اور اگر ہم نازل کرتے ان (کفار) کے پاس فرشتوں کو، اور باتیں کرنے لگتے ان سے مردے، اور ہم جمع کر دیتے ان پر تمام شئے ان کے سامنے تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے، مگر اللہ ہی چاہے، اور لیکن اکثر ان میں جاہل ہیں
سورۃ 6
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اور اسی طرح ہم نے پیدا کئے ہر نبی کے لئے دشمن شیطان انسانوں اور جنوں میں سے ان (جن و انس) کے بعض وسوسہ ڈالتے ہیں بعض کو چکنی چپڑی باتوں کا، دھوکہ میں ڈالنے کیلئے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو وہ نہ کرتے (ایسا کام) تو آپ چھوڑ دیں انہیں افتراء کرنے کیلئے
اور تا کہ مائل ہو جائیں اس کی طرف ان لوگوں کے قلوب جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر اور تاکہ وہ اس سے راضی ہو جائیں، اور تاکہ وہ کرتے رہیں جو وہ کر رہے ہیں
تو کیا میں غیر اللہ کو تلاشوں اپنا حکم (یعنی فیصلہ کرنیوالا) اور وہ جس نے نازل کی ہے تمہاری طرف ایک مفصل کتاب، اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ بیشک یہ نازل کی گئی ہے آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے، تو آپ ہرگز نہ ہو جائیں شک کر نیوالوں میں
اور مکمل ہے آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف میں، نہیں ہے کوئی بدلنے والا اس کے کلام کو، اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
اور اگر آپ اتباع کریں گے دنیا میں اکثریت کی تو وہ گمراہ کر دیں گے آپ کو اللہ کے راستے سے، وہ اتباع کرتے ہیں گمان کی، اور وہ گھڑتے ہیں
بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے جو گمراہ ہے اس کے راستے سے، اور وہ خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت یافتہ ہیں
تو کھاؤ اس کو جس (جانور) پر اللہ کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو
اور کیا ہو گیا ہے تم کو کہ نہ کھاؤ (ایسے جانور) جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور یقیناً اللہ نے تفصیل بتا دی ہے تم کو، جو تم پر حرام ہے، مگر جب تم اضطراری حالت میں ہو (بھوک سے مجبور، تو حلال ہے) اور بہت سے لوگ گمراہ کرتے ہیں اپنی خواہشات کیوجہ سے بغیر علم کے، بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو
اور تم چھوڑ دو ظاہری گناہ اور باطنی گناہ کو، بلاشبہ جو لوگ کما رہے ہیں گناہ عنقریب بدلہ ملے گا جو کچھ وہ گھڑتے ہیں ان کا
اور مت کھاؤ (ایسے جانوروں کو) جن پر نہ لیا گیا ہو اللہ کا نام، اور بیشک یہ فسق (یعنی گناہ) ہے اور بیشک شیاطین دل میں بات ڈالتے ہیں اپنے (انسان) دوستوں کے تا کہ یہ جدال (یعنی جھگڑا) کریں تم سے اور اگر تم اطاعت کرو گے ان کی تو یقیناً تم مشرک ہو جاؤ گے
کیا جو مردہ ہو (کافر) پھر ہم نے اسکو زندہ کیا (مؤمن) اور ہم نے اس کو نور دیا (قرآن) وہ اس نور کے ذریعے لوگوں میں چلتا ہو (یہ) اسکی طرح ہو گا جو اندھیرے میں ہو اس سے نکلنا نہیں چاہتا ہو اسی طرح مزین کر دئے گئے ہیں کافروں کے اعمال جو وہ کرتے ہیں
اور اسی طرح ہم نے بنایا ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں کو مجرم، تاکہ وہ مکر کریں اس میں، اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ساتھ ہی مکر کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں
اور جب آتی ہے انکے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم کو بھی ایسی ہی (رسالت) نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے اللہ خوب جانتا ہے (کہ) کسے وہ بنائے اپنا رسول، جلد پہونچے گی ان کو جنہوں نے جرم کیا ذلت اللہ کے پاس اور عذاب سخت ترین ان کے مکر کیوجہ سے
تو جس شخص کے لئے اللہ ارادہ کرتا ہے ہدایت کا اس کے سینے کو شرح صدر کر دیتا ہے اسلام کیلئے (یعنی کھول دیتا ہے) اور جس کو چاہے گمراہ کرنا اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے، گویا کہ وہ چڑھ رہا ہو آسمان میں، اسی طرح اللہ ڈال دیتا ہے گندگی (یعنی گمراہی) میں انہیں جو ایمان نہیں لاتے
اور یہی تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے، یقیناً ہم نے تفصیل سے بیان کر دی ہیں آیتوں کو ان لوگوں کیلئے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں
ان کیلئے سلامتی کا گھر (جنت) ہے ان کے رب کے پاس، اور اللہ ان کا دوست ہے ان کے اعمال کی وجہ سے
