اور شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں سوائے (کافروں کی عورتوں کے) جو تمہاری ملک میں آجائیں ۔ یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا ہے اور حلال ہیں (سب) تمہیں ان عورتوں کے علاوہ کہ تم چاہو اپنے مالوں کے ذریعے نکاح کرنا نہ کہ زنا تو ان میں سے جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو تو دے دو انہیں ان کا مقررہ مہر اور کوئی گناہ نہیں تم پر اس میں کہ آپسی رضامندی سے (مہر) مقرر ہونے کے بعد کمی بیشی کرلو بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے
سورۃ 4
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اور جو نہ رکھے تم میں سے طاقت کہ وہ آزاد مؤمنہ عورتوں سے نکاح کر سکے (حالات اور اخراجات کیوجہ سے) تو جو تمہاری ملکیت میں تمہاری جوان مؤمنہ باندیاں ہوں (ان سے نکاح کر لو) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے سے ہو، تو تم ان سے نکاح کر لو ان کے مالکوں کی اجازت سے، اور دے دو ان (باندیوں) کا مہر بھلے طریقے سے پاکدامن ہوں بدچلن نہ ہوں اور نہ چھپی یاری کرنے والیاں ہو تو جب وہ (باندیاں) نکاح میں آجائیں پھر فحش کریں تو ان پر آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں پر ہے یہ (باندی سے نکاح کی سہولت) ان کے لئے ہے جو ڈرے تم میں سے (زنا کی) تکلیف میں پڑنے سے، اور اگر تم صبر کرو تو بہتر ہے تمہارے لئے، اور اللہ غفور اور رحیم ہے
اللہ چاہتا ہے کہ بیان کرے تمہارے لئے (قانون) اور ہدایت دے تمہیں تم سے پہلوں کے طریقے پر اور توبہ قبول کرے تمہاری، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اور اللہ چاہتا ہے کہ قبول کرے تمہاری توبہ، اور وہ چاہتے ہیں جو شہوات (یعنی دل کی خواہشات) کی پیروی کرتے ہیں کہ تم مائل ہو جاؤ دور کی گمراہی میں
اللہ چاہتا ہے کہ ہلکا کر دے تم سے (تمہارا دین کا بوجھ کیوں کہ) انسان پیدا کیا گیا ہے کمزور
اے ایمان والو! مت کھاؤ تم اپنا مال آپس میں باطل طریقے سے، مگر یہ کہ تجارت ہو آپسی رضامندی کی، اور قتل نہ کرو آپس میں (یعنی شان و شوکت کیلئے جنگ و جدال یا خودکشی نہ کرو) بے شک اللہ تم پر رحیم ہے
اور جو شخص کرے گا (تم میں سے) یہ کام زیادتی اور ظلم سے تو ہم ڈالیں گے اسے آگ میں، اور یہ کام اللہ پر بہت آسان ہے
اگر تم اجتناب کرو کبائر (بڑے گناہ) سے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم معاف کردیں گے تمہارے سیئات (چھوٹے گناہ) اور ہم داخل کریں گے تمہیں عزت کے مقام میں
اور مت تمنا کرو اس فضیلت کی جو اللہ نے بعض کو بعض پر دی ہے، مردوں کے لئے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لئے بھی حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور سوال (یعنی دعاء) کرو اللہ سے اس کے فضل کا، بے شک اللہ کو ہر چیز کا علم ہے
اور ہر شخص کو بنایا ہے ہم نے وارث، جو چھوڑے (ترکہ یعنی مال) ماں باپ یا اقربہ (یعنی رشتے دار) اور جن سے بندھے ہوں تمہارے عہد تو دو انہیں ان کا حصہ (یعنی آپس میں مدد کرو) بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے
مرد محافظ ہے عورتوں پر جیسا کہ اللہ نے فضیلت دی ہے ایک کو دوسرے پر، اور اسلئے کہ وہ (یعنی مرد) خرچ کرتے ہیں (عورتوں پر) اپنا مال تو عورتیں بھی نیک فرماں بردار ہوں غیر موجودگی میں حفاظت کرنے والیاں ہوں، جس طرح حفاظت کی ذمے داری اللہ نے ڈالی ہے، اور جن عورتوں سے تمہیں خوف ہو نافرمانی کا تو انہیں نصیحت کرو اور تم جدا رہو ان سے بستر میں، اور تنبیہ کرو انہیں، تو اگر اطاعت کرلیں تمہاری، تو مت تلاش کرو ان پر کوئی اور راستہ بیشک اللہ بلند و برتر ہے
اور اگر تمہیں خوف ہو تعلقات بگڑ جانے کا تو مقرر کرو ایک حکم اس (مرد) کا اور ایک حکم اس (عورت) کا، اگر ان دونوں کا ارادہ صلح کا ہوگا تو اللہ بھی توفیق دیدے گا ان دونوں کے درمیان، بے شک اللہ علیم اور خبیر ہے
اور اللہ کی عبادت کرو اور مت شریک کرو اس کے ساتھ کسی کو، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قریبی پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور پاس بیٹھنے والے (دوستوں کے ساتھ) اور مسافروں اور جو تمہاری ملکیت میں غلام ہوں (ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو) بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اترانے والے فخریہ لے کو
وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور وہ حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کا، اور چھپاتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے، اور ہم نے تیار کر رکھا ہے (ایسے) ناشکروں کے لیے ذلت کا عذاب
اور جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو لوگوں کو دکھانے کے لئے، اور ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اور جس کا شیطان دوست ہوا تو (یقیناً) وہ بہت برا دوست ہے
اور کیا (بگڑ جاتا ان کفار کا) اگر یہ ایمان لے آتے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور خرچ کرتے جو اللہ نے دیا ہے انہیں، اور اللہ انہیں خوب جانتا ہے
بے شک اللہ نہیں ظلم کرتا ذرہ برابر بھی، اور اگر ہو نیکی (تھوڑی بھی) تو اضافہ کر دیتا ہے اسے، اور عطا کرتا ہے اپنی طرف سے اجر عظیم
پھر کیا حال ہوگا؟ جب ہم لائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ، اور (اے نبی) ہم تمہیں لائیں گے ان سب پر گواہ بنا کر
اس (قیامت کے) دن چاہیں گے کافر اور رسول کے نافرمان، کہ کاش برابر کردے انہیں زمین (یعنی نگل لے یا سڑ گل جائے) اور وہ نہ چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات
اے ایمان والو! نہ جاؤ قریب نماز کے جس وقت تم نشے (کی حالت) میں ہو، یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جو تم کہہ رہے ہو، اور نہ جنابت (یعنی ناپاکی) کی حالت میں مگر یہ کہ راستہ عبور (یعنی پار) کرنا ہو، یہاں تک کہ غسل کر لو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص آئے رفع حاجت (یعنی پاخانہ پیشاب) کر کے یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر نہ پاؤ پانی تو تیمم کر لو پاک مٹی سے اور مسح کر لو اس سے اپنے مونہوں پر اور ہاتھوں کا، بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے
کیا تم نے نہیں دیکھا ان (یہودیوں) کو جنہیں عطا کیا گیا کچھ حصہ کتاب سے، وہ سودا کرتے ہیں گمراہی کا، اور چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جاؤ سیدھے راستے سے
اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو، اور کافی ہے اللہ دوست اور کافی ہے اللہ مددگار
یہودیوں میں بعض ایسے ہیں جو تحریف (یعنی رد و بدل) کرتے ہیں کلمے کو ان کی جگہوں سے، اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی (اور کہتے ہیں) سنو ان سنے ہو کر (اور کہتے ہیں) راعنا موڑ کر اپنی زبان کو اور طعنہ دیتے ہیں دین میں، اور (اے کاش) اگر وہ یوں کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور (نبی سے کہتے) سنئے اور ہم پر نظر کیجئے تو ہوتا بہتر ان کے لئے، اور زیادہ قائم رہنے والی بات ہوتی، اور لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے ان کے کفر کیوجہ سے، ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائیں گے
اے اہل کتاب! ایمان لے آؤ اس (قرآن) پر جو ہم نے نازل کیا ہے (اس کتاب کی) تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس ہے اس سے پہلے کہ ہم مٹا دیں چہروں کو پھر ہم پھیر دیں انہیں پیٹھ کی طرف، یا ہم لعنت کریں ان پر جس طرح ہم نے لعنت کی تھی ہفتے والے (یہودیوں) پر، اور اللہ کا حکم ہو کر رہتا ہے
بیشک اللہ نہیں مغفرت کرتا کہ شریک ٹھہرایا جائے اس کے ساتھ اور معاف کرتا ہے اس کے علاوہ جس (گناہ) کو چاہتا ہے، اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تو یقیناً اس نے بہت بڑا گناہ کیا
کیا تم نے ان (یہودیوں) کو نہیں دیکھا جو اپنے کو پاک سمجھتے ہیں (گناہوں سے) بلکہ اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہ ہو گا
دیکھو کیسے افتراء کرتے ہیں اللہ پر جھوٹ، اور کافی ہے اس کا یہ کھلا گناہ
کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو جنہیں عطا کیا گیا کچھ حصہ کتاب کا وہ ایمان رکھتے ہیں بتوں اور شیطانوں پر اور یہ (اہل کتاب) کہتے ہیں کافروں سے کہ ان (بتوں اور شیطانوں) کا راستہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے ان لوگوں سے جو ایمان والے ہیں
یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اللہ کی، اور جس پر لعنت کرے اللہ تو تو ہرگز نہ پائے گا اس کا کوئی مددگار
