہو جاؤ سچوں کے ساتھ
نہیں تھا مناسب مدینہ والوں اور ان کے آس پاس کے دیہاتیوں کے لئے کہ وہ پیچھے رہ جائیں (جنگ تبوک میں) اللہ کے رسول سے، اور نہ ترجیح دیں اپنی جانوں کو اس کی جان پر، یہ اس لیے ہے کہ جو تکلیف پہونچتی ہے انہیں پیاس اور تھکن اور بھوک اللہ کی راہ میں (جنگ کی حالت میں) یا وہ چلتے ہیں ایسی جگہ جو کفار کو غیظ و غضب دلائے، اور یا وہ پاتے ہیں دشمن (کافروں) سے کوئی چیز ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بیشک اللہ نہیں ضائع کرتا محسنین کے اجر کو (یعنی نیکی کرنے والوں کے اجر کو)
جو لوگ خرچ کرتے ہیں (مال اللہ کے راستے میں) تھوڑا ہو یا زیادہ یا گزرتے ہیں کسی وادی سے، تو لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے، تاکہ بدلہ دے انہیں اللہ بہتر ان کے ان اعمال کا جو وہ کیا کرتے ہیں
اور نہیں ہونا چاہئے ایسا کہ سارے مؤمن نکل پڑیں (جنگ کے میدان میں) تو کیوں نہ نکلیں ہر فرقے میں سے چند گروہ تاکہ تفقہ فی الدین (یعنی دین میں سمجھ) پیدا کریں، اور ڈرائیں اپنی قوم کو جب لوٹیں اپنی قوم کی طرف، تاکہ وہ بھی ڈریں
اے ایمان والو! جنگ کرو اپنے نزدیک کے کافروں سے (پہلے، اور بعد میں دور دراز کے کافروں سے) اور چاہیے کہ وہ پائیں تم میں سختی، اور جان لو کہ بیشک اللہ متقیوں کے ساتھ ہے
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت تو ان (منافقین) میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس (سورت) نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کیا؟ تو جو ایمان والے ہیں ان کا اور زیادہ ہو جاتا ہے ایمان اور وہ خوشیاں مناتے ہیں
اور جن کے دلوں میں مرض ہے (یعنی ایمان سے خالی ہے) تو زیادہ ہو جاتی ہے ان (کے کفر) کی گندگی در گندگی اور (ایسے کافر جب) مرتے ہیں تو کفر کی حالت میں ہی مرتے ہیں
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک یہ (کفار جنگ اور پریشانی کے ذریعے) آزمائے جاتے ہیں ہر سال ایک مرتبہ یا دو مرتبہ، پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے (تو) ان میں ایک (منافق) دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی مسلمان تمہیں (یعنی انہیں) دیکھ تو نہیں رہا ہے، پھر (نظر بچا کر) نکل جاتے ہیں، اللہ نے پھیر دیے ہیں ان کے دل، اسلئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے
یقیناً آئے تمہارے پاس رسول تم ہی میں سے گراں گزرتی ہے اس پر وہ تکلیف جو تمہیں پہونچتی ہے، وہ حریص (یعنی فکر مند) ہے تمہاری بھلائی پر، مؤمنوں پر شفیق اور مہربان ہے
پھر اگر یہ (منافقین اور کفار) پھر جائیں تو کہہ دو کہ کافی ہے مجھے اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں توکل کرتا ہوں، اور وہ رب ہے عرشِ عظیم کا
سورۃ 10
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ال، ر، یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب (قرآن) کی
کیا لوگوں کو تعجب ہے (اس بات سے) کہ ہم نے وحی کی ایک شخص پر ان ہی میں سے کہ ڈراؤ لوگوں کو، اور بشارت دو ایمان والوں کو، ان کے لئے مبارک قدم (یعنی مرتبہ) ہے ان کے رب کے پاس کافر کہتے ہیں کہ بیشک یہ (نبی) جادوگر ہے کھلا ہوا
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر قائم ہوا عرش پر، وہی تدبیر (یعنی انتظام) کرتا ہے ہر کام کے لیے، نہ ہو گا کوئی سفارش کرنے والا اس کی اجازت کے بغیر، یہی اللہ رب ہے تمہارا تو اسی کی عبادت کرو، کیا تم غور و فکر نہیں کرتے