اور جس دن اللہ جمع کرے گا ان (تمام مخلوق) کو اور کہے گا اے جنات کی جماعتو! تم نے بہتوں کو اپنا بنا لیا تھا انسانوں میں سے، تو کہیں گے ان کے دوست انسانوں میں سے، اے ہمارے رب فائدہ حاصل کیا تھا ہم نے ایک دوسرے سے، اور ہم پہونچ گئے اپنے مقرر وقت کو جو تو نے مقرر کیا تھا ہمارے لئے (اللہ) فرمائے گا آگ ہی ہے تمہارا ٹھکانہ جس میں ہمیشہ رہو گے، مگر جسے اللہ چاہے، بیشک آپ کا رب حکمت والا علم والا ہے
اسی طرح ہم دوست بنائیں گے بعض ظالم کو بعض کے اس کی وجہ سے جو کمائی وہ کیا کرتے تھے
اے جنات اور انسانوں کی جماعتو! کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس رسول تم ہی میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم سے میری آیتیں، اور ڈراتے تھے تم کو اس (قیامت کے) دن کی ملاقات سے وہ کہیں گے ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (کہ آئے تھے) اور دھوکے میں ڈالا ان کو دنیوی زندگی نے، اور بیشک یہ لوگ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ یہ کافر تھے
یہ اس وجہ سے ہے کہ نہیں کرتا آپ کا رب ہلاک کسی بستی کو ظلم کیوجہ سے، جب تک کہ وہاں کے رہنے والے غافل نہ ہوں
اور ہر ایک کے درجے ہیں ان کے اعمال کے سبب، اور آپ کا رب غافل نہیں ان کے اعمال سے
اور آپ کا رب غنی ہے رحمت والا ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے، اور خلیفہ مقرر کرے تمہارے بعد جس کو چاہے، جیسا کہ تم کو پیدا کیا ہے ایک دوسری قوم کی ذریت (یعنی اولاد) سے
جس (قیامت) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آنے والی ہے، اور تم عاجز نہیں کر سکو گے
آپ فرما دیجیئے کہ اے میری قوم! تم عمل کرتے رہو اپنی جگہ، میں بھی عمل کر رہا ہوں، جلد ہی تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت کا انجام کس کے لئے (نفع والا) ہو گا اور بیشک نہیں فلاح پاتے ظالم
اور بنا لئے ہیں (مشرکین نے) اللہ کیلئے جو کھیتی اور جانور پیدا کیے ہیں ان میں حصے، کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے اپنے گمان سے اور یہ ہمارے شرکاء (معبود) کا ہے، تو جو ان کے شرکاء کا ہے وہ اللہ کی طرف نہیں پہونچتا، اور جو اللہ کا ہے وہ پہونچ جاتا ہے ان کے شرکاء کی طرف، کیا ہی برا وہ فیصلہ کرتے ہیں
اور اسی طرح مزین کر دیا ہے (معبودوں نے) بہت سے مشرکین کیلئے ان کی اولاد کا قتل کرنا، تاکہ وہ ان کو برباد کریں، اور تاکہ ملاوٹ کر دیں ان پر ان کے دین میں، اور اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا کام نہ کرتے، تو چھوڑ دیں انہیں جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں
اور وہ کہتے ہیں یہ جانور اور کھیتی چھوڑ دئے گئے ہیں اسے کوئی نہ کھائے، مگر جسے ہم چاہیں اپنے گمان سے، اور بعض جانوروں کی پیٹھ (سواری کے لیے) حرام کر دی گئی ہیں، اور کچھ جانور پر یہ لوگ نہیں لیتے اللہ کا نام، اللہ پر افتراء کرتے ہیں، عنقریب (اللہ) انہیں سزا دے گا ان کے افتراء کی
اور وہ کہتے ہیں کہ جو پیٹ میں ہے ان جانوروں کے، وہ خالص ہمارے مردوں کیلئے ہے، اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور اگر وہ مردہ جنے تو وہ سب اس میں شریک ہیں، عنقریب اللہ ان کو ان کی (غلط) بیانی کی سزا دیگا، بیشک وہ حکمت والا ہے اور وہ علم والا ہے
یقیناً خسارے میں ہیں وہ جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی میں بغیر علم کے اور انہوں نے حرام کر لیا جو رزق اللہ نے انہیں دیا تھا اللہ پر افتراء کرتے ہوئے، بیشک یہ گمراہ ہیں اور نہیں ہیں یہ ہدایت پانیوالے
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے، جو بیلوں والے ہیں، اور جو غیر بیلوں والے بھی ہیں (چھتریوں کی طرح) اور کھجور اور کھیتی کے مختلف ہیں پھل، اور زیتون، اور انار، ایک دوسرے سے بعض مشابہ (یعنی ملتے جلتے) ہیں اور بعض غیر مشابہ (الگ قسم کے) ہیں، کھاؤ ان کے پھل جب پھل آئے، اور ادا کرو اسکا حق کٹائی کے دن (عُشر دے کر) اور اسراف نہ کرو بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا اسراف کر نیوالوں کو
اور جانوروں میں بعض بوجھ اٹھانیوالے اور بعض چھوٹے قد کے ہیں، کھاؤ جو رزق اللہ نے تم کو دیا ہے، اور مت اتباع کرو شیطان کے نقش قدم کی بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
(اللہ نے پیدا کئے) آٹھ جوڑے بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو، آپ کہہ دیجیئے کہ کیا اللہ نے ان دونوں مذکر (نر) کو حرام کیا ہے، یا دونوں مؤنث (مادہ) کو، یا جو شامل ہے دونوں ماداؤں کے پیٹ میں؟ مجھے بتاؤ علم (کی دلیل) سے (اے مشرکو!) اگر تم سچے ہو