کیا ان کا بھی کچھ حصہ ہے بادشاہت میں، پھر تو یہ نہیں دیں گے لوگوں کو ایک تل بھی
یا وہ حسد کرتے ہیں لوگوں سے، اس پر جو عطا کیا ہے انہیں (یعنی نبیؐ اور مؤمنین کو) اللہ نے اپنے فضل سے، یقیناً ہم نے عطا کی ہے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور ہم نے عطا کی ہے ان کو بڑی بادشاہت
پھر ان (یہودیوں) میں سے کوئی ایمان لایا اس (نبی) پر، اور کوئی رک گیا اس سے اور کافی ہے ان کے لئے دوزخ کی بھڑکتی آگ
بیشک جن لوگوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا، عنقریب ہم ڈال دیں گے انہیں آگ میں، جب جل جائیں گی ان کی کھالیں تو ہم ان کو بدل دیں گے دوسری کھال سے، تاکہ مزہ چکھتے رہیں عذاب کا، بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے، عنقریب ہم داخل کریں گے انہیں ایسے باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہوں گی نہریں، ہمیشہ رہیں گے ان میں، ان کے لیے اس میں پاکیزہ عورتیں ہوں گی، اور ہم داخل کریں گے انہیں گھنے سائے میں
بے شک اللہ حکم دیتا ہے تمہیں کہ ادا کرو امانتیں امانت والوں کو، اور جب تم حکم بنو لوگوں کے درمیان تو فیصلہ کرو عدل کے ساتھ، بے شک اللہ کیا ہی بہتر نصیحت کرتا ہے تمہیں اس (قرآن) کے ذریعے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے
اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں (دین کے) ماہر ہوں، پھر اگر تنازع (یعنی جھگڑا) ہو تمہیں آپس میں کسی چیز میں، تو لوٹاؤ اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر، یہ بہتر بات ہے اور بہتر انجام ہے
کیا تم نے نہیں دیکھا ان (بشر نامی جیسے منافق) کو جن کا گمان ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں ان پر جو نازل کیا گیا ہے آپ پر اور جو نازل کیا گیا ہے آپ سے پہلے، یہ چاہتے ہیں کہ اپنا فیصلہ شیطان سے (یعنی کافروں کے سردار سے) کرائیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ انکار کریں اس کا، اور چاہتا ہے شیطان کہ انہیں ڈال دے دور کی گمراہی میں
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے، اور رسول کی طرف آؤ، تب تو دیکھے گا منافقوں کو کہ تجھ سے (ملنے آنے سے) رک جاتے ہیں
پھر کیسے (عذر کرتے ہیں) جب آتی ہے ان پر مصیبت اپنے ہاتھوں سے کمائی ہوئی، پھر آتے ہیں تیرے پاس قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی اور موافقت (یعنی ماننے) کا تھا
یہ (منافقین) وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے تو اعراض کرو ان سے اور کہو ان سے (ان کی سمجھ کے مطابق) ایسی بلیغ بات جو ان کے دلوں میں اتر جائے
اور نہیں بھیجا ہم نے کبھی کوئی رسول مگر اس لئے تاکہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے، اور جنہوں نے ظلم کیا تھا اپنے آپ پر وہ آتے تیرے پاس پھر اللہ سے معافی مانگتے اور مغفرت طلب کرتا ان کے لیے رسول (تو) یقیناً یہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتے
تو قسم ہے تیرے رب کی یہ ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ یہ حَکَم (یعنی فیصلہ کر نیوالا) نہ مانیں تجھے اپنے اختلافات میں، پھر نہ پائیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی جو تو فیصلہ کرے اور اسے وہ تسلیم کر لیں اچھی طرح
اور اگر ہم لکھ دیتے ان (منافقوں) پر کہ قتل کرو اپنے آپ کو یا نکل جاؤ تم اپنے گھروں سے، تو ان میں سے بہت کم ہی کرتے اسے، اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی نصیحت کی جاتی ہے انہیں، تو یہ زیادہ بہتر ہوتا ان کے لئے، اور (دین میں) زیادہ ثابت رکھنے والا ہوتا
اور جب ہم عطا کرتے ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم
اور یقیناً ہم ہدایت دیتے انہیں صراط مستقیم کی
اور جو اطاعت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین میں سے ہیں، اور بہتر رفیق ہیں یہ (یعنی اللہ کے دوست ہیں)
یہ فضل اللہ کی طرف سے ہے، اور کافی ہے اللہ جاننے والا
اے ایمان والو! لے لو اپنا ہتھیار پھر نکلو جدا ہو کر یا نکلو جماعت بنا کر (یعنی جنگ کے وقت میں جس حال میں ہو نکل پڑو)
اور بیشک تم میں ایسا بھی ہے جو سستی کرتا ہے (لڑائی میں)، پھر اگر آتی ہے تم پر کوئی مصیبت تو کہتا ہے کہ مجھ پر انعام کیا اللہ نے کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ ہوا شریک