اسی (اللہ وحدہ لا شریک) کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ بدلہ دے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے انصاف کے ساتھ، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے کھولتا پانی ہے، اور دردناک عذاب ہے بسبب ان کے کفر کے جو وہ کیا کرتے تھے
وہی ہے (اللہ وحدہ لا شریک) جس نے بنایا سورج کو روشن اور چاند کو نور اور مقرر کیں اس (چاند) کی منزلیں، تاکہ تم جان سکو سالوں کی گنتی اور حساب، یہ سب کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے (اسے) برحق وہ تفصیل سے بیان فرماتا ہے اپنی آیتیں قوم کے لئے تاکہ وہ جانیں
بیشک رات اور دن کے آنے جانے میں، اور جو چیزیں پیدا کیں اللہ نے آسمانوں اور زمین میں (یہ سب) نشانیاں ہیں ان کے لئے جو ڈرتے ہیں
بیشک جو امید نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی (قیامت کے دن) اور راضی ہیں دنیا کی زندگی پر، اور مطمئن ہیں اس پر اور یہی ہیں جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
یہی ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے بسبب ان اعمال کے جو وہ کیا کرتے تھے
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے، ہدایت کرے گا انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے سبب (اس جنت کی طرف) بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں نعمت والی جنت میں
ان کی دعاء ہوگی اسمیں کہ تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور ان کی دعاء اسمیں سلامتی کی ہوگی، اور دوسری دعاء بھی ان کی یہی ہوگی کہ تمام تعریف اللہ کیلئے ہے جو رب ہے جہانوں کا
اور اگر جلد پہونچائے اللہ لوگوں کو شر جس طرح وہ جلدی مانگتے ہیں اپنے لئے خیر تو فیصلہ کر دیا جائے ان کے لئے ان کی موت کا، تو ہم چھوڑ دیتے ہیں ان کو جنہیں امید نہیں ہماری ملاقات کی وہ اپنی سرکشی میں بھٹک رہے ہیں
اور جب پہونچتی ہے انسان کو تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے تو جب ہم دور کر دیتے ہیں اس سے اس تکلیف کو تو اس طرح گزرتا ہے گویا ہمیں پکارا ہی نہیں کسی تکلیف میں جو پہونچی نہیں، اس طرح مزین کر دیا گیا ہے مسرفین (حد سے بڑھنے والوں) کیلئے ان کے اعمال کو
اور بیشک ہم نے ہلاک کیا ہے تم سے پہلے کئی امتوں کو، جب انہوں نے ظلم کیا، اور آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر، اور نہ ہوئے وہ ایمان لانے والے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم قوم کو
پھر ہم نے بنایا تمہیں خلیفہ زمین میں ان (امتوں) کے بعد، تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری واضح (یعنی کھلی) آیتیں، وہ لوگ کہتے جو امید نہیں رکھتے ہماری ملاقات کی، لے آؤ کوئی اور قرآن یا اسے بدل دو کہہ دو نہیں ہے ممکن میرے لئے کہ میں بدل دوں اسے اپنی طرف سے، میں اتباع کرتا ہوں ان وحی کی جو میری طرف کی جاتی ہیں، میں ڈرتا ہوں اگر میں نافرمانی کروں اپنے رب کے بڑے دن کے عذاب سے
کہہ دو اگر اللہ چاہتا تو میں نہ پڑھتا اسے تمہارے سامنے اور نہ ہی میں جانکاری دیتا تمہیں اسکے بارے میں، یقیناً میں گزار چکا ہوں تمہارے بیچ ایک عمر اس سے پہلے تو کیا تم نہیں سمجھتے
تو اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو افتراء کرے (یعنی باندھے) اللہ پر جھوٹ، یا جھٹلائے اسکی آیتوں کو بیشک فلاح نہیں پاتے مجرمین
