اللہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی بری بات کو ظاہر کرے مگر وہ جس پر ظلم کیا گیا ہو (تو مظلوم بیان کر سکتا ہے) اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
سورۃ 4
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اگر تم نیک کام کو اعلانیہ کرو یا چھپ کر کرو یا کسی برائی کو معاف کر دو تو بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا قدرت والا ہے
جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کا، اور چاہتے ہیں کہ فرق رکھیں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان، اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں بعض (رسول) پر اور بعض کا انکار کرتے ہیں، اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ بنائیں کفر اور ایمان کے درمیان ایک راستہ
یہی وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں حقیقتاً، اور ہم نے تیار کر رکھا ہے (ان) کافروں کیلئے ذلت کا عذاب
اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، اور فرق نہیں کرتے ان (رسولوں) میں کسی کے درمیان، تو یہی ہیں جن کو اللہ جلد ان کا اجر دے گا، اور اللہ مغفرت کر نیوالا رحم کر نیوالا ہے
سوال کرتے ہیں تجھ سے اہل کتاب کہ تو نازل کر دے ان پر آسمان سے کوئی کتاب، تو یقیناً وہ سوال کر چکے ہیں موسیٰ سے اس سے بڑا (اور ان کا سوال یہ تھا کہ) انہوں نے کہا تھا دکھا دے ہمیں اللہ کو کھلم کھلا، تو پکڑا انہیں بجلی نے ان کے اس ظلم کی وجہ سے پھر انہوں نے (معبود) بنا لیا بچھڑے کو بہت سی نشانیاں آجانے کے بعد بھی، پھر ہم نے وہ بھی معاف کر دیا، اور ہم نے عطا کی تھی موسیٰ کو کھلی دلیل (یعنی معجزے)
اور ہم نے بلند کیا تھا ان پر کوہِ طور ان سے عہد لینے کیلئے، اور ہم نے ان سے کہا کہ داخل ہو جاؤ (بیت المقدس کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، اور ہم نے ان سے کہا کہ نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن (مچھلی کے شکار) میں، اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا
تو جب ہی انہوں نے توڑ دیا اپنے عہد کو اور انکار کیا اللہ کی آیتوں کا اور ان کا قتل کرنا نبیوں کا ناحق اور ان کا یہ کہنا کہ ہمارے دلوں پہ غلاف (یعنی پردہ) ہے (اس وجہ سے) مہر لگا دی ہے اللہ نے ان (کے دلوں) پر ان کے کفر کی وجہ سے تو ایمان لانیوالے ان میں تھوڑے ہی ہیں
اور اپنے کفر اور اپنی باتوں کے ذریعے مریم پر بڑا بہتان باندھا (یہودیوں نے)
اور ان کا یہ کہنا کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم کو جو اللہ کا رسول تھا، اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ سولی دی، اور لیکن ان کو شبہ ہو گیا (سولی دینے کا) اور بے شک جن لوگوں نے اسکے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی شک میں ہیں (کہ سولی دی گئی) انکے پاس اسکا کوئی علم نہیں سوائے گمان کے انہوں نے یقیناً اس کو قتل نہیں کیا
بلکہ اٹھا لیا اسے اللہ نے اپنی طرف، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
اور کوئی ایسا نہ ہو گا اہل کتاب میں جو اس (مسیح) کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے گا، اور قیامت کے دن وہ (مسیح) ان پر گواہ ہو گا
تو گناہوں کے سبب یہودیوں کے ہم نے حرام کر دی تھیں ان پر پاک چیزیں جو ان پر حلال تھیں، اور (اس وجہ سے بھی کہ) وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے بہت روکا کرتے تھے
اور ان کے سود لینے کیوجہ سے اور یقیناً انہیں منع کیا گیا تھا اس سے، اور وہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے، اور ہم نے تیار کر رکھا ہے (ان یہودی) کافروں کے لیے ان میں سے دردناک عذاب
لیکن ان میں سے جو علم میں پختہ ہیں اور مؤمن ہیں وہ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا تجھ پر اور جو نازل کیا گیا تجھ سے پہلے، اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور زکوۃ دینے والے ہیں اور ایمان لانے والے ہیں اللہ اور آخرت کے دن پر، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم عطا فرمائیں گے بہت بڑا اجر