اور اگر پہنچے تم پر کوئی فضل اللہ کی طرف سے، تو یقیناً اس طرح کہنے لگتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی تعلق ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی پاتا
پھر چاہیے کہ جنگ کریں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جو سودا کرتے ہیں دنیا کی زندگی کا آخرت کے بدلے، اور جو کوئی اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر قتل کر دیا جائے یا غالب آئے، تو عنقریب ہم عطا کریں گے اسے اجر عظیم
اور کیا ہو گیا ہے کہ تم نہیں جنگ کرتے اللہ کی راہ میں (ہجرت کے بعد بہت سے رہ گئے تھے مکہ میں) اور ضعیف مردوں اور عورتوں اور بچوں (کی خاطر) جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! نکال ہمیں اس (مکہ کی) بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور بنا دے ہمارے لیے اپنے پاس سے ولی، اور بنا دے ہمارے لیے اپنے پاس سے مددگار
جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، اور جو کافر ہیں وہ شیطان کے راستے میں لڑتے ہیں تو تم (اے مومنو!) لڑو شیطان کے دوستوں (کفار مکہ) سے، بے شک شیطان کی چال بہت ضعیف (یعنی کمزور) ہے
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہا گیا تھا جنہیں کہ روکے رکھو اپنے ہاتھ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو، پھر جب فرض کی گئی ان (منافق) پر جنگ تو ان میں سے بعض فریق ایسا ڈرنے لگے لوگوں سے جیسا کہ اللہ کا ڈر ہو، یا اس سے بھی زیادہ ڈر، اور کہنے لگے اے ہمارے رب! تو نے کیوں فرض کیا ہم پر قتال (یعنی لڑنا) کیوں نہ ہمیں تھوڑی اور مہلت دی (اے نبیؐ) کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے، اور آخرت بہتر ہے متقیوں کے لئے اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا ایک دھاگے کے برابر بھی (یعنی ذرہ برابر بھی)
تم جہاں کہیں ہو گے موت آپکڑے گی تمہیں اگر چہ تم مضبوط قلعوں میں ہو اور اگر پہنچتی ہے انہیں کوئی اچھائی تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر پہنچتی ہے انہیں کوئی برائی، تو کہتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے (یہ کمزور مسلمانوں سے کہا گیا ہے) کہہ دو کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات یہ سمجھتے ہی نہیں
تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور تجھے جو برائی پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے اور (اے رسول) ہم نے بھیجا ہے تجھے لوگوں کیلئے رسول بنا کر، اور کافی ہے اللہ کی گواہی
جس نے اطاعت کی رسول کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے نہیں بھیجا تجھے ان پر محافظ بنا کر
اور (منافقین) کہتے ہیں کہ ہم اطاعت گزار ہیں پھر جب وہ باہر جاتے ہیں تیرے پاس سے، تو بعض گروہ رات کو جمع ہو مشورہ کرتے ہیں ان باتوں کے خلاف جو تم نے کہی، اور اللہ لکھ لیتا ہے جو وہ مشورہ کرتے ہیں تو تم اعراض کرو ان سے اور توکل کرو اللہ پر، اور اللہ کافی ہے کارساز
کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے قرآن میں، اور اگر یہ (قرآن) غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو یقیناً وہ پاتے اس میں بہت سے اختلاف
اور جب آتی ہے ان (منافقین) کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر، تو اسے مشہور کر دیتے ہیں، اور اگر وہ لوٹاتے اسے رسول اور معاملے کی سمجھ رکھنے والے کی طرف اپنے میں سے (تو) یقیناً جان پاتے جو تحقیق رکھتے ہیں اس (معاملے) کی ان میں، اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت تو تم اتباع کر لیتے شیطان کی سوائے چند لوگوں کے
تو جنگ لڑو اللہ کی راہ میں تو مکلف نہیں سوائے اپنی جان کے، اور ابھارو (جنگ کیلئے) مؤمنوں کو ممکن ہے کہ اللہ روک دے جنگ کافروں سے، اور اللہ جنگ کے معاملے میں بہت سخت ہے اور سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے
جو کوئی سفارش کرے گا کسی اچھائی کے لئے اس کے لئے حصہ ہے اس میں سے، اور جو کوئی سفارش کرے گا برائی کے لئے تو اس کے لئے بھی حصہ ہے اس میں سے، اور (بلا شک) اللہ ہر چیز پر قوت رکھنے والا ہے