اور (جو مشرک ہیں) وہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے سوا جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نفع پہنچا سکتے ہیں انہیں، اور کہتے ہیں یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، کہہ دو کیا تم بتلاتے ہو اللہ کو جو نہیں معلوم اسے (کہ کوئی شریک ہے؟) آسمانوں اور زمین میں، وہ پاک ہے اور اعلیٰ ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں
اور تھے لوگ ایک امت میں (نوح تک) پھر انہوں نے اختلاف کیا، اور اگر ایک بات طے نہ ہوتی تمہارے رب کی طرف سے (مہلت دینا) تو فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں
اور کہتے ہیں کیوں نہیں نازل کی گئی اس پر کوئی آیت (بطور معجزہ) اس کے رب کی طرف سے، تو کہہ دو بیشک غیب کا علم اللہ کو ہے، تو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
اور جب ہم مزہ چکھاتے ہیں لوگوں کو اپنی رحمت کا اس تکلیف کے بعد جو انہیں پہونچی تھی، تو وہ مکر کرتے ہیں ہماری آیتوں کے بارے میں، کہہ دو اللہ جلد تدبیر کر نیوالا ہے، بیشک ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں تمہارے مکر کو
وہ ہے (اللہ) جو سیر کراتا ہے تمہیں خشکی اور دریا میں، یہاں تک کہ جب تم ہوتے ہو کشتیوں میں اور چلتی ہیں وہ (کشتیاں) انہیں لے کر موافق ہوا کے ذریعے اور وہ خوش ہوتے ہیں ان سے، تو آتی ہے ان پر تیز ہوا، اور آتی ہیں ان پر موجیں ہر طرف سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ بیشک وہ گھر گئے ہیں ان (لہروں) میں، تو پکارنے لگتے ہیں اللہ کو مخلص بن کر اس کے دین میں، کہ اگر تو ہمیں نجات دیدے اس سے، تو ہم ضرور ہو جائیں گے شکر گزاروں میں سے
پھر جب وہ (اللہ) نجات دیتا ہے انہیں، تو وہ بغاوت کرتے ہیں زمین میں ناحق اے لوگو! تمہاری بغاوت (یعنی شرارت) تمہارے ہی اوپر ہے، فائدہ اٹھا لو دنیا کی زندگی کا، پھر ہماری طرف تمہیں لوٹنا ہے پھر ہم تمہیں بتلا دیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
دنیا کی زندگی کی مثال پانی کی طرح ہے کہ ہم نے نازل کیا اسے آسمان سے پھر ملا دیا اس کو زمین کے نباتات (یعنی سبزہ) کے ساتھ جسے کھاتے ہیں لوگ اور جانور یہاں تک کہ جب زمین پکڑ لیتی ہے ہریالی اور خوبصورتی اور گمان کرتے ہیں اس کے اہل (یعنی زمیندار) کہ وہ اس پر قدرت پاگئے ہیں، تو آتا ہے اس پر ہمارا حکم دن یا رات میں پھر ہم اسے کاٹ کر ایسا (صاف) کر دیتے ہیں گویا کل تک کچھ تھا ہی نہیں، اسی طرح ہم تفصیل کرتے ہیں کھول کر آیتوں کی ان لوگوں کیلئے جو فکر کرتے ہیں
اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف، اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف
ان کے لیے جنہوں نے بھلائی کی بھلائی ہے اور زیادہ بھی ہے، اور نہیں چھائے گی ان کے منہ پر سیاہی اور نہ ذلت (قیامت میں اس کی ہولناکیوں کی وجہ سے) وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور جن لوگوں نے کمائی برائی تو اس کی برائی کا بدلہ اسی برائی کے بقدر ملے گا اور چھا جائے گی ان پر ذلت، اور نہ ہوگا ان کیلئے اللہ سے بچانے والا کوئی (یہ لوگ ایسے ہوں گے) گویا کہ ڈھانک لیں گے ان کے چہروں کو ٹکڑے اندھیری رات کے وہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور جس دن ہم جمع کریں گے ان تمام (انسان اور جنات) کو پھر ہم کہیں گے مشرکوں سے، کھڑے رہو اپنی جگہ تم اور تمہارے شریک، پھر ہم پھوٹ ڈال دیں گے ان کے درمیان، اور کہیں گے ان کے شریک کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے
تو کافی ہے اللہ کی گواہی ہمارے اور تمہارے درمیان ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے
وہاں آزمایا جائے گا ہر شخص کو جو انہوں نے کیا، اور وہ لوٹائے جائیں گے اللہ کی طرف جو انکا مولائے برحق ہے، اور بھول جائیں گے انہیں جو افتراء (یعنی جھوٹ) وہ باندھا کرتے تھے
کہو کون (ہے وہ جو) رزق دیتا ہے تمہیں آسمان اور زمین سے، یا کون مالک ہے کانوں اور آنکھوں کا، اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے، اور کون نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی، تو عنقریب وہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے، تو تم کہہ دو کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟
تو یہی ہے اللہ (جو) تمہارا حقیقی رب ہے، تو کیا حق آنے کے بعد بھی صرف گمراہی (میں پڑے رہنا؟) تو تم کدھر بہک رہے ہو؟
اسی طرح حق (یعنی سچ) ہوگی بات ان پر جنہوں نے نافرمانی کی کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے
کہہ دو کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرے پھر اسے دوبارہ لوٹائے کہہ دو اللہ ہی پیدا کرتا ہے پہلی بار پھر اللہ اسے لوٹائے گا دوبارہ، پھر تم کہاں بہک رہے ہو؟
کہہ دو کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو رہنمائی کرے حق کی کہہ دو اللہ ہی رہنمائی کرتا ہے حق کی، تو جو رہنمائی کرتا ہے حق کی وہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسکی اتباع کی جائے یا جو رہنمائی نہیں کرتا اور خود ان کی رہنمائی کی جائے (وہ حق رکھتا ہے؟) تو تمہیں کیا ہو گیا ہے تم کیسا انصاف کرتے ہو؟
اور ان (مشرکین) میں اکثر گمان کی اتباع کرتے ہیں بیشک ظن (و گمان) نہیں فائدہ دیتا حق کے معاملے میں کچھ بھی، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں
اور نہیں ہے یہ قرآن ایسا کہ گھڑ لیا گیا ہو اللہ کے علاوہ کی طرف سے، اور لیکن یہ تصدیق کرتا ہے اپنے سامنے (والی کتابوں) کی، اور تفصیلی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے
کیا یہ (کفار) کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ کہہ دو تم لے آؤ ایک بھی اس جیسی سورت، اور بلا لو تم اپنی طاقت بھر جسے چاہو اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو
بلکہ انہوں نے جھٹلایا اس چیز کو جسکا وہ احاطہ نہیں کر سکتے اپنے علم سے (یعنی علمی پکڑ نہیں) نہ ہی آئی ان کے پاس اسکی تاویل (یعنی حقیقت) اسی طرح جھٹلایا تھا انہوں نے جو ان سے پہلے تھے، تو دیکھو کیسا انجام ہوا ظالموں کا
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو ایمان لے آتے ہیں اس (قرآن) پر اور بعض ایسے ہیں جو ایمان نہیں لاتے اس پر اور تمہارا رب جانتا ہے فسادیوں کو
اور اگر وہ جھٹلائیں تمہیں تو کہہ دو میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم بری ہو اس سے جو کچھ میں عمل کرتا ہوں، اور میں بری ہوں اس سے جو عمل تم کرتے ہو
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو کان لگائے رہتے ہیں تمہاری طرف، کیا تم سنا سکتے ہو بہروں کو اگر وہ عقل نہ رکھتے ہوں؟
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو دیکھتے رہتے ہیں تمہاری طرف، کیا تم راہ دکھا سکتے ہو اندھوں کو اگر وہ دیکھتے نہ ہوں؟
بیشک اللہ نہیں ظلم کرتا لوگوں پر کچھ بھی، اور لیکن لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں
اور جس (قیامت کے) دن وہ جمع کرے گا انہیں، گویا وہ نہیں رہے مگر ایک گھڑی دن کی، وہ پہچانیں گے آپس میں ایک دوسرے کو بیشک خسارے میں ہیں وہ جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی ملاقات کو اور (وہ جو) نہ ہوئے ہدایت یافتہ