بے شک ہم نے وحی بھیجی تیری طرف (اے نبی) جیسا کہ ہم نے وحی بھیجی نوح پر اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد آئے، اور ہم نے وحی بھیجی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس (علیہم السلام) اور ہارون اور سلیمان (علیہم السلام) پر، اور ہم نے عطا کی داؤد کو زبور
اور (ہم نے بھیجے) ایسے رسول جن کے قصے ہم بیان کر چکے ہیں اس سے پہلے تمہیں اور ایسے رسول بھی ہیں جن کے قصے ہم نے نہیں بیان کئے تم پر، اور کلام فرمایا اللہ نے موسیٰ سے خاص طور پر
رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانیوالا (بنا کر بھیجا) تاکہ نہ باقی رہے لوگوں کی اللہ پر کوئی حجت (یعنی الزام) رسولوں کے آنے کے بعد اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
لیکن اللہ اس پر شاہد ہے جو تم پر نازل کیا (اللہ نے) اسے اپنے علم سے نازل کیا، اور فرشتے بھی گواہ ہیں، اور کافی ہے اللہ کی گواہی
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کے راستے سے یقیناً وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں
بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر اور ظلم کیا نہیں کرے گا اللہ ان کی مغفرت اور نہ ہی ہدایت دے گا انہیں سیدھے راستے کی طرف
مگر جہنم کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور اللہ پر یہ بہت آسان ہے
اے لوگو! یقیناً آچکا ہے تمہارے پاس رسول حق بات لے کر تمہارے رب کی طرف سے تو ایمان لے آؤ بہتر ہے تمہارے لئے، اور اگر انکار کرو گے تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اے اہل کتاب! حد سے نہ بڑھو تم اپنے دین میں اور نہ کہو اللہ پر حق بات کے علاوہ (اور حق بات یہ ہے کہ) بے شک مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کا رسول ہے اور اللہ کا ایک کلمہ ہے جسکو اللہ نے مریم تک پہنچایا (جبریل کے ذریعے) اور اللہ کی طرف سے ایک روح ہے، تو ایمان لاؤ اللہ پر اور اسکے رسولوں پر اور نہ کہو کہ خدا تین ہیں باز آجاؤ، تمہارے لیے بہتر ہو گا، بیشک اللہ واحد ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور کافی ہے اللہ کارساز
ہرگز عار (یعنی شرم) نہیں کرے گا مسیح کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتے، اور جو کوئی عار کرے گا اس (اللہ) کی بندگی سے اور تکبر کرے گا، تو عنقریب وہ جمع کرے گا ان سب کو اپنی طرف (قیامت کے دن)
تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے (اللہ) انہیں ان کا پورا ثواب دے گا اور انہیں اپنے فضل سے اور زیادہ دے گا، اور جن لوگوں نے انکار کیا اور تکبر کیا تو وہ انہیں دردناک عذاب دے گا اور وہ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ ہی کوئی مددگار (قیامت کے دن)
اے لوگو! یقیناً آچکی ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل (آپؐ کی ذات مبارک)، اور ہم نے نازل کی ہے تمہاری طرف ایک واضح روشنی (قرآن کو)
تو جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور انہوں نے اسے مضبوط پکڑا تو وہ داخل کرے گا انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل میں، اور وہ ہدایت دے گا انہیں اپنے سیدھے راستے کی طرف
(حضرت جابرؓ) پوچھتے ہیں تجھ سے، کہہ دو اللہ بتاتا ہے تمہیں کلالہ کے بارے میں، اگر کوئی شخص ہلاک ہو جائے (یعنی مر جائے) جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اسے اس کے تمام تر کہ (مال) کا نصف (آدھا) ملے گا، اور وہ شخص اس بہن کا وارث ہو گا اگر نہ ہو بہن کی کوئی اولاد اور اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں کل ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا، اور اگر چند وارث بھائی بہن ہوں مرد اور عورت تو ایک مرد کو دو عورتوں کے حصے کے برابر ملے گا، اللہ تم سے اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ، اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے
سورۃ 5
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اے (اہل کتاب کے) ایمان والو! پورے کرو (آپؐ کی اطاعت کے) عہد کو، حلال کئے گئے ہیں تمہارے لئے مویشی چوپائے، ان کے سوا جن کے (نام) پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے تمہیں (جو) نہیں ہے شکار کی جگہ جب تم حالت احرام میں ہو، بیشک اللہ حکم کرتا ہے جو چاہتا ہے