اور جب تمہیں کوئی سلام کرے تو تم بہتر جواب دو اس سے (دعاء کے کلمے بڑھا کر) یا اس جیسا ہی کہو، بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک وہ جمع کرے گا تم سب کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے زیادہ کس کی ہو سکتی ہے سچی بات
پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقوں کے معاملہ میں دو گروہ میں بٹ گئے ہو، اور اللہ نے الٹ دیا ہے انہیں ان کے اعمال کے سبب، کیا تم ہدایت دینا چاہتے ہو جسے اللہ نے گمراہ کیا ہے اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز تو نہیں پائے گا اس کیلئے کوئی راستہ
وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہو جاؤ جیسے وہ کافر ہیں، پھر تم سب برابر ہو جاؤ تو مت بناؤ ان میں سے کسی کو دوست، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اللہ کے راستے میں، پھر اگر وہ پلٹ جائیں تو تم پکڑو انہیں اور قتل کرو انہیں جہاں تم پاؤ انہیں، اور تم نہ بناؤ ان (کفار اور مشرکین) میں سے کسی کو اپنا دوست اور نہ ہی مددگار
مگر جو (منافق) ملے ہوں ایسی قوم سے کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو، یا وہ جو آئیں تمہارے پاس اور لڑائی سے تنگ ہوں ان کے دل کہ نہ تم سے لڑتے ہیں اور نہ اپنی قوم سے، اور اگر اللہ چاہتا تو کر دیتا مسلط انہیں تم پر، پھر وہ تم سے لڑتے تو اگر وہ تم سے پرہیز کریں اور نہ لڑیں تم سے اور ڈال دیں تمہارے سامنے صلح، تو نہیں بنایا اللہ نے تمہارے لئے ان پر (لڑائی اور جنگ کا) کوئی راستہ
جلد ہی تم پاؤ گے دوسرے (کچھ ایسے منافقین) کو وہ چاہیں گے کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی جب وہ لوٹائے جائیں گے فتنے کی طرف (مومنوں کے خلاف جنگ کا موقع ہو) تو کود پڑیں گے اس میں، پھر اگر وہ تم سے باز نہ آئیں اور نہ ڈالیں تمہارے آگے صلح اور نہ روکیں اپنے ہاتھوں کو تو پکڑو انہیں اور قتل کرو ان (اسد اور غطفان قبیلے کے لوگوں) کو جہاں تم پاؤ انہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے تمہیں کھلی چھوٹ دی ہے (جنگ کے لیے)
اور نہیں ہے کسی مؤمن کیلئے کہ وہ قتل کرے کسی مؤمن کا مگر خطا سے اور جو قتل کرے کسی مؤمن کا خطا سے تو آزاد کرے اور دیت سپرد کرے (یعنی خون کا بدلہ جو حاکم طے کرے) مقتول کے وارثوں کو مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں پھر اگر وہ (مسلمان مقتول) کسی ایسی قوم میں سے ہو جس سے تمہاری دشمنی ہے تو ایک مؤمن غلام آزاد کرے، اور اگر وہ (مقتول مسلمان) کسی ایسی قوم میں سے ہو جس سے تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو تو دیت سپرد کرے اس کے وارثوں کو اور ایک مؤمن غلام آزاد کرے پھر جو (غلام) نہ پائے وہ دو مہینے کے روزے رکھے لگا تار، توبہ کرے اللہ سے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
اور جو کوئی قتل کرے کسی مؤمن کو جان بوجھ کر اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور تیار کر رکھا ہے اس کے لئے بڑا عذاب
اے ایمان والو! جب اللہ کی راہ میں (جہاد میں) نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے تو اس کو (کافر سمجھ کر اور غنیمت کا مال لینے کے لیے) مت کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں، تم بھی تو ایسے ہی تھے اس سے پہلے، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا اس لئے تحقیق کر لیا کرو، بے شک اللہ جو کچھ بھی تم عمل کرتے ہو اس سے باخبر ہے
نہیں ہیں برابر گھر بیٹھے رہنے والے مؤمن کسی عذر کے بغیر (ان مؤمنین کے) جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اپنی جانوں اور اپنے مالوں سے، فضیلت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو ان کے مالوں اور ان کی جانوں کی وجہ سے بیٹھ رہنے والوں پر درجے کے اعتبار سے (ویسے) ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے، اور فضیلت دی ہے اللہ نے مجاہدین کو گھر بیٹھے رہنے والوں پر اجر عظیم سے (یعنی مجاہدین کیلئے بڑا اجر ہے)
ان کیلئے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے اور اللہ معاف کر نیوالا رحم کر نیوالا ہے
بیشک جب وفات دیتے ہیں ان لوگوں کو فرشتے جو اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں، تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے (یعنی دنیا کو کس حال میں گزارا) وہ کہتے ہیں ہم دنیا میں کمزور تھے (فرشتے) کہتے ہیں کیا وسیع نہ تھی اللہ کی زمین کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے، تو ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