اور اگر ہم دکھا دیں تمہیں بعض وہ وعدہء (عذاب) جو میں نے کیا ان سے یا ہم وفات دیں تمہیں (پھر دکھائیں) تو انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے پھر اللہ شاہد ہے اس پر جو وہ کرتے ہیں
اور ہر امت کا ایک رسول ہے پھر جب آیا انکا رسول تو فیصلہ کیا ان کے درمیان انصاف سے اور ان پر ظلم نہیں کیا گیا
اور کہتے ہیں وہ وعدہ (عذاب کا) کب آئے گا؟ اگر تم سچے ہو
کہہ دو میں نہیں مالک خود اپنے لئے کسی نقصان کا اور نہ ہی کسی نفع کا مگر جو چاہے اللہ، ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت آتا ہے، تو نہیں تاخیر کر سکتے ہیں ایک گھڑی بھی، اور نہ تقدیم (یعنی جلدی) کر سکتے
کہہ دو کیا تو نے دیکھا (یعنی غور کیا) اگر آ جائے تم پر اس کا عذاب رات یا دن میں، تو کیوں جلدی کر رہے ہیں اسکے لئے مجرمین؟
کیا پھر جب وہ (عذاب) واقع ہوگا تب ایمان لاؤ گے اس پر، اب (آپکا وہ عذاب) جس کی تم جلدی کرتے تھے
کہا جائے گا ظالموں سے (قیامت کے دن کہ اب) چکھو مزہ ہمیشہ کے عذاب کا، تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کمایا کرتے تھے
اور وہ پوچھتے ہیں تم سے کیا (عذاب) برحق ہے؟ کہہ دو ہاں میرے رب کی قسم! بیشک یہ برحق ہے، اور تم نہ کر سکو گے (اللہ کو) عاجز
اور اگر ہو جائے ظالم شخص کیلئے زمین کی تمام (چیزیں پھر) اسے وہ فدیے (یعنی بدلے) میں دے (تو بھی چھٹکارا نہ ہو) اور وہ چھپائیں گے ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب اور فیصلہ کیا جائیگا ان کے درمیان انصاف سے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
خبردار! بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے خبردار! بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے اور لیکن ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے
وہی زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
اے لوگو! یقیناً آ چکی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے (قرآن کی شکل میں) اور شفاء اس کیلئے جو (تمہارے) دلوں میں ہے اور ہدایت اور رحمت ہے مؤمنوں کیلئے
کہہ دو اللہ کا فضل اور اسکی رحمت یہ ایسی چیز ہیں جن پر انہیں خوش ہونا چاہیے یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں
کہہ دو تمہارا کیا خیال ہے جو نازل فرمایا ہے اللہ نے تمہارے لیے رزق، تم نے بنا لیا ہے ان میں سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال، کہو کیا اللہ نے حکم دیا ہے تمہیں، یا اللہ پر تم افترا کرتے ہو؟ (جھوٹ) اور کیا خیال ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں قیامت کے دن (ان کا کیا حال ہوگا)
بیشک اللہ تو صاحب فضل ہے لوگوں پر، اور لیکن ان میں اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
اور تم ہوتے ہو جس حال میں یا جو تم تلاوت کرتے ہو اس قرآن میں سے، یا جو بھی تم عمل کرتے ہو کسی بھی طرح کا عمل، تو ہم ہوتے ہیں وہاں موجود، جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں، اور نہیں ہے غائب تمہارے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز زمین میں اور نہ ہی آسمان میں، اور نہ کوئی چھوٹی چیز اس سے اور نہ بڑی مگر سب کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں ہے
خبردار! بیشک اولیاء اللہ (اللہ کے دوست ہیں) نہ خوف ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے
(یہ وہ لوگ ہیں) جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے
ان کے لیے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں، نہیں تبدیلی ہوتی اللہ کی باتوں میں، یہی ہے وہ کامیابی جو بہت بڑی ہے