اے ایمان والو! نہ کرو بے حرمتی اللہ کے شعائر کی (جیسے کعبہ، قرآن، مسجد وغیرہ کی) اور نہ محترم مہینوں کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ پٹے پہنائے گئے جانوروں کی اور نہ ان آنے والوں کی بیت اللہ کو وہ تلاشتے ہیں اپنے رب کا فضل اور اس کی رضاء، اور جب تم حلال ہو جاؤ (یعنی احرام اتار لو) تو شکار کر سکتے ہو، اور ہرگز تمہیں جرم پے آمادہ نہ کرے اس قوم کی دشمنی جنہوں نے تمہیں روکا تھا مسجد حرام سے کہ تم حد سے گزر جاؤ، اور تم تعاون (یعنی مدد کرو) نیکی اور تقوے کے کام میں، اور نہ تعاون کرو گناہ اور زیادتی میں اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے
حرام کیا گیا تم پر مردار (یعنی مرے ہوئے جانور) اور خون اور سور کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا نام پکارا گیا ہو، اور جو گلا گھٹنے سے اور جو چوٹ سے اور جو اونچائی سے گر کے مرا ہو، اور جو جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو، اور جسے درندوں نے کھایا ہو مگر اسے تم ذبح کر ڈالو (تو حلال ہے) اور جو آستانوں (مزاروں) پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کیا گیا ہو تیر مار کر (جوے کے تیروں کے ذریعے) یہ سب گناہ ہیں آج مایوس ہو گئے کفار تمہارے دین سے، تو نہ ڈرو تم ان سے اور مجھ سے ڈرو، آج میں نے مکمل کر دیا ہے تمہارے لئے تمہارے دین کو اور مکمل کر دی تم پر اپنی نعمت اور میں راضی ہو گیا تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر، تو جو مجبور ہو بھوک کیوجہ سے گناہ کی طرف میلان نہ ہو (تو مرا جانور کھا سکتا ہے) اللہ معاف کر نیوالا اور رحم کر نیوالا ہے
پوچھتے ہیں آپ سے (عدی بن حاتم) کہ کیا حلال ہے ان کے لئے؟ کہہ دیجئے کہ حلال کی گئی ہیں تمہارے لئے تمام پاک چیزیں، اور جو سکھایا ہے تم نے شکاری جانوروں کو، تم نے جو انہیں سکھایا ہے وہ اللہ نے تمہیں سکھایا ہے، تو تم اس سے کھالو جس شکار کو وہ تمہارے لئے (پکڑ کر) روک رکھیں اور اس پر اللہ کے نام کا ذکر کر لیا کرو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے
آج حلال کی گئی ہیں تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں اور اہل کتاب کا کھانا (ذبیحہ یعنی ذبح کیا ہوا جانور) تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں (اہل کتاب کیلئے) اور پاکدامن عورتیں اہل کتاب کی تمہارے لئے (حلال ہیں) جب کہ تم ادا کرو ان کے مہر، یہ (نکاح) پاکدامنی کیلئے ہو نہ کہ بدکاری کیلئے اور نہ چھپی یاری کیلئے، جو ایمان (لانے) سے انکار کرے گا تو یقیناً اس کے اعمال ضائع ہو گئے (دنیا میں) اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا
اے ایمان والو! جب تم کھڑے ہو نماز کیلئے تو دھو لو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت اور مسح کرو اپنے سروں کا اور دھو لو اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت اور اگر تم جنابت (کی حالت) میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آئے یا تم عورتوں سے ملے ہو پھر نہ پاؤ پانی تو تیمم کرو پاک مٹی سے، پس مسح کرو اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر اس (مٹی) سے، اللہ نہیں چاہتا تم پر (کسی قسم کی) تنگی ڈالنا، اور لیکن اس کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں پاک کر دے اور تمام کرے اپنی نعمت تم پر (یعنی دین کا طریقہ مکمل کرے) تاکہ تم شکر گزار بن سکو
اور تم یاد کرو اللہ کی ان نعمتوں کو جو تمہارے اوپر ہے اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہدہ ہوا ہے جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور ڈرتے رہو اللہ سے، بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے
اے ایمان والو! تم ہو جاؤ قائم کرنے والے اللہ کیلئے شہادت کو انصاف کے ساتھ، اور ہرگز جرم پے آمادہ نہ کرے تمہیں کسی قوم کی دشمنی کہ تم عدل نہ کرو، عدل کیا کرو یہ تقوے کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائیں اور عمل کریں نیک، ان کے لئے مغفرت اور اجر ہے بہت بڑا
اور وہ لوگ جن لوگوں نے کفر کیا اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو تو یہی ہیں وہ جو دوزخی ہیں