اور اونٹ میں سے دو، اور گائے میں سے دو (اللہ نے پیدا کئے) آپ کہہ دیجیئے کہ کیا اللہ نے ان دونوں مذکر کو حرام کیا ہے یا دونوں مؤنث کو، یا جو شامل ہے دونوں ماداؤں کے رحم (یعنی پیٹ) میں؟ کیا تم موجود تھے (اللہ کے پاس اس وقت) جس وقت وصیت کی اللہ نے تم کو اس کی؟ تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو افتراء کرے اللہ پر جھوٹ تا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے بغیر علم کے بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا (ایسے) ظالموں کو
آپ کہہ دیجیئے میں نہیں پاتا جو وحی میری طرف کی گئی ہے ان میں حرام کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہتا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو، بے شک وہ نجس (یعنی ناپاک) ہے اور گناہ ہے، یا نام لیا گیا ہو غیر اللہ کا جس (جانور) پر، پھر جو مجبور ہو جائے اللہ سے بغاوت و عداوت میں نہ کھائے تو آپ کا رب غفور اور رحیم ہے
اور یہود پر ہم نے حرام کر دیئے تھے تمام ناخن والے جانور، اور گائے اور بکری میں سے ہم نے حرام کر دی تھیں ان (یہودیوں) پر ان دونوں کی چربیاں، مگر جو (چربی) لگی ہو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے یا جو ملی ہو ہڈی سے، یہ سزا دی ہم نے ان کو ان کی بغاوت کیوجہ سے اور بے شک ہم سچے ہیں
تو اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ فرما دیجیئے کہ تمہارا رب بڑی رحمت والا ہے، اور نہیں رد ہوتا ہے اس کا عذاب مجرموں سے (جب وہ فیصلہ کر لیتا ہے)
عنقریب کہیں گے مشرکین کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم حرام ٹھہراتے کسی چیز کو، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے چکھا ہمارے عذاب کا مزہ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تمہارے پاس کوئی علم (یعنی دلیل) ہے؟ تو نکالو اسے ہمارے سامنے، اور تم اتباع کرتے ہو گمان کی، اور تم صرف اٹکل لگاتے ہو
آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ ہی کی حجت مکمل ہے، تو اگر وہ چاہتا تو یقیناً تم سب کو ہدایت دے دیتا
آپ کہہ دیجیئے بلاؤ تم اپنے گواہوں کو جو شہادت دیں کہ اللہ نے حرام کیا ہے ان چیزوں کو، پھر اگر وہ گواہی دیں تو آپ اس کی گواہی نہ دیں (یعنی نہ مانیں) اور مت اتباع کریں ان کی خواہشات کی جو جھٹلاتے ہیں ہماری آیتوں کو، اور جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، اور وہ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں
آپ کہہ دیجیئے کہ آؤ میں پڑھ کر سناتا ہوں جو حرام کیا ہے تمہارے رب نے تم پر، وہ یہ ہے کہ مت شریک ٹھہراؤ اللہ کے ساتھ کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور قتل مت کرو اپنی اولاد کو بھوک مری کی وجہ سے، ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو بھی اور مت قریب جاؤ فحش (یعنی بے حیائی اور برائی) کے چاہے ظاہری ہو یا باطنی، اور قتل مت کرو کسی شخص کا جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ (یعنی جنگ میں) وہ نصیحت کرتا ہے تمہیں اسکی تا کہ تم عقل سے کام لو
اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر بہتر طریقے سے، یہاں تک کہ وہ پہونچ جائے جوانی کو (تو حوالے کر دو) اور پورا کرو ناپ اور تول انصاف کے ساتھ، ہم نہیں تکلیف دیتے کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ، اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، اگرچہ وہ شخص قرابتدار ہی ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو، ان باتوں کی نصیحت کرتا ہے اللہ تم کو، تاکہ تم نصیحت پکڑو
اور بیشک یہ ہے میرا راستہ جو سیدھا ہے، تو اتباع کرو اس (راستے) کی اور مت اتباع کرو (دوسرے) راستوں کی، ورنہ جدا کر دیگا تمہیں اس کے راستے سے، اللہ نصیحت کرتا ہے تم کو اسکی، تاکہ تم متقی بن سکو
پھر ہم نے عطا کی موسیٰ کو کتاب (تورات) مکمل کرنے کے لئے (نعمت ان پر) جنہوں نے احسن عمل کئے، اور تفصیل ہر شئے کی اور ہدایت اور رحمت تا کہ یہ (بنی اسرائیل) اپنے رب کی ملاقات پر یقین کریں
اور یہ کتاب (قرآن) ہے جسے ہم نے نازل کی مبارک ہے، تو اتباع کرو اس کی، اور ڈرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے
(اے کفار مکہ) کہیں تم یوں نہ کہو کہ نازل ہوئی تھی کتاب دو جماعتوں (یہودی اور عیسائی) پر ہم سے پہلے، اور ہم غافل رہ گئے ان کے درس (یعنی پڑھنے) سے
یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بھی زیادہ ہدایت پر ہوتے تو یقیناً آگئی ہے تمہارے پاس دلیل (بطور قرآن) تمہارے رب کی طرف سے جو ہدایت و رحمت ہے، تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو جھٹلائے اللہ کی آیتوں کو اور روکے اس سے، ہم جلد ہی سزا دیں گے انہیں جو روکتے ہیں ہماری آیتوں سے برے عذاب کا ان کے روکنے کی وجہ سے
کیا یہ (کافر) انتظار کر رہے ہیں کہ آئیں ان کے پاس فرشتے، یا آئے آپ کا رب، یا آ جائے آپ کے رب کی کوئی نشانی جس روز آئے گی آپ کے رب کی کوئی نشانی، نہ فائدہ دیگا کسی شخص کو اسکا ایمان لانا جو نہ رکھتا ہو ایمان پہلے سے یا نہ کمایا ہو اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیک عمل، آپ فرما دیجیئے کہ تم انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہیں
بے شک جن (یہودیوں اور عیسائیوں) نے تفرقہ کیا اپنے دین میں، اور ہو گئے جماعتوں میں، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر وہ بتلا دیگا انہیں جو وہ کرتے تھے
جو نیکی لے کر آئے گا اسکو اس کے دس گنا ملیں گے (قیامت کے دن) اور جو برائی لے کر آئے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی، اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
آپ کہہ دیجیئے کہ بے شک ہدایت دی ہے مجھ کو میرے رب نے سیدھے راستے کی وہ قائم رہنے والا دین ملت ابراہیم ہے جو یکسو تھے (اللہ کی طرف متوجہ) اور نہ تھے وہ مشرکوں میں
آپ فرما دیجیئے کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا، اور میرا مرنا، اللہ ہی کیلئے ہے، جو رب ہے جہانوں کا
نہیں ہے کوئی شریک اس کا اور اسی کا مجھ کو حکم دیا گیا ہے، اور میں پہلا مسلم (یعنی فرمانبردار) ہوں
آپ فرما دیجیئے کہ کیا غیر اللہ کو میں تلاشوں (یعنی بناؤں) اپنا رب، جبکہ وہ رب ہے ہر چیز کا، اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسی پر ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا، پھر تم سب کو اپنے رب کے پاس لوٹنا ہے، پھر وہ تم کو بتائے گا جس (دین کے معاملے) میں تم اختلاف کرتے تھے
اور وہی ہے جس نے بنایا تم کو خلیفہ زمین میں (ارض کا استعمال زمین ملک اور دنیا کیلئے ہوتا ہے) اور بلند کئے ایک کے دوسرے پر درجات (مالدار اور غریب) تاکہ تم کو آزمائے ان چیزوں میں جو عطا کی اس نے تمہیں، بیشک آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے، اور بیشک وہ بڑی مغفرت کرنیوالا مہربان ہے
سورۃ 7
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
المص
(یہ) کتاب (قرآن) جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے، تو نہ ہونگی آپ کے دل میں اس (کی مخالفت) سے، تاکہ آپ ڈرائیں اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مؤمنوں کیلئے
اتباع کرو (اس حکم کی) جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے، اور مت اتباع کرو اس کے علاوہ معبودوں کی بہت ہی کم تم لوگ نصیحت پکڑتے ہو
اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا، اور آیا ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت، یا جب وہ قیلولہ (یعنی آرام) میں تھے
تو یہی پکارا انہوں نے، جب آیا ان پر ہمارا عذاب (یعنی اسوقت اپنے جرم کو قبول کیا) کہ ہم ہی ظالم تھے
پھر ہم ان لوگوں سے ضرور سوال کریں گے جنکے پاس رسول بھیجے گئے تھے، اور ہم رسولوں سے بھی ضرور سوال کریں گے
پھر ہم بیان کر دیں گے ان کے سامنے اپنے علم کیوجہ سے، اور نہ تھے ہم غائب
اور (اعمال کا) وزن اس روز برحق ہو گا، پھر جس شخص کا پلڑا بھاری ہو گا، وہی لوگ کامیاب ہوں گے
اور جس شخص کا پلڑا ہلکا ہو گا، تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے کو خسارے میں ڈالا، اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے
اور بیشک ہم نے مکیں کیا (یعنی بسایا) تم کو زمین میں، اور ہم نے بنایا تمہارے لئے اس میں معاش (یعنی روزی) کا ذریعہ بہت کم تم شکر کرتے ہو
اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ نہ ہوا سجدہ کرنے والوں میں
فرمایا کس چیز نے منع کیا تجھے کہ تو نہ ہوا سجدہ کر نیوالوں میں، جبکہ میں نے حکم دیا تجھ کو، کہا میں بہتر ہوں اس سے، تو نے پیدا کیا مجھے آگ سے، اور تو نے پیدا کیا اسے مٹی سے
فرمایا اتر جاؤ اس (آسمان) سے، تجھ کو (حق) نہیں کہ تو تکبر کرے، تو تو نکل جا (یہاں سے) بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے
اس نے کہا کہ مجھ کو مہلت دیجیئے اس دن تک جس میں مردے زندہ ہوں