اور نہ غم میں ڈالے تمہیں ان (کفار) کی بات بیشک ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے، وہی سننے والا جاننے والا ہے
خبردار! بیشک اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور جو پکارتے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو، وہ ظن و گمان کی اتباع کرتے ہیں، اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں سوائے ظن کے اور صرف وہ اٹکلیں لگاتے ہیں
وہی ہے جس نے بنائی تمہارے لیے رات تاکہ تم سکون حاصل کرو اس میں، اور دن کو روشنی والا بنایا بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے
(کفار) کہتے ہیں بنا لیا ہے اللہ نے بیٹا، وہ پاک ہے، وہ بے نیاز ہے (اسے کسی کی ضرورت نہیں) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، تمہارے پاس اس (بیٹا بنانے) کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر ایسی باتیں کہتے ہو جو تم جانتے نہیں
کہہ دو بیشک جو لوگ افتراء کرتے ہیں اللہ پر جھوٹ وہ فلاح نہیں پائیں گے
(ایسے لوگ) تھوڑا فائدہ اٹھا لیں دنیا میں پھر ہماری طرف لوٹنا ہے انہیں، پھر ہم چکھائیں گے مزہ انہیں سخت عذاب کا اس سبب سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے
اور پڑھ سناؤ انہیں نوح کی خبریں، جب کہا اپنی قوم سے اے میری قوم! اگر گراں ہو تم پر میرا رہنا (تمہارے بیچ) اور میری نصیحت اللہ کی آیتوں کے ذریعے تو میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، تو تم جمع کر لو اپنی تدبیر اور تمہارے شرکاء بھی جمع کریں، پھر نہ رہ جائے تمہارے کام میں تم پر کوئی غم (یعنی شک) پھر کر گزرو میرے خلاف (قتل کی سازش) اور مجھے مہلت بھی نہ دو
پھر اگر تم پھر گئے تو میں نہیں سوال کرتا تم سے کسی اجر کا، میرا اجر تو اللہ پر ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہو جاؤں فرمانبرداروں میں سے
پھر انہوں نے جھٹلایا اسے تو ہم نے نجات دی اسے اور اس کے ساتھ والوں کو کشتی میں اور ہم نے بنایا انہیں خلیفہ اور غرق کر دیا (ان لوگوں کو) جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پھر دیکھو کیسا ہوا انجام ڈرائے گئے لوگوں کا
پھر ہم نے بھیجا ان (نوح) کے بعد رسولوں کو ان کی قوم کی طرف، تو وہ آئے ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر، پھر بھی وہ ایمان نہ لائے، اور وہ جھٹلاتے رہے انہیں پہلے کی طرح، اسی طرح ہم نے مہر لگا دی حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر
پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ، تو انہوں نے تکبر کیا، اور وہ تھے ہی مجرم لوگ
پھر جب آ گیا ان (فرعونیوں) کے پاس حق ہمارے پاس سے (تو) کہنے لگے بیشک یہ تو کھلا جادو ہے
موسیٰ نے کہا کیا تم کہتے ہو حق کے بارے میں جب کہ وہ آ چکا ہے تمہارے پاس کہ یہ جادو ہے؟ اور (جب کہ) نہیں فلاح پاتے جادوگر انہوں نے کہا
کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم ہمیں پھیر دو جس پر ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو، اور ہو جائے تم دونوں کی سرداری اس ملک میں، اور نہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے
اور کہا فرعون نے لے آؤ میرے پاس ہر جانکار جادوگر کو تو جب آئے جادوگر
تو کہا ان سے موسیٰ نے کہ ڈالو جو تم ڈالنے والے ہو پھر جب انہوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے جو تم لے کر آئے ہو وہ جادو ہے،