اے ایمان والو! یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہے، جب کہ ایک (یہودی) قوم نے چاہا تم پر ہاتھ پھیلانا (یعنی حملہ کرنا) تو روک دیا (اللہ نے) ان کے ہاتھوں کو تم (تک پہنچنے) سے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور اللہ ہی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہئے
اور یقیناً لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے، اور ہم نے مقرر فرمائے ان ہی میں سے بارہ سردار، اور اللہ نے فرمایا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم رکھو گے اور زکوۃ دیتے رہو گے اور ایمان رکھو گے میرے رسولوں پر، اور ان کی مدد کرتے رہو گے، اور قرض دیتے رہو گے اللہ کو بہتر قرض (اللہ کی رضاء کیلئے خیرات) تو یقیناً میں تمہاری برائیاں تم سے دور رکھوں گا اور میں ضرور داخل کروں گا تمہیں ان جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تو اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو یقیناً وہ گمراہ ہو گا سیدھے راستے سے
پھر ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے بنا دیئے ان کے دلوں کو سخت کہ وہ بدل دیتے تھے کلام کو اس کی جگہ سے (تورات میں) اور انہوں نے بھلا دیا اس حصے کو جسکی انہیں نصیحت کی گئی تھی، مسلسل اطلاع ملتی رہے گی تجھے ان کی خیانت کی، مگر تھوڑے (لوگ) ایسے نہیں بھی تھے، تو تم انہیں معاف کر دو اور درگزر کرو بیشک اللہ محبت کرتا ہے احسان کر نیوالوں سے
اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا، تو انہوں نے بھلا دیا اس حصے کو جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ڈال دیئے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت تک کیلئے، اور عنقریب اللہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے
اے اہل کتاب! یقیناً آچکا ہے تمہارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرے گا تمہارے لئے بہت سی وہ باتیں کتاب (تورات) کی جو تم چھپا رہے تھے، اور وہ معاف کرے گا بہت سی باتوں کو، یقیناً آچکا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور (آپؐ) اور واضح کتاب (قرآن)
ہدایت دیتا ہے اللہ اس (قرآن) کے ذریعے اسے جو اتباع کرے اسکی رضاء کی سلامتی کے راستے کی طرف، اور وہ نکالتا ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف اپنے حکم سے، اور ہدایت دیتا ہے انہیں سیدھے راستے کی طرف
یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے (اے نبی صلی) آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ کون ہے جو اللہ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ اگر اللہ کا ارادہ ہلاک کرنے کا ہو مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو تو؟ اور اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین میں اور ان دونوں کے درمیان میں، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اور کہتے ہیں یہود و نصاریٰ کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے اللہ کیوں سزا دیتا ہے؟ نہیں بلکہ تم بھی ایک انسان ہو اس کی مخلوق میں سے وہ مغفرت کرتا ہے جسے چاہتا ہے، اور عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
اے اہل کتاب! یقیناً آگیا ہے تمہارے پاس ہمارا رسول وہ بیان کرتا ہے تمہارے سامنے (اور) رسولوں کے ایک وقفے کے بعد آیا ہے تا کہ تم یہ نہ کہو کہ نہیں آیا تھا ہمارے پاس کوئی بشیر اور نہ ہی نذیر، تو یقیناً اب آگیا ہے تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم! یاد کرو اللہ کی اس نعمت کو جو تم پر ہے، جب اس نے بنایا تم میں سے انبیاء، اور تمہیں بادشاہ بنایا اور عطا کیا تمہیں (من اور سلویٰ فرعون سے نجات وغیرہ) جو نہیں عطا کیا تمام عالم میں کسی کو
اے میری قوم! داخل ہو جاؤ اس مقدس زمین (بیت المقدس) میں جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے، اور مت بھاگو تم اپنی پیٹھ پھیر کر، پھر تم خسارہ میں جا پڑو گے
انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ! وہاں تو زور آور لوگ ہیں اور ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے وہاں جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں، تو اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہو جائیں گے