ہاں جو واقعی کمزور ہیں مرد اور عورتیں اور بچے جو کوئی طاقت یا ذریعہ نہیں پاتے نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں پاتے (تو ایسے لوگوں کیلئے کوئی حرج نہیں)
تو ایسے لوگوں کو ممکن ہے اللہ معاف کر دے، اور اللہ بہت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے
اور جو کوئی ہجرت کرے اللہ کے راستے میں وہ اس کے عوض بہت جگہ اور وسعت پائے گا، اور جو کوئی نکلے اپنے گھر سے ہجرت کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھر اس کو موت آجائے تو یقیناً واقع ہے اس کا اجر اللہ کے ہاں (درجے کے اعتبار سے) اور اللہ بخشنے والا بہت مہربان ہے
اور جب تم سفر کرو زمین میں تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم قصر کرو نماز میں (یعنی چار والی فرض کو دو پڑھو) اگر تمہیں خوف ہو کہ ستائیں گے تمہیں کافر، بے شک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں (یہ قصر خوف کیوجہ سے ہے)
اور (اے نبیؐ) جب تم موجود ہو ان (مسلمانوں) میں اور کھڑے ہو انہیں نماز پڑھانے کے لیے تو چاہیے کہ ان میں سے ایک جماعت تیرے ساتھ کھڑی ہو اور ساتھ لے لیں اپنے ہتھیار، پھر جب یہ سجدہ کرلیں تو تیرے پیچھے سے ہٹ جائیں اور آجائے دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی، پھر وہ تیرے ساتھ نماز پڑھیں، اور وہ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار ساتھ رکھیں کافر چاہتے ہیں کہ (کسی طرح) تم غافل ہو جاؤ اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامانوں سے تاکہ تم پر ٹوٹ پڑیں یکبارگی اور کوئی حرج نہیں تم پر اگر بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو تم رکھ دو اپنا ہتھیار (اس میں کوئی حرج نہیں) اور (تب بھی چھوٹا ہتھیار یعنی) اپنا بچاؤ کا سامان ساتھ رکھو، بیشک اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کیلئے ذلت کا عذاب
پھر جب تم نماز سے فارغ ہو جاؤ تو یاد کرو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہونے کی حالت میں، پھر جب تم اطمینان کی حالت میں ہو تو پوری نماز پڑھو (اور ذکر و اذکار بھی کرو) بیشک نماز اپنے مقررہ وقتوں میں مؤمنوں پر فرض ہے
اور کمزور نہ پڑو (دشمنوں کا) پیچھا کرنے میں اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو یقیناً وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں جس طرح تم تکلیف اٹھاتے ہو، اور تم اللہ سے امید رکھتے ہو جبکہ وہ نہیں رکھتے اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا حکمت والا ہے
بیشک ہم نے نازل کی ہے تیری طرف سچی کتاب تاکہ تو انصاف کرے لوگوں میں جیسا کہ اللہ نے بتایا ہے تمہیں اور نہ ہو جاؤ تم خیانت کر نیوالوں کیلئے جھگڑنے والا (یہ ایک چوری کا معاملہ تھا)
اور مغفرت مانگو اللہ سے، بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے
اور نہ جھگڑو ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، بیشک اللہ پسند نہیں کرتا خیانت کرنے والوں گناہگاروں کو
یہ (منافقین) لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپتے ہیں جبکہ وہ اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ مشورے کرتے ہیں رات میں چھپ کر اس بات کا جو (اللہ کو) پسند نہیں، اور اللہ نے احاطہ کر رکھا ہے ان کے اعمال کا
ہاں تم وہ لوگ ہو جو جھگڑتے ہو ان (مجرموں) کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو کون جھگڑے گا اللہ کے پاس ان کی طرف سے قیامت کے دن یا کون ہو گا ان کا وکیل
اور جو کوئی برا عمل کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر مغفرت طلب کرے اللہ سے تو وہ پائے گا اللہ کو مغفرت کر نیوالا اور رحم کر نیوالا
اور جو کوئی کمائے گناہ تو وہ اپنے لئے ہی کماتا ہے، اور اللہ (سب باتوں کا) جاننے والا حکمت والا ہے
اور جو کوئی خطا یا گناہ کرے پھر کسی بے گناہ پر (اس کی) تہمت لگا دیئے تو یقیناً اس نے اٹھا لیا اپنے اوپر بہتان اور کھلا گناہ