بیشک اللہ عنقریب باطل کر دیگا اسے، بیشک اللہ نہیں کامیاب کرتا مفسدوں کے عمل کو اور اللہ حق ثابت کرتا ہے حق کو اپنے کلمات کے ذریعے،
اور اگرچہ ناپسند ہو مجرموں کو
تو نہ ایمان لایا موسیٰ پر مگر چند لڑکے اس کی قوم کے، خوف کے باوجود فرعون اور ان کے سرداروں کے، کہ کہیں وہ انہیں فتنے میں نہ ڈال دے، اور بیشک فرعون سرکش تھا زمین میں، اور بیشک وہ مسرف تھا (یعنی حد سے بڑھنے والا)
اور کہا موسیٰ نے اے میری قوم! اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر تو اسی پر توکل کرو اگر تم فرمانبردار ہو تو
تو انہوں نے کہا ہم اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں، اے رب ہمارے! نہ بنا ہمیں فتنے کا ذریعہ ظالم قوم کیلئے اور نجات دے ہمیں اپنی رحمت سے
ان کافروں کی قوم سے
اور ہم نے وحی کی موسیٰ اور اس کے بھائی کو کہ ٹھکانا بناؤ اپنی قوم کے لئے مصر میں (بطور) گھر اور بناؤ اپنے گھروں کو قبلہ رخ، اور نماز قائم کرو، اور خوشخبری دو ایمان والوں کو
اور کہا موسیٰ نے اے ہمارے رب! بیشک تو نے عطا کیا ہے فرعون اور اس کے سرداروں کو عیش اور مال دنیا کی زندگی میں، اے ہمارے رب! اس لئے وہ گمراہ کرتے ہیں تیرے راستے سے، اے ہمارے رب! مٹا دے ان کے مالوں کو اور سخت کر دے ان کے دلوں کو تو یہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ یہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو
فرمایا قبول کی گئی تم دونوں کی دعاء تو قائم رہو تم دونوں (اللہ کے حکم پر) اور تم دونوں مت اتباع کرو ان کے راستے کی جو جانتے نہیں
اور ہم نے پار کرا دیا بنی اسرائیل کو دریا (بحر احمر) تو پیچھا کیا ان کا فرعون اور اس کی فوج نے بغاوت اور عداوت میں یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا (فرعون) تو کہا میں ایمان لایا اس پر جس کے سوا کوئی معبود نہیں ایمان لائے ہیں جس پر بنی اسرائیل اور میں مسلمانوں میں سے ہوتا ہوں
اب (ایمان لاتا ہے) اور یقیناً تو نافرمانی کرتا رہا اس سے پہلے اور تو ہو گیا فسادیوں میں سے
تو آج ہم نجات دیں گے تیرے بدن کو، تاکہ تو ہو جائے عبرت تیرے پچھلوں کے لیے، اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
اور یقیناً ہم نے ٹھکانا دیا بنی اسرائیل کو بہتر، اور ہم نے رزق دیا انہیں پاکیزہ، پھر انہوں نے اختلاف کیا علم (یعنی کتاب، تورات کی شکل میں) آ جانے کے باوجود، بیشک تیرا رب فیصلہ کرے گا قیامت کے دن ان کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے تھے (کہ آپ کا ذکر تورات میں تھا پھر بھی مانا نہیں)
تو اگر (اے نبی) تم شک میں ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا تیری طرف، تو پوچھ لو ان لوگوں سے جو پڑھتے رہے ہیں کتاب تم سے پہلے، بیشک آپکا ہے حق تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے، تو تم ہرگز نہ ہو جانا شک کرنے والوں میں
اور ہرگز نہ ہو جانا ان میں سے جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو، تو تم ہو جاؤ گے خسارہ پانے والوں میں سے
بیشک جن پر حق ہو چکی ہے تیرے رب کی بات (ایمان نہ لانے کی) وہ ایمان نہیں لائیں گے
اور اگرچہ آ جائے ان کے پاس ساری نشانیاں (یعنی معجزے) یہاں تک کہ وہ دیکھ لیں دردناک عذاب
تو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی ایسی جو ایمان لاتی تو نفع دیتا اسے اس کا ایمان سوائے قوم یونس کے کہ جب وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کر دیا ان سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگی میں، اور ہم نے فائدہ پہونچایا انہیں ایک وقت تک