کہا دو شخصوں نے جو ڈرتے تھے اللہ سے جن پر اللہ کا انعام تھا کہ تم داخل ہو جاؤ ان کے پاس (بیت المقدس کے) دروازے تک، تو جب تم داخل ہو گے اس میں تو بیشک تم غالب آجاؤ گے، اور تمہیں اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے اگر تم مومن ہو
قوم نے جواب دیا کہ اے موسیٰ! ہم ہرگز وہاں نہ داخل ہوں گے کبھی بھی جب تک وہ وہاں ہیں، تو جاؤ تم اور تمہارا رب جا کر دونوں لڑو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں
(موسیٰ) کہنے لگے، اے میرے رب! بیشک میں تو مالک ہوں اپنا اور اپنے بھائی کا، تو تو جدائی ڈال دے ہمارے اور اس فاسق قوم کے درمیان
کہا (اللہ نے) کہ بیشک حرام کر دی گئی ہے (بیت المقدس) ان پر چالیس سال تک، یہ بھٹکتے رہیں گے زمین میں (مصر اور شام کے درمیان) تم مت کرنا افسوس اس فاسق قوم پر
اور (اے نبی) پڑھ سناؤ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کی خبریں، ان دونوں نے ایک قربانی پیش کی تو قبول ہو گئی ان میں سے ایک کی قربانی، اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی، تو وہ کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا، اس نے کہا اللہ قبول کرتا ہے متقیوں کا عمل
اگر تو میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھائے، (تو بھی) میں تیرے قتل کی طرف ہرگز اپنے ہاتھ نہ بڑھاؤں گا میں تو اللہ سے خوف رکھتا ہوں جو رب ہے جہانوں کا
میں تو چاہتا ہوں کہ تو مستحق ہو جا میرے گناہ اور اپنے گناہ کا، اور تو شامل ہو جائے آگ کے ساتھیوں میں، اور یہی بدلہ ہے ظالموں کا
تو اکسایا اسے اسکے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر، اور اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ ہو گیا خسارہ پانیوالوں میں سے
پھر بھیجا اللہ نے ایک کوے کو جو زمین کھودنے لگا، تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح چھپائے اپنے بھائی کی لاش کو، وہ کہنے لگا، ہائے افسوس! کیا میں اس کوے سے بھی عاجز ٹھہرا، کہ میں چھپا دیتا اپنے بھائی کی لاش کو؟ پھر وہ نادمین میں سے ہو گیا
اسی وقت سے ہم نے لکھ دیا بنی اسرائیل پر کہ بیشک جو شخص قتل کرے گا کسی کو بغیر کسی وجہ کے، یا فساد کرے گا زمین میں تو گویا اس نے قتل کر دیا تمام لوگوں کو اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا، اور یقیناً آئے ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول واضح دلیلیں لے کر، پھر ان میں کے اکثر لوگ اس کے بعد بھی زمین میں حد سے بڑھنے والے ہی رہے
ان کا بدلہ جو اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا کاٹ دیئے جائیں مخالف جانب سے ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے (یعنی ملک سے نکال دیا جائے اگر اسلامی ملک ہو) یہ ان کی دنیوی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے
مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو تو (معاف ہے) جان لو کہ اللہ بہت مغفرت کرنے اور رحم کرنے والا ہے
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور تلاش کرو اس کا قرب (عبادت کے ذریعے) اور جہاد کرو اس کے راستے میں تاکہ تم فلاح پاسکو
کافروں کے لئے اگر وہ سب کچھ ہو جائے جو زمین میں ہے اور بلکہ اسی کے مثل اور بھی ہو جائے (اور وہ ان سب کو) فدیے میں دینا چاہیں قیامت کے دن عذاب کے بدلے تو بھی قبول نہ ہو ان سے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
وہ چاہیں گے کہ نکل جائیں آگ سے، اور (حالانکہ) وہ نہیں نکل پائیں گے اس (آگ) سے ان کے لئے قائم رہنے والا عذاب ہے
چوری کرنے والے مرد اور عورت کے (دایاں) ہاتھ کاٹ دیا کرو یہ بدلہ ہے ان کا جو انہوں نے کیا، اللہ کی طرف سے سزا ہے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے
تو جو شخص توبہ کر لے اپنے ظلم (یعنی گناہ) کے بعد اور اصلاح کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے
کیا تجھے معلوم نہیں؟ کہ اللہ ہی کی بادشاہت ہے (تمام) آسمانوں اور زمین کی وہ عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اے رسول! آپ غم نہ کیجئے ان لوگوں کے پیچھے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں وہ ان (منافقوں) میں سے ہیں جو اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کے دل میں ایمان نہیں اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو جھوٹ باتیں سننے کے عادی ہیں اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو نہیں آئے اب تک آپ کے پاس (یہودیوں کے سردار) وہ کلمات کو بدل دیتے ہیں ان کی جگہوں سے، کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہی حکم دیا جائے (جو تورات میں انہوں نے بدل رکھا ہے) تو قبول کر لینا اسے اور اگر نہ دیں یہ حکم تو چھوڑ دینا، اور اللہ کا ارادہ جس کو فتنے میں ڈالنے کا ہو تو آپ اس کے لئے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مالک نہیں یہی وہ لوگ ہیں کہ نہیں ہے اللہ کا ارادہ ان کے دلوں کو پاک کرنے کا، ان کے لئے دنیا میں بھی بڑی رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
(یہ) جاسوسی کرنے والے ہیں اور حرام کے کھانے والے ہیں، تو اگر یہ تمہارے پاس آئیں (تو تمہیں اختیار ہے) فیصلہ کرو ان کے درمیان یا اعراض کرو ان سے، اگر تم ان سے منہ پھیر لو گے تو بھی یہ تم کو ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، اور اگر تم فیصلہ کرو تو فیصلہ کرو ان میں انصاف کے ساتھ، بیشک اللہ محبت رکھتا ہے عدل والوں کے ساتھ
وہ کیسے تم کو فیصلہ کرنے والا بناتے ہیں اپنے پاس تورات ہوتے ہوئے جس میں اللہ کے احکام ہیں، پھر اس کے بعد بھی پھر جاتے ہیں، دراصل یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں
بے شک ہم نے نازل فرمائی ہے تورات جس میں ہدایت اور نور ہے، فیصلے کرتے تھے اس کے مطابق (یہودیوں میں) انبیاء، اور جو اسلام لائے ہوئے یہودی ہیں اور اللہ والے اور علماء ہیں کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کی ذمے داری دی گئی تھی اور وہ اس پر (خود ہی) گواہ ہیں تو تم ان لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ہی ڈرو، اور مت کرو سودا میری آیتوں کا تھوڑے فائدے کیلئے، جو نہ کرے فیصلے اس کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی کافر ہیں
اور ہم نے یہ بات لکھ دی تھی ان (یہودیوں) پر اس (تورات) میں کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے، اور جو نہ کرے فیصلے اس کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی ظالم ہیں
اور ہم نے بھیجا ان (موسیٰ) کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو جو تصدیق کرنے والے تھے اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی اور ہم نے عطا فرمائی انہیں انجیل جس میں روشنی اور ہدایت تھیں اور وہ تصدیق کرتی تھی اپنے سے پہلے (کی کتاب) تورات کی اور وہ (تورات) ہدایت اور نصیحت تھی متقیوں کے لئے
اور انجیل والوں کو بھی چاہئے کہ فیصلہ کریں اس کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اس (انجیل) میں، اور جو فیصلہ نہ کرے اللہ کے نازل کردہ کے مطابق تو وہی فاسق ہیں
اور ہم نے نازل فرمائی ہے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب (قرآن) جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کا محافظ ہے، تو فیصلہ کیجئے ان کے درمیان اس کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے، اور نہ اتباع کیجئے ان کی خواہشات کی جب کہ آچکا آپ کے پاس حق، تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے مقرر کر دیئے ہیں ایک شریعت اور دستور، اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، اور لیکن وہ آزماتا ہے تمہیں اس میں جو اس نے تمہیں دیا ہے تو تم سبقت کرو خیر کے کاموں میں، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے ہو
اور آپ فیصلہ کیجئے ان کے درمیان اس کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشوں کی اتباع نہ کیجیئے اور ان سے ڈرتے رہئیے کہ کہیں یہ آپ کو فتنے میں نہ ڈال دیں بعض ان حکموں میں جو اللہ نے نازل کئے ہیں آپ کی طرف، تو اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو جاں لو کہ اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ انہیں مصیبت میں ڈالے ان کے بعض گناہوں کی کیوجہ سے اور بیشک اکثر لوگ نا فرمان ہی ہوتے ہیں
کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں (بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودی) اور اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہو گا؟ یقین رکھنے والوں کے لئے