اور اگر تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ان میں سے ایک گروہ نے تمہیں گمراہ (یعنی غلط فہمی میں مبتلا) کرنے کا اور وہ اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں اور وہ تمہارا کچھ نقصان نہیں کر سکتے، اور اللہ نے نازل کی ہے تجھ پر کتاب (قرآن) اور حکمت اور تجھے وہ باتیں سکھائی ہیں جو تو نہ جانتا تھا، اور اللہ کا فضل ہے تجھ پر بہت بڑا
نہیں ہوتی کوئی بھلائی ان کی اکثر کانا پھوسی میں ہاں مگر جو حکم دے صدقے کا یا کوئی نیک کام کا یا صلح کرانے کا لوگوں کے درمیان (تو اچھی بات ہے) اور جو شخص یہ کام اللہ کی رضا جوئی کے لیے کرے تو عنقریب ہم عطا کریں گے اسے اجر عظیم
اور جو شخص مخالفت کرے رسول کی بعد اس کے کہ بیان ہو چکی اس کیلئے ہدایت اور اتباع کرے مؤمنوں کے علاوہ راستے کی تو ہم پھیر دیں گے اسے اسی طرف جدھر وہ پھر گیا ہے اور ہم داخل کریں گے اسے جہنم میں، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
بیشک اللہ مغفرت نہیں کرتا کہ شریک ٹھہرایا جائے اس کے ساتھ اور مغفرت فرما دیتا ہے اس کے سوا جسے چاہتا ہے، اور جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کے ساتھ تو یقیناً وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا
یہ (کفار) پکارتے (یعنی عبادت کرتے) ہیں اللہ کے سوا عورتوں کی (دیویوں کی اس طرح وہ) پکارتے ہیں شیطان مردود کو
اللہ کی لعنت ہے اس (شیطان) پر، اور (شیطان نے) کہا میں کرلوں گا تیرے بندوں میں سے حصہ مقرر
(اس طرح کہ) انہیں ضرور گمراہ کروں گا اور ضرور انہیں امیدیں دلاؤں گا اور ضرور انہیں حکم کروں گا کہ وہ چیریں جانوروں کے کان اور ضرور انہیں حکم دوں گا کہ بدلیں اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں (وہ عورتیں ہیں جو اپنے ہاتھ پیروں پر نقش و نگار گودواتی ہیں) اور جو شخص دوست بنائے گا شیطان کو اللہ کو چھوڑ کر تو یقیناً وہ کھلے خسارے میں جا پڑا
(شیطان) ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے، اور ان سے کیا ہوا وعدہ شیطان کا سوائے دھوکہ کے کچھ نہیں
یہی ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ نہیں پائیں گے اس سے بچنے کی جگہ
اور (جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے) جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے انہیں ہم باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ سے زیادہ سچی بات کس کی ہے
نہیں ہے تمہاری امیدوں اور نہ اہل کتاب کی امیدوں (کی کوئی حیثیت) جو عمل کرے گا برا وہ اسکا بدلہ پائیگا اور نہیں پائیگا وہ اپنے لئے اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ ہی کوئی مددگار
اور جو کوئی نیک عمل کرے گا (چاہے) مرد ہو یا عورت اور (لیکن) وہ مؤمن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ کیا جائے گا
اس شخص سے بہتر دین میں کون ہو گا جو جھکا دے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو، تو اس نے اتباع کی ملت ابراہیم کی جو یکسو تھا (اللہ کی طرف) اور اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست بنا لیا ہے
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے
اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں (یتیم) عورتوں کے (نکاح کے) متعلق کہہ دو کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم (یعنی اجازت) دیتا ہے اور جو (حکم) تمہیں پڑھ کر سنایا ہے کتاب (قرآن) میں وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کا تم حق نہیں دیتے جو مقرر ہے ان کا (میراث کا حق) اور ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور (جو حکم) کمزور بچوں کے بارے میں ہے اور یہ (بھی حکم ہے) کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو، اور تم جو نیکی کرو گے تو بیشک اللہ اسے جاننے والا ہے
اور اگر کوئی عورت ڈرے اپنے شوہر کے لڑنے یا منہ پھیرنے سے تو دونوں (میاں بیوی) پر کوئی گناہ نہیں کہ صلح کر لیں آپس میں، اور صلح بہتر ہے، اور (انسان کے) نفس میں حرص ہے (کہ اپنا حق پورا نہ کرے دوسروں سے امید رکھے) اور اگر تم نیکی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک اللہ باخبر ہے تمہارے اعمال سے
اور ہرگز نہیں تم کر سکتے برابری عورتوں کے درمیان اور اگرچہ تم اس کا حرص کرو (یعنی چاہو) سو تم بالکل ہی ایک طرف نہ جھک جاؤ کہ دوسری عورت کو لٹکی ہوئی چھوڑ دو، اور اگر اصلاح کرتے رہو اور پرہیزگاری کرتے رہو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