اور اگر تیرا رب چاہتا تو ایمان لے آتے جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب، تو کیا تو زبردستی کرے گا لوگوں پر کہ وہ ایمان لے آئیں
اور نہیں ہے ممکن کسی شخص کے لئے کہ ایمان لے آئے، سوا اللہ کے حکم کے، اور ڈال دیتا ہے اللہ گندگی (کفر کی) ان پر جو عقل نہیں رکھتے
کہہ دو دیکھو جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں، اور نہیں فائدہ دیتے معجزے اور ڈرانے والے اس قوم کو جو لوگ یقین نہیں کرتے
تو کیا وہ انتظار کر رہے ہیں ان لوگوں کے دنوں جیسا (دن کا) جو گزرے ہیں ان سے پہلے، کہہ دو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
پھر ہم نجات دیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور جو ایمان لاتے ہیں (انہیں بھی) اسی طرح حق ہے ہم پر کہ ہم نجات دیتے ہیں ایمان والوں کو
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دو اے لوگو! اگر تم شک میں ہو میرے دین میں تو میں نہیں عبادت کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا، اور لیکن میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو وفات دیتا ہے تمہیں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہو جاؤں مؤمنین میں سے
اور یہ کہ قائم کرو اپنا رخ دین حنیف (یعنی اللہ کے دین) کی طرف، اور (مجھے حکم دیا گیا ہے) کہ تم نہ ہونا مشرکوں میں سے
اور نہ پکارو اللہ کے سوا جو نہ نفع پہونچائے تجھے اور نہ ضرر پہنچائے تجھے، پھر اگر تو نے ایسا کیا تو بیشک تو ظالموں میں سے ہو جائے گا
اور اگر پہونچائے تمہیں اللہ کوئی تکلیف تو نہیں کوئی ہٹانے والا اسے اس کے سوا، اور اگر ارادہ کرے تمہیں خیر پہونچانے کا تو کوئی رد نہیں کر سکتا اس کے فضل کو وہ پہونچاتا ہے اسے جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے
(اے نبی) کہہ دو اے لوگو! یقیناً آ چکا ہے تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے، تو جو ہدایت پائے گا اپنے لئے ہی پائے گا، اور جو گمراہ رہے گا تو وہ گمراہی اسی پر پڑے گی، اور میں نہیں ہوں تم پر وکیل
اور (اے نبی) تم اتباع کرو اس وحی کی جو تیری طرف کی جاتی ہے، اور صبر کرو، یہاں تک کہ فیصلہ کر دے اللہ، اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
سورۃ 11
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ال، ر، یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتیں حکمت والی ہیں، پھر اسکی تفصیل کی گئی ہے حکیم اور خبیر کی طرف سے
کہ تم عبادت نہ کرو اللہ کے سوا، بیشک میں تمہارے لئے اس کی طرف سے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں
اور یہ کہ تم سب مغفرت طلب کرو اپنے رب سے پھر رجوع کرو اسی کی طرف وہ (اللہ) فائدہ دیگا تمہیں ایک وقت مقرر تک (یعنی موت تک) اور وہ عطا کرے گا ہر صاحب فضل (یعنی صاحب عمل) کو اس کا فضل، اور اگر تم پھر جاؤ گے تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے (اور وہ بڑا دن قیامت کا دن ہے)
اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے تمہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
خبردار! بیشک یہ (اخنس بن شریق اور ان کے ساتھی) اپنے سینے پر کپڑے لپیٹتے ہیں تاکہ وہ چھپا سکیں (بات) اللہ سے، خبردار! جس وقت وہ ڈھانکتے ہیں اپنے کپڑے، وہ (اللہ) جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا کر کرتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ خوب جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کو