اے ایمان والو! تم نہ بناؤ یہودیوں اور نصاریٰ (یعنی عیسائیوں) کو اپنا دوست، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے تم میں سے تو بے شک وہ انہی میں سے ہو گا اور بیشک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو
آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے، وہ (منافقین) جلدی جلدی (دوستی) کر رہے ہیں ان (یہودیوں) سے کہتے ہیں ہمیں ڈر ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی مصیبت ہم پر آپڑے، ممکن ہے اللہ دے دے فتح (مکہ) یا اپنے پاس سے کوئی حکم لائے (یہودیوں کو مدینے سے نکلنے کا) پھر یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر نادم ہوں گے
اور کہیں گے ایمان والے (ان منافقین کے بارے میں قیامت میں) کیا یہی وہ لوگ ہیں جو قسمیں کھاتے تھے اللہ کی اپنی قسموں میں زور ڈال کر کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے اعمال ضائع ہو گئے اور یہ ہو گئے خسارے میں
اے ایمان والو! جو پھر جائے تم میں سے اپنے دین سے، تو اللہ جلد لائے گا ایسی قوم کو جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی (وہ لوگ) نرم ہوں گے مومنوں پر اور سخت ہوں گے کافروں پر، وہ جہاد کریں گے اللہ کے راستے میں، اور نہیں خوف کریں گے ملامت کر نیوالے کی ملامت کا یہ اللہ کا فضل ہے وہ عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے
(مسلمانو!) صرف تمہارا دوست اللہ اور اس کے رسول ہیں اور ایمان والے ہیں جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکوۃ اور وہ رکوع کرنے والے ہیں
اور جو شخص اللہ سے اور اس کے رسول سے اور مومنوں سے دوستی کرے، تو بے شک (یہ اللہ کی جماعت ہے اور) اللہ کی جماعت ہی غالب رہے گی
اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنائے ہوئے ہیں (چاہے وہ) اہل کتاب ہوں تم سے پہلے کے، یا کفار ہوں، اور تم اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم مومن ہو
اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی اور کھیل سمجھتے ہیں یہ اس لئے کہ یہ لوگ بے عقل ہیں
آپ کہہ دیجیئے اے اہل کتاب تم اسلئے انتقام لے رہے ہو ہم سے کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور جو کچھ ہماری جانب نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس سے پہلے (اس پر) اور بیشک تم میں اکثر فاسق ہیں
آپ کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ کہ اس سے زیادہ برا عذاب پانے والا اللہ کے نزدیک (کون ہے؟) وہ جس پر اللہ نے لعنت کی اور غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا، اور (جنہوں نے) عبادت کی شیطان کی یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہ بہت بھٹکے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے
اور (منافقین) جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور یقیناً وہ داخل ہوئے تھے کفر کے ساتھ ، اور اسی کفر کے ساتھ ہی نکلے اور اللہ خوب جانتا ہے جو یہ چھپا رہے ہیں
آپ دیکھیں گے کہ ان (یہودیوں) میں سے اکثر جلدی کرتے ہیں گناہ اور زیادتی کے کاموں میں اور مال حرام کھانے میں کیا ہی برا کام یہ کر رہے ہیں
کیوں نہیں روکتے انہیں ان کے عابد اور عالم جھوٹ باتوں کے کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے؟ بے شک کیا ہی برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں
اور کہا یہودیوں نے کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں (بخل کی وجہ سے) انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، اور ان پر لعنت کی گئی ان کے اس کہنے کی وجہ سے، بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں وہ خرچ کرتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور یقیناً ان میں سے اکثر کو تو سرکشی اور کفر میں اور بڑھا دیتا ہے جو کچھ نازل کیا گیا ہے تیری طرف تیرے رب کی طرف سے، اور ہم نے ڈال دیئے ہیں ان میں آپس میں عداوت اور بغض قیامت تک کے لئے، وہ جب بھی بھڑ کانا چاہتے ہیں جنگ کی آگ کو، تو اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کیلئے، اور اللہ فسادیوں سے محبت نہیں کرتا