(اللہ نے) فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی
اس نے کہا جس طرح تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے، میں ضرور بیٹھوں گا ان کے لئے تیرے سیدھے راستے پر
پھر آؤں گا ان پر ان کے آگے سے، اور ان کے پیچھے سے، اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی، اور آپ نہ پائیں گے ان میں سے اکثر کو شکر گزار
فرمایا کہ نکل جاؤ اس (آسمان) سے ذلیل و خوار ہو کر، جو تیری اتباع کرے گا ان میں سے، میں ضرور بھر دوں گا تم سب سے جہنم کو
اور اے آدم! سکونت کرو (یعنی رہو) تم اور تمہاری بیوی جنت میں پھر دونوں کھاؤ جس جگہ سے چاہو، اور مت جانا اس درخت کے پاس، ورنہ تم دونوں ہو جاؤ گے (اسکا پھل کھانے کیوجہ سے) ظالموں میں سے
پھر وسوسہ ڈالا ان دونوں کے (دلوں میں) شیطان نے، تاکہ ان دونوں کی شرمگاہیں ظاہر کر دے، جو چھپائی گئی ہے ان دونوں سے ان دونوں کی شرمگاہ، اور (شیطان نے) کہا اسلئے منع فرمایا تم دونوں کو دونوں کے رب نے درخت (کا پھل کھانے) سے کہ دونوں ہو جاؤ گے فرشتے یا ہو جاؤ گے ہمیشہ رہنے والے
اور قسم کھائی ان دونوں کے سامنے بیشک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں
دلیل دی ان دونوں کے سامنے دھوکے کی، تو جب ان دونوں نے چکھا درخت (کے پھل) کو، ظاہر ہو گئیں دونوں کی شرمگاہیں، اور دونوں لگے جوڑنے اپنے اوپر جنت کے پتے، اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا نہیں میں نے منع کیا تھا تم دونوں کو اس درخت سے، اور یہ نہ کہا تھا تم دونوں سے کہ بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے ظلم کیا اپنے اوپر، اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا، تو یقیناً ہم ہو جائیں گے خسارہ پانے والوں میں
فرمایا کہ اتر جاؤ (جنت سے اب) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانہ اور سامان ہے ایک وقت تک کیلئے
فرمایا تم کو اسی (زمین) میں جینا ہے، اور اسی میں مرنا ہے، اور اسی سے پھر نکالے جاؤ گے
ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور زینت بھی ہے، اور تقوے کا لباس اس سے بہتر ہے یہ اللہ کی آیتیں (نصیحت کیلئے) ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑ سکو
اے اولادِ آدم! (کہیں) شیطان تم کو کسی فتنے میں نہ ڈال دے، جیسا کہ اس نے نکال دیا تھا تمہارے ماں باپ کو جنت سے، ان دونوں کا لباس اتروا دیا، تاکہ وہ دکھائے ان دونوں کو ان دونوں کی شرم گاہیں، بے شک وہ (شیطان) تم کو دیکھتا ہے وہ اور اس کا لشکر بھی ایسی جگہ سے کہ تم ان کو نہیں دیکھ پاتے، بے شک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو نہیں لاتے ایمان
اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے پایا ہے اپنے باپ دادا کو اسی پر، اور اللہ نے ہمیں اسکا حکم دیا ہے آپ کہہ دیجیئے کہ بیشک اللہ فحش باتوں کا حکم نہیں دیتا، کیا تم کہتے ہو اللہ پر ایسی بات جس کا تمہیں علم نہیں
آپ کہہ دیجیئے کہ میرے رب نے حکم دیا ہے انصاف کا، اور یہ کہ تم قائم کرو اپنا رخ ہر سجدے کے وقت (قبلے کی طرف) اور پکارو اسے مخلص بن کر اسکے دین میں، (تم کو اللہ نے) جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے
بعض فریق کو اللہ نے ہدایت دی، اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی بیشک ان لوگوں نے بنا لیا ہے شیطانوں کو دوست اللہ کے علاوہ، اور گمان رکھتے ہیں کہ بیشک وہ ہدایت پر ہیں
اے اولادِ آدم! تم اختیار کیا کرو زینت مسجد کی ہر حاضری کے وقت (بن سنور کے جاؤ) اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
آپ فرما دیجیئے کہ کس نے حرام کیا ہے اللہ کی پیدا کی ہوئی زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالا ہے، اور پاکیزہ رزق کو آپ کہہ دیجیئے کہ یہ چیزیں دنیوی زندگی میں مؤمنوں کے لئے ہیں، قیامت کے روز خالص ہوں گی (اہل ایمان کے لئے) ہم اسی طرح آیات کی تفصیل کرتے ہیں جاننے والوں کیلئے
کہہ دو میرے رب نے حرام کیا ہے فحش باتوں کو جو ظاہری ہیں، اور جو باطنی ہیں، اور گناہ کو اور ناحق ظلم کو، اور یہ کہ تم شریک ٹھہراؤ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور یہ کہ تم کہو اللہ کے بارے میں وہ جو تم جانتے نہیں
اور ہر امت کے لئے ایک وقت مقرر ہے، جب ان کا وقت آ جائے گا اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے
اے اولادِ آدم! اگر تمہارے پاس رسول آئیں تم ہی میں سے جو بیان کریں تم پر میری آیتیں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور اصلاح کرے تو ان پر نہ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے تکبر کیا (دل کی چاہت میں خدا کے حکم کو چھوڑا) وہ دوزخی ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے، یہی لوگ ہیں جو پائیں گے جو کچھ ان کے نصیب میں لکھا ہے (عذاب) یہاں تک کہ جب آتے ہیں ان کے پاس ہمارے فرشتے ان کو وفات دینے، تو کہتے ہیں، کہاں گئے (وہ معبود) جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے وہ کہتے ہیں ہم سے سب غائب ہو گئے، اور اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (موت کے وقت) کہ وہ کافر ہیں
فرمائے گا (اللہ) کہ داخل ہو جاؤ ان جماعتوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں جنات میں سے اور انسانوں میں سے آگ میں، جب کوئی جماعت داخل ہو گی لعنت کرے گی دوسری جماعت پر، یہاں تک کہ جب اس میں سب داخل ہو جائیں گے، تو کہیں گے، پچھلے لوگ پہلے لوگوں کے بارے میں کہ اے ہمارے رب! انہوں نے گمراہ کیا تھا ہمیں تو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے، اللہ فرمائے گا سب کیلئے دوگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے
اور کہیں گے پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے (جہنم میں) کہ تم کو ہم پر کوئی فضل نہیں، تو تم بھی عذاب کا مزہ چکھو بسبب اسکے جو کچھ تم (دنیا میں گناہ) کمایا کرتے تھے
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا، نہ کھولے جائیں گے ان (خبیث روحوں) کیلئے آسمان کے دروازے اور وہ لوگ کبھی جنت میں داخل نہ ہونگے، یہاں تک کہ داخل ہو جائے اونٹ سوئی کے ناکے (یعنی سوراخ) میں اور ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو
ان کے لئے جہنم ہی بچھونا ہے اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا بھی ہے، اور اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے (یہ وہ ہیں کہ) ہم کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یہی لوگ جنتی ہیں، اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
اور ہم کھینچ لیں گے ان (جنتیوں) کے دلوں سے کینہ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ لوگ کہیں گے تمام تعریف اللہ کے لئے ہے، جس نے ہم کو اس کی طرف رہنمائی کی، اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ کرتا، یقیناً آئے تھے ہمارے رب کے رسول سچی باتیں لے کر اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ اس جنت کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے
اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکاریں گے کہ یقیناً ہم نے سچ پایا اسے جو ہمارے رب نے وعدہ فرمایا تھا ہم سے، تو کیا تم نے بھی سچ پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا، وہ کہیں گے ہاں، پھر پکارے گا ایک پکار نے والا (فرشتہ) ان کے درمیان میں کہ اللہ کی لعنت ہو ان ظالموں پر
(یہی لوگ ہیں) جو روکتے تھے اللہ کے راستے سے اور اس میں تلاش کرتے تھے کجی، اور یہی ہیں وہ لوگ جو آخرت کے بھی منکر تھے
اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہو گا (جنت اور جہنم کے درمیان) اور اعراف پر بہت سے لوگ ہوں گے، وہ پہچانیں گے ہر ایک کو ان کی نشانی سے (یعنی چہروں سے) اور پکار کر کہیں گے اہل جنت کو السلام علیکم! ابھی یہ (اہل اعراف جنت میں) داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے
اور جب پھیریں گی ان (اہل اعراف) کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف تو کہیں گے (اہل اعراف) اے ہمارے رب! نہ بنانا ہمیں ان ظالموں کے ساتھ
اور پکاریں گے اہل اعراف بہت سے لوگوں کو جن کو (اہل اعراف) پہچانیں گے، ان کی نشانی سے، کہیں گے کہ کچھ کام نہ آئی تمہاری جماعت اور جو تم تکبر کیا کرتے تھے
کیا یہ وہی (مؤمنین) ہیں جن کیلئے تم قسمیں کھایا کرتے تھے، کہ اللہ ان پر رحمت نہ فرمائے گا (ان کو حکم ہو گا کہ) داخل ہو جاؤ جنت میں تم پر نہ خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے
اور پکاریں گے اہل دوزخ اہل جنت کو، کہ ڈال دو ہمارے اوپر تھوڑا پانی (یعنی ہمیں تھوڑا پانی پلا دو) یا جو رزق اللہ نے تم کو دے رکھا ہے (وہی دے دو، جنتی) کہیں گے کہ بیشک اللہ نے حرام کر دیا ہے ان دونوں چیزوں کو کافروں کیلئے
(یہ وہ ہوں گے) جنہوں نے بنارکھا تھا دنیا میں اپنے دین کو کھیل تماشہ اور دھوکے میں ڈال رکھا تھا ان کو دنیاوی زندگی نے، تو ہم بھی آج بھول جائیں گے ان کو جیسا کہ انہوں نے بھلا رکھا تھا ملاقات کو اپنے اس دن کی، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے
اور یقیناً ہم لے کر آئے ہیں ان کے پاس ایک ایسی کتاب جسکی تفصیل ہم نے کر دی ہے اپنے علم سے (بذریعہء) ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کیلئے
کیا وہ انتظار کر رہے ہیں اسکی تاویل کا (آخری انجام کا) جس دن آئے گی اسکی تاویل، اس دن کہیں گے وہ جو پہلے سے بھو لے ہوئے تھے، کہ یقیناً آئے تھے ہمارے رب کے رسول حق بات لے کر، تو کیا اب کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وہ ہماری سفارش کرے، یا ہمیں لوٹا دیا جائے، تو ہم عمل کریں گے اس کے علاوہ جو عمل ہم کیا کرتے تھے، یقینا انہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا اور وہ بھول گئے انہیں جنہیں یہ (دنیا میں معبود) گھڑا کرتے تھے
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ ڈھانک دیتا ہے رات سے دن کو وہ طلب کرتا ہے اسے جلدی جلدی (رات کے پیچھے دن آتا ہے) اور سورج اور چاند اور ستارے مسخر ہیں اس کے حکم سے، خبردار! اللہ ہی خالق ہے اور حکم (کا اختیار اسی کو) ہے، بابرکت ہے اللہ جو تمام عالم کا رب ہے
تم دعاء کرو اپنے رب سے گڑگڑا کے اور چپکے بھی بیشک اللہ نہیں پسند فرماتا حد سے بڑھنے والوں کو
اور مت کرو فساد دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی اصلاح کر دی گئی ہے، اور تم پکارو اللہ کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے، بیشک اللہ کی رحمت قریب ہے نیکو کاروں سے
اور وہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے بشارت بنا کر اپنی رحمت کے درمیان سے، یہاں تک کہ جب ہوائیں اٹھا لیتی ہیں بھاری بادلوں کو، تو ہم اس (بادل) کو خشک زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس (بادل) سے پانی برساتے ہیں پھر نکالتے ہیں اس (پانی) سے ہر قسم کے پھل، اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت پکڑو
اور پاکیزہ زمین سے نکلتی ہے اس کی پیداوار اس کے رب کے حکم سے، اور جو خراب (زمین) ہے اس کی پیداوار بہت کم نکلتی ہے، اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آیتوں کو ان لوگوں کے لئے جو شکر ادا کرتے ہیں
یقینا ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے
کہا (حضرت نوح کی) قوم کے سرداروں نے کہ ہم تم کو دیکھتے ہیں کھلی گمراہی (یعنی غلطی) میں
انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں گمراہی نہیں اور لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کا
میں پہونچاتا ہوں تم کو اپنے رب کی رسالت (یعنی پیغام) اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے
اور کیا تم تعجب کرتے ہو اس بات سے کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسے شخص پر جو تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ ڈرائے تم کو، اور تاکہ تم ڈر جاؤ، اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
تو جھٹلایا انہوں نے ان کو تو ہم نے نجات دی نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے انہیں بھی، اور ہم نے غرق کر دیا جن لوگوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو، بیشک وہ لوگ (دل کے) اندھے تھے
اور (ہم نے بھیجا) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو، انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، تمہارا کوئی معبود نہیں اس (اللہ) کے سوا، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟
کافر قوم کے سرداروں نے کہا، بے شک ہم دیکھتے ہیں تم کو بے وقوفی میں (اے ہود، علیہ السلام) اور بے شک ہم تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں
(ہود نے) فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں بے وقوفی نہیں، اور لیکن میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے
میں پہونچاتا ہوں تم کو اپنے رب کی رسالت، اور میں تمہارا ناصح امین (یعنی امانتدار خیر خواہ) ہوں
اور کیا تم تعجب کرتے ہو کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسے شخص پر جو تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ تم کو ڈرائے، اور تم یاد کرو کہ جب اللہ نے تم کو خلیفہ بنایا قوم نوح کے بعد، اور زیادہ صلاحیت دی تم کو مخلوق میں، تو یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو تاکہ تم فلاح پاؤ
انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، اور ہم چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے تو لے آؤ (عذاب ہم پر) جس کا تم وعدہ کر رہے ہو ہم سے، اگر تم سچے ہو
(ہود نے) فرمایا کہ یقیناً واقع ہو گا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب، کیا تم جھگڑتے ہو مجھ سے چند ایسے ناموں کے بارے میں جو رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اللہ نے نہیں نازل کی اس کی کوئی دلیل (معبود ہونے کی) تو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں
تو ہم نے نجات دی ان کو اور ان کے ساتھ والوں کو اپنی رحمت سے، اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا، اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (ہم نے بھیجا) انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں یقیناً آ چکی ہے تمہارے پاس ایک واضح دلیل تمہارے رب کی طرف سے، یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لئے نشانی، تو اس کو چھوڑ دو چرنے کیلئے اللہ کی زمین میں، اور تم مت چھونا اسے برائی سے، ورنہ آپکڑے گا تمہیں دردناک عذاب
(حضرت صالح علیہ السلام نے قوم سے فرمایا) اور تم یاد کرو جب اللہ نے تم کو خلیفہ بنایا عاد کے بعد، اور ٹھکانہ دیا تم کو زمین میں (یعنی زمین پر بسایا) تم بناتے ہو سہولت سے محل، اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو تو (اے میری قوم) تم یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو اور تم مت پھر و زمین میں فسادی بن کر
کہا متکبر سرداروں نے (حضرت صالح علیہ السلام کی) قوم کے کمزوروں سے جو کہ ایمان لے آئے تھے ان میں سے کیا تم جانتے ہو کہ صالح بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے انہوں نے کہا کہ بے شک ہم جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں
کہا متکبر لوگوں نے کہ تم جس بات پر ایمان رکھتے ہو، ہم اس کے انکاری ہیں
تو انہوں نے کاٹ دیا (معجزے سے لائی گئی) اونٹنی کو، اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے، اور کہنے لگے کہ اے صالح! تم لے آؤ (عذاب) جس کا تم وعدہ کر رہے ہو ہم سے، اگر تم رسولوں میں سے ہو
تو پکڑا ان کو زلزلے نے اور وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے (منہ گرے ہوئے)
تو منہ پھیر لیا ان سے (صالح نے) اور فرمایا کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو پہونچا دی اپنے رب کی رسالت، اور میں نے تمہیں نصیحت کی اور لیکن تم ناصح لوگوں کو پسند نہیں کرتے
اور لوط کو (ہم نے بھیجا) فرمایا اپنی قوم سے کہ کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو نہیں کیا تم سے پہلے کسی نے دنیا اور جہان والوں میں سے
(وہ یہ کہ) تم جاتے ہو مردوں کے پاس شہوت کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگوں میں ہو
اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا، سوائے اس کے کہ کہنے لگے نکال دو ان کو اپنی بستی سے بے شک یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں
تو ہم نے نجات دی لوط کو اور ان کے گھرانے کو سوائے ان کی بیوی کے وہ ہو گئی پیچھے رہنے والوں میں
اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی، تو دیکھو کیسا ہوا انجام ان مجرمین (قوم لوط) کا
اور (ہم نے بھیجا) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو، انہوں نے کہا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، یقیناً آ چکی ہے تمہارے پاس واضح دلیل تمہارے رب کی طرف سے تو تم ناپ اور تول پورا کیا کرو اور کم کر کے مت دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت فساد کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد (کہ برے عمل اصلاح کو بگاڑتے ہیں) یہ خیر ہے تمہارے لئے اگر تم مؤمن ہو
اور مت بیٹھا کرو تمام راستوں پر اس غرض سے کہ تم دھمکیاں دو (اللہ پر ایمان لانیوالوں کو) اور روکو اللہ کے راستے سے ایمان والوں کو اور تلاش کرو اس میں کجی، اور یاد کرو جب تم کم (تعداد میں) تھے پھر اللہ نے تم کو زیادہ کر دیا، اور دیکھو کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا
اور اگر چہ تم میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے ہیں اس پر جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اور کچھ ایمان نہیں لائے ہیں تو صبر کرو (ایمان نہ لانے والے) یہاں تک کہ فیصلہ کر دے اللہ ہمارے درمیان، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والوں میں ہے