اور اگر دونوں (میاں بیوی) جدا ہو جائیں تو غنی فرما دیگا اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو، اور اللہ وسعت اور حکمت والا ہے
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، اور یقیناً ہم نے حکم دیا اہل کتاب کو تم سے پہلے اور تمہیں بھی (حکم دیتا ہوں) کہ اللہ سے ڈرو، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بے نیاز قابل تعریف ہے
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ کارساز (یعنی کام بنانے والا)
اگر (اللہ) چاہے تو تمہیں لے جائے (ہلاک کر دے) اے لوگو! اور دوسروں کو لے آئے، اور اللہ اس پر قادر ہے
جو شخص دنیا کا ثواب چاہتا ہے تو اللہ کے پاس دنیا کا ثواب بھی ہے اور آخرت کا بھی ہے اور اللہ خوب سننے والا دیکھنے والا ہے
اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو (اور وقت آنے پر) اللہ کیلئے گواہی دو اگرچہ خود کے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ اور رشتے داروں کے (خلاف ہو) اگر چہ وہ شخص مالدار ہو یا فقیر تو اللہ کا زیادہ حق ہے ان دونوں سے، تو تم انصاف کرنے میں دل کی خواہش کی پیروی نہ کرو اور اگر زبان موڑو گے اور دل پھیرو گے (انصاف کرنے میں) تو بیشک اللہ باخبر ہے تمہارے اعمال سے
اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو پہلے نازل کی تھی، اور جو کوئی انکار کرے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور قیامت کے دن کا تو یقیناً وہ شخص بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا پھر ایمان لے آئے پھر کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے رہے تو نہیں کریگا ہرگز اللہ مغفرت ان کی اور نہ انہیں ہدایت دے گا (سیدھے) راستے کی
منافقوں کو خوشخبری سنا دو ان کیلئے دردناک عذاب ہے
وہ لوگ جو بناتے ہیں کافروں کو اپنا دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر، تو کیا وہ تلاشتے ہیں ان کے پاس عزت تو بیشک ساری عزت اللہ ہی کے قبضے میں ہے
اور اللہ نے تم پر کتاب (یعنی قرآن) میں حکم اتارا ہے کہ جب تم سنو اللہ کی آیتوں کے بارے میں انکار کیا جا رہا ہے ان کا یا مذاق اڑایا جا رہا ہے ان کا تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں ورنہ یقیناً تم بھی ان کی طرح ہو جاؤ گے، بے شک اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے (یعنی ایک ہی جگہ اکھٹا کرنے والا ہے)
وہ (منافق) جو تمہارے متعلق انتظار کرتے ہیں، پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ہو تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے تو کہتے ہیں کیا ہم غالب نہ آنے لگے تھے تم پر اور کیا ہم نے بچا نہیں لیا تھا تمہیں مسلمانوں سے، تو اللہ تمہارے درمیان (اور ان کے درمیان) فیصلہ فرمادے گا قیامت کے دن اور ہرگز نہیں بنائے گا اللہ کافروں کے لئے مؤمنوں پر کوئی راستہ (یعنی غالب نہیں کرے گا)
بے شک منافقین دھوکا دیتے ہیں اللہ کو (ایسا وہ سمجھتے ہیں) اور وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں، اور جب وہ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھاتے ہیں اور نہیں یاد کرتے اللہ کو مگر بہت کم
اس (کفر اور ایمان کے) معاملے میں تذبذب میں ہیں نہ اس طرف ہیں اور نہ اس طرف، اور جسے اللہ گمراہ کر دے (اے نبیؐ) تو ہرگز نہیں پائے گا اس کیلئے کوئی راستہ
اے ایمان والو! نہ بناؤ کافروں کو اپنا دوست چھوڑ کر مؤمنوں کو، کیا تم لینا چاہتے ہو اپنے اوپر اللہ کا کھلا الزام
بے شک منافقین سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے دوزخ کے اور تو ان کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا
مگر جنہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کی اور اللہ کو مضبوط پکڑا اور خالص کیا اپنے دین کو اللہ ہی کے لئے تو وہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہیں، اور اللہ جلد ہی ایمان والوں کو بہت بڑا اجر دے گا
(منافقوں کو عذاب دینے کی وجہ ان کا نفاق ہے ورنہ) کیا کرے گا اللہ تمہیں عذاب دے کر اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ، اور اللہ تو قدردان جاننے والا ہے