اور اگر یہ اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں معاف فرما دیتے، اور ضرور انہیں داخل کرتے نعمت والی جنت میں
اور اگر یہ قائم رہتے تورات اور انجیل پر اور جو نازل فرمایا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے، تو یقیناً یہ (روزی) کھاتے اپنے اوپر سے (بارش کے ذریعے) اور اپنے پیروں کے نیچے سے (زمین کی پیداوار سے) ایک جماعت ان میں درمیانی حالت پر ہے، اور اکثر ان میں برے اعمال کرتے ہیں
اے رسول! پہونچا دیں جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے نہیں پہونچائی اس (اللہ) کی رسالت کو، اور اللہ بچا لے گا آپ کو لوگوں سے، بے شک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا
آپ کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں یہاں تک کہ تم قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے، تو یقیناً اور زیادہ کر دیتا ہے ان میں سے اکثر کو (یہ قرآن) جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے شرارت اور انکار میں ، تو آپ افسوس نہ کریں ان کافروں پر
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے اور جو صابی (یعنی ستارہ پرست) ہوئے اور جو عیسائی ہوئے (ان میں) جو بھی اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے، اور نیک عمل کرے، تو نہ ہو گا کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور (پھر) بھیجا ہم نے ان کی طرف رسولوں کو، جب بھی آیا ان کے پاس کوئی رسول (اللہ کا احکام لے کر) جن کو انہوں نے ناپسند کیا، تو بعض فریق کو انہوں نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کر دیا
اور انہوں نے گمان کیا کہ کوئی آزمائش نہ ہو گی، تو وہ اندھے، اور بہرے ہو گئے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر اندھے اور بہرے ہو گئے ان میں سے اکثر اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے ان اعمال کو جو وہ کر رہے ہیں
یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ بے شک اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے اور خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے، بے شک جو اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے تو یقیناً اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا
وہ لوگ بھی کافر ہو گئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، اور نہیں ہے کوئی معبود اس معبود کے سوا وہ اکیلا ہے، اور اگر یہ باز نہ آئے اس سے جو یہ کہہ رہے ہیں تو یقیناً پہونچے گا ان لوگوں کو جو ان میں سے کافر ہیں دردناک عذاب
یہ لوگ کیوں توبہ نہیں کرتے اللہ کے سامنے؟ اور کیوں استغفار نہیں کرتے؟ اور اللہ تو غفور اور رحیم ہے
مسیح ابن مریم سوا رسول کے اور کچھ نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ان کی والدہ سچی تھیں دونوں (ماں بیٹے) کھانا کھایا کرتے تھے، آپ دیکھیے کہ کس طرح ہم بیان کر رہے ہیں ان کے لیے آیتیں پھر دیکھئے وہ کہاں بہک رہے ہیں
آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے، اللہ ہی خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے
کہہ دیجیئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو (یعنی زیادتی) نہ کرو اور پیروی نہ کرو ان لوگوں کی خواہشوں کی جو بہک چکے ہیں پہلے سے، اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں، اور گمراہ ہو گئے ہیں سیدھے راستے سے
لعنت کی گئی کافروں پر بنی اسرائیل کے، داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبانی، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھتے تھے
وہ روکتے نہ تھے آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے، کیا ہی برا عمل ہے جو وہ کیا کرتے تھے
آپ دیکھیں گے ان (یہودیوں) میں سے بہت سے لوگوں کو کہ وہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، جو کچھ انہوں نے اپنے لئے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت برا ہے کہ اللہ ناراض ہوا ان سے، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے
اور اگر یہ (یہودی) ایمان لاتے اللہ پر، اور نبی پر، اور جو نازل کیا گیا ہے ان کی طرف تو یہ ان (کفار) سے دوستی نہ کرتے، اور لیکن ان میں اکثر لوگ فاسق ہیں